TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book on fasting کتاب: روزوں کے احکام و مسائل

Book 9 of Jam e Tirmazi, with 82 chapters and 127 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

127 Hadith · 82 Chapters
Chapter: What Has Been Related About Fasting On Friday
باب: جمعہ کے دن روزہ رکھنے کا بیان
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ دِينَارٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، وَطَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ مِنْ غُرَّةِ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقَلَّمَا كَانَ يُفْطِرُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وأَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدِ اسْتَحَبَّ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ صِيَامَ يَوْمِ الْجُمُعَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّمَا يُكْرَهُ أَنْ يَصُومَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ لَا يَصُومُ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَرَوَى شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَاصِمٍ هَذَا الْحَدِيثَ وَلَمْ يَرْفَعْهُ.
Abdullah narrated: The Messenger of Allah would fasting during the beginning of every month for three days, and Friday was the least of the days that he did not fast.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ماہ کے شروع کے تین دن روزے رکھتے۔ اور ایسا کم ہوتا تھا کہ جمعہ کے دن آپ روزے سے نہ ہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- شعبہ نے یہ حدیث عاصم سے روایت کی ہے اور اسے مرفوع نہیں کیا، ۳- اس باب میں ابن عمر اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- اہل علم کی ایک جماعت نے جمعہ کے دن روزہ رکھنے کو مستحب قرار دیا ہے۔ مکروہ یہ ہے کہ آدمی صرف جمعہ کو روزہ رکھے نہ اس سے پہلے رکھے اور نہ اس کے بعد۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الصیام ۶۸ (۲۴۵۰) (تحفة الأشراف : ۹۲۰۶)
742
Sahih
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Fast On Friday Alone
باب: خاص کر صرف جمعہ کو روزہ رکھنے کی کراہیت کا بیان
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا يَصُومُ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلَّا أَنْ يَصُومَ قَبْلَهُ أَوْ يَصُومَ بَعْدَهُ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَجُنَادَةَ الْأَزْدِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَجُوَيْرِيَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ يَكْرَهُونَ لِلرَّجُلِ أَنْ يَخْتَصَّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِصِيَامٍ لَا يَصُومُ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق.
Abu Hurairah narrated that : the Messenger of Allah said: None of you should fast on Friday unless he fasts before it, or he fasts after it.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی جمعہ کے دن روزہ نہ رکھے، إلا یہ کہ وہ اس سے پہلے یا اس کے بعد بھی روزہ رکھے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، جابر، جنادہ ازدی، جویریہ، انس اور عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہ لوگ آدمی کے لیے مکروہ سمجھتے ہیں کہ وہ جمعہ کے دن کو روزہ کے لیے مخصوص کر لے، نہ اس سے پہلے روزہ رکھے اور نہ اس کے بعد۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصیام ۲۴ (۱۱۴۴)، سنن ابی داود/ الصیام ۵۰ (۲۴۲۰)، سنن ابن ماجہ/الصیام ۳۷ (۱۷۲۳)، (تحفة الأشراف : ۱۲۵۰۲)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : اس ممانعت کی وجہ کیا ہے، اس سلسلہ میں علماء کے مختلف اقوال ہیں، سب سے صحیح وجہ اس کا یوم عید ہونا ہے، اس کی صراحت ابوہریرہ رضی الله عنہ کی مرفوع روایت میں ہے جس کی تخریج حاکم وغیرہ نے ان الفاظ کے ساتھ کی ہے «يوم الجمعة يوم عيد فلا تجعلوا يوم عيدكم صيامكم إلا أن تصوموا قبله وبعده» جمعہ کا دن عید کا دن ہے، اس لیے اپنے عید والے دن روزہ نہ رکھا کرو، إلا یہ کہ اس سے ایک دن قبل - جمعرات کا بھی- روزہ رکھو یا اس سے ایک دن بعد سنیچر کے دن کا بھی۔ اور ابن ابی شیبہ نے بھی اسی مفہوم کی ایک حدیث علی رضی الله عنہ سے روایت کی ہے جس کی سند حسن ہے اس کے الفاظ یہ ہیں «من كان منكم متطوعاً من الشهر فليصم يوم الخميس ولا يصم يوم الجمعة فإنه يوم طعام وشراب» تم میں سے جو کوئی کسی مہینے کے نفلی روزے رکھ رہا ہو، وہ جمعرات کے دن کا روزہ رکھے، جمعہ کے دن کا روزہ نہ رکھے، اس لیے کہ یہ کھانے پینے کا دن ہوتا ہے۔
743
Sahih
Chapter: What Has Been Related About Fasting On Saturday
باب: ہفتہ (سنیچر) کے دن کے روزہ کا بیان
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، عَنْ أُخْتِهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ لَا تَصُومُوا يَوْمَ السَّبْتِ إِلَّا فِيمَا افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلَّا لِحَاءَ عِنَبَةٍ أَوْ عُودَ شَجَرَةٍ فَلْيَمْضُغْهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَمَعْنَى كَرَاهَتِهِ فِي هَذَا أَنْ يَخُصَّ الرَّجُلُ يَوْمَ السَّبْتِ بِصِيَامٍ لِأَنَّ الْيَهُودَ تُعَظِّمُ يَوْمَ السَّبْتِ.
Abdullah bin Busr narrated from his sister that : the Messenger of Allah said: Do not fast on Saturday except for what has been made obligatory upon you (by Allah). If one of you does not find but a grape peal or a tree's twig, then let him chew it.
عبداللہ بن بسر کی بہن بہیہ صمّاء رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہفتہ کے دن روزہ مت رکھو ۱؎، سوائے اس کے کہ جو اللہ نے تم پر فرض کیا ہو، اگر تم میں سے کوئی انگور کی چھال اور درخت کی ٹہنی کے علاوہ کچھ نہ پائے تو اسی کو چبا لے ( اور روزہ نہ رکھے ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اور اس کے مکروہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی روزہ کے لیے ہفتے ( سنیچر ) کا دن مخصوص کر لے، اس لیے کہ یہودی ہفتے کے دن کی تعظیم کرتے ہیں۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الصیام ۵۱۲ (۲۴۲۱)، سنن ابن ماجہ/الصیام ۳۸ (۱۷۲۶)، سنن الدارمی/الصوم ۴۰ (۱۷۹۰)، (تحفة الأشراف : ۱۵۹۱۰)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : جمہور نے اسے نہی تنزیہی پر محمول کیا ہے یعنی روزہ نہ رکھنا بہتر ہے، ” سوائے اس کے کہ اللہ نے تم پر فرض کیا ہو کے لفظ “ میں فرض نذر کے کفاروں کے روزے شامل ہیں۔
744
Sahih
Chapter: What Has Been Related About Fasting On Monday And Thursday
باب: سوموار (دوشنبہ) اور جمعرات کے دن روزہ رکھنے کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ الْفَلَّاسُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ رَبِيعَةَ الْجُرَشِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:‏‏‏‏ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَرَّى صَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ حَفْصَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
Aishah narrated: The Prophet used to try to fast on Mondays and Thursdays.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سوموار اور جمعرات کے روزے کی تلاش میں رہتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن ہے اور اس سند سے غریب ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الصیام ۳۶ (۲۱۸۹)، سنن ابن ماجہ/الصیام ۴۲ (۱۷۳۹)، (تحفة الأشراف : ۱۶۰۸۱)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : اس کی ایک وجہ تو یہ بیان کی گئی ہے کہ ان دونوں دنوں میں اعمال اللہ کے حضور پیش کئے جاتے ہیں، ابوہریرہ رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : «تعرض الأعمال يوم الإثنين والخميس فأحب أن يعرض عملي وأنا صائم» اور دوسری وجہ وہ ہے جس کا ذکر مسلم کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوموار (دوشنبہ) کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : ” یہ وہ دن ہے جس میں میری پیدائش ہوئی اور اسی میں میں نبی بنا کر بھجا گیا، یا اسی دن مجھ پر وحی نازل کی گئی “۔
745
Sahih
Chapter: What Has Been Related About Fasting On Monday And Thursday
باب: سوموار (دوشنبہ) اور جمعرات کے دن روزہ رکھنے کا بیان
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ مِنَ الشَّهْرِ السَّبْتَ وَالْأَحَدَ وَالِاثْنَيْنِ وَمِنَ الشَّهْرِ الْآخَرِ الثُّلَاثَاءَ وَالْأَرْبِعَاءَ وَالْخَمِيسَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ وَلَمْ يَرْفَعْهُ.
Aishah narrated: The Messenger of Allah would fast Saturdays, Sundays, and Mondays in one months, and Tuesdays, Wednesdays and Thursdays in the next month.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مہینہ ہفتہ ( سنیچر ) ، اتوار اور سوموار ( دوشنبہ ) کو اور دوسرے مہینہ منگل، بدھ، اور جمعرات کو روزہ رکھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- عبدالرحمٰن بن مہدی نے اس حدیث کو سفیان سے روایت کیا ہے اور اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ۱۶۰۷۰)
746
Zaeef
Chapter: What Has Been Related About Fasting On Monday And Thursday
باب: سوموار (دوشنبہ) اور جمعرات کے دن روزہ رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 747 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ تُعْرَضُ الْأَعْمَالُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ، ‏‏‏‏‏‏فَأُحِبُّ أَنْ يُعْرَضَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي هَذَا الْبَاب حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
Abu Hurairah narrated that: the Messenger of Allah said: Deeds are presented on Monday and Thursday, and I love that my deeds be presented while I am fasting.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اعمال سوموار ( دوشنبہ ) اور جمعرات کو اعمال ( اللہ کے حضور ) پیش کئے جاتے ہیں، میری خواہش ہے کہ میرا عمل اس حال میں پیش کیا جائے کہ میں روزے سے ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث اس باب میں حسن غریب ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الصیام ۴۲ (۱۷۴۰)، (تحفة الأشراف : ۱۲۷۴۶)، وأخرجہ: مسند احمد (۲/۳۲۹)
747
Sahih
Chapter: What Has Been Related About Fasting On Wednesday and Thursday
باب: بدھ اور جمعرات کے روزے کا بیان
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُرَيْرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَدُّوَيْه، قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ سَلْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:‏‏‏‏ سَأَلْتُ أَوْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِ الدَّهْرِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ لِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، ‏‏‏‏‏‏صُمْ رَمَضَانَ وَالَّذِي يَلِيهِ وَكُلَّ أَرْبِعَاءَ وَخَمِيسٍ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا أَنْتَ قَدْ صُمْتَ الدَّهْرَ وَأَفْطَرْتَ . وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ مُسْلِمٍ الْقُرَشِيِّ حَدِيثٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى بَعْضُهُمْ عَنْ هَارُونَ بْنِ سَلْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُسْلِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ.
Ubaidullah (bin Muslim) Al-Qurashi narrated from his father who said: I asked - or; the Prophet was asked - about fasting daily. So he said: 'Your family has a right over you.' Then he said: 'Fast Ramadan and that which is after it, and every Wednesday and Thursday. If you do that, then you will have fasted daily, as well as broken (the fast).'
مسلم قرشی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صیام الدھر ( سال بھر کے روزوں ) کے بارے میں پوچھا، یا آپ سے صیام الدھر کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”تم پر تمہارے گھر والوں کا بھی حق ہے، رمضان کے روزے رکھو، اور اس مہینے کے رکھو جو اس سے متصل ہے، اور ہر بدھ اور جمعرات کے روزے رکھو، جب تم نے یہ روزے رکھ لیے، تو اب گویا تم نے سال بھر روزہ رکھا اور افطار کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- مسلم قرشی رضی الله عنہ کی حدیث غریب ہے، ۲- بعض لوگوں نے بطریق «ہارون بن سلمان عن مسلم بن عبیداللہ عن عبیداللہ بن مسلم» روایت کی ہے، ۳- اس باب میں عائشہ رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الصیام ۵۷ (۲۴۳۲) (تحفة الأشراف : ۹۷۴)
748
Zaeef
Chapter: What Has Been Related About The Virtue OF Fasting On The Day of Arafah
باب: عرفہ کے دن کے روزے کی فضیلت کا بیان
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ صِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ إِنِّي أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهُ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي سَعِيدٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي قَتَادَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقْدِ اسْتَحَبَّ أَهْلُ الْعِلْمِ صِيَامَ يَوْمِ عَرَفَةَ إِلَّا بِعَرَفَةَ.
Abu Qatadah narrated that : the Prophet said: Fast the Day of Arafah, for indeed I anticipate that Allah will forgive (the sins) of the year after it, and the year before it.
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اللہ تعالیٰ سے امید رکھتا ہوں کہ عرفہ کے دن ۱؎ کا روزہ ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہ مٹا دے گا“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوقتادہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۳- اہل علم نے عرفہ کے دن کے روزے کو مستحب قرار دیا ہے، مگر جو لوگ عرفات میں ہوں ان کے لیے مستحب نہیں۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصیام ۳۶ (۱۱۶۲)، سنن ابی داود/ الصیام ۵۳ (۲۴۲۵)، سنن النسائی/الصیام ۷۳ (۲۳۸۴)، سنن ابن ماجہ/الصیام ۳۱ (۱۷۳۰)، (التحفہ: ۱۲۱۱۷)، مسند احمد (۵/۲۹۷)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : یوم عرفہ سے مراد ۹ ذی الحجہ ہے جب حجاج کرام عرفات میں وقوف کرتے ہیں اور ذکر و دعا میں مشغول ہوتے ہیں، اس دن ان کے لیے یہی سب سے بڑی عبادت ہے اس لیے اس دن کا روزہ ان کے لیے مستحب نہیں ہے، البتہ غیر حاجیوں کے لیے اس دن روزہ رکھنا بڑی فضیلت کی بات ہے، اس سے ان کے دو سال کے وہ صغیرہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں جن کا تعلق حقوق اللہ سے ہوتا ہے۔ (یہ خیال رہے کہ مکے سے دور علاقوں کے لوگ اپنے یہاں کی رویت کے حساب سے ۹ ذی الحجہ کو عرفہ کا روزہ نہ رکھیں، بلکہ مکے کی رویت کے حساب سے ۹ ذی الحجہ کا روزہ رکھیں کیونکہ حجاج اسی حساب سے میدان عرفات میں جمع ہوتے ہیں۔ لیکن جہاں مطلع اور ملک بدل جائے وہاں کے لوگ اپنے حساب نو ذی الحجہ کا روزہ رکھیں، بلکہ افضل یہ ہے کہ یکم ذی الحجہ سے ۹ تک مسلسل روزہ رکھے، اس لیے کہ ان دنوں میں کیے گئے اعمال کی فضیلت حدیث میں بہت آئی ہے اور سلف صالحین کا اس ضمن میں تعامل بھی روایات میں مذکور ہے، اور اس سے یوم عرفہ سے مراد مقام عرفات میں ۹ ذی الحجہ پر بھی عمل ہو جائے گا، واللہ اعلم۔ ۲؎ : اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ بعد والے سال کے گناہوں کا وہ کفارہ کیسے ہو جاتا ہے جب کہ آدمی نے وہ گناہ ابھی کیا ہی نہیں ہے تو اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ ایک سال بعد کے گناہ مٹا دیئے جانے کا مطلب یہ ہے کہ اس سال اللہ تعالیٰ اسے گناہوں سے محفوظ رکھے گا یا اتنی رحمت و ثواب اسے مرحمت فرما دے گا کہ وہ آنے والے سال کے گناہوں کا بھی کفارہ ہو جائے گا۔
749
Sahih
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Fast The Day of Arafah While At Arafat
باب: میدان عرفات میں یوم عرفہ کے روزے کی کراہت کا بیان
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْطَرَ بِعَرَفَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ أُمُّ الْفَضْلِ بِلَبَنٍ فَشَرِبَ . وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَأُمِّ الْفَضْلِ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَجَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَصُمْهُ يَعْنِي يَوْمَ عَرَفَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ فَلَمْ يَصُمْهُ، ‏‏‏‏‏‏وَمَعَ عُمَرَ فَلَمْ يَصُمْهُ، ‏‏‏‏‏‏وَمَعَ عُثْمَانَ فَلَمْ يَصُمْهُ. وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ يَسْتَحِبُّونَ الْإِفْطَارَ بِعَرَفَةَ لِيَتَقَوَّى بِهِ الرَّجُلُ عَلَى الدُّعَاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ صَامَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ يَوْمَ عَرَفَةَ بِعَرَفَةَ.
Ibn Abbas narrated: The Prophet broke (the fast) of Arafah, Umm Fadl sent him some milk to drink.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات میں روزہ نہیں رکھا، ام فضل رضی الله عنہا نے آپ کے پاس دودھ بھیجا تو آپ نے اسے پیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، ابن عمر اور ام الفضل رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- ابن عمر رضی الله عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا تو آپ نے اس دن کا ( یعنی یوم عرفہ کا ) روزہ نہیں رکھا اور ابوبکر رضی الله عنہ کے ساتھ حج کیا تو انہوں نے بھی اسے نہیں رکھا، عمر کے ساتھ حج کیا، تو انہوں نے بھی اسے نہیں رکھا، اور عثمان کے ساتھ حج کیا تو انہوں نے بھی اسے نہیں رکھا، ۴- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہ لوگ عرفات میں روزہ نہ رکھنے کو مستحب سمجھتے ہیں تاکہ آدمی دعا کی زیادہ سے زیادہ قدرت رکھ سکے، ۵- اور بعض اہل علم نے عرفہ کے دن عرفات میں روزہ رکھا ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (أوأخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف : ۶۰۰۲)
750
Sahih
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Fast The Day of Arafah While At Arafat
باب: میدان عرفات میں یوم عرفہ کے روزے کی کراہت کا بیان
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:‏‏‏‏ سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ، عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ بِعَرَفَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ حَجَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَصُمْهُ، ‏‏‏‏‏‏وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ فَلَمْ يَصُمْهُ، ‏‏‏‏‏‏وَمَعَ عُمَرَ فَلَمْ يَصُمْهُ، ‏‏‏‏‏‏وَمَعَ عُثْمَانَ فَلَمْ يَصُمْهُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَا لَا أَصُومُهُ وَلَا آمُرُ بِهِ وَلَا أَنْهَى عَنْهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ أَيْضًا عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَجُلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو نَجِيحٍ اسْمُهُ يَسَارٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ سَمِعَ مِنْ ابْنِ عُمَرَ.
Ibn Abi Najib narrated from his father who said: Ibn Umar was asked about fasting (the Day of) Arafah (at Arafat). He said: 'I performed Hajj with the Prophet, and he did not fast it, and with Abu Bakr, and he did not fast it, and with Umar, and he did not fast it, and with Uthman, and he did not fast it. I do no fast it, nor order it nor forbid it.
ابونجیح یسار کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی الله عنہما سے عرفہ کے دن عرفات میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا۔ آپ نے اس دن کا روزہ نہیں رکھا۔ ابوبکر کے ساتھ حج کیا، انہوں نے بھی نہیں رکھا، عمر کے ساتھ کیا۔ انہوں نے بھی نہیں رکھا۔ عثمان کے ساتھ کیا تو انہوں نے بھی نہیں رکھا ( رضی الله عنہم ) ، میں بھی اس دن ( وہاں عرفات میں ) روزہ نہیں رکھتا ہوں، البتہ نہ تو میں اس کا حکم دیتا ہوں اور نہ ہی اس سے روکتا ہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- یہ حدیث ابن ابی نجیح سے بطریق: «عن أبيه عن رجل عن ابن عمر» بھی مروی ہے۔ ابونجیح کا نام یسار ہے اور انہوں نے ابن عمر سے سنا ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (وأخرجہ النسائی فی الکبری) (تحفة الأشراف : ۸۵۷۱)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : اس کا مطلب یہ ہے کہ ابونجیح نے اس حدیث کو پہلے ابن عمر سے ایک آدمی کے واسطے سے سنا تھا پھر بعد میں ابن عمر سے ان کی ملاقات ہوئی تو انہوں نے اسے براہ راست بغیر واسطے کے ابن عمر رضی الله عنہما سے سنا۔
751
Sahih
Chapter: What Has Been Related About The Encouragement To Fast The Day Of Ashura
باب: عاشوراء کے دن روزہ رکھنے کی ترغیب کا بیان
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ صِيَامُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ إِنِّي أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ . وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَمُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، ‏‏‏‏‏‏وَهِنْدِ بْنِ أَسْمَاءَ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ ابْنِ عَفْرَاءَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَلَمَةَ الْخُزَاعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمِّهِ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ذَكَرُوا، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ حَثَّ عَلَى صِيَامِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ لَا نَعْلَمُ فِي شَيْءٍ مِنَ الرِّوَايَاتِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ صِيَامُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ كَفَّارَةُ سَنَةٍ إِلَّا فِي حَدِيثِ أَبِي قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَبِحَدِيثِ أَبِي قَتَادَةَ يَقُولُ أَحْمَدُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاقُ.
Abu Qatadah narrated that : the Prophet said: Fast the Day of Ashura, for indeed I anticipate that Allah will forgive (the sins of) the year before it.
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اللہ سے امید رکھتا ہوں کہ عاشوراء ۱؎ کے دن کا روزہ ایک سال پہلے کے گناہ مٹا دے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں علی، محمد بن صیفی، سلمہ بن الاکوع، ہند بن اسماء، ابن عباس، ربیع بنت معوذ بن عفراء، عبدالرحمٰن بن سلمہ خزاعی، جنہوں نے اپنے چچا سے روایت کی ہے اور عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشوراء کے دن کے روزہ رکھنے پر ابھارا، ۲- ابوقتادہ رضی الله عنہ کی حدیث کے علاوہ ہم نہیں جانتے کہ کسی اور روایت میں آپ نے یہ فرمایا ہو کہ عاشوراء کے دن کا روزہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہے۔ احمد اور اسحاق کا قول بھی ابوقتادہ کی حدیث کے مطابق ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: انظر رقم: ۷۴۹
Explanation
وضاحت: ۱؎ : محرم کی دسویں تاریخ کو یوم عاشوراء کہتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کر کے جب مدینہ تشریف لائے تو دیکھا کہ یہودی اس دن روزہ رکھتے ہیں، آپ نے ان سے پوچھا کہ تم لوگ اس دن روزہ کیوں رکھتے ہو ؟ تو ان لوگوں نے کہا کہ اس دن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو فرعون سے نجات عطا فرمائی تھی اس خوشی میں ہم روزہ رکھتے ہیں تو آپ نے فرمایا : ” ہم اس کے تم سے زیادہ حقدار ہیں “، چنانچہ آپ نے اس دن کا روزہ رکھا اور یہ بھی فرمایا کہ ” اگر میں آئندہ سال زندہ رہا تو اس کے ساتھ ۹ محرم کا روزہ بھی رکھوں گا “ تاکہ یہود کی مخالفت بھی ہو جائے، بلکہ ایک روایت میں آپ نے اس کا حکم دیا ہے کہ ” تم عاشوراء کا روزہ رکھو اور یہود کی مخالفت کرو اس کے ساتھ ایک دن پہلے یا بعد کا روزہ بھی رکھو “۔
752
Sahih
Chapter: What Has Been Related About The Permission To Not Fast The Day Of Ashura
باب: یوم عاشوراء کا روزہ نہ رکھنے کی رخصت کا بیان
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:‏‏‏‏ كَانَ عَاشُورَاءُ يَوْمًا تَصُومُهُ قُرَيْشٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ صَامَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَرَ النَّاسَ بِصِيَامِهِ فَلَمَّا افْتُرِضَ رَمَضَانُ كَانَ رَمَضَانُ هُوَ الْفَرِيضَةُ وَتَرَكَ عَاشُورَاءَ، ‏‏‏‏‏‏فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ . وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَمُعَاوِيَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَالْعَمَلُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ عَلَى حَدِيثِ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ حَدِيثٌ صَحِيحٌ لَا يَرَوْنَ صِيَامَ يَوْمِ عَاشُورَاءَ وَاجِبًا إِلَّا مَنْ رَغِبَ فِي صِيَامِهِ لِمَا ذُكِرَ فِيهِ مِنَ الْفَضْلِ.
Aishah narrated: Ashura was a day that the Quraish used to fast during Jahiliyyah, and the Messenger of Allah used to fast it. But when (the fast of) Ramadan became obligatory, the Ramadan was the required and Ashura was left. So whoever wanted to, he fasted it, and whoever wanted to, he left it.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ عاشوراء ایک ایسا دن تھا کہ جس میں قریش زمانہ جاہلیت میں روزہ رکھتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس دن روزہ رکھتے تھے، جب آپ مدینہ آئے تو اس دن آپ نے روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا، لیکن جب رمضان کے روزے فرض کئے گئے تو صرف رمضان ہی کے روزے فرض رہے اور آپ نے عاشوراء کا روزہ ترک کر دیا، تو جو چاہے اس دن روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے ۱؎، ۲- اس باب میں ابن مسعود، قیس بن سعد، جابر بن سمرہ، ابن عمر اور معاویہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا عمل عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث پر ہے، اور یہ حدیث صحیح ہے، یہ لوگ یوم عاشوراء کے روزے کو واجب نہیں سمجھتے، الا یہ کہ جو اس کی اس فضیلت کی وجہ سے جو ذکر کی گئی اس کی رغبت رکھے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (التحفہ: ۱۷۰۸۸)
Explanation
وضاحت: فائدہ ا؎ : مولف نے حدیث پر حکم تیسرے فقرے میں لگایا ہے۔
753
Sahih
Chapter: What Has Been Related About Which Day Ashura Is
باب: عاشوراء کا دن کون سا ہے؟
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ حَاجِبِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ، قَالَ:‏‏‏‏ انْتَهَيْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ رِدَاءَهُ فِي زَمْزَمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ أَخْبِرْنِي عَنْ يَوْمِ عَاشُورَاءَ أَيُّ يَوْمٍ هُوَ أَصُومُهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا رَأَيْتَ هِلَالَ الْمُحَرَّمِ فَاعْدُدْ ثُمَّ أَصْبِحْ مِنَ التَّاسِعِ صَائِمًا ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ أَهَكَذَا كَانَ يَصُومُهُ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ .
Al-Hakam bin Al-Arfaj said: I met up with Ibn Abbas while he was reclining on his Rida at the Zamzam (well). So I said: 'Inform me about the Day of Ashura. On which day is it fasted?' He said: 'When you see the crescent of Al-Muharram, then count, then fast on the morning of the ninth day.' He said: 'I said: Is this how Muhammad fasted it?' He said: 'Yes.'
حکم بن اعرج کہتے ہیں کہ میں ابن عباس کے پاس پہنچا، وہ زمزم پر اپنی چادر کا تکیہ لگائے ہوئے تھے، میں نے پوچھا: مجھے یوم عاشوراء کے بارے میں بتائیے کہ وہ کون سا دن ہے جس میں میں روزہ رکھوں؟ انہوں نے کہا: جب تم محرم کا چاند دیکھو تو دن گنو، اور نویں تاریخ کو روزہ رکھ کر صبح کرو۔ میں نے پوچھا: کیا اسی طرح سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم رکھتے تھے؟ کہا: ہاں ( اسی طرح رکھتے تھے )
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصیام ۲۰ (۱۱۳۳)، سنن ابی داود/ الصیام ۶۵ (۲۴۴۶)، (التحفہ: ۵۴۱۲)، مسند احمد (۱/۲۴۷)
754
Sahih
Chapter: What Has Been Related About Which Day Ashura Is
باب: عاشوراء کا دن کون سا ہے؟
حدثنا قتيبة حدثنا عبد الوارث عن يونس عن الحسن عن ابن عباس قال:‏‏‏‏ امر رسول الله صلى الله عليه وسلم بصوم عاشوراء يوم العاشر . قال ابو عيسى:‏‏‏‏ حديث ابن عباس حديث حسن صحيح واختلف اهل العلم في يوم عاشوراء فقال بعضهم:‏‏‏‏ يوم التاسع وقال بعضهم:‏‏‏‏ يوم العاشر وروي عن ابن عباس انه قال:‏‏‏‏ صوموا التاسع والعاشر وخالفوا اليهود وبهذا الحديث يقول الشافعي واحمد وإسحاق.
Ibn Abbas narrated: The Messenger of Allah ordered fasting the tenth day for the Day of Ashura.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دسویں تاریخ کو عاشوراء کا روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اہل علم کا عاشوراء کے دن کے سلسلے میں اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں: عاشوراء نواں دن ہے اور بعض کہتے ہیں: دسواں دن ۱؎ ابن عباس سے مروی ہے کہ نویں اور دسویں دن کا روزہ رکھو اور یہودیوں کی مخالفت کرو۔ شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول اسی حدیث کے مطابق ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ۵۳۹۵)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : اکثر علماء کی رائے بھی ہے کہ محرم کا دسواں دن ہی یوم عاشوراء ہے اور یہی قول راجح ہے۔
755
Sahih
Chapter: What Has Been Related About Fasting The Ten (Days Of Dhul-Hijjah)
باب: ذی الحجہ کے پہلے عشرے (ابتدائی دس دن) کے روزوں کا بیان
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:‏‏‏‏ مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَائِمًا فِي الْعَشْرِ قَطُّ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ الْأَعْمَشِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَسْوَدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى الثَّوْرِيُّ وَغَيْرُهُ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُرَ صَائِمًا فِي الْعَشْرِ . وَرَوَى أَبُو الْأَحْوَصِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ الْأَسْوَدِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدِ اخْتَلَفُوا عَلَى مَنْصُورٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏وَرِوَايَةُ الْأَعْمَشِ أَصَحُّ وَأَوْصَلُ إِسْنَادًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وسَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ أَبَانَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ وَكِيعًا، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ الْأَعْمَشُ أَحْفَظُ لِإِسْنَادِ إِبْرَاهِيمَ مِنْ مَنْصُورٍ.
Aishah narrated: I did not see the Prophet fasting at all during the ten.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ذی الحجہ کے دس دنوں میں روزے رکھتے کبھی نہیں دیکھا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اسی طرح کئی دوسرے لوگوں نے بھی بطریق «الأعمش عن إبراهيم عن الأسود عن عائشة» روایت کی ہے، ۲- اور ثوری وغیرہ نے یہ حدیث بطریق «منصور عن ابراہیم النخعی» یوں روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ذی الحجہ کے دس دنوں میں روزہ رکھتے نہیں دیکھا گیا، ۳- اور ابوالا ٔحوص نے بطریق «منصور عن ابراہیم النخعی عن عائشہ» روایت کی اس میں انہوں نے اسود کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے، ۴- اور لوگوں نے اس حدیث میں منصور پر اختلاف کیا ہے۔ اور اعمش کی روایت زیادہ صحیح ہے اور سند کے اعتبار سے سب سے زیادہ متصل ہے، ۵- اعمش ابراہیم نخعی کی سند کے منصور سے زیادہ یاد رکھنے والے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الاعتکاف ۴ (۱۱۷۶)، سنن ابی داود/ الصیام ۶۲ (۲۴۳۹)، سنن ابن ماجہ/الصیام ۳۹ (۱۷۲۹)، (تحفة الأشراف : ۱۵۹۴۹)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : بظاہر اس حدیث سے یہ وہم پیدا ہوتا ہے کہ ذی الحجہ کے ابتدائی دس دنوں میں روزہ رکھنا مکروہ ہے، لیکن یہ صحیح نہیں، ان دنوں میں روزہ رکھنا مستحب ہے، خاص کر یوم عرفہ کے روزہ کی بڑی فضیلت وارد ہے، ویسے بھی ان دنوں کے نیک اعمال اللہ کو بہت پسند ہیں اس لیے اس حدیث کی تاویل کی جاتی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ان دنوں روزہ نہ رکھنا ممکن ہے بیماری یا سفر وغیرہ کسی عارض کی وجہ سے رہا ہو، نیز عائشہ رضی الله عنہا کے نہ دیکھنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ آپ فی الواقع روزہ نہ رکھتے رہے ہوں۔
756
Sahih
Chapter: What Has Been Related About Deeds During The Ten Days (Of Dhul-Hijjah)
باب: ذی الحجہ کے پہلے عشرے (ابتدائی دس دن) کے عمل کے ثواب کا بیان
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ هُوَ الْبَطِينُ وَهُوَ ابْنُ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيهِنَّ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ الْعَشْرِ فَقَالُوا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَلَمْ يَرْجِعْ مِنْ ذَلِكَ بِشَيْءٍ . وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
Ibn Abbas narrated that : the Messenger of Allah said: There are no days in which righteous deeds are more beloved to Allah than those ten days. They said: O Messenger of Allah! Not even Jihad in Allah Cause? The Messenger of Allah said: Not even Jihad in Allah's Cause, unless a man were to out with his self and his wealth and not return from that with anything.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ذی الحجہ کے دس دنوں کے مقابلے میں دوسرے کوئی ایام ایسے نہیں جن میں نیک عمل اللہ کو ان دنوں سے زیادہ محبوب ہوں“، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں، سوائے اس مجاہد کے جو اپنی جان اور مال دونوں لے کر اللہ کی راہ میں نکلا پھر کسی چیز کے ساتھ واپس نہیں آیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر، ابوہریرہ، عبداللہ بن عمرو بن العاص اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/العیدین ۱۱ (۹۶۹)، سنن ابی داود/ الصیام ۶۱ (۲۴۳۷)، سنن ابن ماجہ/الصیام ۳۹ (۱۷۲۷)، (تحفة الأشراف : ۵۶۱۴)، مسند احمد (۱/۲۲۴)، سنن الدارمی/الصوم ۵۲ (۱۸۱۴)
757
Sahih
Chapter: What Has Been Related About Deeds During The Ten Days (Of Dhul-Hijjah)
باب: ذی الحجہ کے پہلے عشرے (ابتدائی دس دن) کے عمل کے ثواب کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مَسْعُودُ بْنُ وَاصِلٍ، عَنْ نَهَّاسِ بْنِ قَهْمٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ مَا مِنْ أَيَّامٍ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ أَنْ يُتَعَبَّدَ لَهُ فِيهَا مِنْ عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ، ‏‏‏‏‏‏يَعْدِلُ صِيَامُ كُلِّ يَوْمٍ مِنْهَا بِصِيَامِ سَنَةٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقِيَامُ كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْهَا بِقِيَامِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مَسْعُودِ بْنِ وَاصِلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ النَّهَّاسِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَلَمْ يَعْرِفْهُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ مِثْلَ هَذَا. وقَالَ:‏‏‏‏ قَدْ رُوِيَ عَنْ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا شَيْءٌ مِنْ هَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ تَكَلَّمَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ فِي نَهَّاسِ بْنِ قَهْمٍ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ.
Abu Hurairah narrated that : the Prophet said: There are no days more beloved to Allah that He be worshipped in them than the ten days of Dhul-Hijjah, fasting every day of them is the equivalent of fasting a year, and standing every night of them (in prayer) is the equivalent of standing on the Night of Qadr.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ذی الحجہ کے ( ابتدائی ) دس دنوں سے بڑھ کر کوئی دن ایسا نہیں جس کی عبادت اللہ کو زیادہ محبوب ہو، ان ایام میں سے ہر دن کا روزہ سال بھر کے روزوں کے برابر ہے اور ان کی ہر رات کا قیام لیلۃ القدر کے قیام کے برابر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف مسعود بن واصل کی حدیث سے اس طریق کے علاوہ جانتے ہیں اور مسعود نے نہّاس سے روایت کی ہے، ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو وہ اسے کسی اور طریق سے نہیں جان سکے، ۴- اس میں سے کچھ جسے قتادہ نے بسند «قتادة عن سعيد بن المسيب عن النبي صلى الله عليه وسلم» مرسلا روایت کی ہے، ۴- یحییٰ بن سعید نے نہاس بن قہم پر ان کے حافظے کے تعلق سے کلام کیا ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الصیام۳۹ (۱۷۲۸) (تحفة الأشراف : ۱۳۰۹۸)
758
Zaeef
Chapter: What Has Been Related About Fasting The Six Days Of Shawwal
باب: شوال کے چھ دن کے روزوں کا بیان
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ فَذَلِكَ صِيَامُ الدَّهْرِ . وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَثَوْبَانَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي أَيُّوبَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدِ اسْتَحَبَّ قَوْمٌ صِيَامَ سِتَّةِ أَيَّامٍ مِنْ شَوَّالٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ:‏‏‏‏ هُوَ حَسَنٌ هُوَ مِثْلُ صِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ:‏‏‏‏ وَيُرْوَى فِي بَعْضِ الْحَدِيثِ وَيُلْحَقُ هَذَا الصِّيَامُ بِرَمَضَانَ، ‏‏‏‏‏‏وَاخْتَارَ ابْنُ الْمُبَارَكِ أَنْ تَكُونَ سِتَّةَ أَيَّامٍ فِي أَوَّلِ الشَّهْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ إِنْ صَامَ سِتَّةَ أَيَّامٍ مِنْ شَوَّالٍ مُتَفَرِّقًا فَهُوَ جَائِزٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَقَدْ رَوَى عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، وَسَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا. وَرَوَى شُعْبَةُ، عَنْ وَرْقَاءَ بْنِ عُمَرَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏وَسَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ هُوَ أَخُو يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ فِي سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ. حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِسْرَائِيلَ أَبِي مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ إِذَا ذُكِرَ عِنْدَهُ صِيَامُ سِتَّةِ أَيَّامٍ مِنْ شَوَّالٍ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ بِصِيَامِ هَذَا الشَّهْرِ عَنِ السَّنَةِ كُلِّهَا.
Abu Ayub narrated that : the Messenger of Allah said: Whoever fasts Ramadan, then follows it with six from Shawwal, then that is (equal in reward) to fasting everyday.
ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رمضان کے روزے رکھے پھر اس کے بعد شوال کے چھ ( نفلی ) روزے رکھے تو یہی صوم الدھر ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوایوب رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- عبدالعزیز بن محمد نے اس حدیث کو بطریق: «صفوان بن سليم بن سعيد عن عمر بن ثابت عن أبي أيوب عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے، ۳- شعبہ نے یہ حدیث بطریق: «ورقاء بن عمر عن سعد بن سعيد» روایت کی ہے، سعد بن سعید، یحییٰ بن سعید انصاری کے بھائی ہیں، ۴- بعض محدثین نے سعد بن سعید پر حافظے کے اعتبار سے کلام کیا ہے۔ ۵- حسن بصری سے روایت ہے کہ جب ان کے پاس شوال کے چھ دن کے روزوں کا ذکر کیا جاتا تو وہ کہتے: اللہ کی قسم، اللہ تعالیٰ اس ماہ کے روزوں سے پورے سال راضی ہے، ۶- اس باب میں جابر، ابوہریرہ اور ثوبان رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۷- ایک جماعت نے اس حدیث کی رو سے شوال کے چھ دن کے روزوں کو مستحب کہا ہے، ۸- ابن مبارک کہتے ہیں: یہ اچھا ہے، یہ ہر ماہ تین دن کے روزوں کے مثل ہیں، ۹- ابن مبارک کہتے ہیں: بعض احادیث میں مروی ہے کہ یہ روزے رمضان سے ملا دیئے جائیں، ۱۰- اور ابن مبارک نے پسند کیا ہے کہ یہ روزے مہینے کے ابتدائی چھ دنوں میں ہوں، ۱۱- ابن مبارک سے نے یہ بھی کہا: اگر کوئی شوال کے چھ دن کے روزے الگ الگ دنوں میں رکھے تو یہ بھی جائز ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصیام ۲۹ (۱۱۶۴)، سنن ابی داود/ الصیام ۵۸ (۲۴۳۳)، سنن ابن ماجہ/الصیام ۳۳ (۱۷۱۶)، سنن الدارمی/الصوم ۴۴ (۱۷۹۵)، (تحفة الأشراف : ۳۴۸۲)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : ” ایک نیکی کا ثواب کم از کم دس گنا ہے “ کے اصول کے مطابق رمضان کے روزے دس مہینوں کے روزوں کے برابر ہوئے اور اس کے بعد شوال کے چھ روزے اگر رکھ لیے جائیں تو یہ دو مہینے کے روزوں کے برابر ہوں گے، اس طرح اسے پورے سال کے روزوں کا ثواب مل جائے گا، جس کا یہ مستقل معمول ہو جائے اس کا شمار اللہ کے نزدیک ہمیشہ روزہ رکھنے والوں میں ہو گا، شوال کے یہ روزے نفلی ہیں انہیں متواتر بھی رکھا جا سکتا ہے اور ناغہ کر کے بھی، تاہم شوال ہی میں ان کی تکمیل ضروری ہے۔
759
Sahih
Chapter: What Has Been Related About Fasting Three (Days) Of Every Month
باب: ہر ماہ تین دن کے روزے رکھنے کا بیان
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ عَهِدَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةً:‏‏‏‏ أَنْ لَا أَنَامَ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَصَوْمَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْ أُصَلِّيَ الضُّحَى .
Abu Hurairah narrated: The Messenger of Allah took a covenant from me for three: To not sleep except after performing Witr, to fast three days of every month, and to perform the Duha prayer.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے تین باتوں کا عہد لیا: ۱- میں وتر پڑھے بغیر نہ سووں، ۲- ہر ماہ تین دن کے روزے رکھوں، ۳- اور چاشت کی نماز ( صلاۃ الضحیٰ ) پڑھا کروں۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ۱۴۸۸۳)
760
Sahih
Chapter: What Has Been Related About Fasting Three (Days) Of Every Month
باب: ہر ماہ تین دن کے روزے رکھنے کا بیان
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ بَسَامٍ يُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ، يَقُولُ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يَا أَبَا ذَرٍّ إِذَا صُمْتَ مِنَ الشَّهْرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، ‏‏‏‏‏‏فَصُمْ ثَلَاثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ . وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏وَقُرَّةَ بْنِ إِيَاسٍ الْمُزَنِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي عَقْرَبٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَتَادَةَ بْنِ مِلْحَانَ، ‏‏‏‏‏‏وَعُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، ‏‏‏‏‏‏وَجَرِيرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي ذَرٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ فِي بَعْضِ الْحَدِيثِ أَنَّ مَنْ صَامَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ كَانَ كَمَنْ صَامَ الدَّهْرَ.
Abu Dharr narrated that : the Messenger of Allah said: O Abu Dharr! When you fast three days out of a month, then fast the thirteenth, fourteenth, and fifteenth.
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوذر! جب تم ہر ماہ کے تین دن کے روزے رکھو تو تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں تاریخ کو رکھو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوذر رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں ابوقتادہ، عبداللہ بن عمرو، قرہ بن ایاس مزنی، عبداللہ بن مسعود، ابوعقرب، ابن عباس، عائشہ، قتادہ بن ملحان، عثمان بن ابی العاص اور جریر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض احادیث میں یہ بھی ہے کہ ”جس نے ہر ماہ تین دن کے روزے رکھے تو وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے صوم الدھر رکھا“۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الصیام ۸۴ (۲۴۲۵)، (تحفة الأشراف : ۱۱۹۸۸)
761
Sahih

Chapters

82
01
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of The Month Of Ramadan
باب: ماہ رمضان کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
02
Chapter: What Has Been Related About: Do Not Precede The Month With Fasting
باب: رمضان کے استقبال کی نیت سے ایک دو روز پہلے روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان
2 Hadith
03
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Fast The Day OF Doubt
باب: شک کے دن روزہ رکھنے کی کراہت کا بیان
1 Hadith
04
Chapter: What Has Been Related About Counting The (Appearances OF) The Crescent Of Sha'ban For Ramadan
باب: رمضان کے لیے شعبان کے چاند کی گنتی کرنے کا بیان
1 Hadith
05
Chapter: What Has Been Related About: Fasting And Breaking Fast Are Based Upon The Sighting (Of The Crescent)
باب: چاند دیکھ کر روزہ رکھنے اور دیکھ کر روزہ بند کرنے کا بیان
1 Hadith
06
Chapter: What Has Been Related About: The Month Is Twenty-Nine Days
باب: مہینہ ۲۹ دن کا بھی ہوتا ہے
2 Hadith
07
Chapter: What Has Been Related About Fasting Based Upon Testimony
باب: چاند دیکھنے کی گواہی پر روزہ رکھنے کا بیان
1 Hadith
08
Chapter: What Has Been Related About: The Two Months Of Eid Will Not Both Be Deficient
باب: عید کے دونوں مہینے کم نہیں ہوتے
1 Hadith
09
Chapter: What Has Been Related About: For The People OF Every Land There Is A Sighting
باب: ہر شہر والوں کے لیے انہیں کے چاند دیکھنے کا اعتبار ہو گا
1 Hadith
10
Chapter: What Has Been Related About What It Is Recommended To Break The Fast With
باب: کس چیز سے روزہ کھولنا مستحب ہے؟
3 Hadith
11
Chapter: What Has Been Related About: (The Fast Is The Day The People Fast And) The Breaking Of The Fast IS The Day When the People Break The Fast, And The Sacrifice Is The Day The People Sacrifice
باب: روزہ کا دن وہی ہے جب سب روزہ رکھیں، عیدالفطر کا دن وہی ہے
1 Hadith
12
Chapter: What Has Been Related About: When The Night Advances And The Day Retreats, Then The Fasting Person Break The Fast
باب: جب رات آ جائے اور دن چلا جائے یعنی سورج ڈوب جائے تو صائم افطار کرے
1 Hadith
13
Chapter: What Has Been Related About Hastening To Break The Fast
باب: افطار میں جلدی کرنے کا بیان
4 Hadith
14
Chapter: What Has Been Related About Delaying The Sahar
باب: سحری تاخیر سے کھانے کا بیان
2 Hadith
15
Chapter: What Has Been Related About Clarifying Al-Fajr
باب: صبح صادق کے واضح ہو جانے کا بیان
2 Hadith
16
Chapter: What Has Been Related About The Severity Of Back Biting For The Fasting Person
باب: روزہ دار کے غیبت کرنے کی شناعت کا بیان
1 Hadith
17
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Sahar
باب: سحری کھانے کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
18
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Fast While Traveling
باب: سفر میں روزہ رکھنے کی کراہت کا بیان
1 Hadith
19
Chapter: What Has Been Related About The Permission To Fast While Traveling
باب: سفر میں روزہ نہ رکھنے کی رخصت کا بیان
3 Hadith
20
Chapter: What Has Been Related About The Permission For The One At War To Break The Fast
باب: مجاہد اور غازی کے لیے روزہ توڑ دینے کی رخصت کا بیان
1 Hadith
21
Chapter: What Has Been Related About The Permission For The Pregnant And Breast-Feeding Women To Break The Fast
باب: حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتوں کو روزہ نہ رکھنے کی رخصت
1 Hadith
22
Chapter: What Has Been Related About Fasting On Behalf Of The Dead
باب: میت کی طرف سے روزہ رکھنے کا بیان
2 Hadith
23
Chapter: (What Has Been Related About The Atonement)
باب: میت کے چھوڑے ہوئے روزے کے کفارہ کا بیان
1 Hadith
24
Chapter: What Has Been Related About The Fasting Person Who Is Overcome By Vomiting
باب: روزہ دار کو (خودبخود) قے آ جائے اس کے حکم کا بیان
1 Hadith
25
Chapter: What Has Been Related About One Who Vomits Purposely
باب: جان بوجھ کر قے کر دینے والے کے حکم کا بیان
1 Hadith
26
Chapter: What Has Been Related About The Fasting Person Eating Or Drinking Forgetfully
باب: روزہ دار بھول کر کچھ کھا پی لے تو کیسا ہے؟
2 Hadith
27
Chapter: What Has Been Related About Breaking The Fast On Purpose
باب: جان بوجھ کر رمضان کے روزے چھوڑ دینے کے حکم کا بیان
1 Hadith
28
Chapter: What Has Been Related About The Atonement For Breaking The Fast During Ramadan
باب: رمضان میں روزہ نہ رکھنے پر عائد کفارہ کا بیان
1 Hadith
29
Chapter: What Has Been Related About The Siwak For The Fasting Person
باب: روزہ دار کے مسواک کرنے کا بیان
1 Hadith
30
Chapter: What Has Been Related About Kuhl For The Fasting Person
باب: روزہ دار کے سرمہ لگانے کا بیان
1 Hadith
31
Chapter: What Has Been Related About Kissing For The Fasting Person
باب: روزہ دار کے بوسہ لینے کا بیان
1 Hadith
32
Chapter: What Has Been Related About Embracing For The Fasting Person
باب: روزہ دار کا بوس و کنار کیا ہے؟
2 Hadith
33
Chapter: What Has Been Related About: There Is No Fast For The One Who Did Not Determine It During The (Preceding) Night
باب: جو رات ہی کو روزے کی نیت نہ کرے اس کا روزہ نہیں
1 Hadith
34
Chapter: What Has Been Related About Breaking The Voluntary Fast
باب: نفلی روزے کے توڑنے کا بیان
2 Hadith
35
Chapter: Performing A Voluntary Fast Without Planning It The Night Before
باب: رات میں روزے کی نیت کئے بغیر نفلی روزہ رکھنے کا بیان
2 Hadith
36
Chapter: What Has Been Reported About: The Obligation On Him To Make Up
باب: نفل روزہ توڑنے پر اس کی قضاء لازم ہے
1 Hadith
37
Chapter: What Has Been Related About Connecting Fasts Of Sha'ban To Ramadan
باب: روزہ رکھ کر شعبان کو رمضان سے ملا دینے کا بیان
2 Hadith
38
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Fast During The Second Half Of Sha'ban For The Sake of Ramdan
باب: رمضان کی تعظیم میں شعبان کے دوسرے نصف میں روزہ رکھنے کی کراہت
1 Hadith
39
Chapter: What Has Been Related About The Middle Night Of Sha'ban
باب: پندرھویں شعبان کی رات کا بیان
3 Hadith
40
Chapter: What Has Been Related About Fasting On Friday
باب: جمعہ کے دن روزہ رکھنے کا بیان
1 Hadith
41
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Fast On Friday Alone
باب: خاص کر صرف جمعہ کو روزہ رکھنے کی کراہیت کا بیان
1 Hadith
42
Chapter: What Has Been Related About Fasting On Saturday
باب: ہفتہ (سنیچر) کے دن کے روزہ کا بیان
1 Hadith
43
Chapter: What Has Been Related About Fasting On Monday And Thursday
باب: سوموار (دوشنبہ) اور جمعرات کے دن روزہ رکھنے کا بیان
3 Hadith
44
Chapter: What Has Been Related About Fasting On Wednesday and Thursday
باب: بدھ اور جمعرات کے روزے کا بیان
1 Hadith
45
Chapter: What Has Been Related About The Virtue OF Fasting On The Day of Arafah
باب: عرفہ کے دن کے روزے کی فضیلت کا بیان
1 Hadith
46
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Fast The Day of Arafah While At Arafat
باب: میدان عرفات میں یوم عرفہ کے روزے کی کراہت کا بیان
2 Hadith
47
Chapter: What Has Been Related About The Encouragement To Fast The Day Of Ashura
باب: عاشوراء کے دن روزہ رکھنے کی ترغیب کا بیان
1 Hadith
48
Chapter: What Has Been Related About The Permission To Not Fast The Day Of Ashura
باب: یوم عاشوراء کا روزہ نہ رکھنے کی رخصت کا بیان
1 Hadith
49
Chapter: What Has Been Related About Which Day Ashura Is
باب: عاشوراء کا دن کون سا ہے؟
2 Hadith
50
Chapter: What Has Been Related About Fasting The Ten (Days Of Dhul-Hijjah)
باب: ذی الحجہ کے پہلے عشرے (ابتدائی دس دن) کے روزوں کا بیان
1 Hadith
51
Chapter: What Has Been Related About Deeds During The Ten Days (Of Dhul-Hijjah)
باب: ذی الحجہ کے پہلے عشرے (ابتدائی دس دن) کے عمل کے ثواب کا بیان
2 Hadith
52
Chapter: What Has Been Related About Fasting The Six Days Of Shawwal
باب: شوال کے چھ دن کے روزوں کا بیان
1 Hadith
53
Chapter: What Has Been Related About Fasting Three (Days) Of Every Month
باب: ہر ماہ تین دن کے روزے رکھنے کا بیان
4 Hadith
54
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of Fasting
باب: روزے کی فضیلت کا بیان
3 Hadith
55
Chapter: What Has Been Related About Fasting Daily
باب: صوم دہر کا بیان
1 Hadith
56
Chapter: What Has Been Related About Fasting Consecutive Days
باب: پے در پے روزہ رکھنے کا بیان
3 Hadith
57
Chapter: What Has Been Related About It Being Dislike To Fast On The Day Of Fitr And The Day Of Nahr
باب: عیدالفطر اور عید الاضحی کے دن روزہ رکھنے کی حرمت کا بیان
2 Hadith
58
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Fast The Days Of Tashriq
باب: ایام تشریق میں روزہ رکھنے کی حرمت کا بیان
1 Hadith
59
Chapter: What Has Been Related About Cupping Being Disliked For The Fasting Person
باب: روزہ دار کے پچھنا لگوانے کی کراہت کا بیان
1 Hadith
60
Chapter: What Has Been Related About Permission For That
باب: روزہ دار کے لیے پچھنا لگوانے کی رخصت کا بیان
3 Hadith
61
Chapter: What Has Been Related About Al-Wisal (Continuous) Fasting Is Disliked
باب: افطار کیے بغیر مسلسل روزہ رکھنے کی کراہت کا بیان
1 Hadith
62
Chapter: What Has Been Related About the Junub (Sexually Impure) Person Who Discovers That It Is Fajr Time When He Wants To Fast
باب: جنبی کو فجر پا لے اور وہ روزہ رکھنا چاہتا ہو تو کیا حکم ہے
1 Hadith
63
Chapter: What Has Been Related About The Fasting Person Accepting The Invitation (To A Meal)
باب: روزہ دار دعوت قبول کرے اس کا بیان
2 Hadith
64
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked For A Woman To Fast Except With The Permission Of Her Husband
باب: شوہر کی اجازت کے بغیر عورت کے نفل روزہ رکھنے کی کراہت کا بیان
1 Hadith
65
Chapter: What Has Been Related About Delay When Making Up For Ramadan
باب: صیام رمضان کی قضاء دیر سے کرنے کا بیان
1 Hadith
66
Chapter: What Has Been Related About The Virtue For The Fasting Person When Others Are Eating In His Presence
باب: روزہ دار کی فضیلت کا بیان جب اس کے پاس کھایا جائے
3 Hadith
67
Chapter: What Has Been Related About The Woman Who Menstruated Makes Up The Fasts But Not The Salat
باب: حائضہ عورت روزہ کی قضاء کرے گی نماز کی نہیں
1 Hadith
68
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Take Excessive Amounts Of Water Into the Nose (Al-Istinshaq) When Fasting
باب: روزہ دار کے لیے ناک میں پانی سرکنے میں مبالغہ کرنے کی کراہت کا بیان
1 Hadith
69
Chapter: What Has Been Related About: One Who Stays With A People Should Not Fast Without Their Permission
باب: جو کسی جماعت کے یہاں آئے تو ان کی اجازت کے بغیر (نفل) روزہ نہ رکھے
1 Hadith
70
Chapter: What Has Been Related I'tikaf
باب: اعتکاف کا بیان
2 Hadith
71
Chapter: What Has Been Related About The Night of Al-Qadr
باب: شب قدر کا بیان
3 Hadith
72
Chapter: Something Else About That
باب: شب قدر سے متعلق ایک اور باب
2 Hadith
73
Chapter: What Has Been Related About Fasting During the Winter
باب: سردی کے روزہ کا بیان
1 Hadith
74
Chapter: What Has Been Related About: And For Those Upon Whom It Is Difficult.
باب: آیت کریمہ: «وعلى الذين يطيقونه» کی تفسیر
1 Hadith
75
Chapter: What Has Been Related About The One Who Ate And Then Went Out To Travel
باب: رمضان میں کھانا کھا کر پھر سفر پر نکلے اس کے حکم کا بیان
2 Hadith
76
Chapter: What Has Been Related About The Gift For The Fasting Person
باب: روزہ دار کے تحفے کا بیان
1 Hadith
77
Chapter: What Has Been Related About When (The Days Of) Al-Fitr and Al-Adha Are
باب: عیدالفطر اور عید الاضحی کب منائی جائے؟
1 Hadith
78
Chapter: What Has Been Related About When One Leaves From I'tikaf
باب: اعتکاف پورا ہونے سے پہلے اس سے نکل آنے پر کیا حکم ہے؟
1 Hadith
79
Chapter: What Has Been Related About: Can The One Performing I'tikaf Leave For His Needs Or Not?
باب: معتکف اپنی ضرورت کے لیے نکل سکتا ہے یا نہیں؟
2 Hadith
80
Chapter: What Has Been Related About Standing (In The Night Prayer) During The Month Of Ramadan
باب: ماہ رمضان کی راتوں میں قیام (تہجد پڑھنے) کا بیان
1 Hadith
81
Chapter: What Has Been Revealed About One Who Provides The Food For A Fasting Person To Break His Fast
باب: روزہ دار کو افطار کرانے کی فضیلت کا بیان
1 Hadith
82
Chapter: Encouragement To Perform The Night Prayer During Ramadan And The Virtues That Accompany It
باب: قیام رمضان (تراویح پڑھنے) کی ترغیب اور اس کی فضیلت کا بیان
1 Hadith
No chapter matched that.