Chapter: What Has Been Related About Breaking The Voluntary Fastباب: نفلی روزے کے توڑنے کا بیان
Chapter 34 of The book on fasting in Jam e Tirmazi. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
Umm Hani narrated:
I was sitting with the Prophet when some drink was brought, so he drank from it, then he offered it to me and I drank it. Then I said: 'I have indeed sinned, so seek forgiveness for me.' He said: 'What is that?' I said: 'I was fasting, then I broke the fast.' He said: 'Were you performing a fast that you had to make up?' I said: 'No.' He said: 'Then it is no harm for you.'
ام ہانی رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھی ہوئی تھی، اتنے میں آپ کے پاس پینے کی کوئی چیز لائی گئی، آپ نے اس میں سے پیا، پھر مجھے دیا تو میں نے بھی پیا۔ پھر میں نے عرض کیا: میں نے گناہ کا کام کر لیا ہے۔ آپ میرے لیے بخشش کی دعا کر دیجئیے۔ آپ نے پوچھا: ”کیا بات ہے؟“ میں نے کہا: میں روزے سے تھی اور میں نے روزہ توڑ دیا تو آپ نے پوچھا: ”کیا کوئی قضاء کا روزہ تھا جسے تم قضاء کر رہی تھی؟“ عرض کیا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”تو اس سے تمہیں کوئی نقصان ہونے والا نہیں“۔
امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں ابو سعید خدری اور ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Simak bin Harb narrated:
A person from the offspring of Umm Hani narrated to me - I met one of the most virtuous among them, and his name was Ja'dah, and Umm Hani was his grandmother - he narrated to me from his grandmother that the Messenger of Allah entered upon her and asked for some drink, and he drank. Then he offered it to her and she drank it. Then she said: O Messenger of Allah! I was fasting. So the Messenger of Allah said: The one fasting a voluntary fast is the trustee for himself; if he wishes he fasts, and if he wishes he breaks. Shu'bah (one of the narrators) said: I said to him (Ja'dah), 'Did you hear this from Umm Hani?' He said: 'No Abu Salih and our family informed us of it from Umm Hani.'
شعبہ کہتے ہیں کہ میں سماک بن حرب کو کہتے سنا کہ ام ہانی رضی الله عنہا کے دونوں بیٹوں میں سے ایک نے مجھ سے حدیث بیان کی تو میں ان دونوں میں جو سب سے افضل تھا اس سے ملا، اس کا نام جعدہ تھا، ام ہانی اس کی دادی تھیں، اس نے مجھ سے بیان کیا کہ اس کی دادی کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں آئے تو آپ نے کوئی پینے کی چیز منگائی اور اسے پیا۔ پھر آپ نے انہیں دیا تو انہوں نے بھی پیا۔ پھر انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! میں تو روزے سے تھی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نفل روزہ رکھنے والا اپنے نفس کا امین ہے، چاہے تو روزہ رکھے اور چاہے تو نہ رکھے“۔ شعبہ کہتے ہیں: میں نے سماک سے پوچھا: کیا آپ نے اسے ام ہانی سے سنا ہے؟ کہا: نہیں، مجھے ابوصالح نے اور ہمارے گھر والوں نے خبر دی ہے اور ان لوگوں نے ام ہانی سے روایت کی۔ حماد بن سلمہ نے بھی یہ حدیث سماک بن حرب سے روایت کی ہے۔ اس میں ہے ام ہانی کی لڑکی کے بیٹے ہارون سے روایت ہے، انہوں نے ام ہانی سے روایت کی ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- شعبہ کی روایت سب سے بہتر ہے، اسی طرح ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا ہے اور محمود نے ابوداؤد سے روایت کی ہے، اس میں «أمين نفسه» ہے، البتہ ابوداؤد سے محمود کے علاوہ دوسرے لوگوں نے جو روایت کی تو ان لوگوں نے «أمير نفسه أو أمين نفسه» شک کے ساتھ کہا۔ اور اسی طرح شعبہ سے متعدد سندوں سے بھی «أمين أو أمير نفسه» شک کے ساتھ وارد ہے۔ ام ہانی کی حدیث کی سند میں کلام ہے۔ ۲- اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ نفل روزہ رکھنے والا اگر روزہ توڑ دے تو اس پر کوئی قضاء لازم نہیں الا یہ کہ وہ قضاء کرنا چاہے۔ یہی سفیان ثوری، احمد، اسحاق بن راہویہ اور شافعی کا قول ہے ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف : ۱۸۰۰۱)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : یہی جمہور کا قول ہے، ان کی دلیل ام ہانی کی روایت ہے جس میں ہے «فإن شئت فأقضى وإن شئت فلا تقضى» نیز ابو سعید خدری رضی الله عنہ کی روایت ہے جس میں ہے «أفطر فصم مكانه إن شئت» یہ دونوں روایتیں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ نفل روزہ توڑ دینے پر قضاء لازم نہیں، حنفیہ کہتے ہیں کہ قضاء لازم ہے، ان کی دلیل عائشہ و حفصہ رضی الله عنہما کی روایت ہے جو ایک باب کے بعد آ رہی ہے، لیکن وہ ضعیف ہے۔