عامر بن واثلہ سے مروی ہے کہ نافع بن عبدالحارث (عسفان میں) عمررضی اللہ عنہ سے ملے۔ عمررضی اللہ عنہ نے انہیں مکہ کا نگران بنایا تھا۔ عمررضی اللہ عنہ نے کہا: آپ نے اہل وادی پر کس کو نگران بنایا ہے؟ نافع نے کہا: ابن ابزی کو۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابن ابزی کون ہے؟نافع نے کہا: ہمارا ایک مولی (آزاد کردہ غلام )ہے۔عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے ایک مولیٰ(آزاد کردہ غلام)کو نگران بنایا ہے؟ نافع کہنے لگے: وہ اللہ کی کتاب کا قاری ہے ،اور فرائض کا علم رکھنے والا ہے۔عمررضی اللہ عنہ نے کہا: یقیناً اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعہ کچھ قوموں کو بلند کر دیتا ہےاورکچھ قوموں کو اس کتاب کے ذریعہ ذلیل کر دیتا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (2239) صحيح مسلم كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا بَاب فَضْلِ مَنْ يَقُومُ بِالْقُرْآنِ وَيُعَلِّمُهُ رقم (1353)
عَنْ عَبدِ اللهِ بن عَمْرِو بْنِ العَاص، قَالَ: قَالَ رَسُول اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : «إِن الْإِيمَانَ لَيَخْلَقُ في جَوْفِ أَحَدِكُم كَمَا يَخْلَقُ الثَّوْبَ الْخَلق ، فَاسْأَلُوا الله أَن يُجَدِّد الْإِيمَانَ في قُلُوبِكُم » .
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً ایمان تمہارے اندر اس طرح بوسیدہ ہو جاتا ہے جس طرح کپڑا بوسیدہ ہوجاتا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کیا کرو کہ وہ تمہارے دلوں میں ایمان کی تجدید کرتا رہے۔
عائشہ رضی اللہ عنہا فاطمہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعا روایت کرتے ہیں کہ: جبرائیل علیہ السلام ہر سال ایک مرتبہ میرے ساتھ قرآن کا دور کرتے تھے اور اس سال انہوں نے دو مرتبہ میرے ساتھ قرآن کا دور کیا ہے، اور میرے خیال میں میری موت کا وقت آگیا ہے، اور تم (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) میرے گھر والوں میں سب سے پہلے مجھے ملوگی، (اللہ سے ڈرتی رہنااور صبر کرنا ،کیوں کہ میں) تمہارے لئے اچھا پیش رو(میزبان) بنوں گا
Takhreej
الصحيحة رقم (3524) صحيح بخاري كِتَاب الْمَنَاقِبِ بَاب عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ رقم (3353، 5812)
عَنِ ابن أبي أوفى، قَالَ: قَالَ رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : «إِن خِيَارَ عبَادِ الله الَّذِين يُرَاعُوْنَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ والأَظِلَّةَ لِذِكْر الهی عزوجل»
ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے بہترین بندے وہ لوگ ہیں جو اللہ عزوجل کے ذکر کے لئے سورج، چاند ،ستاروں اور سایوں کا خیال کرتے ہیں،یعنی ہر وقت اللہ کا ذکر کرتے ہیں
قیس بن سکن اسدی سے مروی ہے کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ اپنی بیوی کے پاس آئے تو انہوں نے کسی بیماری(ایک قسم کی وبائی بیماری جس میں سرخ دانوں کے ساتھ بخار آجاتا ہے) کی وجہ سے دھاگہ باندھا ہوا تھا۔ انہوں نے سختی سے اسے کاٹ دیا۔ پھر کہنے لگے: عبداللہ کی آل شرک سے بری ہے۔اور کہنے لگے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جو باتیں مجھے یاد ہیں ان میں سے یہ بھی ہے کہ :(شرکیہ )دم،تعویز اور دھاگہ شرک ہیں۔
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ ایک نوجوان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! مجھے زنا کی اجازت دیجئے، لوگ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور اسے برا بھلا کہنے لگے اور کہنے لگے: چپ ہو جاؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے میرے قریب کر دو۔ وہ آدمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آیا اور بیٹھ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اپنی ماں کے لئے اسے پسند کرتے ہو؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم! نہیں۔ اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ بھی اپنی ماؤں کے لئے اسے پسند نہیں کرتے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اپنی بیٹی کے لئے اسے پسند کرتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں واللہ! اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ بھی اپنی بیٹیوں کے لئے اسے پسند نہیں کرتے۔ پھر فرمایا: کیا تم اپنی بہن کے لئے اسے پسند کرتے ہو؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم! نہیں۔ اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کرے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:لوگ بھی اپنی بہنوں کے لئے اس کام کو پسند نہیں کرتے۔ پھر فرمایا: کیا اپنی پھوپھی کے لئے اس کام کو پسند کرتے ہو؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم! نہیں۔ اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ بھی اپنی پھوپھیوں کے لئے اس کام کو پسند نہیں کرتے۔ کیا تم اپنی خالہ کے لئے اس کام کو پسند کرتے ہو؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم! نہیں۔ اللہ مجھے آپ پر قربان کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ بھی اس کام کو اپنی خالاؤں کے لئے پسند نہیں کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اپنا ہاتھ رکھا اور فرمایا: اے اللہ اس کے گناہ بخش دے، اس کا دل پاک کر دے اور اس کی شرمگاہ کی حفاظت فرما۔ اس کی بعد وہ نوجوان کسی کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا تھا
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ قرآن سات حروف (انداز) پر نازل ہو اہے۔ (ان لہجوں پر) پڑھو کوئی حرج نہیں۔ لیکن رحمت کے ذکر کو عذاب پر ختم نہ کرو اور عذاب کے ذکر کو رحمت پر ختم نہ کرو
انس بن مالکرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ٹہنی پکڑ کر جھاڑی ،لیکن وہ نہیں جھڑی،آپ نے پھر جھاڑی لیکن وہ نہیں جھڑی آپ نے پھر جھاڑی تو وہ جھڑ گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ والحمدللہ ولاالہ الا اللہ واللہ اکبر۔ خطاؤں کو اس طرح جھاڑ دیتے ہیں جس طرح یہ درخت اپنے پتے جھاڑتا ہے
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ: ہم ایک ہی مجلس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ کلمات:اے میرے رب مجھے بخش دے میری توبہ قبول کر یقیناً تو توبہ قبول کرنے والا معاف کرنے والاہے ،سو مرتبہ گنتے
Takhreej
الصحيحة رقم (556) سنن أبي داؤد كِتَاب الصَّلَاةِ بَاب فِي الِاسْتِغْفَارِ رقم (1295) سنن ابن ماجة كِتَاب الْأَدَبِ بَاب الِاسْتِغْفَارِ رقم (3804)
عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ سے موقوفا اور مرفوعا مروی ہے کہ: ہر چیز کی ایک کوہان (چوٹی، بلندی) ہوتی ہے اور قرآن کی کوہان سورة البقرة ہے۔ شیطان جب سورة البقرة سنتا ہے تو اس گھر سے بھاگ جاتا ہے جس میں سورة البقرة پڑھی جاتی ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (588) مستدرك الحاكم رقم (2017) شعب الإيمان للبيهقي رقم (2284)
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے کچھ فرشتے زمین میں گھومتے پھرتے ہیں ۔لوگوں کا حساب لکھنے والوں کے علاوہ(اور اہل ذکر کو تلاش کرتےہیں) جب وہ ایسے لوگوں کو دیکھتے ہیں جو اللہ کا ذکر کر رہے ہوتے ہیں تو ایک دوسرے کو پکارتے ہیں :آؤ اپنے مطلوب کی طرف ،وہ ان کے پاس آتے ہیں اور انہیں آسمان دنیا تک ڈھانپ لیتے ہیں (پھر اختتام ؟؟؟ پر واپس جاتے ہیں تو) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا ؟وہ فرشتے کہتے ہیں :ہم نے انہیں تیری تحمید، تمجید اور ذکر کرتے ہوئے چھوڑا ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے؟ فرشتے کہتے ہیں: نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (اگر وہ مجھے دیکھ لیں) تو ان کی کیفیت کس طرح ہوگی؟ وہ کہتے ہیں: اگر وہ آپ کو دیکھ لیں تو اور بھی زیادہ تحمید، تمجید اور ذکر کریں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وہ کون سی چیز مانگ رہے تھے؟ وہ کہتے ہیں کہ وہ جنت مانگ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کیا انہوں نے اسے دیکھا ہے؟ وہ کہتے ہیں: نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اگر وہ اسے دیکھ لیں تو ان کی کیا کیفیت ہو؟ فرشتے کہتے ہیں: اگر وہ اسے دیکھ لیں تو اس کی اور زیادہ حرص کریں، اور اسے اور زیادہ شدت سے طلب کریں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وہ کس چیز سے پناہ مانگ رہے تھے؟ وہ کہتے ہیں: آگ سے ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کیا انہوں نے آگ (جہنم) کو دیکھا ہے ؟فرشتے کہتے ہیں نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اگر وہ آگ کو دیکھ لیں تو ان کی کیا کیفیت ہوگی؟فرشتے کہتے ہیں: اگر وہ آگ دیکھ لیں تو اس سے بھی زیادہ بچنے کی کوشش کریں اور اس سے بھی زیادہ خوف کھائیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے انہیں بخش دیا۔ فرشتے کہتے ہیں: ان میں فلاں گناہ گار بھی بیٹھا ہوا تھا ،جو ویسے ہی وہاں موجود تھا، اور اپنے کسی کام سے آیا تھا؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: یہ ایسے لوگ ہیں جن کے پاس بیٹھنے والا بھی محروم نہیں رہتا
Takhreej
الصحيحة رقم (3540) صحيح البخاري كِتَاب الدَّعَوَاتِ بَاب فَضْلِ ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ رقم (5929)
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے جلال میں سے جو تم ذکر کرتے ہو ، تسبیح، تحمید اور تہلیل بھی ہے۔ عرش کے گرد گھومتی رہتی ہیں شہد کی مکھی کی طرح بھنبھناہٹ ہوتی ہے۔ اور اپنے کہنے والے کا تذکرہ کرتی ہیں۔ کیا تم میں سے کسی کو پسند نہیں کہ جس کا ہمیشہ کا تذکرہ کیا جائے؟
Takhreej
الصحيحة رقم (3358) سنن ابن ماجة كِتَاب الْأَدَبِ بَاب فَضْلِ التَّسْبِيحِ رقم (3799)
ابو قیس مولیٰ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ عمرو بن عاصرضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو قرآن کی ایک آیت پڑھتے ہوئے سنا۔ تو انہوں نے کہا: یہ آیت تمہیں کس نے پڑھائی؟ اس شخص نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس سے مختلف انداز میں پڑھائی ہے۔ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے۔ ان میں سے ایک نے کہا: اے اللہ کے رسول! فلاں فلاں آیت ،پھر وہ آیت پڑھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی طرح نازل ہوئی ہے۔ دوسرے نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آیت پڑھی اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول کیا یہ آیت اس طرح نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی طرح نازل ہوئی ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ قرآن سات حروف (انداز) پر نازل ہوا، جو انداز اپناؤ اچھا ہے(اور ایک روایت میں ہے:درست ہے)اور اس بارے میں جھگڑا مت کرو، کیوں کہ اس میں جھگڑنا کفر ہے
عن أبي سعيد الْخُدْرِيّ قال: رَأَيْتُ فِيمَا يَرَى النَّائِم كَأَنِّي تَحْتَ شَجَرَةٍ، وَكَأَنَّ الشَّجَرَة تَقْرَأُ: (ص)، فَلَمَّا أَتَتْ عَلَى السَّجْدَة سَجَدَتْ، فَقَالَتْ في سُجُودِهَا: اللَّهُمَّ اُكْتُبْ لِي بِهَا أَجْرًا، وَحطّ عَنِّي بِهَا وِزْرًا، وَأَحْدِثْ لِي بِهَا شُكْرًا، وَتَقَبَّلْهَا مِنِّي كَمَا تقَبَّلْتَ مِنْ عَبْدِكَ دَاؤدَ سَجْدَتَه، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ عَلَى النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم ، فَأَخْبَرْتُه بِذَلِك، فَقَالَ: سَجَدْتَ أَنْتَ يَا أَبَا سَعيدٍ؟ فَقُلْتُ: لَا. قَالَ: أَنْتَ كُنْتَ أَحَقُّ بِالسُّجُود مِنَ الشَّجَرَة، فَقَرَأ رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سَوْرَة (ص) حَتَّى أَتَى عَلَى السَّجْدَة، فَقَال في سُجُوده ما قَالَتِ الشَّجَرَة في سُجُوْدِهَا.
ابو سعید خدریرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک درخت کے نیچے ہوں۔ لگ رہا تھا کہ درخت سورة ص پڑھ رہا ہے۔ جب وہ سجدے پر پہنچا اور سجدہ کیا تو اپنے سجدے میں کہا: اے اللہ میرے لئے اس کے بدلے اجر لکھ دے، اس کے ذریعے میری خطائیں دور فرما، اور میرے لئے اس کے بدلے شکر قبول کر، اور مجھ سے اس طرح قبول کر جس طرح اپنے بندے داؤد سے اس کا سجدہ قبول کیا۔ جب صبح ہوئی تو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس بارے میں خبر دی ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوسعید! کیا تم نے بھی سجدہ کیا تھا؟ میں نے کہا کہ: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو سجدہ کرنے کا درخت سے زیادہ حق دار تھا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورة ص پڑھی، جب سجدہ پر پہنچے تو سجدے میں وہی کلمات کہے جو درخت نے اپنے سجدے میں کہے تھے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2710) المعجم الأوسط للطبراني رقم (4924)
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مجھ پر ایسی آیات نازل ہوئی ہیں جن کی مثل(کبھی)نہیں دیکھی گئی۔ قُلۡ اَعُوۡذُ بِرَبِّ الۡفَلَقِ ۙ﴿۱﴾ ، آخر سورت تک۔ اور ، قُلۡ اَعُوۡذُ بِرَبِّ النَّاسِ ۙ﴿۱﴾ آخر سورت تک
Takhreej
الصحيحة رقم (3499) صحيح مسلم كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا بَاب فَضْلِ قِرَاءَةِ الْمُعَوِّذَتَيْنِ رقم (1348، 1349)
عبداللہ بن ابی طلحہ سے مروی ہے وہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن آئے ،آپ کے چہرے سے شادمانی جھلک رہی تھی۔صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم آپ کے چہرے پر خوشی کے آثار دیکھ رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس ایک فرشتہ آیا اور کہنے لگا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ کو یہ بات پسند نہیں کہ آپ کا رب عزوجل فرماتا ہے: تمہاری امت میں سے کوئی شخص جو تم پر ایک مرتبہ درودبھیجتا ہے میں اس پر دس مرتبہ رحمت بھیجتا ہوں، اور تمہاری امت کا جو شخص تم پر ایک مرتبہ سلام بھیجتا ہے میں اس پر دس مرتبہ سلام بھیجتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں
Takhreej
الصحيحة رقم (829) سنن النسائي كِتَاب السَّهْوِ بَاب الْفَضْلِ فِي الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ رقم (1278) مسند أحمد رقم (15767، 15769)
ابو موسیٰ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اشعری دوستوں کی آواز پہچانتا ہوں جب وہ رات کو قرآن پڑھتے ہوئے آتے ہیں اور رات کو قرآن پڑھنے کی وجہ سے ان کی آوازوں کی منازل (گھر، پڑاؤ کی جگہ)پہچان لیتا ہوں اگرچہ میں نے دن میں ان کے پڑاؤ نہیں دیکھتے ہوتے۔ اگرچہ میں نے ان کی منازل نہیں دیکھی، میرے ان ہی اشعری احباب میں ایک مرد دانا بھی ہے کہ جب کہیں اس کی سواروں سے مڈبھیڑ ہوجاتی ہے یا فرمایا کہ: دشمن سے، تو ان سے کہتا ہے کہ: میرے دوستوں نے کہا ہے کہ تم تھوڑی دیر کے لئے ان کا انتظار کرلو۔ ہیں کہ تم انہیں مہلت دو
Takhreej
الصحيحة رقم (3301) صحيح البخاري كِتَاب الْمَغَازِي بَاب غَزْوَةِ خَيْبَرَ رقم (3906) صحيح مسلم كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رقم (4555)