عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ : اللہ تعالیٰ نے یحییٰ علیہ السلام كو اس كی ماں كے پیٹ میں مومن بنایا اور فرعون كو اس كی ماں كےپیٹ میں كافر بنایا۔( )
عبداللہ سے مروی ہے كہتے ہیں كہ میں نے اپنے والد بریدہ سے سنا كہہ رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ باتیں ایسی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ كے علاوہ كوئی نہیں جانتا ۔اللہ تعالیٰ كو قیامت كا علم ہے، اور وہ بارش برساتا ہے، ماں كے رحم میں موجود بچے كو جانتا ہے، اور كوئی شخص نہیں جانتا كہ كل كیا كمائے گا، اور كوئی شخص نہیں جانتا كہ كس زمین میں مرے گا، یقینا اللہ تعالیٰ علم ركھنے والا خبر ركھنے والا ہے۔
ابو ذر رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ ایك رات میں باہر نكلا كیا دیكھتا ہوں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اكیلے چلے جا رہے ہیں، ان كے ساتھ كوئی بھی نہیں ۔ میں سمجھا شاید انہیں اچھا نہ لگتا ہو كہ كوئی ان كے ساتھ چلے، میں چاند كے سائے میں چلنے لگا۔ آپ نے میری طرف دیكھا تو پوچھا: كون ہو؟ میں نے كہا: اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان كرے ،میں ابو ذر ہوں۔ فرمایا اے ابو ذرآجاؤ میں كچھ دیر آپ كے ساتھ چلا تو آپ نے كہا: زیادہ جمع كرنے والے قیامت كے دن سب سے كم مال والے ہوں گے سوائے اس كے جسے اللہ تعالیٰ مال عطا كرے، تو وہ اسے اپنے دائیں بائیں آگے پیچھے خرچ كرے اور اس كے ساتھ بھلائی كا كام كرے۔ پھر میں كچھ دیر آپ كے ساتھ چلتا رہاآپ نے مجھے ایک نرم زمین پربٹھایا اس کے اردگرد پتھر پڑے ہوئے تھےتو آپ نے مجھ سے كہا یہاں بیٹھ جاؤ۔ جب تك میں واپس نہ آ جاؤں ، آپ حرہ (نامی وادی)میں چلتے ہوئے آنكھوں سے اوجھل ہو گئے۔ آپ كافی دیر بعد آئے، پھر میں نے انہیں كہتے ہوئے سنا: اگرچہ وہ چوری كرے یا زنا كرے۔ جب وہ آئے تو مجھ سے صبر نہ ہو سكا میں نے كہا: اے اللہ كے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان كرے، حرہ كی طرف كس سے بات كی جا رہی تھی؟ میں نے كسی شخص كو جواب دیتے ہوئے نہیں سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جبریل تھے جو حرہ كی جانب مجھ سے ملے اور كہنے لگے اپنی امت كو خوشخبری دے دیجئے كہ جو شخص اس حال میں مرا كہ اس نے اللہ تعالیٰ كے ساتھ شرك نہ كیا ہو وہ جنت میں داخل ہو گا۔ میں نے كہا: اے جبریل اگرچہ اس نے چوری كی ہو اور زنا كیا ہو؟ جبریل نے كہا: ہاں۔ میں نے كہا : اگر چہ اس نے چوری كی ہو اور زنا كیا ہو؟ جبریل نے كہا: ہاں۔ اگرچہ اس نے شراب بھی كیوں نہ پی ہو۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (826) صحيح البخاري كِتَاب الرِّقَاقِ بَاب الْمُكْثِرُونَ هُمْ الْمُقِلُّونَ رقم (5962)
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے رمضان كے روزے ركھے ،نماز ادا كی اور بیت اللہ كا حج ادا كیا، مجھے معلوم نہیں آپ نے زكاۃ كا ذكر كیا یا نہیں تو اللہ تعالیٰ پر لازم ہے كہ اسے بخش دے۔ اللہ كے راستے میں ہجرت كی یا اپنی اسی زمین میں بیٹھا رہا جس میں پیدا ہوا۔ معاذ نے كہا: كیا میں لوگوں كو خبر نہ دوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں كو ان كے حال پر چھوڑ دو وہ عمل كرتے رہیں كیوں كہ جنت میں سو درجے ہیں ہر دو درجوں كے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین وآسمان كے درمیان ہے، اور فردوس جنت كا وسطی اور بلند ترین حصہ ہے ۔ اس كے اوپر رحمن كا عرش ہے ، اسی سے جنت کی نہریں جاری ہیں۔ جب تم اللہ سے سوال كرو تو فردوس كا سوال كرو۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1913) سنن الترمذي كِتَاب صِفَةِ الْجَنَّةِ بَاب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ دَرَجَاتِ الْجَنَّةِ رقم (2453)
انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ ایك آدمی نے كہا: اے اللہ كے رسول ہم ایك گھر میں تھے جس میں ہماری تعداد بھی زیادہ تھی اور ہمارا مال(مویشی) بھی زیادہ تھا۔ پھر ہم ایك دوسرے گھر میں گئے جس میں ہماری تعداد بھی كم ہوگئی اور ہمارا مال بھی كم ہوگیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے قابل مذمت حالت میں چھوڑ دو۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (790) سنن أبي داؤد كِتَاب الطِّبِّ بَاب فِي الطِّيَرَةِ رقم (3423)
عن أبي عُبَيدة بن الجَرَّاحَ رضی اللہ عنہ عن النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رأيتُ ربِّي في أَحْسَنِ صُورةٍ، فَقَالَ: فِيمَ يَخْتَصِمُ الملأُ الأعَلى؟ فقُلتُ: لَا أَدْرِي، فَوَضَعَ يَدَه بَيْنَ كَتِفيَّ، حتَّى وَجَدتُ بَرْدَ أَنَامِلِه، ثُمَّ قَالَ: فِيْمَ يَخْتَصِمُ المَلَأُ الأعَلى؟ قُلْتُ: في الكَفَّارَاتِ والدَّرَجَاتِ، قَالَ: ومَا الكَفَّارَاتُ؟ قُلْتُ: إِسْبَاغُ الوُضُوءِ في السَّبَراتِ، ونَقْلُ الأَقْدَامِ إلى الجَمَاعَاتِ، وانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، قَالَ: فَمَا الدَّرَجَاتُ؟ قُلْتُ: إِطْعَامُ الطَّعَامِ، وإِفْشَاءُ السَّلَامِ، وَصَلَاةٌ بِاللَّيْلِ والنَّاسُ نِيَامٌ، قَالَ:قُلْ، قَالَ: قُلْتُ: مَا أَقُولُ؟ قَالَ: قُلِ: اللهمّ! إنِّي أَسْأَلُكَ عَمَلاً بِالحَسَنَاتِ، وتَرْكاً لِلْمُنْكَرَاتِ، وإذا أَرَدْتَ في قَومٍ فِتْنَةً وَأَنَا فِيهِم؛ فَاقْبِضْنِي إِلِيكَ غَيْرَ مَفْتُونٍ.
ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اللہ عزوجل كو احسن ترین صورت میں دیكھا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ فرشتے كس بات پر جھگڑ رہے ہیں؟ میں نے كہا : مجھےمعلوم نہیں۔اللہ نے اپنا ہاتھ میرے كاندھوں كے درمیان ركھا حتی كہ میں نے انگلیوں كی ٹھنڈك محسوس كی ، پھر فرمایا: یہ فرشتے كس بات پر جھگڑ رہے ہیں؟ میں نے كہا: كفارات اور درجات میں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: كفارات كیا ہیں؟ میں نے كہا: ٹھنڈی صبح كے وقت اچھی طرح وضو كرنا، جماعت كی طرف قدم اٹھانا، نماز كے بعد نماز كا انتظار كرنا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: درجات كیا ہیں؟ میں نے كہا: كھانا كھلانا، سلام كو عام كرنا، جب لوگ سوئے ہوئے ہوں اس وقت نماز پڑھنا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: كہو میں نے كہا: میں كیا كہوں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: كہو: اللهمّ! إنِّي أَسْأَلُكَ عَمَلاً بِالحَسَنَاتِ، وتَرْكاً لِلْمُنْكَرَاتِ، وإذا أَرَدْتَ في قَومٍ فِتْنَةً وَأَنَا فِيهِم؛ فَاقْبِضْنِي إِلِيكَ غَيْرَ مَفْتُونٍ. اے اللہ میں تجھ سے نیك عمل كرنے اور برائیوں كو چھوڑنے كا سوال كرتا ہوں، اور جب تو كسی قوم كو آزمانے كا ارادہ كرے اور میں اس میں ہوں تو مجھے بغیر آزمائے موت دے دے۔( )
انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: میں نے اپنے رب سے لاہین كا سوال كیا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے دے دیئے۔ میں نے پوچھا:لاہین كیا ہے؟ آپ نے فرمایا: لوگوں كے بچے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1881) المخلص ( 9 / 23 - 24 ) والضياء في المختارة ( 224 / 1)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ عَنْ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: شُعْبَتَانِ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ لَا يَتْرُكُهُمَا النَّاسُ أَبَدًا النِّيَاحَةُ وَالطَّعْنُ فِي النَّسَبِ.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو عادتیں ایسی ہیں جو جاہلیت سے ہیں لوگ انہیں كبھی نہیں چھوڑیں گے۔ نوحہ خوانی اور نسب میں طعن كرنا۔( )
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ ایك آدمی نے كہا: اے اللہ كے رسول كبائر كیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ كے ساتھ شرك كرنا اللہ كی رحمت سے نا امید ہونا، اور اللہ كی رحمت سے مایوس ہونا۔( )
عن أنس رضی اللہ عنہ قال لمَّا جاءَ نَعْيُ النَّجَاشِي قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم : صَلُّوا عليه. قالوا: يا رسول الله ! نُصَلِّي على عَبْدٍ حَبَشِيٍّ (لَيْسَ بِمُسْلِمٍ) ؟ فأنزل الله عز وجل: وَ اِنَّ مِنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ لَمَنۡ یُّؤۡمِنُ بِاللّٰہِ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکُمۡ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡہِمۡ خٰشِعِیۡنَ لِلّٰہِ ۙ لَا یَشۡتَرُوۡنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ ثَمَنًا قَلِیۡلًا ال عمران 199. ( )
۱) انس رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ جب نجاشی كی موت كی خبر آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس كی نماز جنازہ پڑھو۔ صحابہ نے كہا: اے اللہ كے رسول كیا ہم ایك حبشی شخص كی نماز جنازہ پڑھیں(جو مسلمان بھی نہیں)؟ تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی:(آل عمران 199) ” اور اہل كتاب میں سے ایسے بھی لوگ ہیں جو اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور جو تمہاری طرف نازل كیا گیا ، اور جو ان كی طرف نازل كیا گیا اس پر ایمان لاتے ہیں، اللہ سے ڈرتے ہوئے اور اللہ كی آیات كے بدلے تھوڑی قیمت نہیں لیتے“۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3044) سنن الكبري للنسائي(6/319/11088)
٢) ابو رزین سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارا رب اپنے بندوں كی مایوسی پر ہنستا ہے ۔ ابو رزین نے كہا: كیا اللہ عزوجل بھی ہنستا ہے؟ آپ نے فرمایا:جی ہاں ، ابورزین نے كہا: جو رب ہنستا ہے ہم كبھی بھی اس كی خیر سے مایوس نہیں ہوں گے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2810) سنن ابن ماجةكِتَاب الْمُقَدِّمَةِ بَاب فِيمَا أَنْكَرَتْ الْجَهْمِيَّةُ رقم (177)
ابو عبدالرحمن جہنی سے مروی ہے انہوں نے كہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس تھے۔ دوسوار آئے جب آپ نے انہیں دیكھا توفرمایا: دونوں كندی ہیں۔ مذحجی ہیں۔ جب وہ آپ كے پاس آگئے تو وہ(مذحج)كے آدمی تھے۔ ان میں سے ایك آپ كی بیعت كرنے كے لئے آگے بڑھا جب اس نے آپ كا ہاتھ پكڑا تو كا : اے اللہ كے رسول آپ كا اس شخص كے بارے میں كیا خیال ہے جس نے آپ كو دیكھا تو آپ پر ایمان لایا، آپ كی تصدیق كی اور آپ كی پیروی كی، اس كے لئے كیا اجر ہے؟ آپ نے فرمایا : اس كے لئے طوبی(جنت کی خوش خبری )ہے۔ اس نے آپ كا ہاتھ چھوا پھر واپس ہو گیا، پھر دوسرا شخص آگے آیا اور بیعت كرنے كےلئے آپ كا ہاتھ پكڑا اور كہا : اے اللہ كے رسول آپ كا اس شخص كے بارے میں كیا خیال ہے جو آپ پر ایمان لایا، آپ كی تصدیق كی، اور آپ كی پیروی كی اور آپ كو نہیں دیكھا؟ آپ نے فرمایا: اس كے لئے خوشخبری ہے ، اور پھر اس كے لئے خوشخبری ہے۔ پھر اس كے لئے خوشخبری ہے۔ اس شخص نے آپ كا ہاتھ چھوا اور واپس پلٹ گیا۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (3432) مسند أحمد رقم (16747) المعجم الكبير للطبراني رقم (18193)
ابو بردہ كہتے ہیں كہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا كے پاس آیا اور كہا: اے امی جان مجھے كوئی ایسی حدیث بیان كیجئے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو۔ انہوں نے كہا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پرندے تقدیر پریقین رکھتے ہوئےاڑتے ہیں اور آپ كو اچھی فال پسند تھی۔( )
٥) عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ بدشگونی شرك ہے، اور ہم میں سے كوئی نہیں مگر۔۔۔(اس کے ذہن میں وسوسے آتے ہیں) لیكن اللہ تعالیٰ اسے توكل كے ذریعے ختم کردیتا ہے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (429) سنن أبي داؤد كِتَاب الطِّبِّ بَاب فِي الطِّيَرَةِ رقم (3411)
عن أَنس مرفوعا: الظُّلم ثَلَاثَةٌ ، فَظُلْمٌ لَا يَتْرُكْه اهلُ وظلمٌ يَغْفِر و ظلمٌ لَا يَغْفِر ، فَأَمَّا الظُّلمُ الَّذِي لَا يَغْفِرُ ، فَالشِّرْكُ لَا يَغْفِرَه الله ، و أَمَا الظُّلمُ الَّذِي يَغْفِرُ، فَظُلْمُ الْعَبْدِ فِيمَا بَيْنَه و بَيْنَ رَبِّه ، و أَمَا الظُّلمُ الَّذِي لَا يَتركُ ، فَظُلْمُ الْعِبَادِ ، فَيَقْتَصّ اللهُ بَعْضَهُم مِنْ بَعْضٍ.
٦) انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ ظلم تین قسم كے ہیں: ایك ظلم كو اللہ تعالیٰ نہیں چھوڑے گا، اور ایك ظلم كو بخش دے گا اور تیسرا ظلم بخشا نہیں جائے گا۔ وہ ظلم جو بخشا نہیں جائے گا وہ شرك ہے، جسے اللہ تعالیٰ معاف نہیں كرے گا ۔اور وہ ظلم جسے اللہ تعالیٰ بخش دے گا تو وہ یہ ظلم ہے جو بندے اور اس كے رب كے درمیان ہے، اور وہ ظلم جسے چھوڑا نہیں جائے گا وہ بندوں كے ظلم ہیں ، اللہ تعالیٰ ایك دوسرے كو بدلہ لے كر دے گا۔( )
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل فرماتا ہے: میں اپنے بندے كے گمان كے مطابق ہوتاہوں اور جب وہ مجھے پكارتا ہے میں اس كے ساتھ ہوتا ہوں
Takhreej
الصحيحة رقم (2942) صحيح مسلم كِتَاب الذِّكْرِ بَاب فَضْلِ الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّقَرُّبِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى رقم (4849)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: اللہ عزوجل فرماتا ہے : ابن آدم مجھے تكلیف دیتا ہے ،كہتا ہے ہائےزمانے كی خرابی اور ایك روایت میں ہے زمانے كو گالی دیتا ہے۔ اس لئے تم میں سے ہرگز كوئی نہ كہے: ہائے زمانے كی خرابی كیوں كہ میں زمانہ ہوں، میں اس كے رات دن پھیرتا ہوں، اور جب چاہوں گا انہیں قبض كر لوں گا۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (531) صحيح مسلم كِتَاب الْأَلْفَاظِ مِنْ الْأَدَبِ وَغَيْرِهَا بَاب النَّهْيِ عَنْ سَبِّ الدَّهْرِ رقم (4167)