Surat Marium

Surah: 19

Verse: 68

سورة مريم

فَوَ رَبِّکَ لَنَحۡشُرَنَّہُمۡ وَ الشَّیٰطِیۡنَ ثُمَّ لَنُحۡضِرَنَّہُمۡ حَوۡلَ جَہَنَّمَ جِثِیًّا ﴿ۚ۶۸﴾

So by your Lord, We will surely gather them and the devils; then We will bring them to be present around Hell upon their knees.

تیرے پروردگار کی قسم! ہم انہیں اور شیطانوں کو جمع کر کے ضرور ضرور جہنم کے ارد گرد گھٹنوں کے بل گرے ہوئے حاضر کر دیں گے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

فَوَرَبِّكَ لَنَحْشُرَنَّهُمْ وَالشَّيَاطِينَ ... So by your Lord, surely We shall gather them together, and the Shayatin, The Lord, Blessed be He the Most High, swears by His Noble Self that He will definitely gather all of those who worshipped other than Allah and their devils as well. ... ثُمَّ لَنُحْضِرَنَّهُمْ حَوْلَ جَهَنَّمَ جِثِيًّا then We shall bring them round Hell, Jithiyya. Al-Awfi related that Ibn Abbas said, "This means sitting and it is similar to His statement, وَتَرَى كُلَّ أُمَّةٍ جَاثِيَةً And you will see each nation Jathiyah." (45:28) As-Suddi commented on the word Jithiyya, "It means standing." It has been reported from Murrah that Ibn Mas`ud said the same. Concerning Allah's statement,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

68۔ 1 جثیی، جاث کی جمع ہے جثا یجثو سے۔ جَاثٍ گھٹنوں کے بل گرنے والے کو کہتے ہیں۔ یہ حال ہے یعنی ہم دوبارہ انھیں کو نہیں بلکہ ان شیاطین کو بھی زندہ کردیں گے جنہوں نے ان کو گمراہ کیا تھا یا جن کی وہ عبادت کرتے تھے پھر ان سب کو اس حال میں جہنم کے گرد جمع کردیں گے کہ یہ محشر کی ہولناکیوں اور حساب کے خوف سے گھٹنوں کے بل بیٹھے ہونگے، میرے لئے پہلی مرتبہ پیدا کرنا دوسری مرتبہ پیدا کرنے سے زیادہ آسان نہیں ہے (یعنی مشکل اگر ہے تو پہلی مرتبہ پیدا کرنا نہ کہ دوسری مرتبہ) اور اس کا مجھے ایذا پہنچانا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے میری اولاد ہے، حالانکہ میں ایک ہوں، بےنیاز ہوں نہ میں نے کسی کو جنا اور نہ خود جنا گیا ہوں میرا کوئی ہمسر نہیں ہے (صحیح بخاری۔ تفسیر سورة اخلاص)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فَوَرَبِّكَ لَنَحْشُرَنَّهُمْ ۔۔ :” جِثِيًّا “ ” جَثَا یَجْثُوْ جُثُوًّا “ اور ” جَثَی یَجْثِیْ جَثِیًّا “ (ن، ض) سے اسم فاعل ” جَاثٍ “ (اَلْجَاثِیْ ) کی جمع ہے، گھٹنوں کے بل گرنے والے۔ قیامت کے منکروں کو اس کا یقین دلانے کے لیے قسم اٹھا کر فرمایا کہ تیرے رب کی قسم ہے کہ ہم انھیں اور ان کو گمراہ کرنے والے شیطانوں کو ضرور اکٹھا کریں گے۔ شیطانوں میں قرین بھی شامل ہیں (دیکھیے سورة ق : ٢٣) اور ابلیس کی اولاد اور انسانوں میں سے گمراہ کرنے والے شیطان بھی۔ دیکھیے سورة انعام (١١٢) جہنم کے گرد ان کی حاضری کی تصویر دکھانے کے لیے فرمایا کہ وہ جہنم کے گرد نہایت ذلیل و خوار اور خوف زدہ ہو کر گھٹنوں کے بل گرے ہوں گے اور ان میں کھڑا ہونے کی طاقت نہیں ہوگی۔ دیکھیے سورة جاثیہ (٢٨) ۔ ” تیرے رب کی قسم “ اس میں دو فائدے حاصل ہو رہے ہیں، ایک تو قسم کی وجہ سے بات کی تاکید، دوسرا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان کی رفعت، جیسا کہ سورة ذاریات کی آیت (٢٣) : (فَوَرَبِّ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ اِنَّهٗ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَآ اَنَّكُمْ تَنْطِقُوْنَ ) سے آسمان و زمین کی عظمت ظاہر ہو رہی ہے۔ (طنطاوی)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

لَنَحْشُرَ‌نَّهُمْ وَالشَّيَاطِينَ ثُمَّ لَنُحْضِرَ‌نَّهُمْ |"We will definitely gather them together with the devils, then We will definitely make them present.|" - 19:68. This verse may be interpreted in two ways. First, that on the Day of Judgment every infidel will be brought before God along with his own devil, and this suggests that this is a reference to the gathering of infidels and their devils. But if it is interpreted in a general sense to include all believers and infidels then the meaning of the devils being gathered with all of them would be that while the infidels will be gathered with their devils, the believers would also be gathered at the same time and place. Thus the devils will be gathered along with the infidels as well as with the believers. حَوْلَ جَهَنَّمَ جِثِيًّا |"Around the Jahannam fallen on their knees.|" - 19:68. On the Day of Resurrection every one - believers, infidels, the blessed and the wretched - will be assembled around Hell. Everyone will be seized with awe and terror, and they will all be on their knees, then the believers and the blessed will be taken across Hell and admitted into Paradise, so that having viewed the extreme suffering of Hell they may all the better enjoy their own state of felicity, and at the same time rejoice at the punishment which has been inflicted upon the infidels.

لَنَحْشُرَنَّهُمْ وَالشَّيٰطِيْنَ ثُمَّ لَنُحْضِرَنَّهُمْ ، اس جگہ والشَّيٰطِيْنَ کا واؤ با معنی مَعَ ہے اور مراد یہ ہے کہ ہر کافر کو اس کے شیطان کے ساتھ ایک سلسلہ میں باندھ کر اٹھایا جائے گا اس صورت میں یہ صرف کافروں کے حشر کا بیان ہوگا، اور اگر مراد عام لی جائے جس میں مومن و کافر سب داخل ہیں تو شیاطین کے ساتھ ان سب کے حشر کا مطلب یہ ہوگا کہ ہر کافر تو اپنے شیطان کے ساتھ بندھا ہوا حاضر ہوگا اور مومنین بھی اس موقف حشر میں الگ نہیں ہوں گے اس لحاظ سے سب کے ساتھ شیاطین کا اجتماع ہوجائے گا۔ (قرطبی) حَوْلَ جَهَنَّمَ جِثِيًّا ابتدائے حشر کے وقت مومنین و کفار اور سعداء و اشقیاء سب جہنم کے گرد جمع کئے جاویں گے اور سب پر ہیبت طاری ہوگی سب گھٹنوں کے بل گرے ہوئے ہوں گے۔ پھر مومنین اور سعداء کو جہنم سے عبور کرا کر جنت میں داخل کیا جائے گا تاکہ اس منظر جہنم کو دیکھنے کے بعد ان کو مکمل خوشی اور دائمی اور مخالفین دین پر شماتت اور اس پر اللہ کا مزید شکر نصیب ہو۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَوَرَبِّكَ لَنَحْشُرَنَّہُمْ وَالشَّيٰطِيْنَ ثُمَّ لَنُحْضِرَنَّہُمْ حَوْلَ جَہَنَّمَ جِثِيًّا۝ ٦٨ۚ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ حشر ، وسمي يوم القیامة يوم الحشر کما سمّي يوم البعث والنشر، ورجل حَشْرُ الأذنین، أي : في أذنيه انتشار وحدّة . ( ح ش ر ) الحشر ( ن ) اور قیامت کے دن کو یوم الحشر بھی کہا جاتا ہے جیسا ک اسے یوم البعث اور یوم النشور کے ناموں سے موسوم کیا گیا ہے لطیف اور باریک کانوں والا ۔ شطن الشَّيْطَانُ النون فيه أصليّة «3» ، وهو من : شَطَنَ أي : تباعد، ومنه : بئر شَطُونٌ ، وشَطَنَتِ الدّار، وغربة شَطُونٌ ، وقیل : بل النون فيه زائدة، من : شَاطَ يَشِيطُ : احترق غضبا، فَالشَّيْطَانُ مخلوق من النار کما دلّ عليه قوله تعالی: وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مارِجٍ مِنْ نارٍ [ الرحمن/ 15]: الشّيطان اسم لكلّ عارم من الجنّ والإنس والحیوانات . قال تعالی: شَياطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ [ الأنعام/ 112] ( ش ط ن ) الشیطان اس میں نون اصلی ہے اور یہ شطن سے مشتق ہے جس کے معنی دور ہونیکے ہیں اور بئر شطون ( بہت گہرا کنوآں ) شطنت الدار ۔ گھر کا دور ہونا غربۃ شطون ( بطن سے دوری ) وغیرہ محاوارت اسی سے مشتق ہیں بعض نے کہا ہے کہ لفظ شیطان میں نون زائدہ ہے اور یہ شاط یشیط سے مشتق ہے جس کے معنی غصہ سے سوختہ ہوجانے کے ہیں ۔ اور شیطان کو بھی شیطان اسی لئے کہا جاتا ہے کہ وہ آگ سے پیدا ہوا ہے جیسا کہ آیت : ۔ وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مارِجٍ مِنْ نارٍ [ الرحمن/ 15] اور جنات کو آگ کے شعلہ سے پیدا کیا ۔ سے معلوم ہوتا ہے ۔ ابو عبیدہ نے کہا ہے کہ شیطان ہر سر کش کو کہتے ہیں خواہ وہ جن وانس سے ہو یا دیگر حیوانات سے ۔ قرآن میں ہے : ۔ شَياطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ [ الأنعام/ 112] شیطان ( سیرت ) انسانوں اور جنوں کو حضر الحَضَر : خلاف البدو، والحَضَارة والحِضَارَة : السکون بالحضر، کالبداوة والبداوة، ثمّ جعل ذلک اسما لشهادة مکان أو إنسان أو غيره، فقال تعالی: كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ البقرة/ 180] ، نحو : حَتَّى إِذا جاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ الأنعام/ 61] ، وَإِذا حَضَرَ الْقِسْمَةَ [ النساء/ 8] ، وقال تعالی: وَأُحْضِرَتِ الْأَنْفُسُ الشُّحَّ [ النساء/ 128] ، عَلِمَتْ نَفْسٌ ما أَحْضَرَتْ [ التکوير/ 14] ، وقال : وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَنْ يَحْضُرُونِ [ المؤمنون/ 98] ، وذلک من باب الکناية، أي : أن يحضرني الجن، وكني عن المجنون بالمحتضر وعمّن حضره الموت بذلک، وذلک لما نبّه عليه قوله عزّ وجل : وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ [ ق/ 16] ، وقوله تعالی: يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آياتِ رَبِّكَ [ الأنعام/ 158] ، وقال تعالی: ما عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَراً [ آل عمران/ 30] ، أي : مشاهدا معاینا في حکم الحاضر عنده، وقوله عزّ وجلّ : وَسْئَلْهُمْ عَنِ الْقَرْيَةِ الَّتِي كانَتْ حاضِرَةَ الْبَحْرِ [ الأعراف/ 163] ، أي : قربه، وقوله : تِجارَةً حاضِرَةً [ البقرة/ 282] ، أي : نقدا، وقوله تعالی: وَإِنْ كُلٌّ لَمَّا جَمِيعٌ لَدَيْنا مُحْضَرُونَ [يس/ 32] ، وفِي الْعَذابِ مُحْضَرُونَ [ سبأ/ 38] ، شِرْبٍ مُحْتَضَرٌ [ القمر/ 28] ، أي : يحضره أصحابه، والحُضْر : خصّ بما يحضر به الفرس إذا طلب جريه، يقال : أَحْضَرَ الفرس، واستحضرته : طلبت ما عنده من الحضر، وحاضرته مُحَاضَرَة وحِضَارا : إذا حاججته، من الحضور، كأنه يحضر کلّ واحد حجّته، أو من الحضر کقولک : جاریته، والحضیرة : جماعة من الناس يحضر بهم الغزو، وعبّر به عن حضور الماء، والمَحْضَر يكون مصدر حضرت، وموضع الحضور . ( ح ض ر ) الحضر یہ البدو کی ضد ہے اور الحضارۃ حاد کو فتحہ اور کسرہ دونوں کے ساتھ آتا ہے جیسا کہ بداوۃ وبداوۃ اس کے اصل شہر میں اقامت کے ہیں ۔ پھر کسی جگہ پر یا انسان وگیرہ کے پاس موجود ہونے پر حضارۃ کا لفظ بولاجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ البقرة/ 180] تم پر فرض کیا جاتا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو موت کا وقت آجائے ۔ وَإِذا حَضَرَ الْقِسْمَةَ [ النساء/ 8] اور جب تم میراث کی تقسیم کے وقت ۔۔۔ آمو جود ہوں ۔ وَأُحْضِرَتِ الْأَنْفُسُ الشُّحَّ [ النساء/ 128] اور طبائع میں بخل ودیعت کردیا گیا ہے ۔ عَلِمَتْ نَفْسٌ ما أَحْضَرَتْ [ التکوير/ 14] تب ہر شخص معلوم کرلے گا کہ وہ کیا لے کر آیا ہے اور آیت کریمہ : وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَنْ يَحْضُرُونِ [ المؤمنون/ 98] میں کنایہ کہ اے پروردگار میں پناہ مانگتا ہوں کہ جن و شیاطین میرے پاس آھاضر ہوں ۔ اور بطور کنایہ مجنون اور قریب المرگ شخص کو محتضر کہا جاتا ہے جیسا کہ آیت : وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ [ ق/ 16] اور آیت کریمہ : یوم یاتی بعض ایات ربک میں اس معنی پر متنبہ کیا گیا ہے اور آیت کریمہ ۔ ما عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَراً [ آل عمران/ 30] کے معنی یہ ہیں کہ انسان جو نیکی بھی کرے گا ۔ قیامت کے دن اس کا اس طرح مشاہدہ اور معاینہ کرلے گا جیسا کہ کوئی شخص سامنے آموجود ہوتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَسْئَلْهُمْ عَنِ الْقَرْيَةِ الَّتِي كانَتْ حاضِرَةَ الْبَحْرِ [ الأعراف/ 163] اور ان سے اس گاؤں کا حال پوچھ جواب دریا پر واقع تھا ۔ میں حاضرۃ البحر کے معنی دریا کے قریب یعنی ساحل کے ہیں اور آیت کریمہ : تِجارَةً حاضِرَةً [ البقرة/ 282] میں حاضرۃ کے معنی نقد کے ہیں ۔ نیز فرمایا : وَإِنْ كُلٌّ لَمَّا جَمِيعٌ لَدَيْنا مُحْضَرُونَ [يس/ 32] اور سب کے سب ہمارے روبرو حاضر کئے جائیں گے ۔ وفِي الْعَذابِ مُحْضَرُونَ [ سبأ/ 38] وی عذاب میں ڈالے جائیں گے ۔ اور آیت کریمہ : شِرْبٍ مُحْتَضَرٌ [ القمر/ 28] ، ہر باری والے کو اپنی باری پر آنا چاہئے میں بانی کی باری کے محتضر ہونے کے معنی یہ ہیں کہ باڑی والے اس گھاٹ پر موجود ہوں ۔ الحضر ۔ خاص کر گھوڑے کی تیز دوڑے کو کہتے ہیں کہا جاتا ہے : احضر الفرس گھوڑا دوڑا استحضرتُ الفرس میں نے گھوڑے کو سرپٹ دوڑایا ۔ حاضرتہ محاضرۃ وحضارا باہم جھگڑنا ۔ مباحثہ کرنا ۔ یہ یا تو حضور سے ہے گویا ہر فریق اپنی دلیل حاضر کرتا ہے اور یا حضر سے ہے جس کے معنی تیز دوڑ کے ہوتے ہیں جیسا کہ ۔۔۔۔۔۔ جاریتہ کہا جاتا ہے ۔ الحضیرۃ ُ لوگوں کی جماعت جو جنگ میں حاضر کی جائے اور کبھی اس سے پانی پر حاضر ہونے والے لوگ بھی مراہ لئے جاتے ہیں ۔ المحضرُ ( اسم مکان ) حاضر ہونے کی جگہ اور حضرت ُ ( فعل ) کا مصدر بھی بن سکتا ہے ۔ حول أصل الحَوْل تغيّر الشیء وانفصاله عن غيره، وباعتبار التّغيّر قيل : حَالَ الشیء يَحُولُ حُؤُولًا، واستحال : تهيّأ لأن يحول، وباعتبار الانفصال قيل : حَالَ بيني وبینک کذا، وقوله تعالی: وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ [ الأنفال/ 24] ( ح ول ) & الحوال ( ن ) دراصل اس کے معنی کسی چیز کے متغیر ہونے اور دوسری چیزوں سے الگ ہونا کے ہیں ۔ معنی تغییر کے اعتبار سے حال الشئی یحول حوولا کا محاورہ استعمال ہوتا ہے جس کے معنی کی شے کے متغیر ہونیکے ہیں ۔ اور استحال کے معنی تغیر پذیر ہونے کے لئے مستعد ہونے کے اور معنی انفصال کے اعتبار سے حال بینی وبینک کذا کا محاورہ استعمال ہوتا ہے ۔ یعنی میرے اور اس کے درمیان فلاں چیز حائل ہوگئی ۔ اور آیت کریمہ :۔ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ [ الأنفال/ 24] اور جان رکھو کہ خدا آدمی اسکے دل کے درمیان حائل ہوجاتا ہے ۔ جهنم جَهَنَّم اسم لنار اللہ الموقدة، قيل : وأصلها فارسيّ معرّب جهنام «1» ، وقال أبو مسلم : كهنّام «2» ، والله أعلم . ( ج ھ ن م ) جھنم ۔ دوزخ کا نام ہے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ اصل فارسی لفظ جنام سے معرب ہی واللہ علم ۔ جثی جَثَا علی رکبتيه يَجْثُو جُثُوّاً وجِثِيّاً فهو جَاثٍ ، نحو : عتا يعتو عتوّا وعتيّا، وجمعه : جُثِيّ نحو : باک وبكيّ ، وقوله عزّ وجل : وَنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيها جِثِيًّا [ مریم/ 72] ، يصح أن يكون جمعا نحو : بكي، وأن يكون مصدرا موصوفا به، والجاثية في قوله عزّ وجل : وَتَرى كُلَّ أُمَّةٍ جاثِيَةً [ الجاثية/ 28] فموضوع موضع الجمع، کقولک : جماعة قائمة وقاعدة . ( ج ث و ) جثا ( ن ) جثوا وجثیا ۔ الرجل گھٹنوں کے بل بیٹھنا یہ عتا ( ن) عتوا وعتیا کی طرح ( باب نصر سے آتا ہے ) جاث ( صیغہ صفت ) ج جثی جیسے باک وبلی ۔ اور آیت کریمہ : ۔ الِمِينَ فِيها جِثِيًّا [ مریم/ 72] اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل پرا ہوا چھوڑ دیں گے ۔ میں جثیا جاث کی جمع بھی ہوسکتی ہے اور مصدر بمعنی اسم فاعل بھی اور آیت کریمہ : ۔ وَتَرى كُلَّ أُمَّةٍ جاثِيَةً [ الجاثية/ 28] اور تم ہر ایک فرقے کو دیکھو گے کہ گھٹنوں کے بل بیٹھا ہوگا میں ، ، جاثیۃ جمع کے معنی میں استعمال ہوا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦٨) سو قسم ہے آپ کے پروردگار کی ہم قیامت کے دن ابی اور اس کے ساتھیوں کو جمع کریں گے اور شیطان کو بھی پھر ان سب کو دوزخ کے گرد اس حالت میں اکٹھا کریں گے کہ گھٹنوں کے بل گرے ہوں گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

42. The Satans are the leaders who persuade the wicked people to enjoy themselves in this worldly life, for there is no life in the Hereafter, where they shall have to present themselves before Allah and give an account of their deeds.

سورة مَرْیَم حاشیہ نمبر :42 یعنی ان شیاطین کو جن کے یہ چیلے بنے ہوئے ہیں اور جن کے سکھائے پڑھائے میں آ کر انہوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ زندگی جو کچھ بھی ہے بس یہی دنیا کی زندگی ہے ، اس کے بعد کوئی دوسری زندگی نہیں جہاں ہمیں خدا کے سامنے حاضر ہونا اور اپنے اعمال کا حساب دینا ہو ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

33: یعنی ان شیطانوں کو جو انہیں گمارہ کرتے رہے ہیں۔ چنانچہ ہر انسان کے ساتھ وہ شیطان بھی لایا جائے گا جس نے اس انسان کو گمراہ کیا تھا

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٦٨۔ ٧٠:۔ اوپر منکرین حشر کو عقلی طور پریوں قائل کیا گیا تھا کہ ان کے انکار سے اللہ تعالیٰ کا انتظام بدل نہیں سکتا جس نے اپنی ذات پاک کی قسم کھا کر فرمایا کہ ضرور سزا وجزا کے لیے ایک دن سب کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا تاکہ دنیا کا پیدا کرنا ٹھکانے لگے اور جن جن شیاطینوں کے بہکانے سے یہ منکر حشر دوبارہ زندہ ہونے کا انکار کرتے ہیں ان کے ساتھ ان کو بھی زندہ کیا جائے ان میں سے بڑے بڑے سرکشوں کو چھانٹا جا کر دوزخ میں پہلے جھونکا جائے گا اور جو سرکش لوگ دوزخ کے پہلے جھونکے کے قابل ہیں ان کا حال اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ (رض) کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ جو شخص خود بھی گمراہی کے کام کرے گا اور دوسروں کو بھی بہکائے گا اس کو دوہرا عذاب بھگتنا پڑے گا ١ ؎۔ جو لوگ زیادہ عذاب کے مستحق ٹھہر کر چھانٹے جانے اور دوزخ کے پہلے جھونکے کے قابل آیتوں میں ذکر کیے گئے ہیں۔ تفسیری طور پر ان کی مثال اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے۔ ١ ؎ صحیح مسلم ص ٣٤١ ج ٢ من سن سنتہ حسنتہ الخ۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(19:68) فوربک۔ سو (اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) تیرے رب کی قسم۔ لنحشرنہم۔ لام تاکید کے لئے ہے۔ نحشرن۔ مضارع جمع متکلم بانون ثقیلہ ہم ان کو ضرور بالضرور جمع کریں گے۔ والشیطن۔ میں وائو عاطفہ بھی ہوسکتی ہے اور وائو بمعنی مع (معیۃ) بھی۔ یہاں معیت کا معنی زیادہ مناسب ہے۔ یعنی ہم انہیں بمع شیاطین کے جمع کریں گے۔ لنحضرنہم۔ مضارع جمع متکلم بالام تاکید ونون ثقیلہ ہم ضرور ان کو لا حاضر کریں گے۔ حول۔ گرد۔ حال یحول سے مصدر ہے۔ الحول کے معنی دراصل کسی چیز کے متغیر ہونے کے ہیں اور دوسری چیزوں سے الگ ہونے کے ہیں۔ تغییر کے اعتبار سے حال الشیء یحول حوولا۔ کا محاورہ استعمال ہوتا ہے جس کے معنی کسی شے کے متغیر ہونے کے ہیں ۔ اور الگ ہونے کے اعتبار سے حال بینی ووبینک کذاکا محاورہ استعمال ہوتا ہے۔ یعنی میرے اور اس کے درمیان فلاں چیز حائل ہوگئی۔ حول بمعنی سال بھی ہے۔ جثیا۔ زانو پر گرے ہوئے۔ اوندھے گرے ہوئے۔ جثا یجثوا (باب نصر) جثو وجثیا۔ الرجل۔ گھٹنوں کے بل بیٹھنا۔ یہ عتا یعتو (باب نصر) عتوا وعتیا کی طرح ہے۔ جثیا جاث صیغہ صفت کی جمع بھی ہوسکتی ہے اور مصدر بھی بمعنی اسم فاعل جاث کی جمع ہونے کی صورت میں جثی اصل میں فعول کے وزن پر جثو وتھا ضمہ کے بعد دو وائو کا اجتماع ثقیل تھا۔ لہٰذا تخفیف کے لئے ثاء کو کسرہ دیا۔ وائو اول کو بوجہ سکون وکسرہ ما قبل یاء سے بالا۔ اب وائو ما قبل یاء ساکن کو یاء سے بدلا۔ پھر یا کو یا میں مدغم کیا۔ پھر جیم کو مابعد کی رعایت سے کسرہ دیا۔ جثیہوگیا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : کوئی قیامت کا انکار کرے یا اقرار کرے اللہ تعالیٰ قیامت کے روز سب کو اپنی بارگاہ میں جمع کرے گا۔ مرنے کے بعد قیامت کے دن زندہ ہونے کی حقیقت اس قدر عقلی اور شرعی دلائل پر مبنی ہے جس کا انکار کرنا ہٹ دھرمی کے سوا کچھ نہیں۔ اس سے پہلی آیت میں انسان کی تخلیق کے حوالے سے اسے سمجھایا ہے کہ انسان اپنی پیدائش پر غور کرے تو اسے معلوم ہوجائے گا جس رب نے اسے عدم سے وجود بخشا ہے کہ وہ دوبارہ اسے کیونکہ زندہ نہیں کرسکتا ؟ اس لیے رب ذوالجلال نے اپنی ذات کی قسم اٹھا کر فرمایا ہے کہ اے نبی آپ کا رب نہ صرف انھیں اپنے حضور اکٹھا کرے گا بلکہ جس شیطان نے انسان کو گمراہ کیا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اسے بھی ہر مجرم کے ساتھ عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کرے گا۔ مجرم جہنم کے پاس گھٹنوں کے بل کھڑے ہوں گے۔ یعنی جہنم کی ہولناکیوں اور اس کی چٹخار سن کر خوف کے مارے ان سے کھڑا نہیں ہوا جائے گا۔ شیاطین کے ساتھ کفر و شرک کے ان سرداروں اور نمائندوں کو بھی مجرم کے ساتھ کھڑا کیا جائے گا جو رب رحمٰن کی نافرمانی میں دنیا میں آگے آگے تھے۔ یہ ائمۃ الکفر اپنے کارکنان اور مریدوں کے آگے آگے ہوں گے جب جہنم میں داخل ہونے والے ہوں گے تو اللہ تعالیٰ انھیں رک جانے کا حکم دیں گے۔ ان سے پوچھا جائے گا کہ تم ایک دوسرے کی کیوں نہیں مدد کرتے۔ اسی بات کو قرآن مجیدنے دوسرے مقام پر یوں بیان کیا ہے۔ ” جو لوگ ظلم کرتے تھے ان کو اور ان کے ساتھیوں اور جن کو وہ پوجا کرتے تھے سب کو جمع کرلو اور انہیں ان کو جہنم کے رستے پر چلا دو ۔ اور ان کو ٹھیرائے رکھو کہ ان سے پوچھنا ہے۔ تمہیں کیا ہوا ہے کہ ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے بلکہ آج تو وہ فرمانبردار بنے ہوئے ہیں۔ “ (الصافات : ٢٢ تا ٢٧) (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) امْرُؤُ الْقَیْسِ صَاحِبُ لِوَاء الشُّعَرَاءِ إِلَی النَّارِ ) [ رواہ احمد : مسندابی ہریرہ ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ زمانہ جاہلیت کے شاعروں کا جھنڈا امراء القیس کے ہاتھ میں ہوگا وہ ان کو لے کر جہنم داخل ہوگا۔ “ مسائل ١۔ قیامت ہر صورت برپا ہو کر رہے گی۔ ٢۔ قیامت کے دن مجرم کے ساتھ اس کو بہکانے والے شیاطین اور گمراہ رہنماؤں کو بھی اکٹھا کیا جائے گا۔ ٣۔ مجرم جہنم کے کنارے گھٹنوں کے بل گرے ہوئے ہوں گے۔ تفسیر بالقرآن جہنّم میں داخلہ کے وقت جہنمیوں کی کیفیت : ١۔ اے ہمارے رب ہمیں تھوڑی دیر کے لیے مہلت دے ہم تیری حکم کو قبول اور تیرے رسول کی بات کو تسلیم کریں گے۔ (ابراہیم : ٤٤) ٢۔ جہنمی کہیں گے اے اللہ ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا اب ہم کو واپس لوٹا دے۔ (السجدۃ : ١٢) ٣۔ اے ہمارے پروردگار ہمیں یہاں سے نکال ہم برے اعمال کی بجائے نیک عمل کریں گے۔ (الفاطر : ٣٧) ٤۔ اے ہمارے رب ! ہمیں یہاں سے نکال اگر دوبارہ ایسا کریں تو بڑے ظالم ہوں گے۔ (المومنون : ١٠٧) ٥۔ اے اللہ جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا انہیں دوگنا عذاب کیا جائے۔ ( الاحزاب : ٦٨) ٦۔ جب بھی جہنم سے نکلنے کا ارادہ کریں گے تو دوبارہ لوٹائے جائیں گے۔ (السجدۃ : ٢٠) ٧۔ ہر جہنمی کی خواہش ہوگی کہ دنیا میں واپس بھیج دیا جائے۔ (الانعام : ٢٧ تا ٢٨)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

فوربک۔۔۔۔۔۔ والشیطین (٩١ : ٨٦) ” تیرے رب کی قسم ہم ضرور ان سب کو اٹھائیں گے “۔ اور یہ اکیلے ہی نہ ہوں گے۔ ان کے ساتھ شیاطین کو بھی اٹھائیں گے۔ کیونکہ یہ اور شیاطین ایک ہی قماش کے لوگ ہیں۔ یہ شیاطین ہی تو ہیں جو انکے دلوں میں ایسے شبہات پیدا کرتے ہیں۔ یہ تو تابع ہیں اور شیاطین ان کے لیڈر ہیں۔ ان کے درمیان تابع اور مقبوع کا رشتہ ہے۔ اب اگلے مرحلے میں یہ سب گھٹنوں کے بل آگے بڑھ رہے ہیں۔ یہ ان کی نہایت ہی برے حال کی حسی تصویر ہے۔ سخت شرمندگی اور توہین آمیز حالت میں ہیں یہ لوگ۔ ثم لنحضرنھم حول جھنم جثیا (٩١ : ٦٧) ” پھر جہنم کے گرد لا کر انہیں گھٹنوں کے بل گرا دیں گے “۔ یہ ایک مجسم منظر ہے ‘ بےحدوحساب لوگ جمع کئے گئے ہیں ‘ جہنم کی طرف ان کو اہانت آمیز انداز میں گھٹنوں کے بل لایا جارہا ہے۔ یہ لاچاری میں اسے دیکھ رہے ہیں اور اس کے شعلوں کی لپٹوں کو محسوس کرتے ہیں۔ ہر وقت وہ اس خوف میں ہیں کہ ابھی پکڑے گئے اور اس میں پھینکے گئے۔ جزع و فزع میں وہ گھنٹوں کے بل چلے اور اوندھے گرادیئے گئے۔ دنیا کے جباروں اور قہاروں کے لئے یہ بہت ہی توہین آمیز منظر ہے۔ اس منظر میں ان منکرین کی صفوں سے ان لوگوں کو چھانٹا جارہا ہے جو اوروں کے مقابلے میں زیادہ سرکش تھے۔ کھینچ کھینچ کر ان کو باہر صفوں سے نکالا جارہا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

انسان کا انکار معاد پھر اس کی تردید فرمانے کے بعد منکرین کا قیامت کے دن حاضر ہونا اور بدحال ہونا اور دوزخ میں داخل کیا جانا بیان فرمایا (فَوَرَبِّکَ لَنَحْشُرَنَّھُمْ وَ الشَّیٰطِیْنَ ) (سو قسم ہے آپ کے رب کی ہم ان لوگوں کو اور شیاطین کو ضرور جمع کریں گے) منکرین کافرین قیامت کے دن حاضر ہوں گے اور شیاطین بھی حاضر ہوں گے شیاطین کا دنیا میں یہ کام تھا کہ انسان کو بہکاتے اور ورغلاتے تھے اور انھیں کفر اور شرک پر ڈالتے تھے اور یہ شیاطین خود بھی کافر تھے میدان قیامت میں یہ گمراہ ہونے والے اور گمراہ کرنے والے سب جمع کیے جائیں گے، مفسرین نے فرمایا کہ یہ بہکانے والے اور بہکاؤ میں آنے والے باہم ملا کر زنجیروں میں باندھے ہوئے حاضر ہوں گے، دنیا میں ساتھ تھے حشر کے دن بھی ساتھ ہوں گے، وہاں کا ساتھ ہونا زیادہ مضبوط ہوگا یہاں تو پاس اٹھنے بیٹھنے ہی میں ساتھ تھے اور وہاں بندش اور جکڑ بندی کی صورت میں حاضر کیے جائیں گے۔ (ثُمَّ لَنُحْضِرَنَّھُمْ حَوْلَ جَھَنَّمَ جِثِیًّا) (پھر ہم ان کو دوزخ کے قریب اس حال میں جمع کردیں گے کہ گھٹنوں کے بل گرے ہوئے ہوں گے) کافرین اور شیاطین (جو خود بھی کافر ہیں اور انسان کو کفر پر ڈالتے رہتے ہیں) قیامت کے دن جمع کیے جائیں گے پھر دوزخ کے آس پاس حاضر کردیے جائیں گے اور حاضر ہونے کی صورت یہ ہوگی کہ وہ گھٹنوں کے بل گرے ہوئے ہوں گے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

48:۔ یہ تخویف اخروی ہے۔ ” الشیاطین “ اس سے شیاطین الجن والانس مراد ہیں۔ یعنی جنوں کے علاوہ وہ مولوی اور پیر جو ان کو گمراہ کرتے رہے یا ان کے ہمزاد جو انہیں گمراہ کیا کرتے تھے۔ یعنی کفار و مشرکین اپنے ہمزادوں کے ساتھ میدانِ حشر میں لائے جائیں گے۔ والمعنی انھ یحشرون مع قرنائہم من الشیاطین الذین اغو وھم یقرنون کل کافر مع شیطان فی سلسلۃ (قرطبی ج 11 ص 132) ۔ پھر ان سب کو جہنم کے گرد جمع کیا جائے گا۔ ” ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ الخ “ پھر تمام سرکش جماعتوں کو کفر و انکار اور سرکشی کے اعتبار سے اس طرح مرتب کریں گے کہ ہر جماعت کے سب سے زیادہ سرکش اور معاندین کو پہلی صف میں کھڑا کیا جائے گا۔ اس کے بعد ان سے کم سرکش لوگوں کو درجہ بدرجہ کھڑا کیا جائے گا۔ ” عِتِیًّا “ انتہائی سرکشی۔ ان معنی ثم لننزعن من کل شیعۃ ثم لننزعن من کل فرقۃ الاعتی فالاعتی کانہ یبتدا بالتعذیب باشدھم عتیا ثم الذی یلیہ وھذا نص کلام ابی اسحاق فی معنی الایۃ (قرطبی ج 11 ص 134) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

68 سوائے پیغمبر ! قسم ہے آپ کے پروردگار کی ہم ان سب کو زندہ کر کے جمع کریں گے اور شیاطین کو بھی ان کے ساتھ جمع کریں گے پھر ہم ان سب کو جہنم کے گردا گرد اس حالت سے لاحاضر کریں گے کہ وہ مارے ہیبت کے گھٹنوں کے بل گرے ہوئے ہوں گے۔ یعنی حشر کے موقف میں سب کو دوبارہ زندہ کر کے جمع کریں گے اور ان شیاطین کو بھی جمع کریں گے جن کے بہکانے میں آ کر ان لوگوں نے گمراہی اختیار کی تھی پھر ان سب ملز مین کو دوزخ کے چاروں طرف اور جہنم کے آس پاس اس طرح حاضر کریں گے کہ وہ مارے ہیبت کے گھٹنوں کے بل گرپڑیں گے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں مارے دہشت کے کھڑے کھڑے گرپڑیں گے اور چین سے بیٹھ نہ سکیں گے یہی ہوا گھٹنوں پر گرتنا۔ 13