Yusuf's Dream
Allah says,
إِذْ قَالَ يُوسُفُ لاَِبِيهِ يَا أَبتِ إِنِّي
رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَأَيْتُهُمْ لِي سَاجِدِينَ
(Remember) when Yusuf said to his father: "O my father! Verily, I saw (in a dream) eleven stars and the sun and the moon - I saw them prostrating themselves to me."
Allah says, `Mention to your people, O Muhammad, among the stories that you narrate to them, the story of Yusuf.'
Prophet Yusuf (Joseph) mentioned his dream to his father, Prophet Yaqub (Jacob), son of Prophet Ishaq (Isaac), son of Prophet Ibrahim (Abraham), peace be upon them all.
Abdullah bin Abbas stated that the dreams of Prophets are revelations from Allah.
Scholars of Tafsir explained that;
in Yusuf's dream the eleven stars represent his brothers, who were eleven, and the sun and the moon represent his father and mother.
This explanation was collected from Ibn Abbas, Ad-Dahhak, Qatadah, Sufyan Ath-Thawri and Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam.
Yusuf's vision became a reality forty years later, or as some say, eighty years, when Yusuf raised his parents to the throne while his brothers were before him,
وَخَرُّواْ لَهُ سُجَّدًا وَقَالَ يَا أَبَتِ هَـذَا تَأْوِيلُ رُوْيَايَ مِن قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّي حَقًّا
and they fell down before him prostrate. And he said: "O my father! This is the interpretation of my dream aforetime! My Lord has made it come true!" (12:100)
بہترین قصہ حضرت یوسف علیہ السلام
حضرت یوسف علیہ السلام کے والد حضرت یعقوب بن اسحق بن ابراہیم علیہ ہم السلام ہیں ۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ کریم بن کریم بن کریم بن کریم یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہ السلام ہیں ۔ ( بخاری ) آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے سوال ہوا کہ سب لوگوں میں زیادہ بزرگ کون ہے؟ آپ نے فرمایا جس کے دل میں اللہ کا ڈر سب سے زیادہ ہو ۔ انہوں نے کہا ہمارا مقصود ایسا عام جواب نہیں ہے ۔ آپ نے فرمایا پھر سب لوگوں میں زیادہ بزرگ حضرت یوسف ہیں جو خود نبی تھے ، جن کے والد نبی تھے جن کے دادا نبی تھے ، جن کے پردادا نبی اور خلیل تھے ۔ انہوں نے کہا ہم یہ بھی نہیں پوچھتے ۔ آپ نے فرمایا پھر کیا تم عرب کے قبیلوں کی نسبت یہ سوال کرتے ہو؟ انہوں نے کہا جی ہاں ۔ آپ نے فرمایا سنو جاہلیت کے زمانے میں جو ممتاز اور شریف تھے ۔ وہ اسلام لانے کے بعد بھی ویسے ہی شریف ہیں ، جب کہ انہوں نے دینی سمجھ حاصل کر لی ہو٠بخاری ) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں نبیوں کے خواب اللہ کی وحی ہوتے ہیں ۔ مفسرین نے کہا ہے کہ یہاں گیارہ ستاروں سے مراد حضرت یوسف علیہ السلام کے گیارہ بھائی ہیں اور سورج چاند سے مراد آپ کے والد اور والدہ ہیں ۔ اس خواب کی تعبیر خواب دیکھنے کے چالیس سال بعد ظاہر ہوئی ۔ بعض کہتے ہیں اسی برس کے بعد ظاہر ہوئی ۔ جب کہ آپ نے اپنے ماں باپ کو تخت شاہی پر بٹھایا ۔ اور گیارہ بھائی آپ کے سامنے سجدے میں گر پڑے ۔ اس وقت آپ نے فرمایا کہ میرے مہربان باپ یہ دیکھئے آج اللہ تعالیٰ نے میرے خواب کو سچا کر دکھایا ۔ ایک روایت میں ہے کہ بستانہ نامی یہودیوں کا ایک زبردست عالم تھا ۔ اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ان گیارہ ستاروں کے نام دریافت کئے ۔ آپ خاموش رہے ۔ جبرائیل علیہ السلام نے آسمان سے نازل ہو کر آپ کو نام بتائے آپ نے اسے بلوایا اور فرمایا اگر میں تجھے ان کے نام بتادوں تو تو مسلمان ہو جائے گا اس نے اقرار کیا تو آپ نے فرمایا سن ان کے نام یہ ہیں ۔ جریان ، طارق ۔ ذیال ، ذوالکتفین ۔ قابل ۔ وثاب ۔ عمودان ۔ فلیق ۔ مصبح ۔ فروح ۔ فرغ ۔ یہودی نے کہا ہاں ہاں اللہ کی قسم ان ستاروں کے یہی نام ہیں ( ابن جریر ) یہ روایت دلائل بیہقی میں اور ابو یعلی بزار اور ابن ابی حاتم میں بھی ہے ۔ ابو یعلی میں یہ بھی ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے جب یہ خواب اپنے والد صاحب سے بیان کیا تو آپ نے فرمایا یہ سچا خواب ہے یہ پورا ہو کر رہے گا ۔ آپ فرماتے ہیں سورج سے مراد باپ ہیں اور چاند سے مراد ماں ہیں ۔ لیکن اس روایت کی سند میں حکم بن ظہیر فزاری منفرد ہیں جنہیں بعض اماموں نے ضعیف کہا ہے اور اکثر نے انہیں متروک کر رکھا ہے یہی حسن یوسف کی روایت کے راوی ہیں ۔ انہیں چاروں ہی ضعیف کہتے ہیں ۔