باب: تکیہ اور ٹیک لگا کر بیٹھنے کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، قَال: سُئِلَتْ عَائِشَةُ، وَأُمُّ سَلَمَةَ أَيُّ كان أحب إلى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتَا: مَا دِيمَ عَلَيْهِ وَإِنْ قَلَّ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
Narrated Abu Salih:
I asked 'Aishah and Umm Salamah about which deed did the Messenger of Allah (ﷺ) like to do most. They said: 'Whatever he could do regularly, even if it was little.'
ابوصالح سے روایت ہے کہ ام المؤمنین عائشہ اور ام سلمہ رضی الله عنہما سے پوچھا گیا کہ کون سا عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت زیادہ پسند تھا؟، ان دونوں نے جواب دیا کہ وہ عمل جو گرچہ تھوڑا ہو لیکن اسے مستقل اور برابر کیا جائے۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (التحة: ۱۶۰۷۲)، و راجع ماعند صحیح البخاری/التھجد ۷ (۱۱۳۲)، وصحیح مسلم/المسافرین ۱۷ (۷۴۱)
2856
Sahih