TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان - ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان - Book 21 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 21 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 226 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

226 Hadith · 1 Chapters
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ عَبدِ الرّحمن بن جُبَير بن نفير، عَنْ أَبِيْه، قَالَ: كَان عبد الله بن وزاج قَدِيمًا لَه صُحْبَةٌ، فَحَدَّثَنَا أَنَّ النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم ، قال: « يُوشِكُ أَنْ يُّؤَمَّرَ عَلَيْهِم الرُّويجلُ، فَيَجْتَمِع إِلَيْه قَوْمٌ مُحَلَّقَةٌ أَقْفِيَتُهُمْ بِيْضٌ قُمُصُهُمْ، فَإِذَا أَمَرَهُم بِشَيْءٍ حَضَرُوا» فَشَاءَ رَبُّكَ أَن عبد الله بن وزاج وُلِّي عَلَى بَعْض المدن، فَاجْتَمَع إِلَيْه قَوْمٌ مِّنَ الدَّهَاقِيْن، مُحَلَّقَةٌ أَقْفِيَتُهُم، بِيْضٌ قُمُصُهُمْ، فَكَان إِذَا أَمَرَهُم بِشَيْءٍ حَضَرُوا، فيقول: صَدَق الله وَرَسُوله.
عبدالرحمن بن جبیر بن نفیر رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن وزاج رضی اللہ عنہ جو کہ قدیم صحابی تھے انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ ان پر ایک چھوٹے قد کا آدمی عام آدمی امیر مقرر کیا جائے،اس کے پاس اس کی قوم جمع ہو،ان کی گردنوں کے بال مونڈھے ہوئے ہوں گے۔ ان کی قمیصیں سفید ہوں گی،جب وہ انہیں کسی کام کا حکم دے تو حاضر ہوجائیں گے۔پھر اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ عبداللہ بن وزاج کو بعض شہروں پر نگران مقرر کر دیا گیا،ان کے پاس ان کی قوم جمع ہوئی جو کسان تھے۔ان کی گردنوں کے بال مونڈھے ہوئے تھے۔ ان کی قمیصیں سفید تھیں، جب وہ انہیں کوئی حکم دیتے تو وہ حاضر ہو جاتے تو وہ کہتے: اللہ اور اس کے رسول ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے سچ فرمایا
Takhreej
الصحيحة رقم (3424) معرفة الصحابة لأبي نعيم رقم (4050)
2667
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَامَ غَزْوَةِ تَبُوكَ فَكَانَ يَجْمَعُ الصَّلَاةَ فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمًا أَخَّرَ الصَّلَاةَ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا ثُمَّ دَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ بَعْدَ ذَلِكَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا ثُمَّ قَالَ: إِنَّكُمْ سَتَأْتُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللهُ عَيْنَ تَبُوكَ وَإِنَّكُمْ لَنْ تَأْتُوهَا حَتَّى يُضْحِيَ النَّهَارُ فَمَنْ جَاءَهَا مِنْكُمْ فَلَا يَمَسَّ مِنْ مَائِهَا شَيْئًا حَتَّى آتِيَ. فَجِئْنَاهَا وَقَدْ سَبَقَنَا إِلَيْهَا رَجُلَانِ وَالْعَيْنُ مِثْلُ الشِّرَاكِ تَبِضُّ بِشَيْءٍ مِنْ مَاءٍ قَالَ: فَسَأَلَهُمَا رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌هَلْ مَسَسْتُمَا مِنْ مَائِهَا شَيْئًا؟ قَالَا: نَعَمْ فَسَبَّهُمَا النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَقَالَ لَهُمَا مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَقُولَ قَالَ: ثُمَّ غَرَفُوا بِأَيْدِيهِمْ مِّنَ الْعَيْنِ قَلِيلًا قَلِيلًا حَتَّى اجْتَمَعَ فِي شَيْءٍ قَالَ: وَغَسَلَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِيهِ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ ثُمَّ أَعَادَهُ فِيهَا فَجَرَتِ الْعَيْنُ بِمَاءٍ مُنْهَمِرٍ (أَوْ قَالَ غَزِيرٍ) حَتَّى اسْتَسقَى النَّاسُ ثُمَّ قَالَ: يُوشِكُ يَا مُعَاذُ إِنْ طَالَتْ بِكَ حَيَاةٌ أَنْ تَرَى مَا هَاهُنَا قَدْ مُلِئَ جِنَانًا.
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ ہم غزوہ تبوک کے موقع پر رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے ساتھ نکلے، آپ نماز جمع کرتے، ظہر اور عصر اکھٹی پڑھتے، اور مغرب وعشاء اکھٹی پڑھتے ۔ حتی کہ ایک دن جب آپ نے نماز مؤخر کی،پھر آپ باہر نکلے اور ظہر اور عصر اکٹھی پڑھی، پھر اندر داخل ہوئے پھر باہر آئے، اور مغرب اور عشاء اکٹھی پڑھی، پھر فرمایا: کل ان شاء اللہ تم تبوک کے چشمے پر پہنچو گے اور تم چاشت کے وقت اس پر پہنچو گے، جو اس تک پہنچ جائے وہ اس کے پانی کا ایک قطرہ بھی نہ چھوئے جب تک میں نہ آجاؤں۔ہم اس چشمے پر پہنچے تو دو آدمی ہم سے پہلے اس چشمے پر پہنچ گئے ۔چشمہ ایک نالی کی صورت میں تھا اور تھوڑا تھوڑا پانی چمک رہا تھا، رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ان دونوں سے پوچھا: کیا تم دونوں نے اس کا پانی لیا ہے؟ ان دونوں نے کہا: جی ہاں۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ان دونوں کوڈانٹا اور جو اللہ نے چاہا کہا۔ پھر لوگوں نے چلو بھر بھر کر تھوڑا تھوڑا پانی کسی چیز میں جمع کیا۔رسو ل اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اس میں اپنے ہاتھ اور چہرہ دھویا،پھر وہ پانی اس چشمے میں دوبارہ ڈال دیاتو چشمہ بھر پور پانی کی صورت میں بہہ پڑا حتی کہ لوگوں نے خوب پانی پیا۔ پھر آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اے معاذ !قریب ہے اگر تمہاری زندگی لمبی ہوئی تو تم دیکھو کہ یہ علاقہ باغات سے بھر جائے
Takhreej
الصحيحة رقم (1210) صحيح مسلم كِتَاب الْفَضَائِلِ بَاب فِي مُعْجِزَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رقم (4229)
2668
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ سَلمَان عَنِ النبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: «يُوضَع الْمِيزَان يَوْمَ الْقِيَامَة فَلَو وُزِنَ فِيه السَّمَاوَات وَالْأَرْض لوسعتْ، فَتَقُول الملائكة: يَا رَبّ! لِمَن يَّزِن هذا؟ فَيَقُول الله تعالى: لِمَن شِئْتُ من خَلْقي، فَتَقُولُ الملائكة: سُبْحَانَك مَا عَبدَنَاك حَقّ عِبَادَتِكَ، وَيُوضَعُ الصِّرَاط مِثْلَ حَدّ الْمُوسَى فَتَقُول الملائِكَةُ: من تُجِيزُ عَلَى هذا؟ فيقول: من شِئْتُ مِنْ خلْقِي، فَيَقُولُون: سُبْحَانَك ما عَبَدْنَاكَ حَقَّ عِبَادَتِك ».
سلمان‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: قیامت کے دن ترازو رکھا جائے گا، اگر اس میں آسمانوں اور زمینوں کو تولا جائے تب بھی اس میں گنجائش باقی رہے گی۔ فرشتے کہیں گے: اے ہمارے رب! یہ کس کا وزن کرے گا؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میں اپنی مخلوق میں سے جس کا چاہوں گا۔فرشتے کہیں گے:تو پاک ہے، ہم نے تیری عبادت کے حق کے بقدر عبادت نہیں کی اور استرے کی دھار کے مثل اور پل صراط رکھا جائے گا۔ فرشتے کہیں گے: اس پر سے کسے گزارے گا؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اپنی مخلوق میں سے جسے چاہوں گا۔ فرشتے کہیں گے:تو پاک ہے ہم نے تیری عبادت کے حق کے بقدر عبادت نہیں کی
Takhreej
الصحيحة رقم (941) مستدرك الحاكم رقم (8891)
2669
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَة، عَن رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، قَالَ: « يَوْمُ القِيَامَة كَقَدر مَا بَيْن الظُهر وَالعَصر »
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: قیامت کا دن ظہر اور عصر کے درمیانی وقت کے برابر ہوگا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2456) مستدرك الحاكم رقم (259)
2670
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
) قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : كَيْفَ أَنْعَمُ وَقَدِ الْتَقَمَ صَاحِبُ الْقَرْنِ الْقَرْنَ وَحَنَى جَبْهَتَهُ وَأَصْغَى سَمْعَهُ يَنْتَظِرُ أَنْ يُؤْمَرَ أَنْ يَنْفُخَ فَيَنْفُخَ قَالَ الْمُسْلِمُونَ: فَكَيْفَ نَقُولُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: قُولُوا: حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ تَوَكَّلْنَا عَلَى اللهِ رَبِّنَا وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ: عَلَى اللهِ تَوَكَّلْنَا. رُوِیَ مِن حَدِیْثِ ........ والبراء بن عازب رضی اللہ عنہم۔
آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میں کس طرح پر سکون رہ سکتا ہوں حالانکہ صاحب صور نے صور اپنے منہ سے لگایا ہوا ہے، اپنی پیشانی جھکائی ہوئی اور اپنے کان لگائے ہوئے منتظر ہے کہ اسے حکم دیا جائے اور وہ صور پھونکے ۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کس طرح کہا کریں؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تم کہو، حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ تَوَكَّلْنَا عَلَى اللهِ رَبِّنَا، ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ اچھا کار ساز ہے،ہم نے اپنے رب اللہ پر توکل کیا۔ ( ) یہ حدیث سیدنا ابو سعید حذری، عبداللہ بن عباس، زید بن ارقم، انس بن مالک جابر بن عبداللہ اور براء بن عازب رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1079) سنن الترمذي كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ بَاب وَمِنْ سُورَةِ الزُّمَرِ رقم (3166)
2671
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ عَبدِ اللهِ بْن عَمرِو بْنِ العَاص رَضِي اللهُ عَنْهُما، قَالَ: تَلَا رَسُول اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌الآيَة: یَّوۡمَ یَقُوۡمُ النَّاسُ لِرَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ؕ(۶) المطففین فَقَال رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : «كَيْفَ بِكُم إِذَا جَمَعكُم الله كَمَا یُجْمَعُ النُّبل فِي الكنَانةِ خَمسِين أَلف سنةٍ، ثُم لَا يَنْظُر اللهُ إِلِيْكُم؟».
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: (المطففین:۶)جس دن لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے، رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تمہاری کیا حالت ہوگی جب اللہ تعالیٰ تمہیں پچاس ہزار سال تک کے لئے جمع کرے گا جس طرح تیروں کو ترکش میں جمع کیا جاتا ہے پھر اللہ تعالیٰ تمہاری طرف دیکھے گا بھی نہیں؟۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2817) مسندرك الحاكم رقم (8858)
2672
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيرَة قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : كَيْفَ بِكَ يَا عَبد الله بن عمرو إِذَا بَقِيتَ فِي حُثَالَةٍ مِنَ النَّاسِ مَرِجَتْ عُهُودُهُمْ وَأَمَانَاتُهُمْ وَاخْتَلَفُوا، فَصَارُوا هَكَذَا: وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، قَالَ: قُلتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! مَا تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: عَلَيْكَ بِخَاصَتك، وَدَع عَنْكَ عَوَامهُم.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اے عبداللہ بن عمرو! تمہاری کیا حالات ہوگی جب تم بے کار لوگوں میں باقی رہ جاؤگے، ان کے عہد، اور امانتیں ٹوٹ جائیں گے، اور وہ اختلاف میں پڑ جائیں گے اور اس طرح ہو جائیں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں میں تشبیک(ملادیا) دی، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اپنے خاص کام کو لازم کر لو اور خود سے عام کاموں کو دور کر دو
Takhreej
الصحيحة رقم (206) صحيح ابن حبان كتاب الرهن رقم (6050 6051) المعجم الكبير للطبراني رقم (559)
2673
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: ذُكِرَ الدَّجَّالُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: لَأَنَا لِفِتْنَةِ بَعْضِكُمْ أَخْوَفُ عِنْدِي مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ وَلَنْ يَنْجُوَ أَحَدٌ مِمَّا قَبْلَهَا إِلَّا نَجَا مِنْهَا وَمَا صُنِعَتْ فِتْنَةٌ مُنْذُ كَانَتِ الدُّنْيَا صَغِيرَةٌ وَلَا كَبِيرَةٌ إِلَّا لِفِتْنَةِ الدَّجَّالِ.
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے پاس دجال کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی شخص کا فتنے میں مبتلا ہونا میرے نزدیک دجال کے فتنے سے زیادہ خوف کا باعث ہے اور جو شخص پہلے فتنے سے محفوظ رہا وہ دجال کے فتنے سے بھی محفوظ رہے گا، اور جب سے دنیا ہے جو بھی چھوٹا یا بڑا فتنہ بپا ہوا یا نظر عام پر آیا ہے وہ دجال کے فتنے کی وجہ سے ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (3082) مسند أحمد رقم (22215)
2674
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ أَبِي حَرْب بن أبي الأسود، قال: شَهِدْتُ عَلِيًّا والزبَيرَ، لَمَّا رَجَعَ الزُبَيْر عَلَى دَابَّتِه يَشُقُّ الصُّفُوفَ، فَعَرَضَ لَه ابْنُه عبد الله، فَقَال له: ما لَكَ ؟ فَقَالَ: ذَكَرَ لِي عَليٌّ حَدِيثًا سَمِعْتُه من رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يقول: «لَتُقَاتِلَنَّه وَأَنْتَ ظَالِمٌ لَه» فَلَا أقَاتِلَهُ، قَالَ: وَلِلْقِتَالِ جِئْتَ ؟ إِنَّمَا جِئْتَ لِتُصْلِحَ بَيْن النَّاس وَيُصْلِح الله هذا الْأَمْر بِكَ، قَالَ: قَدْ حَلَفْتُ أَن لَا أُقَاتِلَ، قَالَ: فَأَعْتِقْ غُلَامَكَ جَرْجِسْ وَقِفْ حَتَّى تُصْلِحَ بَيْن الناس، قال: فَأَعْتَق غُلَامَه جرجس وَوَقَفَ فَاخْتَلَفَ أَمْرُ النَّاسِ، فَذَهَب عَلَى فَرَسَه.
ابو حرب بن ابو الاسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں علی اور زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا جب زبیر رضی اللہ عنہ اپنی سواری پر صفوں کو چیرتے ہوئے واپس پلٹ رہے تھے،ان کا بیٹا عبداللہ ان کے سامنے آکر کھڑا ہوگیا اور کہا کہ کیا ہوا؟ تو زبیر‌رضی اللہ عنہ نے کہا: علی رضی اللہ عنہ نے مجھے ایک حدیث یاد کروادی ہے جو میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنی تھی۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: کہ تم اس سے لڑائی کرو گے اور تم ظالم ہوگے۔ (اس لئے) میں اس سے قتال نہیں کروں گا،عبداللہ‌رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم لڑائی کے لئے آئے ہو؟ آپ تو اس لئےآئے ہو تاکہ آپ لوگوں کے درمیان صلح کروادیں،اور اللہ تعالیٰ آپ کی وجہ سے اس معاملے کو درست کر دے۔ زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں قسم کھاچکا کہ لڑائی نہیں کروں گا۔ عبداللہ‌رضی اللہ عنہ نے کہا: اپنا غلام جرجس آزاد کر دیجئے اور لوگوں کے درمیان صلح کروانے تک ٹھہرے رہیں۔ زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنا غلام جرجس آزاد کر دیا اور وہیں ٹھہرے رہے، پھر لوگوں کے معاملے میں اختلاف پڑ گیا تو وہ اپنے گھوڑے پر بیٹھ کر چلے گئے
Takhreej
الصحيحة رقم (2659) مستدرك الحاكم رقم (5588)
2675
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عن حذيفة: قال: قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم : « لَيَأْتِيَنّ عَلَى أُمَّتِي زَمَانٌ يتَمَنَّونَ فِيهِ الدَّجَال» قُلْتُ: يَا رَسُولَ الله، بِأَبِي وَأُمِي! مِمَّ ذَاكَ؟ قَالَ: « مِمَّا يَلْقَوْن مِنَ الْعَنَاء أوِالضَّنَاءِ».
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:میری امت پر ایک زمانہ ایسا آئے گا جس میں وہ دجال کی تمنا کریں گے۔ میں نے کہا:اے اللہ کے رسول!میرے ماں باپ آپ پرقربان!کس وجہ سے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:انہیں جومشقت(قحط)یا بیماری پہنچےگی اس وجہ سے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3090) المعجم الأوسط للطبراني رقم (4440)
2676
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ أَوْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ لِإِحْدَاهُمَا: لَقَدْ دَخَلَ عَلَيَّ الْبَيْتَ مَلَكٌ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيَّ قَبْلَهَا فَقَالَ لِي: إِنَّ ابْنَكَ هَذَا: حُسَيْنٌ مَقْتُولٌ، وَإِنْ شِئْتَ أَرَيْتُكَ مِنْ تُرْبَةِ الْأَرْضِ الَّتِي يُقْتَلُ بِهَا. قَالَ: فَأَخْرَجَ تُرْبَةً حَمْرَاءَ.
عائشہ یا ام سلمہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ان دونوں میں سے کسی ایک سے فرمایا: میرے پاس گھر میں ایک فرشتہ آیا ہے جو اس سے پہلے میرے پاس نہیں آیا اور مجھ سے کہا: تمہارا بیٹا حسین قتل کیا جائے گا، اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو اس زمین کی مٹی دکھا سکتا ہوں جس میں اسے قتل کیا جائے گا ۔پھر اس نے سرخ مٹی نکال کر دکھائی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (822) مسند أحمد رقم (25315)
2677
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عن أبي الزبیر قال: سألت: جابرا رضی اﷲ عنہ عن الورود؟ فأخبرني أنہ سمع رسول اﷲ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌یقول: نحن یوم القیامۃ علی کوم فوق الناس الأمم بأوثانھا وما کانت تعبد الأوّل ثم یأتینا ربنا بعد ذلک فیقول: ما تنتظرون؟ فیقولون: ننتظر ربنا فیقول: أنا ربکم فیقولون: حتی ننظر إلیک فیتجلی لھم یضحک فیتبعونہ۔
ابو زبیر رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ میں نے جابر رضی اﷲ عنہ سے ورود (حاضری) کے بارے میں سوال کیا۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ انہوں نے رسول اﷲ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرمارہے تھے: ہم قیامت کے دن لوگوں سے اوپر ایک ٹیلے پر ہوں گے، تمام امتوں کو، ان کے بتوں اور جن کی وہ عبادت کرتے تھے ایک ایک کرکے بلایا جائے گا۔ پھر اس کے بعد ہمارا رب آئے گا او رکہے گا: تم کس کا انتظار کررہے ہو؟ تو لوگ کہیں گے: ہم اپنے رب کا انتظار کررہے ہیں، اﷲ تعالیٰ فرمائے گا: میں تمہارا رب ہوں، وہ کہیں گے: جب تک ہم آپ کو دیکھ نہ لیں، تب اﷲ تعالیٰ مسکراتے ہوئے تجلی فرمائے گا اور لوگ اﷲ تعالیٰ کے پیچھے چل پڑیں گے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3090) المعجم الأوسط للطبراني رقم (4440)
2678
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
قال سعد: إنّي سمعت رسول اﷲ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌یقول: نعم المیتۃ أن یموت الرجل دون حقّہ۔
سعد رضی اﷲ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اﷲ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: بہترین موت وہ ہے کہ آدمی اپنا حق بچاتے ہوئے مر جائے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (822) مسند أحمد رقم (25315)
2679
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عن جابر بن عبداﷲ رضي اﷲ تعالٰی عنھما قال: أشرف رسول اﷲ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌علی فلق من أفلاق الحرۃ ونحن معہ فقال: نعمت الأرض المدینۃ إذا خرج الدجال علی کل نقب من أنقابھا ملک لا یدخلھا فإذا کان کذلک رجفت المدینۃ بأھلھا ثلاث رجفات لا یبقی منافق ولا منافقۃ إلا خرج إلیہ وأکثر یعني من یخرج إلیہ النساء وذلک یوم التخلیص وذلک یوم تنفي المدینۃ الخبث کما ینفي الکیر خبث الحدید یکون معہ سبعون ألفا من الیھود علی کل رجل منھم ساج وسیف محلی فتضرب رقبتہ بھذا الضرب الذي عند مجتمع السیول۔ ثم قال رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم : ما کانت فتنۃ وتکون حتی تقوم الساعۃ أکبر من فتنۃ الدجال ولا من نبيّ إلی حذر امتہ ولأخیرنکم بشيء ما أخبرہ نبي قبلي۔ ثم وضع یدہ علی عینہ ثم قال: أشھد أن اﷲ عزوجل لیس بأعور۔
جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنما سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اﷲ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌حرہ (آتش فشانی سنگریزے) کی کسی اونچی جگہ پر چڑھے ہم بھی آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے ساتھ تھے، آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: بہترین زمین (علاقہ) مدینے کی ہے، جب دجال نکلے گا تو اس کے ہر راستے پر فرشتہ بیٹھا ہوگا اور دجال اس میں داخل نہیں ہوسکے گا، جب صورت حال اس طرح ہوگی تو مدینہ تین مرتبہ اپنے رہنے والوں کو ہلائے گا، کوئی منافق اور منافقہ اس میں باقی نہیں رہے گا، وہ مدینے سے باہر نکل جائیں گے، اکثر نکلنے والی عورتیں ہوں گی، یہ خلاصی کا دن ہوگا، اور ایسا دن ہوگا کہ مدینہ اپنا میل کچیل اس طرح نکال دے گا، جس طرح بھٹی لوہے کا زنگ ختم کردیتی ہے، دجال کے ساتھ ستر ہزار یہودی ہوں گے ان میں سے ہر شخص پر چمکتی ہوئی تلوار ہوگی، اس کی گردن پر ایسی ضرب لگائی جائے گی جیسے سیلابی پانی پر لگائی جاتی ہے۔ پھر رسول اﷲ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: کوئی فتنہ قیامت تک دجال کے فتنے سے بڑا نہیں ہوا نہ ہوگا۔ او رکوئی نبی ایسا نہیں جس نے اپنی امت کو اس سے ڈرایا نہ ہو، میں تمہیں ایسی نشانی بتا رہا ہوں جو مجھ سے پہلے کسی نبی نے نہیں بتائی۔ پھر اپنا ہاتھ اپنی آنکھ پر رکھا پھر فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ تعالیٰ کا نام نہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (4006) صحيح البخاري كِتَاب الْمَنَاقِبِ بَاب عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ رقم (3359)
2680
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ جَابِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : هَلْ لَكُمْ مِنْ أَنْمَاطٍ؟ قُلْتُ: وَأَنَّى يَكُونُ لَنَا الْأَنْمَاطُ؟! قَالَ: أَمَا إِنَّهَا سَتَكُونُ لَكُمْ الْأَنْمَاطُ. قَالَ جَابر: فَأَنَا أَقُولُ لَهَا يَعْنِي: امْرَأَتَهُ أَخِّرِي عَنِّا أَنْمَاطَكِ فَتَقُولُ: أَلَمْ يَقُلِ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّهَا سَتَكُونُ لَكُمُ الْأَنْمَاطُ؟! فَأَدَعُهَا.
جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: کیا تمہارے پاس قالین ہیں؟ میں نے کہا: ہمارے پاس قالین طرح ہو سکتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: عنقریب تمہارے پاس دسترخوان ہوں گے ۔جابر کہتے ہیں کہ میں یہ بات اپنی بیوی سے کہا کرتا تھا کہ: مجھ سے اپنے قالین دور کر لو، تو وہ کہتی:کیا نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے یہ نہیں کہا کہ عنقریب تمہارے لئے قالین ہوں گے ؟ تو میں اسے چھوڑ دیا کرتا ۔
Takhreej
الصحيحة رقم (822) مسند أحمد رقم (25315)
2681
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَة قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: «وَالَّذِي نَفْسُ أَبي الْقَاسِم بِيَده لَيَنْزِلَنّ عَيْسَى ابن مَرْيَم إِمَامًا مُقْسِطًا وَحَكَمًا عَدْلًا، فَلَيَكْسِرَنّ الصَّلِيْبَ، وَلَيَقْتُلَنّ الخِنْزِيْرَ، وَلَيُصْلِحَنَّ ذَاتَ البَيْنِ، وَلَيُذْهِبَنَّ الشَّحْنَاءَ، وَلَيُعْرَضَنَّ عَلَيْهِ الْمَالُ فَلَا يَقْبَلُهُ، ثُمَّ لَئِنْ قَامَ عَلَى قَبْرِي فقال: يَا مُحَمَّدْ لَأَجَبْتُه».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابو القاسم کی جان ہے! عیسیٰ بن مریم علیہما السلام انصاف پسند امام اور عادل منصف بن کر نازل ہوں گے وہ صلیب کو ضرور توڑیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے اور لوگوں کے درمیان صلح کروائیں گے،اور بخیلی کو ختم کر دیں گے ۔ان کے سامنے مال پیش کیا جائے گا تو اسے قبول نہیں کریں گے،پھر اگر وہ میری قبر پر کھڑے ہو کر کہیں:یا محمد تو میں جواب دوں گا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2733) مسند أبي يعلى رقم (6449)
2682
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَة قَالَ: خَرَجَ النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم ، عَلَى رَهْطٍ من أَصْحَابه يَضْحَكُون وَيَتَحَدَّثُون فَقَال: « وَالَّذِي نَفَسِي بيده! لَو تَعْلَمُون ما أَعْلَمُ لَضَحِكْتُم قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُم كَثِيْرًا، ثُمَّ انْصَرَفَ وَأَبْكَى الْقَوْمَ وَأَوْحَى اللهُ إِلَيْهِ: يَا مُحَمَّدُ! لِمَ تُقَنِّطُ عِبَادِي؟ فَرَجَعَ النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فقال: أَبْشِرُوا، وَسَدِّدُوا وَقَارِبُوا».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌صحابہ کے ایک گروہ کے پاس آئے وہ ہنس رہے تھے اور باتیں کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تمہیں وہ باتیں معلوم ہو جائیں جو میں جانتا ہوں تو تم ہنسو کم اور روؤ زیادہ۔پھر نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌واپس پلٹ گئے اور لوگ رونے لگے۔ اللہ عزوجل نے آپ کی طرف وحی کی: اے محمد! تم میرے بندوں کو نا امید کیوں کرتے ہو؟ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌واپس پلٹے اور فرمایا: خوش ہو جاؤ،سیدھے ہو جاؤ اور قریب ہو جاؤ
Takhreej
الصحيحة رقم (3194) شعب الإيمان للبيهقي رقم (1073)
2683
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ أبِي بَكْرَةَ قَالَ: أَنَّ نَبِيَّ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مَرَّ بِرَجُلٍ سَاجِدٍ وَهُوَ يَنْطَلِقُ إِلَى الصَّلَاةِ فَقَضَى الصَّلَاةَ وَرَجَعَ عَلَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ فَقَامَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: مَنْ يَقْتُلُ هَذَا؟ فَقَامَ رَجُلٌ فَحَسَرَ عَنْ يَدَيْهِ فَاخْتَرَطَ سَيْفَهُ وَهَزَّهُ ثُمَّ قَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ! بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي كَيْفَ أَقْتُلُ رَجُلًا سَاجِدًا يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ؟ ثُمَّ قَالَ: مَنْ يَقْتُلُ هَذَا؟ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: أَنَا فَحَسَرَ عَنْ ذِرَاعَيْهِ وَاخْتَرَطَ سَيْفَهُ وَهَزَّهُ حَتَّى أَرْعَدَتْ يَدُهُ فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ! كَيْفَ أَقْتُلُ رَجُلًا سَاجِدًا يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ قَتَلْتُمُوهُ لَكَانَ أَوَّلَ فِتْنَةٍ وَآخِرَهَا.
ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو سجدے میں پڑا ہوا تھا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کی طرف جا رہے تھے۔ آپ نے نماز مکمل کر لی اس کے پاس سے واپس پلٹے تو وہ سجدے میں پڑا ہوا تھا۔ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کھڑے ہوگئے اور فرمایا: اسے کون قتل کرے گا؟ ایک آدمی کھڑا ہوا اپنے بازو چڑھائے اور تلوار سونت لی اسے حرکت دے کر کہا: اے اللہ کے نبی ! میرے ماں باپ آپ پر قربان!میں اس آدمی کو کس طرح قتل کروں جو سجدے میں پڑا ہوا ہے اور گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں اور محمد ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌اس کے بندے اور رسول ہیں؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے پھر فرمایا: اسے کون قتل کرے گا؟ ایک آدمی کھڑاہوااورکہنے لگا:میں، اس نے اپنے بازو چڑھائے،اپنی تلوار سونت کر حرکت دی جب اس کا ہاتھ حرکت میں آیا تو کہنے لگا: اے اللہ کے نبی! میں اس آدمی کو کس طرح قتل کروں جو سجدے کی حالت میں پڑا ہوا لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی گواہی دے رہا ہے؟ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم اسے قتل کر دیتے تو یہ پہلا اور آخری فتنہ ہوتا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2495) مسند أحمد رقم (19536)
2684
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
) عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: عَدَا الذِّئْبُ عَلَى شَاةٍ فَأَخَذَهَا فَطَلَبَهُ الرَّاعِي فَانْتَزَعَهَا مِنْهُ فَأَقْعَى الذِّئْبُ عَلَى ذَنَبِهِ قَالَ أَلَا تَتَّقِي اللهَ؟! تَنْزِعُ مِنِّي رِزْقًا سَاقَهُ اللهُ إِلَيَّ؟ فَقَالَ: يَا عَجَبِي! ذِئْبٌ مُقْعٍ عَلَى ذَنَبِهِ يُكَلِّمُنِي كَلَامَ الْإِنْسِ؟ فَقَالَ الذِّئْبُ: أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَعْجَبَ مِنْ ذَلِكَ؟ مُحَمَّدٌ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِيَثْرِبَ يُخْبِرُ النَّاسَ بِأَنْبَاءِ مَا قَدْ سَبَقَ! قَالَ: فَأَقْبَلَ الرَّاعِي يَسُوقُ غَنَمَهُ حَتَّى دَخَلَ الْمَدِينَةَ فَزَوَاهَا إِلَى زَاوِيَةٍ مِنْ زَوَايَاهَا ثُمَّ أَتَى رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَأَخْبَرَهُ فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَنُودِيَ: الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ لِلرَّاعِي: أَخْبِرْهُمْ. فَأَخْبَرَهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : صَدَقَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُكَلِّمَ السِّبَاعُ الْإِنْسَ وَيُكَلِّمَ الرَّجُلَ عَذَبَةَ سَوْطِهِ وَشِرَاكَ نَعْلِهِ وَيُخْبِرَهُ فَخِذُهُ بِمَا أَحْدَثَ أَهْلُهُ بَعْدَهُ.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ ایک بھیڑیے نے ایک بکری پر حملہ کر کے اسے پکڑ لیا۔ چرواہے نے اس کا پیچھا کرکے بکری اس سے چھین لی۔ بھیڑیا اپنی دُم پر بیٹھ گیا پھرکہنے لگا: کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتے ؟مجھ سے میرا رزق چھین رہے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے دیا ہے؟ وہ آدمی کہنے لگا: ہائے تعجب ہے! بھیڑیا اپنی دُم پر بیٹھا مجھ سے انسانوں کی طرح گفتگو کر رہا ہے۔ بھیڑیے نے کہا: کیا میں تمہیں اس سے بھی عجیب بات نہ بتاؤں؟ محمد ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌یثرب میں ہیں جو واقعات گزر چکے ہیں ان کی خبریں بتارہے ہیں۔وہ چرواہا اپنی بکریاں چراتا ہوا مدینے میں داخل ہوگیاپھر مدینے کے کسی گوشے اپنی بکریاں جمع کیں، پھررسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے پاس آیا اور انہیں یہ بات بتائی۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے حکم دیا تو نماز کے لئے جمع ہونے کا اعلان کیا گیا،پھر آپ باہر نکلے اور چرواہے سے کہا: انہیں بھی بتاؤ۔ چرواہے نے لوگوں کو واقعہ بیان کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:اس نےسچ کہا:اس ذات کی قسم جس کےہاتھ میں میری جان ہے!قیامت اس وقت قائم نہیں ہوگی جب تک درندے(جانور) انسانوں سے بات نہ کرنے لگ جائیں اور آدمی سے اس کے کوڑے کی چھڑی اور جوتے کا تسمہ نہ بولنے لگ جائے اور اسے اس کی ران بتلائے کہ اس کے بعد اس کے گھر والوں نے کیا کیا ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (122) مسند أحمد رقم (11365)
2685
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ أَبِي عَامِرٍ أَوْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ، سَمِعَ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: لَيَكُونَنَّ مِنْ أُمَّتِي أَقْوَامٌ يَسْتَحِلُّونَ الْحِرَ وَالْحَرِيرَ وَالْخَمْرَ وَالْمَعَازِفَ وَلَيَنْزِلَنَّ أَقْوَامٌ إِلَى جَنْبِ عَلَمٍ يَرُوحُ عَلَيْهِمْ بِسَارِحَةٍ لَهُمْ يَأْتِيهِمْ لِحَاجَةٍ فَيَقُولُونَ: ارْجِعْ إِلَيْنَا غَدًا فَيُبَيِّتُهُمُ اللهُ وَيَضَعُ الْعَلَمَ وَيَمْسَخُ آخَرِينَ قِرَدَةً وَخَنَازِيرَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.
ابو عامر یا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میری امت میں کچھ لوگ ہوں گے جو شرمگاہ (یعنی زنا)، ریشم، شرا ب اور گانے بجانے کے آلات کو حلال کر لیں گے۔ اور کچھ لوگ پہاڑ کی چوٹی پر (اپنے بنگلوں میں رہائش کے لئے) آئیں گے۔ ان کے چرواہے ان کے مویشی صبح و شام لائیں لے جائیں گے۔ ان کے پاس کوئی فقیر ضرورت سے آئے گاتو وہ کہیں گے:ہمارے پاس کل آنا، اللہ تعالیٰ رات کے وقت ان پر عذاب نازل کر ے گا۔ان پر پہاڑ کو گرا دے گا اور دوسرے لوگوں کو قیامت تک بندروں اور خنزیروں کی شکل میں تبدیل کر دے گا
Takhreej
الصحيحة رقم (91) صحيح البخاري كِتَاب الْأَشْرِبَةِ بَاب مَا جَاءَ فِيمَنْ يَسْتَحِلُّ الْخَمْرَ وَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ رقم (5162)
2686
Sahih