TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان - ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان - Book 5 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 5 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 256 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

256 Hadith · 1 Chapters
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالُوا: يَا رَسُول اللهِ! إِنَّا هَذَا الْحَيِّ مِنْ رَبِيعَة وَقَد حَالَت بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَار مُضَر فَلَا نَخْلُصُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ فَمُرْنَا بِأَمْرٍ نَعْمَلَ بِه وَنَدْعُوإِلَيْهِ مَنْ وَرَائنَا قَالَ آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ الْإِيمَانِ بِاللهِ ثُمَّ فَسَّرَهَا لَهُمْ فقال: شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدَ رَسُولُ اللهِ وَعَقَدَ وَاحِدةً وَإِقَامُ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ وَأَنْ تُؤَدُّوا خُمُسَ مَا غَنِمْتُمْ وَأَنْهَاكم عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُقَيَّرِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ عبدالقیس کا وفد رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آیا اور كہا: اے اللہ كے رسول ہم بنو ربیعہ سے تعلق ركھتے ہیں۔ ہمارے اور آپ كے درمیان كفارِ مضر ہیں ہم آپ كے پاس صرف حرمت والے مہینوں میں آسكتے ہیں۔ ہمیں كسی ایسے كام كا حكم دیجئے جس پر ہم عمل كر سكیں اور جوہمارے پیچھے ہیں انہیں اس كی دعوت دیں آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میں تمہیں چار باتوں كا حكم دیتا ہوں اورچار باتوں سے منع كرتا ہوں۔ اللہ پر ایمان، پھر ان كے لئے وضاحت كی كہ اس بات كی گواہی دینا كہ اللہ كے علاوہ كوئی معبودِ برحق نہیں، اور میں محمد ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌اللہ کا رسول ہوں، آپ نے ان کے لیے اس کی تفسیر بیان کی۔ نماز قائم كرنا، زكوٰۃ ادا كرنا، اور تمہیں جوغنیمت حاصل ہواس كا پانچواں حصہ دینا اور میں تمہیں کدوکے برتن ،شراب والے برتن(جوسبزی مائل ہوتاہے)،تارکول ملے ہوئے برتن اور لکڑی کے برتن سے منع کرتا ہوں۔ ( )
Takhreej
الصحيحة رقم (3957) صحيح البخاري،كِتَاب مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ،بَاب قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى: مُنِيبِينَ إِلَيْهِ... رقم (492) .
919
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
) عن أبي شُرَيْح الْخُزَاعِيّ قال: خَرَج عَلَيْنَا رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَال: أَبْشِرُوا أَبْشِرُوا أَلَيْس تَشْهَدُون أَن لَا إِلَه إِلَا الله وأَنِّي رَسُول الله ؟ قَالُوا: نعم، قال: فَإِن هذا الْقُرْآنُ سَبَبٌ طَرَفُه بَيْد الله وطَرَفُه بِأَيْدِيكُم، فَتَمَسَّكُوا بِه، فَإِنَّكُم لَن تَضِلُّوا ولَن تَهْلِكُوا بَعْدَه أَبَدًا.
ابوشریح خزاعی سے مروی ہے كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ہمارے پاس آئے اور فرمایا: خوش ہوجاؤ، خوش ہوجاؤ، كیا تم گواہی نہیں دیتے كہ اللہ كے علاوہ كوئی معبود ِ برحق نہیں اور میں (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ كا رسول ہوں؟ انہوں نے كہا: ہاں، آپ نے فرمایا: یقینا یہ قرآن ایك ذریعہ (رسی،سیڑھی )ہے جس كا ایك سرا اللہ كے ہاتھ میں اور دوسرا سرا تمہارے ہاتھ میں ہے۔ اسے مضبوطی سے پكڑ لوكیونكہ اس كے بعد تم كبھی بھی گمراہ اور ہلاك نہیں ہوگے
Takhreej
الصحيحة رقم (713) مصنف ابن أبي شيبة ( 12 / 165 )
920
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَمَعِي نَفَرٌ مِنْ قَوْمِي فَقَالَ أَبْشِرُوا وَبَشِّرُوا مَنْ وَرَاءَكُمْ إِنَّهُ مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ صَادِقًا دَخَلَ الْجَنَّةَ فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نُبَشِّرُ النَّاسَ فَاسْتَقْبَلَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَرَجَعَ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ رَسُولَ اللهِ مَن رَدَّكُم؟ قَالُوا: عُمرُ قَال: لِمَ رَدَدْتَهُم يَا عُمرُ! فقال عمر: إِذَنْ يَتَّكِلَ النَّاسُ قَالَ فَسَكَتَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم .
ابوبكر بن ابوموسیٰ اپنے والد سے بیان كرتے ہیں وہ کہتے ہیں كہ میں نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آیا، میرے ساتھ میری قوم كے لوگ بھی تھے۔ آپ نے فرمایا: خوش ہوجاؤ، اور پیچھے رہنے والوں كوبھی جا كر خوش خبری دے دو، کہ جس شخص نے سچے دل سے گواہی دی كہ اللہ كے علاوہ كوئی سچا معبود نہیں، وہ جنت میں داخل ہوگا۔ ہم نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس سے نكلے تولوگوں كوخوشخبری دینا شروع كردی۔ عمر بن خطاب‌رضی اللہ عنہ ہمیں ملے توہمیں رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس لے آئے( رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تمہیں كون لے آیا ہے؟ وہ كہنے لگے: عمر‌رضی اللہ عنہ ،آپ نے فرمایا: اے عمر ! تم انہیں واپس كیوں لائے؟) عمر‌رضی اللہ عنہ نے كہا: تب تولوگ بھروسہ كر كے بیٹھ جائیں گے، تو رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌خاموش ہوگئے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (712) مسند أحمد رقم (18772) .
921
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: أَبْغَضُ النَّاسِ إِلَى اللهِ ثَلَاثَةٌ: مُلْحِدٌ فِي الْحَرَمِ وَمُبْتَغٍ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ وَمُطَّلِبُ دَمِ امْرِء بِغَيْرِ حَقٍّ لِيُهَرِيقَ دَمَهُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ كوتین بندے سب سے زیادہ نا پسند ہیں، حرم میں الحادكرنے والا، اسلام میں جاہلیت كا طریقہ تلاش كرنے والا، اورنا حق كسی آدمی كے خون کامتلاشی تاكہ اس كا خون بہائے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (712) صحيح البخاري كِتَاب الدِّيَاتِ بَاب مَنْ طَلَبَ دَمَ امْرِء بِغَيْرِ حَقٍّ رقم (6374) .
922
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ قُتَيْلَةَ بِنْتِ صَيْفِيٍّ الْجُهَنِيَّةِ قَالَتْ: أَتَى حَبْرٌ مِنْ الْأَحْبَارِ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ! نِعْمَ الْقَوْمُ أَنْتُمْ لَوْلَا أَنَّكُمْ تُشْرِكُونَ قَالَ سُبْحَانَ اللهِ وَمَا ذَاكَ قَالَ تَقُولُونَ إِذَا حَلَفْتُمْ وَالْكَعْبَةِ قَالَتْ فَأَمْهَلَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌شَيْئا ثُمَّ قَالَ إِنَّهُ قَدْ قَالَ فَمَنْ حَلَفَ فَلْيَحْلِفْ بِرَبِّ الْكَعْبَةِ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ! نِعْمَ الْقَوْمُ أَنْتُمْ لَوْلَا أَنَّكُمْ تَجْعَلُونَ لِلهِ نِدًّا قَالَ سُبْحَانَ اللهِ وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ تَقُولُونَ مَا شَاءَ اللهُ وَشِئتَ قَالَت: فَأَمْهَلَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌شَيْئا ثُمَّ قَالَ إِنَّهُ قَدْ قَالَ فَمَنْ قَالَ مَا شَاءَ اللهُ فَلْيَقُلْ مَعَهَا: ثُمَّ شِئْتَ.
) قتیلہ بنت صیفی جہنیہ سے مروی ہے كہ ایك یہودی عالم رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آیا، اور كہنے لگا: اے محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ اچھے لوگ ہیں اگر آپ شرك نہ كریں۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: سبحان اللہ یہ كس طرح ہے؟ اس نے كہا: جب آپ قسم كھاتے ہیں توكہتے ہیں، كعبہ كی قسم ۔ قتیلہ نے كہا: رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌تھوڑی دیر خاموش رہے پھر فرمایا: جوشخص قسم كھانا چاہے تووہ كہے رب كعبہ كی قسم۔اس نے كہا: اے محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ اچھے لوگ ہیں اگر آپ اللہ كے ساتھ كسی اور كوشریك نہ بنائیں۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: سبحان اللہ یہ كس طرح ہے؟ اس نے كہا: آپ كہتے ہیں جواللہ چاہے اور جوتم چاہو۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كچھ دیر خاموش رہے پھر فرمایا: جس نے كہہ دیا سوكہہ دیا۔ جوشخص یہ كہے: جواللہ چاہے تواس كے ساتھ كہے پھر جوآپ چاہیں۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1166) مسند أحمد رقم (25845) .
923
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: اجْتَنِبُوا الْكَبَائرَ وَسَدِّدُوا وَأَبْشِرُوا
) جابر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: كبیرہ گناہوں سے بچو،قریب کرو اور خوش خبریاں دو۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (885) مسند أحمد رقم (14702) .
924
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَآءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ فَرَاجَعَهُ فِي بَعْضِ الكْلَاَمِ، فَقَالَ: مَا شَاءَ اللهُ وَشِئتَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَجَعَلْتَنِي مَع اللهَ عَدْلًا؟ -وفي لفظ: ندا- لا بَلْ مَا شَاءَ اللهُ وَحْدَهُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سےمروی ہےكہ ایك آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم كےپاس آیا اورآپ كے ساتھ گفتگوكرنے لگا پھر كہا: جواللہ چاہے اورجوآپ چاہیں۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: كیا تم نے مجھے اللہ كے برابر كر دیا ہے ؟ اس طرح نہیں بلكہ كہو صرف اللہ چاہے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (139) مسند أحمد رقم (1742) .
925
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قال رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَحْصُوا لِي كُلُّ مَن تَلَفَّظَ بِالْإِسْلَامَ قَالَ: قُلْنَا يَا رَسُولَ اللهِ! أَتَخَافُ عَلَيْنَا وَنَحْنُ مَا بَيْنَ السِّتِّ مِائةٍ إِلَى السَّبْعِ مِائةٍ؟ فَقَالَ رسول الله: إِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ لَعَلَّكُمْ أَنْ تُبْتَلَوْا قَالَ فَابْتُلِيَنَا حَتَّى جَعَلَ الرَّجُلُ مِنَّا ما يُصَلِّي إِلَّا سِرًّا.
حذیفہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ہر وہ شخص جس نے اسلام كا اظہار زبان سے كیا ہے ان كا شمار كرو، ہم نے كہا: اے اللہ كے رسول! كیا آپ ہمارے بارے میں ڈرتے ہیں، ہم چھ سوسے سات سوكے درمیان ہیں؟ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تم نہیں جانتے شاید تمہیں آزمایا جائے گا، حذیفہ‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ ہم آزمائش میں مبتلا ہوئے حتی كہ ہم نے چھپ كر نماز پڑھنا شروع كر دی۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (246) صحيح مسلم كِتَاب الْإِيمَانِ بَاب الِاسْتِسْرَارِ بِالْإِيمَانِ لِلْخَائفِ رقم (213) .
926
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عن ابن عمر مرفوعا: احلفوا بِالله وبَرُّوا واصْدُقُوا، فَإِن الله يَكْرَه أَن يَحْلِف إِلَا بِه.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ اللہ كی قسم كھاؤ، اسے پورا كرو،نیكی كرواور سچ بولوكیونكہ اللہ تعالیٰ اس بات كوناپسندكرتا ہے كہ اس كے علاوہ كسی اور كی قسم كھائی جائے
Takhreej
الصحيحة رقم (420) مسند أحمد رقم (19718) .
927
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: سُئلَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَيُّ الْأَدْيَانِ أَحَبُّ إِلَى اللهِ؟ قَالَ: الْحَنِيفِيَّةُ السَّمْحَةُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سوال كیا گیا كہ اللہ كے نزدیك سب سے پیارا دین كونسا ہے؟ آپ نے فرمایا: آسان اور یکسو
Takhreej
الصحيحة رقم (421) صحيح مسلم كِتَاب الْأَشْرِبَةِ بَاب بَيَانِ أَنَّ كُلَّ مُسْكِرٍ ... رقم (3731) .
928
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عن أبي هُرَيْرَة مرفوعا: أَخَّر الْكَلَام في الْقَدَر لِشَرَارِ أَمَتِي في آخَر الزَّمَان. ( )
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سےمرفوعا مروی ہےكہ تقدیركےبارےمیں گفتگوكومؤخركردیاگیاآخری زمانے میں میری امت کے بدترین لوگوں كی وجہ سے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3959) صحيح البخاري كِتَاب الْإِيمَانِ بَاب حُسْنُ إِسْلَامِ الْمَرْءِ رقم (40) .
929
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عن سَلِيم بن عَامِر قال: سَمِعَت أبا بكر رضی اللہ عنہ يَقول: قال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : اخْرُج فَنَاد في النَّاس: من شَهِد أَن لَا إِلَه إِلَا الله وَجَبَتْ لَه الْجَنَّة. قال: فَخَرَجَت فَلَقِيَنِي عمر بن الْخِطَاب فَقَال: مَالَك أبا بكر فَقُلْتُ: قال لِي رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : أَخْرُجْ فَنَاد في النَّاس: من شَهِد أَن لَا إِلَه إِلَا الله وَجَبَتْ لَه الْجَنَّة. قال عمر: ارْجِع إلى رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَإِنِّي أَخَافُ أَن يَتَّكِلُوا عَلَيْهَا، فَرَجَعْتُ إلى رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَال: ما رَدَّك؟ فَأَخْبَرْتُه بِقَول عُمر، فَقَال: صَدَقَ.
سلمك بن عامر سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ میں نے ابوبكر‌رضی اللہ عنہ سے سنا وہ كہہ رہے تھے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: باہرنكلواور لوگوں میں اعلان كرو، جس شخص نے لاالہ الا اللہ كی گواہی دی، اس كے لئے جنت واجب ہوگئی۔ میں باہر نكلا توعمر بن خطاب‌رضی اللہ عنہ مجھ سے ملے، كہنے لگے: ابوبكر تمہیں كیا ہوا؟ میں نے كہا: مجھے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے حكم دیا ہے كہ باہر نكلواور لوگوں میں اعلان كرو کہ جس شخص نے لاا لٰہ الا اللہ كی گواہی دی اس كے لئے جنت واجب ہوگئی۔ عمر‌رضی اللہ عنہ نے كہا: رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس واپس جاؤ، مجھے ڈر ہے كہ لوگ اسی پر بھروسہ كر لیں گے؟ میں رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس واپس آیا توآپ نے پوچھا: تم كیوں واپس آگئے؟ میں نے آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كوعمر‌رضی اللہ عنہ كی بات بتائی توآپ نے فرمایا: عمر نے سچ كہا۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1221) الحلية الأولياء لأبي نعيم ( 8 / 374) .
930
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَلْهُجَيْمٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِلَامَ تَدْعُوقَالَ أَدْعُو إِلَى اللهِ وَحْدَهُ الَّذِي إِنْ مَسَّكَ ضُرٌّ فَدَعَوْتَهُ كَشَفَ عَنْكَ وَالَّذِي إِنْ ضَلَلْتَ بِأَرْضٍ قَفْرٍ دَعَوْتَهُ رَدَّ عَلَيْكَ وَالَّذِي إِنْ أَصَابَتْكَ سَنَةٌ فَدَعَوْتَهُ أَنْبَتَ عَلَيْكَ.
ابوتمیمہ ہجیمی سے مروی ہے وہ ہجیم کے ایك شخص سے بیان كرتے ہیں اس نے كہا كہ:اے اللہ كے رسول آپ کس کی طرف بلاتے ہیں؟آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:ایک اللہ کی طرف، اللہ وہ ذات ہے كہ اگر تمہیں كوئی تكلیف پہنچے اور تم اسے پكاروتووہ تكلیف دور كر دے گا، اور اگر تم كسی جنگل میں راستہ بھٹك جاؤ اور اسے پكاروتووہ تمہیں راستہ بتادے گا۔ اللہ وہ ذات ہے اگر تم قحط میں مبتلا ہوجاؤ اور اسے پكاروتووہ تمہیں خوشحالی عطا كر دے گا۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (247) سنن الترمذي كِتَاب الْإِيمَانِ وَشَرَائعِهِ باب حُسْنُ إِسْلَامِ الْمَرْءِ رقم (4912) .
931
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ (أبي موسى الأشعري) قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَمُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ: ادْعُوَا النَّاسَ وَبَشِّرَا وَلَا تُنَفِّرَا وَيَسِّرَا وَلَا تُعَسِّرَا فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! أَفْتِنَا فِي شَرَابَيْنِ كُنَّا نَصْنَعُهُمَا بِالْيَمَنِ، الْبِتْعُ وَهُو مِنَ الْعَسَلِ يُنْبَذُ حَتَّى يَشْتَدَّ وَالْمِزْرُ وَهُو مِنْ الذُّرَةِ يُنْبَذُ حَتَّى يَشْتَدَّ قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَدْ أُعْطِيَ جَوَامِعَ الْكَلِمِ بِخَوَاتِمِهِ فَقَالَ: أَنْهَى عَنْ كُلِّ مُسْكِرٍ أَسْكَرَ عَنْ الصَّلَاةِ. وَفِي رِوَايَةِ لْمُسْلِمِ (6/99): (وَعَلِّمَا) بَدَلَ: (وَلاَ تُعَسِّراَ).
ابوبردہ اپنے والد(ابوموسیٰ اشعری‌رضی اللہ عنہ ) سے بیان كرتے ہیں كہ انہوں(ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ) نے کہا مجھے اور معاذ‌رضی اللہ عنہ كورسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے یمن كی طرف بھیجا اور فرمایا: لوگوں كودعوت دو، خوشخبری دو، متنفر نہ كرو، آسانی كرو، تنگی نہ كرو۔ میں نے كہا: اے اللہ كے رسول! ہمیں ان دومشروبات كے بارے میں بتایئے جوہم یمن میں بناتے تھے۔ تبع:یہ شہد سے بنائی ہوئی نبیذ ہے جوتیز ہوتی ہے۔ اور مزر: یہ مكئی سے بنائی ہوئی نبیذ ہوتی ہے یہ بھی تیز ہوتی ہے؟ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كوجامع كلمات دیئے گئے تھے، آپ نے فرمایا: میں ہر اس نشہ آور چیز سے منع كرتا ہوں جونماز سے غافل كر دے۔ مسلم كی روایت میں تنگی نہ كروكی جگہ انہیں تعلیم دوکے الفاظ ہیں ۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (421) صحيح مسلم كِتَاب الْأَشْرِبَةِ بَاب بَيَانِ أَنَّ كُلَّ مُسْكِرٍ ... رقم (3731)
932
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَة، عَنْ مُحَمَّد رَسُوْلِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا أَحْسَنَ أَحَدُكُمْ إِسْلَامَهُ فَكُلُّ حَسَنَةٍ يَعْمَلُهَا تُكْتَبُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائةِ ضِعْفٍ وَكُلُّ سَيِّئةٍ يَعْمَلُهَا تُكْتَبُ لَهُ بِمِثْلِهَا حَتَّى يَلْقَى اللهَ عَزَّ وَجَلَّ.
) ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب تم میں سے كسی شخص كا اسلام اچھا ہوجائے توہر نیكی جووہ كرتا ہے دس گنا سے سات سوگناتك لكھی جاتی ہے۔ اور ہر برائی جووہ كرتا ہے، ایك برائی لكھی جاتی ہے، حتی كہ وہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات كرلے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (3959) صحيح البخاري كِتَاب الْإِيمَانِ بَاب حُسْنُ إِسْلَامِ الْمَرْءِ رقم (40) .
933
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عن أبي عِزَة الْهُذَلِيّ قال: قال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِذا أَرَاد الله قَبْضَ عَبْدٍ بِأَرْضٍ جَعَل لَه فِيهَا حَاجَة. ( )
ابوعزہ ہذلی سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ كسی بندے كی روح كسی علاقے میں قبض كرنا چاہے تواس علاقے میں اس كے لئے كوئی ضرورت پیدا كردیتا ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1221) الحلية الأولياء لأبي نعيم ( 8 / 374) .
934
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
) عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا أَسْلَمَ الْعَبْدُ فَحَسُنَ إِسْلَامُهُ كَتَبَ اللهُ لَهُ كُلَّ حَسَنَةٍ كَانَ أَزْلَفَهَا وَمُحِيَتْ عَنْهُ كُلُّ سَيِّئةٍ كَانَ أَزْلَفَهَا ثُمَّ كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ الْقِصَاصُ الْحَسَنَةُ بِعَشْرَةِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائةِ ضِعْفٍ وَالسَّيِّئةُ بِمِثْلِهَا إِلَّا أَنْ يَتَجَاوَزَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهَا.
ابوسعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب بندہ مسلمان ہوتا ہے اور اس كا اسلام اچھا ہوجاتا ہے تواللہ تعالیٰ اس كے لئےسابقہ تمام نیکیاں لکھ دیتا ہے اور گناہ مٹا دیتا ہے ۔ پھر اس كے بعد بدلہ ہوتا ہے، ایك نیكی دس گنا سے لے كر سات سوگنا تك، اور برائی ایك ہی لكھی جائے گی، اور اللہ عزوجل اگر چاہے تواسے بھی معاف كردے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (247) سنن الترمذي كِتَاب الْإِيمَانِ وَشَرَائعِهِ باب حُسْنُ إِسْلَامِ الْمَرْءِ رقم (4912) .
935
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا تَكَلَّمَ اللهُ بِالْوَحْيِ سَمِعَ أَهْلُ السَّمَاءِ لِلسَّمَاءِ صَلْصَلَةً كَجَرِّ السِّلْسِلَةِ عَلَى الصَّفَا فَيُصْعَقُونَ فَلَا يَزَالُونَ كَذَلِكَ حَتَّى يَأْتِيَهُمْ جِبْرِيلُ حَتَّى إِذَا جَاءَ جِبْرِيلُ فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ قَالَ فَيَقُولُونَ يَا جِبْرِيلُ مَاذَا قَالَ رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ الْحَقَّ فَيَقُولُونَ الْحَقَّ الْحَقَّ.
عبداللہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ وحی كا كلام كرتا ہے توآسمان والے سنتے ہیں، آسمان میں زنجیروں كی آوازاس طرح ہوتی ہے جس طرح صفا پر زنجیریں كھینچی جائیں۔ آسمان والوں پر غشی طاری ہوجاتی ہے۔ وہ اسی حالت میں ہوتے ہیں جب تک جبرئیل علیہ السلام كے پاس نہ آجائیں، جب جبریل علیہ السلام ان كے پاس آتے ہیں توان كی گھبراہٹ ختم ہوجاتی ہے۔ آسمان والے كہتے ہیں اے جبریل تمہارے رب نے كیا كہا؟ جبریل علیہ السلام كہتے ہیں: حق بات كہی تووہ بھی كہتے ہیں حق بات كہی۔ حق بات كہی۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1293) سنن أبي داؤد كِتَاب السُّنَّةِ بَاب فِي الْقُرْآنِ رقم (4113) .
936
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا حَلَفَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَقُلْ مَا شَاءَ اللهُ وَشِئتَ وَلَكِنْ لِيَقُلْ مَا شَاءَ اللهُ ثُمَّ شِئتَ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے كوئی شخص قسم كھائے تووہ اس طرح نہ كہے، جواللہ چاہے اور آپ چاہیں، لیكن اس طرح كہے: جواللہ چاہے ۔ پھر آپ چاہیں ۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1293) سنن أبي داؤد كِتَاب السُّنَّةِ بَاب فِي الْقُرْآنِ رقم (4113) .
937
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَة رضی اللہ عنہ قال: قَالَ رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا زَنَى الْعَبْدُ خَرَجَ مِنْه الْإِيمَان، وكان كَالظُّلَّة، فَإِذَا انْقَلَعَ مِنْهَا رَجَعَ إِلَيْه الْإِيْمَان
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب بندہ زنا كرتا ہے توایمان اس سے نكل جاتاہےاورایك چھتری(سائے) كی طرح اس كے سر پر كھڑا ہوجاتا ہے۔ جب زنا سے رک/ ہٹ جاتا ہے توایمان اس كی طرف لوٹ آتا ہے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1093) سنن ابن ماجه بَاب النَّهْيِ أَنْ يُقَالَ مَا شَاءَ اللهُ وَشِئتَ كِتَاب الْكَفَّارَاتِ رقم (2108) .
938
Sahih