TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان - ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان - Book 5 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 5 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 256 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

256 Hadith · 1 Chapters
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ ابْنِ عُمَرَ مرفوعاً: لَا يُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ وَاحِدٍ مَرَّتَيْنِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: مومن ایك سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاتا۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1175) سنن ابن ماجة كِتَاب الْفِتَنِ بَاب الْعُزْلَةِ رقم (3973)
1159
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مرفوعاً: يَأْتِي الشَّيْطَانُ أَحَدَكُمْ فَيَقُولُ مَنْ خَلَقَ كَذَا؟ مَنْ خَلَقَ كَذَا؟ مَنْ خَلَقَ كَذَا؟ حَتَّى يَقُولَ مَنْ خَلَقَ رَبَّكَ؟ فَإِذَا بَلَغَهُ فَلْيَسْتَعِذْ بِاللهِ وَلْيَنْتَهِ.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: تم میں سے كسی شخص كے پاس شیطان آتا ہے اور كہتا ہے كہ فلاں کو کس نے پیدا کیا؟ فلاں کو کس نے پیدا کیا؟ فلاں کو کس نے پیدا کیا؟ حتی كہ وہ كہتا ہے: تیرے رب كو كس نے پیدا كیا؟ جب وہ اس حد تك جائے تو وہ اللہ سے پناہ مانگے اور (مزید سوچنے سے) رك جائے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (117) صحيح البخاري كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ بَاب صِفَةِ إِبْلِيسَ وَجُنُودِهِ رقم (3034)
1160
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مِقْسَمٍ: أَنَّهُ نَظَرَ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ كَيْفَ يَحْكِي رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: يَأْخُذُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ سَمَاوَاتِهِ وَأَرَضِيهِ بِيَدَيْهِ فَيَقُولُ: أَنَا اللهُ وَيَقْبِضُ أَصَابِعَهُ وَيَبْسُطُهَا أَنَا الْمَلِكُ (وَتَمَايَلَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، عَنْ يَمِينِهِ، وَعَنْ شِمَالِهِ) حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى الْمِنْبَرِ يَتَحَرَّكُ مِنْ أَسْفَلِ شَيْءٍ مِنْهُ حَتَّى إِنِّي لَأَقُولُ أَسَاقِطٌ هُوَ بِرَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم .
عبیداللہ بن مقسم رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے كہ اس نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما كی طرف دیكھا كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كس طرح بیان كرتےتھے۔ آپ نے فرمایا: اللہ عزوجل اپنے آسمان اور زمین اپنے دونوں ہاتھوں میں پكڑ كر فرمائے گا: میں اللہ ہوں، اللہ اپنی انگلیاں بند كرے گا اور كھولے گا۔ میں بادشاہ ہوں( رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌اپنے دائیں اور بائیں ہلنے لگے) حتی كہ میں نے منبر كی طرف دیكھا وہ نیچے سے ہلنے لگا اور میں كہنے لگا كہ كیا منبر رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کو گرادے گا۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (3196) صحيح مسلم كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ بَاب رقم (4996)
1161
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ أَبِي رَاشِدٍ الْحُبْرَانِيِّ، قَالَ: أَخَذَ بِيَدِي أَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِيُّ قَالَ: أَخَذَ بِيَدِي رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: لِي يَا أَبَا أُمَامَةَ إِنَّ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ مَنْ يَلِينُ لِي قَلْبُهُ.
ابو راشد حبرانی كہتے ہیں كہ ابو امامہ باہلی نے میرا ہاتھ پكڑا اور كہنے لگے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے میرا ہاتھ پكڑ كر فرمایا: ابو امامہ !مومنین میں سے ایسے آدمی بھی ہیں جن كا دل میرے لئے نرم ہو تا ہے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1095) مسند أحمد رقم (21267) المعجم الكبير للطبراني رقم (7541)
1162
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ عَبْدِ الله بْن عَمَرٍو قَالَ النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم : لَأَبِي بَكر: يَا أبَا بَكَر لَو أَرَاد اللهُ أَن لَا يُعصى مَا خَلَق إبليس.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ابو بكر رضی اللہ عنہ سے كہا: ابو بكر اگر اللہ چاہتا كہ اس كی نا فرمانی نہ كی جائے تو وہ ابلیس كو پیدا نہ كرتا۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1642) السنة (1/ 141) و البيهقي في الأسماء (157)
1163
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ جَابِر قَالَ: خَطبَنَا رَسُول اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِي أَوْسط أَيَّامِ التَّشْرِيقِ خُطبَةَ الْوَدَاعِ، فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ رَبَّكُمْ وَاحِدٌ وَإِنَّ أَبَاكُمْ وَاحِدٌ أَلَا لَا فَضْلَ لِعَرَبِيٍّ عَلَى عَجَمِيٍّ وَلَا لِعَجَمِيٍّ عَلَى عَرَبِيٍّ وَلَا لِأَحْمَرَ عَلَى أَسْوَدَ وَلَا أَسْوَدَ عَلَى أَحْمَرَ إِلَّا بِالتَّقْوَى، إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَاكُمْ ، ألا هل بَلَّغْتُ؟ قَالُوا: بلى يا رسول الله، قال: فليبلغ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ.
جابر رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ایام تشریق كے وسط میں ہمیں خطبہ الوداع ارشاد فرمایا: اے لوگو تمہارا رب ایك ہے، تمہارے والد(آدم)ایك ہیں، خبردار كسی عربی كو عجمی پر كوئی فضیلت نہیں، نہ كسی عجمی كو كسی عربی پر فضیلت ہے۔ نہ كسی سرخ كو سیاہ پر اور نہ كسی سیاہ كو سرخ پر فضیلت ہے سوائے تقویٰ كی صورت میں۔ تم میں سے اللہ كے نزدیك عزت والا متقی شخص ہے۔ كیا میں نے پیغام پہنچا دیا؟ صحابہ نے كہا: جی ہاں اے اللہ كے رسول ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: موجود شخص غیر موجود كو پیغام پہنچا دے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2700) شعب الإيمان للبيهقي رقم (4921)
1164
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: لَمَّا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَ اَنۡذِرۡ عَشِیۡرَتَکَ الۡاَقۡرَبِیۡنَ (۲۱۴﴾ۙ (الشعراء) دَعَا رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قُرَيْشًا فَاجْتَمَعُوا فَعَمَّ وَخَصَّ فَقَالَ: يَا بَنِي كَعْبِ بْنِ لُؤَيٍّ! أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنْ النَّارِ يَا بَنِي مُرَّةَ بنِ كَعْبٍ! أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنْ النَّارِ يَا بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ! أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنْ النَّارِ يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ! أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنْ النَّارِ يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ! أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنْ النَّارِ يَا فَاطِمَةُ (بنت محمد!) أَنْقِذِي نَفْسَكِ مِنْ النَّارِ فَإِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنْ اللهِ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّ لَكُمْ رَحِمًا سَأَبُلُّهَا بِبَلَالِهَا.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ جب یہ آیت نازل ہوئی” اور اپنے قریبی رشتے داروں كو ڈرایئے“، تو رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے قریش کو دعوت دی، سب جمع ہو گئے تو آپ نے عام و خاص سب سے مخاطب ہو كر فرمایا: یا بنی كعب بن لؤ ئی اپنے آپ كو آگ سے بچاؤ۔ اے بنی مرہ بن كعب اپنے آپ كو آگ سے بچاؤ، اے بنی عبد شمس اپنے آپ كو آگ سے بچاؤ، اے بنی عبد مناف اپنے آپ كو آگ سے بچاؤ، اے بنی عبدالمطلب اپنے آپ كو آگ سے بچاؤ، اے فاطمہ(بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنے آپ كو آگ سے بچاؤ۔ كیوں كہ اللہ كے سامنے تمہارے لئے مجھے كچھ بھی اختیار نہیں سوائے رشتہ داری كےجسے میں ملاتا رہوں گا۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (3177) صحيح مسلم كِتَاب الْإِيمَانِ بَاب فِي قَوْلِهِ تَعَالَى ﮋ ﭿ ﮀ ﮁ ﮊ رقم (303)
1165
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رضي الله عنهما قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو! إِنَّكَ لَتَصُومُ الدَّهْرَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ وَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ هَجَمَتْ لَهُ الْعَيْنُ ونهكت-وفي رواية: وَنَفِهَتْ لَهُ النَّفْسُ لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ صوم ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ الشَّهْرِ صَوْمَ الشَّهْر كُلِّهِ . قُلْتُ: فَإِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ قَالَ: فَصُمْ صَوْمَ دَاوُدَ كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَى. ( )
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے مجھے فرمایا: اے عبداللہ بن عمرو تم مسلسل روزے ركھتے ہو، اور رات كو قیام كرتے ہو، اور جب تم ایسا كرتے ہو تو آنكھیں دھنس جاتی ہیں اور سانسیں بوجھل ہو جاتی ہیں۔ اس شخص كا كوئی روزہ نہیں جس نے ہمیشہ روزہ ركھا، مہینے میں تین دن روزے ركھناسارے مہینے كے روزے ركھنے كے برابر ہے۔ میں نے كہا: میں اس سے زیادہ طاقت ركھتا ہوں، آپ نے فرمایا: تو پھر داؤد علیہ السلام كا روزہ ركھو وہ ایك دن روزہ ركھتے اور ایك دن افطار كرتے اور جب دشمن سے سامنا ہوتا تو بھاگتے نہ تھے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2855) صحيح البخاري كِتَاب الصَّوْمِ بَاب صَوْمِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام رقم (1843) صحيح مسلم كِتَاب الصِّيَامِ بَاب النَّهْيِ عَنْ صَوْمِ الدَّهْرِ رقم (1967)
1166
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ سَلْمَانَ رضی اللہ عنہ ، أَنّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، قَالَ: يَجِيءُ الرَّجُلُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الْحَسَنَاتِ بِمَا يَظُنُّ أَنَّهُ يَنْجُو بِهَا، فَلا يَزَالُ يقوم رَجُلٌ قَدْ ظَلَمَهُ مَظْلَمَةٍ، فَيُؤْخَذُ مِنْ حَسَنَاتِهِ فَيُعْطَى الْمَظْلُومُ حَتَّى لا تَبْقَى لَهُ حَسَنَةٌ، ثُمَّ يَجِيءُ مَنْ قَد ظَلمَه، وَلَمْ يَبْقَ مِنْ حَسَنَاتِهِ شَيْءٌ، فَيُؤْخَذُ مِنْ سَيِّئَاتِ الْمَظْلُومِ، فَتوضَعُ عَلَى سَيِّئَاتِهِ .
سلمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: قیامت كے دن ایك آدمی اتنی نیكیاں لائے گا كہ گمان ہو گا كہ ان كے ذریعے نجات پالے گا۔ جن پر اس نے ظلم كیا ہوگاوہ آدمی كھڑے ہونگے، تو اس كی نیكیوں میں سے لے كر مظلوم كو دے دی جائیں گی۔ حتی كہ اس كی كوئی نیكی باقی نہیں بچے گی۔ پھر بھی مظلوم آتے رہیں گے جب اس كی نیكیاں باقی نہیں رہیں گی تو مظلوم كے گناہ لے كر اس كے گناہوں پر ركھ دیئے جائیں گے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (3373) المعجم الكبير للطبراني رقم (6030)
1167
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : يَطَّلِعُ اللهُ تبارك وتعالى إِلَى خَلْقِهِ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَيَغْفِرُ لِجَمِيع خَلْقِه إِلَّا لِمُشْرِك أَوْ مُشَاحِنٍ.
آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: نصف شعبان كی رات اللہ تبارك و تعالیٰ اپنی مخلوق كی طرف جھانكتا ہے اور اپنی تمام مخلوق كو معاف كردیتا ہے سوائے مشرك اور كینہ ركھنے والے كے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1144) سنن ابن ماجة كِتَاب إِقَامَةِ الصَّلَاةِ بَاب مَا جَاءَ فِي الِاغْتِسَالِ فِي الْعِيدَيْنِ رقم (1380)
1168
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : يُعَذَّبُ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ التَّوْحِيدِ فِي النَّارِ حَتَّى يَكُونُوا فِيهَا حُمَمًا ثُمَّ تُدْرِكُهُمْ الرَّحْمَةُ فَيُخْرَجُونَ وَيُطْرَحُونَ عَلَى أَبْوَابِ الْجَنَّةِ قَالَ فَيَرُشُّ عَلَيْهِمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْمَاءَ فَيَنْبُتُونَ كَمَا يَنْبُتُ الْغُثَاءُ فِي حِمَالَةِ السَّيْلِ ثُمَّ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ.
جابر رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: كچھ توحید والوں كو جہنم میں عذاب دیا جائے گا۔ حتی كہ وہ جل كر كوئلہ ہوجائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ كی رحمت انہیں پہنچے گی، انہیں نكال لیا جائے گا اور جنت كے دروازوں پر ڈال دیا جائے گا۔ جنت والے ان پر پانی چھڑكیں گے تو وہ اس طرح اگ آئیں گے جس طرح سیلاب كے كچرے میں كوئی پودا نكل آتا ہے ،پھر وہ جنت میں داخل ہوں گے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2451) سنن الترمذي كِتَاب صِفَةِ جَهَنَّمَ بَاب مِنْهُ رقم (2522)
1169
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ رَأْسِي ضُرِبَ فَرَأَيْتُهُ يَتَدَهْدَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : يَعْمِدُ الشَّيْطَانُ إِلَى أَحَدِكُمْ فَيَتَهَوَّلُ لَهُ ثُمَّ يَغْدُو يُخْبِرُ النَّاسَ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ ایك آدمی آیا اور كہنے لگا میں نے (خواب میں)اپنا سر كچلتے ہوئے دیكھا، اور دیكھا كہ وہ لڑھك رہا ہے۔رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: شیطان تم میں سے كسی بھی شخص كے پاس آ كر خوف دلاتا ہے، پھر وہ شخص صبح كے وقت لوگوں كو بتاتا پھرتا ہے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2453) سنن ابن ماجة كِتَاب تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا بَاب مَنْ لَعِبَ بِهِ الشَّيْطَانُ فِي مَنَامِهِ رقم (3901)
1170
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: يَقُولُ الله عزوجل: اسْتَقْرَضْتُ عَبْدِي فَلَمْ يُقْرِضْنِي وَشَتَمنِي عَبْدِي وَهُوَ لَا يَدْرِي وفي رواية: ولا ينبغي له شتمي. يَقُولُ وَا دَهْرَاهْ وَا دَهْرَاهْ (ثَلاثا) وَأَنَا الدَّهْرُ.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ عزوجل فرماتا ہے: میں نے اپنے بندے سے قرض مانگا اس نے مجھے قرض نہیں دیا، اور میرے بندے نے مجھے گالی دی لیكن اسے معلوم نہیں اور ایك روایت میں ہے۔ اس كے لئے مناسب نہیں كہ وہ مجھے گالی دے۔ وہ كہتا ہے: ہائے زمانہ ہائے زمانہ( تین مرتبہ) ۔جبكہ زمانہ تو میں ہوں۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (3477) مسند أحمد رقم (7647)
1171
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: مَنْ عَمِلَ حَسَنَةً فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا أَوْ أَزِيدُ وَمَنْ عَمِلَ سَيِّئَةً فَجَزَاؤُهَا مِثْلُهَا أَوْ أَغْفِرُ وَمَنْ عَمِلَ قُرَابَ الْأَرْضِ خَطِيئَةً ثُمَّ لَقِيَنِي لَا يُشْرِكُ بِي شَيْئًا جَعَلْتُ لَهُ مِثْلَهَا مَغْفِرَةً وَمَنْ اقْتَرَبَ إِلَيَّ شِبْرًا اقْتَرَبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا وَمَنْ اقْتَرَبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا اقْتَرَبْتُ إِلَيْهِ بَاعًا وَمَنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً.
ابو ذر رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ عزوجل فرماتا ہے: جس شخص نے كوئی نیكی كی اس كے لئے دس گناہے ،یا اس سے بھی زیادہ اور جس شخص نے برائی كی اس كے لئے اس كی جزا ہے یا میں چاہوں تو اسے معاف كر دوں اور جس شخص نے زمین بھر گناہ كئے پھر مجھ سے ملا اور میرے ساتھ كسی كو شریك نہ كیا تو میں اس كے لئے اتنی ہی مغفرت ركھ دوں گا۔ اور جو شخص ایك بالشت میرے قریب ہوا میں ایك ہاتھ اس كے قریب ہو تا ہوں اور جو شخص ایك ہاتھ میرے قریب ہوا میں دو ہاتھ اس كے قریب ہوتا ہوں اور جو چل كر میرے پاس آتا ہے میں دو ڑ كر اس كے پاس آتا ہوں۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (581) صحيح مسلم كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ بَاب فَضْلِ الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ رقم (4852) واللفظ لمسند أحمد رقم (20398 20513)
1172
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : يَمِينَ اللهِ مَلْأَى لَا يَغِيضُهَا نَفَقَةٌ سَحَّاءُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِأَرَأَيْتُمْ مَا أَنْفَقَ مُنْذُ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ فَإِنَّهُ لَمْ يَغض مَا فِي يَمِينِهِ قال وَعَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ وَبِيَدِهِ الْأُخْرَى الْقَبْضُ يَرْفَعُ وَيَخْفِضُ.
) ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ كا دایاں ہاتھ بھرا ہوا ہے ، اللہ كا رات دن خرچ كرنا اسے كم نہیں كرتا، تمہارا كیا خیال ہے جب سے اس نے آسمان اور زمین كو پیدا كیا ہے كتنا خرچ كیا ہوگا؟ لیكن اس كے دائیں ہاتھ میں جو كچھ ہے وہ كم نہیں ہوا، اور اللہ كا عرش پانی پر ہے اس كے دوسرے ہاتھ میں مال ہے۔ جسے وہ بلند كرتا ہے اور نیچے كرتا ہے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (3550) صحيح البخاري كِتَاب التَّوْحِيدِ بَاب {وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ} رقم (6869)
1173
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ أبي هُرَيْرَة رضی اللہ عنہ قَالَ: سَمِعتُ رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقول: يُوشِكُ النَّاسُ يَتَسَاءَلُون بَيْنَهُم حَتَّى يَقول قَائِلُهُم: هَذا الله خَلَق الْخَلق، فَمَن خَلَق الله عَزّ وَجَل ؟ فَإِذَا قَالُوا ذَلِك ، فَقُولُوا :اللّٰہُ اَحَدٌ ۚ(۱) اَللّٰہُ الصَّمَدُ ۚ(۲) لَمۡ یَلِدۡ ۬ ۙوَ لَمۡ یُوۡلَدۡ ۙ(۳) وَ لَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ ٪(۴) الإخلاص، ثم لِيَتفل أَحدكُم عن يَسَارِه ثَلَاثًا ، وَلْيَسْتَعِذ بِالله مِن الشَّيْطَان . ( )
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ممکن ہے کہ لوگ ایک دوسرے سے سوال کرتے رہیں یہاں تک كہ كوئی كہنے والا كہے گا : یہ اللہ ہے جس نے مخلوق كو پیدا كیا، لیكن اللہ كو كس نے پیدا كیا؟ جب وہ ایسا كہیں تو تم كہو:”اللہ ایك ہے، اللہ بے نیاز ہے، نہ اس نے كسی كو جنا اور نہ اس كو كسی نے جنا، اور كوئی اس كے برابر نہیں“۔پھر اپنے بائیں طرف تین مرتبہ تھوكے اور شیطان سے پناہ مانگے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (118) السنن الكبرى للنسائي رقم (10497) عمل اليوم والليلة لابن السني رقم (626)
1174
Sahih