ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان - ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان - Book 21 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation
Book 21 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 226 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کو تین صورتوں پر جمع کیا جائے گا۔ رغبت رکھنے والے اور ڈرنے والے، دو آدمی ایک اونٹ پر ہوں گے،تین آدمی ایک اونٹ پر ہوں گے،چار آدمی ایک اونٹ پر ہوں گے اور دس آدمی ایک اونٹ پر ہوں گے،باقی لوگوں کو آگ جمع کرے گی، جہاں قیلولہ کریں گے وہیں آگ بھی قیلولہ کرے گی، ان کے ساتھ رات گزارے گی۔ جہاں وہ رات گزاریں گے،جہاں صبح کریں گے وہاں صبح کرے گی،جہاں شام کریں گے وہاں شام کرے گی
Takhreej
الصحيحة رقم (3395) صحيح البخاري كِتَاب الرِّقَاقِ بَاب كَيْفَ الْحَشْرُ رقم (6041)
سعید بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ عبداللہ بن عمرورضی اللہ عنہما ، ابن زبیررضی اللہ عنہما کے پاس آئے،وہ حطیم میں بیٹھے ہوئے تھے،کہنے لگے: اے ابن زبیر ! اللہ کے حرم میں الحاد سے بچو،میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے اسے(یعنی مکہ)اور اسے (یعنی حرم مکی)کو قریش کا ایک آدمی حلال کرے گا ۔ اگر اس کے گناہوں کا وزن جن و انس کے گناہوں سے کیا جائے تب بھی اس کے گناہ بھاری ہو جائیں گے ۔ خیال کرنا وہ شخص تم نہ ہو جانا ۔ (عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے فرمایا) اے ابن عمرو! تم نے کتب پڑھی ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے ہو میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ یہ دیکھو میرا رخ شام کی طرف جہاد کی غرض سے ہوگیا ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2462) مسند أحمد رقم (6746) مستدرك الحاكم رقم (3419)
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ، قال: يَخْرُج في آخر أُمَّتِي الْمهْدِي يَسْقِيه الله الغيثَ، وَتَخْرُجُ الْأَرَض نَبَاتَهَا، وَيُعْطِي الْمَالَ صِحَاحًا، وَتَكْثُرُ الْمَاشِيَةُ وتَعْظُمُ الأُمَّةُ، يَعِيشُ سَبْعًا أَو ثَمَانِيًا. يَعْني حَجَّةً.
ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے آخری زمانے میں مہدی علیہ السلام نکلیں گے،اللہ تعالیٰ انہیں بادلوں سے پانی پلائے گا اور زمین سبزہ اگائے گی وہ صحیح حالت میں مال دے گا، مویشی زیادہ ہو جائیں گے، امت بڑھ جائے گی وہ سات یا آٹھ سال رہیں گے۔
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : يَخْرُجُ مِنْ عَدَنِ أَبْيَنَ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا يَنْصُرُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ هُمْ خَيْرُ مَنْ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عدن ابین سے بارہ ہزار کا لشکر نکلے گا، وہ اللہ اور اس کے رسول کی مدد کریں گے،وہ میرے اور ان کے درمیان پیدا ہونے والے لوگوں سے بہتر ہوں گے ۔
حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ: اسلام اس طرح مٹ جائے گا جس طرح کپڑے کے نقش و نگار مٹ جاتے ہیں، حتی کہ معلوم نہیں ہوگا،روزہ کیا ہے،نماز کیا ہے، قربانی کیا ہے اور صدقہ(زکاة) کیا ہے ۔ایک رات اللہ کی کتاب پر ایسی آئے گی کہ زمین میں ایک آیت بھی نہیں بچے گی۔ اور لوگوں کے یہ گروہ بچیں گے،بوڑھے مرد اور عورتیں،وہ کہیں گے: ہم نے اپنے آباء کو اس کلمہ( لا الہ الا اللہ) پر پایا، اس لئے ہم بھی یہی کہتے ہیں ۔صلہ بن زفر رضی اللہ عنہما نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا: (لا الہ الا اللہ) تو کیا کفایت کرے گا، کیوں کہ انہیں معلوم نہیں ہوگا کہ نماز، روزہ،قربانی اور زکاة(صدقہ) کیا ہے؟ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے منہ موڑ لیا۔ صلہ نے تین مرتبہ یہ بات کہی،ہر مرتبہ حذیفہرضی اللہ عنہ نے اس سے منہ موڑ لیا، پھر تیسری مرتبہ اس کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے: اے صلہ! یہ کلمہ انہیں جہنم سے نجات دلا دے گا۔ تین مرتبہ کہا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (87) سنن ابن ماجة كِتَاب الْفِتَنِ بَاب ذَهَابِ الْقُرْآنِ وَالْعِلْمِ رقم (4039)
عَنْ مِرْدَاسٍ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : يَذْهَبُ الصَّالِحُونَ الْأَوَّلُ فَالْأَوَّلُ وَيَبْقَى حُفَالَةٌ كَحُفَالَةِ الشَّعِيرِ أَوِ التَّمْرِ لَا يُبَالِيهِمْ اللهُ بَالَةً.
مرد اس اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نیک لوگ ایک ایک کر کے ختم ہو جائیں گےاور جَو اور کھجور کے میل کی طرح ردی لوگ بچیں گے،اللہ کو ان کی ذرہ بھر بھی پرواہ نہیں ہوگی
Takhreej
الصحيحة رقم (293) صحيح البخاري كِتَاب الرِّقَاقِ بَاب ذَهَابِ الصَّالِحِينَ وَيُقَالُ الذِّهَابُ الْمَطَرُ رقم (5954)
عباس بن عبدالمطلبرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دین غالب ہوگا حتی کہ سمندروں سے تجاوز کر جائے گا اور یہاں تک کہ اللہ کے راستے میں لوگ گھوڑے لے کر پانی میں داخل ہوجائیں گے۔ پھر ایسے لوگ آئیں گے جو قرآن پڑھیں گے، جب وہ قرآن پڑھیں گے تو کہیں گے، ہم نے قرآن پڑھا ہے ہم سے زیادہ کون پڑھنے والا ہے؟ اور ہم سے زیادہ کون جاننے والا ہے؟پھر اپنے صحابہ کی طرف دیکھا اور فرمایا: کیا تم ان میں کوئی خیر دیکھتے ہو؟ صحابہ نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تم میں سے ہوں گے، اس امت میں سے ہوں گے اور یہ آگ کا ایندھن ہوں گے
ابو سعید خدریرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یا جوج اور ماجوج کی دیوار ہٹادی جائے گی وہ لوگوں میں آئیں گے جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا: مِّنۡ کُلِّ حَدَبٍ یَّنۡسِلُوۡنَ ﴿۹۶﴾ ہر اونچی جگہ سے پھسلے ہوئے آئیں گے۔ مسلمان ان سے بچنے کے لئے اپنے شہروں اور قلعوں میں بند ہو جائیں گے، اپنے مویشی اپنے ساتھ لے جائیں گے یا جوج ماجوج زمین کا پانی پی جائیں گے،حتی کہ اگر ان میں سے کوئی دریا کے پاس سے گزرے گا تو وہ سارا پانی پی کر اسے خشک کر دے گا، اور جو اس کے بعد آنے والاآئے گا وہ اس دریا کے پاس آئے گا تو کہے گا، یہاں پر کبھی پانی ہوا کرتا تھا، حتی کہ جب قلعوں یا شہروں میں پناہ گزین لوگوں کے علاوہ کوئی باقی نہیں بچے گا تو ان میں سے کوئی کہے گا:یہ زمین والے تھے ان سے تو تم فارغ ہوگےی باقی آسمان والے بچے ہیں،پھر ان میں سے کوئی ایک اپنے نیزے کو حرکت دے گا پھر اسے آسمان کی طرف پھینکے گا تو وہ خون میں لت پت،مصیبت اور فتنہ لے کر آئے گا،وہ اسی حالت میں ہوں گے کہ اچانک اللہ تعالیٰ ان کی گردنوں میں ایسا کیڑا پیدا کر دےگاجیسے ٹڈیاں ہو تی ہیں،جس سے وہ مرجائیں گے اور ان کی آواز تک نہ سنی جائے گی۔ مسلمان کہیں گے:کیا کوئی شخص ہے جو خطرہ مول لے کر دیکھے کہ اللہ نے اس دشمن کے ساتھ کیا کیا ہے؟ ان میں سے ایک شخص ثواب کی نیت سے علیحدہ ہو گا اور اس کا خیال ہوگا کہ وہ قتل کر دیا جائے گا۔ وہ نیچے اترے گا تو انہیں مردہ حالت میں پائے گا، ایک دوسرے پر گرے پڑے ہوں گے،وہ پکارے گا: اے مسلمانوں کی جماعت! خوش ہو جاؤ، اللہ تعالیٰ تمہارے لئے تمہارے دشمن کے لیے مقابلے میں کافی ہوگیا ہے ۔ تب مسلمان اپنے شہروں اور قلعوں سے نکلیں گے اور اپنے مویشی چرائیں گے، ان کے لئے ان کے گوشت کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوگا، وہ اس سے اس قدر موٹے تازے ہوجائیں گے جتنا کہ بہترین چارہ کھا کر وہ ہوسکتے تھے
Takhreej
الصحيحة رقم (1793) سنن ابن ماجةكِتَاب الْفِتَنِ بَاب فِتْنَةِ الدَّجَالِ وَخُرُوجِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَخُرُوجِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ رقم (4069)
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مخلوق ایک دوسرے سے اپنا بدلہ لے گی حتی کہ بغیر سینگوں والا جانور، سینگوں والے سے اور چیونٹی چیونٹی سے بدلہ لے گی ۔
)ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہےکہ: اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق جن، انس اور جانوروں کے درمیان فیصلہ کرے گا،اس دن بغیر سینگوں والا جانور، سینگوں والے سے بدلہ لے گا۔ حتی کہ جب کوئی جانور کسی دوسرے سے بدلہ لینے والا نہیں بچے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا :مٹی ہو جاؤ۔ اس وقت کافر کہے گا: (النساء:۴۰) اے کاش میں مٹی ہو جاتا
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا : اے آدم! وہ کہیں گے: حاضر ہوں اے ہمارے رب! بلند آواز آئے گی:اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ آپ اپنی اولاد سے آگ کا حصہ نکال لیں۔ وہ کہیں گے:اے رب! آگ کا کتنا حصہ ہے؟ غالباً انہوں نے کہا کہ: ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ اس وقت حاملہ حمل گرا دے گی، اور بچہ بوڑھا ہو جائے گا (الحج:۲) ”اور تم لوگوں کو نشے کی حالت میں دیکھو گے حالانکہ وہ نشے کی حالت میں نہیں ہوں گے لیکن اللہ کا عذاب شدید ہوگا“ ۔یہ بات صحابہ کرام پر گراں گزری حتی کہ ان کے چہرے بدل گےں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:یا جوج و ماجوج سے نو سو ننانوے اور تم میں سے ایک، پھر تم دوسرے لوگوں میں سفید بیل کے پہلو میں کالے بال کی طرح ہو گے۔ یا کالے بیل کے پہلو میں سفید بال کی طرح اور مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا چوتھائی ہو۔ ہم نے اللہ اکبر کہا۔ پھر فرمایا:اہل جنت کا ایک تہائی،ہم نے اللہ اکبر کہا۔ پھر فرمایا: اہل جنت کا نصف، ہم نے اللہ اکبر کہا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3250) صحيح البخاري كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ بَاب (وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى) رقم (4372)
ابو سعید خدریرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارا رب اپنی پنڈلی ظاہر کرے گا تو ہر مومن مرد اور عورت سجدے میں گر جائیں گے اور جو لوگ دنیا میں ریاء اور شہرت کے لئے سجدہ کرتے تھے وہ باقی بچیں گے،وہ سجدہ کرنے لگیں گے تو ان کی پیٹھ سیدھی رہ جائے گی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (383) صحيح البخاري كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ بَاب { يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ } رقم (4538)
ابو نضرہ رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس تھے وہ کہنے لگے: ممکن ہے اہل عراق کی طرف نہ کوئی قفیز(غلہ) اور نہ درہم جائے۔ ہم نے کہا: کہاں سے؟ وہ کہنے لگے: عجم کی طرف سے، وہ اسے روک لیں گے، پھر کہا: ممکن ہے اہل شام کی طرف کوئی دینار یا مدی (ایک پیمانہ) جائے۔ ہم نے کہا: کہاں سے؟ انہوں نے کہا: روم سے،پھر کچھ دیر چپ ہوگئے پھر کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے آخر میں ایک خلیفہ ہوگا جو شمار کئے بغیر چلو بھر بھر مال بانٹے گا۔ راوی کہتا ہے کہ میں نے ابو نضرہ اور ابو العلاء سے کہا: کیا آپ کے خیال میں یہ عمر بن عبدالعزیز تو نہیں؟ تو ان دونوں نے کہا: نہیں
Takhreej
الصحيحة رقم (3072) صحيح مسلم كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ بَاب لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ... رقم (5189)
ابو امامہرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: اس امت کےآخر زمانے میں ایسے آدمی ہوں گےجن کے پاس گائے کی دموں جیسے کوڑے ہوں گے،صبح و شام اللہ کی ناراضگی میں گزاریں گے۔
جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: عیسیٰ بن مریم علیہما السلام اتریں گے تو لوگوں کےامیرمہدی کہیں گے: آئیں نماز پڑھا ئیں،وہ کہیں گے: نہیں امیر ان ہی لوگوں میں سے ہوگا یہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو عزت بخشی ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (2236) صحيح مسلم كِتَاب الْإِيمَانِ بَاب نُزُولِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ حَاكِمًا... رقم (225)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک قوم پیدا ہوگی جو قرآن پڑھے گی لیکن ان کے حلق سے نیچے نہیں جائے گا۔ جب بھی کوئی گروہ نکلے گا تو اسے کاٹ دیا جائے گا حتی کہ ایک بہت بڑے لشکر میں دجال نکلے گا
Takhreej
الصحيحة رقم (2455) سنن ابن ماجة كِتَاب الْمُقَدِّمَةِ بَاب فِي ذِكْرِ الْخَوَارِجِ رقم (170)
ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ لوگ تم پر اس طرح ٹوٹ پڑیں جس طرح کھانے والے دسترخوان پر ٹوٹ پڑتے ہیں،کسی نے کہا: کیا اس دن ہم تعداد میں کم ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں،بلکہ تم اس دن زیادہ ہوگے، لیکن تم سمندرکے جھاگ کی طرح ہوگے اور اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کے دل سے تمہارا ڈرنکال لے گا، اور تمہارے دلوں میں وَهْنُرکھ دے گا۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ وَهْنُکیاہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ دنیا کی محبت اور موت سے نفرت۔
Takhreej
الصحيحة رقم (958) سنن أبي داؤد كِتَاب الْمَلَاحِمِ بَاب فِي تَدَاعِي الْأُمَمِ عَلَى الْإِسْلَامِ رقم (3745)
عبداللہ رضی اللہ عنہ سے موقوفا مروی ہےکہ: قریب ہے کہ تم اپنی بستیوں میں پانی کا ایک پیالہ تلاش کرو تو نہ پاؤ۔ تو تمہیں نہ ملے، ہر پانی اپنے عنصر (اصل جگہ)کی طرف چلا جائے گا،تب شام میں مومنین اور پانی بچے گا۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ دنیا پر کمینہ بن کمینہ غالب آجائے اور لوگوں میں افضل وہ مومن ہوگا جس کی اصل یعنی باپ بھی مؤمن ہو اور فرع یعنی بیٹا بھی مسلمان ہو۔