Surat ul Humaza
Surah: 104
Verse: 6
سورة الهمزة
نَارُ اللّٰہِ الۡمُوۡقَدَۃُ ۙ﴿۶﴾
It is the fire of Allah , [eternally] fueled,
وہ اللہ تعالٰی کی سلگائی ہوئی آگ ہوگی ۔
نَارُ اللّٰہِ الۡمُوۡقَدَۃُ ۙ﴿۶﴾
It is the fire of Allah , [eternally] fueled,
وہ اللہ تعالٰی کی سلگائی ہوئی آگ ہوگی ۔
[٥] سارے قرآن میں غالباً یہی ایک مقام ہے جہاں دوزخ کی آگ کی نسبت اللہ کی طرف کی گئی ہے کہ اللہ نے اس آگ کو بھڑکایا ہے۔ اسی سے اس آگ کی شدت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے اور اس لحاظ سے بھی کہ اللہ متکبرین کو سب سے زیادہ رسوا کن عذاب دیتا ہے۔
(نار اللہ الموقد ١:” نار اللہ “ (اللہ کی آگ ) اور ” الموقدۃ “ (بھڑکائی ہوئی) کہنے میں اس آگ کی جو ہولناکی بیان ہوئی ہے وہ کسی اور لفظ میں بیان ہو ہی نہیں سکتی۔
نَارُ اللہِ الْمُوْقَدَۃُ ٦ ۙ نار والنَّارُ تقال للهيب الذي يبدو للحاسّة، قال : أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ [ الواقعة/ 71] ، ( ن و ر ) نار اس شعلہ کو کہتے ہیں جو آنکھوں کے سامنے ظاہر ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ [ الواقعة/ 71] بھلا دیکھو کہ جو آگ تم در خت سے نکالتے ہو ۔ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة لاتخاذهم إياها معبودا . وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ. فالإله علی هذا هو المعبود وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة إلى ما قال أمير المؤمنین عليّ رضي اللہ عنه : (كلّ دون صفاته تحبیر الصفات، وضلّ هناک تصاریف اللغات) وذلک أنّ العبد إذا تفكّر في صفاته تحيّر فيها، ولهذا روي : «تفكّروا في آلاء اللہ ولا تفكّروا في الله»وقیل : أصله : ولاه، فأبدل من الواو همزة، وتسمیته بذلک لکون کل مخلوق والها نحوه، إمّا بالتسخیر فقط کالجمادات والحیوانات، وإمّا بالتسخیر والإرادة معا کبعض الناس، ومن هذا الوجه قال بعض الحکماء : اللہ محبوب الأشياء کلها وعليه دلّ قوله تعالی: وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلكِنْ لا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ [ الإسراء/ 44] . وقیل : أصله من : لاه يلوه لياها، أي : احتجب . قالوا : وذلک إشارة إلى ما قال تعالی: لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصارَ [ الأنعام/ 103] ، والمشار إليه بالباطن في قوله : وَالظَّاهِرُ وَالْباطِنُ [ الحدید/ 3] . وإِلَهٌ حقّه ألا يجمع، إذ لا معبود سواه، لکن العرب لاعتقادهم أنّ هاهنا معبودات جمعوه، فقالوا : الآلهة . قال تعالی: أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنا [ الأنبیاء/ 43] ، وقال : وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ [ الأعراف/ 127] وقرئ : ( وإلاهتك) أي : عبادتک . ولاه أنت، أي : لله، وحذف إحدی اللامین .«اللهم» قيل : معناه : يا الله، فأبدل من الیاء في أوله المیمان في آخره وخصّ بدعاء الله، وقیل : تقدیره : يا اللہ أمّنا بخیر مركّب تركيب حيّهلا . ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ الہ کا لفظ عام ہے اور ہر معبود پر بولا جاتا ہے ( خواہ وہ معبود پر حق ہو یا معبود باطل ) اور وہ سورج کو الاھۃ کہہ کر پکارتے تھے کیونکہ انہوں نے اس کو معبود بنا رکھا تھا ۔ الہ کے اشتقاق میں مختلف اقوال ہیں بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( ف) یالہ فلاو ثالہ سے مشتق ہے جس کے معنی پر ستش کرنا کے ہیں اس بنا پر الہ کے معنی ہوں گے معبود اور بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( س) بمعنی تحیر سے مشتق ہے اور باری تعالیٰ کی ذات وصفات کے ادراک سے چونکہ عقول متحیر اور دو ماندہ ہیں اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امیرالمومنین حضرت علی (رض) نے فرمایا ہے ۔ کل دون صفاتہ تحبیرالصفات وضل ھناک تصاریف للغات ۔ اے بروں ازوہم وقال وقیل من خاک برفرق من و تمثیل من اس لئے کہ انسان جس قدر صفات الیہ میں غور و فکر کرتا ہے اس کی حیرت میں اضافہ ہوتا ہے اس بناء پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے (11) تفکروا فی آلاء اللہ ولا تفکروا فی اللہ کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں غور و فکر کیا کرو اور اس کی ذات کے متعلق مت سوچا کرو ۔ (2) بعض نے کہا ہے کہ الہ اصل میں ولاہ ہے واؤ کو ہمزہ سے بدل کر الاہ بنالیا ہے اور ولہ ( س) کے معنی عشق و محبت میں دارفتہ اور بیخود ہونے کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ سے بھی چونکہ تمام مخلوق کو والہانہ محبت ہے اس لئے اللہ کہا جاتا ہے اگرچہ بعض چیزوں کی محبت تسخیری ہے جیسے جمادات اور حیوانات اور بعض کی تسخیری اور ارادی دونوں طرح ہے جیسے بعض انسان اسی لئے بعض حکماء نے کہا ہے ذات باری تعالیٰ تما اشیاء کو محبوب ہے اور آیت کریمہ :{ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِنْ لَا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ } ( سورة الإسراء 44) مخلوقات میں سے کوئی چیز نہیں ہے مگر اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتی ہے ۔ بھی اسی معنی پر دلالت کرتی ہے ۔ (3) بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں لاہ یلوہ لیاھا سے ہے جس کے معنی پر وہ میں چھپ جانا کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ بھی نگاہوں سے مستور اور محجوب ہے اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :۔ { لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ } ( سورة الأَنعام 103) وہ ایسا ہے کہ نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک کرسکتا ہے ۔ نیز آیت کریمہ ؛{ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ } ( سورة الحدید 3) میں الباطن ، ، کہہ کر بھی اسی معنی کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ الہ یعنی معبود درحقیقت ایک ہی ہے اس لئے ہونا یہ چاہیے تھا کہ اس کی جمع نہ لائی جائے ، لیکن اہل عرب نے اپنے اعتقاد کے مطابق بہت سی چیزوں کو معبود بنا رکھا تھا اس لئے الہۃ صیغہ جمع استعمال کرتے تھے ۔ قرآن میں ہے ؛۔ { أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنَا } ( سورة الأنبیاء 43) کیا ہمارے سوا ان کے اور معبود ہیں کہ ان کو مصائب سے بچالیں ۔ { وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ } ( سورة الأَعراف 127) اور آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دست کش ہوجائیں ۔ ایک قراءت میں والاھتک ہے جس کے معنی عبادت کے ہیں الاہ انت ۔ یہ اصل میں للہ انت ہے ایک لام کو تخفیف کے لئے خذف کردیا گیا ہے ۔ اللھم بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی یا اللہ کے ہیں اور اس میں میم مشدد یا ( حرف ندا کے عوض میں آیا ہے اور بعض کا قول یہ ہے کہ یہ اصل میں یا اللہ امنا بخیر ( اے اللہ تو خیر کے ساری ہماری طرف توجہ فرما) ہے ( کثرت استعمال کی بنا پر ) ۔۔۔ حی ھلا کی طرح مرکب کرکے اللھم بنا لیا گیا ہے ۔ ( جیسے ھلم ) وقد يقال : وَقَدَتِ النارُ تَقِدُ وُقُوداً ووَقْداً ، والوَقُودُ يقال للحطب المجعول للوُقُودِ ، ولما حصل من اللهب . قال تعالی: وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجارَةُ [ البقرة/ 24] ، أُولئِكَ هُمْ وَقُودُ النَّارِ [ آل عمران/ 10] ، النَّارِ ذاتِ الْوَقُودِ ( و ق د ) وقدت النار ( ض ) وقودا ۔ ووقدا آگ روشن ہونا ۔ الوقود ۔ ایندھن کی لکڑیاں جن سے آگ جلائی جاتی ہے ۔ اور آگ کے شعلہ کو بھی وقود کہتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجارَةُ [ البقرة/ 24] جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہوں گے ۔ أُولئِكَ هُمْ وَقُودُ النَّارِ [ آل عمران/ 10] اور یہ لوگ آتش جہنم کا ایندھن ہوں گے ۔ النَّارِ ذاتِ الْوَقُودِ [ البروج/ 5] آگ کی خندقیں جن میں ایندھن جھونک رکھا تھا ۔ آگ جل
آیت ٧{ الَّتِیْ تَطَّلِعُ عَلَی الْاَفْئِدَۃِ ۔ } ” جو دلوں کے اوپر جا چڑھے گی۔ “ یعنی اس آگ کی حدت اور تپش انسان کی جلد سے زیادہ اس کے دل پر اثر انداز ہوگی ۔ بہرحال آج جب انسان خود Infra red Rays اور Ultra violet Rays سمیت آگ اور حرارت کی رنگا رنگ اقسام ایجاد کرچکا ہے اس کے لیے ” حُطَمَہ “ کی مذکورہ خصوصیت کو سمجھنا بہت آسان ہوگیا ہے۔ ایک صاحب نے خیال پیش کیا ہے کہ حُطَمَۃ ایٹمی حرارت کی کوئی شکل ہوگی۔ ان کا کہنا ہے کہ ایٹم سے جو حرارت پھیلتی ہے وہ براہ راست آگ نہیں ہوتی لیکن انسان کے وجود کو چیرتی چلی جاتی ہے۔
6 Nowhere else in the Qur'an has the fire of Hell been called the fire of Allah. Here, its ascription to Allah not only expresses its dreadfulness but it also shows how the wrath and contempt of Allah envelops those who become proud and arrogant with the worldly wealth. That is why Allah has described that fire as His own Fire into which they will be hurled.
سورة الھمزۃ حاشیہ نمبر : 6 قرآن مجید میں اس مقام کے سوا اور کہیں جہنم کی آگ کو اللہ کی آگ نہیں کہا گیا ہے ۔ اس مقام پر اس کو اللہ تعالی کی طرف منسوب کرنے سے نہ صرف اس کی ہولناکی کا اظہار ہوتا ہے بلکہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی دولت پا کر غرور و تکبر میں مبتلا ہوجانے والوں کو اللہ کس قدر سخت نفرت اور غضب کی نگاہ سے دیکھتا ہے جس کی وجہ سے اس نے اس آگ کو خاص اپنی آگ کہا ہے جس میں وہ پھینکے جائیں گے ۔
(104:6) نار اللہ الموقدۃ : نار اللّٰہ مبتدا محذوف کی خبر ہے۔ ای ہی نار اللّٰہ وہ اللہ کی آگ ہے۔ آگ کی نسبت اللہ کی طرف۔ نار کی عظمت کو ظاہر کر رہی ہے۔ الموقدۃ : اسم مفعول واحد مؤنث ایقاد (افعال) مصدر سے ۔ بھڑکائی ہوئی۔ یہ آگ کی صفت ہے یعنی وہ آگ بھڑکائی گئی ہے (فاعل مذکور نہیں ہے کیونکہ اگر فاعل متعین ہو اور فعل ایک ہی فاعل سے مخصوص ہو تو فاعل کو مبہم رکھنا اور ذکر کرنا فعل کی عظمت پر دلالت کرتا ہے) مطلب یہ کہ سوائے خدا کے اس کو بھڑکانے والا کوئی دوسرا نہیں اور خدا کی لگائی ہوئی آگ کو بجھا نہیں سکتا۔ (تفسیر مظہری) وقد وقود (باب ضرب) آگ بھڑکانا۔ وقود ایندھن، شعلہ، ایقاد (افعال) بھڑکانا۔
فائدہ : ﴿نَار اللّٰهِ الْمُوْقَدَةُۙ٠٠٦﴾ (اللہ کی آگ جو جلائی ہوئی ہوگی) اس سے یہ مفہوم ہو رہا ہے کہ دوزخ کی آگ دوزخیوں کے داخل ہونے سے پہلے ہی سے جلائی ہوئی ہوگی ایسا نہیں ہوگا جیسا دنیا میں پہلے ایندھن تیار کرتے ہیں پھر اس ایندھن میں آگ لگاتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ دوزخ میں آگ کو ایک ہزار سال تک جلایا گیا یہاں تک کہ وہ سرخ ہوگئی پھر ایک ہزار سال تک جلایا گیا یہاں تک کہ وہ سفید ہوگئی پھر ایک ہزار سال تک جلایا گیا یہاں تک کہ وہ سیاہ ہوگئی لہٰذا اب وہ سیاہ ہے اندھیری ہے۔ (رواہ الترمذی) اعاذنا اللہ تعالیٰ من سائر انواع العذاب وھو الغفور الوھاب الرحیم التواب
5:۔ ” نار اللہ “ آؤ میں تمہیں بتاؤ وہ اللہ تعالیٰ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے جو جلاتے جلاتے ان کے دلوں تک پہنچ جائیگی۔ انھا علیہم مؤصدۃ۔ ای مطبقۃ۔ ان کو لمبے لمبے ستونوں کے اندر گھیر کر اوپر سے آگ کو بند کردیا جائیگا تاکہ اس کی حرارت تیز رہے اور ضائع نہ ہو یا عمد سے وہ میخیں مراد ہیں جو ان تختوں میں لگائی جائیں گی۔ جن سے جہنم کا منہ بند کیا جائے گا۔ قال القشیری والمعظم علی ان العمد اوتاد الاطباق التی تطبق علی اھل النار۔ و تشد تلک الاطباق بالاوتاد حتی یرجع علیہم غمہا وحرھا، فلا یدخل علیہم (روح، قرطبی ج 20 ص 186) ۔ اللہم اجرنا منہا یا ارحم الراحمین ویا اکرم الاکرمین۔