Surat Younus

Surah: 10

Verse: 28

سورة يونس

وَ یَوۡمَ نَحۡشُرُہُمۡ جَمِیۡعًا ثُمَّ نَقُوۡلُ لِلَّذِیۡنَ اَشۡرَکُوۡا مَکَانَکُمۡ اَنۡتُمۡ وَ شُرَکَآؤُکُمۡ ۚ فَزَیَّلۡنَا بَیۡنَہُمۡ وَ قَالَ شُرَکَآؤُہُمۡ مَّا کُنۡتُمۡ اِیَّانَا تَعۡبُدُوۡنَ ﴿۲۸﴾

And [mention, O Muhammad], the Day We will gather them all together - then We will say to those who associated others with Allah , "[Remain in] your place, you and your 'partners.' " Then We will separate them, and their "partners" will say, "You did not used to worship us,

اور وہ دن بھی قابل ذکر ہے جس روز ہم ان سب کو جمع کریں گے پھر مشرکین سے کہیں گے کہ تم اور تمہارے شریک اپنی جگہ ٹھہرو پھر ہم ان کی آپس میں پھوٹ ڈال دیں گے اور ان کے وہ شرکا کہیں گے کہ کیا تم ہماری عبادت نہیں کرتے تھے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The gods of the Idolators will claim Innocence from them on the Day of Resurrection Allah said: وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا ... And the Day whereon We shall gather them all together, Allah will gather together all the creatures of earth, human and Jinn, righteous and rebellious. He said in another Ayah: وَحَشَرْنَـهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ أَحَداً and We shall gather them all together so as to leave not one of them behind. (18:47) ... ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشْرَكُواْ مَكَانَكُمْ أَنتُمْ وَشُرَكَأوُ كُمْ ... then We shall say to those who did associate partners: "Stop at your place! You and your partners." He then will command the idolators to stay where they are and not to move from their destined places so they would be separated from the place of the believers. ... فَزَيَّلْنَا بَيْنَهُمْ ... Then We shall separate them, Similarly, Allah said: وَامْتَازُواْ الْيَوْمَ أَيُّهَا الْمُجْرِمُونَ (It will be said): "And O you the criminals! Get you apart this Day (from the believers). (36:59) Allah also said: وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يَوْمَيِذٍ يَتَفَرَّقُونَ And on the Day when the Hour will be established - that Day shall (all men) be separated (the believers will be separated from the disbelievers). (30:14) In the same Surah Allah said: يَوْمَيِذٍ يَصَّدَّعُونَ On that Day men shall be divided. (30:43) means, they shall be divided in two. This is what will take place when Allah Almighty will come for Final Judgement. The believers intercede to Allah so the Final Judgement may come and they get rid of that state. The Prophet said, نَحْنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى كُومٍ فَوْقَ النَّاس On the Day of Resurrection, we will be in a visible place above the (other) people. Allah tells us here what He is going to command the idolators and their idols to do on the Day of Resurrection ... مَكَانَكُمْ أَنتُمْ وَشُرَكَأوُ كُمْ فَزَيَّلْنَا بَيْنَهُمْ ... "Stop at your place! You and your partners." Then We shall separate them, and that they would deny their worship and claim their innocence from them. Similarly, Allah said: كَلَّ سَيَكْفُرُونَ بِعِبَـدَتِهِمْ Nay, but they will deny their worship of them. (19:82) إِذْ تَبَرَّأَ الَّذِينَ اتُّبِعُواْ مِنَ الَّذِينَ اتَّبَعُواْ When those who were followed declare themselves innocent of those who followed (them). (2:166) and; وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّهِ مَن لاَّ يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَـمَةِ وَهُمْ عَن دُعَأيِهِمْ غَـفِلُونَ وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُواْ لَهُمْ أَعْدَاءً And who is more astray than one who calls on (invokes) besides Allah, such as will not answer him till the Day of Resurrection, and who are (even) unaware of their calls (invocations) to them. And when mankind are gathered (on the Day of Resurrection), they (false deities) will become their enemies. (46:5-6) This refers to the partners responding to those who worshipped them, ... وَقَالَ شُرَكَأوُهُم مَّا كُنتُمْ إِيَّانَا تَعْبُدُونَ and their partners shall say: "It was not us that you used to worship." Then Allah said: فَكَفَى بِاللّهِ شَهِيدًا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ إِن كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغَافِلِينَ

میدان حشر میں سبھی موجود ہوں گے مومن ، کافر ، نیک ، بد ، جن انسان ، سب میدان قیامت میں اللہ کے سامنے جمع ہونگے ۔ سب کا حشر ہوگا ، ایک بھی باقی نہ رہے گا ۔ پھر مشرکوں اور ان کے شریکوں کو الگ کھڑا کر دیا جائے گا ۔ ان مجرموں کی جماعت مومنوں سے الگ ہو جائے گی ، سب جدا جدا گروہ میں بٹ جائیں گے ایک سے ایک الگ ہو جائے گا ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ خود فیصلوں کے لیے تشریف لائے گا ۔ مومن سفارش کر کے اللہ کو لائیں گے کہ وہ فیصلے فرما دے ۔ یہ امت ایک اونچے ٹیلے پر ہوگی ، مشرکین کے شرکا اپنے عابدوں سے بےزاری ظاہر کریں گے اسی طرح خود مشرکین بھی ان سے انجان ہو جائیں گے ۔ سب ایک دوسرے انجان بن جائیں گے ۔ اب بتلاؤ ان مشرکوں سے بھی زیادہ کوئی بہکا ہوا ہے کہ انہیں پکارتے رہے جو آج تک ان کی پکار سے بھی غافل رہے اور آج ان کے دشمن بن کر مقابلے پر آگئے ۔ صاف کہا کہ تم نے ہماری عبادت نہیں کی ۔ ہمیں کچھ خبر نہیں ہماری تمہاری عبادتوں سے بالکل غافل رہے ۔ اسے اللہ خوب جانتا ہے ، نہ ہم نے اپنی عبادت کو تم سے کہا تھا نہ ہم اس سے کبھی خوش رہے ۔ تم اندھی ، نہ سنتی ، بیکار چیزوں کو پوجتے رہے جو خود ہی بےخبر تھے نہ وہ اس سے خوش نہ ان کا یہ حکم ۔ بلکہ تمہاری پوری حاجت مندی کے وقت تمہارے شرک کے منکر ، تمہاری عبادتوں کے منکر بلکہ تمہارے دشمن تھے ۔ اس حی و قیوم ، سمیع و بصیر ، قادر و مالک وحدہ لاشریک کو تم نے چھوڑ دیا جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں نہ تھا ۔ جس نے رسول بھیج کر تمہیں توحید سکھائی اور سنائی تھی سب رسولوں کی زبانی کہلوایا تھا کہ میں ہی معبود ہوں میری ہی عبادت و اطاعت کرو ۔ سوائے میرے کوئی پوجا کے لائق نہیں ۔ ہر قسم کے شرک سے بچو ۔ کبھی کسی طرح بھی مشرک نہ بنو ۔ وہاں ہر شخص اپنے اعمال دیکھ لے گا ۔ اپنی بھلائی برائی معلوم کر لے گا ۔ نیک و بد سامنے آجائے گا ۔ اسرار بے نقاب ہوں گے ، کھل پڑیں گے ، اگلے پچھلے چھوٹے بڑے کام سامنے ہوں گے ۔ نامہ اعمال کھلے ہوئے ہوں گے ، ترازو چڑھی ہوئی ہوگی ۔ آپ اپنا حساب کر لے گا ۔ تبلوا کی دوسری قرات تتلوا بھی ہے ۔ اپنے اپنے کرتوت کے پیچھے ہر شخص ہوگا ۔ حدیث میں ہے ہر امت کو حکم ہوگا کہ اپنے اپنے معبودوں کے پیچھے چل کھڑی ہو جائے ۔ سورج پرست سب سورج کے پیچھے ہوں گے ، چاند پرست چاند کے پیچھے ، بت پرست بتوں کے پیچھے ۔ سارے کے سارے حق تعالیٰ مولائے برحق کی طرف لوٹائے جائیں گے تمام کاموں کے فیصلے اس کے ہاتھ ہوں گے ۔ اپنے فضل سے نیکوں کو جنت میں اور اپنے عدل سے بدوں کو جہنم میں لے جائے گا ۔ مشرکوں کی ساری افرا پردازیاں رکھی کی رکھی رہ جائیں گی ، بھرم کھل جائیں گے ، پردے اٹھ جائیں گے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

28۔ 1 جَمَیْعًا سے مراد، ازل سے ابد تک کے تمام اہل زمین انسان اور جنات ہیں، سب کو اللہ تعالیٰ جمع فرمائے گا جس طرح کہ دوسرے مقام پر فرمایا ( ۙ وَّحَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا) 18 ۔ الکہف :47) ہم ان سب کو اکٹھا کریں گے، کسی ایک کو بھی نہ چھوڑیں گے۔ 28۔ 2 ان کے مقابلے میں اہل ایمان کو دوسری طرف کردیا جائے گا یعنی اہل ایمان اور اہل کفر و شرک کو الگ الگ ایک دوسرے سے ممتاز کردیا جائے گا جیسے فرمایا (وَامْتَازُوا الْيَوْمَ اَيُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ ) 36 ۔ یس :59) اس دن لوگ گروہوں میں بٹ جائیں گے ' یعنی دو گروہوں میں (ابن کثیر) 28۔ 3 یعنی دنیا میں ان کے درمیان آپس میں جو خصوصی تعلق تھا وہ ختم کردیا جائے گا اور ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے اور ان کے معبود اس بات کا ہی انکار کریں گے کہ یہ لوگ ان کی عبادت کرتے تھے، ان کو مدد کے لئے پکارتے تھے، ان کے نام کی نذر نیاز دیتے تھے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤١] زَیّل کے معنی کسی چیز کو اس کے اصل مقام سے ہٹا کر اس طرح الگ کردینا ہے جس سے وہ دوسروں سے ممیز ہوسکے یعنی میدان محشر میں پہلے تو ہم مشرکوں کو اور ان کے معبودوں کو کہیں گے کہ تم اپنی جگہ کھڑے رہو پھر عبادت کرنے والوں کو الگ اور معبودوں کو الگ ایک دوسرے کے آمنے سامنے لا کھڑا کریں گے تاکہ ایک دوسرے کو روبرو ہو کر سوال و جواب کرسکیں۔ [٤٢] ان میں وہ سب اشیاء شامل ہیں جن کی دنیا میں پوجا کی جاتی رہی ہے اس میں شجر و حجر بھی شامل ہیں۔ مویشی بھی، جیسے گائے بیل، فرشتے بھی، انبیاء بھی جیسے عیسیٰ (علیہ السلام) اور عزیر (علیہ السلام) اور بزرگان دین اور مشائخ اور پیران طریقت بھی۔ دیوی دیوتا اور ان کے مجسمے بھی۔ غرض جس جس چیز کی بھی کسی نہ کسی رنگ میں عبادت کی جاتی رہی ہے سب کو وہاں اکٹھا کیا جائے گا۔ [٤٣] اہل قبور پکارنے والوں کی پکار نہیں سنتے :۔ معبودوں میں کچھ ایسی اشیاء ہیں جو بےجان ہیں جیسے پتھر کے بت اور کچھ بےزبان جیسے سورج، چاند ستارے، سانپ اور بیل وغیرہ ان سب چیزوں کو اللہ تعالیٰ قوت گویائی عطا کر دے گا اور وہ اپنے عبادت گزاروں کے سامنے ان کی عبادت کا انکار کردیں گے کیونکہ ان میں نہ جان ہوتی ہے نہ عقل۔ وہ کیا جانیں کہ عبادت کیا ہے اور شرک کیا ؟ لہذا وہ مکمل لاعلمی ظاہر کرنے میں فی الواقع حق بجانب ہوں گے رہے وہ معبود جو ذوی العقول سے تعلق رکھتے ہیں مثلاً فرشتے، انبیاء اور اولیاء جن کی غیر موجودگی میں ان کی عبادت کی جاتی رہی تھی ان کے انکار سے سماع موتیٰ کا ایک اہم مسئلہ حل ہوجاتا ہے جو اکثر مقامات پر شرک کی بنیاد بنا ہوا ہے ؟ قبر پرستی کا رواج محض اس غلط عقیدہ کی وجہ سے پڑگیا ہے کہ مردے سنتے ہیں اس آیت اور بعض دوسری آیات میں واضح طور پر اس کی تردید کی گئی ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھئے میری تصنیف && روح عذاب قبر اور سماع موتیٰ &&

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَيَوْمَ نَحْشُرُھُمْ جَمِيْعًا : اس آیت میں بھی کفار کی ایک رسوائی بیان کی گئی ہے کہ جس دن ہم شروع سے آخر تک کے تمام جن و انس، مسلم و کافر اور نیک و بد کو اکٹھا کریں گے (دیکھیے کہف : ٤٧۔ مریم : ٩٣، ٩٤) اس دن شرک کرنے والوں اور جنھیں وہ شریک بناتے رہے ان سب کو بھی اکٹھا کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں اپنی عظمت و رفعت کے اظہار کے لیے اپنا ذکر جمع کے صیغے سے کیا ہے کہ ” ہم “ جمع کریں گے۔ ورنہ اللہ تعالیٰ کے واحد، احد ہونے میں کیا شک ہے، پورا قرآن ہی یہ سمجھانے کے لیے نازل ہوا کہ وہ ذات پاک وحدہ لا شریک لہ ہے۔ ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا۔۔ : پھر ہم شرک کرنے والوں سے کہیں گے کہ تم اور جنھیں تم نے شریک بنایا تھا اپنی جگہ ٹھہرے رہو، تاکہ تمہارے لیے تمہارے شرک اور شرکاء کی حقیقت واضح ہوجائے۔ فَزَيَّلْنَا بَيْنَھُمْ : ان کے درمیان علیحدگی کرنے سے مراد ایک تو یہ ہے کہ مسلم و کافر الگ الگ کردیے جائیں گے، جیسا کہ فرمایا : (وَامْتَازُوا الْيَوْمَ اَيُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ ) [ یٰسٓ : ٥٩ ] ” اور الگ ہوجاؤ آج اے مجرمو ! “ اور دیکھیے سورة روم (١٤ تا ١٦، ٤٣) اور ایک مطلب یہ ہے کہ شرک کرنے والوں کو اور ان کے قرار دیے گئے شرکاء کو اپنی اپنی جگہ ٹھہرنے کا حکم دے کر ان کی گفتگو کروائی جائے گی۔ مشرک ان سے کہیں گے کہ ہم دنیا میں تمہاری عبادت کرتے رہے، مشکل کے وقت پکارتے رہے، اپنے نفع نقصان کا مالک سمجھتے رہے، قیامت کے دن تمہاری پناہ میں آ کر عذاب سے بچانے کی درخواست کرتے رہے۔ وَقَالَ شُرَكَاۗؤُھُمْ مَّا كُنْتُمْ اِيَّانَا تَعْبُدُوْنَ : وہ شرکاء کہیں گے کہ تم ہماری عبادت تو نہیں کیا کرتے تھے، معلوم نہیں کس کی عبادت کرتے رہے ہو ؟ دنیا میں جن لوگوں کی پرستش کی گئی ان میں سے کچھ وہ تھے جو اپنی پرستش کروانا چاہتے تھے، جیسے فرعون، ابلیس وغیرہ اور کچھ وہ تھے جو یہ نہیں چاہتے تھے، بلکہ اللہ کا شریک کسی کو بھی بنانے سے منع کرتے تھے، جیسے انبیاء و صالحین۔ اب جب اللہ تعالیٰ سب کو جمع کرے گا، تو وہ سب لوگ جن کی عبادت اور پرستش کی گئی اپنے پرستش کرنے والوں سے صاف لاتعلق ہوجائیں گے، جو اپنی پرستش کروانا چاہتے تھے وہ بھی، جیسا کہ سورة بقرہ (١٦٥ تا ١٦٧) میں مذکور ہے اور وہ بھی جو غیر اللہ کی پرستش سے منع کرتے تھے، جیسا کہ مسیح (علیہ السلام) اور دوسرے انبیاء و صلحاء۔ ان سب کی اپنی عبادت کرنے والوں سے اور پوجنے پکارنے والوں سے صاف بری اور لاتعلق ہونے کی کئی وجہیں ہوں گی، جن میں سے پہلی وجہ تو یہ ہوگی کہ یہ مشرک تو اللہ کے سوا کسی اور کو بھی عالم الغیب، ان کے حالات سے واقف اور ان کی فریاد سننے والا سمجھتے رہے اور یہ سمجھ کر دن رات یا علی یا حسن یا حسین یا دستگیر یا داتا یا شکر گنج وغیرہ پکارتے رہے، جب کہ ان حضرات کو کچھ خبر ہی نہ تھی کہ کوئی ہمیں پکار رہا ہے، چناچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا يَسْتَجِيْبُ لَهٗٓ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ وَهُمْ عَنْ دُعَاۗىِٕهِمْ غٰفِلُوْنَ ۝ وَاِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوْا لَهُمْ اَعْدَاۗءً وَّكَانُوْا بِعِبَادَتِهِمْ كٰفِرِيْنَ ) [ الأحقاف : ٥، ٦ ] ” اور اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہے جو اللہ کے سوا انھیں پکارتا ہے جو قیامت کے دن تک اس کی دعا قبول نہیں کریں گے اور وہ ان کے پکارنے سے بیخبر ہیں۔ اور جب سب لوگ اکٹھے کیے جائیں گے تو وہ ان کے دشمن ہوں گے اور ان کی عبادت سے منکر ہوں گے۔ “ دوسری وجہ یہ کہ ان لوگوں کا عقیدہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا بھی کوئی نفع یا نقصان پہنچا سکتا ہے، جب کہ قرآن اترا ہی یہ بتانے کے لیے ہے کہ اللہ کے سوا کوئی نہ نفع پہنچا سکتا ہے نہ نقصان، مثلاً دیکھیے سورة یونس ( ١٠٦، ١٠٧) ، زمر (٣٨) ، مومنون (٨٦ تا ٨٩) ، جن (٢١) اور بہت سی دیگر آیات۔ اس لیے تمام شرکاء کہیں گے کہ ہمارا اختیار ہی کچھ نہ تھا، معلوم نہیں تم کسے پکارتے تھے، بہرحال ہمیں تو نہیں پکارتے تھے۔ تیسری وجہ یہ کہ مشرک لوگ حقیقت میں صرف اپنے وہم و گمان کے بنائے ہوئے مشکل کشاؤں کی پرستش کرتے رہے، جب کہ وہ سب لوگ جن کو یہ پکارتے رہے، ایک بھی نہ اللہ کا شریک تھا نہ کسی اختیار کا مالک۔ اب اپنے گمان کی پوجا کرکے ان کے نام لگانے پر ان کو غصہ آئے گا۔ دیکھیے سورة یونس (٦٦) چوتھی وجہ یہ ہوگی کہ ان ظالموں کے شرک کی وجہ سے ان انبیاء اور صالحین کی قیامت کے دن اللہ کے دربار میں پیشی پڑجائے گی اور ان سے باز پرس ہوگی اور وہ اپنی صفائی اور لاعلمی کا عذر پیش کریں گے، تو ان کے شرک کی وجہ سے، سوال کی وجہ سے جو ان کے دل پر گزرے گی اور پیشی پڑنے پر جو فکر مندی ہوگی ہم اندازہ ہی نہیں کرسکتے کہ اس کی وجہ سے وہ ان سے کس قدر بےزار اور ان کے کتنے زبردست دشمن ہوں گے۔ دیکھیے سورة مائدہ (١١٦ تا ١١٨) رہے وہ بادشاہ اور پیر اور شیطان جو اپنی پرستش کروانا چاہتے تھے اور ان کو شرک پر لگانے والے تھے، وہ خود اپنی مصیبت میں گرفتار ہوں گے، وہ ان کے قابو کہاں آئیں گے، حتیٰ کہ شیطان بھی کہے گا کہ میں نے تم پر کوئی فوج بھیجی تھی ؟ محض تمہیں دعوت دی تھی، تم نہ مانتے، اب نہ میں کسی طرح تمہاری مدد کرسکتا ہوں نہ تم میری۔ دیکھیے سورة ابراہیم (٢١، ٢٢) ۔ اس ساری تفصیل سے معلوم ہوا کہ شرک صرف پتھر کے بتوں یا قبروں کو پکارنے ہی کا نام نہیں بلکہ ان شخصیتوں کو پکارنا ہے جن کے وہ بت ہیں یا قبریں ہیں، ورنہ بت بنانے کی ضرورت کیا تھی، کسی بھی پتھر کو پوج لیتے، بت اور قبر کی نیاز اور سجدے کا صاف مطلب ان شخصیتوں کی پرستش ہے جن کے وہ بت یا قبریں ہیں۔ دیکھیے سورة نوح کی آیت (٢٣) کی تفسیر۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَيَوْمَ نَحْشُرُھُمْ جَمِيْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا مَكَانَكُمْ اَنْتُمْ وَشُرَكَاۗؤُكُمْ۝ ٠ ۚ فَزَيَّلْنَا بَيْنَھُمْ وَقَالَ شُرَكَاۗؤُھُمْ مَّا كُنْتُمْ اِيَّانَا تَعْبُدُوْنَ۝ ٢٨ حشر الحَشْرُ : إخراج الجماعة عن مقرّهم وإزعاجهم عنه إلى الحرب ونحوها، وروي : «النّساء لا يُحْشَرن» أي : لا يخرجن إلى الغزو، ويقال ذلک في الإنسان وفي غيره، يقال : حَشَرَتِ السنة مال بني فلان، أي : أزالته عنهم، ولا يقال الحشر إلا في الجماعة، قال اللہ تعالی: وَابْعَثْ فِي الْمَدائِنِ حاشِرِينَ [ الشعراء/ 36] وَحَشَرْناهُمْ فَلَمْ نُغادِرْ مِنْهُمْ أَحَداً [ الكهف/ 47] ، وسمي يوم القیامة يوم الحشر کما سمّي يوم البعث والنشر، ورجل حَشْرُ الأذنین، أي : في أذنيه انتشار وحدّة . ( ح ش ر ) الحشر ( ن ) ( ح ش ر ) الحشر ( ن ) کے معنی لوگوں کو ان کے ٹھکانہ سے مجبور کرکے نکال کر لڑائی وغیرہ کی طرف لے جانے کے ہیں ۔ ایک روایت میں ہے (83) النساء لایحضرون کہ عورتوں کو جنگ کے لئے نہ نکلا جائے اور انسان اور غیر انسان سب کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ کہا جاتا ہے ۔ حشرت النسۃ مال بنی فلان یعنی قحط سالی نے مال کو ان سے زائل کردیا اور حشر کا لفظ صرف جماعت کے متعلق بولا جاتا ہے قرآن میں ہے : وَابْعَثْ فِي الْمَدائِنِ حاشِرِينَ [ الشعراء/ 36] اور شہروں میں ہر کار سے بھیج دیجئے ۔ اور قیامت کے دن کو یوم الحشر بھی کہا جاتا ہے جیسا ک اسے یوم البعث اور یوم النشور کے ناموں سے موسوم کیا گیا ہے لطیف اور باریک کانوں والا ۔ شرك وشِرْكُ الإنسان في الدّين ضربان : أحدهما : الشِّرْكُ العظیم، وهو : إثبات شريك لله تعالی. يقال : أَشْرَكَ فلان بالله، وذلک أعظم کفر . قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ [ النساء/ 48] ، والثاني : الشِّرْكُ الصّغير، وهو مراعاة غير اللہ معه في بعض الأمور، وهو الرّياء والنّفاق المشار إليه بقوله : جَعَلا لَهُ شُرَكاءَ فِيما آتاهُما فَتَعالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ [ الأعراف/ 190] ، ( ش ر ک ) الشرکۃ والمشارکۃ دین میں شریک دو قسم پر ہے ۔ شرک عظیم یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک ٹھہرانا اور اشراک فلان باللہ کے معنی اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے کے ہیں اور یہ سب سے بڑا کفر ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ [ النساء/ 48] خدا اس گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے ۔ دوم شرک صغیر کو کسی کام میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو بھی جوش کرنے کی کوشش کرنا اسی کا دوسرا نام ریا اور نفاق ہے جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : جَعَلا لَهُ شُرَكاءَ فِيما آتاهُما فَتَعالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ [ الأعراف/ 190] تو اس ( بچے ) میں جو وہ ان کو دیتا ہے اس کا شریک مقرر کرتے ہیں جو وہ شرک کرتے ہیں ۔ خدا کا ( رتبہ ) اس سے بلند ہے ۔ «مَكَانُ»( استکان) قيل أصله من : كَانَ يَكُونُ ، فلمّا كثر في کلامهم توهّمت المیم أصليّة فقیل : تمكّن كما قيل في المسکين : تمسکن، واسْتَكانَ فلان : تضرّع وكأنه سکن وترک الدّعة لضراعته . قال تعالی: فَمَا اسْتَكانُوا لِرَبِّهِمْ [ المؤمنون/ 76] . المکان ۔ بعض کے نزدیک یہ دراصل کان یکون ( ک و ن ) سے ہے مگر کثرت استعمال کے سبب میم کو اصلی تصور کر کے اس سے تملن وغیرہ مشتقات استعمال ہونے لگے ہیں جیسا کہ مسکین سے تمسکن بنا لیتے ہیں حالانکہ یہ ( ص ک ن ) سے ہے ۔ استکان فلان فلاں نے عاجز ی کا اظہار کیا ۔ گو یا وہ ٹہھر گیا اور ذلت کی وجہ سے سکون وطما نینت کو چھوڑدیا قرآن میں ہے : ۔ فَمَا اسْتَكانُوا لِرَبِّهِمْ [ المؤمنون/ 76] تو بھی انہوں نے خدا کے آگے عاجزی نہ کی ۔ ( زيّلنا) ، قيل فيه إعلال بالقلب، مجرّده زال يزول، وأصله زيولنا .. فلمّا اجتمعت الیاء والواو وکانت الأولی منهما ساکنة قلبت الواو ياء وأدغمت مع الیاء الثانية وزنه فيعلنا .. وقیل إن مجرّدة زال يزيل، يقال زلت الشیء عن مکانه أزيله، وعلی ذلک فلیس فيه إعلال، وزنه فعّل بالتضعیف للتکثير لا للتعدية، وهذا هو الأظهر . عبادت العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] . والعِبَادَةُ ضربان : عِبَادَةٌ بالتّسخیر، وهو كما ذکرناه في السّجود . وعِبَادَةٌ بالاختیار، وهي لذوي النّطق، وهي المأمور بها في نحو قوله : اعْبُدُوا رَبَّكُمُ [ البقرة/ 21] ، وَاعْبُدُوا اللَّهَ [ النساء/ 36] . ( ع ب د ) العبودیۃ کے معنی ہیں کسی کے سامنے ذلت اور انکساری ظاہر کرنا مگر العبادۃ کا لفظ انتہائی درجہ کی ذلت اور انکساری ظاہر کرنے بولا جاتا ہے اس سے ثابت ہوا کہ معنوی اعتبار سے العبادۃ کا لفظ العبودیۃ سے زیادہ بلیغ ہے لہذا عبادت کی مستحق بھی وہی ذات ہوسکتی ہے جو بےحد صاحب افضال وانعام ہو اور ایسی ذات صرف الہی ہی ہے اسی لئے فرمایا : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ۔ عبادۃ دو قسم پر ہے (1) عبادت بالتسخیر جسے ہم سجود کی بحث میں ذکر کرچکے ہیں (2) عبادت بالاختیار اس کا تعلق صرف ذوی العقول کے ساتھ ہے یعنی ذوی العقول کے علاوہ دوسری مخلوق اس کی مکلف نہیں آیت کریمہ : اعْبُدُوا رَبَّكُمُ [ البقرة/ 21] اپنے پروردگار کی عبادت کرو ۔ وَاعْبُدُوا اللَّهَ [ النساء/ 36] اور خدا ہی کی عبادت کرو۔ میں اسی دوسری قسم کی عبادت کا حکم دیا گیا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٨) اور جس روز ہم ان کافروں اور ان کے تمام معبودوں کو جمع کریں گے اور ان لوگوں سے جنہوں نے بتوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رکھا تھا کہیں گے کہ تم اور تمہارے معبود اپنی جگہ پر ٹھہرو، پھر ہم ان کے اور ان کے معبودوں کے درمیان پھوٹ ڈال دیں گے۔ تب کافر کہیں گے کہ انہوں نے ہمیں اس کا حکم دیا تھا کہ آپ کو چھوڑ کر ان کی ہم عبادت کریں اور ان کے معبود ان کی تردید کرکے کہیں گے کہ کیا تم ہماری عبادت نہیں کرتے تھے، کفار ان کے جواب میں کہیں گے بیشک تم نے ہمیں اپنی عبادت کا حکم دیا تھا ،

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٨ (وَیَوْمَ نَحْشُرُہُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا مَکَانَکُمْ اَنْتُمْ وَشُرَکَآؤُکُمْ ) یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ لات ‘ منات ‘ عزیٰ وغیرہ کی بات نہیں ہو رہی جن کے بارے میں کسی کو پتا نہیں کہ ان کی اصل کیا تھی ‘ بلکہ یہ اولیاء اللہ ‘ نیک اور برگزیدہ بندوں کی بات ہو رہی ہے جن کے ناموں پر مورتیاں اور بت بنا کر ان کی پوجا کی گئی ہوگی۔ جیسے قوم نوح ( علیہ السلام) نے ودّ ‘ سواع اور یغوث وغیرہ اولیاء اللہ کی پوجا کے لیے ان کے بت بنا رکھے تھے ( اس بارے میں تفصیل سورة نوح میں آئے گی) ۔ ہمارے ہاں صرف یہ فرق ہے کہ بت نہیں بنائے جاتے ‘ قبریں پوجی جاتی ہیں۔ اس سلسلے میں حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) سے اللہ تعالیٰ کے خطاب کی ایک جھلک ہم سورة المائدۃ کے آخری رکوع میں دیکھ آئے ہیں۔ اس لیے یہاں یہ خیال نہیں آنا چاہیے کہ ایسے بلند مرتبہ لوگوں کو اس طرح کا حکم کیونکر دیا جائے گا کہ ٹھہرے رہو اپنی جگہ پر تم بھی اور تمہارے شریک بھی ! بہر حال اللہ تعالیٰ کی شان بہت بلند ہے ‘ جبکہ ایک بندہ تو بندہ ہی ہے ‘ چاہے جتنی بھی ترقی کرلے : اَلرَّبُّ رَبٌّ وَاِنْ تَنَزَّلَ ۔ وَالْعَبْدُ عَبْدٌ وَاِنْ تَرَقّٰی ! (فَزَیَّلْنَا بَیْنَہُمْ وَقَالَ شُرَکَآؤُہُمْ مَّا کُنْتُمْ اِیَّانَا تَعْبُدُوْنَ ) وہ نیک لوگ جنہیں اللہ کا شریک بنایا گیا وہ اس شرک سے بری ہیں ‘ کیونکہ انہوں نے تو اپنی زندگیاں اللہ کی اطاعت میں گزاری تھیں۔ جیسے البقرۃ : ١٣٤ میں بہت واضح انداز میں فرمایا گیا ہے : (تِلْکَ اُمَّۃٌ قَدْ خَلَتْج لَہَا مَا کَسَبَتْ وَلَکُمْ مَّا کَسَبْتُمْ ج) ” وہ ایک جماعت تھی جو گزر گئی ‘ ان کے لیے ہے جو انہوں نے کمایا اور تمہارے لیے ہے جو تم نے کمایا “۔ اگر کوئی شیخ عبدالقادر جیلانی کو پکارتا ہے یا کسی مزار پر جا کر مشرکانہ حرکتیں کرتا ہے تو اس کا وبال صاحب مزار پر قطعاً نہیں ہوگا۔ ان پر تو الٹا ظلم ہو رہا ہے کہ انہیں اللہ کے ساتھ شرک میں ملوث کیا جا رہا ہے۔ چناچہ اللہ کے وہ نیک بندے اللہ کے ہاں ان شرک کرنے والوں کے خلاف استغاثہ کریں گے ‘ کہ وہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر انہیں پکارتے تھے اور ان کے ناموں کی دہائیاں دیتے تھے۔ وہ ان شرک کرنے والوں سے کہیں گے :

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

36. The words of the Qur'anic text are Some Qur'an- commentators have interpreted these words to signify that God will sunder the relationship that has come to exist in the worldly life between false deities and their polytheistic devotees with the result that one will not show any solicitude to the other. But such an interpretation is not consistent with the Arabic literary usage. According to Arabic usage, the words suggest that God will cause the one to become distinct from the other. It is this sense which is reflected in our translation: '. . . We shall remove the veil of strangeness from among them'. What is meant by this is that false deities and their devotees will confront each other, and it will become quite clear as to what distinguishes one group from the other. The polytheists will come to know those they considered to be their gods, and the false deities will also come to know those who had worshipped them.

سورة یُوْنُس حاشیہ نمبر :36 متن میں فَزَیَّلْنَا بَیْنَھُمْ کے الفاظ ہیں ۔ اس کا مفہوم بعض مفسرین نے یہ لیا ہے کہ ہم ان کا باہمی ربط و تعلق توڑ دیں گے تا کہ کسی تعلق کی بنا پر وہ ایک دوسرے کا لحاظ نہ کریں ۔ لیکن یہ معنی عربی محاورے کے مطابق نہیں ہیں ۔ محاورہ عرب کی رو سے اس کا صحیح مطلب یہ ہے کہ ہم ان کے درمیان تمیز پیدا کر دیں گے ، یا ان کو ایک دوسرے سے ممیز کر دیں گے ۔ اسی معنی کو ادا کرنے کے لیے ہم نے یہ طرز بیان اختیار کیا ہے کہ” ان کے درمیان سے اجنبیت کا پردہ ہٹا دیں گے“ یعنی مشرکین اور ان کے معبود آمنے سامنے کھڑے ہوں گے اور دونوں گروہوں کی امتیازی حیثیت ایک دوسرے پر واضح ہوگی ، مشرکین جان لیں گے کہ یہ ہیں وہ جن کو ہم دنیا میں معبود بنائے ہوئے تھے ، اور ان کے معبود جان لیں گے کہ یہ ہیں وہ جنہوں نے ہمیں اپنا معبود بنا رکھا تھا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

16: جن بتوں کو انہوں نے خدا مان رکھا تھا وہ توبے جان تھے، اس لئے انہیں پتہ ہی نہیں تھا کہ یہ لوگ ان کی عبادت کرتے تھے، اس لئے جب اللہ تعالیٰ ان کو زبان عطا فرمائیں گے تو شروع میں تو وہ صاف انکار کردیں گے کہ یہ لوگ ہماری عبادت نہیں کرتے تھے، پھر جب بعد میں انہیں پتہ چلے گا کہ واقعی ان کی عبادت کرتے تھے تو وہ کہیں گے کہ اگر کرتے بھی تھے تو ہمیں اس کا پتہ نہیں تھا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٢٨۔ پہلے صور کے ساتھ سب دنیا فنا ہو کر دوسرے صور کے ساتھ سب قبروں سے ننگے پنڈے ننگے پاؤں جو اٹھیں گے اور شام کے ملک کے ایک صاف میدان میں حساب کے لئے جمع ہوں گے یہ اس وقت کا حال ہے اسی وقت آفتاب نیچا ہوگا اور شدت کی گرمی ہو کر لوگوں کو اپنے اپنے اعمال کے موافق پسینا آوے گا کسی کو ٹخنوں تک اور کسی کو گھٹنوں تک اور کوئی اپنے پسینے میں غوطے کھاوے گا اور چالیس برس تک لوگ اسی حال میں حساب کے منتظر کھڑے رہیں گے اس حال سے لوگ یہاں تک اکتاویں گے کہ کہیں گے خیر ہمارا حساب ہو کہ ہم دوزخ میں ہی بھیج دئیے جاویں۔ آفتاب جو نیچا ہوگا اس کی مقدار کی بابت مقداد (رض) کی روایت سے مسلم کی حدیث میں یہ ہے کہ لوگوں کے سروں سے صرف ایک میل اونچا رہ جاوے گا۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ جس روز سے آدمی پیدا ہوتا ہے موت کا دن اس پر بڑا سخت ہے۔ مگر موت کے بعد کی گھاٹیاں موت سے بھی زیادہ سخت ہیں اور اس حشر کے دن کو بھی آپ نے ان سخت گھاٹیوں میں سے گنا ہے۔ یہ روایت انس بن مالک (رض) سے مسند امام احمد میں ہے اور اس کی سند معتبر ہے اسی دن کی سختی سے لوگ گھبرا کر سب انبیاء کے پاس اس سفارش کے لئے جاویں گے کہ ان کا حساب و کتاب جلدی شروع ہو آخر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شفاعت سے حساب شروع ہوگا۔ جس نے کسی پر کچھ ظلم زیادتی کی ہے اس کا بدلہ اسی میدان میں ہوگا معتبر سند سے مسند امام احمد میں ابوہریرہ (رض) کی روایت سے اس کا ذکر ہے اسی انصاف کے وقت اللہ تعالیٰ بتوں کو مجرموں کی طرح کھڑے رہنے کا حکم دیوے گا اور وہ اپنی پرستش کئے جانے کا انکار کریں گے جس کا ذکر اس آیت میں ہے حساب و کتاب شروع ہوتے ہی پہلے فقیر اور مسکین دیندار کو آواز دی جاوے گی اور مال دار لوگوں سے پانسو برس پہلے ان کو جنت میں داخل ہونے کا حکم ہوجاوے گا مالدار لوگ اپنے مال کے حساب میں لگے رہیں گے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میدان حشر میں لوگوں کا پسینا اس قدر جمع ہوگا کہ اس میں کشتیاں چلاؤ تو چل سکیں گے معتبر سند سے مسند امام احمد میں انس بن مالک (رض) کی روایت سے اس کا ذکر ہے حضرت عائشہ (رض) اور ام سلمہ (رض) نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا کہ حشر کے دن مرد و عورت سب اٹھیں گے تو ایک دوسرے کو ننگا دیکھیں گے آپ نے فرمایا اس دن کی سختی سے ایسی بد حواسی ہوگی کہ کوئی کسی کی طرف نہ دیکھے گا۔ حضرت عائشہ (رض) کی یہ حدیث صحیح بخاری معتبر سند سے اوسط طبرانی میں ہے نمرود نے آگ میں ڈالتے وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ننگا کیا تھا اس لئے سب سے پہلے ان کو اس دن کپڑے پہنائے جاویں گے۔ چناچہ صحیح بخاری و مسلم کی حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) کی روایت میں اس کا ذکر ہے۔ دیندار مسلمانوں کو یہ دن ایسا معلوم ہوگا جیسا ایک فرض نماز کے ادا کرنے میں وقت لگتا ہے یا قریب غروب آفتاب اور مغرب کے وقت شروع ہونے میں جتنی دیر لگتی ہے صحیح ابن حبان مسند ابی یعلی اور مسند امام احمد میں معتبر سند ہے ابوہریرہ (رض) اور ابو سعید خدری (رض) کی روایتیں ہیں ان میں اس کا ذکر تفصیل سے ہے اگرچہ بعض روایتوں میں یہ ہے کہ تنگدست دیندار مال داروں سے چالیس برس پہلے جنت میں جاویں گے لیکن پانسو برس کی ابوہریرہ (رض) کی روایت ترمذی میں ہے اور ترمذی نے اس کو صحیح کہا ہے۔ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے کہ مشرکوں اور ان کے جھوٹے معبودوں سے جب یہ سوال و جواب ہوں گے اور یہ جھوٹے معبود اپنی پرستش کرنے والوں سے بیزاری ظاہر کریں گے تو ان مشرکوں کا دل یہاں تک جلے گا کہ یہ لوگ دوبارہ دنیا میں آنے اور اپنے جھوٹے معبودوں سے بیزاری کا برتاؤ کرنے کی تمنا ظاہر کریں گے لیکن یہ بےوقت کی تمنا ان کی کچھ مفید نہ ہوگی حاصل یہ ہے کہ سورة بقر کی آیت { اذ تبر الذین اتبعوا من الذین اتبعوا۔ (٢: ١٦٦)} گویا اس آیت کی تفسیر ہے حاصل اس تفسیر کا یہ ہے کہ اب دنیا میں یہ مشرک لوگ جن جھوٹے معبودوں کی بڑی رغبت سے پوجا کرتے ہیں حشر کے دن یہ ایک دوسرے کے دشمن ہوجاویں گے اور اس دن تمام خلق اللہ کے روبرو انہیں اس غلط پوجا سے پچھتانا پڑے گا لیکن وہ بےوقت کا پچھتانا ان کے کچھ کام نہ آوے گا { فزیلنا بینھم } کی تفسیر سلف نے نفرقنا بینھم کی ہے جس کا مطلب وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا کہ ان مشرکوں اور ان کے جھوٹ معبودوں میں ایسی پھوٹ پڑجاوے گی کہ یہ آیس میں ایک دوسرے کے دشمن ہوجاویں گے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(10:28) مکانکم۔ ای الزموا مکانکم ولا تبرحوا۔ اپنی اپنی جگہ پر ٹھہر جاؤ۔ اپنی اپنی جگہ کو مت چھوڑو۔ اپنی اپنی جگہ پر قائم رہو۔ زیلنا۔ زیل یزیل تزییل (تفعیل) متفرق اور پراگندہ کرنا۔ زیلنا۔ ماضی جمع متکلم۔ ہم نے جدا کردیا۔ ہم نے تفریق کردی۔ فزیلنا بینہم پھر ہم ان کے باہمی تعلقات منقطع کردیں گے۔ ماضی بمعنی مضارع زیل مادہ۔ ما کنتم ایان تعبدون ۔ ما نافیہ ہے۔ تم ہماری تو عبادت نہیں کیا کرتے تھے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8 ۔ اس آیت میں بھی کفار کی فضیحت کا بیان ہے۔ (کبیر) یعنی مشرکین اور ان کے معبودوں کو ایک جگہ جمع ہونے کا حکم دیں گے تاکہ ان کے معاملے کا فیصلہ کیا جائے۔9 ۔ یعنی ان کے درمیان دنیا میں جو دوستی یا عبدیت و معبودیت کا تعلق تھا وہ منقطع ہوجائے گا۔ مطلب یہ ہے کہ مشرکین تو یہ سمجھتے ہیں کہ یہ بت ہمارے شفیع بنیں گے مگر یہ قیامت کے دن ان سے اظہار برأت کرینگے اس میں مشرکین کی انتہائی رسوائی کی طرف اشارہ ہے۔ (کبیر) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں کو جہنم دھکیلنے سے پہلے ایک مقام پر ٹھہرا کر یہ سوال کیا جائے گا۔ لوگوں کے درمیان جب عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ صادر ہوجائے گا تو جنتیوں کو جنت میں داخلے کی اجازت دی جائے گی۔ وہ شاداں وفرحاں، خراماں خراماں جنت میں داخل ہوں گے اور جگہ جگہ ملائکہ انہیں سلام پیش کریں گے۔ ان کے مقابلے میں جب جہنمیوں کو جہنم کی طرف دھکیلا جائے گا تو لمحہ لمحہ اور قد م قدم پر ان پر اللہ کی پھٹکار اور ملائکہ کی جھڑکیاں ہوں گی۔ جہنم کے کنارے کھڑا کرکے ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا تم ان معبودوں کی عبادت کرتے تھے ؟ جہنم کی ہولناکیاں اور اللہ تعالیٰ کے غضب کو دیکھتے ہوئے مشرکین کے معبود واشگاف الفاظ میں انکار کرتے ہوئے مریدوں سے کہیں گے تم ہماری عبادت کب کیا کرتے تھے ؟ جہنمی جن کی عبادت کیا کرتے تھے وہ تین قسم کے معبود ہوں گے۔ انبیاء عظام، اولیاء کرام۔ ، ملائکہ اور نیک جنات یہ سب کے سب مشرکین کی عبادت اور اپنی طرف منسوب شرکیہ اعمال کا انکار کریں گے۔ جب مشرکین اپنی جان بچانے کی خاطر بار بار اصرار کریں گے تو صالح لوگ کہیں گے کہ ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ ہی گواہ ہے۔ ہمیں تو کوئی خبر نہیں کہ ہمارے بعد ہماری عبادت کرتے تھے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ویوم نحشرھم جمیعًا اور وہ دن بھی یاد کرو جب ہم ان سب کو جمع کریں گے ‘ یعنی دونوں فریقوں کو۔ ثم نقول للذین اشرکوا مکانکم انتم وشرکآؤکم پھر ہم مشرکوں سے کہیں گے : تم اور جن کو تم شریک بناتے تھے (سب) اپنی جگہ ٹھہرو۔ تاکہ جو عمل ہم تمہارے ساتھ کرتے ہیں اس کو دیکھ لو۔ شرکاء سے مراد بت ہیں۔ فزیلنا بینھم پھر ہم ان (کافروں اور ان کے معبودوں) کے درمیان پھوٹ ڈال دیں گے۔ یعنی ان کے دنیوی رشتے اور تعلقات ہم کاٹ دیں گے یہاں تک کہ باطل معبود اپنے پجاریوں سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔ یا یہ مطلب ہے کہ ہم مؤمنوں سے ان کو الگ کردیں گے۔ دوسری روایت میں بھی یہ مضمون آیا ہے ‘ فرمایا ہے : وَامْتَازُوْا الْیَوْمَ اَیَّھَا الْمُجْرِمُوْنَ ۔ وقال شرکاؤھم ما کنتم ایانا تعبدون۔ اور ان سے ان کے شرکاء یعنی بت کہیں گے : تم ہماری پوجا نہیں کرتے تھے۔ مطلب یہ کہ اپنی پوجا کرنے کا ہم نے ان کو حکم نہیں دیا تھا (انہوں نے خواہ مخواہ ازخود ہم کو معبود بنایا تھا) اللہ بتوں کو گویا بنا دیں گے ‘ وہ بجائے شفاعت کرنے کے رو در رو کافروں سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ شرکاء سے مراد ملائکہ اور مسیح ہیں۔ مسیح اور ملائکہ نے مشرکوں کو حکم نہیں دیا تھا کہ تم ہماری پوجا کرو ‘ نہ وہ کافروں کے اس فعل کو پسند کرتے تھے۔ معبودان باطل جب مذکورۂ بالا کلام کریں گے تو مشرک کہیں گے : ہرگز نہیں ‘ ہم تو تمہاری پوجا کرتے تھے۔ اس کے جواب میں بت کہیں گے : فکفٰے باللہ شھیدًا بیننا وبینکم ان کنا عن عبادتکم لغٰفلین۔ سو ہمارے تمہارے درمیان اللہ کافی گواہ ہے ہم تو تمہاری عبادت سے بیخبر تھے ‘ نہ سنتے تھے ‘ نہ دیکھتے تھے ‘ نہ سمجھتے تھے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

باطل معبود اپنے پرستاروں سے کہیں گے کہ ہم تمہاری عبادت سے غافل تھے ان آیات میں روز قیامت کا ایک منظر بیان فرمایا ہے ارشاد فرمایا کہ وہ دن قابل ذکر ہے جبکہ ہم سب کو جمع کریں گے۔ جمع ہونے والوں میں موحدین بھی ہوں گے اور مشرکین بھی ‘ مشرکین جن کی عبادت کرتے تھے وہ بھی حاضر ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا کہ شرک کرنے والو ! تم اور تمہارے وہ معبود جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا پوجا کرتے تھے اپنی جگہ پر ٹھہرے رہو۔ یعنی انتظار کرو اور دیکھو تمہارے ساتھ کیا معاملہ کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد ان کے درمیان جدائی کردی جائے گی۔ مشرکین جن کی عبادت کرتے تھے وہ اپنی پرستش کرنے والوں سے کہیں گے کہ تم ہماری عبادت نہیں کرتے تھے۔ وہ کہیں گے کہ ہاں ضرور ہم تمہارے پر ستار تھے۔ اس پر ان کے معبود کہیں گے کہ ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے۔ ہم تو تمہاری عبادت سے غافل تھے۔ بعض مفسرین نے یہاں یہ اشکال کیا ہے کہ وہ دن سچ بولنے کا ہے وہاں ان سے جھوٹ کیسے صادر ہوگا ؟ یہ اشکال بےوزن ہے کیونکہ مشرکین کے جھوٹ بولنے کی تصریح سورة انعام میں موجود ہے پھر اسی ذیل میں یہ بات بھی آگئی کہ وہ جو اللہ تعالیٰ کو اس بات پر گواہ بنائیں گے کہ ہم تمہاری عبادت سے غافل تھے ان کا اللہ تعالیٰ کو گواہی کے طور پر پیش کرنا بھی جھوٹ ہوگا بہر صورت مشرکوں اور ان کے معبودوں کے درمیان جدائی ہوجائے گی۔ تعلقات منقطع ہوجائیں گے (خواہ ایک ہی طرف سے ہوں جیسا کہ بتوں سے ان کا تعلق تھا اور بت جامد اور ناسمجھ تھے) اور یہ واضح ہوجائے گا کہ مشرکین کا کوئی مددگار نہیں ہے۔ جن لوگوں کو سفارشی بنا کر عبادت کی تھی وہ خود دوزخ میں ہوں گے اور اپنے عبادت گزاروں سے بیزار ہوچکے ہوں گے ‘ کما فی سورة الانعام (وَمَا نَرٰی مَعَکُمْ شُفَعَآءَکُمُ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ اَنَّھُمْ فِیْکُمْ شُرَکٰؤُا لَقَدْ تَّقَطَّعَ بَیْنَکُمْ وَضَلَّ عَنْکُمْ مَّا کُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ ) (اور ہم تمہارے ہمراہ ان شفاعت کرنے والوں کو نہیں دیکھتے جن کی نسبت تم دعویٰ کرتے تھے کہ وہ تمہارے معاملے میں شریک ہیں۔ واقعی تمہارا آپس کا تعلق ختم ہوگیا اور تمہارا دعویٰ سب گیا گزرا ہوگیا۔ )

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

43: تخویف اخروی مع بیان ثمرہ دلیل۔ “ مَکَانَکُمْ ” سے پہلے فعل ناصب محذوف ہے اي الزموا۔ مذکورہ بالا دلائل سے روز روشن کی طرح واضح ہوگیا کہ مشرکین جن معبودانِ باطلہ کی عبادت کرتے اور جن کو عنداللہ شفیعِ غالب خیال کرتے ہیں وہ محض عاجز و درماندہ ہیں اور ان کے اختیار میں کسی کا نفع و ضرر نہیں یہاں بطور نتیجہ اور ثمرہ آخرت کا منظر پیش کیا گیا کہ دیکھ لو جن کو تم متصرف و کارساز اور سفارشی سمجھتے ہو قیامت کے دن وہ تمہارے کام تو کیا آئیں گے یا تمہاری سفارز تو کیا کریں گے بلکہ وہ تو سرے سے تمہاری عبادت اور پکار ہی کا انکار کدیں گے اور میدانِ حشر میں علی رؤوس الشہاد خدا کی قسم کھا کر اعلان کریں گے کہ وہ تمہاری عبادت اور پکار سے بالکل بیخبر تھے اور انہیں اس بات کا قطعاً کوئی علم نہیں کہ کون ان کی قبر پر آیا، کس نے ان کی قبروں پر سجدے کئے، کون ان کے نام کی نذریں منتیں دیتا رہا اور کون انہیں حاجت روائی کے لیے پکارتا رہا۔ اس سے سماع موتی کی نفی مفہوم ہے۔ کَما لا یخفی علی من له ادنی فھم و تدبر۔ 44:“ شُرَکَاء ” سے یہاں فرشتے، پیغمبر اور اولیاء اللہ (رح) مراد ہیں جن کے مجسمے بنا کر مشرکین ان کی عبادت کرتے ہیں یا جن مردانِ حق کی قبروں پہ جا کر ان کو پکارتے ہیں قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب طلبی ہوگی کہ کیا یہ لوگ دنیا میں تمہیں پکارتے تھے اور کیا تم نے انہیں اس بات کی تعلیم دی تھی یا ان مشرکانہ افعال کا ان کو حکم دیا تھا تو وہ صاف انکار کریں گے “ بارے خدایا ! ہم نے ان کو شرک کی تعلیم ہرگز نہیں دی، نہ اس پر راضی تھے بلکہ ہمیں تو ان مشرکانہ افعال کا علم بھی نہیں۔ قیل المراد بالشرکاء الملئکة والمسیح فانھم ما امروا بھا ولا رضوا بھا (مظہری ج 5 ص 24) والمراد بالشرکاء قیل الملئکة و عزیر والمسیح وغیرھم ممن عبدوہ من اولی العلم الخ (ابو السعود ج 4 ص 822) ۔ یہ مضمون قرآن مجید میں اور کوئی جگہوں میں اس سے زیادہ وضاحت کے ساتھ موجود ہے۔ سورة الفرقان رکوع 2 میں ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان نیک لوگوں سے فرمائے گا جن کی دنیا میں عبادت کی گئی۔ “ ءَ اَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِيْ ھٰؤلَاءِ اَمْ ھُمْ ضَلُّوْا السَّبِیْلَ ” کیا میرے ان بندوں کو تم نے گمراہ کیا تھا اور انہیں شرک کی تعلیم دی تھی یا وہ خود ہی گمراہ ہوئے تو نیک لوگ جواب دیں گے۔ “ سُبْحٰنَکَ مَا کَانَ یَنْبَغِیْ لَنَا اَنْ نَّتَّخِذَ مِنْ دُوْنِکَ مِنْ اَوْلِیَاءَ ” اے اللہ تو ہر شرک سے پاک ہے ہم نے دنیا میں اپنی ذات کیلئے تیرے سوا کسی کو کارساز نہیں بنایا تو اوروں کو ہم کیونکر شرک کی راہ پر ڈال سکتے تھے اسی طرح ایک جگہ فرشتوں کے بارے میں میں ارشاد ہے “ وَ یَوْمَ یَحْشُرُھُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ یَقُوْلُ لِلْمَلٓئِکَةِ اَھٰؤُلاءِ اِیَّاکُمْ کَانُوْا یَعْبُدُوْنَ ۔ قَالُوْا سُبْحٰنَکَ اَنْتَ وَلِیُّنَا مِنْ دُوْنِھِمْ بَلْ کَانُوْا یَعْبُدُوْنَ الْجِنَّ اَکْثَرُھُمْ بِھِمْ مُّؤمِنُوْنَ ” (سبا، رکوع 5) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

28 اور وہ دن قابل ذکر ہے کہ جس دن ہم ان کو جمع کریں گے پھر ہم ان سے کہیں گے کہ جنہوں نے شرک کا ارتکاب کیا ہے اور جو مشرک ہیں کہ تم اور تمہارے وہ خود ساختہ شریک اپنی انی جگہ کھڑے رہو پھر ہم ان مشرکوں میں اور ان کے تجویزکردہ شرکاء اور معبودان باطلہ میں تفرقہ اور پھوٹ ڈال دیں گے اور وہ خود ساختہ شریک ان مشرکوں سے کہیں گے تم تو ہم کو نہیں پوجا کرتے تھے اور تم تو ہماری پرستش نہیں کرتے تھے۔