TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان - ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان - Book 21 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 21 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 226 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

226 Hadith · 1 Chapters
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ تُقَاتِلُونَ قَوْمًا نِعَالُهُمْ الشَّعَرُ وَهُوَ هَذَا الْبَارِزُ وَقَالَ: سُفْيَانُ مَرَّةً وَهُمْ أَهْلُ الْبَازِرِ.
رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: قیامت سے پہلے تم ایسی قوم سے قتال کرو گے جن کے جوتے بالوں کے بنے ہوں گے،اور وہ اہل بارز (مقابلے والے)ہوں گے
Takhreej
الصحيحة رقم (3609) صحيح البخاري كِتَاب الْمَنَاقِبِ بَاب عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ رقم (3324)
2587
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم : بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ مَسْخٌ وَخَسْفٌ وَقَذْفٌ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:قیامت سے پہلے چہروں کا مسخ ہونا،زمین میں دھنسنا اور پتھروں کی بارش ہوگی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1787) سنن ابن ماجةكِتَاب الْفِتَنِ بَاب الْخُسُوفِ رقم (4049)
2588
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنِ ابن مَسعود، عَن النبي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قال: «بَيْن يَدَي السَّاعَة يَظْهَر الرِّبَا، وَالزِّنَا، وَالْخَمْر».
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: قیامت سے پہلے سود،زنااور شراب عام ہو جائے گی
Takhreej
الصحيحة رقم (3415) المعجم الأوسط للطبراني رقم (7910)
2589
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم : بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ بِخَزَائِنِ الْأَرْضِ فَوُضِعَ فِي يَدِي سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ فَكَبُرَا عَلَيَّ وَأَهَمَّانِي، فَاُوْحِىَ إِلَيَّ: أَنِ انْفُخْهُمَا فَنَفَخْتُهُمَا فَذَهَبَا فَأَوَّلْتُهُمَا: الْكَذَّابَيْنِ اللَّذَيْنِ أَنَا بَيْنَهُمَا: صَاحِبَ صَنْعَاءَ وَصَاحِبَ الْيَمَامَةِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا کہ میرے پاس زمین کے خزانے لائے گئے، میرے ہاتھ میں سونے کے دو کڑے رکھے گئے۔ وہ مجھ پر بھاری ہو گئے اور مجھے پریشان کر دیا۔ میری طرف وحی کی گئی کہ ان دونوں پر پھونک ماروں، میں نے ان دونوں پر پھونک ماری تو وہ دونوں ختم ہو گئے۔ میں نے ان دونوں کی تعبیر ان دو جھوٹے(نبوت کے دعویدار)آدمیوں سے کی جن کے درمیان میں میں ہوں۔ یعنی صاحب صنعاء اور صاحب یمامہ
Takhreej
الصحيحة رقم (3611) صحيح البخاري كِتَاب الْمَغَازِي بَاب وَفْدِ بَنِي حَنِيفَةَ وَحَدِيثِ ثُمَامَةَ بْنِ أُثَالٍ رقم (4026)
2590
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: تَخْرُجُ رِيحٌ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ تُقْبَضُ فِيهَا أَرْوَاحُ كُلِّ مُؤْمِنٍ
عیاش بن ابی ربیعہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: قیامت سے پہلے ایک ہو اآئے گی جو ہر مومن کی روح قبض کر لے گی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1780) مسند أحمد رقم (14916)
2591
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ يَرْفَع إِلَى النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم : تَخْرُجُ الدَّابَّةُ فَتَسِمُ النَّاسَ عَلَى خَرَاطِيمِهِمْ ثُمَّ يُعمَّرونَ فِيكُمْ حَتَّى يَشْتَرِيَ الرَّجُلُ الْبَعِيرَ فَيَقُولُ: مِمَّنِ اشْتَرَيْتَهُ؟ فَيَقُولُ: اشْتَرَيْتُهُ مِنْ أَحَدِ الْمُخَطَّمِينَ
ابی امامہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:دابۃ (جانور)نکلے گااور لوگوں کی ناک پر نشان لگا دے گا،پھر وہ لوگ لمبی عمر پائیں گے۔جب کوئی شخص اونٹ خریدےگا تو دوسراآدمی پوچھےگاتم نےیہ اونٹ کس سےخریدا؟وہ کہےگا: ناک پرنشان والےآدمی سے ۔
Takhreej
الصحيحة رقم (322) مسند أحمد رقم (21276)
2592
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ مَرفُوعاً: تَدُورُ رَحَى الْإِسْلَامِ بَعدَ خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ، أَوْ سِتٍّ وَثَلَاثِينَ، أَوْ سَبْعٍ وَثَلَاثِينَ، فَإِنْ يَهْلِكُوا فَسَبِيلُ مَنْ هَلَكَ وَإِنْ يَقُمْ لَهُمْ دِينُهُمْ يَقُمْ لَهُمْ سَبْعِينَ عَامًا قُلْتُ: (وفي رواية: قَالَ عُمَر: يَا نَبِي الله!) مِمَّا بَقِيَ أَوْ مِمَّا مَضَى؟ قَالَ مِمَّا مَضَى.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: اسلام کی چکی (اسلام کا مدار) پینتیس،چھتیس یا سینتیس (۳۵، ۳۶، ۳۷)سال کے بعد گھومے گی، اگر وہ ہلاک ہونا چاہیں تو اس شخص کے راستے پر چلیں گے جو ہلاکت کی طرف جا رہا ہے، اور اگر وہ ان کے لئے ا ن کا دین قائم کرتا ہے تو ان کے لئے ستر سال تک دین قائم رہے گا۔ میں نے کہا: (اور ایک روایت میں ہے کہ عمر نے کہا: اے اللہ کے نبی!) جو باقی ہیں یا جو گزر گئے آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جو گزر گئے
Takhreej
الصحيحة رقم (976) سنن أبي داؤد كِتَاب الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ بَاب ذِكْرِ الْفِتَنِ وَدَلَائِلِهَا رقم (3712)
2593
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ رُوَيْفِعِ بن ثَابِتٍ الأَنْصَارِي رضی اللہ عنہ : أَنّهُ قُرِّبَ لِرَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌تَمْرٌ أَو رُطَبٌ، فَأَكَلُوا مِنْهُ حَتَّى لَمْ يُبْقُوا شَيْئًا إِلا نَوَاةً وَمَا لا خَيْرَ فِيهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : تَدْرُونَ مَا هَذَا؟ تُذْهِبُونَ الْخَيْرُ فَالْخَيرُ حَتَّى لا يَبْقَى مِنْكُمْ مِثْلُ هَذَا –وَأَشَارَ إِلَى نَوَاة- وَمَا لَا خَيْر فِيْه
رویفع بن ثابت انصاری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے سامنے خشک یا تر کھجوریں پیش کی گئیں۔ صحابہ نے کھائیں اور سوائے گٹھلیوں اور بے کار کھجوروں کے کچھ نہیں بچایا، رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تم جانتے ہو یہ کیا ہے؟ تم میں سے بہترین آدمی ایک ایک کر کے چلے جائیں گے حتی کہ تم میں سے اس گٹھلی اور بے کار کھجور کی طرح بچیں گے
Takhreej
الصحيحة رقم (1781) المعجم الكبير للطبراني رقم (4365) مستدرك الحاكم رقم (8454)
2594
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ عُمَر بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ قَالَ يَوْمَئِذٍ وَهُوَ يُحَذِّرُهُمْ فِتْنَتَهُ (يعني: الدجال) تَعَلَّمُوا أَنَّهُ لَنْ يَرَى أَحَدٌ مِنْكُمْ رَبَّهُ حَتَّى يَمُوتَ وَإِنَّهُ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ (ك ف ر) يَقْرَؤُهُ مَنْ كَرِهَ عَمَلَهُ.
عمر بن ثابت انصاری رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے کسی صحابی نے خبر دی کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ایک دن فرمایا(آپ انہیں فتنے یعنی دجال سے ڈرا رہے تھے): جان لو کہ جب تک تم میں سے کوئی بھی شخص مر نہیں جاتا وہ اپنے رب کو نہیں دیکھ سکتا اور اس(دجال) کی آنکھوں کے درمیان (ک ف ر)لکھا ہوگا، جو اس کے عمل کو نا پسند کرے گا وہ اسے پڑھ سکے گا
Takhreej
الصحيحة رقم (1781) المعجم الكبير للطبراني رقم (4365) مستدرك الحاكم رقم (8454
2595
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: تَعَوَّذُوا بِاللهِ مِنْ رَأْسِ السَّبْعِينَ وَإِمَارَةِ الصِّبْيَانِ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:ستر(70)کی ابتداء سے(یعنی ہلاک کرنے والےبڑھاپےسے)اور بچوں کی امارت سےاللہ کی پناہ مانگو
Takhreej
الصحيحة رقم (3191) مسند أحمد رقم (7968 7969)
2596
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : تَقِيءُ الْأَرْضُ أَفْلَاذَ كَبِدِهَا أَمْثَالَ الْأُسْطُوَانِ مِنْ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ فَيَجِيءُ الْقَاتِلُ فَيَقُولُ: فِي هَذَا قَتَلْتُ وَيَجِيءُ الْقَاطِعُ فَيَقُولُ: فِي هَذَا قَطَعْتُ رَحِمِي وَيَجِيءُ السَّارِقُ فَيَقُولُ: فِي هَذَا قُطِعَتْ يَدِي ثُمَّ يَدَعُونَهُ فَلَا يَأْخُذُونَ مِنْهُ شَيْئًا.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: زمین سونے اور چاندی کو زمین اپنے جگر کےٹکڑوں سونے چاندی کو اگل دے گی اور وہ ستونوں کی مانند پڑے ہوں گے، قاتل آئے گا اور کہے گا: اس کے لئے میں نے قتل کیا، قطع رحمی کرنے والا آئے گا اور کہے گا: اس کے لئے میں نے قطع رحمی کی، اور چور آئے گا اور کہے گا کی وجہ سے میرا ہاتھ کاٹا گیا، پھر وہ اسے چھوڑ دیں گے اور اس میں سے کوئی چیز نہ لیں گے
Takhreej
الصحيحة رقم (3619) صحيح مسلم كِتَاب الزَّكَاةِ بَاب التَّرْغِيبِ فِي الصَّدَقَةِ قَبْلَ أَنْ لَا يُوجَدَ مَنْ يَقْبَلُهَا رقم (1683)
2597
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عن أنس بن مالك مرفوعاً: تَكون بَيْن يَدَي السَّاعَة فِتَنٌ كَقِطَعِ اللَّيْل الْمُظْلِم، يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِح كَافِرًا، يَبِيع أَقْوَامٌ دِينَهُم بِعرَض الدُّنْيَا.
انس بن مالک‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ قیامت سے پہلے فتنے اس طرح آئیں گے جس طرح اندھیری رات کے ٹکڑے آتے ہیں،آدمی ایمان کی حالت میں صبح کرے گا اورکفر کی حالت میں شام،اور اگر شام ایمان کی حالت میں کرے گا تو صبح کفر کی حالت میں، قومیں اپنا دین دنیا کے مال کے بدلے بیچ دیں گی
Takhreej
الصحيحة رقم (810) مستدرك الحاكم رقم (8473)
2598
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ عَمْرِو بْنِ وَابِصَةَ الْأَسَدِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: إِنِّي لَبِالْكُوفَةِ فِي دَارِي إِذْ سَمِعْتُ عَلَى بَابِ الدَّارِ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، أَأَلِجُ؟ قُلْتُ: عَلَيْكُمْ السَّلَامُ، فَلْجُ. فَلَمَّا دَخَلَ إِذَا هُوَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ قَالَ: فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ! أَيَّةُ سَاعَةِ زِيَارَةٍ هَذِهِ؟ وَذَلِكَ فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ، قَالَ: طَالَ عَلَيَّ النَّهَارُ فَتَذَكَّرْتُ مَنْ أَتَحَدَّثُ إِلَيْهِ؟ قَالَ: فَجَعَلَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَأُحَدِّثُهُ. قَالَ: ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُنِي. فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: تَكُونُ فِتْنَةٌ، النَّائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِّنَ الْمُضْطَجِعِ، وَالْمُضْطَجِعُ فِيهَا خَيْرٌ مِّنَ الْقَاعِدِ، وَالْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِّنَ الْقَائِمِ، وَالْقَائِمُ خَيْرٌ مِّنَ الْمَاشِي، وَالْمَاشِي خَيْرٌ مِّنَ الرَّاكِبِ، وَالرَّاكِبُ خَيْرٌ مِّنَ الْمُجْرِي، قَتْلَاهَا كُلُّهَا فِي النَّارِ. قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! وَمَتَى ذَلِكَ؟ قَالَ: ذَلِكَ أَيَّامَ الْهَرْجِ. قُلْتُ: وَمَتَى أَيَّامُ الْهَرْجِ؟ قَالَ: حِينَ لَا يَأْمَنُ الرَّجُلُ جَلِيسَهُ. قَالَ: فَبِمَ تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْرَكْتُ ذَلِكَ الزَمان؟ قَالَ: اكْفُفْ نَفْسَكَ وَيَدَكَ، وَادْخُلْ دَارَكَ. قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! أَرَأَيْتَ إِنْ دَخَلَ عَلَيَّ دَارِي؟ قَالَ: فَادْخُلْ بَيْتَكَ. قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! أَرَأَيْتَ إِنْ دَخَلَ عَلَيَّ بَيْتِي؟ قَالَ: فَادْخُلْ مَسْجِدَكَ، وَاصْنَعْ هَكَذَا-وَقَبَضَ بِيَمِينِهِ عَلَى الْكُوعِ- وَقُلْ: رَبِّيَ اللهُ، حَتَّى تَمُوتَ عَلَى ذَلِكَ.
عمرو بن وابصۃ اسدی رحمۃ اللہ علیہ اپنے والدسے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ: میں کوفے میں اپنے گھر میں تھا، اچانک میں نے دروازے پر دستک کی آواز سنی،السلام علیکم،کیا میں اندر آسکتا ہوں؟ میں نے کہا: وعلیکم السلام،آجاؤ۔ جب وہ اندر آئے تو کیا دیکھتا ہوں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں، میں نے کہا:ابو عبدالرحمن !یہ ملاقات کا کون سا وقت ہے؟ یہ دو پہر کا وقت تھا، کہنے لگے: دن لمبا ہوگیا تو میں یاد کرنے لگا کہ کس سے بات چیت کروں؟ پھر وہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے حدیث بیان کرنے لگے اور میں بھی حدیث بیان کرنے لگا۔ پھر انہوں نے مجھے ایک حدیث بیان کی، کہنے لگے: میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرما رہے تھے:ایک فتنہ اٹھے گا، سونے والا اس فتنے میں لیٹے ہوئے شخص سے بہتر ہوگا، لیٹا ہوا بیٹھے ہوئے سے بہتر ہوگا، بیٹھا ہوا کھڑے ہوئے سے بہتر ہوگا، کھڑا ہو اچلنے والے سے بہتر ہوگا، چلنے والا سوار سے بہتر ہوگا، سوار دوڑنے والے سے بہتر ہوگا، اس فتنے کے سب مقتولین آگ میں جائیں گے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ کب ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ قتل کے ایام میں ہوگا۔ میں نے کہا: قتل کے ایام کب ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی اپنے ساتھی سے امن میں نہ ہو۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول! اگر میں اس زمانے میں ہوں تو مجھے کیا کرنا چاہیئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خود کو اور اپنے ہاتھ کو روک کر رکھو اور خود کو گھر میں قید کر لو، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر وہ میرے گھر میں داخل ہو جائے تو مجھے کیا کرنا چاہیئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے کمرے میں چلے جاؤ۔ میں نے کہا: اگر وہ میرے کمرے میں داخل ہو جائے تو پھرآپ کا کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تب اپنی مسجد میں داخل ہو جاؤ اور اس طرح کرو،( آپ نے اپنے دائیں ہاتھ سے انگوٹھے کی جانب کلائی پکڑی)اور کہو: میرا رب اللہ ہے حتی کہ تم اسی پر مرو
Takhreej
الصحيحة رقم (3254) مسند أحمد رقم (4061) المعجم الكبير للطبراني رقم (9655)
2599
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
) عَنْ سُبَيِّعٍ، قَالَ: أَرْسَلُونِي مِنْ مَاءٍ إِلَى الْكُوفَةِ أَشْتَرِي الدَّوَابَّ فَأَتَيْنَا الْكُنَاسَةَ فَإِذَا رَجُلٌ عَلَيْهِ جَمْعٌ قَالَ: فَأَمَّا صَاحِبِي فَانْطَلَقَ إِلَى الدَّوَابِّ وَأَمَّا أَنَا فَأَتَيْتُهُ فَإِذَا هُوَ حُذَيْفَةُ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَسْأَلُونَهُ عَنِ الْخَيْرِ وَأَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ: هَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ كَمَا كَانَ قَبْلَهُ شَرٌّ؟ قَالَ: نَعَمْ قُلْتُ: فَمَا الْعِصْمَةُ مِنْهُ؟ قَالَ: السَّيْفُ أَحْسِبُ قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: ثُمَّ تَكُونُ هُدْنَةٌ عَلَى دَخَنٍ ثُمَّ تَكُونُ دُعَاةُ الضَّلَالَةِ قَالَ: فَإِنْ رَأَيْتَ يَوْمَئِذٍ خَلِيفَةَ اللهِ فِي الْأَرْضِ فَالْزَمْهُ وَإِنْ نَهَكَ جِسْمَكَ وَأَخَذَ مَالَكَ فَإِنْ لَمْ تَرَهُ فَاهْرَبْ فِي الْأَرْضِ وَلَوْ أَنْ تَمُوتَ وَأَنْتَ عَاضٌّ بِجَذْلِ شَجَرَةٍ قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: ثُمَّ يَخْرُجُ الدَّجَّالُ...الحديث
سُبَيِّعِ رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ: لوگوں نے مجھے چشمے سے کوفے کی طرف جانور خریدنے کے لئے بھیجا، ہم کناسہ پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک شخص ہے جس کے گرد لوگ جمع ہیں،میرا ساتھی جانوروں کی طرف چلا گیا جب کہ میں اس کی طرف چلا آیا۔ وہ حذیفہ‌رضی اللہ عنہ تھے میں نے ان سے سنا کہہ رہے تھے کہ: لوگ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے خیر کے بارے میں سوال کیا کرتے تھے،جب کہ میں رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے شر کے بارے میں پوچھا کرتا تھا: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا اس خیر کے بعد کوئی شر ہے، جس طرح اس سے پہلے شر تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ہاں، میں نے کہا: اس سے بچاؤ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:تلوار، میرے خیال میں میں نے کہا: پھر کیا ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: پھرفساد پر صلح ہو گی،پھر گمرا ہی کی دعوت دینے والے ہوں گے۔اگر تم اس دن زمین میں کوئی خلیفہ دیکھو تو اس سے مل جانا اگرچہ وہ تمہارے جسم پر تشدد کرے اور تمہارا مال ہتھیا لے،اگر تمہیں خلیفہ نظر نہ آئے تو زمین میں بھاگ جانا ۔ اگرچہ تمہیں اس حال میں موت آئے کہ تم درخت کی جڑیں دانتوں میں دبائے ہوئے ہو۔ میں نے کہا: پھر کیا ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: پھر دجال نکلے گا۔۔۔ الحدیث
Takhreej
الصحيحة رقم (1791) سنن أبي داؤد كِتَاب الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ بَاب ذِكْرِ الْفِتَنِ وَدَلَائِلِهَا رقم (3706) مسند أحمد رقم (22333
2600
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: ثَلَاثٌ إِذَا خَرَجْنَ لَا یَنۡفَعُ نَفۡسًا اِیۡمَانُہَا لَمۡ تَکُنۡ اٰمَنَتۡ مِنۡ قَبۡلُ اَوۡ کَسَبَتۡ فِیۡۤ اِیۡمَانِہَا خَیۡرًا (۱۵۸) (الأنعام: ١٥٨) طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَالدَّجَّالُ وَدَابَّةُ الْأَرْضِ.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:تین نشانیاں جب ظاہر ہو جائیں ”تو کسی نفس کو اس کا ایمان نفع نہیں دے گا جو اس سے پہلے ایمان نہیں لایا ہوگا یا اپنے ایمان میں کوئی نیکی نہیں کی ہوگی“ (الانعام:۱۵۸)سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، دجال اور دابۃالارض کا نکلنا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3620) صحيح مسلم كِتَاب الْإِيمَانِ بَاب بَيَانِ الزَّمَنِ الَّذِي لَا يُقْبَلُ فِيهِ الْإِيمَانُ رقم (227)
2601
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ عَدِيِّ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: حَمَى رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌كُلَّ نَاحِيَةٍ مِّنَ الْمَدِينَةِ بَرِيدًا بَرِيدًا لَا يُخْبَطُ شَجَرُهُ وَلَا يُعْضَدُ إِلَّا مَا يُسَاقُ بِهِ الْجَمَلُ.
عدی بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے مدینے کی چاروں طرف ایک ایک ٹکڑے کو محفوظ کر دیا کہ اس کا درخت نہ اکھاڑا جائے نہ کاٹا جائے سوائے اونٹ چلانے کے لئے (چھڑی کی) میں
Takhreej
الصحيحة رقم (3234) سنن أبي داؤد كِتَاب الْمَنَاسِكِ بَاب فِي تَحْرِيمِ الْمَدِينَةِ رقم (1740)
2602
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ ثَوْبَانَ مَرفُوعاً: حَوْضِي مَا بَيْنَ عَدْنٍ إِلَى عُمَانَ، مَاؤُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ الثَّلْجِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، وَأَكْثَرُ النَاس وُرُودًا عَلَيْهِ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ، الشُّعْثُ رُءُوسًا، الدَّنَسُ ثِيَابًا، الَّذِينَ لا يَنْكِحُونَ الْمُتَنَعِمَاتِ، وَلا تُفْتَحُ لَهُمْ أَبوَابُ السُّدَدِ، الَّذِينَ يُعْطُونَ الْحَقَّ الَّذِي عَلَيْهِمْ، وَلا یُنْطَوْنَ الَّذِي لَهُمْ.
ثوبان‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: میرا حوض عدن سے لے کر عمان تک ہوگا، اس کا پانی برف سے زیادہ سفید ہوگا،شہد سے زیادہ میٹھاہوگا۔ اکثر آنے والے لوگ فقراء مہاجرین ہیں،پراگندہ بالوں والے، میلے کچیلے کپڑوں والے جو نازو نعم والی عورتوں سے شادی نہیں کرسکتے، ان کے لئے راستے نہیں کھولے جاتے،جو لوگ اپنے ذمے حق ادا کرتے ہیں لیکن ان کا حق انہیں نہیں دیا جاتا
Takhreej
الصحيحة رقم (1082) المعجم الكبير للطبراني رقم (1420)
2603
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: خُرُوجُ الآيَاتِ بَعْضهَا عَلَى إِثْرِ بَعْضٍ، يَتَتَابَعْنَ كَمَا تَتَابَعُ الْخَرَزُ فِي النِّظَامِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:(قیامت کی) نشانیوں کا ظہور ایک دوسرے کے بعد ہوگا،وہ نشانیاں پے درپے اس طرح آئیں گی جس طرح لڑی کے موتی گرتے ہی
Takhreej
الصحيحة رقم (3110) المعجم الكبير للطبراني رقم (814)
2604
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَرفُوعاً: الدَّجَّال أَعْوَرُ هِجَانٌ أَزْهَرُ (وفي رواية: أقمر) كَأَنَّ رَأْسَهُ أَصَلَةٌ أَشْبَهُ النَّاسِ بِعَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قَطَنٍ فَإِمَّا هَلَكَ الْهُلَّكُ فَإِنَّ رَبَّكُمْ تَعَالَى لَيْسَ بِأَعْوَرَ
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ:دجال کانا ہوگا۔نہایت واضح اور صاف،گویا کہ اس کا سرسانپ کی ماند)ہو گا،عبد العز ی بن قطن کے زیادہ مشابہہ ہوگا۔ ہلاک ہونے والے ہلاک ہو جائیں گے، کیوں کہ تمہارا رب اعور نہیں(یعنی کانے پن سے پاک ہے)۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1193) مسند أحمد رقم (2041)
2605
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ مَرفُوعاً: الدَّجَّالَ عَيْنُهُ خَضْرَاءُ كَالزُّجَاجَةِ وَنَعوذُ بِاللهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ.
ابی بن کعب‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: دجال کی آنکھ شیشے کی طرح سبز ہوگی اور ہم قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1863) مسند أحمد رقم (20221)
2606
Sahih