ابوامامہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہتے ہیں كہ ایك آدمی نے كہا: اے اللہ كے رسول ایمان كیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نیكی تمہیں اچھی لگے اور گناہ تمہیں برا لگے توتم مومن ہو۔اس نے كہا: اے اللہ كے رسول گناہ كیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تمہارے سینے میں كسی چیز كے بارے میں کوئی اندیشہ یا شک وغیرہ ہوتواسے چھوڑ دو۔( )
عن عبد الله قال: قال رجلٌ: يَا رَسُولَ الله! كَيْفَ لِي أَن أَعْلَمَ إِذَا أَحْسَنْتُ؟ قال: إِذَا سَمِعْتَ جِيرَانَك يَقُولُون أَحْسَنْتَ، فَقَد أَحْسَنْتَ، وإِذَا سَمِعْتَهُم يَقُولُون: قَد أَسَأْتَ، فقَدْ أَسَأْتَ.
عبداللہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہتے ہیں كہ ایك آدمی نے كہا: اے اللہ كے رسول مجھے كس طرح معلوم ہوگا كہ میں نے نیكی کی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم اپنے پڑوسیوں سے سنوكہ تم نے نیكی كی ہے توتم نے واقعی نیكی كی ہے، اور جب تم ان سے سنوكہ تم نے برائی كی ہے توتم نے واقعی برائی كی ہے۔( )
عمران بن حصینرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی اپنے بھائی سے كہے: اے كافر، تویہ لفظ اسے قتل كرنے كے برابر ہے۔ اور مومن پر لعنت كرنا اسے قتل كرنے كے برابر ہے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1327) رواه النسائي في مجلس من الأمالي ( 55 / 2 ) .
ابوہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہتے ہیں كہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے گرد بیٹھے ہوئے تھے، ہمارے ساتھ ابوبكر اور عمر رضی اللہ عنہم بھی تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان سے اٹھ كر چلے گئے اور واپس آنے میں تاخیر كی۔ہمیں خدشہ ہوا كہ كہیں آپ كوراستے میں نہ روك لیا گیا ہو، ہم گھبرا كر كھڑے ہوگئے۔ سب سے پہلے میں گھبرا كر اٹھا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كوتلاش كرنے نكلا، حتی كہ میں بنی نجار كے باغ تك پہنچ گیا، میں اس كےچاروں طرف گھوماشاید كہ كوئی دروازہ مل جائے ۔لیكن مجھے دروازہ نہ ملا۔ربیع: پانی کے چھوٹے نالے کو کہتے ہیں اور خارجہ کوئی نام نہیں ہے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ باہر شے پانی کا ایک نالہ باغ میں سكڑ كر باغ كے اندر داخل ہوگیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس پہنچ گیا۔ آپ نے فرمایا: ابوہریرہ ہو؟ میں نے كہا: جی ہاں اے اللہ كے رسول، آپ نے فرمایا: تمہیں كیا ہوا؟ میں نے كہا: آپ ہمارے درمیان تھے، آپ اٹھ كر چلے آئے اور دیر كر دی۔ہمیں ڈر ہوا كہ كہیں آپ كونقصان نہ پہنچ جائے۔ ہم گھبرا گئے، سب سے پہلے مجھے پریشانی ہوئی میں اس باغ كے پاس آیا اور اس طرح سكڑ گیا جس طرح لومڑی سكڑتی ہےاور وہ لوگ میرے پیچھے آرہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے دونوں جوتے دےكرفرمایا: میرے یہ دونوں جوتے لے جاؤ، اس باغ كے باہر تمہیں جوبھی ملے، جوسچے دل سے لاا لہ ا لا اللہ كی گواہی دیتا ہواسے جنت كی خوشخبری دے دو۔ سب سے پہلے مجھے عمررضی اللہ عنہ ملے اوركہنے لگے: یہ دونوں جوتے تمہارے پاس كس طرح ؟ میں نے كہا: یہ دونوں جوتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے ہیں آپ نے مجھے یہ دونوں جوتے دے كر بھیجا ہے كہ میں جس شخص سے ملوں جولاالہ الا اللہ كی گواہی سچے دل سے دے،میں اسے جنت كی خوشخبری دوں۔ عمر نے میرے سینے پر ہاتھ مارا میں سرین كے بل گر گیا،كہنے لگے: ابوہریرہ واپس جاؤ، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آیا اور رونے کے قریب ہوگیا، عمر مجھ پر چڑھے ہوئے آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے كہا: ابوہریرہ تمہیں كیا ہوا؟ میں نے كہا: میں عمر سے ملا، اور جوپیغام آپ نے دے كر بھیجا تھا انہیں بتایا توانہوں نے میرے سینے پر تھپڑ مارا،میں سیرین كے بل گر پڑا۔ عمر نے كہاواپس جاؤ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عمر تم نے جوكام كیا ہے اس پر تمہیں كس بات نے مجبور كیا ؟ عمر رضی اللہ عنہ نے كہا: اے اللہ كے رسول میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں كیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوہریرہ كواپنے جوتے دے كر بھیجا تھا كہ جوشخص ملے جولاالہ الا اللہ كی گواہی سچے دل سے دیتا ہواسے جنت كی خوشخبری دےدو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے كہا: ایسا نہ كیجئے، كیونكہ مجھے ڈر ہے كہ لوگ اسی پر بھروسہ كر لیں گے، انہیں چھوڑ دیجئے وہ عمل كرتے رہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں چھوڑ دو۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (3981) صحيح مسلم كِتَاب الْإِيمَانِ بَاب الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ مَنْ مَاتَ ... رقم (46) .
ابوہریرہرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: میری امت میں چار كام جاہلیت سےتعلق رکھتے ہیں، لوگ انہیں كبھی بھی نہیں چھوڑیں گے۔ نوحہ كرنا، حسب نسب میں طعن كرنا، چھوت سمجھنا كہ ایك اونٹ كوخارش ہوئی تواس نے سواونٹوں كوخارش زدہ كردیا۔ بھلا پہلے اونٹ كوكس نے خارش میں مبتلا كیا؟ اور ستارہ پرستی كہ ہم پر فلاں فلاں ستارے كی(گردش كی) وجہ سے بارش ہوئی۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (735) سنن الترمذي كِتَاب الْجَنَائزِ بَاب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ النَّوْحِ رقم (922) .
ابومالك اشعریرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ میری امت كے چار كام جاہلیت سے ہیں، انہیں یہ كبھی نہیں چھوڑیں گے۔ حسب میں فخر كرنا، نسب میں طعن كرنا، ستاروں سے بارش طلب كرنا اور نوحہ كرنا۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (734) صحيح مسلم كِتَاب الْجَنَائزِ بَاب التَّشْدِيدِ فِي النِّيَاحَةِ رقم (1550) .
) اسود بن سریع سے مرفوعا مروی ہے كہ چارآدمی قیامت كے دن ثبوت كے ساتھ دلیل پیش كریں گے۔ بہرا آدمی جوسنتا نہیں، احمق آدمی، پاگل ناسمجھ آدمی اور وہ شخص جورسولوں كے درمیانی وقفے میں مرا۔ بہراآدمی كہے گا: اے میرے رب اسلام توآگیا لیكن مجھے كچھ سنائی نہیں دیتا تھا۔ احمق كہے گا: اسلام آگیا اور بچے مجھے مینگنی مارا كرتے تھے۔ پاگل كہے گا: اسلام توآگیا لیكن میں كوئی بات سمجھتا نہیں تھا۔ اور وہ شخص جورسولوں كی آمد كے درمیانی وقفے میں مرا وہ كہے گا: اے میرے رب میرے پاس توتیرا رسول ہی نہیں آیا كہ وہ لوگوں سے پختہ وعدہ لیتا اور لوگ اس کی پیروی کرتے ۔اللہ تعالیٰ ان كی طرف ایك فرشتہ بھیجے گا كہ انہیں آگ میں داخل كردو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں میری جان ہے اگر وہ آگ میں بھی داخل ہوں گے تووہ آگ ان كے لئے ٹھنڈی اور سلامتی والی بن جائے گی۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1434) المعجم الكبير للطبراني رقم (839) .
) انسرضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایك آدمی سے كہا: اسلام لے آؤ، اس نے كہا: میں یہ بات نا پسند كرتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام لے آؤ اگرچہ تم نا پسندہی كیوں نہ كرو۔( )
عن عمر، قال: كُنَّا مَع النَّبِي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم في غَزَاة، فَقُلْنَا: يَا رَسُول الله، إِن الْعَدُوَّ قَد حَضَر وَهُم شِباعٌ وَالنَّاسُ جِيَاعٌ، فَقَالَت الْأَنَصَار: أَلَا نَنْحَر نَوَاضِحَنَا فَنُطْعِمَهَا النَّاسَ؟ فَقَال النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم : من كَان مَعَه فَضْلُ طعامٍ فَلْيَجِئ بَه. فَجَعَل يَجِيء بِالْمُدّ وَالصَّاع وَأَكْثَر وَأَقَلّ، فَكَان جَمِيعَ مَا في الْجَيْشِ بِضْعًا وَعِشْرِين صَاعًا. فَجَلَس النَّبِي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم إلى جَنْبِه وَدَعَا بِالْبَرَكَة، فَقَال النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم : خُذُوا وَلَا تَنتَهِبُوا. فَجَعَل الرَّجُلُ يَأْخُذُ في جِرَابِه وَفِي غِرَارَتِه، وَأَخَذُوا في أَوْعِيَتِهِم، حَتَّى إِن الرَّجُلَ لَيَرْبِطُ كُمَّ قَمِيصِه فَيَمْلَأَه، فَفَرَغُوا وَالطَّعَامُ كَمَا هَو. ثم قال النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم : أَشْهَد أَن لَا إِلَه إِلَا الله وَأَنِّي رَسُول الله، لَا يَأْتِي بِهمَا عبدٌ مُحِقٌ إِلَا وَقَاهُ الله حَرَّ النَّارِ.
عمررضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ انہوں نے کہا: ہم ایك غزوے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے ساتھ تھے۔ ہم نے كہا: اے اللہ كے رسول دشمن سامنے ہے اور ان کا پیٹ بھرا ہوا ہے، جبكہ ہم لوگ بھوكے ہیں؟ انصار نے كہا:كیا ہم اپنی اونٹنیاں ذبح نہ كریں اور انہیں لوگوں كوكھلادیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص كے پاس زائد كھانا ہووہ لے آئے۔ ہر شخص كوئی ایك مد لا رہاہے كوئی صاع لا رہا ہے كوئی زیادہ كوئی كم، سارے لشكر میں بیس سے اوپر كچھ صاع بنے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس كے پہلومیں بیٹھ گئے۔ اور بركت كی دعا كی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے لے لواورچھینا جھپٹی نہ کرو۔ سارے آدمی كوئی اپنے چمڑے کے برتن میں كوئی اپنےکسی اور برتن میں میں بھرنے لگے۔ نوبت یہاں تك پہنچی كہ آدمی اپنی قمیض كی گرہ لگاتا كہ اس میں كتنا آئے گا اور اسے بھر لیتا۔ لوگ فارغ ہوگئے۔ كھانا اسی طرح تھا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاكہ: میں گواہی دیتا ہوں كہ اللہ كے علاوہ كوئی معبودِ برحق نہیں اور میں اللہ كا رسول ہوں، جوبندہ اسے سچائی كے ساتھ ادا كرے گا اللہ تعالیٰ اسے آگ كی گرمی سے بچا لے گا۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (3221) مسند أبي يعلى الموصلي رقم (215) .
عن أبي الدَّرْدَاء حِين حَضَرَتْه الْوَفَاة قال: أَحَدِّثُكُم حَدِيثًا سَمِعْتُه مِنْ رَسُولِ الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سَمِعْتُ رَسُول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم يَقولُ: اعْبُدْ الله كَأَنَّكَ تَرَاه، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاه فَإِنَّه يَرَاكَ، واعْدُدْ نَفْسَكَ في الْمَوْتَى وإِيَّاكَ ودَعَوْةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهَا تُسْتَجَابُ، ومَنْ اسْتَطَاعَ مِنكُم أَن يَشْهَد الصَّلَاتَيْن الْعِشَاءَ والصُّبْحَ ولَو حَبْوًا فَلْيَفْعَلْ.
ابودرداءرضی اللہ عنہ سے مروی ہے جب ان كی وفات كا وقت آیا توانہوں نے كہا: میں تمہیں ایك حدیث سناتا ہوں،جومیں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔ آپ فرما رہے تھے: اللہ كی عبادت اس طرح كروجیسے تم اسے دیكھ رہے ہو، اگر تم اسے نہیں دیكھ رہے تووہ تمہیں دیكھ رہا ہے۔ اپنے آپ كومُردوں میں شمار كرو، مظلوم كی بددعا سے بچوكیونكہ مظلوم كی دعا قبول كی جاتی ہے۔ اور تم میں سے جواس بات كی طاقت ركھے كہ وہ عشاء اور فجر كی دونوں نمازوں میں حاضر ہو اگرچہ گھٹنوں كے بل ہی كیوں نہ ہوتووہ ایسا كرے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (3221) مسند أبي يعلى الموصلي رقم (215) .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پكڑ كر كہا: اللہ كی عبادت اس طرح كروگویا كہ تم اس كودیكھ رہے ہواور دنیا میں اس طرح رہوجسےر كوئی اجنبی یامسافر رہتا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (1474) أورده المنذري في الترغيب ( 1 / 154 و 4 و 133 ) .
معاذرضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ میں نے كہا: اے اللہ كے رسول مجھے نصیحت كیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ كی عبادت اس طرح كروگویا كہ تم اسے دیكھ رہے ہو،اپنے آپ كومُردوں میں شمار كرو، ہر پتھراور درخت كے پاس اللہ كویاد كرو، اگر كوئی گناہ كر لوتواس كے بعد نیكی(كرو)،پوشیدہ (گناہ) كے بدلے پوشیدہ(نیكی)اور ظاہری( گناہ) كے بدلے ظاہری( نیكی)۔( )
ابومنتفق سے مروی ہے كہ میں عرفہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آیا،آپ كے اتناقریب ہواكہ آپ كی سواری اور میری سواری كی گردن ملنےلگی ۔ میں نے كہا:اے اللہ كے رسول مجھے كسی ایسے عمل كے بارے میں بتایئے جومجھے اللہ كے عذاب سے نجات دےدےاور جنت میں داخل كر دے؟آپ نے فرمایا:اللہ كی عبادت كرو، اس كے ساتھ كسی كوشریك نہ كرو، فرض نماز ادا كرو، فرض زكاۃ ادا كرو، حج كرواور عمرہ كرو اور میرا خیال ہے کہ یہ بھی فرمایا: یا غالباً یہ بھی فرمایا: رمضان كے روزے ركھواور دیكھوكہ تم لوگوں سے اپنے معاملے میں کس طرزعمل كوپسند كرتےہوان كے ساتھ بھی ایسا ہی طرز عمل كرو، اور لوگوں كے جس طرزعمل كو اپنے لیے نا پسند كرتے ہواس طرح كا طرز عمل ان سے بھی نہ كرو۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1475) المعجم الكبير للطبراني رقم (16787) .
شرید بن سوید ثقفی سے مروی ہے كہ میں نے كہا: اے اللہ كے رسول میری ماں نے مجھے وصیت كی تھی كہ ان كی طرف سے ایك گردن آزاد كروں، میرے پاس ایك حبشی سیاہ لونڈی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اسے بلاؤ،وہ اسےلےآئے آپ نے اس سے پوچھا: تمہارا رب كون ہے؟ اس نے كہا: اللہ۔ آپ نے فرمایا: میں كون ہوں؟ اس نے كہا:آپ اللہ كے رسول ہیں۔ آپ نے فرمایا: اسے آزاد كردویہ مومنہ ہے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1477) المعجم الكبير للطبراني رقم (15805) .
عن الْعَلَاء ابن زَيَاد قال: سَأَل رَجَلٌ عبد الله بن عَمَرٍو بن الْعاص فَقَال: أَي الْمُؤْمِنِين أُفْضَلُ إِسْلَامًا؟ قال أُفْضَلُ الْمُؤْمِنِين إِسْلَامًا من سَلِمَ الْمُسْلِمُون من لِسَانَه ويَدِه وأُفْضَلُ الْجِهَاد من جَاهَد نَفَسَه في ذَات الله وأُفْضَلُ الْمُهَاجِرِين من جَاهَد نَفَسَه وهَوَاه في ذَات الله. قال: أَنْتَ قُلْتَه يَا عبد الله بن عَمَرٍو أَو رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم ؟ قال: بَل رَسُول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَه.
علاء بن زیاد سے مروی ہے كہ ایك آدمی نے عبداللہ بن عمروبن عاص رضی اللہ عنہما سے سوال كیا كہ اسلام كے لحاظ سے افضل مومن كون ہے؟ انہوں نے كہا:اسلام كے لحاظ سے افضل مومن وہ ہے جس كے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں، اور افضل جہاد اللہ كے لئے اپنے نفس سےجہادكرنا ہےاورافضل مہاجروہ ہےجس نےاللہ كےلئےاپنےنفس اورخواہش سےجہادكیا۔ اس آدمی نے كہا:اے عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما یہ بات آپ نے كہی ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےکہی ہے ؟ عبداللہرضی اللہ عنہ نے كہا بلكہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات كہی ہے۔( )
عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ:أَفْلَحَ مَنْ هُدِيَ إِلَى الْإِسْلَامِ وَكَانَ عَيْشُهُ كَفَافًا وَقَنَعَ به.
فضالہ بن عبید سے مرفوعا مروی ہے كہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس شخص كواسلام كی ہدایت دے دی گئی وہ كامیاب ہوگیا۔اس کے وسائل گذارے جتنے تھے اور اس پر اس نے قناعت كی۔( )