Surat Yousuf

Surah: 12

Verse: 4

سورة يوسف

اِذۡ قَالَ یُوۡسُفُ لِاَبِیۡہِ یٰۤاَبَتِ اِنِّیۡ رَاَیۡتُ اَحَدَعَشَرَ کَوۡکَبًا وَّ الشَّمۡسَ وَ الۡقَمَرَ رَاَیۡتُہُمۡ لِیۡ سٰجِدِیۡنَ ﴿۴﴾

[Of these stories mention] when Joseph said to his father, "O my father, indeed I have seen [in a dream] eleven stars and the sun and the moon; I saw them prostrating to me."

جب کہ یوسف نے اپنے باپ سے ذکر کیا کہ ابا جان میں نے گیارہ ستاروں کو اور سورج چاند کو دیکھا کہ وہ سب مجھے سجدہ کر رہے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Yusuf's Dream Allah says, إِذْ قَالَ يُوسُفُ لاَِبِيهِ يَا أَبتِ إِنِّي رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَأَيْتُهُمْ لِي سَاجِدِينَ (Remember) when Yusuf said to his father: "O my father! Verily, I saw (in a dream) eleven stars and the sun and the moon - I saw them prostrating themselves to me." Allah says, `Mention to your people, O Muhammad, among the stories that you narrate to them, the story of Yusuf.' Prophet Yusuf (Joseph) mentioned his dream to his father, Prophet Yaqub (Jacob), son of Prophet Ishaq (Isaac), son of Prophet Ibrahim (Abraham), peace be upon them all. Abdullah bin Abbas stated that the dreams of Prophets are revelations from Allah. Scholars of Tafsir explained that; in Yusuf's dream the eleven stars represent his brothers, who were eleven, and the sun and the moon represent his father and mother. This explanation was collected from Ibn Abbas, Ad-Dahhak, Qatadah, Sufyan Ath-Thawri and Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam. Yusuf's vision became a reality forty years later, or as some say, eighty years, when Yusuf raised his parents to the throne while his brothers were before him, وَخَرُّواْ لَهُ سُجَّدًا وَقَالَ يَا أَبَتِ هَـذَا تَأْوِيلُ رُوْيَايَ مِن قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّي حَقًّا and they fell down before him prostrate. And he said: "O my father! This is the interpretation of my dream aforetime! My Lord has made it come true!" (12:100)

بہترین قصہ حضرت یوسف علیہ السلام حضرت یوسف علیہ السلام کے والد حضرت یعقوب بن اسحق بن ابراہیم علیہ ہم السلام ہیں ۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ کریم بن کریم بن کریم بن کریم یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہ السلام ہیں ۔ ( بخاری ) آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے سوال ہوا کہ سب لوگوں میں زیادہ بزرگ کون ہے؟ آپ نے فرمایا جس کے دل میں اللہ کا ڈر سب سے زیادہ ہو ۔ انہوں نے کہا ہمارا مقصود ایسا عام جواب نہیں ہے ۔ آپ نے فرمایا پھر سب لوگوں میں زیادہ بزرگ حضرت یوسف ہیں جو خود نبی تھے ، جن کے والد نبی تھے جن کے دادا نبی تھے ، جن کے پردادا نبی اور خلیل تھے ۔ انہوں نے کہا ہم یہ بھی نہیں پوچھتے ۔ آپ نے فرمایا پھر کیا تم عرب کے قبیلوں کی نسبت یہ سوال کرتے ہو؟ انہوں نے کہا جی ہاں ۔ آپ نے فرمایا سنو جاہلیت کے زمانے میں جو ممتاز اور شریف تھے ۔ وہ اسلام لانے کے بعد بھی ویسے ہی شریف ہیں ، جب کہ انہوں نے دینی سمجھ حاصل کر لی ہو٠بخاری ) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں نبیوں کے خواب اللہ کی وحی ہوتے ہیں ۔ مفسرین نے کہا ہے کہ یہاں گیارہ ستاروں سے مراد حضرت یوسف علیہ السلام کے گیارہ بھائی ہیں اور سورج چاند سے مراد آپ کے والد اور والدہ ہیں ۔ اس خواب کی تعبیر خواب دیکھنے کے چالیس سال بعد ظاہر ہوئی ۔ بعض کہتے ہیں اسی برس کے بعد ظاہر ہوئی ۔ جب کہ آپ نے اپنے ماں باپ کو تخت شاہی پر بٹھایا ۔ اور گیارہ بھائی آپ کے سامنے سجدے میں گر پڑے ۔ اس وقت آپ نے فرمایا کہ میرے مہربان باپ یہ دیکھئے آج اللہ تعالیٰ نے میرے خواب کو سچا کر دکھایا ۔ ایک روایت میں ہے کہ بستانہ نامی یہودیوں کا ایک زبردست عالم تھا ۔ اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ان گیارہ ستاروں کے نام دریافت کئے ۔ آپ خاموش رہے ۔ جبرائیل علیہ السلام نے آسمان سے نازل ہو کر آپ کو نام بتائے آپ نے اسے بلوایا اور فرمایا اگر میں تجھے ان کے نام بتادوں تو تو مسلمان ہو جائے گا اس نے اقرار کیا تو آپ نے فرمایا سن ان کے نام یہ ہیں ۔ جریان ، طارق ۔ ذیال ، ذوالکتفین ۔ قابل ۔ وثاب ۔ عمودان ۔ فلیق ۔ مصبح ۔ فروح ۔ فرغ ۔ یہودی نے کہا ہاں ہاں اللہ کی قسم ان ستاروں کے یہی نام ہیں ( ابن جریر ) یہ روایت دلائل بیہقی میں اور ابو یعلی بزار اور ابن ابی حاتم میں بھی ہے ۔ ابو یعلی میں یہ بھی ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے جب یہ خواب اپنے والد صاحب سے بیان کیا تو آپ نے فرمایا یہ سچا خواب ہے یہ پورا ہو کر رہے گا ۔ آپ فرماتے ہیں سورج سے مراد باپ ہیں اور چاند سے مراد ماں ہیں ۔ لیکن اس روایت کی سند میں حکم بن ظہیر فزاری منفرد ہیں جنہیں بعض اماموں نے ضعیف کہا ہے اور اکثر نے انہیں متروک کر رکھا ہے یہی حسن یوسف کی روایت کے راوی ہیں ۔ انہیں چاروں ہی ضعیف کہتے ہیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

4۔ 1 یعنی اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی قوم کے سامنے یوسف (علیہ السلام) کا قصہ بیان کرو، جب اس نے اپنے باپ کو کہا باپ حضرت یعقوب (علیہ السلام) تھے، جیسا کہ دوسرے مقام پر صراحت ہے اور حدیث میں بھی یہ نسب بیان کیا گیا ہے۔ (یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم) ۔ اور حدیث میں نسب بیان کیا گیا ہے۔ الکریم ابن الکریم ابن الکریم ابن الکریم یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم (مسند احمد جلد 2، ص 96) 4۔ 2 بعض مفسرین نے کہا ہے کہ گیارہ ستاروں سے مراد حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی ہیں جو گیارہ تھے چاند سورج سے مراد ماں اور باپ ہیں اور خواب کی تعبیر چالیس یا اسی سال کے بعد اس وقت سامنے آئی جب یہ سارے بھائی اپنے والدین سمیت مصر گئے اور وہاں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سامنے سجدہ ریز ہوگئے، جیسا کہ یہ تفصیل سورت کے آخر میں آئے گی۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣] سیدنا یوسف سے ان کے باپ کی محبت کی وجوہ :۔ سیدنا یوسف (علیہ السلام) کے حقیقی بھائی صرف بن یمین تھے جو آپ سے چھوٹے تھے۔ باقی دس بھائی سوتیلے تھے۔ اور ان سے بڑے تھے۔ سیدنا یوسف سے ان کے والد سیدنا یعقوب کو والہانہ محبت تھی۔ جس کی وجوہ کئی ہیں۔ مثلاً ایک یہ کہ والدین کو عموماً چھوٹی اولاد سے نسبتاً زیادہ پیار ہوتا ہے۔ دوسرے ان دو بھائیوں کی والدہ فوت ہوچکی تھیں۔ تیسرے سیدنا یوسف بہت خوبصورت اور حسین و جمیل تھے اور چوتھے یہ کہ آپ سب بھائیوں کی نسبت نیک سیرت تھے۔ انہی وجوہ کی بنا پر آپ اپنے والد کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے تھے۔ جس سے بڑے بھائی ان سے حسد کرنے لگے تھے۔ کم سنی کی عمر میں ہی آپ کو ایک خواب آیا اور آپ نے اپنے والد کو بتایا تو انھیں اس خواب میں بیٹے کا روشن مستقبل نظر آگیا کیونکہ خواب بڑا واضح تھا جس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہ تھی۔ گیارہ ستاروں سے مراد گیارہ بھائی تھے۔ سورج سے مراد سیدنا یوسف کے والد سیدنا یعقوب اور چاند سے مراد ان کی سوتیلی والدہ تھی۔ سجدہ تعظیمی ؟ رہی یہ بات کہ غیر اللہ کو سجدہ کرنا تو شرک ہے پھر باپ نے جو نبی تھے اور بیٹے نے جو نبی ہونے والے تھے۔ اس بات کو درست کیسے تسلیم کرلیا تو اس کا جواب بعض علماء نے یہ دیا ہے یہ سجدہ تعظیمی ہے جو پہلی شریعتوں میں تو جائز تھا۔ مگر ہماری شریعت محمدیہ میں ایسا تعظیمی سجدہ بھی حرام قرار دیا گیا ہے اور بعض علماء کے نزدیک یہاں سجدہ سے مراد اصطلاحی سجدہ نہیں جو نماز میں ادا کیا جاتا ہے بلکہ سجدہ سے مراد محض جھک جانا ہے اور یہی اس کا لغوی معنی ہے۔ مگر اسی سورة کے آخر میں (خَرُّوْا لِلّٰہِ سُجَّدًا) کے الفاظ آئے ہیں اور لفظ (خَرُّوْا) سے پہلے قول کی ہی تصدیق ہوتی ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِذْ قَالَ يُوْسُفُ لِاَبِيْهِ : یوسف (علیہ السلام) کے باپ یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم تھے اور یہ چاروں نبی تھے، اس لیے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یوسف (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا : ( اَلْکَرِیْمُ ابْنُ الْکَرِیْمِ ابْنِ الْکَرِیْمِ بْنِ الْکَرِیْمِ یُوْسُفُ بْنُ یَعْقُوْبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاھِیْمَ ) [ بخاری، التفسیر، باب قولہ : ( ویتم نعمتہ علیک۔۔ ) : ٤٦٨٨، عن ابن عمر ] ” کریم بن کریم بن کریم بن کریم، یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم ۔ “ يٰٓاَبَتِ : یہ اصل میں ” یَا أَبِیْ “ تھا ” اے میرے باپ ! “ یاء حذف کرکے اس کی جگہ تاء تانیث لائی گئی اور باء کا کسرہ اس کی طرف منتقل کردیا۔ یہ اظہار محبت کا ایک طریقہ ہے، جیسے اردو میں ” ابا “ کو ” ابو “ کہہ دیتے ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Moving on the verse 4, the text takes up the story of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) which opens with the following words: إِذْ قَالَ يُوسُفُ لِأَبِيهِ يَا أَبَتِ إِنِّي رَ‌أَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ‌ كَوْكَبًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ‌ رَ‌أَيْتُهُمْ لِي سَاجِدِينَ (It happened) [ when Yusuf said to his father, &My father, I have seen eleven stars and the Sun and the Moon; I have seen them all prostrating to me.] This was the dream seen by Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) interpreting which Sayyidna ` Abdullah ibn ` Abbas (رض) said: ` The eleven stars meant the eleven brothers of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) and the Sun and the Moon meant his father and mother.& According to al-Qurtubi, though the mother of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) had passed away from this mortal world before this event, but in her place, his father was wedded to her sister. A maternal aunt already has love and concern for her sister&s children as their natural mother would normally have. Now when she, after the death of her sister, comes to be the wife of the father, she would customarily be referred to as the moth¬er.

(آیت) اِذْ قَالَ يُوْسُفُ لِاَبِيْهِ يٰٓاَبَتِ اِنِّىْ رَاَيْتُ اَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَاَيْتُهُمْ لِيْ سٰجِدِيْنَ یعنی یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والد سے کہا کہ اباجان میں نے خواب میں گیارہ ستارے اور سورج اور چاند کو دیکھا ہے اور یہ دیکھا ہے کہ وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں، یہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا خواب تھا جس کی تعبیر کے متعلق حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے فرمایا کہ گیارہ ستاروں سے مراد یوسف (علیہ السلام) کے گیارہ بھائی اور سورج اور چاند سے مراد ماں باپ تھے قرطبی میں ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی والدہ اگرچہ اس واقعہ سے پہلے وفات پاچکی تھیں مگر ان کی خالہ والد ماجد کے نکاح میں آگئی تھیں خالہ خود بھی ماں کے قائم مقام سمجھی جاتی ہے خصوصا جبکہ وہ والد کی زوجیت میں آجائے تو عرفاً اس کو ماں ہی کہا جائے گا،

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِذْ قَالَ يُوْسُفُ لِاَبِيْہِ يٰٓاَبَتِ اِنِّىْ رَاَيْتُ اَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَاَيْتُہُمْ لِيْ سٰجِدِيْنَ۝ ٤ أب الأب : الوالد، ويسمّى كلّ من کان سببا في إيجاد شيءٍ أو صلاحه أو ظهوره أبا، ولذلک يسمّى النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم أبا المؤمنین، قال اللہ تعالی: النَّبِيُّ أَوْلى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْواجُهُ أُمَّهاتُهُمْ [ الأحزاب/ 6] ( اب و ) الاب ۔ اس کے اصل معنی تو والد کے ہیں ( مجازا) ہر اس شخص کو جو کسی شے کی ایجاد ، ظہور یا اصلاح کا سبب ہوا سے ابوہ کہہ دیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ آیت کریمہ ۔ { النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ } [ الأحزاب : 6] میں آنحضرت کو مومنین کا باپ قرار دیا گیا ہے ۔ رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ، ( ر ء ی ) رای الرؤیتہ کے معنی کسی مرئی چیز کا ادراک کرلینا کے ہیں اور قوائے نفس ( قوائے مدر کہ ) کہ اعتبار سے رؤیتہ کی چند قسمیں ہیں ۔ ( 1) حاسئہ بصریا کسی ایسی چیز سے ادراک کرنا جو حاسہ بصر کے ہم معنی ہے جیسے قرآن میں ہے : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] تم ضروری دوزخ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوگے پھر ( اگر دیکھو گے بھی تو غیر مشتبہ ) یقینی دیکھنا دیکھو گے ۔ ۔ (2) وہم و خیال سے کسی چیز کا ادراک کرنا جیسے ۔ اری ٰ ان زیدا منطلق ۔ میرا خیال ہے کہ زید جا رہا ہوگا ۔ قرآن میں ہے : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] اور کاش اس وقت کی کیفیت خیال میں لاؤ جب ۔۔۔ کافروں کی جانیں نکالتے ہیں ۔ (3) کسی چیز کے متعلق تفکر اور اندیشہ محسوس کرنا جیسے فرمایا : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے ۔ (4) عقل وبصیرت سے کسی چیز کا ادارک کرنا جیسے فرمایا : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] پیغمبر نے جو دیکھا تھا اس کے دل نے اس میں کوئی جھوٹ نہیں ملایا ۔ كب الْكَبُّ : إسقاط الشیء علی وجهه . قال عزّ وجل : فَكُبَّتْ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ [ النمل/ 90] . والإِكْبَابُ : جعل وجهه مَكْبُوباً علی العمل . قال تعالی: أَفَمَنْ يَمْشِي مُكِبًّا عَلى وَجْهِهِ أَهْدى[ الملک/ 22] والکَبْكَبَةُ : تدهور الشیء في هوّة . قال : فَكُبْكِبُوا فِيها هُمْ وَالْغاوُونَ [ الشعراء/ 94] . يقال كَبَّ وكَبْكَبَ ، نحو : كفّ وكفكف، وصرّ الرّيح وصرصر . والکَوَاكِبُ : النّجوم البادية، ولا يقال لها كواکب إلّا إذا بدت . قال تعالی: فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ اللَّيْلُ رَأى كَوْكَباً [ الأنعام/ 76] ، وقال : كَأَنَّها كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ [ النور/ 35] ، إِنَّا زَيَّنَّا السَّماءَ الدُّنْيا بِزِينَةٍ الْكَواكِبِ [ الصافات/ 6] ، وَإِذَا الْكَواكِبُ انْتَثَرَتْ [ الانفطار/ 2] ويقال : ذهبوا تحت کلّ كوكب : إذا تفرّقوا، وكَوْكَبُ العسکرِ : ما يلمع فيها من الحدید . ( ک ب ب ) الکب ( ن ) کے معنی کسی کو منہ کے بل گرانے کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : فَكُبَّتْ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ [ النمل/ 90] تو ایسے لوگ اوندھے منہ دوزخ میں ڈال دیئے جائیں گے ۔ الاکباب ۔ کسی چیز پر منہ کے بل گرجانا ۔ ( اور کنایہ ازہمہ تن مشغول شدن درکا ر ے ) اسی سے قرآن میں ہے : أَفَمَنْ يَمْشِي مُكِبًّا عَلى وَجْهِهِ أَهْدى[ الملک/ 22] بھلا جو شخص چلتا ہوا منہ کے بل گرگر پڑتا ہو ۔ وہ سیدھے رستے پر ہے ۔ یعنی جو غلط روش پر چلتا ہے ۔ الکبکبۃ کسی چیز کو اوپر سے لڑھا کر گڑھے میں پھینک دینا۔ قرآن میں ہے : فَكُبْكِبُوا فِيها هُمْ وَالْغاوُونَ [ الشعراء/ 94] تو وہ اور گمراہ ( یعنی بت اور بت پرست ) اوندھے منہ دوزخ میں ڈال دیئے جائیں گے ۔ کب وکبکب ( ثلاثی درباعی ، دونوں طرح آتا ہے مثل ۔ کف وکفکف وصرالریح وصر صر الکواکب ظاہر ہونے والے ستارے ، ستاروں کو کواکب اسی وقت کہاجاتا ۔۔۔ جب نمودار اور ظاہر ہوں ۔ قرآن میں ہے : فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ اللَّيْلُ رَأى كَوْكَباً [ الأنعام/ 76]( یعنی ) جب رات نے ان کو ( پردہ تاریکی سے ) ڈھانپ لیا ( تو آسمان میں ) ایک ستارہ نظر پڑا ۔ كَأَنَّها كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ [ النور/ 35] گویا وہ موتی کا سا چمکتا ہوا تارا ہے ۔ إِنَّا زَيَّنَّا السَّماءَ الدُّنْيا بِزِينَةٍ الْكَواكِبِ [ الصافات/ 6] بیشک ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں کی زینت س مزین کیا ۔ وَإِذَا الْكَواكِبُ انْتَثَرَتْ [ الانفطار/ 2] اور جب ( آسمان کے ) ستارے جھڑ پڑیں گے ۔ محاورہ ہے : ذھبوا تحت کل کوکب وہ منتشر ہوگئے ۔ کوکب العسکر لشکر میں اسلہ کی چمک شمس الشَّمْسُ يقال للقرصة، وللضّوء المنتشر عنها، وتجمع علی شُمُوسٍ. قال تعالی: وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَها [يس/ 38] ، وقال : الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبانٍ [ الرحمن/ 5] ، وشَمَسَ يومَنا، وأَشْمَسَ : صار ذا شَمْسٍ ، وشَمَسَ فلان شِمَاساً : إذا ندّ ولم يستقرّ تشبيها بالشمس في عدم استقرارها . ( ش م س ) الشمس کے معنی سورج کی نکیر یا وہوپ کے ہیں ج شموس قرآن میں ہے ۔ وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَها [يس/ 38] اور سورج اپنے مقرر راستے پر چلتا رہتا ہے ۔ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبانٍ [ الرحمن/ 5] سورج اور چاند ایک حساب مقرر سے چل رہے ہیں ۔ شمس یومنا واشمس ۔ دن کا دھوپ ولا ہونا شمس فلان شماسا گھوڑے کا بدکنا ایک جگہ پر قرار نہ پکڑناز ۔ گویا قرار نہ پکڑنے ہیں میں سورج کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے ۔ قمر القَمَرُ : قَمَرُ السّماء . يقال عند الامتلاء وذلک بعد الثالثة، قيل : وسمّي بذلک لأنه يَقْمُرُ ضوء الکواکب ويفوز به . قال : هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] ( ق م ر ) القمر ۔ چاند جب پورا ہورہا ہو تو اسے قمر کہا جاتا ہے اور یہ حالت تیسری رات کے بعد ہوتی ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ چاندکو قمر اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ ستاروں کی روشنی کو خیاہ کردیتا ہے اور ان پر غالب آجا تا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا ۔ سجد السُّجُودُ أصله : التّطامن «3» والتّذلّل، وجعل ذلک عبارة عن التّذلّل لله وعبادته، وهو عامّ في الإنسان، والحیوانات، والجمادات، وذلک ضربان : سجود باختیار، ولیس ذلک إلا للإنسان، وبه يستحقّ الثواب، نحو قوله : فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا[ النجم/ 62] ، أي : تذللوا له، وسجود تسخیر، وهو للإنسان، والحیوانات، والنّبات، وعلی ذلک قوله : وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً وَظِلالُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْآصالِ [ الرعد/ 15] ( س ج د ) السجود ( ن ) اسکے اصل معنی فرو تنی اور عاجزی کرنے کے ہیں اور اللہ کے سامنے عاجزی اور اس کی عبادت کرنے کو سجود کہا جاتا ہے اور یہ انسان حیوانات اور جمادات سب کے حق میں عام ہے ( کیونکہ ) سجود کی دو قسمیں ہیں ۔ سجود اختیاری جو انسان کے ساتھ خاص ہے اور اسی سے وہ ثواب الہی کا مستحق ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا[ النجم/ 62] سو اللہ کے لئے سجدہ کرو اور اسی کی ) عبادت کرو ۔ سجود تسخیر ی جو انسان حیوانات اور جمادات سب کے حق میں عام ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ : وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً وَظِلالُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْآصالِ [ الرعد/ 15] اور فرشتے ) جو آسمانوں میں ہیں اور جو ( انسان ) زمین میں ہیں ۔ چار ونا چار اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں اور صبح وشام ان کے سایے ( بھی اسی کو سجدہ کرتے ہیں اور صبح وشام ان کے سایے ( بھی اسی کو سجدہ کرتے ہیں )

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

سورة یوسف غیر انبیاء کے خواب سچے ہوسکتے ہیں قول باری ہے اذا قال یوسف لابیہ یا ابت انی رایت احد عشر کو کبا وشمس والقمر رایتھم لی ساجدین ۔ یہ اس وقت کا ذکر ہے جب یوسف نے اپنے باپ سے کہا ابا جان ! میں نے خواب دیکھا ہے کہ گیارہ ستارے اور سورج اور چاند ہیں اور وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں ۔ اس میں یہ بیان ہے کہ غیر انبیاء کے خواب بھی سچے ہوتے ہیں اس لیے کہ اس وقت حضرت یوسف (علیہ السلام) پیغمبر نہیں بنے تھے ۔ بلکہ کم سن تھے ، کواکب کی تعبیر ان کے بھائیوں اور سورج اور چاند کی تعبیر ان کے والدین سے کی گئی تھی حسن سے یہی مروی ہے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤) چناچہ حضرت یوسف (علیہ السلام) جب دوپہر کو سوئے تو خواب میں دیکھا کہ گیارہ ستاروں نے اپنے مقامات سے اتر کر ان کو سجدہ تحیت کیا ہے اور ان ستاروں سے مراد ان کے گیارہ بھائی ہیں اور ایسے چاند وسورج کو دیکھا کہ وہ اپنی جگہ سے آئے اور مجھ کو سجدہ تحیت کیا، چاند وسورج سے ان کے والدین حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور حضرت راحیل مراد ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤ (اِذْ قَالَ يُوْسُفُ لِاَبِيْهِ ) حضرت یعقوب کی بڑی بیوی سے آپ کے دس بیٹے تھے اور وہ سب کے سب اس وقت تک جوانی کی عمر کو پہنچ چکے تھے ‘ جبکہ آپ کے دو بیٹے (یوسف اور بن یا مین) آپ کی چھوٹی بیوی سے تھے۔ ان میں حضرت یوسف بڑے تھے مگر ابھی یہ دونوں ہی کم سن تھے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

مسنگ

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(11:4) اذقال یوسف۔ احسن القصص سے بدل اشتمال ہے۔ یوسف۔ بوجہ معرفہ اور عجمہ کے غیر منصرف ہے۔ عبرانی لفظ ہے۔ یابت۔ یا حرف نداء ابت میں تائے تانیث ۔ یائے اضافت کے عوض لائے ہیں ۔ یا ابی سے یا ابت ہوگیا۔ رایتھم۔ میں نے ان کو دیکھا۔ رایت ماضی واحد متکلم۔ رایت۔ رویۃ سے بھی ہوسکتا ہے اور رؤیا سے بھی۔ لیکن اگلی ہی آیت میں لفظ رأیاک صریحا ظاہر کرتا ہے کہ یہ رؤیا سے ہے۔ جس کے معنی ہیں خواب میں دیکھنا ۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ہے۔ رایتھم میں نے ان کو خواب میں دیکھا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 ۔ حضرت یعقوب ( علیہ السلام) جو حضرت اسحاق ( علیہ السلام) کے بیٹے اور حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے پوتے تھے۔ حدیث میں ہے الکریم ابن الکریم ابن الکریم ابن الکریم۔ یوسف ( علیہ السلام) بن یعقوب ( علیہ السلام) بن اسحاق ( علیہ السلام) بن ابراہیم ( علیہ السلام) ۔ (موضح) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 4 تا 6 لابیہ (اپنے باپ کے لئے) انی رایت (بےشک میں نے دیکھا ہے) احد عشر (گیارہ) کوکب (ستارے) الشمس (سورج) القمر (چاند) سجدین (سجدہ کرنے والے) یبنی (اے میرے پیارے بیٹے) لاتقصص (بیان نہ کر، بیان مت کر ) رویاک (تیرا خواب، آپ کا خواب) اخوتک (تیرا بھائی، آپ کا بھائی) یکیدوا (وہ فریب کریں گے۔ چال چلیں گے عدو (دشمن) یجتبیک (تجھے منتخب کرے گا) یعلمک (تجھے سکھائے گا ) تاویل (انجام۔ تعبیر) الاحادیث (حدیثیں۔ باتیں۔ خواب) ( یتم (پورا کرے گا) علی ابویک (تیرے باپ دادا پر) تشریح آیت نمبر 4 تا 6 سورة یوسف میں اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف کے جس واقعہ کا ذکر فرمایا ہے وہ درحقیقت ان کے صبر و تحمل اور ہمت و استقلال کا ایک عظیم واقعہ ہے جس میں یہ بات بالکل واضح ہے کہا نہوں نے اپنے بھائیوں کی بےانتہا زیادتیوں کے باوجود حالات کی تنگی پر نہ شکوہ کیا اور نہ اس کا بدلہ لیا۔ قرآن کریم میں ان کے واقعہ کی ابتدا ایک خوب سے کی گئی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف کو ان کے اعلیٰ ترین مقام پر پہنچنے کی بشارت عطا فرمائی ہے۔ ایک دن حضرت یوسف نے اپنے والد محترم حضرت یعقوب کو اپنا یہ خواب سنایا۔ انہوں نے بتایا میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ گیارہ ستارے اور چاند سورج ہیں جو انہیں سجدہ کر رہے ہیں۔ حضرت یعقوب جو ایک جلیل القدر پیغمبر بھی ہیں انہوں نے خواب کی گہرائی تک پہنچتے ہوئے حضرت یوسف کو شروع میں خواب کی تعبیر تو نہیں بتائی مگر اس بات کی تاکید فرمائی کہ تم اس خواب کو اپنی حد تک محدود رکھنا اور اپنے بھائیوں میں سے کسی کو یہ خواب مت سنانا۔ کیونکہ یہ خواب اس قدر واضح ہے کہ اس کو سنا کر یقینا ان کے حسد کی آگ اور بھڑک اٹھے گیا ور وہ سمجھ جائیں گے کہ یوسف کو اللہ تعالیٰ نے اعلیٰ ترین مقام پر پہنچانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ کسی سخت تدبیر کے کرنے پر مجبور ہوجائیں اور کوئی نقصان پہنچا دیں۔ اس خواب کی تعبیر دیتے ہوئے فرمایا کہ اے یوسف اللہ تعالیٰ تمہیں منتخب فرمائے گا۔ تمہیں بات کی گہرائی معاملہ فہمی اور خوابوں کی تعبیر کا ایک ایسا علم عطا فرمائے گا جو ان سے پہلے کسی کو عطا نہیں کیا گیا۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے باپ دادا کے علم و فضل کا وارث بنائے گا اور وہ نعمتیں جو تمہارے باپ دادا حضرت ابراہیم و اسحاق (علیہ السلام) کو عطا کی گئی تھیں وہ ان کو تمہارے اوپر پورا فرمائے گا۔ خواب ایک حقیقت ہے جس کی سچائی سے انکار ممکن نہیں ہے اور خاص طور پر وہ خواب جو کوئی نبی یا رسول دیکھتا ہے اس کا درجہ وحی جیسا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) نے یہ دیکھا تھا کہ وہ اپنے بیٹے حضرت اسماعیل کو ذبح کر رہے ہیں اور اس خواب کو انہوں نے مسلسل تین دن تک دیکھا تو سمجھ گئے کہ یہ خواب نہیں ہے بلکہ اللہ کا حکم ہے جو خواب کے ذریعہ ان کو دیا گیا ہے۔ پھر وہ حضرت اسماعیل کو منی کی طرف لے کر چلے تاکہ اللہ کے حکم کی تعمیل فرمائیں۔ لیکن اللہ نے حضرت اسماعیل کی جگہ ایک مینڈھا عطا فرمایا جس کو انہوں نے ذبح کیا اور اس خواب کی سچائی بھی سامنے آ کر رہی اور فرمایا کہ اے ابراہیم تمہارا خواب سچا تھا اور تم نے سچ کر دکھایا۔ ہمارا مقصد بیٹے کو ذبح رانا نہیں تھا بلکہ ایک امتحان تھا جس کو تم نے پورا کر دکھایا۔ اس طرح خواب کی سچائی پر اللہ نے مہر لگا دی اور بتا دیا کہ انبیاء کرام کے خواب وحی کا درجہ رکھتے ہیں۔ خواب کی سچائی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس ارشاد سے بھی واضح ہے جس میں آپ نے فرمایا ہے کہ جس نے خواب میں مجھے دیکھا اس نے مجھے ہی دیکھا۔ شیطان کی یہ مجال نہیں ہے کہ وہ خواب میں میری صورت بنا کر آجائے۔ اس وقت ہمارا موضوع خواب نہیں ہے لیکن علماء کرام نے اس آیت سے چند اصولی باتیں ارشاد فرمائی ہیں تاکہ ہر خواب دیکھنے والا ان ہدایات کو پیش نظر رکھے۔ 1) جس خواب کے بیان کرنے سے فتنہ کا اندیشہ ہو یا برے جذبات اور حسد کی آگ کے بڑھنے کا اندیشہ ہو اسے بیان نہ کرے۔ کیونکہ ایسے خواب شیطان کی طرف سے ہیں جو انسان کا ازلی دشمن ہے۔ 2) اپنا خواب صرف اس شخص سے بیان کرے جو اس کا خیر خواہ ہو اور خواب کی تعبیر کے علم سے اچھی طرح واقف ہو۔ ہر ایک کے سامنے اپنے خواب کو سناتے پھرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ خواب اس وقت تک معلق رہتا ہے جب تک اس کو بیان نہ کردیا جائے اور سننے والے نے کوئی تعبیر نہ دیدی ہو جب تعبیر دیدی جاتی ہے تو پھر وہ اسی طرح واقع ہو کر رہتی ہے۔ 3) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے کہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہونے کے لئے اس کو راز میں رکھنے سے مدد لو۔ وجہ یہ ہے کہ دنیا میں ہر اس شخص سے حسد کیا جاتا ہے جس کو اللہ نے اپنی نعمت سے نوازا ہو۔ 4) خواب دیکھتے ہی اور تعبیر حاصل کرتے ہی یہ نہ سمجھے کہ وہ فوراً ہی پوری ہو جائیگی۔ ہو سکتا ہے کہ بہت بعد میں اس کی تعبیر سامنے آئے ۔ حضرت یوسف کو اپنے خواب کی تعبیر تقریباً تیس سال کے بعد حاصل ہوئی۔ 5) اگر کوئی شخص برا خواب دیکھے تو اس کو بیان نہ کرے بلکہ اٹھ کر نماز پڑھ لے یا بائیں طرف تین دفعہ تھتھکار دے۔ ممکن ہو تو کچھ صدقہ دیدے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس واقعہ سے ناآشنا تھے اس کی ابتدا یوں ہوتی ہے۔ مؤرخین نے لکھا ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی دو بیویوں سے گیارہ بیٹے تھے۔ جن میں حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان سے چھوٹے بنیامین آپس میں حقیقی بھائی تھے۔ حضرت یوسف نہایت ہی خوبصورت، ذہین و فطین اور سمجھدار تھے۔ ان کی دانش مندی کا اس بات سے انداہ لگائیں کہ ابھی ان کی عمر مبارک آٹھ؍نوسال کی تھی کہ انہوں نے خواب میں دیکھا کہ میرے سامنے گیارہ ستارے، چاند اور سورج سجدہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ خواب کسی کے سامنے بیان کرنے کی بجائے اپنے والد گرامی کے سامنے بیان کیا۔ کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ اس خواب کی تعبیر میرے والد گرامی کے سوا کوئی اور نہیں جان سکتا۔ گویا کہ صغر سنی کے باوجود اپنے باپ کی سیرت طیبہ اور ان کی دانشمندی کا ادراک کرچکے تھے۔ اس لیے انہوں نے اپنے خواب کا تذکرہ صرف اپنے باپ کے سامنے کیا۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) معصوم لخت جگر کا خواب سنتے ہی چونک گئے اور فرمایا۔ پیارے بیٹے اس خواب کو اپنے بھائیوں کے سامنے ذکر نہ کرنا کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ آپ کے خلاف کوئی سازش کریں۔ کیونکہ شیطان انسان کا کھلم کھلا دشمن ہے۔ قرآن مجید کے الفاظ سے عیاں ہوتا ہے کہ حضرت یعقوب یوسف کے بارے میں ان کے بھائیوں کے رویے سے منفی اثرات محسوس کر رہے تھے۔ جس کی وجہ سے انہیں احساس ہوا کہ ماں کی طرف سے سوتیلے بھائیوں کو اس خواب کا علم ہوا تو ان کے لیے اسے برداشت کرنا مشکل ہوگا۔ لیکن حضرت یعقوب (علیہ السلام) نہایت دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ پیغمبر اپنے زمانے کا سب سے بڑا دانشور انسان ہوا کرتا تھا۔ اسی بنا پر حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے یہ الفاظ استعمال فرمائے ” اے یوسف اپنے خواب کا اپنے بھائیوں کے سامنے ذکر نہ کرنا۔ کیونکہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔ “ ایک طرف حضرت یوسف (علیہ السلام) کو شیطان کی دشمنی سے آگاہ فرمایا اور دوسری طرف اس کے بھائیوں کے بارے میں کھلے الفاظ استعمال کرنے کی بجائے مبہم الفاظ کے ذریعے محتاط رہنے کی تلقین فرمائی۔ گیارہ ستاروں اور شمس و قمر کے سجدہ کرنے سے مراد یہ تھی۔ ایک وقت آئے گا کہ اللہ تعالیٰ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اس قدر بلند اقبال اور سرفرازی عطا کرے گا کہ اس کے گیارہ بھائی اور والدین اس کے سامنے سجدہ ریز ہوں گے۔ چناچہ خواب کے تقریباً چالیس سال بعد حضرت یوسف (علیہ السلام) ملک مصر جیسی عظیم الشان ترقی یافتہ مملکت کے فرماں روا بنے تو ان کے گیارہ بھائیوں اور والدین نے اس زمانے کی شریعت اور پروٹوکول کے مطابق حضرت یوسف (علیہ السلام) کو سجدہ کیا۔ جس کی تفصیل اسی سورت کی آیت ١٠٠ سو میں بیان کی گئی ہے۔ سجدہ سے مراد حقیقی سجدہ بھی ہوسکتا ہے۔ کیونکہ اس وقت کی شریعت میں کسی بزرگ اور بڑے آدمی کو تکریمی سجدہ کرنا جائز تھا۔ لیکن شریعت محمدی میں اسے مطلقاً ناجائز اور حرام قرار دیا گیا ہے۔ (دیکھیں۔ فہم القرآن، جلد اول، البقرۃ : ٣٤) مسائل ١۔ یوسف (علیہ السلام) نے خواب میں گیارہ ستارے، چاند اور سورج کو اپنے سامنے سجدہ کرتے ہوئے پایا۔ ٢۔ ہر کسی سے خواب بیان نہیں کرنا چاہیے۔ ٣۔ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو سجدہ کرنا جائز نہیں : ١۔ سورج اور چاند کو سجدہ نہ کرو، سجدہ اسے کرو جس نے انہیں پیدا کیا ہے۔ (حٰم السجدۃ : ٣٧) ٢۔ اللہ کی تسبیح بیان کرو اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہوجاؤ۔ (الحجر : ٩٨) ٣۔ اے ایمان والو ! رکوع کرو اور سجدہ کرو اور اپنے رب کی عبادت کرو۔ (الحج : ٧٧) ٤۔ اللہ کو سجدہ کرو اور اسی کی عبادت کرو۔ (النجم : ٦٢) ٥۔ ہر چیز کا سایہ بھی اللہ کو سجدہ کرتا ہے۔ (النحل : ٤٥) ٦۔ اللہ کو زمین و آسمان کی ہر چیز سجدہ کرتی ہے۔ (النحل : ٤٦) ٧۔ ستارے اور درخت اللہ کو سجدہ کرتے ہیں۔ (الرحمٰن : ٦) ٨۔ یقیناً جو ملائکہ آپ کے رب کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے، اس کی تسبیح بیان کرتے اور اس کو سجدہ کرتے ہیں۔ (الاعراف : ٢٠٦)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اس خواب کے وقت حضرت یوسف ابھی بچے تھے یا مراہق۔ لیکن یہ خواب جو انہوں نے اپنے باپ کے سامنے بیان کیا یہ بچوں یا نوجوانوں کا خواب نہ تھا ، بچے اور نوجوان بچوں جیسے خواب دیکھتے ہیں یا وہ ایسے خواب دیکھتے ہیں جن کے بارے میں وہ کوئی سوچ رکھتے ہوں ، مثلاً یہ کہ سورج اور چاند ان کے ہاتھ میں ہوں اور یہ کہ اس نے انہیں پکڑ لیا ہو۔ لیکن یوسف نے دیکھا کہ شمس و قمر ایک عاقل شخص کی ان کے سامنے سجدہ ریز ہیں اور ستارے بھی ان کے سامنے سر جھکائے ہیں۔ یہ سجدہ تعظیم تھا۔ قرآن کریم نہایت ہی وضاحت سے اس بات کو یوں نقل کرتا ہے۔ اِذْ قَالَ يُوْسُفُ لِاَبِيْهِ يٰٓاَبَتِ اِنِّىْ رَاَيْتُ اَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَاَيْتُهُمْ لِيْ سٰجِدِيْنَ : " یہ اس وقت کا ذکر ہے جب یوسف نے اپنے باپ سے کہا اباجان میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ گیا ستارے ہیں اور سورج اور چاند ہیں اور وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں " اس آیت میں لفظ روئیت کا اعادہ بطور تاکید ہے۔ غرض حضرت یعقوب نے خواب کو سن کر معلوم کرلیا کہ یہ خواب بچوں کا خواب نہٰں ہے اور حضرت یوسف کا مستقبل تابناک ہے۔ یہ تعبیر ان کے شعور نبوت نے ان کو بتا دی تھی لیکن انہوں نے اس کا اظہار نہ کیا اور نہ قصے میں تعبیر کو بیان کیا گیا۔ یہاں تک اس خواب کے آثار بھی قصے کی دو کڑیوں کے پڑھنے کے بعد ہی قارئین پا سکتے ہیں۔ رہا پورا خوب تو وہ قارئین کو پورا قصہ پڑھ لینے کے بعد ہی معلوم ہوتا ہے۔ خواب چونکہ اہم تھا اس لیے انہوں نے یوسف (علیہ السلام) کو نصیحت کی کہ وہ اس خواب کا اظہار اپنے بھائیوں کے سامنے نہ کریں ، ہوسکتا ہے کہ وہ سمجھ جائیں کہ اس بچے کا مستقبل تو غیر معمولی ہے۔ کیونکہ حضرت یوسف ان کے چھوٹے بھائی تو تھے لیکن سگے نہ تھے۔ حضرت یعقوب کے شعور نبوت نے یہ خطرہ محسوس کرلیا کہ شیطان کہیں ان کے بھائیوں کے درمیان عداوت حسد اور دشمنی پیدا نہ کردے۔ اور وہ ایک دوسرے کو نقصان نہ پہنچا دیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

حضرت یوسف (علیہ السلام) کا خواب اور ان کے والد کی تعبیر اور ضروری تاکید یہاں سے سورة یوسف شروع ہو رہی ہے اس سورت میں تفصیل کے ساتھ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا یہ قصہ بیان فرمایا اور اس کو احسن القصص بتایا ہے اور ساتھ یہ بھی فرمایا ہے کہ اس سے پہلے آپ اس قصہ کو نہیں جانتے تھے۔ آپ کو اس کا علم صرف وحی کے ذریعہ ہوا ہے لوگوں کو آپ کا بتانا آپ کی نبوت کی بھی دلیل ہے اور قرآن مجید کے حق اور منزل من اللہ ہونے کی بھی ‘ تصدیق کرنے والے سنیں گے اور غور کریں گے تو یہ سمجھ لیں گے کہ یہ واقعی اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے۔ نیز یہ بھی فرمایا کہ ہم نے قرآن کو عربی میں نازل کیا قرآن مجید کے اولین مخاطب اہل عرب ہی تھے۔ انہیں اس کے سمجھنے میں کوئی دقت نہ تھی اگر قرآن غیر عربی میں ہوتا تو وہ کہہ سکتے تھے کہ یہ زبان ہماری سمجھ میں نہیں آتی جب قرآن عربی میں نازل ہوا تو اہل عرب پر لازم تھا کہ اس کی تصدیق کرتے لیکن جنہیں ایمان لانا نہ تھا وہ ضد اور عناد پر ہی اڑے رہے اور کفر پر جمے رہے۔ یہودیوں کے لئے بھی عبرت تھی اور سمجھنے کی بات تھی انہیں حضرت یوسف (علیہ السلام) کا قصہ معلوم تھا وہ یہ بھی جانتے تھے کہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی سے پڑھا نہیں آپ کا کوئی استاد نہیں تھا جس نے آپ کو انبیاء سابقین ( علیہ السلام) کے واقعات بتائے ہوں۔ یہ سب کچھ جاننے کے باوجود عموماً یہودی کافر ہی رہے ‘ اور ان میں سے بعض نے سورة یوسف (علیہ السلام) سن کر اسلام قبول کرلیا۔ تفسیر در منثور میں بحوالہ دلائل النبوۃ للبیہقی حضرت ابن عباس (رض) سے نقل کیا ہے کہ ایک یہودی عالم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اس وقت آپ سورة یوسف تلاوت فرما رہے تھے وہ کہنے لگا کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ سورت آپ کو کس نے سکھائی ہے آپ نے فرمایا کہ یہ سورت مجھے اللہ تعالیٰ نے سکھائی ہے۔ اسے بڑا تعجب ہوا اور یہودیوں کے پاس واپس پہنچ کر اس نے کہا کہ اللہ کی قسم وہ اسی طرح قرآن پڑھتے ہیں جیسا کہ توریت میں (بعض) چیزیں نازل ہوئی ہیں اس کے بعد وہ ان لوگوں کو اپنے ہمراہ لے کر آیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ کو ان صفات سے پہچان لیا جنہیں وہ جانتے تھے اور مہر نبوت کو بھی آپ کے دونوں شانوں کے درمیان دیکھ لیا پھر آپ کی قرأت سننے لگے آپ سورة یوسف تلاوت فرما رہے تھے۔ انہیں بھی تعجب ہوا اور پھر اسی وقت مسلمان ہوگئے۔ (در منثور ص ٢ ج ٤) حضرت یوسف (علیہ السلام) کے والد حضرت یعقوب (علیہ السلام) تھے (یہ وہی یعقوب ہیں جن کا لقب اسرائیل تھا اور یہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے بیٹے تھے اور حضرت اسحاق حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے تھے) ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنے والد کے چھوٹے بیٹے تھے اور یہ دوسری بیوی سے تھے ‘ ان کا ایک حقیقی بھائی بھی تھا جس کا نام بنیامین بتایا جاتا ہے پہلی بیوی سے بھی حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد تھی ان میں جو بیٹے تھے ان کی تعداد دس تھی ‘ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ایک دن اپنے والد سے کہا کہ میں نے یہ خواب دیکھا ہے کہ مجھے چاند اور سورج اور گیارہ ستارے سجدہ کر رہے ہیں ‘ ان کے والد کے ذہن میں اس کی یہ تعبیر آگئی کہ یوسف عروج والا ہوگا اور اس کے گیارہ بھائی اور ماں باپ اسے سجدہ کریں گے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے سے کہا کہ تم یہ خواب اپنے بھائیوں کو نہ سنانا وہ اس خواب کو سن کر گیارہ کے عدد پر غور کریں گے تو سمجھ لیں گے کہ تم کو اللہ بلندی دے گا اور وہ لوگ تمہارے مقابلہ میں نیچے رہیں گے ‘ خواب کی تعبیر سے متاثر ہو کر اندیشہ ہے کہ وہ کوئی ایسی تدبیر نہ کر بیٹھیں جس سے تمہیں کوئی تکلیف پہنچ جائے ‘ (اللہ کی قضا و قدر کے سامنے کسی کی کوئی تدبیر کامیاب نہیں ہوسکتی کسی کو گوارا ہو یا نہ ہو بہر حال وہ ہوگا جو اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا۔ اللہ تعالیٰ جسے بلندی عطا فرمائے وہ ضرور بلند ہوگا لیکن حسد کرنے والے اپنی جہالت اور حماقت سے اور شیطان کے سمجھانے بجھانے سے اس کے خلاف مخالفانہ تدبیریں کرتے ہیں جس کی علمی ‘ عملی اور مرتبہ کی بلندی کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے فیصلہ ہوچکا ہوتا ہے۔ بالآخر یہ مخالفین سب ذلیل ہو کر رہ جاتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ آگے بڑھائیں وہ بڑھ کر ہی رہتا ہے۔ حسد بری بلا ہے حاسد اللہ کے فیصلے پر راضی نہیں ہوتا اور چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے کو رد کر دے۔ العیاذ باللہ۔ )

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

5:۔ یہاں سے قصے کی ابتداء ہوتی ہے اور یہ پندرہ احوال میں سے پہلا حال ہے۔ ” اِذْ “ ظرف ہے جس کے لیے متعلق کا ہونا ضروری ہے۔ تفسیر عباسی میں ہے کہ ” اِذْ “ بمعنی قَدْ ہے اس صورت میں اسے متعلق کی ضرورت ہی نہیں۔ اور بعض مفسرین اِذْ کا عامل متعلق اُذْکُرْ مقدر مانتے ہیں۔ اُذْکُرْ چونکہ فعل متعدی ہے اور مفعول کو چاہتا ہے اس لیے اَلْقِصّۃَ مفعول مقدر ہوگا ای اذکر القصۃ اذقال الخ۔ لیکن اس پر یہ اشکا ہے کہ جب یہ قصہحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو معلوم ہی نہ تھا تو قصہ بیان کرنے کا حکم کس طرح دیا گیا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ وحی کے ذریعہ آپ کو قصہ معلوم ہوگیا اس لیے بیان کرنے کا حکم دینا درست ہے۔ نیز رضی نے کہا ہے کہ ” اُذْکُرْ “ کے معنی غور و فکر کرنے کے ہیں یعنی اس قصے میں غور و فکر کرو اور اس سے عبرت حاصل کرو۔ بعض نے ظرف کو ” الْغٰفِلِیْنَ “ اور بعض نے ” نَقُصُّ “ کے متعلق قرار دیا ہے (روح) حضرت شیخ (رح) تعالیٰ نے فرمایا نحویوں کا مسلمہ قاعدہ ہے کہ ظروف کے متعلقات ان سے مؤخر بھی ہوسکتے ہیں اس لیے بہتر یہ ہے کہ ” اِذْ “ کا متعلق ” قَالَ یٰبُنَیَّ “ مؤخر ہو۔ معنی یہ ہوں گے کہ جب یوسف نے اپنا خواب اپنے باپ سے بیان کیا تو انہوں نے کہا الخ۔ 6:۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بچپن میں خواب دیکھا کہ گیارہ ستارے، سورج اور چاند ان کے سامنے جھک گئے ہیں۔ انہوں نے یہ خواب اپنے والد بزرگوار حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے ذکر کیا وہ اس کی تعبیر سمجھ گئے اور اس سے اپنے بیٹے کے آئندہ فضل و کمال کا اندازہ لگا لیا۔ تعبیر میں گیارہ ستاروں سے گیارہ بھائی اور شمس (سور ج) سے والد اور قمر (چاند) سے خالہ مراد ہیں کیونکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی والدہ حضرت راحیل فوت ہوچکی تھیں۔ عن السدی ان القمر خالتہ لان امہ راحیل قد ماتت (روح ج 12 ص 180) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

4 وہ وقت قابل ذکر ہے جب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے باپ سے کہا اے میرے باپ میں نے خواب میں گیارہ ستارے اور سوج اور چاند کو دیکھا ہے کہ وہ میرے روبرو سجدہ کر رہے ہیں یعنی گیارہ ستارے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے گیارہ بھائی ، چاند اور سورج سے ماں باپ مراد ہیں چاند سے مراد ماں اور سورج سے مراد باپ یا اس کے عکس کہ چاند سے مراد باپ اور سورج سے مراد ماں غرض ! ان تیرہ کو میں نے اپنے آگے سجدہ کرتے دیکھا ہے اس خواب کی تعبیر چونکہ بہت صاف اور ظاہر تھی اور سجدے سے مراد ظاہر ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کو ان سب پر تفویق اور برتری حاصل ہوگی اور یہ سب ان کے سامنے پست ہوں گے اس بنا پر باپ نے خواب سنتے ہی احتیاطاً فرمایا۔