Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 120

سورة البقرة

وَ لَنۡ تَرۡضٰی عَنۡکَ الۡیَہُوۡدُ وَ لَا النَّصٰرٰی حَتّٰی تَتَّبِعَ مِلَّتَہُمۡ ؕ قُلۡ اِنَّ ہُدَی اللّٰہِ ہُوَ الۡہُدٰی ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعۡتَ اَہۡوَآءَہُمۡ بَعۡدَ الَّذِیۡ جَآءَکَ مِنَ الۡعِلۡمِ ۙ مَا لَکَ مِنَ اللّٰہِ مِنۡ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیۡرٍ ﴿۱۲۰﴾ؔ

And never will the Jews or the Christians approve of you until you follow their religion. Say, "Indeed, the guidance of Allah is the [only] guidance." If you were to follow their desires after what has come to you of knowledge, you would have against Allah no protector or helper.

آپ سے یہودی اور نصاریٰ ہرگز راضی نہیں ہوں گے جب تک کہ آپ ان کے مذہب کے تابع نہ بن جائیں آپ کہہ دیجئے کہ اللہ کی ہدایت ہی ہدایت ہے اور اگر آپ نے باوجود اپنے پاس علم آ جانے کے ، پھر ان کی خواہشوں کی پیروی کی تو اللہ کے پاس آپ کا نہ تو کوئی ولی ہوگا اور نہ مددگار ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah said, وَلَن تَرْضَى عَنكَ الْيَهُودُ وَلاَ النَّصَارَى حَتَّى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ ... Never will the Jews nor the Christians be pleased with you (O Muhammad) till you follow their religion. Ibn Jarir commented on Allah's statement, meaning, `The Jews and the Christians will never be happy with you, O Muhammad! Therefore, do not seek what pleases or appeases them, and stick to what pleases Allah by calling them to the truth that Allah sent you with.' Allah's statement, ... قُلْ إِنَّ هُدَى اللّهِ هُوَ الْهُدَى ... Say: "Verily, the guidance of Allah (i.e. Islamic Monotheism) that is the (only) guidance." means, `Say, O Muhammad, the guidance of Allah that He sent me with is the true guidance, meaning the straight, perfect and comprehensive religion."' Qatadah said that Allah's statement, قُلْ إِنَّ هُدَى اللّهِ هُوَ الْهُدَى (Say: "Verily, the guidance of Allah (i.e. Islamic Monotheism) that is the (only) guidance) is, "A true argument that Allah taught Muhammad and his Companions and which they used against the people of misguidance." Qatadah said, "We were told that the Messenger of Allah used to say, لاَا تَزَالُ طَايِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ لاَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ الله There will always be a group of my Ummah fighting upon the truth, having the upper hand, not harmed by their opponents, until the decree of Allah (the Last Hour) comes. This Hadith was collected in the Sahih and narrated from Abdullah bin `Amr. ... وَلَيِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءهُم بَعْدَ الَّذِي جَاءكَ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَكَ مِنَ اللّهِ مِن وَلِيٍّ وَلاَ نَصِيرٍ And if you (O Muhammad) were to follow their (Jews and Christians) desires after what you have received of Knowledge (i.e. the Qur'an), then you would have against Allah neither any Wali (protector or guardian) nor any helper. This Ayah carries a stern warning for the Muslim Ummah against imitating the ways and methods of the Jews and Christians, after they have acquired knowledge of the Qur'an and Sunnah, may Allah grant us refuge from this behavior. Although the speech in this Ayah was directed at the Messenger, the ruling of which applies to his entire Ummah. The Meaning of Correct Tilawah Allah said,

دین حق کا باطل سے سمجھوتہ جرم عظیم ہے آیت بالا کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ تجھ سے ہرگز راضی نہیں ہوں گے لہذا تو بھی انہیں چھوڑ اور رب کی رضا کے پیچھے لگ جا تو نے انہیں دعوت رسالت پہنچا دیں ۔ دین حق وہی ہے جو اللہ نے تجھے دیا ہے تو اس پر جم جا ۔ حدیث شریف میں ہے میری امت کی ایک جماعت حق پر جم کر دوسروں کے مقابلہ میں رہے گی اور غلبہ کے ساتھ رہے گی یہاں تک کہ قیامت آئے پھر اپنے نبی کو خطاب کر کے دھمکایا کہ ہرگز ان کی رضا مندی اور ان سے صلح جوئی کے لئے اپنے دین میں سست نہ ہونا ان کی طرف نہ جھکنا ان کی نہ ماننا فقہاء کرام نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ کفر ایک ہی مذہب ہے خواہ وہ یہود ہوں نصرانی ہوں یا کوئی اور ہوں اس لئے کہ ملت کا لفظ یہاں مفرد ہی رکھا جیسے اور جگہ ہے آیت ( لکم دینکم ولی دین ) تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین ہے اس استدلال پر اس مسئلہ کی بنا ڈالی ہے کہ مسلمان اور کفار آپس میں وارث نہیں ہو سکتے اور کفر آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہو سکتے ہیں گو وہ دونوں ایک ہی قسم کے کافر ہوں یا دو الگ الگ کفروں کے کافر ہوں ، امام شافعی اور امام ابو حنیفہ کا یہی مذہب ہے اور امام احمد سے بھی ایک روایت میں یہی قول منقول ہے اور دوسری روایت میں امام احمد کا اور امام مالک کا یہ قول مروی ہے کہ دو مختلف مذہب والے آپس میں ایک دوسرے کے وارث نہ ہوں ایک صحیح حدیث میں بھی یہی مضمون ہے واللہ اعلم ۔ حق تلاوت سے کیا مراد ہے؟ پھر فرمایا کہ جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وہ حق تلاوت ادا کرتے ہوئے پڑھتے ہیں ، قتادہ کہتے ہیں اس سے مراد یہود نصاریٰ ہیں اور روایت میں ہے کہ اس سے مراد اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمر فرماتے ہیں حق تلاوت یہ ہے کہ جنت کے ذکر کے وقت جنت کا سوال کیا جائے اور جہنم کے ذکر کے وقت اس سے پناہ مانگی جائے ابن مسعود فرماتے ہیں حلال و حرام کو جاننا کلمات کو ان کی جگہ رکھنا تغیر و تبدل نہ کرنا وغیرہ یہی تلاوت کا حق ادا کرنا ہے حسن بصری فرماتے ہیں کھلی آیتوں پر عمل کرنا متشابہ آیتوں پر ایمان لانا مشکلات کو علماء کے سامنے پیش کرنا حق تلاوت کے ساتھ پڑھنا ہے ابن عباس سے اس کا مطلب حق اتباع بجا لانا بھی مروی ہے پس تلاوت بمعنی اتباع ہے جیسے آیت ( وَالْقَمَرِ اِذَا تَلٰىهَا ) 91 ۔ الشمس:2 ) میں ایک مرفوع حدیث میں بھی اس کے یہی معنی مروی ہیں لیکن اس کے بعض راوی مجہول ہیں گو معنی ٹھیک ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری فرماتے ہیں قرآن کی اتباع کرنے والا جنت کے باغیچوں میں اترنے والا ہے ، حضرت عمر کی تفسیر کے مطابق یہ بھی مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی رحمت کے ذکر کی آیت پڑھتے تو ٹھہر جاتے اور اللہ سے رحمت طلب کرتے اور جب کبھی کسی عذاب کی آیت تلاوت فرماتے تو رک کر اللہ تعالیٰ سے پناہ طلب فرماتے ۔ پھر فرمایا اس پر ایمان یہی لوگ رکھتے ہیں یعنی جو اہل کتاب اپنی کتاب کی سوچ سمجھ کر تلاوت کرتے ہیں وہ قرآن پر ایمان لانے پر مجبور ہو جاتے ہیں جیسے اور جگہ آیت ( وَلَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِمْ مِّنْ رَّبِّهِمْ لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ ) 5 ۔ المائدہ:66 ) اگر یہ توراۃ انجیل پر اور اللہ کی ان کی طرف نازل کردہ چیز پر قائم رہتے تو ان کے اوپر سے اور پیروں تلے سے انہیں کھانا ملتا اور فرمایا اے اہل کتاب جب تک تم توراۃ و انجیل کو اور جو تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے اترا اس کو قائم نہ کر لو تب تک تم کسی چیز پر نہیں ہو ان کا قائم کرنا مستلزم ہے کہ تم اس میں جو ہے اسے سچا جانو اور اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کی صفات آپ کی تابعداری کا حکم آپ کی اتباع کی رغبت سب کچھ موجود ہے اور جگہ فرمایا جو لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم امی کی تابعداری کرتے ہیں جس رسول کا ذکر اور تصدیق اپنی کتاب توراۃ و انجیل میں بھی لکھا دیکھتے ہیں اور جگہ فرمایا آیت ( اِنَّ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖٓ اِذَا يُتْلٰى عَلَيْهِمْ يَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًا ) 17 ۔ الاسرآء:107 ) یعنی تم ایمان لاؤ یا نہ لاؤ جنہیں اس سے پہلے علم دیا گیا ہے ان پر جب اللہ کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں منہ کے بل سجدے میں گر پڑتے ہیں اور زبانی کہتے ہیں کہ ہمارا رب پاک ہے ہمارے رب کا وعدہ بالکل سچا اور صحیح ہے اور جگہ ہے جنہیں ہم نے اس سے اگلی کتاب دی ہے وہ بھی اس پر ایمان لاتے ہیں اور ان پر یہ پڑھی جاتی ہیں منہ کے بل سجدے میں گر پڑتے ہیں اور زبانی کہتے ہیں کہ ہمارا رب پاک ہے ہمارے رب کا وعدہ بالکل سچا اور صحیح ہے اور جگہ ہے جنہیں ہم نے اس سے اگلی کتاب دی ہے وہ بھی اس پر ایمان لاتے ہیں اور ان پر یہ پڑھی جاتی ہے تو اپنے ایمان کا اقرار کر کے کہتے ہیں ہم تو پہلے ہی سے ماننے والوں میں ہیں انہیں ان کے صبر کا دوہرا اجر دیا جائے گا یہ لوگ برائی کو بھلائی سے ہٹاتے ہیں اور ہمارے دیئے ہوئے میں سے دوسروں کو دیتے ہیں اور جگہ ارشاد ہے آیت ( وَقُلْ لِّلَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَالْاُمِّيّٖنَ ءَاَسْلَمْتُمْ ۭ فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اھْتَدَوْا ) 3 ۔ آل عمران:20 ) یعنی پڑھے لکھے اور بےپڑھے لوگوں سے کہ دو کہ کیا تم اسلام قبول کرتے ہو؟ اگر مان لیں تو راہ پر ہیں اور اگر نہ مانیں تو تجھ پر صرف تبلیغ ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو خوب دیکھ رہا ہے اسی لئے یہاں فرمایا کہ ساتھ کفر کرنے والے خسارے والے ہیں ، جیسے فرمایا آیت ( وَمَنْ يَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ ) 11 ۔ ہود:17 ) جو بھی اس کے ساتھ کفر کرے اس کے وعدے کی جگہ آگ ہے صحیح حدیث میں اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس امت میں سے جو بھی مجھے سنے خواہ یہودی ہو خواہ نصرانی ہو پھر مجھ پر ایمان نہ لائے وہ جہنم میں جائے گا ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

120۔ 1 یعنی یہودیت یا نصرانیت اختیار کرلے۔ 120۔ 2 جو اب اسلام کی صورت میں ہے، جس کی طرف نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دعوت دے رہے ہیں، نہ کہ تحریف شدہ یہودیت و نصرانیت۔ 120۔ 3 یہ اس بات پر وعید ہے کہ علم آجانے کے بعد بھی اگر محض ان پر خود غلط لوگوں کو خوش کرنے کے لئے ان کی پیروی کی تو تیرا کوئی مددگار نہ ہوگا۔ یہ دراصل امت محمدیہ کو تعلیم دی جا رہی ہے کہ اہل بدعت اور گمراہوں کی خوشنودی کے لئے وہ بھی ایسا کام نہ کریں، نہ دین میں مداخلت اور بےجا دخل کا ارتکاب کریں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٤٤] یہاں ملت سے مراد وہ دین نہیں جو تورات میں یا انجیل میں مذکور ہے بلکہ وہ دین ہے جس میں وہ سب خرافات بھی شامل ہیں جنہیں ان لوگوں نے دین سمجھ رکھا ہے اور وہ رنگ ڈھنگ بھی جو یہ لوگ اختیار کئے ہوئے ہیں۔ لہذا انہیں خوش رکھنے کی فکر چھوڑ دیجئے کیونکہ جب تک آپ عقائد و اعمال کی انہیں گمراہیوں میں مبتلا نہ ہوجائیں جن میں یہ پڑے ہوئے ہیں اس وقت تک ان کا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے راضی ہونا محال ہے۔ [ ١٤٥] اللہ کی طرف سے ہدایت ہر زمانہ میں اس زمانہ کے تقاضوں کے مطابق ہی آتی ہے اور وہی ہدایت معتبر ہوتی ہے جو اس زمانہ کا نبی لائے۔ سو اس دور میں اللہ کی ہدایت قرآن میں ہے اور اسی پر سب کو ایمان لانا ضروری ہے۔ چناچہ حضرت جابر (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تورات کا ایک نسخہ لے کر آئے اور کہنے لگے۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ تورات کا نسخہ ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چپ رہے۔ حضرت عمر (رض) نے اسے پڑھنا شروع کردیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ متغیر ہوتا چلا جا رہا تھا۔ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے یہ صورت حال دیکھ کر حضرت عمر (رض) سے کہا تجھے گم کرنے والیاں گم کریں کیا تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف نہیں دیکھتے ؟ حضرت عمر (رض) نے جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرہ میں غصہ کے آثار دیکھے تو کہنے لگے کہ && میں اللہ سے اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے غضب سے پناہ مانگتا ہوں۔ ہم اللہ کے پروردگار ہونے پر اسلام کے دین ہونے پر اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نبی ہونے پر راضی ہوئے۔ && یہ سن کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے۔ اگر موسیٰ آج موجود ہوں اور تم مجھ کو چھوڑ کر اس کی پیروی کرو تو گمراہ ہوجاؤ گے، اور اگر موسیٰ (علیہ السلام) خود زندہ ہوتے اور میری نبوت کا زمانہ پاتے تو ضرور میری پیروی کرتے۔ && (دارمی، بحوالہ مشکوٰۃ شریف، کتاب الایمان باب الاعتصام بالکتاب والسنتہ فصل ثالث) اور حضرت جابر (رض) ہی کی دوسری روایت کے یہ الفاظ ہیں کہ اگر موسیٰ زندہ ہوتے تو انہیں بھی میری اتباع کے علاوہ کوئی چارہ کار نہ ہوتا۔ && (احمد بیہقی فی شعب الایمان، بحوالہ مشکوٰۃ باب ایضاً فصل ثانی) [ ١٤٦] یہ تنبیہ بطریق فرض ہے۔ یعنی بالفرض آپ بھی ایسا کریں تو آپ کو اللہ سے کوئی بچا نہیں سکتا۔ گویا امت کو انتہائی تاکید سے آگاہ کیا جا رہا ہے کہ اگر کوئی شخص اسلام لانے کے بعد پھر سے یہودی یا عیسائی بن جائے تو اسکو اللہ کے عذاب سے کوئی نہ بچا سکے گا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اس آیت میں سخت وعید ہے کہ یہود و نصاریٰ کو خوش کرنے کے لیے بالفرض اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی ان کی خواہش کے پیچھے لگ جائیں تو ان کے بچنے کی بھی کوئی صورت نہیں۔ اس آیت کے مخاطب اگرچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں، مگر سمجھا یا امت کو گیا ہے : ” أَھْوَاءٌ“ ” ھَوًی “ کی جمع ہے، یعنی خواہش۔ یعنی اصل ہدایت وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے اور وہ قرآن و سنت ہے، ان لوگوں کے پاس اصل ہدایت نہیں، صرف حسب خواہش بنایا ہوا دین ہے۔ بدعت کو بھی ” ھَوٰی “ کہتے ہیں، کیونکہ وہ بھی دین میں اپنی خواہش کے مطابق بنا کر داخل کی جاتی ہے، جس طرح یہود و نصاریٰ کو خوش کرنے کے لیے ان کی اھواء و بدعات کی پیروی باعث ہلاکت ہے، اسی طرح کسی بھی بدعتی طبقے کو خوش کرنے کے لیے ان کی اھواء و بدعات کی پیروی بھی باعث ہلاکت ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Being anxious to save as many men as possible from misguidance and damnation, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) took great pains to convince the deniers, and was specially lenient and gentle with the People of the Book. In this verse, Allah informs him that their denial is not due to lack of convincing arguments and proofs, but is motivated by pride and self-satisfaction, for each of the two groups -- namely, the Jews and the Christians -- believes its own religion to be the only genuine religion, and there is no likelihood of pleasing either of them until and unless the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) accepts their religion. The religions of the Jews and the Christians, no doubt, were once genuine and had been instituted by Allah. But each had since distorted its religion out of shape; moreover, in sending down Islam as the final Shari&ah, Allah had abrogated all the earlier ones, and hence Islam had by now become the only Shari&ah acceptable to Allah, and in this sense the only genuine and veritable |"guidance|" possible in this last of all the ages. It is on account of the present distorted state of the earlier religions, and specially because of their having been abrogated by Divine Commandment that Verse 120 equates them with Ahwa& (the plural of Hawa) -- that is to say, personal desires, or individual opinions and baseless conjectures. Since the deniers are not willing to extricate themselves from their desires and fancies, it is not possible to please them without accepting their opinions -- a thing which a Messenger of Allah can never do. Should they affect a more friendly stance towards the Holy Prophet g , Allah asks him to say to them in plain and simple words that the only guidance worth the name is that which comes from Allah -- and He has already made it clear enough that Islam is now the only form of |"guidance|" acceptable to Him. Now, supposing just for the sake of supposing that he should accept their fancies in spite of having received the Truth from Allah through revelation, the verse informs him that in such a case he would find no helper to save him from divine wrath. Other verses of the Holy Qur&an, of course, definitely establish the fact that Allah is pleased and will always remain pleased with the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، and thus he can never be the object of divine wrath. Since divine wrath necessarily follows upon the acceptance of baseless fancies, it is logically impossible for him to follow the opinions of the Jews and the Christians, as divine pleasure and divine wrath cannot be combined with each other. On the other hand, they can never be pleased with him unless he follows their wishes. Consequently, one cannot expect from them any change of heart. Hence, the purport of Verse 120 is to advise the Holy Prophet not to worry too much about them.32 32. Let us add that the warning is apparently addressed to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، but is really intended for deniers, the purpose being to make them realize the dire consequences of their vanity. In fact, divine wrath is already visible, for the warning has been administered to them, not directly but obliquely, which shows the contempt in which Allah holds them -- Translator ]

خلاصہ تفسیر : اور کبھی خوش نہ ہوں گے آپ سے یہ یہود اور نہ یہ نصاریٰ جب تک کہ آپ (خدانخواستہ) ان کے مذہب کے (بالکل) پیرونہ ہوجائیں (اور یہ محال ہے پس ان کا راضی ہونا محال ہے اور اگر کبھی اس قسم کی بات ان کی زبان یا حال سے مترشح ہو تو) آپ (صاف) کہہ دیجئے کہ (بھائی) حقیقت میں ہدایت کا تو وہی راستہ ہے جس کو خدا نے (ہدایت کا راستہ) بتلایا ہے (اور دلائل سے ایسا راستہ صرف اسلام ہونا ثابت ہوچکا ہے پس راہ ہدایت وہی رہا) اور (یہ امر کہ آپ نعوذ باللہ ان کے مذہب کے پیرو ہوجائیں محال اس لئے ہے کہ اس سے ایک محال لازم آتا ہے کیونکہ) اگر آپ ان کے غلط خیالات کا اتباع کرنے لگیں (جس کو وہ اپنا مذہب سمجھتے ہیں مگر کچھ تحریف سے اور کچھ منسوخ ہوجانے سے اب وہ محض چند غلط خیالات کا مجموعہ رہ گیا ہے اور پھر اتباع بھی کیسی حالت میں کہ) علم (قطعی ثابت بالوحی) آچکنے کے بعد تو (ایسی حالت میں تو) آپ کا کوئی خدا سے بچانے والا نہ یار نکلے نہ مددگار (بلکہ توبہ توبہ پنجہ قہر میں گرفتار ہوجانا لازم آوے اور یہ لازم محال ہے کیونکہ دلائل قطعیہ سے دوام رضائے حق تعالیٰ آپ سے ثابت ہے پس غضب محال ہے اور اتباع مذکور سے یہ لازم آیا تھا اس لئے اتباع مذکور بھی محال اور بدون اتباع کے ان کا راضی ہونا غیر ممکن تو ایسے امر کی امید کرنے کی کوئی گنجائش نہیں اس لئے اس سے دل کو خالی کرلینا چاہئے) ۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَنْ تَرْضٰى عَنْكَ الْيَہُوْدُ وَلَا النَّصٰرٰى حَتّٰى تَتَّبِعَ مِلَّتَھُمْ۝ ٠ ۭ قُلْ اِنَّ ھُدَى اللہِ ھُوَالْہُدٰى۝ ٠ ۭ وَلَىِٕنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَاۗءَھُمْ بَعْدَ الَّذِيْ جَاۗءَكَ مِنَ الْعِلْمِ۝ ٠ ۙ مَا لَكَ مِنَ اللہِ مِنْ وَّلِيٍّ وَّلَا نَصِيْرٍ۝ ١٢٠ ؔ رضي يقال : رَضِيَ يَرْضَى رِضًا، فهو مَرْضِيٌّ ومَرْضُوٌّ. ورِضَا العبد عن اللہ : أن لا يكره ما يجري به قضاؤه، ورِضَا اللہ عن العبد هو أن يراه مؤتمرا لأمره، ومنتهيا عن نهيه، قال اللہ تعالی: رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ [ المائدة/ 119] ، وقال تعالی: لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، وقال تعالی: وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلامَ دِيناً [ المائدة/ 3] ، وقال تعالی: أَرَضِيتُمْ بِالْحَياةِ الدُّنْيا مِنَ الْآخِرَةِ [ التوبة/ 38] ، وقال تعالی: يُرْضُونَكُمْ بِأَفْواهِهِمْ وَتَأْبى قُلُوبُهُمْ [ التوبة/ 8] ، وقال عزّ وجلّ : وَلا يَحْزَنَّ وَيَرْضَيْنَ بِما آتَيْتَهُنَّ كُلُّهُنَ [ الأحزاب/ 51] ، والرِّضْوَانُ : الرّضا الکثير، ولمّا کان أعظم الرِّضَا رضا اللہ تعالیٰ خصّ لفظ الرّضوان في القرآن بما کان من اللہ تعالی: قال عزّ وجلّ : وَرَهْبانِيَّةً ابْتَدَعُوها ما كَتَبْناها عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغاءَ رِضْوانِ اللَّهِ [ الحدید/ 27] ، وقال تعالی: يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْواناً [ الفتح/ 29] ، وقال : يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَرِضْوانٍ [ التوبة/ 21] ، وقوله تعالی: إِذا تَراضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ [ البقرة/ 232] ، أي : أظهر كلّ واحد منهم الرّضا بصاحبه ورَضِيَهُ. ( ر ض و ) رضی ( س ) رضا فھو مرضی و مرضو ۔ راضی ہونا ۔ واضح رہے کہ بندے کا اللہ تعالیٰ سے راضی ہونا یہ ہے کہ جو کچھ قضائے الہیٰ سے اس پر وارد ہو وہ اسے خوشی سے بر داشت کرے اور اللہ تعالیٰ کے بندے پر راضی ہونے کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ اسے اپنے اوامر کا بجا لانے والا اور منہیات سے رکنے والا پائے چناچہ قرآن میں ہے : ۔ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ [ المائدة/ 119] اللہ تعالیٰ ان سے خوش اور وہ اللہ تعالیٰ سے خوش ۔ لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] تو اللہ تعالیٰ ضرور ان مسلمانوں سے خوش ہوتا ہے وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلامَ دِيناً [ المائدة/ 3] اور ہم نے تمہارے لئے دین اسلام کو پسند فرمایا : ۔ أَرَضِيتُمْ بِالْحَياةِ الدُّنْيا مِنَ الْآخِرَةِ [ التوبة/ 38] کیا آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی پر قناعت کر بیٹھے ہو ۔ يُرْضُونَكُمْ بِأَفْواهِهِمْ وَتَأْبى قُلُوبُهُمْ [ التوبة/ 8] اپنی زبانی باتوں سے تو تم کو رضا مند کردیتے ہیں اور ان کے دل ہیں کہ ان باتوں سے انکار کرتے ہیں ۔ وَلا يَحْزَنَّ وَيَرْضَيْنَ بِما آتَيْتَهُنَّ كُلُّهُنَ [ الأحزاب/ 51] اور آزردہ خاطر نہ ہوں گی اور جو کچھ ( بھی ) تم ان کو دوگے وہ ( لے کر سب ) راضی ہوجائیں گی ۔ الرضوان رضائے کثیر یعنی نہایت خوشنودی کو کہتے ہیں ۔ چونکہ سب سے بڑی رضا اللہ تعالیٰ کی رضا مندی ہے اس لئے قرآن پاک میں خاص کر رضا الہی ٰ کے لئے رضوان کا لفظ استعما ل ہوا ہے ۔ جیسا کہ فرمایا : ۔ وَرَهْبانِيَّةً ابْتَدَعُوها ما كَتَبْناها عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغاءَ رِضْوانِ اللَّهِ [ الحدید/ 27] اور ( لذت ) دنیا کا چھوڑ بیٹھنا جس کو انہوں نے از خود ایجاد کیا تھا ہم نے وہ طریق ان پر فرض نہیں کیا تھا مگر ( ہاں ) انہوں نے اس کو خدا ( ہی ) کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے ایجاد کیا تھا ۔ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْواناً [ الفتح/ 29] اور خدا کے فضل اور خوشنودی کی طلب گاری میں لگے رہتے ہیں ۔ يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَرِضْوانٍ [ التوبة/ 21] ان کا پروردگار ان کو اپنی مہربانی اور رضامندی کی خوشخبری دیتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔۔ : إِذا تَراضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ [ البقرة/ 232] ، جب جائز طور پر آپس میں وہ راضی ہوجائیں ۔ میں تراضوا باب تفاعل سے ہے جس کے معنی باہم اظہار رضامندی کے ہیں ، حَتَّى حَتَّى حرف يجرّ به تارة كإلى، لکن يدخل الحدّ المذکور بعده في حکم ما قبله، ويعطف به تارة، ويستأنف به تارة، نحو : أكلت السمکة حتی رأسها، ورأسها، ورأسها، قال تعالی: لَيَسْجُنُنَّهُ حَتَّى حِينٍ [يوسف/ 35] ، وحَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ [ القدر/ 5] . ويدخل علی الفعل المضارع فينصب ويرفع، وفي كلّ واحد وجهان : فأحد وجهي النصب : إلى أن . والثاني : كي . وأحد وجهي الرفع أن يكون الفعل قبله ماضیا، نحو : مشیت حتی أدخل البصرة، أي : مشیت فدخلت البصرة . والثاني : يكون ما بعده حالا، نحو : مرض حتی لا يرجونه، وقد قرئ : حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ [ البقرة/ 214] ، بالنصب والرفع «1» ، وحمل في كلّ واحدة من القراء تین علی الوجهين . وقیل : إنّ ما بعد «حتی» يقتضي أن يكون بخلاف ما قبله، نحو قوله تعالی: وَلا جُنُباً إِلَّا عابِرِي سَبِيلٍ حَتَّى تَغْتَسِلُوا [ النساء/ 43] ، وقد يجيء ولا يكون کذلک نحو ما روي : «إنّ اللہ تعالیٰ لا يملّ حتی تملّوا» «2» لم يقصد أن يثبت ملالا لله تعالیٰ بعد ملالهم حتی ٰ ( حرف ) کبھی تو الیٰ کی طرح یہ حرف جر کے طور پر استعمال ہوتا ہے لیکن اس کے مابعد غایت ماقبل کے حکم میں داخل ہوتا ہے اور کبھی عاطفہ ہوتا ہے اور کبھی استیناف کا فائدہ دیتا ہے ۔ جیسے اکلت السملۃ حتی ٰ راسھا ( عاطفہ ) راسھا ( جارہ ) راسھا ( مستانفہ قرآن میں ہے ليَسْجُنُنَّهُ حَتَّى حِينٍ [يوسف/ 35] کچھ عرصہ کے لئے نہیں قید ہی کردیں ۔ وحَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ [ القدر/ 5] طلوع صبح تک ۔۔۔۔ جب یہ فعل مضارع پر داخل ہو تو اس پر رفع اور نصب دونوں جائز ہوتے ہیں اور ان میں ہر ایک کی دو وجہ ہوسکتی ہیں نصب کی صورت میں حتی بمعنی (1) الی آن یا (2) گی ہوتا ہے اور مضارع کے مرفوع ہونے ایک صورت تو یہ ہے کہ حتی سے پہلے فعل ماضی آجائے جیسے ؛۔ مشیت حتی ادخل ۔ البصرۃ ( یعنی میں چلا حتی کہ بصرہ میں داخل ہوا ) دوسری صورت یہ ہے کہ حتیٰ کا مابعد حال واقع ہو جیسے مرض حتی لایرجون و دو بیمار ہوا اس حال میں کہ سب اس سے ناامید ہوگئے ) اور آیت کریمۃ ؛۔ حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ [ البقرة/ 214] یہاں تک کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پکار اٹھے ۔ میں یقول پر رفع اور نصب دونوں منقول ہیں اور ان ہر دو قرآت میں دونوں معنی بیان کئے گئے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ حتیٰ کا مابعد اس کے ماقبل کے خلاف ہوتا ہے ۔ جیسا ک قرآن میں ہے : وَلا جُنُباً إِلَّا عابِرِي سَبِيلٍ حَتَّى تَغْتَسِلُوا [ النساء/ 43] ۔ اور جنابت کی حالت میں بھی نماز کے پاس نہ جاؤ ) جب تک کہ غسل ( نہ ) کرو ۔ ہاں اگر بحالت سفر رستے چلے جارہے ہو اور غسل نہ کرسکو تو تیمم سے نماز پڑھ لو ۔ مگر کبھی اس طرح نہیں بھی ہوتا جیسے مروی ہے ۔ اللہ تعالیٰ لاتمل حتی تملو ا ۔ پس اس حدیث کے یہ معنی نہیں ہیں کہ تمہارے تھک جانے کے بعد ذات باری تعالیٰ بھی تھک جاتی ہے ۔ بلکہ معنی یہ ہیں کہ ذات باری تعالیٰ کو کبھی ملال لاحق نہیں ہوتا ۔ تبع يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلک قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] ، ، قالَ يا قَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِينَ اتَّبِعُوا مَنْ لا يَسْئَلُكُمْ أَجْراً [يس/ 20- 21] ، فَمَنِ اتَّبَعَ هُدايَ [ طه/ 123] ، اتَّبِعُوا ما أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ [ الأعراف/ 3] ، وَاتَّبَعَكَ الْأَرْذَلُونَ [ الشعراء/ 111] ، وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبائِي [يوسف/ 38] ، ثُمَّ جَعَلْناكَ عَلى شَرِيعَةٍ مِنَ الْأَمْرِ فَاتَّبِعْها وَلا تَتَّبِعْ أَهْواءَ الَّذِينَ لا يَعْلَمُونَ [ الجاثية/ 18] ، وَاتَّبَعُوا ما تَتْلُوا الشَّياطِينُ [ البقرة/ 102] ( ت ب ع) تبعہ واتبعہ کے معنی کے نقش قدم پر چلنا کے ہیں یہ کبھی اطاعت اور فرمانبرداری سے ہوتا ہے جیسے فرمایا ؛ فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] تو جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ غمناک ہونگے قالَ يا قَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِينَ اتَّبِعُوا مَنْ لا يَسْئَلُكُمْ أَجْراً [يس/ 20- 21] کہنے لگا کہ اے میری قوم پیغمبروں کے پیچھے چلو ایسے کے جو تم سے صلہ نہیں مانگتے اور وہ سیدھے رستے پر ہیں ۔ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدايَ [ طه/ 123] تو جو شخص میری ہدایت کی پیروی کرے گا ۔ اتَّبِعُوا ما أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ [ الأعراف/ 3] جو ( کتاب ) تم پر تمہارے پروردگار کے ہاں سے نازل ہوئی ہے اس کی پیروی کرو ۔ وَاتَّبَعَكَ الْأَرْذَلُونَ [ الشعراء/ 111] اور تمہارے پیرو تو ذلیل لوگ کرتے ہیں ۔ وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبائِي [يوسف/ 38] اور اپنے باپ دادا ۔۔۔ کے مذہب پر چلتا ہوں ثُمَّ جَعَلْناكَ عَلى شَرِيعَةٍ مِنَ الْأَمْرِ فَاتَّبِعْها وَلا تَتَّبِعْ أَهْواءَ الَّذِينَ لا يَعْلَمُونَ [ الجاثية/ 18] پھر ہم نے تم کو دین کے کھلے رستے پر ( قائم ) کردیا ہے تو اسیی ( راستے ) پر چلے چلو اور نادانوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلنا ۔ وَاتَّبَعُوا ما تَتْلُوا الشَّياطِينُ [ البقرة/ 102] اور ان ( ہزلیات ) کے پیچھے لگ گئے جو ۔۔۔ شیاطین پڑھا کرتے تھے ۔ ملل المِلَّة کالدّين، وهو اسم لما شرع اللہ تعالیٰ لعباده علی لسان الأنبیاء ليتوصّلوا به إلى جوار الله، والفرق بينها وبین الدّين أنّ الملّة لا تضاف إلّا إلى النّبيّ عليه الصلاة والسلام الذي تسند إليه . نحو : فَاتَّبِعُوا مِلَّةَ إِبْراهِيمَ [ آل عمران/ 95] ، وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبائِي [يوسف/ 38] ولا تکاد توجد مضافة إلى الله، ولا إلى آحاد أمّة النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم، ولا تستعمل إلّا في حملة الشّرائع دون آحادها، ( م ل ل ) الملۃ ۔ دین کی طرح ملت بھی اس دستور نام ہے جو اللہ تعالیٰ نے انبیاء کی زبان پر بندوں کے لئے مقرر فرمایا تا کہ اس کے ذریعہ وہ قریب خدا وندی حاصل کرسکیں ۔ دین اور ملت میں فرق یہ ہے کی اضافت صرف اس نبی کی طرف ہوتی ہے جس کا وہ دین ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ فَاتَّبِعُوا مِلَّةَ إِبْراهِيمَ [ آل عمران/ 95] پس دین ابراہیم میں پیروی کرو ، وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبائِي [يوسف/ 38] اور اپنے باپ دادا کے مذہب پر چلتا ہوں ۔ اور اللہ تعالیٰ یا کسی اذا دامت کی طرف اسکی اضافت جائز نہیں ہے بلکہ اس قوم کی طرف حیثیت مجموعی مضاف ہوتا ہے جو اس کے تابع ہوتی ہے ۔ هدى الهداية دلالة بلطف، وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه : الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل، والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى [ طه/ 50] . الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة الأنبیاء، وإنزال القرآن ونحو ذلك، وهو المقصود بقوله تعالی: وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا [ الأنبیاء/ 73] . الثالث : التّوفیق الذي يختصّ به من اهتدی، وهو المعنيّ بقوله تعالی: وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] ، وقوله : وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ [ التغابن/ 11] الرّابع : الهداية في الآخرة إلى الجنّة المعنيّ بقوله : سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5] ، وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43]. ( ھ د ی ) الھدایتہ کے معنی لطف وکرم کے ساتھ کسی کی رہنمائی کرنے کے ہیں۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے چار طرف سے ہدایت کیا ہے ۔ ( 1 ) وہ ہدایت ہے جو عقل وفطانت اور معارف ضروریہ کے عطا کرنے کی ہے اور اس معنی میں ہدایت اپنی جنس کے لحاظ سے جمع مکلفین کا و شامل ہے بلکہ ہر جاندار کو حسب ضرورت اس سے بہرہ ملا ہے ۔ چناچہ ارشاد ہے : ۔ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى[ طه/ 50] ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر مخلوق کا اس کی ( خاص طرح کی ) بناوٹ عطا فرمائی پھر ( ان کی خاص اغراض پورا کرنے کی ) راہ دکھائی ۔ ( 2 ) دوسری قسم ہدایت کی وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے پیغمبر بھیج کر اور کتابیں نازل فرما کر تمام انسانوں کو راہ تجارت کی طرف دعوت دی ہے چناچہ ایت : ۔ وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا[ الأنبیاء/ 73] اور ہم نے بنی اسرائیل میں سے ( دین کے ) پیشوا بنائے تھے جو ہمارے حکم سے ( لوگوں کو ) ہدایت کرتے تھے ۔ میں ہدایت کے یہی معنی مراد ہیں ۔ ( 3 ) سوم بمعنی توفیق خاص ایا ہے جو ہدایت یافتہ لوگوں کو عطا کی جاتی ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] جو لوگ ، وبراہ ہیں قرآن کے سننے سے خدا ان کو زیادہ ہدایت دیتا ہے ۔ ۔ ( 4 ) ہدایت سے آخرت میں جنت کی طرف راہنمائی کرنا مراد ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5]( بلکہ ) وہ انہیں ( منزل ) مقصود تک پہنچادے گا ۔ اور آیت وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43] میں فرمایا ۔ هوى الْهَوَى: ميل النفس إلى الشهوة . ويقال ذلک للنّفس المائلة إلى الشّهوة، وقیل : سمّي بذلک لأنّه يَهْوِي بصاحبه في الدّنيا إلى كلّ داهية، وفي الآخرة إلى الهَاوِيَةِ ، وَالْهُوِيُّ : سقوط من علو إلى سفل، وقوله عزّ وجلّ : فَأُمُّهُ هاوِيَةٌ [ القارعة/ 9] قيل : هو مثل قولهم : هَوَتْ أمّه أي : ثکلت . وقیل : معناه مقرّه النار، والْهَاوِيَةُ : هي النار، وقیل : وَأَفْئِدَتُهُمْ هَواءٌ [إبراهيم/ 43] أي : خالية کقوله : وَأَصْبَحَ فُؤادُ أُمِّ مُوسی فارِغاً [ القصص/ 10] وقد عظّم اللہ تعالیٰ ذمّ اتّباع الهوى، فقال تعالی: أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلهَهُ هَواهُ [ الجاثية/ 23] ، وَلا تَتَّبِعِ الْهَوى[ ص/ 26] ، وَاتَّبَعَ هَواهُ [ الأعراف/ 176] وقوله : وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْواءَهُمْ [ البقرة/ 120] فإنما قاله بلفظ الجمع تنبيها علی أنّ لكلّ واحد هوى غير هوى الآخر، ثم هوى كلّ واحد لا يتناهى، فإذا اتّباع أهوائهم نهاية الضّلال والحیرة، وقال عزّ وجلّ : وَلا تَتَّبِعْ أَهْواءَ الَّذِينَ لا يَعْلَمُونَ [ الجاثية/ 18] ، كَالَّذِي اسْتَهْوَتْهُ الشَّياطِينُ [ الأنعام/ 71] أي : حملته علی اتّباع الهوى. ( ھ و ی ) الھوی ( س ) اس کے معنی خواہشات نفسانی کی طرف مائل ہونے کے ہیں اور جو نفساتی خواہشات میں مبتلا ہو اسے بھی ھوی کہدیتے ہیں کیونکہ خواہشات نفسانی انسان کو اس کے شرف ومنزلت سے گرا کر مصائب میں مبتلا کردیتی ہیں اور آخر ت میں اسے ھاویۃ دوزخ میں لے جاکر ڈال دیں گی ۔ الھوی ( ض ) کے معنی اوپر سے نیچے گر نے کے ہیں اور آیت کریمہ : ۔ فَأُمُّهُ هاوِيَةٌ [ القارعة/ 9] اسکا مرجع ہاویہ ہے : ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ یہ ھوت انہ کیطرف ایک محاورہ ہے اور بعض کے نزدیک دوزخ کے ایک طبقے کا نام ہے اور آیت کے معنی یہ ہیں کہ اسکا ٹھکانا جہنم ہے اور بعض نے آیت وَأَفْئِدَتُهُمْ هَواءٌ [إبراهيم/ 43] اور ان کے دل مارے خوف کے ( ہوا ہو رہے ہوں گے ۔ میں ھواء کے معنی خالی یعنی بےقرار کئے ہیں جیسے دوسری جگہ فرمایا : ۔ وَأَصْبَحَ فُؤادُ أُمِّ مُوسی فارِغاً [ القصص/ 10] موسیٰ کی ماں کا دل بےقرار ہوگیا ۔ اور اللہ تعالیٰ نے قرآن میں خواہشات انسانی کی اتباع کی سخت مذمت کی ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلهَهُ هَواهُ [ الجاثية/ 23] بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو معبود بنا رکھا ہے ولا تَتَّبِعِ الْهَوى[ ص/ 26] اور خواہش کی پیروی نہ کرنا ۔ وَاتَّبَعَ هَواهُ [ الأعراف/ 176] اور وہ اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہے ۔ اور آیت : ۔ وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْواءَهُمْ [ البقرة/ 120] اگر تم ان کی خواہشوں پر چلو گے ۔ میں اھواء جمع لاکر بات پت تنبیہ کی ہے کہ ان میں سے ہر ایک کی خواہش دوسرے سے مختلف اور جدا ہے اور ایہ ایک کی خواہش غیر متنا ہی ہونے میں اھواء کا حکم رکھتی ہے لہذا ایسی خواہشات کی پیروی کرنا سراسر ضلالت اور اپنے آپ کو درطہ حیرت میں ڈالنے کے مترادف ہے ۔ نیز فرمایا : ۔ وَلا تَتَّبِعْ أَهْواءَ الَّذِينَ لا يَعْلَمُونَ [ الجاثية/ 18] اور نادانوں کی خواہش کے پیچھے نہ چلنا ۔ وَلا تَتَّبِعُوا أَهْواءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوا [ المائدة/ 77] اور اس قوم کی خواہشوں پر مت چلو ( جو تم سے پہلے ) گمراہ ہوچکے ہیں ۔ قُلْ لا أَتَّبِعُ أَهْواءَكُمْ قَدْ ضَلَلْتُ [ الأنعام/ 56] ( ان لوگوں سے ) کہدو کہ میں تمہاری خواہشوں پر نہیں چلتا ۔ ایسا کروں میں گمراہ ہوچکا ہوں گا ۔ وَلا تَتَّبِعْ أَهْواءَهُمْ وَقُلْ آمَنْتُ بِما أَنْزَلَ اللَّهُ [ الشوری/ 15] اور ان ( یہود ونصاریٰ کی کو اہشوں پر مت چلو اور ان سے صاف کہدو کہ میرا تو اس پر ایمان ہے ۔ جو خدا نے اتارا ۔ وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَواهُ بِغَيْرِ هُدىً مِنَ اللَّهِ [ القصص/ 50] اور اس سے زیادہ وہ کون گمراہ ہوگا جو خدا کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے چلے ۔ الھوی ( بفتح الہا ) کے معنی پستی کی طرف اترنے کے ہیں ۔ اور اس کے بالمقابل ھوی ( بھم الہا ) کے معنی بلندی پر چڑھنے کے ہیں ۔ شاعر نے کہا ہے ( الکامل ) ( 457 ) یھوی مکار مھا ھوی الاجمال اس کی تنگ گھائیوں میں صفرہ کیطرح تیز چاہتا ہے ۔ الھواء آسمان و زمین فضا کو کہتے ہیں اور بعض نے آیت : ۔ وَأَفْئِدَتُهُمْ هَواءٌ [إبراهيم/ 43] اور ان کے دل مارے خوف کے ہوا ہور رہے ہوں گے ۔ کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے یعنی بےقرار ہوتے ہیں ھواء کی طرح ہوں گے ۔ تھا ویٰ ( تفاعل ) کے معنی ایک دوسرے کے پیچھے مھروۃ یعنی گڑھے میں گرنے کے ہیں ۔ اھواء اسے فضا میں لے جا کر پیچھے دے مارا ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَالْمُؤْتَفِكَةَ أَهْوى [ النجم/ 53] اور اسی نے الٹی بستیوں کو دے پئکا ۔ استھوٰی کے معنی عقل کو لے اڑنے اور پھسلا دینے کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ كَالَّذِي اسْتَهْوَتْهُ الشَّياطِينُ [ الأنعام/ 71] جیسے کسی کی شیاطین ( جنات ) نے ۔۔۔۔۔۔۔ بھلا دیا ہو ۔ جاء جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ، ( ج ی ء ) جاء ( ض ) جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ اتیان سے زیادہ عام ہے کیونکہ اتیان کا لفط خاص کر کسی چیز کے بسہولت آنے پر بولا جاتا ہے نیز اتبان کے معنی کسی کام مقصد اور ارادہ کرنا بھی آجاتے ہیں گو اس کا حصول نہ ہو ۔ لیکن مجییء کا لفظ اس وقت بولا جائیگا جب وہ کام واقعہ میں حاصل بھی ہوچکا ہو نیز جاء کے معنی مطلق کسی چیز کی آمد کے ہوتے ہیں ۔ خواہ وہ آمد بالذات ہو یا بلا مر اور پھر یہ لفظ اعیان واعراض دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ اور اس شخص کے لئے بھی بولا جاتا ہے جو کسی جگہ یا کام یا وقت کا قصد کرے قرآن میں ہے :َ وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آپہنچا ۔ ولي والوَلَايَةُ : تَوَلِّي الأمرِ ، وقیل : الوِلَايَةُ والوَلَايَةُ نحو : الدِّلَالة والدَّلَالة، وحقیقته : تَوَلِّي الأمرِ. والوَلِيُّ والمَوْلَى يستعملان في ذلك كلُّ واحدٍ منهما يقال في معنی الفاعل . أي : المُوَالِي، وفي معنی المفعول . أي : المُوَالَى، يقال للمؤمن : هو وَلِيُّ اللهِ عزّ وجلّ ولم يرد مَوْلَاهُ ، وقد يقال : اللهُ تعالیٰ وَلِيُّ المؤمنین ومَوْلَاهُمْ ، فمِنَ الأوَّل قال اللہ تعالی: اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا [ البقرة/ 257] ، إِنَّ وَلِيِّيَ اللَّهُ [ الأعراف/ 196] ، وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ [ آل عمران/ 68] ، ذلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا[ محمد/ 11] ، نِعْمَ الْمَوْلى وَنِعْمَ النَّصِيرُ [ الأنفال/ 40] ، وَاعْتَصِمُوا بِاللَّهِ هُوَ مَوْلاكُمْ فَنِعْمَ الْمَوْلى[ الحج/ 78] ، قال عزّ وجلّ : قُلْ يا أَيُّهَا الَّذِينَ هادُوا إِنْ زَعَمْتُمْ أَنَّكُمْ أَوْلِياءُ لِلَّهِ مِنْ دُونِ النَّاسِ [ الجمعة/ 6] ، وَإِنْ تَظاهَرا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلاهُ [ التحریم/ 4] ، ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِ [ الأنعام/ 62] ( و ل ی ) الولاء والتوالی الوالایتہ ( بکسر الواؤ ) کے معنی نصرت اور والایتہ ( بفتح الواؤ ) کے معنی کسی کام کا متولی ہونے کے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ دلالتہ ودلالتہ کی طرح ہے یعنی اس میں دولغت ہیں ۔ اور اس کے اصل معنی کسی کام کا متولی ہونے کے ہیں ۔ الوالی ولمولی ۔ یہ دونوں کبھی اسم فاعل یعنی موال کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں اور کبھی اسم مفعول یعنی موالی کے معنی میں آتے ہیں اور مومن کو ولی اللہ تو کہہ سکتے ہیں ۔ لیکن مولی اللہ کہنا ثابت نہیں ہے ۔ مگر اللہ تعالیٰٰ کے متعلق ولی المومنین ومولاھم دونوں طرح بول سکتے ہیں ۔ چناچہ معنی اول یعنی اسم فاعل کے متعلق فرمایا : ۔ اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا [ البقرة/ 257] جو لوگ ایمان لائے ان کا دوست خدا ہے إِنَّ وَلِيِّيَ اللَّهُ [ الأعراف/ 196] میرا مددگار تو خدا ہی ہے ۔ وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ [ آل عمران/ 68] اور خدا مومنوں کا کار ساز ہے ۔ ذلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا[ محمد/ 11] یہ اسلئے کہ جو مومن ہیں ان کا خدا کار ساز ہے ۔ نِعْمَ الْمَوْلى وَنِعْمَ النَّصِيرُ [ الأنفال/ 40] خوب حمائتی اور خوب مددگار ہے ۔ وَاعْتَصِمُوا بِاللَّهِ هُوَ مَوْلاكُمْ فَنِعْمَ الْمَوْلى[ الحج/ 78] اور خدا کے دین کی رسی کو مضبوط پکڑے رہو وہی تمہارا دوست ہے اور خوب دوست ہے ۔ اور ودسرے معنی یعنی اسم مفعول کے متعلق فرمایا : ۔ قُلْ يا أَيُّهَا الَّذِينَ هادُوا إِنْ زَعَمْتُمْ أَنَّكُمْ أَوْلِياءُ لِلَّهِ مِنْ دُونِ النَّاسِ [ الجمعة/ 6] کہدو کہ اے یہود اگر تم کو یہ دعوٰی ہو کہ تم ہی خدا کے دوست ہو اور لوگ نہیں ۔ وَإِنْ تَظاهَرا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلاهُ [ التحریم/ 4] اور پیغمبر ( کی ایزا ) پر باہم اعانت کردگی تو خدا ان کے حامی اور ودست دار ہیں ۔ ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِ [ الأنعام/ 62] پھر قیامت کے تمام لوگ اپنے مالک پر حق خدائے تعالیٰ کے پاس واپس بلائے جائیں گے ۔ نصر النَّصْرُ والنُّصْرَةُ : العَوْنُ. قال تعالی: نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] وَما لَهُمْ فِي الْأَرْضِ مِنْ وَلِيٍّ وَلا نَصِيرٍ [ التوبة/ 74] ، وَكَفى بِاللَّهِ وَلِيًّا وَكَفى بِاللَّهِ نَصِيراً [ النساء/ 45] ، ما لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلا نَصِيرٍ [ التوبة/ 116] ( ن ص ر ) النصر والنصر کے معنی کسی کی مدد کرنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] خدا کی طرف سے مدد نصیب ہوگی اور فتح عنقریب ہوگی إِذا جاءَ نَصْرُ اللَّهِ [ النصر/ 1] جب اللہ کی مدد آپہنچی

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٢٠) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مدینہ منورہ کے یہودی اور نجران کے عیسائی کبھی بھی خوش نہ ہوں گے یہاں تک کہ آپ ان کے دین اور قبلہ کا اتباع نہ کرلیں، اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ فرما دیجئے کہ اللہ تعالیٰ کا دین اسلام اور اس کا قبلہ وہ بیت اللہ ہے۔ اب اگر اس چیز کے بیان کے بعد کہ اللہ تعالیٰ کا دین اسلام اور اس کا قبلہ کعبہ ہے، آپ ان کے دین اور قبلہ کا اتباع کریں گے تو عذاب الہی سے بچانے کے اندر نہ کوئی قریب والا آپ کو نفع پہنچا سکے گا اور نہ کوئی مددگار عذاب کو روک سکے گا۔ شان نزول : (آیت) ” ولن ترضی “۔ (الخ) یہ آیت ثعلبی (رح) نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ مدینہ منورہ کے یہودی اور نجران کے نصاری اس بات کی امید میں تھے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قبلہ کی طرف نماز پڑھیں، جب اللہ تعالیٰ نے قبلہ بیت اللہ کو بنادیا تو وہ اس بات سے مایوس ہوگئے کہ ان کے دین کی موافقت کی جائے اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ یہ حکم نازل فرمایا کہ یہود اور نصاری آپ سے ہرگز راضی نہیں ہوں گے۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح )

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٢٠ (وَلَنْ تَرْضٰی عَنْکَ الْیَہُوْدُ وَلا النَّصٰرٰی حَتّٰی تَتَّبِعَ مِلَّتَہُمْ ط) لہٰذا آپ ان سے امید منقطع کر لیجیے۔ اس لیے کہ زیادہ امید ہو تو پھر مایوسی ہوجاتی ہے۔ اقبال نے بندۂ مؤمن کے بارے میں بہت خوب کہا ہے : ع اس کی امیدیں قلیل ‘ اس کے مقاصد جلیل ! مقصد اونچا ہو ‘ لیکن امید قلیل رہنی چاہیے۔ اللہ چاہے گا تو ہوجائے گا ‘ نہیں چاہے گا تو نہیں ہوگا۔ بندۂ مؤمن کا کام اپنی حد تک اپنا فرض ادا کردینا ہے۔ اس سے زیادہ کی خواہش اگر اپنے دل میں پالیں گے تو کسی عجلت پسندی میں گرفتار ہوجائیں گے اور کسی راہ یسیر یا راہ قصیر (short cut) کے ذریعے منزل تک پہنچنے کی کوشش کریں گے اور اپنے آپ کو بھی برباد کرلیں گے۔ (قُلْ اِنَّ ہُدَی اللّٰہِ ہُوَ الْہُدٰی ط) ۔ جو اللہ نے بتلایا ہے وہی سیدھا راستہ ہے۔ (وَلَءِنِ اتَّبَعْتَ اَہْوَآءَ ‘ ہُمْ بَعْدَ الَّذِیْ جَآءَ ‘ کَ مِنَ الْعِلْمِلا) اگر بفرض محال آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی خواہشات کی پیروی کی کہ چلو کچھ لو کچھ دو کا معاملہ کرلو ‘ کچھ ان کی بات مانوکچھ اپنی بات منوا لو ‘ تو یہ طرز عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں قابل قبول نہ ہوگا۔ مکہ میں قریش کی طرف سے اس طرح کی پیشکش کی جاتی تھی کہ کچھ اپنی بات منوا لیجیے ‘ کچھ ہماری مان لیجیے ‘ compromise کرلیجیے ‘ اور اب مدینہ میں یہود کے ساتھ بھی یہی معاملہ تھا۔ چناچہ اس پر متنبہ کیا جا رہا ہے۔ ّ (مَا لَکَ مِنَ اللّٰہِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّلاَ نَصِیْرٍ ) (معاذ اللہ ! ) حق کی تلوار بالکل عریاں ہے۔ اللہ کا عدل ہر فرد کے لیے الگ نہیں ہے ‘ یہ فرد سے فرد تک بدلتا نہیں ہے۔ ایسے ہی ہر قوم اور ہر امت کے لیے قانون تبدیل نہیں ہوتا۔ ایسا نہیں ہے کہ کسی ایک قوم سے کوئی ایک معاملہ ہو اور دوسری قوم سے کوئی دوسرا معاملہ۔ اللہ کے اصول اور قوانین غیر مبدل ہیں۔ اس ضمن میں اس کی ایک سنت ہے جس کے بارے میں فرمایا : (فَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰہِ تَبْدِیْلًاج وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰہِ تَحْوِیْلًا ) (فاطر) پس تم اللہ کے طریقے میں ہرگز کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے ‘ اور تم اللہ کے طریقے کو ہرگز ٹلتا ہوا نہیں پاؤ گے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

121. The cause of their disconcertment with the Prophet (peace be on him) was not that they were earnest seekers after the Truth which the Prophet had failed to make clear to them. The real cause of their unhappiness was that he had not resorted to hypocrisy and trickery, in regard to religious matters, that unlike them he did not pursue self-interest and self-indulgence under the fagade of godliness and piety, that he did not twist religious principles and injunctions without scruple, as the Jews were wont to do in order to make them suit their desires and fancies, that he did not resort to the chicanery and duplicity which characterized the religious life of the Jews. As a result, it was no use trying to appease them. For unless the Muslims were prepared to assume the attitude and orientation of the Jews and to follow all their errors in belief and practice, there was no question of their being able to bring about any reconciliation with them.

سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :121 مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کی ناراضی کا سبب یہ تو ہے نہیں کہ وہ سچے طالبِ حق ہیں اور تم نے ان کے سامنے حق کو واضح کر نے میں کچھ کمی کی ہے ۔ وہ تو اس لیے تم سے ناراض ہیں کہ تم نے اللہ کی آیات اور اس کے دین کے ساتھ وہ منافقانہ اور بازی گرانہ طرزِ عمل کیوں اختیار نہ کیا ، خدا پرستی کے پردے میں وہ خود پرستی کیوں نہ کی ، دین کے اصول و احکام کو اپنے تخیلات یا اپنی خواہشات کے مطابق ڈھالنے میں اس دیدہ دلیری سے کیوں نہ کام لیا ، وہ ریاکاری اور گندم نمائی و جو فروشی کیوں نہ کی ، جو خود ان کا اپنا شیوہ ہے ۔ لہٰذا انہیں راضی کرنے کی فکر چھوڑ دو ، کیونکہ جب تک تم ان کے سے رنگ ڈھنگ نہ اختیار کر لو ، دین کے ساتھ وہی معاملہ نہ کرنے لگو ، جو خود یہ کرتے ہیں ، اور عقائد و اعمال کی اُنہیں گمراہیوں میں مُبتلا نہ ہو جاؤ ، جن میں یہ مبتلا ہیں ، اس وقت تک ان کا تم سے راضی ہونا محال ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

77: اگرچہ حضور رسالت مآب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ بات ناقابل تصور تھی کہ آپ کفار کی خواہشات کے پیچھے چلیں، لیکن اس آیت نے فرض محال کے طور پر یہ بات کہہ کر اصول یہ بتلادیا کہ اللہ کے نزدیک شخصیات کی اہمیت ان کی ذات کی وجہ سے نہیں ؛ بلکہ اللہ کی اطاعت کی وجہ سے ہوتی ہے، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ساری مخلوقات میں سب سے افضل اسی بنا پر ہیں کہ اللہ کے سب سے زیادہ فرمانبردار ہیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(120 ۔ 121) ۔ اہل کتاب ملنے جلنے کے وقت کبھی کبھی مسلمانوں سے ایسی باتیں ظاہر کرتے تھے جن سے توقع ہوتی تھی کہ شاید وہ راہ راست پر آجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے دل کا حال اپنے رسول کو جتلایا کہ وہ لوگ اپنے ہی دین کو راہ راست سمجھتے ہیں۔ اس لئے جب تک انسان ان جیسا نہ ہوجاوے وہ لوگ ہرگز رضا مند نہیں ہوسکتے اس واسطے ان لوگوں کی ظاہری باتیں دل سے نہیں ہیں محض اوپری ہیں اور یہ تو معلوم ہے کہ ان لوگوں نے اپنے دین کے اکثر احکام کو بدل ڈالا ہے اور کچھ احکام ان کے دین کے منسوخ ہوگئے ہیں۔ اس بات کے معلوم ہوجانے کے بعد بھی ان جیسا جو کوئی ہوجائے گا اس سے اللہ تعالیٰ مواخذہ کرے گا۔ اور اللہ کے مواخذہ سے اس کو کوئی نہ بچا سکے گھا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مخاطب ٹھہرا کر امت کے لوگوں کو یہ بات سنائی ہے۔ آخر آیت میں جو اہل کتاب راہ راست پر آگئے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں فرمایا کہ وہ کتاب الٰہی کو اس طرح پڑہتے ہیں جو پڑھنے کا حق ہے۔ مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ اس کی آیتوں میں کچھ ردوبدل نہیں کرتے بلکہ اس کے احکام کے پورے پابند ہیں۔ پھر فرمایا جو لوگ اس ڈھنگ پر نہیں وہ ٹوٹے میں ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ چند روزہ دنیا کے لئے انہوں نے اپنی عقبیٰ برباد کی۔ اس سے بڑھ کر اور کیا ٹوٹا ہوگا۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(2:120) لن یرضی۔ مضارع منفی تاکید بلن واحد مؤنث غائب۔ یہاں الھیود (اسم جمع) ” یہودیوں کی جماعت “ کے لئے آیا ہے۔ یہود ہرگز راضی نہیں ہوں گے۔ ولا النصاری۔ اور نہ ہی نصاری راضی ہوں گے۔ ملتہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کا دین۔ ان کا مذہب۔ ھدی اللہ۔ مضاف مضاف الیہ ۔ اللہ کی ہدایت۔ یعنی اللہ کی دی ہوئی ہدایت۔ الھدی۔ اسم معرف باللام۔ اصل ہدایت ۔ یعنی اللہ کی طرف سے دی گئی ہدایت ہی اصل ہدایت ہے۔ اور اللہ کی طرف سے دی گئی ہدایت ہی اسلام ہے۔ تو گویا اسلام ہی حق ہے (جس طرف یہ کفار بلاتے ہیں وہ حق نہیں ہے) لئن۔ لام اور ان سے مرکب ہے لام تاکید کا ہے اور ع ان شرطیہ۔ اتبعت۔ ماضی واحد مذکر حاضر اتباع (افتعال) مصدر۔ تو نے پیروی کی۔ تو نے اتباع کیا۔ اھواء ھم۔ اھواء جمع ہے ھوی کی۔ خواہشیں۔ ھوی خواہش نفسانی کو کہتے ہیں۔ امنواء مضاف ہم ضمیر جمع مذکر غائب مضاف الیہ۔ ان کی خواہشات۔ لئن اتبعت اھواء ھم بعد الذی جاء ک من العلم سارا جملہ شرط ہے اور اگلا جملہ ما لک من اللہ من ولی ولا نصیر۔ جواب شرط ہے۔ العلم۔ سے مراد یا تو وحی ہے یا دین ہے جس کا صحیح ہونا معلوم ہوچکا ۔ ترجمہ ہوگا۔ اگر آپ چلے ان کی خواہشوں پر بعد اس کے کہ آچکا آپ کے پاس علم تو آپ کے لئے نہ کوئی حمایتی ہے کہ اللہ سے بچالے اور نہ کوئی مددگار۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 اس آیت میں سخت وعید اور تہدید ہے کہ یہود و نصاری کو خوش کرنے کے لیے اگر تم نے انے مشن کو چھوڑ دیا تو سمجھ ہو کہ بس تمہارے لیے کوئی جائے پناہ نہیں ہوگی اس آیت کے مخاطب گو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں مگر پوری امت کے اہل علم حضرات کو ہدایت دی جا رہی ہے کہ وہ اہل بدعت اور بیروال مذاہب باطلہ کے پاس خاظر کے لیے سنت کی پیری میں کسی قسم کی مداہنت سے کام نہ لیں۔ (فتح القدیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اہل کفر اور یہود و نصاریٰ کے تمام کے تمام مطالبات بھی مان لیے جائیں تب بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے لہٰذا اے رسول ! آپ اپنا کام کرتے رہیں کیونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کا ہر مطالبہ پورا کرنے اور ہر حال میں انہیں راضی کرنے کے لیے نہیں بھیجا گیا۔ آپ حق کی شہادت اور ان کے برے کاموں کے انجام سے ڈراتے ہیں۔ ہدایت تو وہی لوگ پائیں گے جو کتاب اللہ کو اخلاص نیت کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ صحابہ کرام (رض) کو رہ رہ کر یہ خیال آتا تھا کہ اہل کتاب پڑھے لکھے اور اپنے دین پر قائم ہونے کے دعویدار ہونے کے باوجود رسالت مآب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان کیوں نہیں لاتے ؟ انہی کو تسلی دینے کے لیے براہ راست رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرتے ہوئے یہود و نصاریٰ کی فطرت خبیثہ کے بارے میں آگاہ کیا جا رہا ہے کہ یہ لوگ اس وقت تک آپ سے خوش نہیں ہوسکتے جب تک آپ لوگ اپنا دین چھوڑ کر ان کے دین کو قبول نہ کرلیں۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہدایت تو وہی ہے جس پر وہ قائم ہیں۔ اے نبی ! ان سے فرما دیجیے جسے تم ہدایت سمجھتے ہو وہ ہرگز ہدایت نہیں۔ ہدایت تو وہ ہے جس کی رہنمائی اور توفیق اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے۔ یہاں ہمیشہ کے لیے یہ اصول بیان کردیا کہ ہدایت وہ نہیں جس کو کوئی انسان ‘ قوم یا کوئی پارلیمنٹ متعین کرے بلکہ حقیقی ہدایت وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی صورت میں آپ پر نازل فرمایا ہے۔ اگر علم و معرفت کے باوجود آپ ان کی طرف جھک گئے تو یاد رکھیں کہ جن لوگوں کی حمایت اور خوشی کے لیے آپ ایسا کریں گے وہ تو در کنار کوئی بھی ذات کبریا کے سوا آپ کا خیر خواہ اور مددگار ثابت نہیں ہوگا۔ اس فرمان کا خلاصہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہدایت اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کو پیش نگاہ رکھنا چاہیے۔ اگر مسلمان دوسروں کو خوش کرنے کے لیے اپنا دین اور تہذیب چھوڑدیں گے تو اس طرح یہود و نصاریٰ تو وقتی طور پر خوش ہوں گے لیکن مسلمان اللہ تعالیٰ کی نصرت و حمایت سے محروم ہوجائیں گے۔ جو اللہ تعالیٰ کی نصرت و حمایت سے محروم ہوا اس کی کوئی مدد نہیں کرسکتا۔ اس کے ساتھ ہی اس بات کی وضاحت فرمائی جا رہی ہے کہ اہل کتاب میں وہی لوگ محمد عربی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت اور قرآن کی صداقت پر ایمان لائیں گے جو ذہنی تحفظات اور گروہی تعصبات سے بالا تر ہو کر تورات ‘ انجیل اور قرآن مجید پر ایمان لاتے ہیں۔ حصول ہدایت کا یہی وہ بنیادی اصول ہے جس کے لیے قرآن بار بار اس بات کی دعوت دیتا ہے۔ کہ اے دنیا جہاں کے لوگو ! کتاب ہدایت میں تدبر و تفکر کرو تاکہ تمہارے لیے ہدایت کا راستہ واضح اور آسان ہوجائے۔ جنہوں نے کتاب اللہ میں تدبر و تفکر سے اجتناب اور اس کے حقائق کا انکار کیا وہ بالآخر نقصان پائیں گئے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اے پیغمبر ! یہود ونصاریٰ آپ کے خلاف برسرپیکار ہیں گے ، آپ کے خلاف سازشیں کرتے رہیں گے ۔ کبھی آپ سے مصالحت نہ کریں گے اور نہ ہی کبھی آپ سے راضی ہوں گے ۔ الا یہ کہ آپ اپنے مشن کو چھوڑ دیں ، حق کو ترک کردیں ، جو یقین آپ کو حاصل ہے ، اسے خیرباد کہہ دیں اور یہ لوگ جس کجروی ، شرک اور جاہلی تصورات میں مبتلا ہیں اسے اختیار کرلیں ۔ جیسا کہ اس سے پہلے قریب ہی بیان ہوچکا ہے ۔ وَلَنْ تَرْضَى عَنْكَ الْيَهُودُ وَلا النَّصَارَى حَتَّى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ ” یہودی اور عیسائی تم سے ہرگز راضی نہ ہوں گے جب تک تم ان کے طریقے پر نہ چلنے لگو۔ “ یہ ہے وہ اصل سبب ان کے انکار حق کا ۔ یہ نہیں کہ شاید ان کے سامنے دلیل وبرہان پیش کرنے کے معاملے میں کچھ کمی کی گئی ہے ۔ نہ اس بات کی کمی ہے کہ وہ آپ کے راہ حق پر ہونے کے سلسلے میں مطمئن نہیں ہیں یا یہ کہ آپ کے پاس جو ہدایات آرہی ہیں وہ اللہ کی جانب سے نہیں آرہی ہیں ۔ آپ ان کی طرف جس قدر بھی آگے بڑھیں اور جس قدر بھی آپ ان سے محبت کریں ، ان میں سے کوئی چیز بھی آپ سے انہیں راضی نہیں کرسکتی ۔ یہ آپ سے صرف اسی صورت میں راضی ہوسکتے ہیں کہ آپ ان کی ملت اور ان کے دین کو اپنا لیں اور جو حق اور صداقت آپ کے پاس ہے اسے چھوڑدیں۔ یہ نظریہ حیات ہی ہے جس کے مظاہر ، ہر زمان ومکان میں نظر آتے ہیں ۔ یہود ونصاریٰ ہر دور اور ہر زمانے میں جو اسلام اور جماعت مسلمہ کے خلاف برسرپیکار نظر آتے ہیں ، وہ دراصل اسلام کے خلاف ایک نظریاتی جنگ لڑ رہے ہیں ، اور یہ نظریاتی جنگ اسلامی بلاک اور ان دومغربی بلاکوں کے درمیان جاری ہے ۔ اگرچہ یہ مغربی بلاک کبھی کبھار ایک دوسرے کے خلاف بھی برسرپیکار ہوجاتے ہیں ، لیکن یہ تخاصم ایسا ہی ہوتا ہے جیسا کہ ایک ملت کے دوفرقوں کے درمیان ہوتا ہے جبکہ اسلام اور مسلمانوں کے مقابلے میں یہ دونوں فرقے (یہود ونصاریٰ ) ہمیشہ متحد رہے ہیں ۔ اپنی حقیقت اور اصلیت کے اعتبار سے یہ ایک نظریاتی جنگ ہے ، لیکن یہودی اور عیسائی دنیا جو اسلام اور مسلم دشمنی میں غرق ہے ، اسے مختلف رنگ دیتی رہتی ہے ۔ اور اس کے اوپرمختلف قسم کے جھنڈے لہراتی رہتی ہے ۔ اور یہ کام وہ نہایت ہی بدباطنی ، مکاری اور فریب دہی کے ساتھ کرتی ہے ۔ اس سے قبل مسلمانوں کے خلاف نظریاتی جنگ لڑ کر یہ لوگ مسلمانوں کے اس والہانہ عشق کا تجربہ کرچکے ہیں جو انہیں اپنے دین اور نظریہ حیات کے ساتھ ہے ۔ چناچہ اسلام کے ان دشمنوں نے بڑی ہوشیاری کے ساتھ پلٹا کھاکر ، اپنی جدوجہد کا عنوان اور جھنڈا تبدیل کردیا ۔ اب انہوں نے نطریاتی جنگ کا اعلان کئے بغیر ہی اسلام کے خلاف لڑائی شروع کی ہے۔ کیونکہ نظریاتی جنگ میں وہ مسلمانوں کے جذبات اور جوش و خروش سے خائف تھے ۔ نیز اب یہ لوگ وطن ، اقتصادیات ، سیاسیات اور جنگی مراکز کے حصول اور ایسے ہی دوسرے مقاصد کے عنوان سے آگے بڑھے اور بعض غافل اور فریب خوردہ مسلمانوں کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ عقائد اور نظریات کی جنگ اب قصہ پارینہ بن چکی ہے ، جس کا کوئی مفہوم نہیں ہے۔ اب دین وعقیدے کی بناپر علم جہاد بلند کرنا اور معرکہ آرائی کرنا جائز نہیں ہے ۔ یہ حقیقت ان متعصب اور بطاہر شکست خوردہ دشمنان اسلام کی خصوصیت ۔ اور یہ روش انہوں نے محض اس لئے اختیار کی ہے کہ وہ مسلمانوں کے نظریاتی جوش اور غیظ وغضب سے محفوظ رہیں جبکہ اپنی نیت اور مقاصد کے اعتبار سے کٹر قسم کے صہیونی اور بین الاقوامی صلیبی (چاہے وہ عالمی کمیونسٹ ہی کیوں نہ ہوں) دراصل یہ سب لوگ اپنی راہ سے اس سنگ گراں (نظریہ اسلامی) کے ہٹانے میں مصروف ہیں ۔ تاریخ شاہد ہے کہ اس سے پہلے وہ ایک طویل عرصے تک اس سے ٹکر لیتے رہے مگر اسلام نے ان سب کو شکست دی۔ غرض یہ ایک نظریاتی جنگ ہے ، یہ نہ تو کسی قطعہ ارضی کا جھگڑا ہے ، نہ مفادات کا تنازع ہے اور نہ جنگی اہمیت کے مقامات پر نزاع ہے ۔ زر و زمین کے ان بوگس نعروں اور جھنڈوں کی کوئی اہمیت حاصل نہیں ہے ، یہ سب تدابیر دشمنان اسلام نے محض اس لئے اختیار کی ہیں تاکہ سادہ لوح مسلمانوں کو اس معرکے کی اصلیت اور اس کے حقیقی اغراض ومقاصد سے بیخبر رکھیں ۔ اور ہم ہیں کہ ان کے اس فریب کا شکار ہوگئے ہیں ۔ لہٰذا ان دشمنوں کو ملامت کرنے کی ضرورت نہیں ہے ، بلکہ ہمیں چاہئے کہ خود اپنے آپ کو ملامت کریں کیونکہ ہم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت اور اللہ تعالیٰ کی ہدایات کو ترک کردیا ہے جو اس نے نبی کو امت مسلمہ کی راہنمائی کے لئے دی تھیں جبکہ اللہ تعالیٰ سب سے سچا ہے اور ان کا فرمان صاف صاف یہ ہے۔ وَلَنْ تَرْضَى عَنْكَ الْيَهُودُ وَلا النَّصَارَى حَتَّى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ ” اور یہود ونصاریٰ آپ سے اس وقت تک راضی نہ ہوں گے جب تک آپ ان کے طریقے پر نہ چلنے لگیں ۔ “ وہ مسلمانوں سے صرف ایک یہی قیمت مانگتے ہیں ۔ اس کے سوا جو کچھ بھی ہو وہ انہیں قبول نہیں ہے۔۔ لیکن سچی ہدایت اور اٹل فیصلہ یہی ہے قُلْ إِنَّ هُدَى اللَّهِ هُوَ الْهُدَى” کہہ دیجئے کہ ہدایت بس وہی ہے جس کی طرف اللہ نے راہنمائی فرمائی۔ “ ہدایت وہی ہے ، ہدایت اس میں محصور و محدود ہے اور اس کے سوا سرے سے کوئی ہدایت ہی نہیں ہے ، لہٰذا الہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے صراط مستقیم کے علاوہ کسی راہ پر چل کر کامیابی حاصل نہیں کی جاسکتی ۔ لہٰذا اسے اختیار کرنا بےحد ضروری ہے ۔ اس سے کوئی چھٹکارا نہیں ہے ۔ ہم اس کے اندر کوئی ترمیم نہیں کرسکتے اور اس میں سے کسی چھوٹی یا بڑی چیز کے بارے میں کوئی سودے بازی کرسکتے ہیں ۔ یہ ہدایت پوری کی پوری قبول کرنی ہوگی جو چاہے قبول کرے اور جو چاہے انکار کردے لیکن خبردار کہ ایمان وہدایت کی خواہش یا ان کی محبت اور دوستی کہیں تمہیں اس راہ حق سے اور صراط مستقیم سے ہٹانہ دے ۔ وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُمْ بَعْدَ الَّذِي جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَكَ مِنَ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلا نَصِيرٍ ” اس علم کے بعد جو تمہارے پاس آچکا ہے تم نے ان کی خواہشات کی پیروی کی تو اللہ کی پکڑ سے بچانے والا کوئی دوست اور مددگار تمہارے لئے نہیں کے بعد جو تمہارے پاس آچکا ہے تم نے ان کی خواہشات کی پیروی کی تو اللہ کی پکڑ سے بچانے والا کوئی دوست اور مددگار تمہارے لئے نہیں ہے۔ “ کیسی خوفناک تہدید ہے ؟ کیا اٹل فیصلہ ہے اور کتنی سخت وعید ہے ؟ اور ہے کس کے حق میں ؟ سرتاج انبیاء اور محبوب کبریا حضرت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حق میں ! مقصود یہ کہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت جس کے سوا کوئی ہدایت نہیں ہے ، اس سے صرف تم اس وجہ سے ہٹ سکتے ہو کہ تم ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی شروع کرو ورنہ اس کے سوا اسے ترک کرنے کی کوئی وجہ ، یعنی دلیل وبرہان کی کمی یا کمزوری ، نہیں ہے۔ اہل کتاب میں سے جو لوگ خواہشات نفسانیہ سے پاک ہوجاتے ہیں ، وہ بھی اپنی کتاب کو اس طرح پڑھتے ہیں جس طرح اس کے پڑھنے کا حق ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس سچائی پر بھی ایمان لاتے ہیں جو آپ کے پاس ہے اور جو لوگ اس سچائی کا انکار کریں گے وہی گھاٹے میں رہیں گے نہ آپ خسارے میں ہیں اور نہ مؤمنین۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

یہود و نصاریٰ راضی نہیں ہوسکتے جب تک ان کے دین کا اتباع نہ کیا جائے تفسیر معالم التنزیل ص ١١٠ ج ١ میں ہے کہ یہود و نصاریٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا کہ آپس میں کچھ صلح کرلیں (یعنی بعض چیزوں میں آپ نیچے اتر جائیں اور کچھ ڈھیل دے دیں تو ہم آپ کا دین قبول کرلیں گے۔ اس پر آیت بالا نازل ہوئی۔ تفسیر قرطبی ص ٩٣ ج ٢ میں آیت بالا کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کا اپنے تجویز کردہ دلائل و معجزات کا مطالبہ اس لیے نہیں ہے کہ ان کے کہنے کے مطابق معجزات ظاہر ہوجائیں تو یہ واقعی ایمان لے آئیں گے حقیقتہً بات یہ ہے کہ آپ ان کے سامنے وہ معجزات لے آئیں جن کا یہ سوال کرتے ہیں تب بھی آپ سے ہرگز راضی نہ ہوں گے۔ ان کا مقصد تو یہ ہے کہ آپ اپنے دین اسلام کو چھوڑ دیں اور ان کا پورا پورا اتباع کرلیں۔ جب تک آپ ان کے دین کا اتباع نہ کریں گے یہ کبھی آپ سے راضی ہونے والے نہیں۔ پھر فرمایا (قُلْ اِنَّ ھُدَی اللّٰہِ ھُوَ الْھُدٰی) کہ بلاشبہ اللہ کی ہدایت ہی ہدایت ہے۔ اس کے سوا کوئی ہدایت نہیں۔ اس کے خلاف جو کچھ ہے وہ غلط ہے۔ گمراہی اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول نہیں ہے لوگوں نے اپنے اپنے طور پر اپنی خواہش سے مذاہب بنا لیے ہیں۔ ان کا دین اختیار کرنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور اگر آپ نے ان کی خواہش کا اتباع کیا جبکہ آپ کے پاس علم آچکا ہے تو آپ اللہ کی گرفت میں آجائیں گے اور اس وقت اللہ کی گرفت سے بچانے والا کوئی حامی اور مددگار نہ ہوگا۔ کما فی سورة الرعد (وَ لَءِنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَآءَ ھُمْ بَعْدَ مَا جَآءَ کَ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَکَ مِنَ اللّٰہِ مِنْ وَّ لِیٍّ وَّ لَا وَاقٍ ) علامہ قرطبی فرماتے ہیں کہ یہ خطاب یا تو حقیقتاً رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہے اور یا بظاہر آپ کو خطاب کیا ہے اور مراد اس سے آپ کی امت ہے۔ اگر پہلی صورت مراد لی جائے تب بھی اس میں امت کیلئے تادیب ہے۔ کیونکہ امت کا مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مرتبہ سے کہیں کم ہے پس جب دوسروں کی خواہشوں کے اتباع سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مواخذہ ہوسکتا ہے تو اگر امت ایسا کوئی کام کرے گی جس میں دوسروں کا اتباع ہو وہ کیونکر مواخذہ سے بچے گی۔ مومن کا کام ہے کہ صرف اپنے خالق اور مالک کو راضی رکھے اور اسے راضی رکھنے کے ذیل میں جو راضی ہوتا ہو وہ راضی رہے جو ناراض ہوتا ہو وہ ناراض رہے کوئی اپنا ہو یا پرایا خدا کو ناراض کر کے کسی دوسرے کو راضی کرنے کی کوشش ایمانی تقاضوں کے سراسر خلاف ہے، آج کل ہم دیکھتے ہیں کہ جو لوگ مسلمان ہونے کے دعویدار ہیں۔ وہ اپنے اعمال اور لباس اور وضع قطع اور شکل و صورت میں یہود و نصاریٰ کا اتباع کیے ہوئے ہیں اور ان لوگوں کے سامنے اپنے کو حقیر جانتے ہیں اور انہیں راضی رکھنے کے لیے داڑھی بھی مونڈتے ہیں۔ یورپین لباس بھی پہنتے ہیں عورتوں کو بھی بےپردہ پھراتے ہیں اور غیروں سے ان کے مصافحہ کراتے ہیں ٹائی لگانے کو فخر سمجھتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو یہ دشمنان اسلام طعنے دیں گے اور ہمیں اچھی نظر سے نہ دیکھیں گے۔ افسوس ہے کہ ان کو یہ منظور ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی ہوجائے۔ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اتباع چھوٹ جائے لیکن اہل کفر راضی رہیں اور عزت کی نظر سے دیکھیں چاہے آخرت میں گناہوں کے ارتکاب کی وجہ سے عذاب ہی بھگتنا پڑے، حالانکہ وہ لوگ کسی بھی طرح سے راضی نہیں ہوسکتے وہ تو اسی وقت راضی ہوں گے جب العیاذ باللہ دین اسلام کو چھوڑ کر ان کی ملت و مذہب کا اتباع کرلیا جائے۔ ہمیں کافروں کی طرف دیکھنے کی ضرورت کیا ہے۔ ہماری عزت اس سے زیادہ کیا ہوگی کہ ہم مومن موحد ہیں افضل الانبیاء حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے امتی ہیں ان کا دامن ہمارے ہاتھ میں ہے۔ یہ ہمارے لیے اتنا بڑا فخر ہے کہ اس سے بڑا اور فخر نہیں اور یہی ہماری سب کچھ عزت ہے۔ دشمنوں کے اتباع میں دنیا و آخرت کی ذلت ہی ذلت ہے اور ہلاکت اور بربادی ہے۔ سورة نساء میں فرمایا (اَیَبْتَغُوْنَ عِنْدَھُمُ الْعِزَّۃَ فَاِنَّ الْعِزَّۃَ لِلّٰہِ جَمِیْعًا) (کیا ان کے پاس معزز رہنا چاہتے ہو سو اعزاز تو سارا خدا تعالیٰ کے قبضے میں ہے۔ ) آیت شریفہ میں (حَتّٰی تَتَّبِعَ مِلَّتَھُمْ ) فرمایا حالانکہ ابتداء آیت میں یہود و نصاریٰ دونوں جماعتوں کا ذکر ہے اور ہر ایک کی ملت الگ الگ ہے۔ پھر بھی تثنیہ کا صیغہ نہیں لایا گیا۔ اور یوں نہیں فرمایا کہ آپ سے یہود و نصاریٰ ہرگز راضی نہ ہوں گے جب تک کہ آپ ان کی ملتوں کا اعابار نہ کریں۔ اس سے علماء تفسیر نے یہ بات مستنبط کی ہے کہ کافر اگرچہ مذہبی اعتبار سے اختلاف رکھتے ہوں لیکن کفر میں سب شریک ہیں اس لیے ان سب کی ملت بھی ایک ہی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ ملتیں دنیا میں دو ہیں ایک ملت ایمان اور ایک ملت کفر۔ فقہاء نے اس سے میراث کے بعض مسائل ثابت کیے ہیں اور یہ بات سب پر واضح ہے کہ کافروں کی ساری جماعتیں اسلام اور مسلمانوں کی دشمنی میں ایک ہی ہیں۔ اور سب کی یہ کوشش ہے کہ اسلام نہ پھیلے اور مسلمان دنیا میں عروج نہ پائیں۔ اسلام کے خلاف جو تدبیریں کرتے ہیں ان میں سب ہی کافر مشورے یا مال سے یا دل سے شریک ہوتے ہیں۔ حد یہ ہے کہ بعض وہ فرقے جو اپنے کو مسلمان کہتے ہیں اور عقائد کے اعتبار سے مسلمان نہیں ہیں وہ بھی اسلام دشمنی میں اور مسلمانوں کی حکومتوں کی تباہ کاری میں یہود و نصاریٰ اور مشرکین سے کسی طرح بھی پیچھے نہیں ہیں۔ مسلمانوں کو تنبیہ : آیت بالا سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسلمانوں کے لیے کوئی صورت نہیں کہ کافروں کے ساتھ اپنے دین میں کوئی مداہنت اور مصالحت کرلیں۔ دین اسلام اللہ کا بھیجا ہوا دین ہے۔ بندوں کا تجویز کیا ہوا نہیں ہے۔ بندوں کو کوئی اختیار نہیں کہ کچھ اونچ نیچ کر کے دینی مسائل اور احکام میں ردو بدل کر کے دشمنوں کے ساتھ زندہ رہنے کے لیے کوئی راستہ نکالیں۔ دشمنان اسلام یہ کرسکتے ہیں کہ اپنے دین کو بدل دیں کیونکہ ان کا دین ان کا اپنا ہی بنایا ہوا ہے۔ اپنی بنائی ہوئی چیز میں ادل بدل کرسکتے ہیں لیکن مسلمان جو اللہ کی کتاب اور اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے طریقے کے پابند ہیں وہ اپنے دین میں کوئی تبدیلی نہیں لاسکتے اگر چند جاہلوں نے مل کر کسی حکم کو بدل بھی دیا تو ان کا یہ عمل کافرانہ ہوگا۔ اور اسلام میں کوئی تبدیلی نہ آئے گی۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

227 یہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بطور زجر وتنبیہ فرمایا کہ وہ شرک وگمراہی میں اس قدر پختہ ہیں کہ کبھی توحید کو نہیں مانیں گے اس لیے آپ ان کی خواہشات کا اتباع نہ کرنا۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہود ونصاریٰ کے مسلمان ہوجانے کی انتہائی خواہش تھی اور آپ ان کے ساتھ نرمی کا برتاؤ فرماتے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس معمولی ملاطفت سے یہ راضی ہونے کے نہیں۔ یہ تو آپ سے صرف اسی صورت میں راضی ہوسکتے ہیں کہ آپ ان کی شریعت کی اتباع کرلیں اور ان کا دین اپنا لیں۔ یہودی حضرت عزیر کو اور عیسائی حضرت مسیح (علیہما السلام) کو خدا کا نائب اور متصرف ومختار سمجھ کر پکارتے ہیں، آپ بھی ان کو پکارنا شروع کردیں اور ان کی دیگر مشرکانہ اور جاہلانہ رسمیں بجا لائیں تو بس یہ لوگ آپ سے راضی ہوجائیں گے۔ اس طرح آپ کے دل میں ان کے ایمان لانے کی جو ادنی سی امید تھی اسے بھی ختم کردیا۔ گویا ان کا ایمان لانا امکان سے باہر ہے کیونکہ اسے ایک امر محال پر معلق کیا گیا ہے۔ نہحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے دین کی پیروی کرسکتے ہیں نہ وہ ایمان لاسکتے ہیں۔ ملت سے مراد شریعت اور دین ہے۔228 یہود ونصاریٰ کے گذشتہ مقالات و حالات ان کے اس دعویٰ پر مبنی تھے کہ صرف ان کا دین ہی حق ہے اور ہدایت صرف یہودیت اور عیسائیت میں ہے تو اس کا جواب دیا کہ ان کا دعویٰ باطل ہے بلکہ اصل ہدایت تو دین اسلام میں ہے۔ ھُدَى اللّٰهِسے مراد اسلام ہے۔ ھُدَى اللّٰهِ ۔ وھو الاسلام الذی انت علیہ ھو الہدی (بحر ص 368 ج 1) یعنی اے پیغمبر ! اللہ کی ہدایت یعنی دین اسلام جس پر آپ ہیں اور جس کی طرف آپ دعوت دے رہے ہیں۔ اصل ہدایت یہی ہے جو اللہ کو پسند ہے اور جو آخرت میں کام آنے والی ہے۔ اس سےحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کی امت کو متنبہ اور خبردار کیا گیا ہے کہ کہیں یہود ونصاری کے پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر اپنی عاقبت نہ خراب کرلیں۔229 اَھْوَاۗء ہَوٰی کی جمع ہے جس کے معنی نفس کی خواہش کے ہیں۔ اہواء سے مراد ان کے وہ باطل عقائد ہیں جو انہوں نے محض خواہشاتِ نفسانیہ کے پیچھے لگ کر بنائے ہوئے تھے اور جنہیں وہ ملت اور دین کے نام سے لوگوں کے سامنے پیش کرتے تھے۔ ای اٰرائھم الزائغۃ المنحرفۃ عن الح قالصادرۃ عنھم بتبعیۃ شھوات انفسھم (روح ص 372 ج 1) جس طرح آج کل کے بعض پیروں اور مولویوں نے نفسانی خواہشات اور شیطانی وساوس کو دین بنایا ہوا ہے اور جو ان کے خانہ ساز دین کو نہ مانے وہ ان کے نزدیک مردود اور راندۂ خدا ہے۔ ولا تتبع میں خطاب ا آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہے۔ مگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وساطت سے یہ خطاب آپ کی امت کو بھی شامل ہے۔ بَعْدَ الَّذِيْ جَاۗءَكَ مِنَ الْعِلْمِ ۔ علم سے مراد وحی ہے یعنی اللہ کی طرف سے وحی کے ذریعے حق و باطل واضح ہوجانے کے بعد اور یہود ونصاری کے عقائد کا بطلان و فساد آشکارا ہوچکنے کے بعد اگر تم میں سے کسی نے ان کی خواہشات باطلہ کی پیروی کرلی۔230 یہ لئن کا جواب ہے یعنی اگر تم میں سے کسی نے ان کی پیروی کرلی تو اس کا کوئی حمایتی اور یارومددگار نہیں ہوگا۔ جو اسے اللہ کے عذاب سے بچا سکے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہود ونصاریٰ کی خواہشات کی طرف تو ادنی سا جھکاؤ بھی متصور نہیں ہوسکتا۔ پھر آپ کو مخاطب کر کے یہ تنبیہ کیوں کی گئی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت کو دین باطل اور شرک و بدعت کے اتباع کے خوفناک اور دردناک انجام سے شدت و مبالغہ کے ساتھ روکنا مقصود ہے تاکہ ان کے ذہن میں یہ بات جانشین ہوجائے کہ شرک و بدعت کا اتباع اتنا بڑا گناہ اور سنگین جرم ہے کہ اگر بفرض محال وہ سیدالانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی (نعوذ باللہ) سرزد ہوجائے تو اس کی سزا سے انہیں بھی مستثناء نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی ان کے حق میں کسی پیغمبر، فرشتے یا پیر کی سفارش قبول کی جائے گی تو پھر ہم کس باغ کی مولی ہیں۔ اس سے امت محمدیہ کو عبرت حاصل کرنی چاہیے۔ فیہ تھدید ووعید شدید للامۃ عن اتباع طرائق الیہود والنصاری بعد ماعلموا من القران والسنۃ (ابن کثیر ص 163 ج 1) افسوس کا مقام ہے کہ آج توحید وسنت کی جگہ شرک و بدعت کو دین سمجھ کر اس کی اتباع کی جارہی ہے۔ غیر اللہ کو پکارنا، بزرگوں کی نذریں منتیں دینا، قبروں پر عرس لگانا، قبروں پر غلاف ڈالنا اور چراغ جلانا وغیرہ آج دین اسلام کا ایک حصہ بن چکے ہیں۔ العیاذ باللہ العظیم۔ دعوی توحید پر نقلی دلیل یہاں تک تو اہل کتاب میں سے نہ ماننے والوں کا ذکر تھا اب آگے ان لوگوں کا ذکر ہے جو ان میں سے ایمان لے آئے۔ جنہوں نے تورات کو کما حقہ پڑھا۔ اس میں کسی قسم کی تحریف نہ کی اور پھر اس کی تعلیم کے مطابق عمل بھی کیا اس آیت کا تعلق اصل دعویٰ اُعْبُدُوْا رَبَّکُم سے ہے اور یہ اس دعویٰ کی نقلی دلیل ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi