TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان - فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان - Book 22 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 22 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 271 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

271 Hadith · 1 Chapters
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرفُوعاً: قَالَ مَا جَلَسَ قَوْمٌ مَجْلِسًا يَذْكُرُونَ اللهَ فِيهِ إِلَّا حَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ وَتَغَشَّتْهُمُ الرَّحْمَةُ وَنَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ وَذَكَرَهُمُ اللهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہےکہ: جو قوم کسی مجلس میں بیٹھی اور اس میں اللہ کا ذکر کیا تو فرشتے انہیں ڈھانپ لیتے ہیں، رحمت ان پر چھا جاتی ہے اور ان پر سکینت نازل ہوتی ہے اور اللہ عزوجل اپنے پاس موجود لوگوں میں ان کا ذکر کرتاہے
Takhreej
الصحيحة رقم (75) صحيح مسلم كِتَاب الذِّكْرِ...بَاب فَضْلِ الِاجْتِمَاعِ عَلَى تِلَاوَةِ الْقُرْآنِ وَعَلَى الذِّكْرِ (4868) سنن ابن ماجة (3781)
2933
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ أَنسِ مرفوعاً: مَا جَلَسَ قَوْمٌ يَذْكُرُونَ اللهَ عز وجل إِلَّا نَادَاهُمْ مُنَادٍ مِّنَ السَّمَاءِ: قُومُوا مَغْفُوْرًا لَّكُمْ قَدْ بُدِّلَتْ سَيِّئَاتُكُمْ حَسَنَاتٍ.
انس‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہےکہ: جو لوگ اللہ کا ذکر کرنے کے لئے بیٹھتے ہیں تو آسمان سے ایک ندا دینے والا ندا دیتاہے: کھڑے ہو جاؤ، تمہیں بخش دیا گیا، تمہاری برائیاں نیکیوں سے بدل دی گئیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2210) المعجم الأوسط للطبراني رقم (1614)
2934
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرفُوعاً: مَا قَعَدَ قَوْمٌ مَقْعَدًا لَم يَذْكُرُوا فِيه اللهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيُصَلُّوا عَلَى النَّبِيِّ إِلَّا كَانَ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَإِنْ دَخَلُوا الْجَنَّةَ لِلثَّوَابِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہےکہ: جو قوم کسی مجلس میں بیٹھ کر اللہ کا ذکر نہیں کرتی اور نہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌پر درود بھیجتی ہے تو وہ مجلس قیامت کے دن ان کے لئے حسرت کا باعث ہوگی، اگر چہ وہ ثواب کی وجہ سے جنت میں داخل ہو جائیں
Takhreej
الصحيحة رقم (76) مسند أحمد رقم (9586) صحيح ابن حبان رقم (593)
2935
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرفُوعاً: قَالَ مَا مِنْ أَحَدٍ يُّسَلِّمُ عَلَيَّ إِلَّا رَدَّ اللهُ عَلَيَّ رُوحِي حَتَّى أَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہےکہ: جو شخص مجھے سلام بھیجتا ہے تو اللہ تعالیٰ میری روح مجھ میں واپس لوٹا دیتا ہے حتی کہ میں اسے جواب دیتا ہوں
Takhreej
الصحيحة رقم (2266) سنن أبي داؤد كِتَاب الْمَنَاسِكِ بَاب زِيَارَةِ الْقُبُورِ رقم (1745)
2936
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَا مِنْ دَعْوَةٍ يَدْعُو بِهَا الْعَبْدُ أَفْضَلَ مِنْ: اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْمُعَافَاةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: کوئی دعا جو بندہ کرتا ہے اس دعا سے افضل نہیں: اے اللہ میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں عافیت کا سوال کرتا ہوں
Takhreej
الصحيحة رقم (1138) سنن ابن ماجة كِتَاب الدُّعَاءِ بَاب الدُّعَاءِ بِالْعَفْوِ وَالْعَافِيَةِ رقم (3841)
2937
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ بن مُغَفَّلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَا مِنْ قَوْمٍ اجْتَمَعُوا فِي مَجْلِسٍ، فَتَفَرَّقُوا وَلَمْ يَذْكُرُوا اللهَ، إِلا كَانَ ذَلِكَ الْمَجْلِسُ حَسْرَةً عَلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جو لوگ کسی مجلس میں جمع ہوتے ہیں اور پھر الگ ہو جاتے ہیں لیکن اللہ کا ذکر نہیں کرتے تو وہ مجلس قیامت کے دن ان کے لئے حسرت کا باعث ہوگی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2557) المعجم الكبير للطبراني رقم (1669)
2938
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنِ ابْنِ عَمْرٍو مَرفُوعاً: مَا مِنْ قَوْمٍ جَلَسُوا مَجْلِسًا لَمْ يَذْكُرُوا اللهَ فِيهِ إِلَّا رَأَوْهُ حَسْرَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ: جو لوگ کسی مجلس میں بیٹھتے ہیں اور اس میں اللہ کا ذکر نہیں کرتے تو وہ قیامت کے دن حسرت محسوس کریں گے
Takhreej
الصحيحة رقم (80) مسند أحمد رقم (6796)
2939
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرفُوعاً: مَا مِنْ قَوْمٍ يَّقُومُوْنَ مِنْ مَجْلِسٍ لَّا يَذْكُرُونَ اللهَ فِيهِ إِلَّا قَامُوا عَنْ مِثْلِ جِيفَةِ حِمَارٍ وَكَانَ عَلَيهمْ حَسْرَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: جولوگ کسی مجلس سے کھڑے ہوتے ہیں اس مجلس میں اللہ کا ذکر نہیں کرتے تو گویا وہ لوگ کسی مردہ گدھے کے پاس سے کھڑے ہوتے ہیں،اور وہ مجلس قیامت کے دن ان کے لئے حسرت کا باعث ہوگی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (77) سنن أبي داؤد كِتَاب الْأَدَبِ بَاب كَرَاهِيَةِ أَنْ يَقُومَ الرَّجُلُ مِنْ مَجْلِسِهِ وَلَا يَذْكُرَ اللَّهَ رقم (4214)
2940
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ مُعَاذِ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: مَا مِنْ مُّسْلِمٍ يَبِيتُ عَلَى ذِكْرٍ (اللهِ) طَاهِرًا فَيَتَعَارُّ مِنَ اللَّيْلِ فَيَسْأَلُ اللهَ خَيْرًا مِّنْ (أَمر) الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ.
معاذ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:جو مسلمان پاکیزگی کی حالت میں(اللہ)کے ذکر پر رات گزارتا ہے۔تو جب وہ رات کو اٹھتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ سے دنیا اور آخرت کی بھلائی کا جو بھی سوال کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے عطا کر دیتا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (3288) سنن أبي داؤد كِتَاب الْأَدَبِ بَاب فِي النَّوْمِ عَلَى طَهَارَةٍ رقم (4385)
2941
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ أَنسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لِفَاطمة : مَا يَمْنَعُكِ أَن تَسْمَعِي ما أُوصِيكِ (به)؟ (أن) تَقُولِي إِذَا أَصْبَحْتِ وَإِذَا أَمْسَيْتِ: يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ. وَأَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّه، وَلَا تَكِلْنِي إلى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْن أَبَدًا.
انس بن مالک ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: جو نصیحت میں تمہیں کر رہا ہوں تم اسے سنتی کیوں نہیں؟ جب تم صبح یا شام کرو تو کہو: اے زندہ اور قائم رہنے والے !تیری رحمت کے ذریعے ہی میں مدد طلب کرتی ہوں، میری تمام حالت درست کر دے اور کبھی بھی پلک جھپکنے کے برابر مجھے میرے نفس کے سپرد نہ کر
Takhreej
الصحيحة رقم (227) مستدرك الحاكم رقم (1958) السنن الكبرى للنسائي رقم (10405)
2942
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ جَرِيرٍ قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَلَى نِسْوَةٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِنَّ.
جریر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کچھ عورتوں کے پاس سے گزرے تو ان پر سلام کہا۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2139) مسند أحمد رقم (18417) المعجم الكبير للطبراني رقم (2424)
2943
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ مَرْفُوعاً: مُعَقِّبَاتٌ لَا يَخِيبُ قَائِلُهُنَّ أَوْ فَاعِلُهُنَّ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ ثَلَاثٌ وَثَلَاثُونَ تَسْبِيحَةً وَثَلَاثٌ وَثَلَاثُونَ تَحْمِيدَةً وَأَرْبَعٌ وَثَلَاثُونَ تَكْبِيرَةً
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ:باقی رہنے والی نیکیاں، ان کا کہنے والا یا کرنے والا ناکام نہیں ہوتا، ہر فرض نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سبحان اللہ ،تینتیس مرتبہ الحمدللہ، اور چونتیس مرتبہ اللہ اکبر
Takhreej
الصحيحة رقم (102) صحيح مسلم كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةِ بَاب اسْتِحْبَابِ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ وَبَيَانِ صِفَتِهِ رقم (937)
2944
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ مَرْفُوعاً: مَنْ أَحَبّ أَن تَسُرَّه صَحِيفَتُه، فَلْيُكْثِر فِيهَا من الِاسْتِغْفَار
زبیر بن عوام‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: جو شخص اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کا اعمال نامہ اسے اچھا لگے تو وہ کثرت سے استغفار کرے
Takhreej
الصحيحة رقم (2299) المعجم الأوسط للطبراني رقم (851) شعب الإيمان للبيهقي رقم (668)
2945
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌الْمَسْجِدَ وَهُوَ بَيْنَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَإِذَا ابْنُ مَسْعُودٍ يُصَلِّي وَإِذَا هُوَ يَقْرَأُ (النِّسَاءَ) فَانْتَهَى إِلَى رَأْسِ الْمِائَةِ فَجَعَلَ ابْنُ مَسْعُودٍ يَدْعُو وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : اسْأَلْ تُعْطَهْ اسْأَلْ تُعْطَهْ ثُمَّ قَالَ: مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَضًّا كَمَا أُنْزِلَ فَلْيَقْرَأْهُ عَلى قِرَاءَةِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا إِلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ رضی اللہ عنہ لِيُبَشِّرَهُ وَقَالَ لَهُ: مَا سَأَلْتَ اللهَ الْبَارِحَةَ؟ قَالَ: قُلْتُ: اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ إِيمَانًا لَّا يَرْتَدُّ وَنَعِيمًا لَّا يَنْفَدُ وَمُرَافَقَةَ مُحَمَّدٍ فِي أَعْلَى جَنَّةِ الْخُلْدِ. ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ رضی اللہ عنہ فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ قَدْ سَبَقَكَ! قَالَ: يَرْحَمُ اللهُ أَبَا بَكْرٍ مَا سَبَقْتُهُ إِلَى خَيْرٍ قَطُّ إِلَّا سَبَقَنِي إِلَيْهِ.
عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌مسجد میں داخل ہوئے، آپ ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے درمیان میں تھے۔ ارو اس وقت عبداللہ بن مسعود نماز میں کھڑے ہو کر سورۂ نساء کی تلاوت کررہے تھے۔ جب سو آیات مکمل کر لیں تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ دعا کرنے لگے: وہ نماز میں کھڑے تھے۔ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: مانگو تمہیں عطا کیا جائے گا۔ مانگو تمہیں عطا کیا جائے گا۔ پھر فرمایا؛ جو شخص اس بات کو پسند کرتا ہے کہ قرآن اس طرح پڑھے جس طرح نازل ہو اہے تو وہ ام عبد کے بیٹے (ابن مسعود رضی اللہ عنہ ) کی قراءت پر قرآن پڑھے۔ جب صبح ہوئی تو ابو بکر رضی اللہ عنہ انہیں خوشخبری دینے کے لئے گئے اور ان سے کہا: تم نے اللہ تعالیٰ سے کل رات کیا مانگا تھا؟ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ! مجھے ایسا ایمان عطا کر جس میں ارتداد نہ ہو، اور ایسی نعمت عطا کر جو ختم نہ ہو، اور جنت خلد کے اعلی حصے میں محمد ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کی رفاقت عنایت فرما۔ پھر عمر‌رضی اللہ عنہ آئے تو ان سے کہا گیا: ابو بکر رضی اللہ عنہ آپ سے سبقت لے گئے ہیں۔ عمر‌رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ ابو بکر رضی اللہ عنہ پر رحم فرمائے، میں جب بھی کسی نیکی کی طرف بڑھا ابو بکر رضی اللہ عنہ مجھ سے سبقت لے گئے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2301) مسند أحمد رقم (4112)
2946
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ مَرفُوعاً: مَنْ أَخَذَ السَّبْعَ الْأُوَلَ مِنَ الْقُرْآنِ فَهُوَ حِبْرٌ .
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعا مروی ہے کہ: جس شخص نے قرآن کی ابتدائی سات سورتیں سیکھ لیں وہ عالم ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2305) مسند أحمد رقم (23390)
2947
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عن أبي الدرداء أن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: مَنْ أَخَذعَلَى تَعْلِيم الْقُرْآن قَوْسًاقَلَّدَه الله قَوْسًا مِن نَّار يَوم الْقِيَامَة.
ابو درداء‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جس شخص نے تعلیم قرآن پر ایک کمان بھی لی تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی گردن میں آگ کی کمان ڈالے گا
Takhreej
الصحيحة رقم (256) مسند الشاميين للطبراني رقم (270)
2948
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ جَابِرِ بْن عَبْدِ اللهِ قَالَ: أَرْخَصَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِي رُقْيَةِ الْحَيَّةِ لِبَنِي عَمْرٍو قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَقُولُ: لَدَغَتْ رَجُلًا مِّنَّا عَقْرَبٌ وَنَحْنُ جُلُوسٌ مَعَ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ! أَرقي؟ قَالَ: مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَّنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَفْعَلْ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہتے ہیں :نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے بنی عمرو کے لئے سانپ کے دم کی رخصت دی تھی۔ ابو زبیر نے کہا: میں نے جابر بن عبداللہرضی اللہ عنہما سے سنا کہہ رہے تھے: ہم میں سے ایک آدمی کو بچھو نے کاٹ لیا، ہم رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے ساتھ بیٹھے تھے۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں دم کر دوں؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تم میں سے جو شخص اپنے بھائی کو نفع پہنچا سکتا ہے وہ اسے نفع پہنچائے
Takhreej
الصحيحة رقم (472) صحيح مسلم كِتَاب السَّلَامِ بَاب اسْتِحْبَابِ الرُّقْيَةِ مِنْ الْعَيْنِ وَالنَّمْلَةِ...رقم (4076)
2949
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ مَرفُوعاً: مِنَ اكْتَوَى أَوِ اسْتَرْقَى فَقَدْ بَرِئَ مِنَ التَّوَكُّلِ.
مغیرہ بن شعبہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہےکہ: جس شخص نے داغ لگایا یا دم کروایا وہ تو کل سے نکل گیا
Takhreej
الصحيحة رقم (244) سنن الترمذي كِتَاب الطِّبِّ بَاب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الرُّقْيَةِ رقم (1980) سنن ابن ماجة كِتَاب الطِّبِّ بَاب الْكَيِّ (3480)
2950
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ أَبِي سَعِيد الخُدْرِي، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَنْ تَوَضَّأ ثُمَّ قَالَ: سُبْحَانَك اللهُمّ وَبِحَمْدِك لَا إِلَه إِلَا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُك وَأَتُوب إِلَيْك كتب فِي رَقّ، ثم طُبِعَ بطابع فَلَم يُكسر إِلَى يَوم الْقِيَامَة.
ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جس شخص نے وضو کیا پھر کہا: اے اللہ تو اپنی تعریف کے ساتھ پاک ہے ، تیرے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں، میں تجھ سے بخشش طلب کرتا ہوں، اور تجھ سے توبہ کرتا ہوں۔ تو اسے( جہنم سے) آزاد لوگوں میں لکھ دیا جاتا ہے۔ اور ایک مہر لگا دی جاتی ہے جو قیامت تک نہیں توڑی جاتی
Takhreej
الصحيحة رقم (2333) مستدرك الحاكم رقم (2027) السنن الكبرى للنسائي رقم (9909)
2951
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ عُمَرَ رضی اللہ عنہ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُول: مَنْ دَخَلَ سوقاً مِّنَ الأَسْوَاقِ فَقَالَ: (لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ) كَتَبَ اللهُ لَهُ أَلْفَ أَلْفِ حَسَنَةٍ وَمَحَا عَنْهُ أَلْفَ أَلْفِ سَيِّئَةٍ.
عمر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جو شخص کسی بازار میں داخل ہوا اور کہا:اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں، وہ اکیلا ہے ،اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لئے بادشاہت ہے اور اور اسی کے لئے تعریف اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کے لئے دس لاکھ نیکیاں لکھ دیتا ہے اور اس کی دس لاکھ برائیاں مٹا دیتا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (3139) سنن الترمذي كِتَاب الدَّعَوَاتِ بَاب مَا يَقُولُ إِذَا دَخَلَ السُّوقَ رقم (3350) سنن ابن ماجة رقم (2226)
2952
Sahih