TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 1506 - جنت اور جہنم کا بیان - جنت اور جہنم کا بیان - Silsila Sahih in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 78 of 98 in this chapter
جنت اور جہنم کا بیان
عَن أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا لَهُ مَنْزِلَانِ: مَنْزِلٌ فِي الْجَنَّةِ وَمَنْزِلٌ فِي النَّارِ فَإِذَا مَاتَ فَدَخَلَ النَّارَ، وَرِثَ أَهْلُ الْجَنَّةِ مَنْزِلَهُ فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡوٰرِثُوۡنَ (ۙ۱۰) المؤمنون.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر شخص كے دو ٹھكانے ہیں۔ ایك ٹھكانہ جنت میں اور ایك ٹھكانہ جہنم میں، جب وہ مرجاتا ہے اور آگ میں داخل ہوتا ہے تو اہل جنت اس كے علاقے كے وارث بن جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا یہی معنیٰ ہے: (المومنون:۱۰) یہی لوگ وارث ہیں۔
1506
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
الصحيحة رقم (2279) سنن ابن ماجه كِتَاب الزُّهْدِ بَاب صِفَةِ الْجَنَّةِ رقم (4332 )

Related Chapters

144
1
باب: اللہ تعالیٰ نے جنتیوں اور جہنمیوں کو اپنی کتاب میں لکھ رکھا ہے
Jam e Tirmazi
2
باب: جنتی ہمیشہ جنت میں رہیں گے اور جہنمی ہمیشہ جہنم میں رہیں گے
Jam e Tirmazi
3
باب: جنت ناپسندیدہ اور تکلیف دہ چیزوں سے اور جہنم شہوتوں سے گھری ہوئی ہے
Jam e Tirmazi
4
باب: جنت اور جہنم کے درمیان مناظرے کا بیان
Jam e Tirmazi
5
اس چیز کا بیان کہ جنت اور جہنم کو پیدا کیا گیا ہے اور وہ اب موجود ہیں
Musnad Ahmad
6
قیامت، جنت اور جہنم کے تذکرہ پر مشتمل ایک خطبہ
Musnad Ahmad
7
حلال وحرام کے بیان، اہل جنت واہلِ جہنم کی صفات، اور بخل وکذب کے بیان پر مشتمل ایک خطبہ
Musnad Ahmad
8
جنت اور جہنم کا تذکرہ جنت اور جہنم والوں کا بیان
Musnad Ahmad
9
جنت اور جہنم کا تکرار
Musnad Ahmad
10
اہل ِ جہنم کی بدبختی اور اہل جنت کی نعمتوں کا بیان
Musnad Ahmad
11
جہنم سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے اور اس سے جنت کا سوال کرنے کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ دونوں انسان کے تسمے سے زیادہ قریب ہیں
Musnad Ahmad
12
اہل ِ توحید میں سے جہنم سے سب سے آخر میں رہائی پانے والا اور سب سے آخر میں جنت میں جانے والے کا تذکرہ
Musnad Ahmad
13
موت کو ذبح کر دینے اور جہنمیوں کا ہمیشہ جہنم میں رہنے اور جنتیوں کا ہمیشہ جنت میں رہنے کا بیان
Musnad Ahmad
14
(50) CHAPTER. Seventy thousand (persons) will enter Paradise without accounts.
جنت و جہنم کا بیان
Sahih Bukhari
15
Chapter: Clarifying the emphatic prohibition against killing oneself; The one who kills himself with something will be punished with it in the fire; And that no one will enter Paradise but a muslim
خود کشی کی شدید حرمت، خود کشی کرنے والا جس چیز سے اپنے آپ کو قتل کرے گا جہنم میں اسی کے ذریعے سے اس کوعذاب دیا جائے گا اور جنت میں (عطا کیے گئے جسم سمیت) صرف مسلمان روح ہی داخل ہو گی
Sahih Muslim
16
Chapter: The Most Affluent Of People In This World Will Be Dipped In The Fire, And The Most Destitute Will Be Dipped In Paradise
دنیاوالوں میں سب سے زیادہ نعمتوں والے کو جہنم میں ایک ڈبکی لگانا اور ان میں سب سے زیادہ تکلیف اٹھانے والے کو جنت(کی نہروں) میں ایک غوطہ لگانا
Sahih Muslim
17
Chapter: Attributes By Which The People Of Paradise And The People Of The Fire May Be Recognized In This World
وہ صفات جن کے ذریعے سے دنیا میں اہل جنت اور اہل جہنم کی پہچان ہو سکتی ہے
Sahih Muslim
18
CHAPTER: The Pond.
باب: جنت اور جہنم کی تخلیق کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
19
Chapter: What Has Been Mentioned About 'The Gates Of Paradise Are Under The Shadows Of The Swords;
باب: جنت کے دروازے تلواروں کی چھاؤں میں ہیں
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About 'The World Is A Prison For The Believer And A Paradise For The Disbeliever
باب: دنیا مومن کے لیے قید خانہ (جیل) اور کافر کے لیے جنت (باغ و بہار) ہے
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About 'The Poor Among The Muhajirin Will Enter Paradise Before The Rich Among Them'
باب: مہاجر فقراء جنت میں مالدار مہاجر سے پہلے جائیں گے
Jam e Tirmazi
22
باب: ستر ہزار مسلمان بلا حساب کتاب اور مزید لوگ شفاعت سے داخل جنت ہوں گے
Jam e Tirmazi
23
باب: جنت کے درختوں کا بیان
Jam e Tirmazi
24
باب: جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا بیان
Jam e Tirmazi
25
باب: جنت کے کمروں کا بیان
Jam e Tirmazi
26
باب: جنت کے درجات و مراتب کا بیان
Jam e Tirmazi
27
باب: جنتیوں کی عورتوں کا بیان
Jam e Tirmazi
28
باب: جنتیوں کے جماع کا بیان
Jam e Tirmazi
29
باب: جنتیوں کے اوصاف کا بیان
Jam e Tirmazi
30
باب: جنتیوں کے لباس کا بیان
Jam e Tirmazi
31
باب: جنت کے پھلوں کا بیان
Jam e Tirmazi
32
باب: جنت کی چڑیوں کا بیان
Jam e Tirmazi
33
باب: جنت کے گھوڑوں کا بیان
Jam e Tirmazi
34
باب: جنتیوں کی عمر کا بیان
Jam e Tirmazi
35
باب: جنتیوں کی صف کا بیان
Jam e Tirmazi
36
باب: جنت کے دروازوں کا بیان
Jam e Tirmazi
37
باب: جنت کے بازار کا بیان
Jam e Tirmazi
38
باب: جنت میں رب تبارک و تعالیٰ کے دیدار کا بیان
Jam e Tirmazi
39
باب: کمروں اور محلات میں جنتیوں کا ایک دوسرے کو نظر آنے کا بیان
Jam e Tirmazi
40
باب: ادنیٰ درجہ کے جنتی کے اعزاز و اکرام کا بیان
Jam e Tirmazi
41
باب: جنت کی نہروں کا بیان
Jam e Tirmazi
42
باب: جہنم کا بیان
Jam e Tirmazi
43
باب: جہنم کی گہرائی کا بیان
Jam e Tirmazi
44
باب: جہنمیوں کے موٹاپے کا بیان
Jam e Tirmazi
45
باب: جہنمیوں کے مشروب کا بیان
Jam e Tirmazi
46
باب: جہنمیوں کی غذا کا بیان
Jam e Tirmazi
47
باب: دنیا کی آگ جہنم کی آگ کے ستر حصوں میں سے ایک حصہ ہے
Jam e Tirmazi
48
باب: جہنم کے لیے دو سانس ہیں اور جہنم سے موحدین باہر نکالے جائیں گے
Jam e Tirmazi
49
باب: جہنم میں اکثریت عورتوں کی ہو گی
Jam e Tirmazi
50
بَاب صفةالجنة وَأَهْلهَا
جنت اور اہل جنت کے حال کا بیان
Mishkat
No related chapter matched that.

Related Hadith

10
Sunnan Ibn e Maja
4341
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،‏‏‏‏ وَأَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ،‏‏‏‏ عَنْ الْأَعْمَشِ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي صَالِحٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا لَهُ مَنْزِلَانِ،‏‏‏‏ مَنْزِلٌ فِي الْجَنَّةِ،‏‏‏‏ وَمَنْزِلٌ فِي النَّارِ،‏‏‏‏ فَإِذَا مَاتَ فَدَخَلَ النَّارَ،‏‏‏‏ وَرِثَ أَهْلُ الْجَنَّةِ مَنْزِلَهُ،‏‏‏‏ فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى أُولَئِكَ هُمُ الْوَارِثُونَ سورة المؤمنون آية 10 .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “There is no one among you who does not have two abodes: An abode in Paradise and an abode in Hell. If he dies and enters Hell, the people of Paradise inherit his abode. This is what Allah says: ‘These are indeed the inheritors.’” [23:10]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک کے دو ٹھکانے ہیں: ایک ٹھکانا جنت میں اور ایک ٹھکانا جہنم میں، جب وہ مرتا ہے اور جہنم میں چلا جاتا ہے تو جنت والے اس کے حصے کو لاوارث سمجھ کر لے لیتے ہیں، اللہ تعالیٰ کے قول: «أولئك هم الوارثون» یہی لوگ وارث ہوں گے ( سورة المومنون: 1 ) کا یہی مطلب ہے۔
Jam e Tirmazi
2989
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يَأَيُّهَا النَّاسُ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ اللَّهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ اللَّهَ أَمَرَ الْمُؤْمِنِينَ بِمَا أَمَرَ بِهِ الْمُرْسَلِينَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَأَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ سورة المؤمنون آية 51، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ سورة البقرة آية 172، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَذَكَرَ الرَّجُلَ يُطِيلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ يَمُدُّ يَدَهُ إِلَى السَّمَاءِ يَا رَبِّ يَا رَبِّ وَمَطْعَمُهُ حَرَامٌ وَمَشْرَبُهُ حَرَامٌ وَمَلْبَسُهُ حَرَامٌ وَغُذِّيَ بِالْحَرَامِ فَأَنَّى يُسْتَجَابُ لِذَلِكَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو حَازِمٍ هُوَ الْأَشْجَعِيُّ اسْمُهُ سَلْمَانُ مَوْلَى عَزَّةَ الْأَشْجَعِيَّةِ.
Narrated Abu Hurairah: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: O you people! Indeed Allah is Tayyib (good) and he does not accept but what is good. And indeed Allah ordered the believers with what He ordered the Messengers. He (ﷺ) said: 'O you Messengers! Eat of the good things and do righteous deeds. Verily I am well acquainted with what you do (23:51).' And He said: 'O you who believe! Eat from the good things We have provided you (2:172).' He said: And he mentioned a man: 'Who is undertaking a long journey, whose hair is dishevelled and he is covered with dust. He raises his hands to the heavens and says: O Lord! O Lord! Yet his food is from the unlawful, his drink is from the unlawful, his clothing is from the unlawful, and he was nourished by the unlawful. So how can that be accepted?'
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”لوگو! اللہ پاک ہے اور حلال و پاک چیز کو ہی پسند کرتا ہے اور اللہ نے مومنین کو انہیں چیزوں کا حکم دیا ہے جن چیزوں کا حکم اس نے اپنے رسولوں کو دیا ہے۔ اللہ نے فرمایا: «يا أيها الرسل كلوا من الطيبات واعملوا صالحا إني بما تعملون عليم» ۱؎ اور اللہ نے یہ بھی فرمایا ہے «يا أيها الذين آمنوا كلوا من طيبات ما رزقناكم» ۲؎ ( پھر ) آپ نے ایک ایسے شخص کا ذکر کیا جو لمبا سفر کرتا ہے، پریشان حال اور غبار آلود ہے۔ آسمان کی طرف ہاتھ پھیلا کر دعائیں مانگتا ہے ( میرے رب! اے میرے رب! ) اور حال یہ ہے کہ اس کا کھانا حرام کا ہے، اس پینا حرام ہے، اس کا پہننا حرام کا ہے اور اس کی پرورش ہی حرام سے ہوئی ہے۔ پھر اس کی دعا کیوں کر قبول ہو گی“ ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف فضیل بن مرزوق کی روایت ہی سے جانتے ہیں۔
Jam e Tirmazi
3175
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ الْهَمْدَانِيِّ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ:‏‏‏‏ وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ سورة المؤمنون آية 60، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ عَائِشَةُ:‏‏‏‏ أَهُمُ الَّذِينَ يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ وَيَسْرِقُونَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ لَا يَا بِنْتَ الصِّدِّيقِ وَلَكِنَّهُمُ الَّذِينَ يَصُومُونَ وَيُصَلُّونَ وَيَتَصَدَّقُونَ وَهُمْ يَخَافُونَ أَنْ لَا يُقْبَلَ مِنْهُمْ، ‏‏‏‏‏‏أُولَئِكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَهُمْ لَهَا سَابِقُونَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي حَازِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا.
Narrated 'Abdur-Rahman bin [Sa'eed bin] Wahb - that is Al-Hamdani: that 'Aishah the wife of the Prophet (ﷺ) said: I asked about the Messenger of Allah (ﷺ) about this Ayah: And those who give that which they give with their hearts full of fear... (23:60) 'Aishah said: Are they those who drink Khamr and steal? He said: No, O daughter of As-Siddiq. They are those who fast, perform Salat, give charity while they fear that their Lord will not accept it from them: It is these who hasten to do good deeds, and they are the foremost of them (23:61).
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت «والذين يؤتون ما آتوا وقلوبهم وجلة» ”جو لوگ اللہ کے لیے دیتے ہیں، جو دیتے ہیں اور ان کے دل خوف کھا رہے ہوتے ہیں ( کہ قبول ہو گا یا نہیں ) “ ( المؤمنون: ۶۰ ) ، کا مطلب پوچھا: کیا یہ وہ لوگ ہیں جو شراب پیتے ہیں، اور چوری کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، صدیق کی صاحبزادی! بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو روزے رکھتے ہیں، نمازیں پڑھتے ہیں، صدقے دیتے ہیں، اس کے باوجود ڈرتے رہتے ہیں کہ کہیں ان کی یہ نیکیاں قبول نہ ہوں، یہی ہیں وہ لوگ جو خیرات ( بھلے کاموں ) میں ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی کوشش کرتے ہیں، اور یہی لوگ بھلائیوں میں سبقت لے جانے والے لوگ ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: عبدالرحمٰن بن سعید نے بھی اس حدیث کو ابوحازم سے، ابوحازم نے ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ رضی الله عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے۔
Silsila Sahih
1420
عَنْ عَائِشَةَ زَوْج النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ: وَ الَّذِیۡنَ یُؤۡتُوۡنَ مَاۤ اٰتَوۡا وَّ قُلُوۡبُہُمۡ وَجِلَۃٌ (المؤمنون: ٦٠)قَالَتْ عَائِشَةُ: أَهُمُ الَّذِينَ يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ وَيَسْرِقُونَ؟ قَالَ: لَا يَا بِنْتَ الصِّدِّيقِ! وَلَكِنَّهُمْ الَّذِينَ يَصُومُونَ وَيُصَلُّونَ وَيَتَصَدَّقُونَ وَهُمْ يَخَافُونَ أَنْ لَا يُقْبَلَ مِنْهُمْ اُولٰٓئِکَ یُسٰرِعُوۡنَ فِی الۡخَیۡرٰتِ (المؤمنون: ٦١) .
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہ میں نے اس آیت كے متعلق رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سوال كیا: وَ الَّذِیۡنَ یُؤۡتُوۡنَ مَاۤ اٰتَوۡا وَّ قُلُوۡبُہُمۡ وَجِلَۃٌ (المؤمنون: ٦٠) وہ لوگ جو دیتے ہیں اور ان كے دل ڈر رہے ہوتے ہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے كہا: كیا یہ وہ لوگ ہیں جو شراب پیتے ہیں اور فضول خرچی كرتے ہیں؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: نہیں صدیق كی بیٹی! یہ وہ لوگ ہیں جو روزہ ركھتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں ، صدقہ كرتے ہیں ، اور ڈرتے ہیں كہ شاید قبول نہ كیا جائے اُولٰٓئِکَ یُسٰرِعُوۡنَ فِی الۡخَیۡرٰتِ (المؤمنون: ٦١) یہی لوگ نیك كاموں میں جلدی كرتے ہیں۔( )
Jam e Tirmazi
1122
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُقْبَةَ أَخُو قَبِيصَةَ بْنِ عُقْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا كَانَتْ الْمُتْعَةُ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ كَانَ الرَّجُلُ يَقْدَمُ الْبَلْدَةَ لَيْسَ لَهُ بِهَا مَعْرِفَةٌ فَيَتَزَوَّجُ الْمَرْأَةَ بِقَدْرِ مَا يَرَى أَنَّهُ يُقِيمُ، ‏‏‏‏‏‏فَتَحْفَظُ لَهُ مَتَاعَهُ وَتُصْلِحُ لَهُ شَيْئَهُ حَتَّى إِذَا نَزَلَتِ الْآيَةُ إِلا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ سورة المؤمنون آية 6 . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:‏‏‏‏ فَكُلُّ فَرْجٍ سِوَى هَذَيْنِ فَهُوَ حَرَامٌ .
Muhammad bin Ka'b narrated that: Ibn Abbas said: Mut'ah was only during the beginning of Islam. A man would arrive in a land that he was not familiar with so he would marry a woman for the extent of time that he thought he would remain there. So his Mut'ah was upheld and his case was fine until the (following) Ayah was revealed: Except their wives or what their right hands possess. Then every private part other than those became unlawful.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ متعہ ابتدائے اسلام میں تھا۔ آدمی جب کسی ایسے شہر میں جاتا جہاں اس کی جان پہچان نہ ہوتی تو وہ اپنے قیام کی مدت تک کے لیے کسی عورت سے شادی کر لیتا۔ وہ اس کے سامان کی حفاظت کرتی۔ اس کی چیزیں درست کر کے رکھتی۔ یہاں تک کہ جب آیت کریمہ «إلا على أزواجهم أو ما ملكت أيمانهم» ”لوگ اپنی شرمگاہوں کو صرف دو ہی جگہ کھول سکتے ہیں، ایک اپنی بیویوں پر، دوسرے اپنی ماتحت لونڈیوں پر“، نازل ہوئی تو ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: ان دو کے علاوہ باقی تمام شرمگاہیں حرام ہو گئیں۔
Jam e Tirmazi
2586
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا قُطْبَةُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يُلْقَى عَلَى أَهْلِ النَّارِ الْجُوعُ فَيَعْدِلُ مَا هُمْ فِيهِ مِنَ الْعَذَابِ فَيَسْتَغِيثُونَ فَيُغَاثُونَ بِطَعَامٍ مِنْ ضَرِيعٍ لَا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِي مِنْ جُوعٍ، ‏‏‏‏‏‏فَيَسْتَغِيثُونَ بِالطَّعَامِ فَيُغَاثُونَ بِطَعَامٍ ذِي غُصَّةٍ فَيَذْكُرُونَ أَنَّهُمْ كَانُوا يُجِيزُونَ الْغَصَصَ فِي الدُّنْيَا بِالشَّرَابِ، ‏‏‏‏‏‏فَيَسْتَغِيثُونَ بِالشَّرَابِ فَيُرْفَعُ إِلَيْهِمُ الْحَمِيمُ بِكَلَالِيبِ الْحَدِيدِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا دَنَتْ مِنْ وُجُوهِهِمْ شَوَتْ وُجُوهَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا دَخَلَتْ بُطُونَهُمْ قَطَّعَتْ مَا فِي بُطُونِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُونَ:‏‏‏‏ ادْعُوا خَزَنَةَ جَهَنَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُونَ:‏‏‏‏ أَلَمْ تَكُ تَأْتِيكُمْ رُسُلُكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ بَلَى، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ فَادْعُوا وَمَا دُعَاءُ الْكَافِرِينَ إِلَّا فِي ضَلَالٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَيَقُولُونَ:‏‏‏‏ ادْعُوا مَالِكًا فَيَقُولُونَ:‏‏‏‏ يَا مَالِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ سورة الزخرف آية 77،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ فَيُجِيبُهُمْ إِنَّكُمْ مَاكِثُونَ سورة الزخرف آية 77 ،‏‏‏‏ قَالَ الْأَعْمَشُ:‏‏‏‏ نُبِّئْتُ أَنَّ بَيْنَ دُعَائِهِمْ وَبَيْنَ إِجَابَةِ مَالِكٍ إِيَّاهُمْ أَلْفَ عَامٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَيَقُولُونَ:‏‏‏‏ ادْعُوا رَبَّكُمْ فَلَا أَحَدَ خَيْرٌ مِنْ رَبِّكُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُونَ:‏‏‏‏ رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَيْنَا شِقْوَتُنَا وَكُنَّا قَوْمًا ضَالِّينَ ‏‏‏‏ 106 ‏‏‏‏ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ ‏‏‏‏ 107 ‏‏‏‏ سورة المؤمنون آية 106-107 قَالَ:‏‏‏‏ فَيُجِيبُهُمْ اخْسَئُوا فِيهَا وَلا تُكَلِّمُونِ سورة المؤمنون آية 108 قَالَ:‏‏‏‏ فَعِنْدَ ذَلِكَ يَئِسُوا مِنْ كُلِّ خَيْرٍ وَعِنْدَ ذَلِكَ يَأْخُذُونَ فِي الزَّفِيرِ وَالْحَسْرَةِ وَالْوَيْلِ ،‏‏‏‏ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَالنَّاسُ لَا يَرْفَعُونَ هَذَا الْحَدِيثَ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ إِنَّمَا نَعْرِفُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَوْلَهُ:‏‏‏‏ وَلَيْسَ بِمَرْفُوعٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقُطْبَةُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ هُوَ ثِقَةٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ.
Abu Ad-Darda' narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said: The inhabitants of the Fire will suffer from a hunger equal to the punishment they experience, so they will seek relief, and be given to eat of Dari; which will neither nourish nor avail against hunger. So they will (again) seek food to relieve (their hunger), and they will be given to eat of a food that causes one to choke. Then they will remember that they used remedy for choking in the world by drinking something. So they will seek relief from drink. Then they will be given Hamim with meat hooks, so when it comes toward their faces it melts their faces, and when it enters their insides it cuts up what is inside of them. So (some of them) say: 'Call the keepers of Hell' so they say: Did there not come to you your Messengers with clear signs? They say: 'Yes!' They say: 'Then call as you like.' And the invocation of the disbelievers is nothing but in vain. He said: They will say: 'Call Malik.' So they say: O Malik! Let your Lord make an end of us!' He said: So he answers them: Verily you shall abide forever. Al-A'mash said: I was informed that there is a thousand years between their calling him, and Malik's answering them. He said: They say: 'Call your Lord, for there is none better than your Lord.' So they will say: Our Lord! Our wretchedness over came us, and we were (an) erring people. Our Lord! Bring us out of this. If we ever return (to evil), indeed we shall be wrong doers. He said: So the reply to them is: You remain in it in ignominy! And do not speak to Me. He said: So with that, they loose hope of any good, and with that they are taken to moaning, despair and severe ruin
ابو الدرداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنمیوں پر بھوک مسلط کر دی جائے گی اور یہ عذاب کے برابر ہو جائے گی جس سے وہ دوچار ہوں گے، لہٰذا وہ فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی «ضريع» ( خاردار پودا ) کے کھانے سے کی جائے گی جو نہ انہیں موٹا کرے گا اور نہ ان کی بھوک ختم کرے گا، پھر وہ دوبارہ کھانے کی فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی گلے میں اٹکنے والے کھانے سے کی جائے گی، پھر وہ یاد کریں گے کہ دنیا میں اٹکے ہوئے نوالے کو پانی کے ذریعہ نگلتے تھے، چنانچہ وہ پانی کی فریاد کریں گے اور ان کی فریاد رسی «حميم» ( جہنمیوں کے مواد ) سے کی جائے گی جو لوہے کے برتنوں میں دیا جائے گا جب مواد ان کے چہروں سے قریب ہو گا تو ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا اور جب ان کے پیٹ میں جائے گا تو ان کے پیٹ کے اندر جو کچھ ہے اسے کاٹ ڈالے گا، وہ کہیں گے: جہنم کے داروغہ کو بلاؤ، داروغہ کہیں گے: کیا تمہارے پاس رسول روشن دلائل کے ساتھ نہیں گئے تھے؟ وہ کہیں گے: کیوں نہیں، داروغہ کہیں گے: پکارتے رہو، کافروں کی پکار بیکار ہی جائے گی“۔ آپ نے فرمایا: ”جہنمی کہیں گے: مالک کو بلاؤ اور کہیں گے: اے مالک! چاہیئے کہ تیرا رب ہمارا فیصلہ کر دے ( ہمیں موت دیدے ) “، آپ نے فرمایا: ”ان کو مالک جواب دے گا: تم لوگ ( ہمیشہ کے لیے ) اسی میں رہنے والے ہو“۔ اعمش کہتے ہیں: مجھ سے بیان کیا گیا کہ ان کی پکار اور مالک کے جواب میں ایک ہزار سال کا وقفہ ہو گا، آپ نے فرمایا: ”جہنمی کہیں گے: اپنے رب کو پکارو اس لیے کہ تمہارے رب سے بہتر کوئی نہیں ہے، وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! ہمارے اوپر شقاوت غالب آ گئی تھی اور ہم گمراہ لوگ تھے، اے ہمارے رب! ہمیں اس سے نکال دے اگر ہم پھر ویسا ہی کریں گے تو ظالم ہوں گے۔ آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ انہیں جواب دے گا: پھٹکار ہو تم پر اسی میں پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو“، آپ نے فرمایا: ”اس وقت وہ ہر خیر سے محروم ہو جائیں گے اور اس وقت گدھے کی طرح رینکنے لگیں گے اور حسرت و ہلاکت میں گرفتار ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبداللہ بن عبدالرحمٰن ( دارمی ) کہتے ہیں: لوگ اس حدیث کو مرفوعاً نہیں روایت کرتے ہیں، ۲- ہم اس حدیث کو صرف «عن الأعمش عن شمر بن عطية عن شهر بن حوشب عن أم الدرداء عن أبي الدرداء» کی سند سے جانتے ہیں جو ابودرداء کا اپنا قول ہے، مرفوع حدیث نہیں ہے۔
Jam e Tirmazi
2587
حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ أَبِي شُجَاعٍ، عَنْ أَبِي السَّمْحِ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ وَهُمْ فِيهَا كَالِحُونَ سورة المؤمنون آية 104،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ تَشْوِيهِ النَّارُ فَتَقَلَّصُ شَفَتُهُ الْعُلْيَا حَتَّى تَبْلُغَ وَسَطَ رَأْسِهِ وَتَسْتَرْخِي شَفَتُهُ السُّفْلَى حَتَّى تَضْرِبَ سُرَّتَهُ ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو الْهَيْثَمِ اسْمُهُ:‏‏‏‏ سُلَيْمَانُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدٍ الْعُتْوَارِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ يَتِيمًا فِي حِجْرِ أَبِي سَعِيدٍ.
Abu Sa'eed Al-Khudri narrated that the Prophet (s.a.w) said: And therein they will grimace in displace lips. -He will be grilled by the Fire until his upper lip is folded up reaching the middle of his head, And his bottom lip pains down, until it hits his navel.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کریمہ «وهم فيها كالحون» ”کافر جہنم کے اندر بد شکل ہوں گے“ ( المؤمنون: ۱۰۴ ) کے بارے میں فرمایا: ”ان کے چہروں کو آگ جھلس دے گی تو ان کے اوپر کا ہونٹ سکڑ کر بیچ سر تک پہنچ جائے گا اور نیچے کا ہونٹ لٹک کر ناف سے جا لگے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Jam e Tirmazi
3176
حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَعِيدِ بْن يَزِيدَ أَبِي شُجَاعٍ، عَنْ أَبِي السَّمْحِ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَهُمْ فِيهَا كَالِحُونَ سورة المؤمنون آية 104، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ تَشْوِيهِ النَّارُ فَتَقَلَّصُ شَفَتُهُ الْعُلْيَا حَتَّى تَبْلُغَ وَسَطَ رَأْسِهِ وَتَسْتَرْخِي شَفَتُهُ السُّفْلَى حَتَّى تَضْرِبَ سُرَّتَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
Narrated Abu Sa'eed Al-Khudri: that the Prophet (ﷺ) said: Therein they will grin, with displaced lips... (23:103) - he said - He will be broiled by the Fire, such that his upper lip will shrink until it reaches the middle of his head, and his lower lip will droop until it is near his navel.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «وهم فيها كالحون» ”اور وہ اس میں ڈراونی شکل والے ہوں گے“ ( المومنون: ۱۰۴ ) ، کے سلسلے سے فرمایا: ”جہنم ان کے منہ کو جھلسا دے گی، جس سے اوپر کا ہونٹ سکڑ کر آدھے سر تک پہنچ جائے گا اور نچلا ہونٹ لٹک کر ناف سے ٹکرانے لگے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Sunnan Ibn e Maja
3549
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ حَيَّانَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى،‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو جَنَابٍ،‏‏‏‏ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى،‏‏‏‏ عَنْ أَبِيهِ أَبِي لَيْلَى،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ لِي أَخًا وَجِعًا،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ مَا وَجَعُ أَخِيكَ؟ ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ بِهِ لَمَمٌ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ اذْهَبْ فَأْتِنِي بِهِ ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ فَذَهَبَ فَجَاءَ بِهِ،‏‏‏‏ فَأَجْلَسَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ،‏‏‏‏ فَسَمِعْتُهُ:‏‏‏‏ عَوَّذَهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ،‏‏‏‏ وَأَرْبَعِ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ الْبَقَرَةِ،‏‏‏‏ وَآيَتَيْنِ مِنْ وَسَطِهَا وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ سورة البقرة آية 163،‏‏‏‏ وَآيَةِ الْكُرْسِيِّ،‏‏‏‏ وَثَلَاثِ آيَاتٍ مِنْ خَاتِمَتِهَا،‏‏‏‏ وَآيَةٍ مِنْ آلِ عِمْرَانَ ،‏‏‏‏ أَحْسِبُهُ قَالَ:‏‏‏‏ شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ سورة آل عمران آية 18،‏‏‏‏ وَآيَةٍ مِنْ الْأَعْرَافِ إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سورة الأعراف آية 54،‏‏‏‏ وَآيَةٍ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ وَمَنْ يَدْعُ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ لا بُرْهَانَ لَهُ بِهِ سورة المؤمنون آية 117،‏‏‏‏ وَآيَةٍ مِنْ الْجِنِّ:‏‏‏‏ وَأَنَّهُ تَعَالَى جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً وَلا وَلَدًا سورة الجن آية 3،‏‏‏‏ وَعَشْرِ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ الصَّافَّاتِ، ‏‏‏‏‏‏وَثَلَاثِ آيَاتٍ مِنْ آخِرِ الْحَشْرِ،‏‏‏‏ وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ والمعوذتين ،‏‏‏‏ فَقَامَ الْأَعْرَابِيُّ،‏‏‏‏ قَدْ بَرَأَ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ.
It was narrated from ‘Abdur-Rahman bin Abi Laila that his father Abu Laila said: “I was sitting with the Prophet (ﷺ) when a Bedouin came to him and said: ‘I have a brother who is sick.’ He said: ‘What is the matter with your brother?’ He said: ‘He suffers from a slight mental derangement.’ He said: ‘Go and bring him.’” He said: “(So he went) and he brought him. He made him sit down in front of him and I heard him seeking refuge for him with Fatihatil-Kitab; four Verses from the beginning of Al-Baqarah, two Verses from its middle: ‘And your Ilah (God) is One Ilah (God – Allah),’ [2:163] and Ayat Al-Kursi; and three Verses from its end; a Verse from Al ‘Imran, I think it was: ‘Allah bears witness that La ilaha illa Huwa (none has the right to be worshipped but He),’ [3:18] a Verse from Al-A’raf: ‘Indeed, your Lord is Allah,’ [7:54] a Verse from Al-Mu’minun: ‘And whoever invokes (or worships), besides Allah, any other ilah (god), of whom he has no proof,’[23:117] a Verse from Al-Jinn: ‘And He, exalted is the Majesty of our Lord,’ [72:3] ten Verses from the beginning of As-Saffat; three Verses from the end of Al-Hashr; (then) ‘Say: He is Allah, (the) One,’ [112:1] and Al-Mu’awwidhatain. Then the Bedouin stood up, healed, and there was nothing wrong with him.”
ابولیلیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہوسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ آپ کے پاس ایک اعرابی نے آ کر کہا: میرا ایک بیمار بھائی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کیا: تمہارے بھائی کو کیا بیماری ہے ؟ وہ بولا: اسے آسیب ہو گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اسے لے کر آؤ ، ابولیلیٰ کہتے ہیں کہ وہ ( اعرابی ) گیا اور اسے لے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے سامنے بیٹھایا، میں نے آپ کو سنا کہ آپ نے اسے دم کیا، سورۃ فاتحہ، سورۃ البقرہ کی ابتدائی چار آیات اور درمیان کی دو آیتیں، اور «وإلهكم إله واحد» والی آیت، آیت الکرسی، پھر سورۃ البقرہ کی آخری تین آیات، آل عمران کی آیت ( جو میرے خیال میں ) «شهد الله أنه لا إله إلا هو» ہے، سورۃ الاعراف کی آیت «إن ربكم الله الذي خلق»، سورۃ مومنون کی آیت «ومن يدع مع الله إلها آخر لا برهان له به»، سورۃ الجن کی آیت «وأنه تعالى جد ربنا ما اتخذ صاحبة ولا ولدا» اور سورۃ الصافات کے شروع کی دس آیات، اور سورۃ الحشر کی آخری تین آیات، سورۃ «قل هو الله أحد» اور معوذتین کے ذریعے، تو اعرابی شفایاب ہو کر کھڑا ہو گیا، اور ایسا لگ رہا تھا کہ اسے کوئی تکلیف نہیں ہے۔