The root of this word, its grammatical form, and every other place in the Quran where the same root is used - with each of those verses one click away.
اَلسَّلُوکُ: (ن) اس کے اصل معنیٰ راستہ پر چلنے کے ہیں۔ سَلَکْتُ الطَّرِیْقَ: اور یہ فعل متعدی بن کر بھی استعمال ہوتا ہے یعنی راستہ پر چلانا چنانچہ پہلے معنیٰ کے متعلق فرمایا: (لِّتَسۡلُکُوۡا مِنۡہَا سُبُلًا فِجَاجًا) (۷۱:۲۰) تاکہ اس کے بڑے بڑے کشادہ راستوں میں چلو پھرو۔ (فَاسۡلُکِیۡ سُبُلَ رَبِّکِ ذُلُلًا) (۱۶:۶۹) اور اپنے پروردگار کے صاف راستوں پر چلی جا۔ (َسۡلُکُ مِنۡۢ بَیۡنِ یَدَیۡہِ ) (۷۲:۲۷) (اور) اس کے آگے … مقرر کردیتا ہے۔ (وَّ سَلَکَ لَکُمۡ فِیۡہَا سُبُلًا) (۲۰:۵۳) اور اس میں تمہارے لئے رستے جاری کئے۔ اور دوسرے معنیٰ یعنی تمعدی کے متعلق فرمایا: (مَا سَلَکَکُمۡ فِیۡ سَقَرَ) (۷۴:۴۲) کہ تم دوزخ میں کیوں پڑے۔ (کَذٰلِکَ نَسۡلُکُہٗ فِیۡ قُلُوۡبِ الۡمُجۡرِمِیۡنَ) (۱۵:۱۲) اس طرح ہم اس (تکذیب وضلال) کو گنہگاروں کے دلوں میں داخل کردیتے ہیں۔ (کَذٰلِکَ سَلَکۡنٰہُ ) (۲۶:۲۰۰) اسی طرح ہم نے انکار کو … داخل کردیا۔ (فَاسۡلُکۡ فِیۡہَا) (۲۳:۲۷) کشتی میں بٹھا لو۔ (یَسۡلُکۡہُ عَذَابًا صَعَدًا) (۷۲:۱۷) وہ اس کو سخت عذاب میں داخل کرے گا۔ بعض نے سَلَکْتُ فُلَانًا فِیْ طَرِیْقِہٖ کی بجائے سَلَکْتُ فُلَانًا طَرِیْقًا کہا ہے اور عَذَابًا کو یَسْلُکْہُ کا دوسرا مفعول بنایا ہے۔ اور بعض نے کہا ے کہ عَذَابًا فعل محذوف کا مصدر ہے اور یہ اصل میں نُعَذِّبُہٗ ہے اور نیزے کی بالکل سامنے اور سیدھی ضرب کو طَعْنَۃٌ سُلْکَۃٌ کہا جاتا ہے۔ (سُلْکیٰ سیدھا نیزہ) اور سُلْکَۃٌ مادۂ کبک کو کہتے ہیں اس کا مذکر سُلَکٌ ہے۔
12 results