باب: ناپسندیدہ ناموں کا بیان
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ عُمَيْلَةَ الْفَزَارِيِّ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تُسَمِّ غُلَامَكَ رَبَاحٌ وَلَا أَفْلَحُ وَلَا يَسَارٌ وَلَا نَجِيحٌ ، يُقَالُ: أَثَمَّ هُوَ ؟ فَيُقَالُ: لَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Samurah bin Jundab:
that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Do not name your boy Rabah, nor Aflah, nor Yasar, nor Najih, so that it may be said: 'Is he there?' and it may be said: 'No.'
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے غلام کا نام رباح، افلح، یسار اور نجیح نہ رکھو ( کیونکہ ) پوچھا جائے کہ کیا وہ یہاں ہے؟ تو کہا جائے گا: نہیں“ ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الآداب ۲ (۲۱۳۷)، سنن ابی داود/ الأدب ۷۰ (۴۹۵۸، ۴۹۵۹)، سنن ابن ماجہ/الأدب ۳۱ (۳۷۳۰) (تحفة الأشراف : ۴۶۱۲)، وسنن الدارمی/الاستئذان ۶۱ (۲۷۳۸)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : «رباح» فائدہ دینے والا «افلح» فلاح والا «یسار» آسانی «نجیح» کامیاب رہنے والا، ان ناموں کے رکھنے سے اس لیے منع کیا گیا کیونکہ اگر کسی سے پوچھا جائے : کیا «افلح» یہاں ہے اور جواب میں کہا جائے کہ نہیں تو لوگ اسے بدفالی سمجھ کر اچھا نہ سمجھیں گے۔
2836
Sahih