TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان - ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان - Book 5 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 5 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 256 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

256 Hadith · 1 Chapters
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَمَّا كَانَ لَيْلَةُ أُسْرِيَ بِي وَأَصْبَحْتُ بِمَكَّةَ فَظِعْتُ بِأَمْرِي وَعَرَفْتُ أَنَّ النَّاسَ مُكَذِّبِيَّ فَقَعَدَ مُعْتَزِلًا حَزِينًا قَالَ: فَمَرَّ عَدُوُّ اللهِ أَبُو جَهْلٍ فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ إِلَيْهِ فَقَالَ لَهُ: كَالْمُسْتَهْزِئِ هَلْ كَانَ مِنْ شَيْءٍ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : نَعَمْ قَالَ: مَا هُوَ؟ قَالَ: إِنَّهُ أُسْرِيَ بِي اللَّيْلَةَ قَالَ: إِلَى أَيْنَ؟ قَالَ: إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ قَالَ: ثُمَّ أَصْبَحْتَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْنَا؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ فَلَمْ يَرَ أَنَّهُ يُكَذِّبُهُ مَخَافَةَ أَنْ يَجْحَدَهُ الْحَدِيثَ إِذَا دَعَا قَوْمَهُ إِلَيْهِ قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ دَعَوْتُ قَوْمَكَ تُحَدِّثُهُمْ مَا حَدَّثْتَنِي؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نَعَمْ فَقَالَ: هَيَّا مَعْشَرَ بَنِي كَعْبِ بْنِ لُؤَيٍّ! قَالَ فَانْتَفَضَتْ إِلَيْهِ الْمَجَالِسُ وَجَاءُوا حَتَّى جَلَسُوا إِلَيْهِمَا قَالَ: حَدِّثْ قَوْمَكَ بِمَا حَدَّثْتَنِي فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنِّي أُسْرِيَ بِي اللَّيْلَةَ قَالُوا: إِلَى أَيْنَ؟ قَال: إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ قَالُوا: ثُمَّ أَصْبَحْتَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْنَا؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: فَمِنْ بَيْنِ مُصَفِّقٍ وَمِنْ بَيْنِ وَاضِعٍ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ مُتَعَجِّبًا لِلْكَذِبِ زَعَمَ! قَالُوا: وَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَنْعَتَ لَنَا الْمَسْجِدَ وَفِي الْقَوْمِ مَنْ قَدْ سَافَرَ إِلَى ذَلِكَ الْبَلَدِ وَرَأَى الْمَسْجِدَ؟! فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : فَذَهَبْتُ أَنْعَتُ فَمَا زِلْتُ أَنْعَتُ حَتَّى الْتَبَسَ عَلَيَّ بَعْضُ النَّعْتِ قَالَ: فَجِيءَ بِالْمَسْجِدِ وَأَنَا أَنْظُرُ حَتَّى وُضِعَ دُونَ دَارِ عِقَالٍ أَوْ عُقَيْلٍ فَنَعَتُّهُ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ قَالَ: وَكَانَ مَعَ هَذَا نَعْتٌ لَمْ أَحْفَظْهُ قَالَ: فَقَالَ الْقَوْمُ: أَمَّا النَّعْتُ فَوَاللهِ لَقَدْ أَصَابَ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جس رات مجھے معراج كروائی گئی اور میں مكہ میں آیا تومیں اپنے معاملے میں پر اعتماد نہ تھااور مجھے معلوم ہوگیا كہ لوگ مجھے جھٹلائیں گے ۔ آپ غمگین ہو كر علیحدہ بیٹھ گئے۔ اللہ كا دشمن ابو جہل وہاں سے گزرا اور آكر آپ كے پاس بیٹھ گیا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے استہزاء كرتے ہوئے كہا: كیا كوئی نئی بات ہو گئی ہے؟ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ہاں ۔ اس نے كہا: وہ كیا؟ آپ نے فرمایا: آج رات مجھے سیر کروائی گئی ہے۔ ابو جہل نے كہا : كس طرف؟ آپ نے فرمایا: بیت المقدس كی طرف۔ ابو جہل نے كہا: (واہ) پھر بھی آپ صبح كے وقت ہمارے درمیان موجود ہیں؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ ابو جہل كو سمجھ نہیں آئی كہ آپ كو جھٹلا دے اس ڈر سے كہ كہیں وہ آپ كی قوم كو بلائے تو آپ اس بات كا انكار كر دیں۔ ابو جہل نے كہا: اگر میں آپ كی قوم كو بلاؤں اور جو آپ نے مجھے بتایا ہے انہیں بھی بتائیں تو آپ كا اس بارے میں كیا خیال ہے؟ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ٹھیك ہے۔ ابو جہل نے آواز دی: اے بنی كعب بن لؤئی كے لوگو آؤ۔ لوگ ٹولیوں كی صورت میں اس كی طرف آنے لگے اور آكر بیٹھ گئے۔ ابو جہل نے كہا: اپنی قوم كو بتاؤ جو آپ نے مجھے بتایا ہے۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: آج رات مجھے سفر كروایا گیا۔ لوگوں نے كہا: كس طرف؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: بیت المقدس كی طرف لوگوں نے كہا: آپ پھر بھی ہمارے درمیان بیٹھے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ہاں، كچھ لوگ تالیاں بجانے لگے اور كچھ لوگ آپ کے (ان کے گمان میں) جھوٹے دعوے پر تعجب كرتے ہوئے اپنے ہاتھ اپنے سرپر ركھنے لگے، كہنے لگے: كیا آپ ہمیں اس مسجد كے اوصاف بیان كرنے كی قدرت ركھتے ہیں؟ ان لوگوں میں ایسے لوگ بھی تھے جو اس ملك میں گئے تھے اور وہ مسجد دیكھی تھی۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میں انہیں اوصاف بتانے لگا میں انہیں اوصاف بتا رہا تھا كہ كوئی نشانی مجھ پر ملتبس ہو گئی۔ آپ نے فرمایا: وہ مسجد میرے سامنے كر دی گئی میں اسے دیكھ رہا تھا حتی كہ وہ عقال یا عقیل كے گھروں كے سامنے كر دی گئی اور میں اس كی نشانیاں بتا رہا تھا۔ اور اسے دیكھ رہا تھا۔ اس میں ایسی نشانی بھی تھی جو مجھے یاد نہیں تھی۔ لوگوں نے كہا: اللہ كی قسم یہ نشانی اس نے درست بتائی ہے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (3021) مسند أحمد رقم (2680)
1079
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاء مرفوعا: لَن يَلِجَ الدَّرَجَاتُ الْعُلَى مَنْ تَكهَّن أَو تُكُهِّن لَه ، أَو رَجَعَ مِنْ سَفرٍ تَطيُّراً.
ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ وہ شخص كبھی بھی بلند درجات تك نہیں پہچ سكتا جس نے كہانت كی یا اس كے لئے كہانت كی گئی یا بدشگونی كرتے ہوئے سفر سے واپس پلٹ آیا۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2191) تمام الفوائد رقم (2307)
1080
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : لَوْ آمَنَ بِي عَشَرَةٌ مِنْ الْيَهُودِ مَا بَقِىَ عَلَى ظَهْرِهَا يَهُودِيٌّ إِلَّا أَسْلَمَ.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اگر مجھ پر دس یہودی بھی ایمان لے آئیں تو روئے زمین پر كوئی یہودی باقی نہیں بچے گا جو اسلام نہ لائے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2162) صحيح البخاري كِتَاب الْمَنَاقِبِ بَاب إِتْيَانِ الْيَهُودِ النَّبِيَّ ﷺ حِينَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ رقم (3647)
1081
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَصَابَ رَجُلٌ حَاجَةً فَخَرَجَ إِلَى الْبَرِّيَّةِ، فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ: اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا مَا نَعْتَجِنُ وَمَا نَخْتَبِزُ، فَجَاءَ الرَّجُلُ وَالْجَفْنَةُ مَلأَى عَجِينًا، وَفِي التَّنُّورِ جَنُوبُ الشِّوَاءِ، وَالرَّحَا تَطْحَنُ، فَقَالَ: مِنْ أَيْنَ هَذَا؟ قَالَتْ: مِنْ رِزْقِ اللهِ، فَكَنَسَ مَا حَوْلَ الرَّحَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَوْ تَرَكَتْهَا لَدَارَتْ، أَوْ طَحَنَتْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ .
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ ایك آدمی كو ضرورت پیش آئی تو وہ جنگل كی طرف نكل گیا، اس كی بیوی نے كہا: اے اللہ جس چیز كا ہم آٹا بنائیں اور روٹی پكائیں وہ ہمیں عطا كر۔ وہ آدمی آیا تو برتن آٹے سے بھرا ہوا تھا اور تنور بھنی ہوئی رانوں سے بھرا ہوا تھا۔ چكی آٹا پیس رہی تھی۔ اس نے پوچھا یہ كہاں سے؟ اس نے كہا: اللہ كے رزق سے۔ اس نے چكی كا پاٹ اٹھالیا، رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اگر وہ اسے چھوڑ دیتا تو وہ گھومتی رہتی یا وہ قیامت تك آٹا پیستی رہتی۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2937) المعجم الكبير للطبراني رقم (1332)
1082
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
) عَنْ ابنِ عُمرَ مرفوعا: لَو تَعْلَمُون قَدْرَ رَحْمَةِ الله عَزّ وَجَل لاتَّكَلْتُم وَ مَا عَمِلْتُم مِنْ عَمَلٍ وَ لَو عَلِمْتُم قَدْرَ غَضَبِه مَا نَفَعَكُم شَيْءٌ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ اگر تمہیں اللہ كی رحمت كی مقدار معلوم ہو جائے تو تم توكل كر كے بیٹھ جاؤ اور كوئی كام نہ كرو اور اگر تمہیں اللہ كے غصے كی مقدار معلوم ہو جائے تو تمہیں كوئی چیز نفع نہ دے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2167) حسن الظن لإبن أبي الدنيا رقم (2 / 193/ 1)
1083
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : لَوْ قُلْتَ: بِسْمِ اللهِ ، لَطَارَتْ بِكَ الْمَلائِكَةُ وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ. قَالَه لطَلحة حِين قُطِعَتْ أَصَابِعَهُ فَقَالَ: حِسِّ.
آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اگر تم”بسم اللہ“کہتے تو فرشتے تمہیں لے كر اڑنے لگتے اور لوگ تیری طرف دیكھ رہے ہوتے۔ آپ نے یہ بات طلحہ رضی اللہ عنہ سےكہی جب ان كی انگلیاں كاٹ دی گئیں تھیں۔ طلحہ نے كہا تھا”اف“(تكلیف كے وقت كلمہ)۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2796) المعجم الكبير للطبراني رقم (214)
1084
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَسْتَطْعِمُهُ فَأَطْعَمَهُ شَطْرَ وَسْقِ شَعِيرٍ فَمَا زَالَ الرَّجُلُ يَأْكُلُ مِنْهُ وَامْرَأَتُهُ وَضَيْفُهُمَا حَتَّى كَالَهُ فَأَتَى النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: لَوْ لَمْ تَكِلْهُ لَأَكَلْتُمْ مِنْهُ وَلَقَامَ لَكُمْ.
جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ ایك آدمی نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس كھانا مانگنے آیا ۔ آپ نے اسے جَو كا نصف وسق دیا۔ وہ آدمی اس كی بیوی اور ان كا مہمان اس سے كھاتے رہے حتی كہ اس نے اس كا وزن كیا ۔وہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آیا تو آپ نے فرمایا: اگر تم وزن نہ کرتےتو تم اس سے كھاتے رہتے اور وہ تمہارے لئے برابر موجود رہتا۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2625) صحيح مسلم كِتَاب الْفَضَائِلِ بَاب فِي مُعْجِزَاتِ النَّبِيِّ ﷺ رقم (4228)
1085
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنِ الأَسْوَدِ بن سَرِيعٍ مَرفُوعاً: لَيْسَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ الْمَدْحُ مِنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَلا أَحَدٌ أَكْثَرَ مَعَاذِيرَ مِنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ.
اسود بن سریع سے مرفوعا مروی ہے كہ: اللہ سے زیادہ كسی كو بھی تعریف پسند نہیں اور اللہ سے زیادہ كوئی عذر قبول كرنے والا نہیں۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2180) المعجم الكبير للطبراني رقم (834)
1086
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ أَبِي مُوسَى مرفوعا: لَيْسَ أَحَدٌ أَصْبَرَ عَلَى أَذًى سَمِعَهُ مِنْ اللهِ إِنَّهُمْ لَيَدْعُونَ لَهُ وَلَدًا (وَيَجْعَلُونَ لَهُ نِدًّا) وَإِنَّهُ لَيُعَافِيهِمْ (وَيَدْفَعُ عَنْهُمْ) وَيَرْزُقُهُمْ (وَيُعْطِيهِمْ).
ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: اللہ تعالیٰ سے زیادہ كوئی بھی صبر كرنے والا نہیں اس تكلیف دہ بات پر جسے وہ سنتا ہے۔ لوگ اللہ كے لئے اولاد بناتے ہیں(اور اس كا شریك بناتے ہیں) جب كہ اللہ تعالیٰ انہیں معاف كرتا رہتا ہے (اور ان سے درگزر كرتا رہتا ہے)۔ اور انہیں رزق دیتا رہتا ہے(اور عطا كرتا رہتا ہے)۔ ( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2249) صحيح البخاري كِتَاب الْأَدَبِ بَاب الصَّبْرِ عَلَى الْأَذَى رقم (5634)
1087
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ عِمْرَانَ بن حُصَيْنٍ، أَنَّهُ رَأَى رَجُلا فِي عَضُدِهِ حَلْقَةً مِنَ صُفَرٍ، فَقَالَ لَهُ: مَا هَذِهِ؟ قَالَ: نِعْت لِي مِنَ الْوَاهِنَةِ، قَالَ: أَمَا لَوْ مُتَّ وَهِيَ عَلَيْكَ وُكِلْتَ إِلَيْهَا، قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَيْسَ مِنَّا مَنْ تَطَيَّرَ أَوْ تُطُيِّرَ لَهُ، أَوْ تَكَهَّنَ أَوْ تُكُهِّنَ لَهُ أَوْ سَحَرَ أَوْ سُحِرَ لَهُ.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ انہوں نے ایك آدمی كو دیكھا جس كے ہاتھ میں پیتل كا ایك كڑا تھا۔ انہوں نے اس سے كہا: یہ كیا ہے؟ اس نے كہا: كمزوری كی وجہ سے۔ انہوں نے كہا: اگر تم مر گئے اور یہ تمہارے ہاتھ میں ہوا تو تمہیں اس كے سپرد كر دیا جائے گا۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں جس نے بدشگونی لی یا اس كے لئے بدشگونی لی گئی ۔ یا كہانت كی یا اس كے لئے كہانت كی گئی، یا اس نے جادو كیا یا اس كے لئے جادو كیا گیا۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2195) المعجم الكبير للطبراني رقم (14770)
1088
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عن ابن عَبَاس مرفوعا: لَيْسَ مِنَّا مَنْ سَحَر أَو سُحِرَ لَه، أَو تَكَهَّنَ أَو تُكُهِّنَ لَه، أَو تَطيَّر أَو تُطيِّر لَه.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ وہ شخص ہم میں سے نہیں جس نے جادو كیا یا اس كے لئے جادو كیا گیا یا كہانت كی یااس كے لئے كہانت كی گئی، یا بدشگونی لی یا اس كے لئے بد شگونی لی گئی۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2650) المعجم الأوسط للطبراني رقم (4413)
1089
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ أَنسٍ، قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُول الله، إِنَّا نَكُون عِنْدكَ عَلَى حَالٍ فَإِذَا فَارَقْنَاكَ كُنَّا عَلَى غَيْرِه. فَقَالَ: كَيْفَ أَنْتُم وَرَبُّكُم؟. وقَالَ: أَبُو يَعلَى وَنَبِيُّكُم؟ قَالُوا: اللهُ رَبُّنَا وَفِي أَبِي يَعلَى أَنَتَ نَبِيَّنَا في السِّرِّ وَالْعَلَانِيَة ، قَالَ: لَيْسَ ذَاكُم النِّفَاق.
انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ لوگوں نے كہا: اے اللہ كے رسول ہم آپ كے پاس ہوتے ہیں تو ہماری ایك(اچھی)حالت ہوتی ہےاور جب آپ سے جدا ہوتے ہیں تو ہماری حالت بدل جاتی ہے۔ آپ نے فرمایا: تمہارا اپنے رب اور نبی كے بارے میں كیا خیال ہوتا ہے؟ انہوں نے كہا: اللہ ہمارا رب ہے ، آپ ہمارے نبی ہیں ظاہر اور پوشیدہ ۔آپ نے فرمایا: یہ نفاق نہیں۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (3020) مسند أبي يعلى رقم (3275)
1090
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاء قَالَ: قَحَطَ الْمَطَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ الله صلی اللہ علیہ وسلم ، فَسَأَلْنَاه أَن يَسْتَقِي لَنَا، (فَاسْتَقَى)، فَغَدَا النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم ؛ فَإِذَا هَو بِـقَوْمٍ يَتَحَدَّثُون يَقُولُون: سُقِينَا بِـنَجْمِ كَذَا وَكَذَا! فَقَال النبي صلی اللہ علیہ وسلم : ما أَنعَمَ اللهُ عَلَى قومٍ نِعْمَةًإلا أصْبَحُوا بها كافرِينَ.
ابو درداء رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے زمانے میں بارش كا قحط پڑ گیا ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست كی كہ آپ ہمارےلئے بارش کی دعاكریں۔ ( آپ نے ہمارے لئے پانی مانگا) دوسرے دن نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌آئے تو لوگ آپس میں باتیں كر رہے تھے كہ فلاں فلاں ستارے كی وجہ سے پانی دیا گیا۔ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جب بھی كسی قوم پر كوئی احسان كرتا ہے تو دوسرے دن وہ اس كا انكار كرنے لگتے ہیں۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (3039) مسند الشاميين للطبراني رقم (1072)
1091
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رضی اللہ عنہ يَقُولُ:كُنَّا فِي غَزَاةٍ فَكَسَعَ رَجُلٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: يَا لَلْأَنْصَارِ! وَقَالَ الْمُهَاجِرِيُّ: يَا لَلْمُهَاجِرِينَ! فَقَالَ رَسُول اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَا بَالُ دَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ؟ قَالُوا يَا رَسُولَ اللهِ كَسَعَ رَجُلٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: دَعُوهَا فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ. (قَالَ جَابِرٌ وَكَانَتْ الْأَنْصَارُ حِينَ قَدِمَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَكْثَرَ ثُمَّ كَثُرَ الْمُهَاجِرُونَ بَعْدُ) فَسَمَّعَهَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَيٍّ قَدْ فَعَلُوهَا؟! لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ! فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رضی اللہ عنہ دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ قَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : دَعْهُ لَا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما كہتے ہیں كہ ہم ایك غزوے میں نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے ساتھ تھے۔ ایك مہاجر نے ایك انصاری كی سرین پرتھپڑ مارا۔ انصاری نے كہا: اے انصاریو! اور مہاجر نے كہا: اے ماےجرو! رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: یہ جاہلیت کی پکار کیوں لگا رہے ہو؟ لوگوں نے كہا: اے اللہ كے رسول ایك مہاجر نے ایك انصاری كی سرین پر تھپڑ مارا ہے۔ آپ نے فرمایا: اسے (عصبیت کو) چھوڑ دو، كیونكہ یہ بدبودار ہے(جابر كہتے ہیں كہ جب نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌آئے تو انصاری زیادہ تھے۔ پھر بعد میں مہاجر زیادہ ہو گئے)۔ عبداللہ بن ابی نے اس بات کو بڑھاوا دیا یا شہرت دی: انہوں نے ایسا كام كیا ہے اگر ہم مدینے واپس پہنچے تو عزت دار ذلت والے كو نكال دے گا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے كہا: مجھے اجازت دیجئے میں اس منافق كی گردن اڑاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اسے چھوڑ دو كہیں لوگ یہ نہ كہیں كہ محمد ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌اپنے ساتھیوں كو قتل كرتا ہے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (3155) صحيح البخاري كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ بَاب قَوْلُهُ {يَقُولُونَ لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ... رقم (4525 4527)
1092
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَغَزَوْتُ مَعَهُ فَأَصَبْتُ ظَهْر أَفضَل النَّاسُ يَوْمَئِذٍ حَتَّى قَتَلُوا الْوِلْدَانَ وَقَالَ مَرَّةً: الذُّرِّيَّةَ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: مَا بَالُ قَوم جَاوَزَهُمْ الْقَتْلُ الْيَوْمَ حَتَّى قَتَلُوا الذُّرِّيَّةَ؟ فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ! إِنَّمَا هُمْ أَوْلَادُ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ أَلَا إِنَّ خِيَارَكُمْ أَبْنَاءُ الْمُشْرِكِينَ ثُمَّ قَالَ: أَلَا، لَا تَقْتُلُوا ذُرِّيَّةً أَلَا، لَا تَقْتُلُوا ذُرِّيَّةً قَالَ كُلُّ نَسَمَةٍ تُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ حَتَّى يَهُبَ عَنْهَا لِسَانُهَا فَأَبَوَاهَا يُهَوِّدَانِهَا وَيُنَصِّرَانِهَا. ( )
اسود بن سریع سے مروی ہے كہتے ہیں كہ میں رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آیا اور ان كے ساتھ مل كر جہاد كیا۔مجھے ایک سواری ہاتھ آئی۔لوگوں نے اس دن خوب قتل و غارت گری کی حتی كہ انہوں نے بچوں كو بھی قتل كیا۔ یہ بات رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌تك پہنچی تو آپ نے فرمایا: لوگوں كو كیا ہو گیا ہے؟ آج قتل میں حد سے گزر گئے حتی کہ بچوں تک کو قتل کردیا ایك آدمی نے كہا: اے اللہ كے رسول وہ تو مشركین كی اولاد تھے ۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: خبردار تمہارے بہترین لوگ مشركین كے بچے ہیں۔ پھر فرمایا: خبردار! بچوں كو قتل نہ كرو، خبردار! بچوں كو قتل نہ كرو۔ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتاہے ، جب تك وہ بولنا نہ سیكھ لے۔ پھر اس كے والدین اسے یہودی بنا دیتے ہیں یا عیسائی بنا دیتے ہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (402) مسند أحمد رقم (15037) المعجم الكبير للطبراني رقم (827 )
1093
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَا مِنْ أَحد يَسمع بِي مِن هَذِه الْأَمَة، وَلَا يَهُودِيٌّ وَلَا نَصْرَانِيٌّ ، فَلَا يُؤَمِنُ بِي إِلَا دَخلَ النَّارَ.
رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اس امت میں سے میرے متعلق جو بھی سنتا ہے چاہے یہودی ہو یا عیسائی، پھر مجھ پر ایمان نہ لائے وہ آگ میں داخل ہوگا۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (3093) مستدرك الحاكم رقم (3267)
1094
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ مَرفوعا: مَا مِنْ نَفْسٍ تَمُوتُ وَهِي تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَرْجِعُ ذَلِكَ إِلَى قَلْبِ مُوقِنٍ إِلَّا غَفَرَ اللهُ لَهَا.
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے: جو بھی شخص یہ گواہی دیتےہوئےمرتا ہےكہ اللہ كے علاوہ كوئی معبودِ برحق نہیں اور میں (محمد) اللہ كا رسول ہوں۔ اور یہ بات پختہ یقین كے ساتھ كہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بخش دے گا۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2278) سنن ابن ماجة كِتَاب الْأَدَبِ بَاب فَضْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رقم (3786)
1095
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ أَبِي رَزِينٍ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ مرفوعا: مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ النَّخْلَةِ لَا تَأَكُل إِلَا طَيِّبَا وَ لَا تَضَعُ إِلَا طَيِّبَا.
ابو رزین اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے مرفوعا مروی ہے كہ: مومن كی مثال كھجور كے درخت كی طرح ہے ۔جو صرف پاكیزہ كھاتا ہے اور پاكیزہ پھل دیتا ہے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (355) صحيح ابن حبان رقم (5320)
1096
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: جَلَسْنَا إِلَى الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ يَوْمًا فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ فَقَالَ: طُوبَى لِهَاتَيْنِ الْعَيْنَيْنِ اللَّتَيْنِ رَأَتَا رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَاللهِ أَنَّا لَوَدِدْنَا أَن رَأَيْنَا مَا رَأَيْتَ وَشَهِدْنَا مَا شَهِدْتَ فَاسْتُغْضِبَ فَجَعَلْتُ أَعْجَبُ مَا قَالَ إِلَّا خَيْرًا ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَيْهِ فَقَالَ: مَا يَحْمِلُ الرَّجُلُ عَلَى أَنْ يَتَمَنَّى مَحْضَرًا غَيَّبَهُ اللهُ عَنْهُ لَا يَدْرِي لَوْ شَهِدَهُ كَيْفَ كَانَ يَكُونُ فِيهِ؟! وَاللهِ لَقَدْ حَضَرَ رَسُولَ اهَِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَقْوَامٌ أَكَبَّهُمْ اللهُ عَلَى مَنَاخِرِهِمْ فِي جَهَنَّمَ لَمْ يُجِيبُوهُ وَلَمْ يُصَدِّقُوهُ أَوَلَا تَحْمَدُونَ اللهَ إِذْ أَخْرَجَكُمْ لَا تَعْرِفُونَ إِلَّا رَبَّكُمْ مُصَدِّقِينَ لِمَا جَاءَ بِهِ نَبِيُّكُمْ قَدْ كُفِيتُمْ الْبَلَاءَ بِغَيْرِكُمْ؟ وَاللهِ لَقَدْ بَعَثَ اللهُ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَلَى أَشَدِّ حَالٍ بُعِثَ عَلَيْهَا نَبِيٌّ مِنْ الْأَنْبِيَاءِ فِي فَتْرَةٍ وَجَاهِلِيَّةٍ مَا يَرَوْنَ أَنَّ دِينًا أَفْضَلُ مِنْ عِبَادَةِ الْأَوْثَانِ فَجَاءَ بِفُرْقَانٍ فَرَّق بِهِ بَيْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ وَفَرَّقَ بَيْنَ الْوَالِدِ وَوَلَدِهِ حَتَّى إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيَرَى وَالِدَهُ وَوَلَدَهُ أَوْ أَخَاهُ كَافِرًا وَقَدْ فَتَحَ اللهُ قُفْلَ قَلْبِهِ لِلْإِيمَانِ يَعْلَمُ أَنَّهُ إِنْ هَلَكَ دَخَلَ النَّارَ فَلَا تَقَرُّ عَيْنُهُ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّ حَبِيبَهُ فِي النَّارِ وَإِنَّهَا للَّتِي قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَ الَّذِیۡنَ یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا ہَبۡ لَنَا مِنۡ اَزۡوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّۃَ اَعۡیُنٍ الفرقان: ٧٤
عبدالرحمن بن جبیر بن نفیر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں كہتے ہیں كہ ایك دن ہم مقداد بن اسود كے پاس بیٹھے تھے۔ ایك آدمی گزرا تو اس نے كہا: ان دو آنكھوں كےلئے خوشخبری ہو جنہوں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كو دیكھا، اللہ كی قسم ہماری خواہش ہے كہ ہم نے بھی وہ دیکھا ہوتا جو آپ نے دیکھا اور ہم بھی وہاں موجود ہوتے جہاں آپ موجود تھے۔ مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ غصے ہوگئے۔میں تعجب کرنے لگا کہ اس شخص نے تو اچھی بات کہی ہے ،پھر اس كی طرف متوجہ ہوئےاور كہا: اس آدمی كو كس بات نے مجبور كیا كہ یہ اس دور میں حاضر ہونے كی تمنا كرے جس سے اللہ تعالیٰ نے اسے بعد میں پیدا كیا؟ اسے نہیں معلوم كہ اگر یہ اس وقت موجود ہوتا تو اس كے ساتھ كیا صورتحال ہوتی؟ اللہ كی قسم رسول! اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے زمانے میں ایسے لوگ موجود تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے منہ كے بل جہنم میں پھینك دیا۔ نہ انہوں نے اسلام قبول كیا اور نہ آپ كی تصدیق كی۔ كیا تم اللہ كی حمد بیان نہیں كرتے كہ تمہیں اس وقت پیدا كیا جب تم صرف اپنے رب كو پہچانتے ہو ، جو تمہارا نبی لایا اس كی تصدیق كرنے والے ہو، تمہارے علاوہ دوسرے لوگوں كو آزمائش میں مبتلا كیا گیا ۔ اللہ كی قسم اللہ تعالیٰ نے جب اپنے نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كو مبعوث كیا تو وہ صورتحال اس سے بھی زیادہ سخت تھی جو كسی نبی كو درپیش ہوئی یا آپ دور جاہلیت میں اور اس وقفے میں مبعوث ہو جس میں انبیاء کا سسلہ موقوف تھا۔ وہ بتوں کی عبادت سے بڑھ کر کسی دین کو افضل خیال نہیں کرتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے (قرآن) فرقان نازل كیا اور اس كے ذریعے حق وباطل كے درمیان فرق كیا۔ والد اور اس كے بچے كے درمیان فرق كیا، حتی كہ صورتحال ایسی ہو گئی كہ جس شخص كے دل كا تالا اللہ تعالیٰ نے ایمان كے لئے كھول دیا تھا وہ اگر اپنے باپ بیٹے یا بھائی كو دیكھتا كہ یہ كافر ہے تو اسے معلوم ہو جاتا كہ اگر یہ ہلاك ہو گیا تو آگ میں داخل ہوگا۔ جب اسے معلوم ہو جاتا كہ اس كا پیارا جہنم میں جائے گا تو اس كی آنكھوں كا قرار ختم ہو جاتا۔ یہ وہی حالت ہے جس كے متعلق اللہ عزوجل نے فرمایا:وہ لوگ جو دعا كرتے ہیں اے ہمارے رب ہمیں ہماری بیویوں اور اولاد سے آنكھوں كی ٹھنڈك عطا فرما۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2823) مسند أحمد رقم (22693) المعجم الكبير للطبراني رقم (16988)
1097
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عن يَزيد بن الْمُهلَب لَمَّا وُلِّي خُرَاسَان قال: دُلُّونِي عَلَى رَجلٍ كُلٍ لخِصَالِ الْخَيْر، فَدَلّ عَلَى أَن أبي بردة بن أبي مَوسَى الأشعري، فَلَمَا جَاءَه رَآه رَجُلًا فائقا، فَلَمَا كَلَّمَه رَأَى مخبرته أفضل من مرآته، قال: إِنِّي وليتك كَذَا وكَذَا من عَمَلي، فَاسْتَعْفَاه فَأَبَى أَن يعفيه، فَقَال: أَيّهَا الأمير! أَلَا أخْبرك بِشَيْء حَدَّثَنِيه أبي أَنَّه سَمِعَه من رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم ؟ قال: هَاتِه، قال: إِنَّه سَمِع النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقول: من تَوَلى عَمَلًا وهَو يعلم أَنَّه لَيْس لِذَلِك الْعَمَل أَهَلٌ فَلْيَتَبَوَّأ مَقْعَدَه من النَّار، قال: و أَنا أشهد أَيّهَا الْأَمِير! إِنِّي لَسْتُ بِأَهْلٍ لِمَا دَعَوْتَنِي إِلَيْه، فَقَال لَه يَزيد: ما زدْتُ إِلَا أَن حَرَّضْتَني عَلَى نَفْسكَ و رَغْبَتُنَا فِيكَ، فَاخْرجْ إلى عَهْدكَ فَإِنِّي غَيْر معفيك، ثم فَخَرَج (كَذَا الْأَصْل و لَعل الصوَاب: فَخَرَج ثم) أَقَام فِيه ما شَاء الله أَن يُقِيم، واسْتَأذَنَه بِالْقُدوم عليه، فَأَذَّن لَه، فَقَال: أَيهَا الْأَمِير! أَلَا أحدثك بِشَيْء حَدَّثَنِيه أبي أَنَّه سَمِع من رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم ؟ قال هَاتِه، قال: مَلْعُونٌ من سَأَل بِوَجْه (الله) ومَلْعُون من يَسْأَل بِوَجْه الله ثم مَنَع سَائِلَه ما لَم يسْأَله هَجْراً، قال: وأَنا أَسْأَلكَ بِوَجْه الله أَلَا ما أعفيتني أَيّهَا الْأَمِير! من عَملكَ. فَأَعْفَاه .
یزید بن مہلب جب خراسان كا والی بنا تو كہنے لگا: مجھے اس شخص كے بارے میں بتاؤ جس كی تمام عادتیں بھلائی پر مبنی ہوں۔ انہیں ابو بردہ بن ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ كے متعلق بتایا گیا۔ جب وہ ان كے پاس آیا تو انہیں ایك لائق شخص پایا۔جب ان سے گفتگو كی تو انہیں ان كی ظاہری شخصیت سے زیادہ ذہین پایا۔ یزید نے كہا: میں تمہیں اپنے فلاں فلاں كام كا نگران بناتا ہوں۔ انہوں نے معذرت طلب كی لیكن یزید نہ مانا، ابو بردہ كہنے لگے: امیر صاحب كیا میں آپ كو ایسی بات نہ بتاؤں جو مجھے میرے والد نے بتائی ہے؟ کہا بتاؤ، کہا انہوں نے نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرما رہے تھے: جو شخص كسی كام كا نگران بنا اور اسے معلوم ہو كہ وہ اس كا اہل نہیں تو وہ اپنا ٹھكانہ جہنم میں بنالے۔ اور امیرِ محترم میں گواہی دیتا ہوں كہ جس كام كا آپ نے مجھے كہا ہے میں اس كا اہل نہیں یزید نے ان سے كہا: آپ نے تو ہمیں اپنی طرف زیادہ متوجہ كر لیا ہے اور ہماری دل چسپی آپ میں بڑھ گئی ہے۔ اپنے كام كی طرف نكلئے میں آپ كی معذرت قبول نہیں كروں گا۔وہ چلے گئے پھر جب تك اللہ نے چاہا وہ وہاں مقیم رہے۔ پھر اس سے ملنے كے اجازت طلب كی انہوں نے اجازت دے دی۔ ابو بردہ كہنے لگے: امیر محترم كیا میں آپ كو ایسی حدیث نہ سناؤں جو میرے والد نے مجھے بیان كی اور انہوں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنی؟ یزید نے كہا: سناؤ۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ملعون ہے وہ شخص جس سے( اللہ كے )نام پر سوال كیا گیا اور ملعون ہے وہ شخص جس سے اللہ كے نام پر سوال كیا جاتا ہےپھر سوال كرنے والے كو روك دے،جو اس سے چمٹ کرسوال نہیں کرتااور میں تم سے اللہ كے نام پر سوال كرتا ہوں كہ امیر محترم میرا استعفیٰ قبول كریں۔ تب یزید نے ان كا استعفیٰ قبول كر لیا۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2290) مسند الرؤياني رقم (480) المجمع (3 /103)
1098
Sahih