Surat ul Humaza

Surah: 104

Verse: 2

سورة الهمزة

الَّذِیۡ جَمَعَ مَالًا وَّ عَدَّدَہٗ ۙ﴿۲﴾

Who collects wealth and [continuously] counts it.

جو مال کو جمع کرتا جائے اور گنتا جائے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Who has gathered wealth and counted it. meaning, he gathers it piling some of it on top of the rest and he counts it up. This is similar to Allah's saying, وَجَمَعَ فَأَوْعَى (And collect (wealth) and hide it.) (70:18) This was said by As-Suddi and Ibn Jarir. Muhammad bin Ka`b said concerning Allah's statement, جَمَعَ مَالاً وَعَدَّدَهُ (gathered wealth and counted it). "His wealth occupies his time in the day, going from this to that. Then when the night comes he sleeps like a rotting corpse." Then Allah says, يَحْسَبُ أَنَّ مَالَهُ أَخْلَدَهُ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

اس سے مراد مال جمع کرتا ہے اور اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتا۔ ورنہ مطلق مال جمع کرکے رکھنا مذموم نہیں ہے۔ یہ مذموم اس وقت ہے جب اس میں زکوٰۃ اور انفاق فی سبیل اللہ نہ کا اہتمام نہ ہو۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢] ان کا ایسی حرکتیں کرنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ مالدار تھے اور اپنی دولت کے نشہ میں مسلمانوں کو حقیر اور ذلیل سمجھ کر ایسی حرکتیں کرتے تھے۔ مالدار ہونے کے ساتھ ساتھ وہ بخیل بھی انتہا درجے کے تھے۔ روپے پیسے کو محفوظ رکھنے اور اسے گن گن کر رکھنے میں انہیں خاص لطف آتا تھا۔ واضح رہے کہ اگرچہ ان آیات کا روئے سخن رؤسائے قریش کی طرف ہے۔ لیکن الفاظ عام ہیں اور ان کا اطلاق ایسے تمام مالداروں پر ہوتا ہے جو ان صفات کے حامل ہوں اور یہ تو عام مشاہدہ کی بات ہے کہ مالداروں اور زر پرستوں کو مال جمع کرنے اور اسے گن گن کر رکھنے میں ایک خاص فرحت محسوس ہوتی ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) الذی جمع مالا وعددہ، یعنی لوگوں کی عیب جوئی، ان پر طعنہ زنی اور ان کی تحقیر کا اصل باعث اس کی مال جمع کرنے کی حد سے بڑھی ہوئی خواہش اور شدید بخل ہے۔ اس بخل نے چونکہ اس میں فراخ دلی یا ہمدردی وغیرہ کی کوئی خوبی باقی نہیں چھوڑی، اسلئے وہ اپنی خست و کمینگی پر پردہ ڈلانے کے لئے ہر صاحب خیر پر طعن کرتا اور اس کی عیب جؤی کرتا ہے، تاکہ کوئی اس کے بخل و حرص کی مذمت کی طرف متوجہ ہی نہ ہو سکے۔ منفاقین بھی یہی کام کرتے تھے، فرمایا :(الذین یلمزون المطوعین من المومنین فی الصدقت والذین لایجدون الا جھدھم فیسخرون منھم) (التوبۃ : ٨٩)” یہ وہ لوگ ہیں جو خوشی سے صدقہ کرنے والے مومنوں پر طعنہ زنی کرتے ہیں اور ان پر بھی جن کے پاس اپنی محنت کی کمائی کے علاوہ کچھ نہیں، سو یہ ان سے مذاق کرتے ہیں۔ “ اس کے عالوہ وہ زیادہ سے زیادہ مال جمع کرنے کے لئے دوسروں کی بدگوئی اور عیب جوئی کرتا ہے اور اپنے آپ کو صاف ستھرا ظاہر کرتا ہے، تاکہ لوگ ہر سودے اور ہر کام میں کسی اور سے معاملہ کرنے کے بجائے صرف اس سے معاملہ کریں اور اس کا مال بڑھتا رہے۔ اگر ” ھمزۃ لمزۃ “ کا واضح نقشہ دیکھنا ہو تو جمہوری انتخابات میں کھڑے ہونے والے امیدو اورں کے بیانات پڑھ لیں کہ وہ سیٹ کے حصول کیلئے اپنے حریفوں پر کس قدر طعن اور بہتان تراشی کرتے ہیں۔ (٢) یعنی مال جو انسان کی ضرورت پوری کرنے اور آسائش حاصل کرنے کا ذریعہ تھا، وہ اس کے لئے اصل مطلوب بن گیا۔ اب وہ اسی کو جمع کرنے اور گن گن کر رکھنے کی دھن میں لگا ہوا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The third evil quality denounced severely in this Surah is greed, that is, the selfish hoarding of wealth, against which is the stern warning of the dreadful end of those who have passion for worldly riches. This verse, however, refers to the love of, and passion for, wealth which is accumulated and counted over and over again. Other verses and Ahadith bear testimony to the fact that amassing of wealth in principle is not prohibited or sinful. Therefore, verse [ 2] must be interpreted in the light of those verses and traditions. This verse purports to say that anyone who accumulates wealth and does not pay his obligatory dues or has greed for wealth that leads him to pride and arrogance, or has love of wealth that engrosses him in the hoarding of wealth so profoundly that he forgets his religious obligations, his practice is condemned in the strongest terms, and a person attaching such profound love, greed and passion for material riches will suffer eternal perdition as described in the verses that follow.

تیسری خصلت جس پر عذاب کی وعید اس سورت میں آئی ہے وہ مال کی حرص اور محبت ہے اسی کو آیت میں اس طرح سے تعبیر کیا ہے کہ حرص و محبت مال کی وجہ سے اس کو بار بار گنتا رہتا ہے چونکہ دوسری آیات و روایات اس پر شاید ہیں کہ مطلقاً مال کا جمع رکھنا کوئی حرام و گناہ نہیں اس لئے یہاں بھی مراد وہ جمع کرنا ہے جس میں حقوق واجبہ ادا نہ کئے گئے ہوں یا فخر و تفاخر مقصود ہو یا اس کی محبت میں منہمک ہو کر دین کی ضروریات سے غفلت ہو۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

الَّذِيْ جَمَعَ مَالًا وَّعَدَّدَہٗ۝ ٢ ۙ جمع الجَمْع : ضمّ الشیء بتقریب بعضه من بعض، يقال : جَمَعْتُهُ فَاجْتَمَعَ ، وقال عزّ وجل : وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ [ القیامة/ 9] ، وَجَمَعَ فَأَوْعى [ المعارج/ 18] ، جَمَعَ مالًا وَعَدَّدَهُ [ الهمزة/ 2] ، ( ج م ع ) الجمع ( ف ) کے معنی ہیں متفرق چیزوں کو ایک دوسرے کے قریب لاکر ملا دینا ۔ محاورہ ہے : ۔ چناچہ وہ اکٹھا ہوگیا ۔ قرآن میں ہے ۔ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ [ القیامة/ 9] اور سورج اور چاند جمع کردیئے جائیں گے ۔ ( مال ) جمع کیا اور بند رکھا ۔ جَمَعَ مالًا وَعَدَّدَهُ [ الهمزة/ 2] مال جمع کرتا ہے اور اس کو گن گن کر رکھتا ہے ميل المَيْلُ : العدول عن الوسط إلى أَحَد الجانبین، والمَالُ سُمِّي بذلک لکونه مائِلًا أبدا وزَائلا، ( م ی ل ) المیل اس کے معنی وسط سے ایک جانب مائل ہوجانے کے ہیں اور المال کو مال اس لئے کہا جاتا ہے ۔ کہ وہ ہمیشہ مائل اور زائل ہوتا رہتا ہے ۔ عد العَدَدُ : آحاد مركّبة، وقیل : تركيب الآحاد، وهما واحد . قال تعالی: عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسابَ [يونس/ 5] ، وقوله تعالی: فَضَرَبْنا عَلَى آذانِهِمْ فِي الْكَهْفِ سِنِينَ عَدَداً [ الكهف/ 11] ، فَذِكْرُهُ للعَدَدِ تنبيه علی کثرتها . والعَدُّ ضمُّ الأَعْدَادِ بعضها إلى بعض . قال تعالی: لَقَدْ أَحْصاهُمْ وَعَدَّهُمْ عَدًّا[ مریم/ 94] ، فَسْئَلِ الْعادِّينَ [ المؤمنون/ 113] ، أي : أصحاب العَدَدِ والحساب . وقال تعالی: كَمْ لَبِثْتُمْ فِي الْأَرْضِ عَدَدَ سِنِينَ [ المؤمنون/ 112] ، وَإِنَّ يَوْماً عِنْدَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ [ الحج/ 47] ، ( ع د د ) العدد ( گنتی ) آحا د مرکبہ کو کہتے ہیں اور بعض نے اس کے معنی ترکیب آحاد یعنی آجا د کو ترکیب دینا بھی کئے ہیں مگر ان دونوں معنی کا مرجع ایک ہی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسابَ [يونس/ 5] بر سوں کا شمار اور ( کاموں ) کا حساب بر سوں کا شمار اور ( کاموں ) کا حساب ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور آیت کریمہ : ۔ فَضَرَبْنا عَلَى آذانِهِمْ فِي الْكَهْفِ سِنِينَ عَدَداً [ الكهف/ 11] ہم نے غار میں کئی سال تک ان کانوں پر ( نیند کا ) بردہ ڈالے ( یعنی ان کو سلائے ) رکھا ۔ کے لفظ سے کثرت تعداد کی طرف اشارہ ہے ۔ العد کے معنی گنتی اور شمار کرنے کے ہیں ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ لَقَدْ أَحْصاهُمْ وَعَدَّهُمْ عَدًّا[ مریم/ 94] اس نے ان سب کا اپنے علم سے احاطہ اور ایک ایک کو شمار کر رکھا ہے ۔ اور آیت ۔ فَسْئَلِ الْعادِّينَ [ المؤمنون/ 113] کے معنی یہ ہیں کہ حساب دانوں سے پوچھ دیکھو ۔ كَمْ لَبِثْتُمْ فِي الْأَرْضِ عَدَدَ سِنِينَ [ المؤمنون/ 112] زمین میں کتنے برس رہے ۔ وَإِنَّ يَوْماً عِنْدَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ [ الحج/ 47] بیشک تمہارے پروردگار کے نزدیک ایک روز تمہارے حساب کی رو سے ہزار برس کے برابر ہے۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢{ نِ الَّذِیْ جَمَعَ مَالًا وَّعَدَّدَہٗ ۔ } ” جو مال جمع کرتا رہا اور اس کو گنتا رہا۔ “ جس نے اپنی زندگی اور زندگی کی ساری جدوجہد مال کمانے اور اس کا حساب رکھنے میں برباد کردی۔ وہ یہی سوچ سوچ کر خوش ہوتا رہا کہ اس ماہ میرے اکائونٹس میں اتنے فیصد اضافہ ہوگیا ہے اور پچھلے سال کے مقابلے میں اس سال میرے اثاثہ جات اس قدر بڑھ گئے ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

2 This second sentence after the first sentence by itself gives the meaning that he slanders others because of his pride of wealth. The words jama `a malan for collecting money suggest the abundance of wealth; then the words "counting it over and over again" depict the person's miserliness and his selfish hoarding of wealth.

سورة الھمزۃ حاشیہ نمبر : 2 پہلے فقرے کے بعد یہ دوسرا فقرہ خود بخود یہ معنی دیتا ہے کہ لوگوں کی یہ تحقیر و تذلیل وہ اپنی مال داری کے غرور میں کرتا ہے ۔ مال جمع کرنے کے لیے جَمَعَ مَالًا کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جن سے مال کی کثرت کا مفہوم نکلتا ہے ۔ پھر گن گن کر رکھنے کے الفاظ سے اس شخص کے بخل اور زر پرستی کی تصویر نگاہوں کے سامنے آجاتی ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(104:2) ن الذین جمع مالا وعددہ۔ یہ جملہ کل سے بدل ہے۔ یعنی ہر وہ شخص جس نے مال جمع کیا اور اس کو (بار بار) گنا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب مال کی طرف راجع ہے۔ عدد ماضی واحد مذکر غائب تعدید (تفعیل) مصدر۔ بمعنی بار بار گننا۔ گن گن کر رکھنا ۔ امام ابو جعفر بیہقی نے تاج المصادر میں تعدید کے معنی لکھے ہیں :۔ بڑی تعداد میں مال جمع کرنا۔ نہایت اہتمام سے کسی چیز کا گننا۔ علامہ فیومیء نے مصباح میں تصریح کی ہے کہ :۔ عدد بالتشدید کا استعمال مبالغہ کے لئے ہوتا ہے۔ امام رازی (رح) تفسیر کبیر میں لکھتے ہیں :۔ ارشاد الٰہی وعددہ کے معنی کئی طرح ہوسکتے ہیں :۔ (1) یہ کہ عدۃ سے ماخوذ ہے جس کے معنی ذخیرہ کے ہیں چناچہ اعددت الشیء لکذا اور عددتہ کا استعمال ایسے موقع پر ہوتا ہے جب کہ اس غرض کے لئے مال کو روک رکھا ہو۔ اور حوادث زمانہ کے خیال سے اس کا ذخیرہ اور اندوختہ کیا جائے۔ (2) یہ کہ عدد کے معنی ہیں اس کو خوب گننا اور تشدید کثرت معدود کے لئے آتی ہے جس طرح کہ کہا جاتا ہے فلان یعدد فضائل فلان (فلاں شخص فلاں کی فضیلتوں کو بہت گناتا ہے) اسی لئے سدی نے عددہ کے معنی بیان کئے ہیں کہ :۔ احصاہ یعنی اس نے خوب شمار کر رکھا ہے اور کہتا ہے یہ بھی میرا ہے یہ بھی مرا ہے ۔ غرضیکہ دن بھر اسی مالی مصروفیت میں ختم ہوجاتا ہے۔ اور رات آتی ہے تو چھپا کر رکھ دیتا ہے۔ (3) یہ کہ عددہ بمعنی کثرہ ہے یعنی اس کو خوب زیادہ کرلیا۔ محاورہ ہے فی بنی فلان عدد۔ یعنی بنو فلاں میں بڑی کثرت ہے۔ اخیر کی دونوں توجیہوں کا تعلق عدد کے معنی سے ہے اور پہلی کا عدۃ کے معنی سے ہے۔ زجاج نے پہلے معنی ہی کو اختیار کیا ہے۔ اور ضحاک نے اس کی تفسیر ان لفظوں میں کی ہے۔ اعد مالہ لورثتہ۔ یعنی اپنے وارثوں کے لئے مال کا اندوختہ کیا۔ اس تفسیر پر بھی یہ عدۃ سے ماخوذ ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 یعنی انتہائی حریص اور بخیل ہے۔ خزانہ پر سانپ بن کر بیٹھتا ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿ا۟لَّذِيْ جَمَعَ مَالًا وَّ عَدَّدَهٗۙ٠٠٢﴾ دنیا سے محبت کرنے والے اسی کو سب کچھ سمجھنے والے جہاں دوسروں کی غیبت و بدگوئی اور عیب تراشی میں وقت گزارتے ہیں وہاں مال سے محبت کرنا بھی ان کا خاص مزاج ہوتا ہے، مال کی محبت کے مظاہرے کئی طرح سے ہوتے ہیں، اولاً مال کو جمع کرنا اور گن گن کر رکھنا، جسے ﴿ ا۟لَّذِيْ جَمَعَ مَالًا وَّ عَدَّدَهٗۙ٠٠٢﴾ میں بیان فرمایا ہے جب مال جمع کرنے کا ذہن ہوتا ہے تو نہ حلال حرام کا خیال رہتا ہے اور نہ لوگوں کے حق مارنے کو برا سمجھا جاتا ہے اور نہ مال کمانے میں فرائض اور واجبات کے ضائع کرنے سے دکھ ہوتا ہے اور نہ نیکیاں کرنے کی توفیق ہوتی ہے ثانیاً مال جمع کرنے والے مال ہی کو سب کچھ سمجھتے ہیں ان کا خیال ہوتا ہے کہ مال ہی سب کچھ ہے یہ ہمیں دنیا میں ہمیشہ زندہ رکھے گا (موت کا یقین ہوتے ہوئے رنگ ڈھنگ ایسا ہوتا ہے جیسے مرنا نہیں ہے اور یہ مال ہمیشہ کام دیتا رہے گا) ۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

3:۔ ” الذی جمع “ نیک کاموں کی تو اسے توفیق ملی نہیں، برے کاموں میں منہمک ہے اور دولت جمع کرنے اور اسے گن گن کر رکھنے کا بہت شوق ہے۔ دولت جمع کرتا ہے اور اسے نیک کاموں میں خرچ نہیں کرتا اور دولت دنیا کو سامان بنا کر رکھتا ہے۔ ” ایحسب ان مالہ اخلدہ “ ہمزہ استفہام مقدر ہے۔ ایحسب، کیا اس کا خیال ہے کہ یہ دولت اسے ہمیشہ رکھے گی اور اسے دائمی زندگی عطاء کرے گی ؟

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(2) وہ جو حرص کی وجہ سے مال سمیٹتا ہو اور اس کو بار بار گنتا ہو۔ یعنی مال کی محبت کا یہ حال ہے کہ مال جمع کرتا ہے اور اس کو گن گن کر رکھتا ہے جیسا کہ بعض حریص اور مال سے محبت کرنے والوں کو دیکھا جاتا ہے کہ بلا ضرورت روز صبح کو تجوری کھولتے اور روپیہ کو گن گن کر رکھتے ہیں انہوں نے ہر روز کا مشغلہ بنالیا ہے روزصبح کو یا شام کو ایک دفعہ ضرور رقم کو گن لیتے ہیں اور سینت کر رکھ دیتے ہیں۔