TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان - فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان - Book 22 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 22 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 271 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

271 Hadith · 1 Chapters
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ عَليٍّ مَرفُوعاً : « كُل دُعَاء مَحْجُوب حَتَّى يُصَلّٰي عَلَى النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌»
علی‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہےکہ: جب تک نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌پر درود نہ پڑھا جائے ہر دعا روک لی جاتی ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2035) المعجم الأوسط للطبراني رقم (732) شعب الإيمان للبيهقي رقم (1537)
2913
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ عَطَاء بن أَبِي رَبَاحٍ، قَالَ: رَأَيْتُ جَابِرَ بن عَبْدِ اللهِ وَجَابِرَ بن عُمَيْرٍ الأَنْصَارِيين يَرْتَمِيَانِ فَمَلَّ أَحَدُهُمَا فَجَلَسَ، فَقَالَ لَهُ الآخَرُ:كَسِلْتَ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : كُلُّ شَيْءٍ لَيْسَ مِنْ ذِكْرِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ فَهُوَ (لغو و) لَهُوٌ أَوْ سَهْوٌ إِلا أَرْبَعَ خِصَالٍ: مَشْيُ الرَّجُلِ بَيْنَ الْغَرَضَيْنِ، وَتَأْدِيبُهُ فَرَسَهُ، ومُلاعَبَةُ أَهْلِهِ، وَتَعَلُّمُ السِّبَاحَةِ .
عطاء بن ابی رباح رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ اور جابر بن عمیر انصاری رضی اللہ عنہما کو دیکھا جو تیر اندازی کر رہے تھے، ایک اکتا کر بیٹھ گیا ، دوسرے نے اس سے کہا: تم سست ہوگئے ہو؟ میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرما رہے تھے: ہر چیز جو اللہ کے ذکر سے نہیں وہ (لغو) لہو، اور سہو( فضول ،کھیل تماشہ اور خطا ،غلطی) ہے۔ سوائے چار کاموں کے: آدمی کا دو اہداف کے درمیان چلنا(یعنی تیر اندازی کرنا)، اپنے گھوڑے کو سدھانا، اپنی بیوی سے کھیلنا اور تیراکی سیکھنا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (315) المعجم الكبير للطبراني رقم (1760)
2914
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عن ابن عباس، عن النبي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قال: «كَلِمَات الْفَرَجِ لَا إِلَه إِلَا الله الْحَلِيم الْكَرِيم، لَا إِلَه إِلَا الله العلي الْعَظِيم، لَا إِلَه إِلَا هَو رَبّ السَّمَاوَات السَّبع وَرَبّ الْعَرْش الْعَظِيم.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: کشادگی کے الفاظ یہ ہیں: لا الہ الا اللہ ۔۔۔ اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں، بردبار اور مہربان ہے، اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں بلند اور عظمت والا ہے، اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں ،ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا رب ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2045) مسند عبد بن حميد رقم (659) مكارم الأخلاق للخرائطي رقم (985)
2915
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَأَنْ أَقْعُدَ مَعَ قَوْمٍ يَذْكُرُونَ اللهَ تَعَالَى مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ أَرْبَعَةً مِنْ وَلَدِ إِسْمَعِيلَ. وَلَأَنْ أَقْعُدَ مَعَ قَوْمٍ يَذْكُرُونَ اللهَ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ أَحَبُّ إِلَيَّ مَنْ أَنْ أُعْتِقَ أَرْبَعَةً.
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میں ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھوں جو فجر کی نماز سے لے کر سورج طلوع ہونے تک اللہ کا ذکر کرتے رہیں، مجھے اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میں اولاد اسماعیل سے چار گردنیں آزاد کروں۔ اور میں ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھوں جو عصر کی نماز سے لے کر سورج غروب ہونے تک اللہ کا ذکر کریں ،مجھے اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میں اولاد اسماعیل سے چار گردنیں آزاد کروں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2916) سنن أبي داؤد كِتَاب الْعِلْمِ بَاب فِي الْقَصَصِ رقم (3182)
2916
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: اللهُمَّ! لَكَ الْحَمْد لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، الْمَنَّانُ، بَدِيعُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ! فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : لَقَدْ سَأَلْتَ اللهَ بِاسْمِ اللهِ الْأَعْظَمِ: الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى.
انس بن مالک‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ایک آدمی کو کہتے ہوئے سنا: اے اللہ! تیرے لئے ہی تعریف ہے، تیرے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں، تو اکیلا ہے ،تیرا کوئی شریک نہیں، احسان کرنے والا، آسمان اور زمین کو پیدا فرمانے والا ،عزت و جلال والا ۔تو نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اس نے اللہ کے اسم اعظم کا نام لے کر اللہ سے سوال کیا ہے کہ اس نام کے ساتھ جب بھی دعا کی جائے قبول کرتا ہے اور جب سوال کای جائے تو اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3411) سنن ابن ماجة كِتَاب الدُّعَاءِ بَاب اسْمِ اللَّهِ الْأَعْظَمِ رقم (3848) مسند أحمد رقم (11760)
2917
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ جَابِرٍ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَرَأَ عَلَيْهِمْ (سُورَةَ الرَّحْمَنِ) مِنْ أَوَّلِهَا إِلَى آخِرِهَا فَسَكَتُوا فَقَالَ: لَقَدْ قَرَأْتُهَا عَلَى الْجِنِّ لَيْلَةَ الْجِنِّ فَكَانُوا أَحْسَنَ مَرْدُودًا مِنْكُمْ كُنْتُ كُلَّمَا أَتَيْتُ عَلَى قَوْلِهِ: فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۱۳﴾ قَالُوا: لَا بِشَيْءٍ مِنْ نِعَمِكَ رَبَّنَا نُكَذِّبُ فَلَكَ الْحَمْدُ.
جابر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌اپنے ساتھیوں کے پاس آئے اور ان کے سامنے سورہٴ رحمن کی تلاوت کی، ابتداء سے لے کر انتہا تک ۔صحابہ خاموش رہے، آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میں نے جنوں والی رات اسے جنوں کے سامنے پڑھا تو وہ تم سے بہتر جواب دیتے رہے، میں جب بھیفَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۱۳﴾ پڑھتا تو وہ کہتے: اے ہمارے رب! ہم تیری کسی نعمت کو نہیں جھٹلاتے اور تیرے لئے ہی تعریف ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (2150) سنن الترمذي كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ بَاب وَمِنْ سُورَةِ الرَّحْمَنِ رقم (3213)
2918
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ جُوَيْرِيَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌خَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا بُكْرَةً حِينَ صَلَّى الصُّبْحَ وَهِيَ فِي مَسْجِدِهَا ثُمَّ رَجَعَ بَعْدَ أَنْ أَضْحَى وَهِيَ جَالِسَةٌ فَقَالَ: مَا زِلْتِ عَلَى الْحَالِ الَّتِي فَارَقْتُكِ عَلَيْهَا؟ قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : لَقَدْ قُلْتُ بَعْدَكِ أَرْبَعَ كَلِمَاتٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ لَوْ وُزِنَتْ بِمَا قُلْتِ مُنْذُ الْيَوْمِ لَوَزَنَتْهُنَّ سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ عَدَدَ خَلْقِهِ وَرِضَا نَفْسِهِ وَزِنَةَ عَرْشِهِ وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ.
جویریہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌صبح کی نماز پڑھ کر ان کے پاس سے چلے گئے وہ اپنی نماز والی جگہ میں بیٹھی رہیں آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌چاشت کے بعد واپس آئے تو آپ اسی جگہ بیٹھی ہوئی تھیں۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تم ابھی تک اسی حالت میں بیٹھی ہو جس میں تمہیں چھوڑ گیا تھا؟ وہ کہنے لگی: جی ہاں۔ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میں نے تمہارے بعد چار کلمات تین مرتبہ کہے ہیں، تم نے آج کے دن میں جو ذکر کیا ہے اگر ان سے ان کا وزن کیا جائے تو یہ کلمات بھاری رہیں گے۔ (وہ کلمات یہ ہیں) اللہ تعالیٰ اپنی تعریف کے ساتھ پاک ہے، اپیے مخلوق کی تعداد کے برابر، اس کی خوشنودی کے برابر، اس کے عرش کے وزن کے برابر اور اس کے کلمات کی سیاہی کے برابر
Takhreej
الصحيحة رقم (2156) صحيح مسلم كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ بَاب التَّسْبِيحِ أَوَّلَ النَّهَارِ وَعِنْدَ النَّوْمِ رقم (4905)
2919
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رضی اللہ عنہ قَالَ: لَقَدْ كُنَّا نَقْرَأُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ ذَهَبٍ وَفِضَّةٍ لَابْتَغَى إِلَيْهِمَا آخَرَ وَلَا يَمْلَأُ بَطْنَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ وَيَتُوبُ اللهُ عَلَى مَنْ تَابَ.
زید بن ارقم‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے دور میں پڑھا کرتے تھے:اگر ابن آدم کے لئے سونے اور چاندی کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری وادی کی تلاش میں رہے گا، اور ابن آدم کا پیٹ قبر کی مٹی کے علاوہ کوئی اور چیز نہیں بھر سکتی، اور اللہ تعالیٰ اسی کی توبہ قبول کرتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (2910) مسند أحمد رقم (18477)
2920
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ مَرفُوعاً: لَقِيتُ إِبْرَاهِيمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ! أَقْرِئْ أُمَّتَكَ مِنِّي السَّلَامَ وَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ الْجَنَّةَ طَيِّبَةُ التُّرْبَةِ عَذْبَةُ الْمَاءِ وَأَنَّهَا قِيعَانٌ وَأَنَّ غِرَاسَهَا: سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ (وَلا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللهِ).
عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: معراج کی رات میں ابراہیم علیہ السلام سے ملا تو انہوں نے کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنی امت کو میری طرف سے سلام کہنا اور انہیں بتانا کہ جنت عمدہ مٹی والی، میٹھے پانی والی ہے اور نرم زمین والی ہے اور جنت چٹیل میدان ہے جس کی شجرکاری (یہ کلمات ہیں) سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ (وَلا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللهِ) ہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (105) سنن الترمذي كِتَاب الدَّعَوَاتِ بَاب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ التَّسْبِيحِ وَالتَّكْبِيرِ وَالتَّهْلِيلِ وَالتَّحْمِيدِ رقم (3384)
2921
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ أَنسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: غَدا أَصحَاب رَسُول اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالُوا: يَا رَسُول الله! هَلَكْنَا وَرَبِّ الْكَعْبَة. فَقَال: «وَمَا ذَاك؟» قَالُوا: النِّفَاق، النِّفَاق! قَالَ: «أَلَسْتُم تَشْهَدُون أَن لَا إِلَه إِلَا الله وَأَنِّي رَسُول الله؟» قَالُوا: بَلَى. قَالَ: «لَيْسَ ذَاكَ النَّفَاق». ثُم عَاودُوا الثَانِيَة فَقَالُوا: يَا رَسُول الله! هَلَكْنَا وَرَبّ الْكَعْبَة. قال: «وَمَا ذَاك؟» قَالُوا: النَّفَاق النَّفَاق. قَالَ: «أَلَسْتُم تَشْهَدُون أَن لَا إِلَه إِلَا الله وَأَنِّي رَسُول الله؟» قَالُوا: بَلَى. قَالَ: «لَيْسَ ذَاكَ بِنفَاق». قال: ثُم عَاودُوا الثَالِثَة فَقَالُوا: مِثْل ذَلِك فَقَالَ لَهُم: «لَيْسَ ذَاكَ بِنفَاق». فَقَالُوا: يَا رَسُول الله! إِنَّا إِذَا كُنَّا عِنْدك كُنَّا عَلَى حَال، وَإِذَا خَرَجنَا مِنْ عِنْدك هَمَّتنَا الدُّنْيَا وَأَهلُونَا. فَقَالَ رَسُول اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : «لَو أَنَّكُم إِذَا خَرَجْتُم من عِنْدِي تَكُونُون عَلَى مِثل الْحَال الَّذِي تَكُونُون عَلَيْهَا عِنْدِي، لَصَافَحَتْكُم الْمَلَائِكَة في طرق الْمَدِينَة».
انس بن مالک‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے صحابہ آئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! رب کعبہ کی قسم! ہم ہلاک ہو گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: کیا مسئلہ ہے؟ صحابہ نے کہا: ہم منافق ہوگئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات کی گواہی نہیں دیتے کہ اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں؟ صحابہ نے کہا: کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ نفاق نہیں۔ صحابہ نے دوبارہ وہی الفاظ کہے اور کہنے لگے: رب کعبہ کی قسم! ہم ہلاک ہوگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ کس طرح؟ صحابہ نے کہا: ہم منافق ہوگئے۔ آپ نے فرمایا: کیا تم اس بات کی گواہی نہیں دیتے کہ اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ صحابہ نے کہا: کیوں نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: یہ تو نفاق نہیں۔ انہوں نے تیسری مرتبہ وہی بات دہرائی اور اسی طرح کے الفاظ کہے۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ان سے فرمایا: یہ نفاق نہیں۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم آپ کے پاس ہوتے ہیں تو ہماری کیفیت کچھ اور ہوتی ہے اور جب ہم آپ کے پاس سے چلے جاتے ہیں تو دنیا کے کام کاج اور گھر والے ہمیں فکر مند کر دیتے ہیں۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اگر تم میرے پاس سے جاؤ اور اسی کیفیت میں رہو جس میں میرے پاس ہوتے ہو تو فرشتے مدینے کی گلیوں میں تم سے مصافحہ کریں
Takhreej
الصحيحة رقم (2235) مسند أبي يعلى رقم (3216) معجم أسامي شيوخ أبي بكر الإسماعيلي رقم (85)
2922
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَوْ جُعِلَ الْقُرْآنُ فِي إِهَابٍ ثُمَّ أُلْقِيَ فِي النَّارِ مَا احْتَرَقَ.
عقبہ بن عامر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:اگر قرآن کو کسی چمڑے کے تھیلے میں ڈال کر آگ میں پھینک دیا جائے تو وہ نہیں جلے گا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3562) مسند أحمد رقم (16725، 16768)
2923
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
) عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةُ صَفْوَانَ بْنِ الْمُعَطَّلِ إِلَى النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَنَحْنُ عِنْدَهُ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ! إِنَّ زَوْجِي صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ يَضْرِبُنِي إِذَا صَلَّيْتُ وَيُفَطِّرُنِي إِذَا صُمْتُ وَلَا يُصَلِّي صَلَاةَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ قَالَ: وَصَفْوَانُ عِنْدَهُ قَالَ: فَسَأَلَهُ عَمَّا قَالَتْ؟ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ! أَمَّا قَوْلُهَا: يَضْرِبُنِي إِذَا صَلَّيْتُ فَإِنَّهَا تَقْرَأُ سُورَتَيْنِ فَقَدْ نَهَيْتُهَا عَنْهَا قَالَ: فَقَالَ: لَوْ كَانَتْ سُورَةٌ وَاحِدَةٌ لَكَفَتِ النَّاسَ. وَأَمَّا قَوْلُهَا: يُفَطِّرُنِي فَإِنَّهَا تَصُومُ وَأَنَا رَجُلٌ شَابٌّ فَلَا أَصْبِرُ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَوْمَئِذٍ: لَا تَصُومَنَّ امْرَأَةٌ إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا قَالَ: وَأَمَّا قَوْلُهَا: بِأَنِّي لَا أُصَلِّي حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَإِنَّا أَهْلُ بَيْتٍ قَدْ عُرِفَ لَنَا ذَاكَ لَا نَكَادُ نَسْتَيْقِظُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ قَالَ: فَإِذَا اسْتَيْقَظْتَ فَصَلِّ.
ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ کی بیوی نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے پاس آئی، ہم آپ کے پاس بیٹھے تھے، کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! جب میں نماز پڑھتی ہوں تو میرا شوہر صفوان بن معطل مجھے مارتا ہے اور جب میں (نفلی )روزہ رکھتی ہوں تو مجھے زبردستی افطار کرواتا ہےاور جب تک سورج طلوع نہ ہو جائے فجر کی نماز نہیں پڑھتا ۔ صفوان رضی اللہ عنہ بھی آپ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، ان کی بیوی نے ان کے متعلق جو کچھ کہا تھا آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے جو پہلی بات کہی کہ جب میں نماز پڑھتی ہوں تو یہ مجھے مارتا ہے تو یہ دو سورتیں پڑھتی ہے اور میں نے اسے اس سے منع کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اگر ایک ہی سورت ہو تو لوگوں کو کافی ہے۔ اس نے دوسری جو بات کہی کہ مجھے افطار کر وادیتا ہے تو یہ روزہ رکھ لیتی ہے میں نوجوان آدمی ہوں صبر نہیں کر سکتا۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اس دن کہا: کوئی عورت اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر(نفلی) روزہ نہ رکھے۔ اور اس نے تیسری بات جو کہی کہ میں سورج طلوع ہونے سے پہلے فجر کی نماز نہیں پڑھتا تو ہمارے گھر والوں کے بارے میں یہ بات مشہور ہے کہ جب تک سورج طلوع نہیں ہوتا ہم جاگتے نہیں۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب تم بیدار ہو تونماز پڑھ لیا کرو
Takhreej
الصحيحة رقم (2172) سنن أبي داؤد كِتَاب الصَّوْمِ بَاب الْمَرْأَةِ تَصُومُ بِغَيْرِ إِذْنِ زَوْجِهَا رقم (2103)
2924
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : وَقَرأ هَذه الآية: ارۡجِعۡ اِلٰی رَبِّکَ فَسۡـَٔلۡہُ مَا بَالُ النِّسۡوَۃِ الّٰتِیۡ قَطَّعۡنَ اَیۡدِیَہُنَّ ؕ اِنَّ رَبِّیۡ بِکَیۡدِہِنَّ عَلِیۡمٌ ﴿۵۰﴾ يوسف قَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : لَوْ كُنْتُ أَنَا لَأَسْرَعْتُ الْإِجَابَةَ وَمَا ابْتَغَيْتُ الْعُذْرَ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اوریہ آیت پڑھی : ارۡجِعۡ اِلٰی رَبِّکَ فَسۡـَٔلۡہُ مَا بَالُ النِّسۡوَۃِ الّٰتِیۡ قَطَّعۡنَ اَیۡدِیَہُنَّ ؕ اِنَّ رَبِّیۡ بِکَیۡدِہِنَّ عَلِیۡمٌ ﴿۵۰﴾ اپنے مالک کی طرف لوٹ کر جاؤ اور اس سے پوچھو کہ ان عورتوں کی کیا حالت ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے۔ یقیناً میرا رب ان کے بارے میں جاننے والا ہے“۔ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اگر میں ہوتا تو جواب دینے میں جلدی کرتا، اور کوئی عذر تلاش نہ کرتا
Takhreej
الصحيحة رقم (3150) مسند أحمد رقم (8198، 8699)
2925
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
) عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادٍ أَنَّ نَفَرًا مِنْ بَنِي عُذْرَةَ ثَلَاثَةً أَتَوُا النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَأَسْلَمُوا قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : مَنْ يَكْفِنِيهِمْ؟ قَالَ طَلْحَةُ: أَنَا قَالَ: فَكَانُوا عِنْدَ طَلْحَةَ فَبَعَثَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بَعْثًا فَخَرَجَ فِيه أَحَدُهُمْ فَاسْتُشْهِدَ قَالَ: ثُمَّ بَعَثَ بَعْثًا فَخَرَجَ فِيهِمْ آخَرُ فَاسْتُشْهِدَ قَالَ: ثُمَّ مَاتَ الثَّالِثُ عَلَى فِرَاشِهِ قَالَ طَلْحَةُ: فَرَأَيْتُ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةَ الَّذِينَ كَانُوا عِنْدِي فِي الْجَنَّةِ فَرَأَيْتُ الْمَيِّتَ عَلَى فِرَاشِهِ أَمَامَهُمْ وَرَأَيْتُ الَّذِي اسْتُشْهِدَ أَخِيرًا يَلِيهِ وَرَأَيْتُ الَّذِي اسْتُشْهِدَ أَوَّلَهُمْ آخِرَهُمْ قَالَ: فَدَخَلَنِي مِنْ ذَلِكَ قَالَ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : وَمَا أَنْكَرْتَ؟ مِنْ ذَلِكَ لَيْسَ أَحَدٌ أَفْضَلَ عِنْدَ اللهِ مِنْ مُؤْمِنٍ يُعَمَّرُ فِي الْإِسْلَامِ لِتَسْبِيحِهِ وَتَكْبِيرِهِ وَتَهْلِيلِهِ.
عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنی عذرہ کے تین آدمیوں کا ایک گروپ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے پاس آیا اور مسلمان ہوگیا۔ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: کون ان کی ذمہ داری لیتاہے؟ طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ، وہ طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس رہنے لگے۔ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ایک لشکر بھیجا ،ان میں سے ایک شخص اس لشکر میں گیا اور شہید ہوگیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر ایک لشکر بھیجا ۔ان میں سے دوسرا شخص اس لشکر میں گیا اور شہید ہوگیا۔ تیسرا شخص اپنے بستر پر فوت ہو گیا۔ طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے ان تین لوگوں کو جو میرے پاس رہتے تھے جنت میں دیکھا۔ اس شخص کی میت ان کے سامنے بستر پر دیکھی اور بعد میں شہید ہونے والے کو اس کے ساتھ دیکھا، اور سب سے پہلے شہید ہونے والے کو سب سے آخر میں دیکھا اس کی وجہ سے میرے دل میں عجیب خیال گزرا، میں نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے پاس آیا اور آپ سے یہ بات ذکر کی تو رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تمہیں کونسی بات عجیب لگی؟ اللہ کے ہاں اس مومن سے افضل کوئی شخص نہیں جس کی عمر زیادہ ہو اور وہ اللہ کی تسبیح ، تکبیر اور تہلیل کرتا رہے
Takhreej
الصحيحة رقم (654) مسند أحمد رقم (1327)
2926
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَة قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : «مَا اسْتَجَارَ عَبْدٌ مِنَ النَّارِ سَبْعَ مَرَّاتٍ في يَومٍ، إِلَا قَالَتِ النَّار: يَا رَبّ إِن عَبْدَكَ فُلَانًا قَدِ اسْتَجَارَكَ مِنِّي فَأَجِرْه، وَلَا يسْأَل الله عَبْدٌ الْجَنَّة في يَومٍ سَبْعَ مَرَّاتٍ، إِلَا قَالَتِ الْجَنَّة: يَا رَبّ إِن عَبْدَك فُلَانًا سَأَلَنِي فَأَدْخِلْهُ الجَنَّةَ».
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جو بندہ ایک دن میں سات مرتبہ جہنم سے پناہ مانگتا ہے تو جہنم کہتی ہے: اے رب! تیرے فلاں بندے نے مجھ سے پناہ مانگی ہے، اسے پناہ دے دے۔ اور جو بندہ ایک دن میں سات مرتبہ جنت کا سوال کرتا ہے تو جنت کہتی ہے: اے میرے رب! تیرے فلاں بندے نے میراسوال کیا ہے، اسے جنت میں داخل کردے
Takhreej
الصحيحة رقم (2506) مسند أبي يعلى رقم (6063) الدعوات الكبير للبيهقي رقم (255)
2927
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَا أَصَابَ أَحَدًا قَطُّ هَمٌّ وَلَا حزنٌ فَقَالَ: اَللّٰهُمَّ! إِنِّي عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ وَابْنُ أَمَتِكَ نَاصِيَتِي بِيَدِكَ مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي وَنُورَ صَدْرِي وَجِلَاءَ حُزْنِي وَذَهَابَ هَمِّي إِلَّا أَذْهَبَ اللهُ هَمَّهُ وَحُزْنَهُ وَأَبْدَلَهُ مَكَانَهُ فَرَجًا قَالَ: فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ! أَلَا نَتَعَلَّمُهَا؟ فَقَالَ: بَلَى يَنْبَغِي لِمَنْ سَمِعَهَا أَنْ يَتَعَلَّمَهَا.
(۲۹۲۸)عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جس شخص کو کبھی کوئی غم یا پریشانی پہنچے اور وہ کہے: اے اللہ میں تیرا بندہ ہوں ، تیرے بندے کا بیٹا ،تیری بندی کا بیٹا ہوں،میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے، میرے بارے میں تیرا فیصلہ نافذ ہونے والا ہے ،میرے بارے میں تیرا فیصلہ انصاف پر مبنی ہے، میں تجھ سے تیرے ہر اس نام کے ساتھ سوال کرتا ہوں جو تو نے اپنے لئے رکھا ہے، یا جو تو نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھایا ہے، یا اپنی کتاب میں نازل کیا ہے یا اپنے پاس غیب میں اسے محفوظ رکھا ہے کہ تو قرآن کو میرے دل کی بہار، میرے سینے کا نور، میرے غم کو دور کرنے والا، اور میری پریشانی کو لے جانے والا بنا دے۔ تو اللہ تعالیٰ اس کی پریشانی اور غم دور کر دے گا اور اس کی جگہ کشادگی عطا کر دے گا۔ پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم اسے یاد نہ کر لیں؟ آپ نے فرمایا:کیوں نہیں ۔جو شخص اسے سنے، اسے چاہیئے کہ اسے یاد کر لے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (199) مسند أحمد رقم (3528)
2928
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: جَاءَ رَسُول اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَنَحْن جُلُوس: فَقَالَ: « ما أَصْبَحْتُ غَدَاةً قَطُّ إِلَّا اسْتَغْفَرْتُ اللهَ فِيهَا مِئَةَ مَرَّةً».
ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌آئے ہم بیٹھے ہوئے تھےآپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میں نے جب بھی صبح کی ، اللہ تعالیٰ سے اس صبح سو مرتبہ بخشش طلب کی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1600) المعجم الأوسط للطبراني رقم (3879) مسند عبد بن حميد رقم (560)
2929
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ:سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَيُّ الْكَلَامِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: مَا اصْطَفَى اللهُ لِعِبَادِهِ سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ.
ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے پوچھا گیا: کون سا کلام افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ کلام جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے پسند کیا ہے: سبحان اللہ وبحمدہ(اللہ تعالیٰ اپنی تعریف کے ساتھ پاک ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (1498) مسند أحمد رقم (20357)
2930
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مرفوعا: مَا جَلَسَ قَوْمٌ مَجْلِسًا فَلَمْ يَذْكُرُوا اللهَ فِيهِ إِلَّا كَانَ عَلَيْهِمْ تِرَةً وَمَا مِنْ رَجُلٍ مَشَى طَرِيقًا فَلَمْ يَذْكُرِ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا كَانَ عَلَيْهِ تِرَةً وَمَا مِنْ رَجُلٍ أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ فَلَمْ يَذْكُرِ اللهَ إِلَّا كَانَ عَلَيْهِ تِرَةً.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: جو لوگ کسی مجلس میں بیٹھیں اور اس میں اللہ کا ذکر نہ کریں تو وہ مجلس ان پر حسرت کا باعث ہوگی، اور جو آدمی کسی راستے پر چلا اور اللہ کا ذکر نہیں کیا تو وہ راستہ اس پر حسرت کا باعث ہوگا، اور جو شخص اپنے بستر پر آیا اور اللہ کا ذکر نہیں کیا تو وہ اس پر حسرت کا باعث ہوگا
Takhreej
الصحيحة رقم (79) مسند أحمد رقم (9213)
2931
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرفُوعاً: مَا جَلَسَ قَوْمٌ مَجْلِسًا لَمْ يَذْكُرُوا اللهَ فِيهِ وَلَمْ يُصَلُّوا عَلَى نَبِيِّهِمْ إِلَّا كَانَ عَلَيْهِمْ تِرَةً فَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُمْ وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُم. ْ
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: جو قوم کسی مجلس میں بیٹھی اور اللہ کا ذکر نہیں کیا، نہ اپنے نبی پر درود پڑھا تو وہ مجلس ان پر حسرت کا باعث ہوگی، اگر اللہ چاہے تو انہیں عذاب دے اور اگر چاہے تو بخش دے
Takhreej
الصحيحة رقم (74) سنن الترمذي كِتَاب الدَّعَوَاتِ بَاب مَا جَاءَ فِي الْقَوْمِ يَجْلِسُونَ وَلَا يَذْكُرُونَ اللَّهَ رقم (3302)
2932
Sahih