TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان - فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان - Book 22 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 22 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 271 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

271 Hadith · 1 Chapters
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ سُلَيْمَان بْن صُرَدٍ قَالَ: اسْتَبَّ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَجَعَلَ أَحَدُهُمَا يَغْضَبُ وَيَحْمَرُّ وَجْهُهُ فَنَظَرَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ عَنْهُ مَا يَجِدُ لَوْ قَالَ: أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ. قَالَ: فَقَامَ إِلَى الرَّجُلِ رَجُلٌ مِمَّنْ سَمِعَ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: أَتَدْرِي مَا قَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌آنِفًا؟ قَالَ: إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ عَنْهُ مَا يَجِدُ لَوْ قَالَ: أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ. فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: أَمَجْنُونًا تَرَانِي؟
سلیمان بن صرد سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے پاس دو آدمی ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے لگے۔ ایک غصے میں آگیا اور اس کا چہرہ سرخ ہوگیا، نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اس کی طرف دیکھا تو فرمایا: میں ایک کلمہ جانتا ہوں جسے یہ کہہ لے تو اس کا غصہ ختم ہو جائے: أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ۔ایک شخص جس نے نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کی بات سنی تھی اٹھ کر اس آدمی کی طرف گیا،اور کہا: کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ابھی کیا فرمایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: کہ مجھے ایسا کلمہ معلوم ہے جسے اگر یہ کہہ لے تو اس کا غصہ ختم ہو جائے۔ وہ کلمہ : أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ہے۔ اس آدمی نے اس سے کہا: کیا تم مجھے پاگل سمجھتے ہو
Takhreej
الصحيحة رقم (3303) صحيح بخاري كِتَاب الْأَدَبِ بَاب الْحَذَرِ مِنْ الْغَضَبِ رقم (5650) صحيح مسلم كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ رقم (4726)
2833
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَجُلًا جَاءَهُ فَقَالَ: أَوْصِنِي فَقَالَ سَأَلْتَ عَمَّا سَأَلْتُ عَنْهُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مِنْ قَبْلِكَ فَقَال: أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللهِ فَإِنَّهُ رَأْسُ كُلِّ شَيْءٍ وَعَلَيْكَ بِالْجِهَادِ فَإِنَّهُ رَهْبَانِيَّةُ الْإِسْلَامِ وَعَلَيْكَ بِذِكْرِ اللهِ وَتِلَاوَةِ الْقُرْآنِ فَإِنَّهُ رَوْحُكَ فِي السَّمَاءِ وَذِكْرُكَ فِي الْأَرْضِ.
ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا اور کہنے لگا: مجھے نصیحت کیجئے۔ ابو سعید نے کہا: تم نے مجھ سے ایسا سوال کیا ہے جو میں نے تم سے پہلے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میں تمہیں اللہ کے تقویٰ کی وصیت کرتا ہوں کیوں کہ یہ ہر عمل کی انتہا ہے اور تمہیں جہاد کی نصیحت کرتا ہوں کیوں کہ یہ اسلام کی رہبانیت ہے ۔اور اللہ کے ذکر اور تلاوت کو لازم کر لو کیوں کہ یہ آسمان میں تمہاری روح اور زمین میں تمہارا ذکر ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (555) مسند أحمد رقم (11349)
2834
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُول اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يُرِيدُ سَفَرًا فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ! أَوْصِنِي قَالَ: أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللهِ وَالتَّكْبِيرِ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ ایک آدمی جو سفر پر جا رہا تھا رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے پاس آیا۔ اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! مجھے نصیحت کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اللہ کے تقویٰ اور ہر چڑھائی پر اللہ اکبر کہنے کی نصیحت کرتا ہوں
Takhreej
الصحيحة رقم (1730) سنن الترمذي كِتَاب الدَّعَوَاتِ بَاب مَا يَقُولُ إِذَا وَدَّعَ إِنْسَانًا (3367) ابن ماجة كِتَاب الْجِهَادِ (2761)
2835
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
) عن ابن عباس مرفوعا: أَوْليَاءُ الله الَّذِين إِذَا رُؤُوا ذُكِرَ اللهُ .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ: اللہ کے اولیاء وہ لوگ ہیں کہ جب انہیں دیکھا جائے تو اللہ یاد آئے
Takhreej
الصحيحة رقم (1733) الزهد والرقائق لابن المبارك رقم (218)
2836
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ أَبِي ذَرٍّ: أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالُوا لِلنَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم : يَا رَسُولَ اللهِ! ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ بِالْأُجُورِيُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ وَيَتَصَدَّقُونَ بِفُضُولِ أَمْوَالِهِمْ. قَالَ: أَوَ لَيْسَ قَدْ جَعَلَ اللهُ لَكُمْ مَا تَصَّدَّقُونَ؟ إِنَّ بِكُلِّ تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةً وَكُلِّ تَكْبِيرَةٍ صَدَقَةً وَكُلِّ تَحْمِيدَةٍ صَدَقَةً وَكُلِّ تَهْلِيلَةٍ صَدَقَةً وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ وَنَهْيٌ عَنْ مُّنْكَرٍ صَدَقَةٌ وَفِي بُضْعِ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ قَالُوا: أَيَأتِي أَحَدُنَا شَهْوَتَهُ وَيَكُونُ لَهُ فِيهَا أَجْرٌ؟ قَالَ: أَرَأَيْتُمْ لَوْ وَضَعَهَا فِي حَرَامٍ أَكَانَ عَلَيْهِ فِيهَا وِزْرٌ؟ فَكَذَلِكَ إِذَا وَضَعَهَا فِي الْحَلَالِ كَانَ لَهُ أَجْرًا.
ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے کچھ صحابہ نے نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مال والے اجر لے گئے، جس طرح ہم نماز پڑھتے ہیں وہ بھی نماز پڑھتے ہیں جس طرح ہم روزہ رکھتے ہیں وہ بھی روزہ رکھتے ہیں جب کہ وہ اپنا زائد مال صدقہ کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: کیا اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے ایسا کچھ نہیں بنایا جو تم صدقہ کر سکو؟ ہر تسبیح کے بدلے صدقہ ہے، ہر تکبیر کے بدلے صدقہ ہے، ہر تحمید کے بدلے صدقہ ہے، ہر تہلیل کے بدلے صدقہ ہے ،امر بالمعروف صدقہ ہے ،نہی عن المنکر صدقہ ہے اور اپنی بیوی سے خواہش پوری کرنا صدقہ ہے۔ صحابہ نے کہا: کیا ہم میں سے کوئی شخص اپنی شہوت پوری کرتا ہے تو اس کے لئے اس میں بھی اجر ہے؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اگر وہ حرام کاری کرتا تو کیا اس پر گناہ نہ ہوتا؟ اسی طرح جب وہ حلال طریقے سے خواہش پوری کرتا ہے تو اس کے لئے اس میں اجر ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (454) صحيح مسلم كِتَاب الزَّكَاةِ بَاب بَيَانِ أَنَّ اسْمَ الصَّدَقَةِ يَقَعُ عَلَى كُلِّ نَوْعٍ مِنْ الْمَعْرُوفِ رقم (1674)
2837
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ: أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَكْسِبَ كُلَّ يَوْمٍ أَلْفَ حَسَنَةٍ؟ فَسَأَلَهُ سَائِلٌ مِنْ جُلَسَائِهِ: كَيْفَ يَكْسِبُ أَحَدُنَا أَلْفَ حَسَنَةٍ؟ قَالَ يُسَبِّحُ مِائَةَ تَسْبِيحَةٍ فَيُكْتَبُ لَهُ أَلْفُ حَسَنَةٍ أَوْ يُحَطُّ عَنْهُ أَلْفُ خَطِيئَةٍ.
مصعب بن سعد سے مروی ہے کہتے ہیں کہ مجھے اباجان نے بیان کیا انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے پاس تھے،آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات سے عاجز ہے کہ وہ ہر روز ایک ہزار نیکیاں کمائے؟ ایک شخص نے پوچھا: ہم میں سے کوئی شخص ایک ہزار نیکیاں کس طرح کما سکتا ہے؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: وہ سو مرتبہ سبحان اللہ کہے تو اس کے لئے ایک ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں یا اس کی ایک ہزار خطائیں معاف کی جاتی ہیں
Takhreej
الصحيحة رقم (3602) صحيح مسلم كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ بَاب فَضْلِ التَّهْلِيلِ وَالتَّسْبِيحِ وَالدُّعَاءِ رقم (4866)
2838
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ أَبِي سَلَام سلمَى مَوْلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: بَخٍ بَخٍ -وَأَشَارَ بِيَدِه لِخَمْسٍ- مَا أَثْقَلَهُنَّ فِي الْمِيزَانِ: سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ وَالْوَلَدُ الصَّالِحُ يُتَوَفَّى لِلْمَرْءِ الْمُسْلِمِ فَيَحْتَسِبُهُ.
ابو سلام سلمی مولیٰ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: واہ واہ اور اپنے ہاتھ سے پانچ باتوں کا اشارہ کیا۔ میزان میں یہ کتنی بھاری ہیں۔ سبحان اللہ والحمدللہ، ولا الہ الا اللہ ،واللہ اکبر اور مسلمان کی فوت شدہ نیک اولاد جس کی وفات پر وہ اجر کی امید رکھتا ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3602) صحيح مسلم كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ بَاب فَضْلِ التَّهْلِيلِ وَالتَّسْبِيحِ وَالدُّعَاءِ رقم (4866)
2839
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ الهِم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يُصَلِّي عِنْدَ الْبَيْتِ وَأَبُو جَهْلٍ وَأَصْحَابٌ لَهُ جُلُوسٌ وَقَدْ نُحِرَتْ جَزُورٌ بِالْأَمْسِ فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ: أَيُّكُمْ يَقُومُ إِلَى سَلَا جَزُورِ بَنِي فُلَانٍ فَيَأْخُذُهُ فَيَضَعُهُ فِي كَتِفَيْ مُحَمَّدٍ إِذَا سَجَدَ فَانْبَعَثَ أَشْقَى الْقَوْمِ فَأَخَذَهُ فَلَمَّا سَجَدَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَضَعَهُ بَيْنَ كَتِفَيْهِ قَالَ: فَاسْتَضْحَكُوا وَجَعَلَ بَعْضُهُمْ يَمِيلُ عَلَى بَعْضٍ وَأَنَا قَائِمٌ أَنْظُرُ لَوْ كَانَتْ لِي مَنَعَةٌ طَرَحْتُهُ عَنْ ظَهْرِ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَالنَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌سَاجِدٌ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ حَتَّى انْطَلَقَ إِنْسَانٌ فَأَخْبَرَ فَاطِمَةَ فَجَاءَتْ وَهِيَ جُوَيْرِيَةٌ فَطَرَحَتْهُ عَنْهُ ثُمَّ أَقْبَلَتْ عَلَيْهِمْ تَشْتِمُهُمْ فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌صَلَاتَهُ رَفَعَ صَوْتَهُ ثُمَّ دَعَا عَلَيْهِمْ وَكَانَ إِذَا دعَا دَعَا ثَلَاثًا وَإِذَا سَأَلَ سَأَلَ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ: اَللّٰهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ (ثَلَاثَ مَرَّاتٍ) فَلَمَّا سَمِعُوا صَوْتَهُ ذَهَبَ عَنْهُمُ الضَّحْكُ وَخَافُوا دَعْوَتَهُ ثُمَّ قَالَ: اللهُمَّ! عَلَيْكَ بِأَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ وَعُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَشَيْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَالْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ وَأُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ وَعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ وَذَكَرَ السَّابِعَ وَلَمْ أَحْفَظْهُ فَوَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِالْحَقِّ لَقَدْ رَأَيْتُ الَّذِينَ سَمَّى صَرْعَى يَوْمَ بَدْرٍ ثُمَّ سُحِبُوا إِلَى الْقَلِيبِ قَلِيبِ بَدْرٍ.
عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌بیت اللہ میں نماز پڑھ رہے تھے، ابو جہل اور اس کے ساتھی بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک دن پہلے ہی ایک اونٹنی نحر کی گئی تھی۔ ابو جہل نے کہا: تم میں سے کون ہے جو بنی فلاں کی اوجھڑی لا کر محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے کاندھوں پر رکھ دے جب وہ سجدے میں جائے؟ بد بخت ترین شخص کھڑا ہوا اور اوجھڑی پکڑ لایا۔ جب نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے سجدہ کیا تو اوجھڑی آپ کے کاندھوں کے درمیان رکھ دی اور ہنسنے لگے۔ ایک دوسرے پر لوٹ پوٹ ہونے لگے۔ میں کھڑا دیکھ رہا تھا اگر میرے پاس قوت ہوتی تو میں اسے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کی پشت سے ہٹا دیتا۔ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سجدے میں پڑے رہے، اپنا سر نہیں اٹھا رہے تھے ۔حتی کہ ایک شخص نے جا کر فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اطلاع دی۔ وہ ابھی بچی تھیں۔ وہ آئیں اور اوجھڑی کو ہٹایا ۔پھر ان کی طرف متوجہ ہو کر انہیں برا بھلا کہنے لگیں۔ جب نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اپنی نماز مکمل کر لی تو بلند آواز سے ان کے خلاف بددعا کی۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌جب دعا کرتے تو تین مرتبہ دعا کرتے اور جب سوال کرتے تو تین مرتبہ سوال کرتے ۔آپ نے فرمایا،اے اللہ قریش کو پکڑ لے(تین مرتبہ فرمایا:)جب انہوں نے آپ کی آواز سنی تو ان کی ہنسی غائب ہو گئی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌کی بددعا کا خوف طاری ہو گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اے اللہ ابو جہل بن ہشام ،عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ ،ولید بن عقبہ،امیہ بن خلف اور عقبہ بن ابی معیط کو پکڑ لے۔ ساتویں کا نام بھی لیا جو مجھے یاد نہیں۔ اس ذات کی قسم جس نے محمد ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کو حق دے کر بھیجا ہے! میں نے ان لوگوں کو جن کے نام آپ نے لئے تھے بدر کے میدان میں اوندھے منہ پڑے دیکھا۔ پھر انہیں گھسیٹ کر بدر کے کنویں میں پھینک دیا گیا
Takhreej
الصحيحة رقم (3472) صحيح بخاري كِتَاب الصَّلَاةِ بَاب الْمَرْأَةِ تَطْرَحُ عَنْ الْمُصَلِّي شَيْئًا مِنْ الْأَذَى رقم (490) صحيح مسلم رقم (3349)
2840
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا فِي الْمَسْجِدِ نَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَدَخَلَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَسَلَّمَ عَلَيْنَا فَرَدَدْنَا عَلَيْهِ السَّلَامَ ثُمَّ قَالَ: تَعَلَّمُوا كِتَابَ اللهِ وَاقْتَنُوهُ وَتَغَنُّوا بِهِ فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَهُوَ أَشَدُّ تَفَلُّتًا مِنَ الْمَخَاضِ مِنَ الْعُقُلِ.
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ ہم مسجد میں بیٹھے قرآن پڑھ رہے تھے ،رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌اندر آئے اور ہمیں سلام کہا۔ ہم نے آپ کو جواب دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی کتاب سیکھو، اسے پختہ کرو اور اسے خوش الحانی سے پڑھو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کی جان ہے! یہ قرآن نو جوان اونٹ سے بھی زیادہ تیزی سے نکلتا ہے(بھول جاتا ہے)
Takhreej
الصحيحة رقم (3285) مسند أحمد رقم (16721)
2841
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : تَعَوَّذُوا بِاللهِ مِنْ الْفَقْرِ وَالْقِلَّةِ وَالذِّلَّةِ وَأَنْ تُظْلَمَ أَوْ تَظْلِمَ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: محتاجی تنگی، ذلت، مظلومیت اور ظلم کرنے سے اللہ کی پناہ مانگو۔(
Takhreej
الصحيحة رقم (1445) سنن النسائي كِتَاب الِاسْتِعَاذَةِ الِاسْتِعَاذَةُ مِنْ الذِّلَّةِ رقم (5366) سنن ابن ماجة كِتَاب الدُّعَاءِ رقم (3832)
2842
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ عُثْمَانَ بن أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: تُفْتَحُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ نِصْفَ اللَّيْلِ فَيُنَادِي مُنَادٍ: هَلْ مِنْ دَاعٍ فَيُسْتَجَابُ لَهُ؟ هَلْ مِنْ سَائِلٍ فَيُعْطَى؟ هَلْ مِنْ مَكْرُوبٍ فَيُفَرَّجَ عَنْهُ؟ فَلا يَبْقَى مُسْلِمٌ يَدْعُو بِدَعْوَةٍ إِلا اسْتَجَابَ اللهُ -عَزوَّجل- لَهُ إِلا زَانِيَةً تَسْعَى بِفَرْجِهَا أَوْ عَشَّارًا.
عثمان بن ابی العاص ثقفی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: نصف رات کو آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں ۔ ایک پکارنے والا پکارتا ہے: کیا کوئی سوال کرنے والا ہے اسے عطا کیا جائے گا؟ کیا کوئی پریشان حال ہے اس کی پریشانی دور کی جائے گی؟ مسلمان جو بھی دعا کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول کرتا ہے سوائے زانیہ کے جو اپنی شرمگاہ کی کمائی کھاتی ہے ۔یا ٹیکس وصول کرنے والے کے
Takhreej
الصحيحة رقم (1073) المعجم الكبير للطبراني رقم (8309)
2843
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم : تَلَا قَوْلَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي رَبِّ اِنَّہُنَّ اَضۡلَلۡنَ کَثِیۡرًا مِّنَ النَّاسِ ۚ فَمَنۡ تَبِعَنِیۡ فَاِنَّہٗ مِنِّیۡ (۳۶)(سورۃ) إِبْرَاهِيمَ وَقَالَ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَام: اِنۡ تُعَذِّبۡہُمۡ فَاِنَّہُمۡ عِبَادُکَ ۚ وَ اِنۡ تَغۡفِرۡ لَہُمۡ فَاِنَّکَ اَنۡتَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ (۱۱۸) فَرَفَعَ يَدَيْهِ وَقَالَ: اَللهُمَّ! أُمَّتِي أُمَّتِي وَبَكَى فَقَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَا جِبْرِيلُ! اِذْهَبْ إِلَى مُحَمَّدٍ وَرَبُّكَ أَعْلَمُ فَسَلْهُ: مَا يُبْكِيكَ؟ فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَسَأَلَهُ؟ فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِمَا قَالَ وَهُوَ أَعْلَمُ فَقَالَ اللهُ: يَا جِبْرِيلُ! اِذْهَبْ إِلَى مُحَمَّدٍ فَقُلْ: إِنَّا سَنُرْضِيكَ فِي أُمَّتِكَ وَلَا نَسُوءُكَ.
عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اللہ تعالیٰ کا یہ قول جو ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں ہے تلاوت فرمایا: (ابراہیم:۳۶) اے میرے رب انہوں نے بہت زیادہ لوگوں کو گمراہ کیا، تو جس شخص نے میری پیروی کی وہ مجھ سے تعلق رکھتا ہے۔ اور عیسی علیہ السلام نے کہا: اگر تو انہیں عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر انہیں بخش دے تو تو غالب حکمت والا ہے۔آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اپنے ہاتھ بلند کئے اور فرمایا: اے اللہ! میری امت میری امت، اور رونے لگے۔ اللہ عزوجل نے فرمایا:(المائدۃ:۱۱۸) اے جبریل محمد ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کی طرف جاؤ، حالانکہ تمہارا رب علم رکھنے والا ہے اور ان سے پوچھو کس وجہ سے رو رہے ہیں؟ جبریل علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا؟ تو رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے انہیں سب حال بیان کیا حالانکہ اللہ تعالیٰ علم رکھنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے جبریل !محمد ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کی طرف جاؤ اور کہو کہ: ہم آپ کو آپ کی امت کے بارے میں راضی کر دیں گے ناخوش نہیں کریں گے ۔
Takhreej
الصحيحة رقم (35) صحيح مسلم كِتَاب الْإِيمَانِ بَاب دُعَاءِ النَّبِيِّ ﷺ لِأُمَّتِهِ وَبُكَائِهِ شَفَقَةً عَلَيْهِمْ رقم (301)
2844
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ أَنسِ بْنِ مَالِكٍ مَرفُوعاً: ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ لَا ترد: دَعْوَةُ الْوَالِدِ وَدَعْوَةُ الْصَائِم وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ
انس‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: تین دعائیں رد نہیں ہوتیں ،باپ کی دعا، روزہ دار کی دعا اور مسافر کی دعا
Takhreej
الصحيحة رقم (1797) السنن الكبرى للبيهقي باب استحباب الصيام للاستسقاء لما يرجى من دعاء الصائم
2845
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَة عَن النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: ثَلَاثَةٌ لَا یَرُدَّ الله دُعَاءَهُم: الذَاكِرَ اللهَ كَثِيرًا، وَدَعوَةَ الْمَظْلُومِ، وَالْإِمَامَ المُقْسِط.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تین شخص ہیں جن کی دعائیں اللہ تعالیٰ رد نہیں فرماتا: اللہ کا بہت زیادہ ذکر کرنے والا، مظلوم کی دعا اور عادل حکمران کی دعا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1211) شعب الإيمان للبيهفي رقم (7107) الدعا للطبراني رقم (1218)
2846
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ أَبِي التَّيَّاح قَالَ:سَأَلَ رَجُلٌ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ خَنْبَشٍ كَيْفَ صَنَعَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم حِينَ كَادَتْهُ الشَّيَاطِينُ؟ قَالَ: جَاءَتِ الشَّيَاطِينُ إِلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مِنَ الْأَوْدِيَةِ وَتَحَدَّرَتْ عَلَيْهِ مِنَ الْجِبَالِ وَفِيهِمْ شَيْطَانٌ مَعَهُ شُعْلَةٌ مِّنْ نَارٍ يُرِيدُ أَنْ يُحْرِقَ بِهَا رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: فَرُعِبَ قَالَ جَعْفَرٌ: أَحْسِبُهُ قَالَ: جَعَلَ يَتَأَخَّرُ قَالَ: وَجَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ! قُلْ: قَالَ: مَا أَقُولُ؟ قَالَ: قُلْ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ الَّتِي لَا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ مِّنْ شَرِّ مَا خَلَقَ وَذَرَأَ وَبَرَأَ وَمِنْ شَرِّ مَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَمِنْ شَرِّ مَا يَعْرُجُ فِيهَا وَمِنْ شَرِّ مَا ذَرَأَ فِي الْأَرْضِ وَمِنْ شَرِّ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَمِنْ شَرِّ فِتَنِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَمِنْ شَرِّ كُلِّ طَارِقٍ إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ يَا رَحْمَنُ! فَطَفِئَتْ نَارُ الشَّيَاطِينِ وَهَزَمَهُمْ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ.
ابو التیاح سے مروی ہے کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے عبدالرحمن بن خنبش‌رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: جب شیاطین رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کو نقصان پہنچانے کے لئے آئے تو رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے کیا کیا تھا؟ انہوں نے کہا: شیاطین رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے وادیوں اور پہاڑوں سے آپ کی طرف اترنے لگے۔ ان میں ایک شیطان ایسا تھا جس کے پاس آگ کا ایک شعلہ تھا۔ جس سے وہ آپ کو جلانا چاہتا تھا۔ اس پر رعب طاری ہو گیا۔ جعفر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے خیال میں آپ نے کہا: وہ پیچھے ہٹنے لگا۔ جبریل علیہ السلام آئے اور کہا: اے محمد! کہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا کہوں؟ جبریل علیہ السلام نے کہا: کہو : میں اللہ تعالیٰ کے ان مکمل کلمات کی پناہ میں آتا ہوں جن سے کوئی نیکو کار اور فاجر تجاوز نہیں کر سکتا ،ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی اور زمین میں پھیلائی ہر اس چیز کے شر سے جو آسمان سے نازل ہوتی اور جو آسمان کی طرف چڑھتی ہے۔ اور ہر اس برائی سے جو زمین میں پیدا ہوتی ہے اور جو زمین سے نکلتی ہے۔ اور رات اور دن کے فتنوں سے اور ہر رات کو آنے والےسے سوائے اس کے جو خیر کی خبر لائے ،اے رحمان! تب شیاطین کی آگ بجھ گئی اور اللہ عزوجل نے انہیں شکست دے دی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2995) مسند أحمد رقم (14914)
2847
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ عَلْقَمَةَ بن قَيْسٍ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا قَدْ أَعْطَانِيَ اللهُ حُسْنَ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ، فَكَانَ عَبد الله ابْن مَسْعُودٍ يُرْسِلُ إِلَيَّ فَأَقْرَأُ عَلَيْهِ، قَالَ: فَكُنْتُ إِذَا فَرَغْتُ مِنْ قِرَاءَتِي، قَالَ: زِدْنَا مِنْ هَذَا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، يَقُولُ: حُسْنُ الصَّوْتِ زِينَةُ الْقُرْآنِ.
علقمہ بن قیس سے مروی ہے کہتے ہیں کہ میں ایسا آدمی تھا جسے اللہ تعالیٰ نے اچھی آواز سے (تلاوت) قرآن سے نوازا تھا۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ میری طرف پیغام بھیجتے تو میں تلاوت کرتا، جب میں اپنی قراء ت سے فارغ ہوتا تو کہتے: ہمیں مزید سناؤ ،کیوں کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرما رہے تھے: اچھی آواز قرآن کی زینت ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (1815) المعجم الكبير للطبراني رقم (9881)
2848
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ: خَطَبَنَا ابْنُ مَسْعُودٍ فَقَالَ: كَيْفَ تَأْمُرُونِّي أَقْرَأُ عَلَى قِرَاءَةِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ بَعْدَ مَا قَرَأْتُ مِنْ فِي رَسُولِ اهِل ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِضْعًا وَسَبْعِينَ سُورَةً وَإِنَّ زَيْدًا مَعَ الْغِلْمَانِ لَهُ ذُؤَابَتَانِ.
ابو وائل سے مروی ہے کہتے ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور فرمایا: تم مجھے صرف زید بن ثابت‌رضی اللہ عنہ کی قرأت پر کیسے مجبور کرتے ہو جبکہ میں نے ستر سے زائد سورتیں خود رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے منہ سے پڑھی ہیں؟ (یعنی براہ راست آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سیکھی ہیں) اور زید‌رضی اللہ عنہ تو بچوں کے ساتھ کھیل رہے ہوتےتھے ان کے دوحصوں میں تقسیم تھے
Takhreej
الصحيحة رقم (3027) سنن النسائي كِتَاب الزِّينَةِ باب الذُّؤَابَةُ رقم (4978)
2849
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ مَرْفُوعاً: خِيَارُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ.
مصعب بن سعد اپنے والد سے مرفوعا بیان کرتے ہیں کہ :تم میں بہترین لوگ وہ ہیں جو قرآن سیکھیں اور سکھائیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1172) سنن ابن ماجة كِتَاب الْمُقَدِّمَةِ بَاب فَضْلِ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ رقم (209)
2850
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ مَرْفُوعاً: خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ.
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: تم میں بہترین شخص وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے
Takhreej
الصحيحة رقم (1173) صحيح البخاري كِتَاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ بَاب خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ رقم (4639)
2851
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: أَلَا إِنَّ الدُّنْيَا مَلْعُونَةٌ، مَلْعُونٌ مَا فِيهَا إِلَّا ذِكْرُ اللهِ وَمَا وَالَاهُ وَعَالِمٌ أَوْ مُتَعَلِّمًا.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: دنیا ملعون ہے، اس میں موجود ہر چیز ملعون ہے، سوائے اللہ کے ذکر اور اللہ کا ذکر کرنے والے یا عالم ،یا متعلم کے
Takhreej
الصحيحة رقم (2797) سنن الترمذي كِتَاب الزُّهْدِ بَاب مِنْهُ رقم (2244) سنن ابن ماجة كِتَاب الزُّهْدِ بَاب مَثَلُ الدُّنْيَا رقم (4102)
2852
Sahih