The Characteristics of the Hypocrites
Allah says;
وَمِنَ النَّاسِ مَن يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللّهَ عَلَى مَا فِي قَلْبِهِ
...
And of mankind there is he whose speech may please you (O Muhammad), in this worldly life, and he calls Allah to witness as to that which is in his heart,
As-Suddi said that;
these Ayat were revealed about Al-Akhnas bin Shariq Ath-Thaqafi who came to Allah's Messenger and announced his Islam although his heart concealed otherwise.
Ibn Abbas narrated that;
these Ayat were revealed about some of the hypocrites who criticized Khubayb and his companions who were killed during the Raji` incident. Thereafter, Allah sent down His condemnation of the hypocrites and His praise for Khubayb and his companions:
النَّاسِ مَن يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاء مَرْضَاتِ اللّهِ
And of mankind is he who would sell himself, seeking the pleasure of Allah. (2:207)
It was also said that;
they refer to the hypocrites and the believers in general.
This is the opinion of Qatadah, Mujahid, Ar-Rabi bin Anas and several others, and it is correct.
Ibn Jarir related that Al-Qurazi said that;
Nawf Al-Bikali, who used to read (previous Divine) Books said, "I find the description of some members of this Ummah in the previously revealed Books of Allah:
they (hypocrites) are people who use the religion to gain material benefit. Their tongues are sweeter than honey, but their hearts are more bitter than Sabir (a bitter plant, aloe). They show the people the appearance of sheep while their hearts hide the viciousness of wolves. Allah said, `They dare challenge Me, but they are deceived by Me. I swear by Myself that I will send a Fitnah (trial, calamity) on them that will make the wise man bewildered.'
I contemplated about these statements and found them in the Qur'an describing the hypocrites:
وَمِنَ النَّاسِ مَن يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللّهَ عَلَى مَا فِي قَلْبِهِ
And of mankind there is he whose speech may please you (O Muhammad), in this worldly life, and he calls Allah to witness as to that which is in his heart.
This statement by Al-Qurazi is Hasan Sahih.
Allah said:
...
وَيُشْهِدُ اللّهَ عَلَى مَا فِي قَلْبِهِ
...
...and he calls Allah to witness as to that which is in his heart,
This Ayah indicates that such people pretend to be Muslims, but defy Allah by the disbelief and hypocrisy that their hearts conceal.
Similarly Allah said:
يَسْتَخْفُونَ مِنَ النَّاسِ وَلاَ يَسْتَخْفُونَ مِنَ اللَّهِ
They may hide (their crimes) from men, but they cannot hide (them) from Allah. (4:108)
This Tafsir was reported from Ibn Abbas by Ibn Ishaq.
It was also said that;
the Ayah means that when such people announce their Islam, they swear by Allah that what is in their hearts is the same of what their tongues are pronouncing.
This is also a correct meaning for the Ayah that was chosen by Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam.
It is also the choice of Ibn Jarir who related it to Ibn Abbas and Mujahid.
Allah knows best.
Allah knows best.
Allah said:
...
وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصَامِ
Yet he is the most Aladd of the opponents.
The Ayah used the word Aladd here, which literally means `wicked' (here it means `quarrelsome').
A variation of the word Ludda was also used in another Ayah:
وَتُنْذِرَ بِهِ قَوْماً لُّدّاً
So that you (Muhammad) warn with it (the Qur'an) a Ludda people. (19:97)
Hence, a hypocrite lies, alters the truth when he quarrels and does not care for the truth. Rather, he deviates from the truth, deceives and becomes most quarrelsome.
It is reported in Sahih that Allah's Messenger said:
ايَةُ الْمُنَافِقِ ثَلثٌ
إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ
وَإذَا عَاهَدَ غَدَرَ
وَإِذَا خَاصَمَ فَجَر
The signs of a hypocrite are three:
Whenever he speaks, he tells a lie.
Whenever he promises, he always breaks it (his promise).
If you have a dispute with him, he is most quarrelsome.
Imam Bukhari reported that Aishah narrated that the Prophet said:
إِنَّ أَبْغَضَ الرِّجَالِ إلَى اللهِ الاْلَدُّ الْخَصِم
The most hated person to Allah is he who is Aladd and Khasim (meaning most quarrelsome).
Allah then said:
دل بھیڑیوں کے اور کھال انسانوں کی
سدی رحمتہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ آیت اخنس بن شریق ثقفی کے بارے میں نازل ہوئی ہے یہ منافق شخص تھا ظاہر میں مسلمان تھا اور لیکن باطن میں مخالف تھا ، ابن عباس کہتے ہیں کہ منافقوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جنہوں نے حضرت خبیب اور ان کے ساتھیوں کی برائیاں کی تھیں جو رجیع میں شہید کئے گئے تھے تو ان شہداء کی تعریف میں ( من بشری ) والی آیت اتری اور ان منافقین کی مذمت کے بارے میں آیت ( من یعجبک ) الخ والی آیت نازل ہوئی ، بعض کہتے ہیں کہ یہ آیت عام ہے تمام منافقوں کے بارے میں پہلی اور دوسری آیت ہے اور تمام مومنوں کی تعریف کے بارے میں تیسری آیت ہے ، قتادہ وغیرہ کا قول یہی ہے اور یہی صحیح ہے ، حضرت نوف بکالی جو توراہ وانجیل کے بھی عالم تھے فرماتے ہیں کہ میں اس امت کے بعض لوگوں کی برائیاں اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب میں پاتا ہوں لکھا ہے کہ بعض لوگ دین کے حیلے سے دنیا کماتے ہیں ان کی زبانیں تو شہد سے زیادہ میٹھی ہیں لیکن دل ایلوے ( مصبر ) سے زیادہ کڑوے ہیں لوگوں کے لئے بکریوں کی کھالیں پہنتے ہیں لیکن ان کے دل بھیڑیوں جیسے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کیا وہ مجھ پر جرأت کرتے ہیں اور میرے ساتھ دھوکے بازیاں کرتے ہیں مجھے اپنی ذات کی قسم کہ میں ان پر وہ فتنہ بھیجوں گا کہ بردبار لوگ بھی حیران رہ جائیں گے ، قرظی کہتے ہیں میں نے غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ منافقوں کا وصف ہے اور قرآن میں بھی موجود ہے پڑھئے آیت ( وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُّعْجِبُكَ قَوْلُهٗ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللّٰهَ عَلٰي مَا فِيْ قَلْبِهٖ ۙ وَھُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ ) 2 ۔ البقرۃ:204 ) حضرت سعید نے بھی جب یہ بات اور کتابوں کے حوالے سے بیان کی تو حضرت محمد بن کعب رضی اللہ عنہ نے یہی فرمایا تھا کہ یہ قرآن شریف میں بھی ہے اور اسی آیت کی تلاوت کی تھی سعید کہنے لگے میں جانتا ہوں کہ یہ آیت کس کے بارے میں نازل ہوئی ہے آپ نے فرمایا سنئے آیت شان نزول کے اعتبار سے گو کسی کے بارے میں ہی ہو لیکن حکم کے اعتبار سے عام ہوئی ہے ۔ ابن محیصن کی قرأت میں ( یشہد اللہ ) ہے معنی یہ ہوں گے کہ گو وہ اپنی زبان سے کچھ ہی کہے لیکن اس کے دل کا حال اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے جیسے اور جگہ آیت ( اِذَا جَاۗءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُ اللّٰهِ ) 63 ۔ المنافقون:1 ) یعنی منافق تیرے پاس آکر تیری نبوت کی گواہی دیتے ہیں اللہ جانتا ہے کہ تو اس کا رسول ہے لیکن اللہ کی گواہی ہے کہ یہ منافق یقینًا جھوٹے ہیں ، لیکن جمہور کی قرأت یشہد اللہ ہے تو معنی یہ ہوئے کہ لوگوں کے سامنے تو اپنی خیانت چھپاتے ہیں لیکن اللہ کے سامنے ان کے دل کا کفر ونفاق ظاہر ہے جیسے اور جگہ ہے آیت ( يَّسْتَخْفُوْنَ مِنَ النَّاسِ وَلَا يَسْتَخْفُوْنَ مِنَ اللّٰهِ وَھُوَ مَعَھُمْ اِذْ يُبَيِّتُوْنَ مَا لَا يَرْضٰى مِنَ الْقَوْلِ ) 4 ۔ النسآء:108 ) یعنی لوگوں سے چھپاتے ہیں لیکن اللہ سے نہیں چھپا سکتے ، ابن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ معنی بیان کئے ہیں کہ لوگوں کے سامنے اسلام ظاہر کرتے ہیں اور ان کے سامنے قسمیں کھا کر باور کراتے ہی کہ جو ان کی زبان پر ہے وہ ہی ان کے دل میں ہے ، صحیح معنی آیت کے یہی ہیں کہ عبدالرحمن بن زید اور مجاہد رحمہ اللہ سے بھی یہی مروی ہے ابن جریر بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں ۔ الد کے معنی لغت میں ہیں سخت ٹیڑھا جیسے اور جگہ ہے آیت ( وَتُنْذِرَ بِهٖ قَوْمًا لُّدًّا ) 19 ۔ مریم:97 ) یہی حالت منافق کی ہے کہ وہ اپنی حجت میں جھوٹ بولتا ہے اور حق سے ہٹ جاتا ہے ، سیدھی بات چھوڑ دیتا ہے اور افترا اور بہتان بازی کرتا ہے اور گالیاں بکتا ہے ، صحیح حدیث میں ہے کہ منافق کی تین نشانیاں ہیں جب بات کرے جھوٹ بولے جب وعدہ کرے بیوفائی کرے ، جب جھگڑا کرے گالیاں بکے ، ایک اور حدیث میں ہے سب سے زیادہ برا شخص اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ ہے جو سخت جھگڑالو ہو اس کی کئی ایک سندیں ہیں ۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ جس طرح یہ برے اقوال والا ہے اسی طرح افعال بھی اس کے بدترین ہیں تو قول تو یہ ہے لیکن فعل اس کے سراسر خلاف ہے ، عقیدہ بالکل فاسد ہے ۔
نماز اور ہماری رفتار ۔
سعی سے مراد یہاں قصد جیسے اور جگہ ہے آیت ( ثُمَّ اَدْبَرَ يَسْعٰى ) 79 ۔ النازعات:22 ) اور فرمان ہے آیت ( فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ) 62 ۔ الجمعہ:9 ) یعنی جمعہ کی نماز کا قصد و ارادہ کرو ، یہاں سعی کے معنی دوڑنے کے نہیں کیونکہ نماز کے لئے دوڑ کر جانا ممنوع ہے ، حدیث شریف میں ہے جب تم نماز کے لئے آؤ بلکہ سکینت ووقار کے ساتھ آؤ ۔
منافقوں کا مزید تعارف ۔
غرض یہ کہ ان منافقوں کا قصد زمین میں فساد پھیلانا کھیتی باڑی ، زمین کی پیداوار اور حیوانوں کی نسل کو برباد کرنا ہی ہوتا ہے ۔ یہ بھی معنی مجاہد سے مروی ہیں کہ ان لوگوں کے نفاق اور ان کی بدکرداریوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ بارش کو روک لیتا ہے جس سے کھیتیوں کو اور جانوروں کو نقصان پہنچتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو جو بانی فساد ہوں ناپسند کرتا ہے ۔ ان بدکرداروں کو جب وعظ نصیحت کے ذریعہ سمجھایا جائے تو یہ اور بھڑک اٹھتے ہیں اور مخالفت کے جوش میں گناہوں پر آمادہ ہو جاتے ہیں آیت ( وَاِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيٰتُنَا بَيِّنٰتٍ تَعْرِفُ فِيْ وُجُوْهِ الَّذِيْنَ كَفَرُوا الْمُنْكَرَ ۭ يَكَادُوْنَ يَسْطُوْنَ بِالَّذِيْنَ يَتْلُوْنَ عَلَيْهِمْ اٰيٰتِنَا ۭ قُلْ اَفَاُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكُمْ ۭ اَلنَّارُ ۭ وَعَدَهَا اللّٰهُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ۭ وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ ) 22 ۔ الحج:72 ) یعنی اللہ تعالیٰ کے کلام کی آیتیں جب ان کے سامنے تلاوت کی جاتی ہیں تو ان کافروں کے منہ چڑھ جاتے ہیں اور پڑھنے والوں پر جھپٹتے ہیں ، سنو ، اس سے بھی بڑھ کر سنو ، کافروں کے لئے ہمارا فرمان جہنم کا ہے جو بدترین جگہ ہے ، یہاں بھی یہی فرمایا کہ انہیں جہنم کافی ہے یعنی سزا میں وہ بدترین اوڑھنا بچھونا ہے ۔
مومن کون؟
منافقوں کی مذموم خصلتیں بیان فرما کر اب مومنوں کی تعریفیں ہو رہی ہیں ، یہ آیت حضرت صہیب بن سنان رومی رضی اللہ عنہ کے حق میں نازل ہوئی ہے یہ مکہ میں مسلمان ہوئے تھے جب مدینہ کی طرف ہجرت کرنی چاہی تو کافروں نے ان سے کہا کہ ہم تمہیں مال لے کر نہیں جانے دیں گے اگر تم مال چھوڑ کر کر جانا چاہتے ہو تو تمہیں اختیار ہے ، آپ نے سب مال سے علیحدگی کر لی اور کفار نے اس پر قبضہ کر لیا اور آپ نے ہجرت کی جس پر یہ آیت اتری حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور صحابہ کرام کی ایک بڑی جماعت آپ کے استقبال کے لئے حرہ تک آئی اور مبارکبادیاں دیں کہ آپ نے بڑا اچھا بیوپار کیا بڑے نفع کی تجارت کی آپ یہ سن کر فرمانے لگے اللہ تعالیٰ آپ کی تجارتوں کو بھی نقصان والی نہ کرے آخر بتاؤ تو یہ مبارکبادیاں کیا ہیں ۔ ان بزرگوں نے فرمایا آپ کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی ہے ، جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ خوشخبری سنائی ۔ قریش نے ان سے کہا تھا کہ جب آپ مکہ میں آئے آپ کے پاس مال نہ تھا یہ سب مال یہیں کمایا اب اس مال کو لے کر ہم جانے نہ دیں گے چنانچہ آپ نے مال کو چھوڑا اور دین لے کر خدمت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضر ہو گئے ، ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ جب آپ ہجرت کے ارادے سے نکلے اور کفار مکہ کو علم ہوا تو سب نے آن کر گھیر لیا آپ نے اپنے ترکش سے تیر نکال لئے اور فرمایا اے مکہ والو تم خوب جانتے ہو کہ میں کیسا تیر انداز ہوں میرا ایک نشانہ بھی خطا نہیں جاتا جب تک یہ تیر ختم نہ ہوں گے میں تم کو چھیدتا رہوں گا اس کے بعد تلوار سے تم سے لڑوں گا اور اس میں بھی تم میں سے کسی سے کم نہیں ہوں جب تلوار کے بھی ٹکڑے ہو جائیں گے پھر تم میرے پاس آسکتے ہو پھر جو چاہو کر لو اگر یہ تمہیں منظور ہے تو بسم اللہ ورنہ سنو میں تمہیں اپنا کل مال دئیے دیتا ہوں سب لے لو اور مجھے جانے دو وہ مال لینے پر رضامند ہو گئے اور اس طرح آپ نے ہجرت کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچنے سے پہلے ہی وہاں بذریعہ وحی یہ آیت نازل ہو چکی تھی آپ کو دیکھ کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مبارک باد دی اکثر مفسرین کا یہ قول بھی ہے کہ یہ آیت عام ہے ہر مجاہد فی سبیل اللہ کی شان ہے جیسے اور جگہ ہے آیت ( اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰي مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَنْفُسَھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّةَ ) 9 ۔ التوبہ:111 ) یعنی اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی جانیں اور مال خرید لئے ہیں اور ان کے بدلے جنت دے دی ہے یہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں مارتے بھی ہیں اور شہید بھی ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ کا یہ سچا عہد توراہ انجیل اور قرآن میں موجود ہے اللہ تعالیٰ سے زیادہ سچے عہد والا اور کون ہوگا تم اے ایماندارو اس خرید فروخت اور ادلے بدلے سے خوش ہو جاؤ یہی بڑی کامیابی ہے ، حضرت ہشام بن عامر نے جبکہ کفار کی دونوں صفوں میں گھس کر ان پر یکہ وتنہا بےپناہ حملہ کر دیا تو بعض لوگوں نے اسے خلاف شرع سمجھا ۔ لیکن حضرت عمر اور حضرت ابو ہریرہ وغیرہ نے ان کی تردید کی اور اسی آیت ( من بشری ) کی تلاوت کر کے سنا دی ۔