The gods of the Idolators will claim Innocence from them on the Day of Resurrection
Allah said:
وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا
...
And the Day whereon We shall gather them all together,
Allah will gather together all the creatures of earth, human and Jinn, righteous and rebellious.
He said in another Ayah:
وَحَشَرْنَـهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ أَحَداً
and We shall gather them all together so as to leave not one of them behind. (18:47)
...
ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشْرَكُواْ مَكَانَكُمْ أَنتُمْ وَشُرَكَأوُ
كُمْ
...
then We shall say to those who did associate partners: "Stop at your place! You and your partners."
He then will command the idolators to stay where they are and not to move from their destined places so they would be separated from the place of the believers.
...
فَزَيَّلْنَا بَيْنَهُمْ
...
Then We shall separate them,
Similarly, Allah said:
وَامْتَازُواْ الْيَوْمَ أَيُّهَا الْمُجْرِمُونَ
(It will be said): "And O you the criminals! Get you apart this Day (from the believers). (36:59)
Allah also said:
وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يَوْمَيِذٍ يَتَفَرَّقُونَ
And on the Day when the Hour will be established - that Day shall (all men) be separated (the believers will be separated from the disbelievers). (30:14)
In the same Surah Allah said:
يَوْمَيِذٍ يَصَّدَّعُونَ
On that Day men shall be divided. (30:43)
means, they shall be divided in two.
This is what will take place when Allah Almighty will come for Final Judgement. The believers intercede to Allah so the Final Judgement may come and they get rid of that state.
The Prophet said,
نَحْنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى كُومٍ فَوْقَ النَّاس
On the Day of Resurrection, we will be in a visible place above the (other) people.
Allah tells us here what He is going to command the idolators and their idols to do on the Day of Resurrection
...
مَكَانَكُمْ أَنتُمْ وَشُرَكَأوُ
كُمْ فَزَيَّلْنَا بَيْنَهُمْ
...
"Stop at your place! You and your partners." Then We shall separate them,
and that they would deny their worship and claim their innocence from them.
Similarly, Allah said:
كَلَّ سَيَكْفُرُونَ بِعِبَـدَتِهِمْ
Nay, but they will deny their worship of them. (19:82)
إِذْ تَبَرَّأَ الَّذِينَ اتُّبِعُواْ مِنَ الَّذِينَ اتَّبَعُواْ
When those who were followed declare themselves innocent of those who followed (them). (2:166)
and;
وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّهِ مَن لاَّ يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَـمَةِ وَهُمْ عَن دُعَأيِهِمْ غَـفِلُونَ
وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُواْ لَهُمْ أَعْدَاءً
And who is more astray than one who calls on (invokes) besides Allah, such as will not answer him till the Day of Resurrection, and who are (even) unaware of their calls (invocations) to them. And when mankind are gathered (on the Day of Resurrection), they (false deities) will become their enemies. (46:5-6)
This refers to the partners responding to those who worshipped them,
...
وَقَالَ شُرَكَأوُهُم مَّا كُنتُمْ إِيَّانَا تَعْبُدُونَ
and their partners shall say: "It was not us that you used to worship."
Then Allah said:
فَكَفَى بِاللّهِ شَهِيدًا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ إِن كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغَافِلِينَ
میدان حشر میں سبھی موجود ہوں گے
مومن ، کافر ، نیک ، بد ، جن انسان ، سب میدان قیامت میں اللہ کے سامنے جمع ہونگے ۔ سب کا حشر ہوگا ، ایک بھی باقی نہ رہے گا ۔ پھر مشرکوں اور ان کے شریکوں کو الگ کھڑا کر دیا جائے گا ۔ ان مجرموں کی جماعت مومنوں سے الگ ہو جائے گی ، سب جدا جدا گروہ میں بٹ جائیں گے ایک سے ایک الگ ہو جائے گا ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ خود فیصلوں کے لیے تشریف لائے گا ۔ مومن سفارش کر کے اللہ کو لائیں گے کہ وہ فیصلے فرما دے ۔ یہ امت ایک اونچے ٹیلے پر ہوگی ، مشرکین کے شرکا اپنے عابدوں سے بےزاری ظاہر کریں گے اسی طرح خود مشرکین بھی ان سے انجان ہو جائیں گے ۔ سب ایک دوسرے انجان بن جائیں گے ۔ اب بتلاؤ ان مشرکوں سے بھی زیادہ کوئی بہکا ہوا ہے کہ انہیں پکارتے رہے جو آج تک ان کی پکار سے بھی غافل رہے اور آج ان کے دشمن بن کر مقابلے پر آگئے ۔ صاف کہا کہ تم نے ہماری عبادت نہیں کی ۔ ہمیں کچھ خبر نہیں ہماری تمہاری عبادتوں سے بالکل غافل رہے ۔ اسے اللہ خوب جانتا ہے ، نہ ہم نے اپنی عبادت کو تم سے کہا تھا نہ ہم اس سے کبھی خوش رہے ۔ تم اندھی ، نہ سنتی ، بیکار چیزوں کو پوجتے رہے جو خود ہی بےخبر تھے نہ وہ اس سے خوش نہ ان کا یہ حکم ۔ بلکہ تمہاری پوری حاجت مندی کے وقت تمہارے شرک کے منکر ، تمہاری عبادتوں کے منکر بلکہ تمہارے دشمن تھے ۔ اس حی و قیوم ، سمیع و بصیر ، قادر و مالک وحدہ لاشریک کو تم نے چھوڑ دیا جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں نہ تھا ۔ جس نے رسول بھیج کر تمہیں توحید سکھائی اور سنائی تھی سب رسولوں کی زبانی کہلوایا تھا کہ میں ہی معبود ہوں میری ہی عبادت و اطاعت کرو ۔ سوائے میرے کوئی پوجا کے لائق نہیں ۔ ہر قسم کے شرک سے بچو ۔ کبھی کسی طرح بھی مشرک نہ بنو ۔ وہاں ہر شخص اپنے اعمال دیکھ لے گا ۔ اپنی بھلائی برائی معلوم کر لے گا ۔ نیک و بد سامنے آجائے گا ۔ اسرار بے نقاب ہوں گے ، کھل پڑیں گے ، اگلے پچھلے چھوٹے بڑے کام سامنے ہوں گے ۔ نامہ اعمال کھلے ہوئے ہوں گے ، ترازو چڑھی ہوئی ہوگی ۔ آپ اپنا حساب کر لے گا ۔ تبلوا کی دوسری قرات تتلوا بھی ہے ۔ اپنے اپنے کرتوت کے پیچھے ہر شخص ہوگا ۔ حدیث میں ہے ہر امت کو حکم ہوگا کہ اپنے اپنے معبودوں کے پیچھے چل کھڑی ہو جائے ۔ سورج پرست سب سورج کے پیچھے ہوں گے ، چاند پرست چاند کے پیچھے ، بت پرست بتوں کے پیچھے ۔ سارے کے سارے حق تعالیٰ مولائے برحق کی طرف لوٹائے جائیں گے تمام کاموں کے فیصلے اس کے ہاتھ ہوں گے ۔ اپنے فضل سے نیکوں کو جنت میں اور اپنے عدل سے بدوں کو جہنم میں لے جائے گا ۔ مشرکوں کی ساری افرا پردازیاں رکھی کی رکھی رہ جائیں گی ، بھرم کھل جائیں گے ، پردے اٹھ جائیں گے ۔