حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَسْرِعُوا بِالْجَنَازَةِ، فَإِنْ يَكُنْ خَيْرًا تُقَدِّمُوهَا إِلَيْهِ، وَإِنْ يَكُنْ شَرًّا تَضَعُوهُ عَنْ رِقَابِكُمْ . وَفِي الْبَاب: عَنْ أَبِي بَكْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Abu Hurairah narrated that:
The Prophet said: Hurry up with the funeral (procession) for if it was good, you are advancing it to good, and if it was evil, then you are taking it off your necks.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جنازہ تیزی سے لے کر چلو ۱؎، اگر وہ نیک ہو گا تو اسے خیر کی طرف جلدی پہنچا دو گے، اور اگر وہ برا ہو گا تو اسے اپنی گردن سے اتار کر ( جلد ) رکھ دو گے۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوبکرہ سے بھی روایت ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز ۵۱ (۱۳۱۵)، صحیح مسلم/الجنائز ۱۶ (۹۴۴)، سنن ابی داود/ الجنائز ۵۰ (۳۱۸۱)، سنن النسائی/الجنائز ۴۴ (۱۹۱۱)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ۱۵ (۱۴۷۷) (تحفة الأشراف : ۱۳۱۲۴)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : جمہور کے نزدیک امر استحباب کے لیے ہے، ابن حزم کہتے ہیں کہ وجوب کے لیے ہے۔
1015
Sahih