Surat Yousuf

Surah: 12

Verse: 18

سورة يوسف

وَ جَآءُوۡ عَلٰی قَمِیۡصِہٖ بِدَمٍ کَذِبٍ ؕ قَالَ بَلۡ سَوَّلَتۡ لَکُمۡ اَنۡفُسُکُمۡ اَمۡرًا ؕ فَصَبۡرٌ جَمِیۡلٌ ؕ وَ اللّٰہُ الۡمُسۡتَعَانُ عَلٰی مَا تَصِفُوۡنَ ﴿۱۸﴾

And they brought upon his shirt false blood. [Jacob] said, "Rather, your souls have enticed you to something, so patience is most fitting. And Allah is the one sought for help against that which you describe."

اور یوسف کے کرتے کو جھوٹ موٹ کے خون سے خون آلود بھی کر لائے تھے باپ نے کہا یوں نہیں ، بلکہ تم نے اپنے دل ہی میں سے ایک بات بنالی ہے ۔ پس صبر ہی بہتر ہے اور تمہاری بنائی ہوئی باتوں پر اللہ ہی سے مدد کی طلب ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَجَأوُوا عَلَى قَمِيصِهِ بِدَمٍ كَذِبٍ ... And they brought his shirt stained with false blood. on it, to help prove plot that they all agreed on. According to Mujahid, As-Suddi and several other scholars, they slaughtered a sheep, and stained Yusuf's shirt with its blood. They claimed that this was the shirt Yusuf was wearing when the wolf devoured him, being stained with his blood. But, they forgot to tear the shirt, and this is why Allah's Prophet Yaqub did not believe them. Rather, he told them what he felt about what they said to him, thus refusing their false claim, ... قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ ... He said: "Nay, but your own selves have made up a tale. So (for me) patience is most fitting. Yaqub said, `I will firmly observe patience for this plot on which you agreed, until Allah relieves the distress with His aid and compassion, ... وَاللّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ And it is Allah (alone) Whose help can be sought against that which you describe. against the lies and unbelievable incident that you said had occurred.'

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

18۔ 1 کہتے ہیں کہ ایک بکری کا بچہ ذبح کر کے یوسف (علیہ السلام) کی قمیص خون میں لت پت کرلی اور یہ بھول گئے کہ بھیڑیا اگر یوسف (علیہ السلام) کو کھاتا تو قمیص کو بھی پھٹنا تھا، قمیص ثابت کی ثابت ہی تھی جس کو دیکھ کر، علاوہ ازیں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے خواب اور فراست نبوت سے اندازہ لگا کر حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ واقعہ اس طرح پیش نہیں آیا جو تم بیان کر رہے ہو، بلکہ تم نے اپنے دلوں سے ہی یہ بات بنا لی ہے، حضرت یعقوب اس کی تفصیل سے بیخبر تھے، اس لئے سوائے صبر کے کوئی چارہ اور اللہ کی مدد کے علاوہ کوئی سہارا نہ تھا۔ 18۔ 1 منافقین نے جب حضرت عائشہ (رض) پر تہمت لگائی تو انہوں نے بھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے افہام وارشاد کے جواب میں فرمایا تھا۔ واللہ لا اجدلی ولالکم مثلا الا ابا یوسف (فصبر جمیل واللہ المستعان علی ماتصفون) اللہ کی قسم میں اپنے اور آپ لوگوں کے لیے وہی مثال پاتی ہوں جس سے یوسف (علیہ السلام) کے باپ یعقوب (علیہ السلام) کو سابقہ پیش آیا تھا اور انہوں نے فصبر جمعیل کہہ کر صبر کا راستہ اختیار کیا تھا، یعنی میرے لیے بھی سوائے صبر کے کوئی چارہ نہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٥] اناڑی مجرم :۔ سیدنا یعقوب ان کی طرف سے پہلے ہی مشکوک تھے۔ جب قمیص کو دیکھا تو انھیں پختہ یقین ہوگیا کہ یہ سب مکر اور فریب کاری ہے۔ کیونکہ قمیص کسی جگہ سے بھی نوچی ہوئی یا پھٹی ہوئی نہ تھی۔ ان نو آموز مجرموں کو یہ خیال ہی نہ آیا کہ اگر قمیص کو خون لگانا ہی ہے تو اسے پہلے بےترتیبی سے کچھ پھاڑ بھی لیں تاکہ وہ کسی درندے کی نوچی ہوئی معلوم ہوسکے۔ یہ قمیص دیکھ کر سیدنا یعقوب کہنے لگے وہ بھیڑیا تو بڑا سمجھدار ہوگا جس نے پہلے آرام سے یوسف کی قمیص کو اتارا پھر انھیں پھاڑ کھانے کے بعد کچھ لہو بھی اس پر لگا دیا۔ حقیقت حال کا تو اللہ ہی کو معلوم ہے۔ مگر معلوم یہی ہوتا ہے کہ تم نے یوسف کو کہیں گزند پہنچایا ہے یا غائب کردیا ہے اور تمہاری یہ آہ و بکا اور قمیص کو خون آلود کرکے دکھانا اپنے جرم پر پردہ ڈالنے کے لیے ملمع سازیاں ہیں۔ [١٦] صبر جمیل ایسا صبر ہے کہ مصیبت پڑنے پر انسان اسے ٹھنڈے دل سے برداشت کر جائے جزع فزع نہ کرے نہ ہی کسی دوسرے سے اس کا شکوہ شکایت کرے۔ یعنی سیدنا یعقوب نے اپنے بیٹوں سے یہ افسانہ سننے کے بعد ان سے کچھ تعرض نہ کیا نہ انھیں برا بھلا کہا۔ کہیں وہ کوئی اور غلط حرکت نہ کر بیٹھیں۔ اگر کہا تو صرف یہی کہا کہ میری فریاد تو اللہ ہی سے ہے اور میں اسی سے مدد چاہتا ہوں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَجَاۗءُوْ عَلٰي قَمِيْصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍ ۔۔ : یہ اپنے آپ کو سچا ثابت کرنے کی ایک اور چال تھی کہ وہ یوسف (علیہ السلام) کی قمیص پر ایسا خون لگا کر لائے جو ” کَذِب “ تھا، جس کا معنی جھوٹ ہے یا یہ بمعنی ” مَکْذُوْبٌ“ ہے، جیسے ” خَلْقٌ“ بمعنی ” مَخْلُوْقٌ“ یعنی جھوٹا بنایا ہوا، یا مصدر مبالغے کے لیے ہے کہ وہ خون سراسر جھوٹ تھا، یوسف (علیہ السلام) کا ہرگز نہ تھا، بلکہ وہ بھیڑ بکری یا جنگل سے شکار کیا ہوا کوئی جانور ذبح کرکے اس کا خون لگا کرلے آئے تھے۔ والد ساری حقیقت سمجھ گئے، کیونکہ ان کی گھڑی ہوئی کہانی خود ہی اپنی حقیقت بتارہی تھی اور فرمایا : ” بَلْ سَوَّلَتْ لَکُم انفسکم امرا “ (بلکہ) یعنی جو کچھ تم کہہ رہے ہو سب جھوٹ ہے، بھیڑیے نے یوسف کو ہرگز نہیں کھایا، بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ تمہارے دلوں نے تمہارے لیے کوئی بات خوشنما بنادی جو تم کر گزرے ہو۔ اب وہ چونکہ کئی چیزیں ہوسکتی تھیں، اس لیے کسی کی تعیین نہیں فرمائی اور وہ یوسف کو کہیں پھینک آنا، اسے کسی جگہ لے جا کر بیچ آنا، اسے کہیں چھپا دینا وغیرہ کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ مرنے کا یقین ہوجائے تو صبر آجاتا ہے مگر جب خبر ہی نہ ہو کہ بیٹا اس وقت کہاں ہے ؟ کس حال میں ہے ؟ تو یہ بہت ہی بڑی آزمائش اور ہر وقت دل میں سلگتی رہنے والی چنگاری ہوا کرتی ہے۔ ادھر خواب کے مطابق ابھی یوسف (علیہ السلام) پر اتمام نعمت ہونا تھا اور ” تاویل الاحادیث “ کی تعلیم بھی باقی تھی۔ سو کس طرح مان لیتے کہ اسے بھیڑیا کھا گیا۔ اہل علم نے لکھا ہے کہ اس سورت میں یوسف (علیہ السلام) کی قمیص کا تین دفعہ ذکر ہے اور ہر دفعہ اس کا انوکھا ہی اثر ہے۔ ایک تو یہ خون آلود قمیص تھی جس کے نتیجے میں یعقوب (علیہ السلام) کی بینائی ختم ہوگئی، دوسرا یوسف (علیہ السلام) کو تہمت دست درازی سے ان کی قمیص دیکھ کر بری قرار دیا گیا اور تیسرا یوسف (علیہ السلام) کی قمیص کی خوشبو آنا اور یعقوب (علیہ السلام) پر اسے ڈالنے سے ان کی بینائی کا واپس آنا۔ سبحان اللہ ! اس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی کمال نشانیاں ہیں۔ تفسیر ” التحریر والتنویر “ کے مصنف ابن عاشور لکھتے ہیں : ” اس میں کوئی شک نہیں کہ انھوں نے قمیص کو خون آلود کرنے کی جعل سازی میں اور اسے چیر پھاڑ کر ایسی قمیص کی صورت میں پیش کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی ہوگی جس کے پہننے والے کو بھیڑیے نے کھالیا ہو۔ خصوصاً اس لیے کہ وہ اس سے کہیں زیادہ سمجھ دار تھے کہ اتنی سی بات بھی ان میں سے کسی کے ذہن میں نہ آئی ہو، جب کہ وہ دس جوان تھے۔ سو بعض اہل تفسیر نے جو لکھا ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ میں نے آج کی طرح کا کوئی بھیڑیا نہیں دیکھا جو اس بھیڑیے سے زیادہ حلیم (بردبار) ہو کہ میرے بیٹے کو کھا گیا اور اس کی قمیص نہیں پھاڑی، تو یہ قصہ گوئی کی ایک ظرافت ہے۔ “ اگر قمیص کے سالم رہنے کی بات قرآن و حدیث یا کسی صحیح ذریعے سے آئی ہوتی تو میرے خیال کے مطابق ابن عاشور (رض) اتنے واضح الفاظ میں اسے قصہ گو حضرات کی کارستانی قرار نہ دیتے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایسا ہونا ممکن نہیں، بالکل ممکن ہے اور جرم یقیناً اپنے نشان چھوڑ جاتا ہے مگر بات ثابت تو ہونی چاہیے۔ یہاں ان کے جھوٹے ہونے کے اور دلائل ہی میں کچھ کمی نہ تھی کہ ہم قمیص کا سالم رہنا کسی صحیح ذریعۂ خبر کے بغیر ہی تسلیم کرلیں۔ فَصَبْرٌ جَمِيْلٌ : جملہ فعلیہ ” أَصْبِرُ صَبْرًا جَمِیْلاً “ (یعنی اب میں صبر جمیل اختیار کروں گا) کے بجائے جملہ اسمیہ ارشاد فرمایا : ” فَصَبْرٌ جَمِيْلٌ“ کیونکہ اس میں دوام ہوتا ہے۔ گویا اس میں مبتدا یا خبر محذوف ہے، یعنی ” فَأَمْرِیْ صَبْرٌ جَمِیْلٌ“ یا ” فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ اَمْرِیْ “ یعنی اب میرا کام صبر جمیل ہے۔ کسی بھی چیز کا جمال یہ ہے کہ وہ اپنے جیسی دوسری چیزوں سے بہتر اور خوبصورت ہو۔ چناچہ صبر بھی دو طرح کا ہوتا ہے، ایک صبر جمیل، جس میں حسن ہو اور دوسرا غیر جمیل جو حسن سے خالی ہو۔ پہلا وہ جس کے ساتھ جزع فزع اور واویلا وغیرہ نہ ہو بلکہ اللہ کی تقدیر پر صبر کیا جائے۔ دوسرا وہ جو یہ سب کچھ کرنے کے بعد ہو اور جو ہر ایک کو آخر کرنا ہی پڑتا ہے۔ انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک عورت کے پاس سے گزرے جو اپنے ایک بچے پر رو رہی تھی۔ (عبد الصمد کی روایت میں ہے کہ وہ ایک قبر کے پاس رو رہی تھی) تو آپ نے اس سے کہا : ( اِتَّقِي اللّٰہَ وَاصْبِرِيْ ، فَقَالَتْ وَمَا تُبَالِيْ بِمُصِیْبَتِيْ ؟ فَلَمَّا ذَھَبَ ، قِیْلَ لَھَا إِنَّہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَأَخَذَھَا مِثْلُ الْمَوْتِ ، فَأَتَتْ بَابَہُ ، فَلَمْ تَجِدْ عَلٰی بَابِہِ بَوَّابِیْنَ فَقَالَتْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! لَمْ أَعْرِفْکَ ، فَقَالَ إِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَ أَوَّلِ صَدْمَۃٍ ) [ مسلم، الجنائز، باب الصبر علٰی المصیبۃ عند الصدمۃ الأولی : ١٥؍٩٢٦ ] ” اللہ سے ڈر اور صبر کر۔ “ اس نے کہا : ” آپ کو میری مصیبت کی کیا پروا ہے ؟ “ جب آپ چلے گئے تو اسے بتایا گیا کہ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تھے، تو اس کی حالت تو موت جیسی ہوگئی۔ وہ آپ کے دروازے پر آئی تو اس نے آپ کے دروازے پر کوئی دربان نہیں دیکھے۔ کہنے لگی : ” یا رسول اللہ ! میں نے آپ کو پہچانا نہیں تھا۔ “ آپ نے فرمایا : ” اصل صبر تو صرف پہلی چوٹ کے وقت ہوتا ہے۔ “ وَاللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰي مَا تَصِفُوْنَ : یہاں ” الْمُسْتَعَانُ “ خبر پر الف لام کی وجہ سے حصر کا معنی پیدا ہوگیا، یعنی صرف اللہ ہے یا اللہ ہی ہے جس سے مدد مانگی جاتی ہے اور اللہ سے مدد مانگنے کا طریقہ بھی اس نے خود ہی سکھایا، جس پر یعقوب (علیہ السلام) نے عمل کیا، فرمایا : (وَاسْتَعِيْنُوْا بالصَّبْرِ وَالصَّلٰوةِ ) [ البقرۃ : ٤٥ ] ” اور صبر اور نماز کے ساتھ مدد مانگو۔ “ ہمارے جو بھائی کہتے ہیں کہ فلاں حضرت صاحب کی نظر لوح محفوظ پر ہے اور فلاں صاحب کے دل کا آئینہ انھیں کل عالم کی خبر دیتا ہے، وہ غور فرمائیں کہ چند میل کے فاصلے پر کنویں میں اللہ کے نبی یعقوب (علیہ السلام) کو یوسف (علیہ السلام) کی خبر نہ ہوسکی۔ نہ یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کے دل میں کھٹکا تک ہوا کہ والد ماجد سے تو کوئی چیز چھپی رہتی نہیں، ہمارا مکر کیسے کامیاب ہوگا ؟ تو ان کے حضرت صاحبان لوح محفوظ تک کیسے پہنچ گئے ؟ یہاں ایک سوال ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) نے اس وقت یوسف (علیہ السلام) کو تلاش کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی ؟ جواب یہ ہے کہ وجہ یہ تھی کہ ان کی تلاش بھی انھی بھائیوں ہی نے کرنا تھی، وہ خود تو عمر رسیدہ ہونے کی وجہ سے کمزور تھے۔ چناچہ جب موقع مناسب جانا انھی بھائیوں کو حکم دیا کہ جاؤ اور یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کرو، فرمایا : (فَتَحَسَّسُوْا مِنْ يُّوْسُفَ وَاَخِيْهِ ) [ یوسف : ٨٧ ]” یوسف اور اس کے بھائی کا سراغ لگاؤ۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

وَجَاءُوا عَلَىٰ قَمِيصِهِ بِدَمٍ كَذِبٍ ; (And they came with fake blood on his shirt) that is, the brothers of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) came back with his shirt they had smeared in fake blood so that they could make their father believe that he has been eaten up by a wolf. But, Allah Ta’ ala had His way of exposing their lie. He made them neglect something else they should have done besides smearing the shirt with fake blood. Had they also torn the shirt, it would proved his being eaten up by a wolf. Here they were coming with an intact shirt smeared with the blood of a kid goat and trying to deceive their father. After see¬ing this shirt totally unscratched, Sayyidna Ya&qub (علیہ السلام) said: My sons, certainly wise was this wolf who ate Yusuf in a way that his shirt was not torn from anywhere. Thus, their deceit was exposed before Sayyidna Ya&qub (علیہ السلام) and he said: بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرً‌ا ۖ فَصَبْرٌ‌ جَمِيلٌ ۖ وَاللَّـهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَىٰ مَا تَصِفُونَ Rather, your inner desires have seduced you to something. So, patience is best. And it is Allah whose help is sought against what you describe. Two Rulings: 1. Sayyidna Ya&qub (علیہ السلام) has used the intact shirt as evidence to es¬tablish that the brothers of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) were lying. This tells us that a Qadi or judge should also keep an eye on circumstantial evidence alongwith the claims and arguments of the parties concerned (Qurtubi). Al-Mawardi has said: The legendary shirt of Yusuf (علیہ السلام) is a wonder of the world in its own way. Three great events of prophetic annals are con¬nected with his shirt: (I) The first event relates to the smearing of the shirt with fake blood, cheating a father and the evidence of the shirt which established the lie. (II) The second event relates to Zulaikha in which it is the shirt of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) which appears as the conclu¬sive evidence. (III) The third event relates to the return of Sayyidna Ya` qub&s eyesight in which it is the shirt of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) which stands out as the cause of that miracle. 2. Some ` Ulama have said that the comment: بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرً‌ا (Rather, your inner desires have seduced you to something 18) made at this time before his sons was also made at the time when Benyamin, the real brother of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) ، was detained in Egypt having been charged with theft. When his brothers reported this incident to Sayyidna Ya` qub (علیہ السلام) ، he said: بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ (Rather, your inner desires have se¬duced you to something - 83). Worth pondering here is that Sayyidna Ya` qub (علیہ السلام) had made both these comments as based on his opinion. The first of them turned out to be true; the other was not - because, in this, the brothers were not to be blamed. This tells us that a wrong personal opinion is possible even from prophets initially - though, later on, they are not left to stand by that wrong opinion by means of Divine revelation. According to Al-Qurtubi, it proves that an error of opinion can be committed by the highest of the high. Therefore, every man or woman of opinion should take his or her opinion as suspect, and should not become so rigid about it as not to be ready to listen or entertain what others have to say.

وَجَاۗءُوْ عَلٰي قَمِيْصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍ یعنی یوسف (علیہ السلام) کے بھائی یوسف (علیہ السلام) کے کرتے پر جھوٹا خون لگا کر لائے تھے تاکہ والد کو بھیڑئیے کے کھانے کا یقین دلائیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان کا جھوٹ ظاہر کرنے کے لئے ان کو اس سے غافل کردیا کہ کرتے پر خون لگانے کے ساتھ اس کو پھاڑ بھی دیتے جس سے بھیڑئیے کا کھانا ثابت ہوتا انہوں نے صحیح سالم کرتے پر بکری کے بچے کا خون لگا کر باپ کو دھوکہ میں ڈالنا چاہا یعقوب (علیہ السلام) نے کرتا صحیح سالم دیکھ کر فرمایا میرے بیٹو ! یہ بھیڑیا کیسا حکیم اور عقل مند تھا کہ یوسف کو اس طرح کھایا کہ کرتہ کہیں سے نہیں پھٹا، اس طرح حضرت یعقوب (علیہ السلام) پر ان کی جعل سازی کا راز فاش ہوگیا اور فرمایا بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا ۭ فَصَبْرٌ جَمِيْلٌ ۭ وَاللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰي مَا تَصِفُوْنَ یعنی یوسف کو بھیڑیئے نے نہیں کھایا بلکہ تمہارے ہی نفوس نے ایک بات بنائی ہے اب میرے لئے بہتر یہی ہے کہ صبر کروں اور جو کچھ تم کہتے ہو اس پر اللہ سے مدد مانگوں مسئلہ : یعقوب (علیہ السلام) نے کرتہ صحیح سالم ہونے سے برادران یوسف (علیہ السلام) کے جھوٹ پر استدلال کیا ہے اس سے معلوم ہوا کہ قاضی یا حاکم کو فریقین کے دعوے اور دلائل کیساتھ حالات اور قرائن پر بھی نظر کرنا چاہئے (قرطبی) ماروردی (رح) نے فرمایا کہ پیراہن یوسف بھی عجائب روزگار میں سے ہے تین عظیم الشان وقائع اسی پیراہن یعنی کرتے سے وابستہ ہیں، پہلاواقعہ : خون آلود کر کے والد کو دھوکہ دینے اور کرتے کی شہادت سے جھوٹ ثابت ہونے کا ہے، دوسرا واقعہ : زلیخا کا کہ اس میں بھی یوسف (علیہ السلام) کا کرتہ ہی شہادت میں پیش ہوا ہے، تیسرا واقعہ : یعقوب (علیہ السلام) کی بینائی واپس آنے کا اس میں بھی ان کا کرتہ ہی اعجاز کا مظہر ثابت ہوا ہے مسئلہ : بعض علماء نے فرمایا کہ یعقوب (علیہ السلام) نے جو بات اپنے صاحبزادوں سے اس وقت کہی تھی کہ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا یعنی تمہارے نفوس نے ایک بات بنائی ہے یہی بات اس وقت بھی کہی جبکہ مصر میں یوسف (علیہ السلام) کو اس کی خبر کی تو فرمایا بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ یہاں غور کرنے کا مقام ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے یہ دونوں باتیں اپنی رائے سے کہی تھیں ان میں سے پہلی بات صحیح نکلی دوسری صحیح نہیں تھی کیونکہ اس میں بھائیوں کا قصور نہ تھا اس سے معلوم ہوا کہ رائے کی غلطی پیغمبروں سے بھی ابتداءً ہو سکتی ہے اگرچہ بعد میں ان کو بوحی الہی غلطی پر قائم رہنے نہیں دیا جاتا ، نیز قرطبی میں ہے کہ اس سے ثابت ہوا کہ رائے کی غلطی بڑے بڑوں سے ہو سکتی ہے اس لئے ہر صاحب رائے کو چاہئے کہ اپنی رائے کو متہم سمجھے اس پر ایسا جمود نہ کرے کہ دوسروں کی بات سننے ماننے کو تیار نہ ہو

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَجَاۗءُوْ عَلٰي قَمِيْصِہٖ بِدَمٍ كَذِبٍ۝ ٠ۭ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا۝ ٠ۭ فَصَبْرٌ جَمِيْلٌ۝ ٠ۭ وَاللہُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰي مَا تَصِفُوْنَ۝ ١٨ قمیص الْقَمِيصُ معروف، وجمعه قُمُصٌ وأَقْمِصَةٌ وقُمْصَانٌ. قال تعالی: إِنْ كانَ قَمِيصُهُ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ [يوسف/ 26] ، وَإِنْ كانَ قَمِيصُهُ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ [يوسف/ 27] وتَقَمَّصَهُ : لبسه، وقَمَصَ البعیر يَقْمُصُ ويَقْمِصُ : إذا نزا، والقُمْاصُ : داء يأخذه فلا يستقرّ به موضعه ومنه ( القَامِصَةُ ) في الحدیث . ( ق م ص ) القمیص قمیص ۔ کرتہ ۔ جمع قمص واقمصتہ وقمصان قرآن میں ہے : ۔ إِنْ كانَ قَمِيصُهُ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ [يوسف/ 26] اگر اس کا کرتہ آگے سے پھٹا ہو ۔ وَإِنْ كانَ قَمِيصُهُ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ [يوسف/ 27] اور اگر کرتہ پیچھے سے پھٹا ہو ۔ تقمصتہ قمیص پہنا ۔ قمص ( ن ۔ ض ) البعیر اونٹ کا جست کرنا ۔ القماص اونٹ کا ایک مرض جو اسے چین سے کھڑا ہونے نہیں دیتا اور اسی سے لفظ قامصتہ ہے جس کو ذکر حدیث میں آیا ہے ( 85 ) دم أصل الدّم دمي، وهو معروف، قال اللہ تعالی: حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ [ المائدة/ 3] ، وجمعه دِمَاء، وقال : لا تَسْفِكُونَ دِماءَكُمْ [ البقرة/ 84] ، وقد دَمِيَتِ الجراحةُ ، وفرس مَدْمِيٌّ: شدید الشّقرة، کالدّم في اللّون، والدُّمْيَة صورة حسنة، وشجّة دامية . ( د م ی ) الدم ۔ خون ۔ یہ اصل میں دمامی تھا ( یاء کو برائے تخفیف حذف کردیا ہے ) قرآن میں ہے :۔ :۔ حرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ [ المائدة/ 3] تم مردا جانور اور ( بہتا ) لہو یہ سب حرام ہیں ۔ دم کی جمع دمآء ہے ۔ قرآن میں ہے لا تَسْفِكُونَ دِماءَكُمْ [ البقرة/ 84] کہ آپس میں کشت و خون نہ کرنا ۔ دمیت ( د) الجراحۃ ۔ زخم سے خون بہنا ۔ فرس مدعی ۔ خون کی طرح نہایت سرخ رنگ کا گھوڑا ۔ الدمیۃ ۔ گڑیا ( جو خون کی مانند سرخ اور منقوش ہو ) شکجۃ دامیہ ۔ سر کا زخم جس سے خون بہہ رہا ہو ۔ كذب وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی: إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ، ( ک ذ ب ) الکذب قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے سول والتَّسْوِيلُ : تزيين النّفس لما تحرص عليه، وتصویر القبیح منه بصورة الحسن، قال : بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنْفُسُكُمْ أَمْراً [يوسف/ 18] ( س و ل ) التسویل ۔ کے معنی نفس کے اس چیز کو مزین کرنا کے ہیں جس پر اسے حرص بھی ہو اور اس کے قبح کو خوشنما بناکر پیش کرنا کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنْفُسُكُمْ أَمْراً [يوسف/ 18] بلکہ تم اپنے دل سے ( یہ ) بات بنا لائے ۔ صبر الصَّبْرُ : الإمساک في ضيق، والصَّبْرُ : حبس النّفس علی ما يقتضيه العقل والشرع، أو عمّا يقتضیان حبسها عنه، وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] ، وسمّي الصّوم صبرا لکونه کالنّوع له، وقال عليه السلام :«صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر» ( ص ب ر ) الصبر کے معنی ہیں کسی کو تنگی کی حالت میں روک رکھنا ۔ لہذا الصبر کے معنی ہوئے عقل و شریعت دونوں یا ان میں سے کسی ایک کے تقاضا کے مطابق اپنے آپ کو روک رکھنا ۔ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] صبر کرنے والے مرو اور صبر کرنے والی عورتیں اور روزہ کو صبر کہا گیا ہے کیونکہ یہ بھی ضبط نفس کی ایک قسم ہے چناچہ آنحضرت نے فرمایا «صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر» ماه رمضان اور ہر ماہ میں تین روزے سینہ سے بغض کو نکال ڈالتے ہیں جمیل الجَمَال : الحسن الکثير، وذلک ضربان : أحدهما : جمال يخصّ الإنسان في نفسه أو بدنه أو فعله . والثاني : ما يوصل منه إلى غيره . وعلی هذا الوجه ما روي عنه صلّى اللہ عليه وسلم : «إنّ اللہ جمیل يحبّ الجمال» «2» تنبيها أنّه منه تفیض الخیرات الکثيرة، فيحبّ من يختص بذلک . وقال تعالی: وَلَكُمْ فِيها جَمالٌ حِينَ تُرِيحُونَ [ النحل/ 6] ، ويقال : جَمِيلٌ وجَمَال علی التکثير . قال اللہ تعالی: فَصَبْرٌ جَمِيلٌ [يوسف/ 83] ( ج م ل ) الجمال کے معنی حسن کثیر کے ہیں اور یہ دو قسم پر ہے ۔ (1) وہ خوبی جو خاص طور پر بدن یا نفس یا عمل میں پائی جاتی ہے ۔ (2) وہ خوبی جو دوسرے تک پہنچنے کا ذریعہ بنتی ہے اسی معنی میں مروی ہے کہ آنحضرت نے فرمایا (66) ان اللہ جمیل يحب الجمال ۔ کہ اللہ جمیل ہے اور جمال کو محبوب رکھتا ہے ۔ یعنی اللہ تعالیٰ سے خیرات کثیرہ کا فیضان ہوتا ہے لہذا جو اس صفت کے ساتھ متصف ہوگا ۔ وہی اللہ تعالیٰ کو محبوب ہوگا ۔ اور قرآن میں ہے :۔ وَلَكُمْ فِيها جَمالٌ حِينَ تُرِيحُونَ [ النحل/ 6] اور جب شام کو انہیں جنگل سے لاتے ہو ۔۔ تو ان سے تمہاری عزت و شان ہے ۔ اور جمیل و جمال وجمال مبالغہ کے صیغے ہیں ۔ قرآن میں ہے :۔ فَصَبْرٌ جَمِيلٌ [يوسف/ 83] اچھا صلہ ( کہ وہی ) خوب ( ہے ) استِعَانَةُ : طلب العَوْنِ. قال : اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلاةِ [ البقرة/ 45] الا ستعانہ مدد طلب کرنا قرآن میں ہے : ۔ اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلاةِ [ البقرة/ 45] صبر اور نماز سے مدد لیا کرو ۔ وصف الوَصْفُ : ذكرُ الشیءِ بحلیته ونعته، والصِّفَةُ : الحالة التي عليها الشیء من حلیته ونعته، کالزِّنَةِ التي هي قدر الشیء، والوَصْفُ قد يكون حقّا وباطلا . قال تعالی: وَلا تَقُولُوا لِما تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ [ النحل/ 116] ( و ص ف ) الوصف کے معنی کسی چیز کا حلیہ اور نعت بیان کرنے کسے ہیں اور کسی چیز کی وہ حالت جو حلیہ اور نعمت کے لحاظ سے ہوتی ہے اسے صفۃ کہا جاتا ہے جیسا کہ زنۃ ہر چیز کی مقدار پر بولا جاتا ہے ۔ اور وصف چونکہ غلط اور صحیح دونوں طرح ہوسکتا ہے چناچہ آیت کریمہ : ۔ وَلا تَقُولُوا لِما تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ [ النحل/ 116] اور یونہی جھوٹ جو تمہاری زبان پر آئے مت کہہ دیا کرو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

عدالت کا یعقوب (علیہ السلام) کی طرح زیرک اور معاملہ فہم ہونا چاہیے قول باری بدم کذب جھوٹ کا خون یعنی جھوٹ خون ۔ حضرت ابن عباس (رض) اور مجاہد اور قول ہے کہ اگر بھیڑے نے حضرت یوسف کو پھاڑ کھایا ہوتا تو قمیص ضررور تار تار ہوجاتی لیکن قمیص کا درست حالت میں ہونا اور اس پر کسی پھٹن وغیرہ کا نہ ہونا ان کے جھوٹ کی واضح علامت تھی ۔ شعبی کا قول ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی قمیص کے ساتھ تین نشانیاں وابستہ ہوگئیں ۔ اس پر جو خون تھا وہ جھوٹ موٹ کا تھا اس میں پھٹن وغیرہ کا کوئی نشان نہیں تھا۔ تیسری نشانی یہ تھی کہ جب یہ قمیص حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے چہرے پر ڈالی گئی تو آپ کی بنیائی لوٹ آئی ۔ حسن کا قول ہے کہ جب حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے قمیص کو درست حالت میں دیکھا تو فرمانے لگے کہ بیٹو ! میں نے آج تک ایسا حلیم الطبع بھیڑیا نہیں دیکھا۔ قول باری ہے قال بل سولت لکم انفسکم امرا ً ۔ یہ سن کر ان کے باپ نے کہا ۔ بلکہ تمہارے نفس نے تمہارے لیے ایک بڑے کام کو آسان بنادیا۔ یہ قول اس پر دلالت کرتا ہے کہ حضرت یعقوب علیہالسلام کو اپنے بیٹوں کی خیانت اور ظلم کا قطعی طور پر علم ہوگیا تھا نیز یہ کہ یوسف کو بھیڑے نے نہیں کھایا تھا جس کی دلیل یہ تھی کہ انکا قمیص درست حالت میں تھا ۔ اس میں پھٹن وغیرہ کا کوئی نشان نہیں تھا۔ یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ اس جیسی صورت حال میں ظاہری نشان اور علامت کو دیکھ کر تصدیق یا تکذیب کا حکم لگاناجائز ہے اس لیے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو قطعی طور پر یقین ہوگیا تھا کہ یوسف کو بھیڑیے نے نہیں کھایا ہے۔ اسلیی کہ بیٹوں کی کذب بیانی کی علامت واضح طور پر ظاہر ہوچکی تھی۔ صبر جمیل کسے کہا جاتا ہے ؟ قول باری ہے فصبر جمیل اچھا صبر کروں گا اور بخوبی کروں گا ایک قول ہے کہ صبر جمیل اس صبر کو کہتے ہیں جس میں کسی قسم کا شکوہ شکایت نہ ہو ۔ آیت میں یہ بیان کردیا گیا ہے کہ مصیبت صبر جمیل کا تقاضا کرتی ہے ، نیز غم و اوندوہ میں مبتلا کرنے والے امور پیش آنے کی صورت میں اللہ سے مدد کی درخواست کرنی چاہیے۔ اللہ تعلایٰ نے ہمارے سامنے اپنے نبی یعقوب (علیہ السلام) کی کیفیت بیان فرما دی کہ جب پیارا بیٹا نظروں سے غائب ہوگیا اور اس کی جدائی کا غم سر پر آپڑا تو آپ نے اس آزمائش میں صبر جمیل اختیا ر کیا ، اللہ کی طرف توجہ کی اور اس سے ہی مدد کے خواستگار ہوئے ، اس کی نظریہ قول باری ہے الذین اذا اصابتھم مصیبۃ قالوا انا للہ وانا الیہ راجعون اولیک علیھم صلوات من ربھم ورحمۃ اولیک ھم المھتدون اور جب کوئی مصیبت پڑے تو کہیں ہم اللہ ہی کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف ہمیں پلٹ کر جا ان ہے ، ان پر ان کے رب کی طرف سے بڑی عنایات ہوں گی ۔ اس کی رحمت ان پر سایہ کرے گی اور ایسے ہی لوگ راست رو ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ہم سے یہ تمام باتیں بیان کردی ہیں تا کہ ہم مصائب کی گھڑی میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی پیروی کریں۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٨) اور آتے وقت کسی بکری کو ذبح کرکے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی قمیص پر اس کا خون بھی لگا لائے تھے، حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے دیکھا کر فرمایا تو تم نے یوسف کی ہلاکت کے لیے اپنے دل سے بات بنالی اور اس کو کر گزرے۔ خیر صبر ہی روں گا جس میں شکایت کا کوئی نام نہ ہوگا اور تم جو کچھ یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں کہہ رہے ہو اس میں اللہ ہی سے مدد طلب کروں گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

(قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَکُمْ اَنْفُسُکُمْ اَمْرًا) ان کی بات سن کر حضرت یعقوب نے فرمایا کہ نہیں بات کچھ اور ہے۔ یہ بات جو تم بتا رہے ہو یہ تو تمہارے جی کی گھڑی ہوئی ایک بات ہے۔ تمہارے نفسوں نے تمہارے لیے ایک بڑی بات کو ہلکا کر کے پیش کیا ہے اور تم لوگوں نے کوئی بہت بڑا غلط اقدام کیا ہے۔ (فَصَبْرٌ جَمِيْلٌ ۭ وَاللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰي مَا تَصِفُوْنَ ) حضرت یعقوب اکیلے تھے بوڑھے تھے اور دوسری طرف دس جوان بیٹے اس صورت حال میں اور کیا کہتے ؟

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

13. The literal meaning of “patience in grace” which implies a patience that enables one to endure all kinds of troubles and afflictions in a calm, self possessed and unemotional manner, without complaining or crying or weeping, as is worthy of great minds. 14. Prophet Jacob’s reaction to the news of Joseph’s death, as depicted in the Quran, is also different from that given in the Bible and the Talmud. According to them he was upset by the sad news and behaved like an ordinary father. The Bible says: And Jacob rent his clothes, and put sackcloth upon his loins. And mourned for his son many days. (Gen. 37: 34). And the Talmud says that at the sad news Jacob gave himself up to the abandonment of grief, and lay with his face to the ground and refused to be comforted, and cried: Some wild beast has devoured Joseph and I shall never see him more; and he mourned for Joseph for many years. (The Talmud, H. Polano, pp. 78, 79). When we contrast this picture with the one depicted in the Quran, we clearly see that the Quranic picture is that of a dignified and great personality. He is not upset in the least at hearing the sad news of his beloved son but at once gets to the bottom of the matter, and tells the envious brothers: Your tale is false and fabricated. Then he shows good patience as a Prophet should and puts his trust in the help of God.

سورة یُوْسُف حاشیہ نمبر :13 متن میں”صبر جمیل“ کے الفاظ ہیں جن کا لفظی ترجمہ ” اچھا صبر“ ہوسکتا ہے ۔ اس سے مراد ایسا صبر ہے جس میں شکایت نہ ہو ، فریاد نہ ہو ، جَزَع نزع نہ ہو ، ٹھنڈے دل سے اس مصیبت کو برداشت کیا جائے جو ایک عالی ظرف انسان پر آپڑی ہو ۔ سورة یُوْسُف حاشیہ نمبر :14 بائیبل اور تلمود یہاں حضرت یعقوب علیہ السلام کے تأثر کا نقشہ بھی کچھ ایسا کھینچتی ہیں جو کسی معمولی باپ کے تاثر سے کچھ بھی مختلف نہیں ہے ۔ بائیبل کا بیان یہ ہے کہ ” تب یعقوب علیہ السلام نے اپنا پیراہن چاک کیا اور ٹاٹ اپنی کمر سے لپیٹا اور بہت دنوں تک اپنے بیٹے کے لیے ماتم کرتا رہا “ ۔ اور تلمود کا بیان ہے کہ ” یعقوب بیٹے کا قمیص پہچانتے ہی اوندھے منہ زمین پر گر پڑا اور دیر تک بے حس و حرکت پڑا رہا ، پھر اٹھ کر بڑے زور سے چیخا کہ ہاں یہ میرے بیٹے ہی کا قمیص ہے …………. اور وہ سالہا سال تک یوسف علیہ السلام کا ماتم کرتا رہا“ ۔ اس نقشے میں حضرت یعقوب علیہ السلام وہی کچھ کرتے نظر آتے ہیں جو ہر باپ ایسے موقع پر کرے گا ۔ لیکن قرآن جو نقشہ پیش کر رہا ہے اس سے ہمارے سامنے ایک ایسے غیر معمولی انسان کی تصویر آتی ہے جو کمال درجہ بردبار و باوقار ہے ، اتنی بڑی غم انگیز خبر سن کر بھی اپنے دماغ کا توازن نہیں کھوتا ، اپنی فراست سے معاملہ کہ ٹھیک ٹھیک نوعیت کو بھانپ جاتا ہے کہ یہ ایک بناوٹی بات ہے جو ان حاسد بیٹوں نے بنا کر پیش کی ہے ، اور پھر عالی ظرف انسانوں کی طرح صبر کرتا ہے اور خدا پر بھروسہ کرتا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

10: بعض روایات میں ہے کہ انہوں نے قمیص پر خون تو لگا دیا۔ لیکن قمیص صحیح سالم تھا اس پر پھٹن کے کوئی آثار نہیں تھے اس لیے حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ وہ بھیڑیاں بڑا مہذب تھا کہ بچے کو کھا گیا اور قمیص جوں کی توں صحیح سالم رہی۔ خلاصہ یہ کہ ان کو یہ بات یقین سے معلوم ہوگئی کہ بھیڑیے کے کھانے کی بات محض افسانہ ہے اس لیے انہوں نے فرمایا کہ یہ بات تم نے اپنی طرف سے گھڑ لی ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(12:18) وجاء و اعلیٰ قمیصہ بدم کذب۔ کذب ای ذی کذب۔ مصدر کو صفت کے لئے مبالغہ کی خاطر استعمال کیا ہے۔ دم کذب موصوف وصفت۔ علی قمیصہ ای فوق قمیصہ والمعنی اتو بدم کذب فوق قمیصہ۔ وہ لے آئے جھوٹ موٹ کا خون اس کی قمیص پر لگا ہوا۔ سولت۔ ماضی واحد مؤنث غائب تسویل (باب تفعیل) سے جس کے معنی ہیں نفس کا اس چیز کو مزین کرکے دکھانا جس پر وہ حریص ہو۔ (بلکہ تمہارے نفسوں نے یعنی تمہارے دلوں نے ایک بات جو جھوٹی ہے) مزین اور معقول شکل میں بنالی ہے۔ قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے ۔ الشیطن سول لہم (47:25) شیطان نے (یہ کام) انہیں مزین کر دکھایا۔ المستعان۔ اسم مفعول واحد مذکر۔ استعانۃ (استفعال) سے مصدر۔ وہ جس سے اعانت طلب کی جائے۔ جس سے مدد مانگی جائے ۔ معاونت باہمی مدد کرنا۔ تعاون ایک دوسرے کے ساتھ مدد گار ہونا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 ۔ حضرت ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ کرتا صحیح وسالم تھا، کہیں سے پھٹانہ تھا اس لئے حضرت یعقوب ( علیہ السلام) سمجھ گئے کہ یہ سب ان کی مکاری وحیلی ساز ی ہے۔ بعض روایات میں ہے کہ حضرت یعقوب ( علیہ السلام) نے ان سے کہا : یہ بھیڑیا بھی عجیب قسم کا دانا تھا کہ یوسف ( علیہ السلام) کو کھا گیا مگر اس کا کرتہ نہ پھاڑا۔ (فتح القدیر) ۔ 2 ۔ بھیڑئیے نے ہرگز یوسف ( علیہ السلام) کو نہیں کھایا ” بلکہ “… 3 ۔ عمدہ صبر یہ ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور سے گلہ شکوہ نہ کیا جائے بلکہ ٹھنڈ سے دل سے مصیبت کر برداشت کیا جائے اور اللہ کی تقدیر پر شاکر رہے۔ (وحیدی) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

7۔ یعقوب (علیہ السلام) کا بل سولت فرمایا بنا برقول مشہور اس قمیص مسلم دیکھنے سے تھا لیکن اگر وہ روایت ثابت نہ ہو تو ذوق اجتہاد و شہادت قلب سے ہوگا جو کہ انبیاء میں اکثر تو مطابق واقع کے ہوتا ہے اور کبھی وہ گمان واقع کے خلاف بھی ہوجاتا ہے۔ 8۔ جب یعقوب کو یقینا ظنا یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کا بیان غلط ہونامعلوم تھا تو یوسف کو تلاش کیوں نہ کیا غالب یہ ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) کو وحی سے اجمالا معلوم ہوگیا ہوگا کہ وہ تلف نہ ہوں گے لیکن میری قسمت میں مفارقت طویلہ مقدر ہے میری تلاش سے نہ ملیں گے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ان کے بھائی کنویں میں پھینک کر واپس چلے آئے۔ کچھ دنوں کے بعد ایک قافلہ کنویں کے قریب اترا اور انھوں نے یوسف (علیہ السلام) کو کنویں سے نکال لیا۔ مفسرین کی غالب اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) تین دن تک اس ویران کنویں میں پڑے رہے اور آخری دن ایک قافلہ وہاں سے گزرا جنہوں نے اس زمانے کے دستور کے مطابق ایک آدمی کو اپنے سے پہلے روانہ کیا تاکہ جہاں انہوں نے پڑاؤ ڈالنا ہے اس کے گردو جوار پانی تلاش کرے۔ پانی تلاش کرنے والے شخص نے جب کنویں میں ڈول ڈالا۔ تو حضرت یوسف (علیہ السلام) اس ڈول میں بیٹھ کر باہر نکلے۔ جنہیں دیکھتے ہی وہ شخص چلا اٹھا کہ قافلے والو ! خوش ہوجاؤ۔ ہمیں ایک غلام مل گیا ہے۔ ظاہر ہے قافلے والوں نے آج تک ایسا غلام نہیں دیکھا ہوگا۔ کیونکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) پیغمبروں کے عظیم خاندان کا صاحبزادہ تھا اور اللہ تعالیٰ نے انھیں ایسا حسن و جمال عنایت فرمایا تھا جس کی نظیر دنیا میں نہیں ملتی۔ آٹھ، نو سال کی عمر کا پیغمبر زادہ اس کے حسن و جمال اور چہرے کی نورانیت اور معصومیت چودھویں رات کے چاند کو شرما رہی تھی۔ قافلہ والوں کی خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی مگر یہ لوگ بردہ فروش نہ تھے۔ اس لیے انہوں نے یوسف (علیہ السلام) کو چند درہموں کے عوض یعنی حقیر سی رقم پر بیچ ڈالا۔ کیونکہ انہیں بردہ فروشی کے کارو بار کے ساتھ کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ کچھ لوگوں نے اس کا مفہوم یہ لکھا ہے کہ بیچنے والے قافلے کی بجائے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی تھے۔ جو کسی نہ کسی انداز میں ان کی نگرانی کر رہے تھے۔ کہ یوسف کا کیا انجام ہوتا ہے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ قافلے والے اسے نکال کرلے جا رہے ہیں۔ تو انہوں نے مختلف بہانے بنا کر حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ان سے حاصل کیا اور بعد ازاں انہیں کے ہاتھوں معمولی قیمت لے کر فروخت کردیا۔ لیکن پختہ اہل علم، اس بات کے ساتھ اتفاق نہیں کرتے انہوں نے فروخت کنند گان سے مراد قافلے کے لوگ سمجھا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں پہلی آیت کے آخر میں فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ خوب جانتا تھا جو وہ کررہے تھے۔ جس کے دو مفہوم ہوسکتے ہیں۔ ١۔ برادران یوسف کو یہ معلوم نہ تھا کہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں اس کا انجام یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں کتنا بہتر ہوگا۔ ٢۔ قافلے والوں کو بھی یہ خبر نہ تھی کہ جسے وہ عام بچہ اور غلام سمجھ رہے ہیں وہ کس قدر بڑے خاندان کا لخت جگر اور کس قدر عظیم الشان قسمت کا مالک ہوگا۔ غلام عربی زبان میں صرف زرخرید شخص کے لیے نہیں بلکہ غلام کا لفظ چھوٹے بچے سے لے کر ایسے نوجوان کے بارے میں بھی بولا جاتا ہے جس کے چہرے پر جوانی کا سبزہ نمودار ہورہاہو۔ مسائل ١۔ یوسف (علیہ السلام) کو دیکھ کر پانی لانے والا خوشی سے چلا اٹھا۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کے عمل سے خوب واقف ہے۔ ٣۔ یوسف (علیہ السلام) کو معمولی قیمت پر فروخت کردیا گیا۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ لوگوں کے اعمال سے اچھی طرح باخبر ہے : ١۔ اللہ خوب واقف تھا جو کچھ وہ کر رہے تھے۔ (یوسف : ١٩) ٢۔ اللہ دیکھنے والا ہے جو لوگ عمل کرتے ہیں۔ (آل عمران : ١٦٣) ٣۔ نہیں ہے اللہ غافل اس سے جو لوگ عمل کرتے ہیں۔ (الانعام : ١٣٢) ٤۔ بیشک جو وہ عمل کرتے ہیں اللہ اس کی خبر رکھنے والا ہے۔ (ھود : ١١١) ٥۔ ہم ان کو خبر دیں گے جو وہ اعمال کرتے رہے۔ (الانعام : ١٠٩) ٦۔ اللہ کو ظالموں کے اعمال سے غافل تصور نہ کریں۔ (ابراہیم : ٤٢)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

حضرت یعقوب نے حالات کو بھانپ لیا ، خود نبوت نے انہیں بتا دیا کہ یوسف کو کم از کم بھیڑئیے نے نہیں کھایا۔ انہوں نے کوئی اور ہی سازش کی ہے۔ یہ جو بتا رہے ہیں وہ واقعہ نہیں ہے جو بتا رہے ہیں ، یہ تو نہیں ہے۔ اس لیے انہوں نے صرف یہ تبصرہ کیا کہ تمہارے نفسوں نے تمہارے لیے کوئی بڑا برا کام آسان بنا دیا ہے اور اس کا ارتکاب تم نے کرلیا ہے اور یہ کہ ان کے لیے صبر کے سوا کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ جزع و فزع ان کے شایان شان نہیں ہے اور یہ جھوٹ بادی النظر میں جھوٹ ہے جو یہ لوگ گھڑ رہے ہیں۔ اس کے بارے میں میں اللہ ہی سے شکایت کرسکتے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

16:۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے کرتہ دیکھ کر فرمایا یوسف کو بھیڑئیے نے نہیں کھایا تم نے یوسف کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کہیں غائب کردیا ہے۔ بھلا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یوسف کو بھیڑیا کھا جائے اور اس کا کرتہ صحیح و سلامت رہے۔ قال سعید بن جبیر لما جاء وا علی قمیصہ بدم کذب وما کان متخرقا قال کذبت لو اکلہ الذئب لخر قمیصہ الخ (کبیر ج 18 ص 103) ۔ ” مَاتَصِفُوْنَ “ ای علی احتمال ما تصفون۔ یعنی جو کچھ تم بیان کر رہے ہو اس کا غم واندوہ برداشت کرنے پر اللہ تعالیٰ سے مدد چاہتا ہوں۔ یہ واقعہ کے اس حصے سے معلوم ہوا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) غیب داں نہ تھے۔ لختِ جگر چند میلوں کے فاصلے پر ایک کنویں میں پڑا ہے مگر اس کا انکو علم نہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

18 اور باپ کے پاس آتے وقت یوسف (علیہ السلام) کے کرتہ پر جھوٹا خون بھی لگاتے لاتے حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے یہ کہانی سن کر اور کرتے کو دیکھ کر فرمایا کہ یہ بات نہیں ہے جو تم کہتے ہو بلکہ تمہارے دلوں نے تمہارے لئے ایک بات بنائی ہے اور گھڑ لی ہے سو اب میرا کام صبر جمیل ہے اور اب میں صبر جمیل ہی کروں گا اور جو باتیں تم بنا رہے ہو ان پر اللہ ہی سے مدد طلب کرتا ہوں باپ نے جب خون آلود کرتے کو دیکھا تو وہ کہیں سے پھٹا ہوا نہیں تھا سمجھ گئے کہ یہ بھیڑیے والی بات بناوتی ہے۔ صبر جمیل اس صبر کو کہتے ہیں جس میں غیر خدا سے شکوہ نہ کیا جائے۔