Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 204

سورة البقرة

وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یُّعۡجِبُکَ قَوۡلُہٗ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ یُشۡہِدُ اللّٰہَ عَلٰی مَا فِیۡ قَلۡبِہٖ ۙ وَ ہُوَ اَلَدُّ الۡخِصَامِ ﴿۲۰۴﴾

And of the people is he whose speech pleases you in worldly life, and he calls Allah to witness as to what is in his heart, yet he is the fiercest of opponents.

بعض لوگوں کی دنیاوی غرض کی باتیں آپ کو خوش کر دیتی ہیں اور وہ اپنے دل کی باتوں پر اللہ کو گواہ کرتا ہے حالانکہ دراصل وہ زبردست جھگڑالو ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Characteristics of the Hypocrites Allah says; وَمِنَ النَّاسِ مَن يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللّهَ عَلَى مَا فِي قَلْبِهِ ... And of mankind there is he whose speech may please you (O Muhammad), in this worldly life, and he calls Allah to witness as to that which is in his heart, As-Suddi said that; these Ayat were revealed about Al-Akhnas bin Shariq Ath-Thaqafi who came to Allah's Messenger and announced his Islam although his heart concealed otherwise. Ibn Abbas narrated that; these Ayat were revealed about some of the hypocrites who criticized Khubayb and his companions who were killed during the Raji` incident. Thereafter, Allah sent down His condemnation of the hypocrites and His praise for Khubayb and his companions: النَّاسِ مَن يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاء مَرْضَاتِ اللّهِ And of mankind is he who would sell himself, seeking the pleasure of Allah. (2:207) It was also said that; they refer to the hypocrites and the believers in general. This is the opinion of Qatadah, Mujahid, Ar-Rabi bin Anas and several others, and it is correct. Ibn Jarir related that Al-Qurazi said that; Nawf Al-Bikali, who used to read (previous Divine) Books said, "I find the description of some members of this Ummah in the previously revealed Books of Allah: they (hypocrites) are people who use the religion to gain material benefit. Their tongues are sweeter than honey, but their hearts are more bitter than Sabir (a bitter plant, aloe). They show the people the appearance of sheep while their hearts hide the viciousness of wolves. Allah said, `They dare challenge Me, but they are deceived by Me. I swear by Myself that I will send a Fitnah (trial, calamity) on them that will make the wise man bewildered.' I contemplated about these statements and found them in the Qur'an describing the hypocrites: وَمِنَ النَّاسِ مَن يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللّهَ عَلَى مَا فِي قَلْبِهِ And of mankind there is he whose speech may please you (O Muhammad), in this worldly life, and he calls Allah to witness as to that which is in his heart. This statement by Al-Qurazi is Hasan Sahih. Allah said: ... وَيُشْهِدُ اللّهَ عَلَى مَا فِي قَلْبِهِ ... ...and he calls Allah to witness as to that which is in his heart, This Ayah indicates that such people pretend to be Muslims, but defy Allah by the disbelief and hypocrisy that their hearts conceal. Similarly Allah said: يَسْتَخْفُونَ مِنَ النَّاسِ وَلاَ يَسْتَخْفُونَ مِنَ اللَّهِ They may hide (their crimes) from men, but they cannot hide (them) from Allah. (4:108) This Tafsir was reported from Ibn Abbas by Ibn Ishaq. It was also said that; the Ayah means that when such people announce their Islam, they swear by Allah that what is in their hearts is the same of what their tongues are pronouncing. This is also a correct meaning for the Ayah that was chosen by Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam. It is also the choice of Ibn Jarir who related it to Ibn Abbas and Mujahid. Allah knows best. Allah knows best. Allah said: ... وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصَامِ Yet he is the most Aladd of the opponents. The Ayah used the word Aladd here, which literally means `wicked' (here it means `quarrelsome'). A variation of the word Ludda was also used in another Ayah: وَتُنْذِرَ بِهِ قَوْماً لُّدّاً So that you (Muhammad) warn with it (the Qur'an) a Ludda people. (19:97) Hence, a hypocrite lies, alters the truth when he quarrels and does not care for the truth. Rather, he deviates from the truth, deceives and becomes most quarrelsome. It is reported in Sahih that Allah's Messenger said: ايَةُ الْمُنَافِقِ ثَلثٌ إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ وَإذَا عَاهَدَ غَدَرَ وَإِذَا خَاصَمَ فَجَر The signs of a hypocrite are three: Whenever he speaks, he tells a lie. Whenever he promises, he always breaks it (his promise). If you have a dispute with him, he is most quarrelsome. Imam Bukhari reported that Aishah narrated that the Prophet said: إِنَّ أَبْغَضَ الرِّجَالِ إلَى اللهِ الاْلَدُّ الْخَصِم The most hated person to Allah is he who is Aladd and Khasim (meaning most quarrelsome). Allah then said:

دل بھیڑیوں کے اور کھال انسانوں کی سدی رحمتہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ آیت اخنس بن شریق ثقفی کے بارے میں نازل ہوئی ہے یہ منافق شخص تھا ظاہر میں مسلمان تھا اور لیکن باطن میں مخالف تھا ، ابن عباس کہتے ہیں کہ منافقوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جنہوں نے حضرت خبیب اور ان کے ساتھیوں کی برائیاں کی تھیں جو رجیع میں شہید کئے گئے تھے تو ان شہداء کی تعریف میں ( من بشری ) والی آیت اتری اور ان منافقین کی مذمت کے بارے میں آیت ( من یعجبک ) الخ والی آیت نازل ہوئی ، بعض کہتے ہیں کہ یہ آیت عام ہے تمام منافقوں کے بارے میں پہلی اور دوسری آیت ہے اور تمام مومنوں کی تعریف کے بارے میں تیسری آیت ہے ، قتادہ وغیرہ کا قول یہی ہے اور یہی صحیح ہے ، حضرت نوف بکالی جو توراہ وانجیل کے بھی عالم تھے فرماتے ہیں کہ میں اس امت کے بعض لوگوں کی برائیاں اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب میں پاتا ہوں لکھا ہے کہ بعض لوگ دین کے حیلے سے دنیا کماتے ہیں ان کی زبانیں تو شہد سے زیادہ میٹھی ہیں لیکن دل ایلوے ( مصبر ) سے زیادہ کڑوے ہیں لوگوں کے لئے بکریوں کی کھالیں پہنتے ہیں لیکن ان کے دل بھیڑیوں جیسے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کیا وہ مجھ پر جرأت کرتے ہیں اور میرے ساتھ دھوکے بازیاں کرتے ہیں مجھے اپنی ذات کی قسم کہ میں ان پر وہ فتنہ بھیجوں گا کہ بردبار لوگ بھی حیران رہ جائیں گے ، قرظی کہتے ہیں میں نے غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ منافقوں کا وصف ہے اور قرآن میں بھی موجود ہے پڑھئے آیت ( وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُّعْجِبُكَ قَوْلُهٗ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللّٰهَ عَلٰي مَا فِيْ قَلْبِهٖ ۙ وَھُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ ) 2 ۔ البقرۃ:204 ) حضرت سعید نے بھی جب یہ بات اور کتابوں کے حوالے سے بیان کی تو حضرت محمد بن کعب رضی اللہ عنہ نے یہی فرمایا تھا کہ یہ قرآن شریف میں بھی ہے اور اسی آیت کی تلاوت کی تھی سعید کہنے لگے میں جانتا ہوں کہ یہ آیت کس کے بارے میں نازل ہوئی ہے آپ نے فرمایا سنئے آیت شان نزول کے اعتبار سے گو کسی کے بارے میں ہی ہو لیکن حکم کے اعتبار سے عام ہوئی ہے ۔ ابن محیصن کی قرأت میں ( یشہد اللہ ) ہے معنی یہ ہوں گے کہ گو وہ اپنی زبان سے کچھ ہی کہے لیکن اس کے دل کا حال اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے جیسے اور جگہ آیت ( اِذَا جَاۗءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُ اللّٰهِ ) 63 ۔ المنافقون:1 ) یعنی منافق تیرے پاس آکر تیری نبوت کی گواہی دیتے ہیں اللہ جانتا ہے کہ تو اس کا رسول ہے لیکن اللہ کی گواہی ہے کہ یہ منافق یقینًا جھوٹے ہیں ، لیکن جمہور کی قرأت یشہد اللہ ہے تو معنی یہ ہوئے کہ لوگوں کے سامنے تو اپنی خیانت چھپاتے ہیں لیکن اللہ کے سامنے ان کے دل کا کفر ونفاق ظاہر ہے جیسے اور جگہ ہے آیت ( يَّسْتَخْفُوْنَ مِنَ النَّاسِ وَلَا يَسْتَخْفُوْنَ مِنَ اللّٰهِ وَھُوَ مَعَھُمْ اِذْ يُبَيِّتُوْنَ مَا لَا يَرْضٰى مِنَ الْقَوْلِ ) 4 ۔ النسآء:108 ) یعنی لوگوں سے چھپاتے ہیں لیکن اللہ سے نہیں چھپا سکتے ، ابن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ معنی بیان کئے ہیں کہ لوگوں کے سامنے اسلام ظاہر کرتے ہیں اور ان کے سامنے قسمیں کھا کر باور کراتے ہی کہ جو ان کی زبان پر ہے وہ ہی ان کے دل میں ہے ، صحیح معنی آیت کے یہی ہیں کہ عبدالرحمن بن زید اور مجاہد رحمہ اللہ سے بھی یہی مروی ہے ابن جریر بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں ۔ الد کے معنی لغت میں ہیں سخت ٹیڑھا جیسے اور جگہ ہے آیت ( وَتُنْذِرَ بِهٖ قَوْمًا لُّدًّا ) 19 ۔ مریم:97 ) یہی حالت منافق کی ہے کہ وہ اپنی حجت میں جھوٹ بولتا ہے اور حق سے ہٹ جاتا ہے ، سیدھی بات چھوڑ دیتا ہے اور افترا اور بہتان بازی کرتا ہے اور گالیاں بکتا ہے ، صحیح حدیث میں ہے کہ منافق کی تین نشانیاں ہیں جب بات کرے جھوٹ بولے جب وعدہ کرے بیوفائی کرے ، جب جھگڑا کرے گالیاں بکے ، ایک اور حدیث میں ہے سب سے زیادہ برا شخص اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ ہے جو سخت جھگڑالو ہو اس کی کئی ایک سندیں ہیں ۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ جس طرح یہ برے اقوال والا ہے اسی طرح افعال بھی اس کے بدترین ہیں تو قول تو یہ ہے لیکن فعل اس کے سراسر خلاف ہے ، عقیدہ بالکل فاسد ہے ۔ نماز اور ہماری رفتار ۔ سعی سے مراد یہاں قصد جیسے اور جگہ ہے آیت ( ثُمَّ اَدْبَرَ يَسْعٰى ) 79 ۔ النازعات:22 ) اور فرمان ہے آیت ( فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ) 62 ۔ الجمعہ:9 ) یعنی جمعہ کی نماز کا قصد و ارادہ کرو ، یہاں سعی کے معنی دوڑنے کے نہیں کیونکہ نماز کے لئے دوڑ کر جانا ممنوع ہے ، حدیث شریف میں ہے جب تم نماز کے لئے آؤ بلکہ سکینت ووقار کے ساتھ آؤ ۔ منافقوں کا مزید تعارف ۔ غرض یہ کہ ان منافقوں کا قصد زمین میں فساد پھیلانا کھیتی باڑی ، زمین کی پیداوار اور حیوانوں کی نسل کو برباد کرنا ہی ہوتا ہے ۔ یہ بھی معنی مجاہد سے مروی ہیں کہ ان لوگوں کے نفاق اور ان کی بدکرداریوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ بارش کو روک لیتا ہے جس سے کھیتیوں کو اور جانوروں کو نقصان پہنچتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو جو بانی فساد ہوں ناپسند کرتا ہے ۔ ان بدکرداروں کو جب وعظ نصیحت کے ذریعہ سمجھایا جائے تو یہ اور بھڑک اٹھتے ہیں اور مخالفت کے جوش میں گناہوں پر آمادہ ہو جاتے ہیں آیت ( وَاِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيٰتُنَا بَيِّنٰتٍ تَعْرِفُ فِيْ وُجُوْهِ الَّذِيْنَ كَفَرُوا الْمُنْكَرَ ۭ يَكَادُوْنَ يَسْطُوْنَ بِالَّذِيْنَ يَتْلُوْنَ عَلَيْهِمْ اٰيٰتِنَا ۭ قُلْ اَفَاُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكُمْ ۭ اَلنَّارُ ۭ وَعَدَهَا اللّٰهُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ۭ وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ ) 22 ۔ الحج:72 ) یعنی اللہ تعالیٰ کے کلام کی آیتیں جب ان کے سامنے تلاوت کی جاتی ہیں تو ان کافروں کے منہ چڑھ جاتے ہیں اور پڑھنے والوں پر جھپٹتے ہیں ، سنو ، اس سے بھی بڑھ کر سنو ، کافروں کے لئے ہمارا فرمان جہنم کا ہے جو بدترین جگہ ہے ، یہاں بھی یہی فرمایا کہ انہیں جہنم کافی ہے یعنی سزا میں وہ بدترین اوڑھنا بچھونا ہے ۔ مومن کون؟ منافقوں کی مذموم خصلتیں بیان فرما کر اب مومنوں کی تعریفیں ہو رہی ہیں ، یہ آیت حضرت صہیب بن سنان رومی رضی اللہ عنہ کے حق میں نازل ہوئی ہے یہ مکہ میں مسلمان ہوئے تھے جب مدینہ کی طرف ہجرت کرنی چاہی تو کافروں نے ان سے کہا کہ ہم تمہیں مال لے کر نہیں جانے دیں گے اگر تم مال چھوڑ کر کر جانا چاہتے ہو تو تمہیں اختیار ہے ، آپ نے سب مال سے علیحدگی کر لی اور کفار نے اس پر قبضہ کر لیا اور آپ نے ہجرت کی جس پر یہ آیت اتری حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور صحابہ کرام کی ایک بڑی جماعت آپ کے استقبال کے لئے حرہ تک آئی اور مبارکبادیاں دیں کہ آپ نے بڑا اچھا بیوپار کیا بڑے نفع کی تجارت کی آپ یہ سن کر فرمانے لگے اللہ تعالیٰ آپ کی تجارتوں کو بھی نقصان والی نہ کرے آخر بتاؤ تو یہ مبارکبادیاں کیا ہیں ۔ ان بزرگوں نے فرمایا آپ کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی ہے ، جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ خوشخبری سنائی ۔ قریش نے ان سے کہا تھا کہ جب آپ مکہ میں آئے آپ کے پاس مال نہ تھا یہ سب مال یہیں کمایا اب اس مال کو لے کر ہم جانے نہ دیں گے چنانچہ آپ نے مال کو چھوڑا اور دین لے کر خدمت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضر ہو گئے ، ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ جب آپ ہجرت کے ارادے سے نکلے اور کفار مکہ کو علم ہوا تو سب نے آن کر گھیر لیا آپ نے اپنے ترکش سے تیر نکال لئے اور فرمایا اے مکہ والو تم خوب جانتے ہو کہ میں کیسا تیر انداز ہوں میرا ایک نشانہ بھی خطا نہیں جاتا جب تک یہ تیر ختم نہ ہوں گے میں تم کو چھیدتا رہوں گا اس کے بعد تلوار سے تم سے لڑوں گا اور اس میں بھی تم میں سے کسی سے کم نہیں ہوں جب تلوار کے بھی ٹکڑے ہو جائیں گے پھر تم میرے پاس آسکتے ہو پھر جو چاہو کر لو اگر یہ تمہیں منظور ہے تو بسم اللہ ورنہ سنو میں تمہیں اپنا کل مال دئیے دیتا ہوں سب لے لو اور مجھے جانے دو وہ مال لینے پر رضامند ہو گئے اور اس طرح آپ نے ہجرت کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچنے سے پہلے ہی وہاں بذریعہ وحی یہ آیت نازل ہو چکی تھی آپ کو دیکھ کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مبارک باد دی اکثر مفسرین کا یہ قول بھی ہے کہ یہ آیت عام ہے ہر مجاہد فی سبیل اللہ کی شان ہے جیسے اور جگہ ہے آیت ( اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰي مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَنْفُسَھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّةَ ) 9 ۔ التوبہ:111 ) یعنی اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی جانیں اور مال خرید لئے ہیں اور ان کے بدلے جنت دے دی ہے یہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں مارتے بھی ہیں اور شہید بھی ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ کا یہ سچا عہد توراہ انجیل اور قرآن میں موجود ہے اللہ تعالیٰ سے زیادہ سچے عہد والا اور کون ہوگا تم اے ایماندارو اس خرید فروخت اور ادلے بدلے سے خوش ہو جاؤ یہی بڑی کامیابی ہے ، حضرت ہشام بن عامر نے جبکہ کفار کی دونوں صفوں میں گھس کر ان پر یکہ وتنہا بےپناہ حملہ کر دیا تو بعض لوگوں نے اسے خلاف شرع سمجھا ۔ لیکن حضرت عمر اور حضرت ابو ہریرہ وغیرہ نے ان کی تردید کی اور اسی آیت ( من بشری ) کی تلاوت کر کے سنا دی ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

(1) ۔ 204۔ 1 بعض ضعیف روایات کے مطابق یہ آیت ایک منافق اخنس بن شریق ثقفی کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن صحیح بات یہ ہے کہ اس سے مراد سارے ہی منافقین اور منکرین ہیں جن میں یہ مذموم اوصاف پائے جائیں جو کہ اس کے ضمن میں بیان فرمائے ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اوپر کی آیات میں ” وَمِنَ النَّاسِ “ سے لے کر یہاں تک دو قسم کے لوگ ذکر کیے، یعنی طالب دنیا اور طالب دنیا و آخرت۔ اب یہاں سے منافقین کے اوصاف کا بیان ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد مبارک میں چند ایسے چال باز لوگ تھے (اور ہمیشہ رہے ہیں) ، ان آیات میں ان کی صفات بیان فرما کر ان سے چوکس رہنے کی ہدایت فرمائی ہے۔ (قرطبی، فتح القدیر) تفاسیر میں گو ان آیات کا سبب نزول اخنس بن شریق ثقفی کو بیان کیا گیا ہے، مگر الفاظ کے اعتبار سے یہ ہر اس شخص کو شامل ہیں جس میں یہ پانچوں صفات پائی جائیں۔ (کبیر) علاوہ ازیں وہ تمام روایات جن میں اس آیت کے اخنس کے بارے میں اترنے کا ذکر ہے، ضعیف ہیں۔ ( دیکھیے الاستیعاب فی بیان الاسباب) اس لیے یہ آیت عام ہے۔ ایسے منافق کی پہلی صفت یہ ہے کہ وہ دنیا کی زندگی سے متعلق بہت سی معلومات رکھتا ہے، اس موضوع پر بات کرے تو آدمی حیران رہ جاتا ہے۔ آخرت پر نہ وہ بات کرتا ہے نہ اسے اس کا علم ہے۔ (دیکھیے الروم : ٦، ٧) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ ہر سخت دل متکبر، بخیل پیٹو سے بغض رکھتا ہے جو بازاروں میں شور کرنے والا ہے، رات کو مردار اور دن کو گدھا ہے، دنیا کے معاملات کا عالم ہے، آخرت کے معاملات سے جاہل ہے۔ “ [ صحیح ابن حبان : ١٩٥٧۔ السلسلۃ الصحیحۃ : ١٩٥ ] دوسری صفت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھا کھا کر اپنے ایمان و اخلاص کا یقین دلاتا ہے، کیونکہ وہ مسلمانوں کے ہاں اپنے بےاعتبار ہونے کو خوب سمجھتا ہے۔ ( دیکھیے سورة منافقون کی ابتدائی آیات ) تیسری صفت یہ ہے کہ وہ ” اَلَدُّ الْخِصَام “ ہے۔ ” اَلَدّ “ کا معنی سخت جھگڑالو ہے۔ ” الْخِصَامِ “ یا تو باب مفاعلہ کا مصدر ہے، اس صورت میں معنی ہوگا جھگڑے میں سخت جھگڑالو ہے، یا ” خَصْمٌ“ (جھگڑنے والا) کی جمع ہے، معنی ہوگا جھگڑنے والوں میں سے بہت سخت جھگڑالو ہے۔ عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کے ہاں سب آدمیوں سے زیادہ مبغوض ” اَلْاَلَدُّ الْخَصِمُ “ (سخت جھگڑا لو) ہے۔ “ [ بخاری، التفسیر، باب : ( وہو ألد الخصام ) : ٤٥٢٣۔ مسلم : ٢٦٦٨ ] اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منافق کی چار نشانیوں میں سے ایک یہ بیان فرمائی : ” وہ جب جھگڑتا ہے تو بدزبانی کرتا ہے۔ “ [ بخاری، الإیمان، باب علامۃ المنافق : ٣٤۔ مسلم : ٥٨ ] چوتھی صفت یہ ہے کہ جب وہ مسلمانوں کے پاس اپنے اخلاص کی قسمیں کھا کر واپس جاتا ہے تو تخریبی کاروائیوں کے ذریعے سے زمین میں فساد اور کھیتوں اور جان و مال کو برباد کرنے میں مشغول ہوجاتا ہے ” تَوَلّٰى“ کا ایک معنی ہے ” وہ واپس جاتا ہے “ اور دوسرا معنی ہے ” جب وہ والی یعنی حاکم یا صاحب اقتدار بنتا ہے۔ “ پانچویں صفت یہ ہے کہ جب اسے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کے لیے کہا جائے تو اس کی (جھوٹی) عزت اور غرور نفس اسے گناہ میں پھنسائے رکھتا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

In the previous verses, it was said that there are two kinds of those who make prayers. Some wish to have everything right here in this world, others pray for the good of both worlds, the mortal and the eternal. In the present verse, the same two kinds have been identified as those who are hypocritical and those who are sincere. Verses 204-206 refer to a hypocrite, Akhnas ibn Shurayq known for his eloquence. He would come to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and try to impress him with his sworn allegiance to Islam, but no sooner did he walk out of his company than he would get busy with his anti-Muslim mischief-making. Any effort to make such a person fear Allah takes him to the other extreme when he pleases his pride through sin. So, the Hell is enough for him.& Commentary The last verse (207) portrays the true, the sincere Muslim who would stake his very life to achieve the good pleasure of Allah Almighty. This verse has been revealed to honour the sincere Companions who offered unmatched sacrifices in the way of Allah. It has been reported by Hakim, Ibn Jarir and Ibn Abi Hatim (رض) ، with sound authorities, that this verse was revealed in connection with a particular event relating to the blessed Companion Suhayb al-Rumi (رض) . It has been reported that soon after he left Makkah on his emigration route to Madinah, he was accosted on his way by a group of disbelievers of the Quraysh. Seeing this, Companion Suhayb dismounted, took position, pulled out all the arrows from his quiver and said to the group: &0 tribe of Quraysh, you all know that I am far better in archery than any of you here. My arrow never misses its target. Now, I swear by Allah that you shall not reach me until there remains even one arrow in my quiver. Then, after arrows, I shall use my sword as long as I can. Only after that you can do what you can. However, if you want to make a deal, I can tell you where my money is in Makkah. You go and take that and let me go my way.& The confronting group of Quraysh agreed to do so. When Companion Suhayb reached Madinah, safe and unharmed, he went to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and told him everything about the incident. Upon this, he said twice: ربح البیع ابا یحییٰ ربح البیع ابا یحییٰ Profitable was your deal Abu Yahya, profitable was your deal Abu Yahya! The revelation of the verse under reference in connection with this particular event confirms the blessed comment made by the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . However, some commentators cite similar events relating to other noble Companions as the background of the verse&s revelation (Mazhari).

ربط آیات : اوپر کی آیتوں میں دعا مانگنے والے آدمیوں کی دو قسمیں ٹھرائی تھیں ایک کافر کہ منکر آخرت ہے اس لئے صرف دنیا مانگتا ہے دوسرا مومن کہ معتقد آخرت ہے دنیا کی بھلائی کے ساتھ آخرت کی بھلائی بھی مانگتا ہے اب اگلی آیت میں اسی طرح کی تقسیم نفاق و اخلاص کے اعتبار سے فرماتے ہیں کہ بعض منافق ہوتے ہیں اور بعض مخلصین۔ خلاصہ تفسیر : (کوئی شخص تھا اخنس بن شریق بڑا فصیح وبلیغ وہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آکر قسمیں کھا کھا کر دعویٰ اسلام کیا کرتا اور مجلس سے اٹھ کرجاتا تو فساد و شرارت و ایذا رسانی خلق میں لگ جاتا اس منافق کے باب میں فرماتے ہیں) اور بعضا آدمی ایسا بھی ہے کہ آپ کو اس کی گفتگو جو محض دنیوی غرض سے ہوتی ہے (کہ اظہار اسلام سے مسلمانوں کی طرح قرب وخصوصیت کے ساتھ رہوں گا اس کی فصاحت و بلاغت کی وجہ سے) مزہ دار معلوم ہوتی ہے اور وہ (اپنا اعتبار بڑھانے کو) اللہ تعالیٰ کو گواہ بناتا ہے اپنے دل کی سچائی پر حالانکہ (بالکل جھوٹا ہے کیونکہ واقع میں) وہ (آپکی) مخالفت میں (نہایت) شدید ہے اور (جس طرح آپ کا مخالف ہے اسی طرح اور مسلمانوں کو بھی ایذا پہنچاتا ہے چنانچہ) جب (آپ کی مجلس سے) پیٹھ پھیرتا ہے تو اس دوڑ دھوپ میں پھرتا رہتا ہے کہ شہر میں (کوئی) فساد کردے اور (کسی کی) کھیت اور مواشی کو تلف کردے (چنانچہ ایک مسلمان کا اس طرح نقصان کردیا) اور اللہ تعالیٰ فساد (کی باتوں) کو پسند نہیں فرماتے اور (اس مخالفت و ایذاء کے ساتھ مغرور اس درجہ ہے کہ) جب اس سے کوئی کہتا ہے خدا سے ڈر تو (اور زیادہ) آمادہ کردیتا ہے اس کو غرور گناہ پر سو ایسے شخص کی کافی سزا جہنم اور وہ برا ٹھکانا ہے اور بعض آدمی ایسے بھی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے بدلہ میں اپنی جان تک بیچ ڈالتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ایسے بندوں کے حال پر نہایت مہربان ہیں۔ معارف و مسائل : آیت کا آخری حصہ جس میں مومن کا یہ حال بیان کیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے اپنی جان کی بھی بازی لگا دیتا ہے یہ ان مخلص صحابہ کرام (رض) اجمعین کی شان میں نازل ہوئی ہے جنہوں نے بےمثال قربانیاں اللہ کی راہ میں پیش کی ہیں، مستدرک حاکم ابن جریر، مسند ابن ابی حاتم وغیرہ میں بسند صحیح منقول ہے کہ یہ آیت حضرت صہیب رومی کے اس واقعہ میں نازل ہوئی ہے کہ جب وہ مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ کے لئے روانہ ہوئے تو راستہ میں کفار قریش کی ایک جماعت نے راستہ روک لیا یہ دیکھ کر حضرت صہیب رومی اپنی سواری سے اتر کر کھڑے ہوگئے اور ان کے ترکش میں جتنے تیر تھے سب نکال لئے اور قریش کی اس جماعت سے خطاب کیا کہ اے قبیلہ قریش تم سب جانتے ہو کہ میں تیر اندازی میں تم سب سے زیادہ ماہر ہوں میرا تیر کبھی خطا نہیں کرتا اور اب میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھاتا ہوں کہ تم میرے پاس اس وقت تک نہیں پہنچ سکو گے جب تک میرے ترکش میں ایک تیر بھی باقی ہے اور تیروں کے بعد میں تلوار سے کام لوں گا جب تک مجھ میں دم رہے گا پھر جو تم چاہو کرلینا اور اگر تم نفع کا سودا چاہتے ہو تو میں تمہیں اپنے مال کا پتہ دیتا ہوں جو مکہ میں رکھا ہے تم وہ مال لے لو اور میرا راستہ چھوڑ دو اس پر قریش کی جماعت راضی ہوگئی اور حضرت صہیب رومی نے صحیح سالم آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پہنچ کر واقعہ سنایا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو مرتبہ فرمایا۔ ربح البیع ابا یحییٰ ربح البیع ابا یحییٰ تمہارا بیوپار نفع بخش رہا تمہاری بیع نفع بخش رہی، اسی واقعہ میں آیت مذکورہ کے نزول نے اس کلام کی تصدیق کردی جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان مبارک سے نکلا تھا۔ اور بعض حضرات مفسرین نے کچھ دوسرے صحابہ کرام (رض) اجمعین کے ایسے ہی واقعات کو آیت کا شان نزول بتلایا ہے (مظہری)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُّعْجِبُكَ قَوْلُہٗ فِي الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا وَيُشْہِدُ اللہَ عَلٰي مَا فِيْ قَلْبِہٖ۝ ٠ ۙ وَھُوَاَلَدُّ الْخِصَامِ۝ ٢٠٤ نوس النَّاس قيل : أصله أُنَاس، فحذف فاؤه لمّا أدخل عليه الألف واللام، وقیل : قلب من نسي، وأصله إنسیان علی إفعلان، وقیل : أصله من : نَاسَ يَنُوس : إذا اضطرب، قال تعالی: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] ( ن و س ) الناس ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کی اصل اناس ہے ۔ ہمزہ کو حزف کر کے اس کے عوض الف لام لایا گیا ہے ۔ اور بعض کے نزدیک نسی سے مقلوب ہے اور اس کی اصل انسیان بر وزن افعلان ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اصل میں ناس ینوس سے ہے جس کے معنی مضطرب ہوتے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] کہو کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ مانگنا ہوں ۔ عجب العَجَبُ والتَّعَجُّبُ : حالةٌ تعرض للإنسان عند الجهل بسبب الشیء، ولهذا قال بعض الحکماء : العَجَبُ ما لا يُعرف سببه، ولهذا قيل : لا يصحّ علی اللہ التَّعَجُّبُ ، إذ هو علّام الغیوب لا تخفی عليه خافية . يقال : عَجِبْتُ عَجَباً ، ويقال للشیء الذي يُتَعَجَّبُ منه : عَجَبٌ ، ولما لم يعهد مثله عَجِيبٌ. قال تعالی: أَكانَ لِلنَّاسِ عَجَباً أَنْ أَوْحَيْنا [يونس/ 2] ، تنبيها أنهم قد عهدوا مثل ذلک قبله، وقوله : بَلْ عَجِبُوا أَنْ جاءَهُمْ [ ق/ 2] ، وَإِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ [ الرعد/ 5] ، ( ع ج ب ) العجب اور التعجب اس حیرت کو کہتے ہیں جو کسی چیز کا سبب معلوم نہ ہونے کی وجہ سے انسان کو لاحق ہوجاتی ہے اسی بنا پر حکماء نے کہا ہے کہ عجب اس حیرت کو کہتے ہیں جس کا سبب معلوم نہ ہو اس لئے اللہ تعالیٰ پر تعجب کا اطلاق جائز نہیں ہے کیونکہ ذات باری تعالیٰ تو علام الغیوب ہے اس بنا پر کوئی چیز بھی مخفی نہیں ہے عجبت عجبا ( س ) میں نے تعجب کیا عجب ہر وہ بات جس سے تعجب پیدا ہوا اور جس جیسی چیز عام طور نہ دیکھی جاتی ہوا ہے عجیب کہا جاتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ أَكانَ لِلنَّاسِ عَجَباً أَنْ أَوْحَيْنا[يونس/ 2] کیا لوگوں کو اس بات پر حیرت ہے کہ ہم نے وحی بھیجی ۔ میں تنبیہ کی ہے کہ آنحضرت کی طرف وحی بھیجنا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کیونکہ یہ لوگ پہلے سے سلسلہ وحی کو جانتے ہیں نیز فرمایا : ۔ بَلْ عَجِبُوا أَنْ جاءَهُمْ [ ق/ 2] بلکہ ان لوگوں نے تعجب کیا ہے کہ انہی میں سے ایک ہدایت کرنے والا ان کے پاس آیا ۔ وَإِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ [ الرعد/ 5] اور اگر تم عجیب بات سننی چاہو تو کافروں کا یہ کہنا عجیب ہے ۔ قلب قَلْبُ الشیء : تصریفه وصرفه عن وجه إلى وجه، کقلب الثّوب، وقلب الإنسان، أي : صرفه عن طریقته . قال تعالی: وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ [ العنکبوت/ 21] . ( ق ل ب ) قلب الشئی کے معنی کسی چیز کو پھیر نے اور ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پلٹنے کے ہیں جیسے قلب الثوب ( کپڑے کو الٹنا ) اور قلب الانسان کے معنی انسان کو اس کے راستہ سے پھیر دینے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ [ العنکبوت/ 21] اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے ۔ لدد الْأَلَدُّ : الخصیم الشّديد التّأبّي، وجمعه : لُدٌّ. قال تعالی: وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصامِ [ البقرة/ 204] ، وقال : وَتُنْذِرَ بِهِ قَوْماً لُدًّا [ مریم/ 97] . وأصل الألدّ : الشّديد اللَّدَدُ ، أي : صفحة العنق، وذلک إذا لم يمكن صرفه عمّا يريده، وفلان يَتَلَدَّدُ ، أي : يتلفّت، واللَّدُودُ ما سقي الإنسان من دواء في أحد شقّي فمه، وقد الْتَدَدْتُ ذلك . ( ل د د ) الالد ۔ سخت جھگڑا لو آدمی کو کہتے ہیں جو کسی کی بات مانتا ہی ن ہو ۔ اس کی جمع لد آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصامِ [ البقرة/ 204] حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہے ۔ وَتُنْذِرَ بِهِ قَوْماً لُدًّا [ مریم/ 97] تاکہ اس کے ذریعہ سخت جھگڑا لو قوم کے بدانجام سے آگاہ کرو ۔ اصل میں الد شدید اللد د یعنی اس آدمی کو کہتے ہیں ۔ جس کی گردن کا پہو بڑا سخت ہو ۔ اور مجازا اس شخص پر بولاجاتا ہے جسے اس کے ارادہ سے پھیرا نہ جاسکے ۔ فلان یتلدد فلاں گردن موڑ کر رخ پھیر تا ہے ۔ اللدود ۔ وہ دو اجومنہ کی ایک جانب سے پلائی جائے ۔ التددت ۔ لدو دلینا ۔ خصم الخَصْمُ مصدر خَصَمْتُهُ ، أي : نازعته خَصْماً ، يقال : خاصمته وخَصَمْتُهُ مُخَاصَمَةً وخِصَاماً ، قال تعالی: وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصامِ [ البقرة/ 204] ، وَهُوَ فِي الْخِصامِ غَيْرُ مُبِينٍ [ الزخرف/ 18] ، ثم سمّي المُخَاصِم خصما، واستعمل للواحد والجمع، وربّما ثنّي، وأصل المُخَاصَمَة : أن يتعلّق كلّ واحد بخصم الآخر، أي جانبه وأن يجذب کلّ واحد خصم الجوالق من جانب، وروي : ( نسیته في خصم فراشي) «1» والجمع خُصُوم وأخصام، وقوله : خَصْمانِ اخْتَصَمُوا [ الحج/ 19] ، أي : فریقان، ولذلک قال : اخْتَصَمُوا وقال : لا تَخْتَصِمُوا لَدَيَّ [ ق/ 28] ، وقال : وَهُمْ فِيها يَخْتَصِمُونَ [ الشعراء/ 96] ، والخَصِيمُ : الكثير المخاصمة، قال : هُوَ خَصِيمٌ مُبِينٌ [ النحل/ 4] ، والخَصِمُ : المختصّ بالخصومة، قال : بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ [ الزخرف/ 58] . ( خ ص م ) الخصم ۔ یہ خصمتہ کا مصدر ہے جس کے معنی جھگڑنے کے ہیں کہاجاتا ہے خصمتہ وخاصمتہ مخاصمۃ وخصاما کسی سے جھگڑا کر نا قرآن میں ہے :۔ وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصامِ [ البقرة/ 204] اور وہ حالانکہ سخت جھگڑا لو ہے ۔ وَهُوَ فِي الْخِصامِ غَيْرُ مُبِينٍ [ الزخرف/ 18] اور جھگڑنے کے وقت بات نہ کرسکے ۔ اور مخاصم کو خصم کہا جات ہے ، اور خصم کا لفظ واحد جمع دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے مگر کبھی تثنیہ بھی آجاتا ہے۔ اصل میں خصم کے معنی کنارہ کے ہیں ۔ اور مخاصمت کے معنی ایک دوسرے سے کو کنارہ سے پکڑنے کے ہیں ۔ اور بوری کو کونے سے پکڑکر کھینچنے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے ۔ ایک حدیث میں ہے :۔ (114) نسی تھا فی خصم فراشی کہ میں اسے اپنے بسترہ کے کونے میں بھول آیا ہوں خصم کی جمع خصوم واخصام آتی ہے اور آیت کریمہ ؛۔ اخْتَصَمُوا[ الحج/ 19] دوفریق جھگڑتے ہیں ۔ میں خصما ن سے دو فریق مراد ہیں اسی لئے اختصموا آیا ہے ۔ الاختصام ( افتعال ) ایک دوسرے سے جھگڑنا ۔ قرآن میں ہے :۔ لا تَخْتَصِمُوا لَدَيَّ [ ق/ 28] ہمارے حضور رد کد نہ کرو ۔ وَهُمْ فِيها يَخْتَصِمُونَ [ الشعراء/ 96] ۔۔۔۔ وہ آپس میں جھگڑیں گے ۔ الخصیم ۔ جھگڑا لو بہت زیادہ جھگڑا کرنے والا جیسے فرمایا :۔ هُوَ خَصِيمٌ مُبِينٌ [ النحل/ 4] مگر وہ ( اس بارے میں ) علانیہ جھگڑنے لگا ۔ الخصم سخٹ جھگڑالو جس کا شیوہ ہ جھگڑنا ہو ۔ قرآن میں ہے :َ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ [ الزخرف/ 58] حقیقت یہ ہے ۔ یہ لوگ ہیں ہی جھگڑا لو،

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ہے (ومن الناس من یعجیک قولہ فی الحیاۃ الدنیا ویشھد اللہ علی مافی قلبہ وھو الذالخصام انسانوں میں کوئی تو ایسا ہے جس کی باتیں دنیا کی زندگی میں تمہیں بہت بھلی معلوم ہوتی ہیں اور اپنی نیک نیتی پر بار بار خدا کو گواہ ٹھہراتا ہے مگر حقیقت میں وہ بدترین دشمن حق ہوتا ہے) ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ آیت میں اس بات سے خبردار کیا گیا ہے کہ کسی شخص کی ظاہری باتوں شیریں بیانی اور نیک نیتی کی بار بار یقین دہانیوں سے ہرگز دھوکا نہ کھایا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بتادیا کہ انسانوں میں کوئی تو ایسا ہوتا ہے جس کی باتیں ظاہری طور پر بڑی بھلی معلوم ہوتی ہیں اور وہ اپنی نیک نیتی پر بار بار خدا کو گواہ ٹھہراتا ہے۔ یہ منافقین کی صفت ہے جیسا کہ قول باری ہے (قالوا نشھد انک لرسول اللہ ۔ واللہ یعلم انک لرسولہ واللہ یشھد ان المنافقین لکذبون اتخذوا ایمانھم جنۃ منافقین کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ بیشک آپ اللہ کے رسول ہیں۔ اللہ بھی جانتا ہے کہ آپ اس کے رسول ہیں لیکن اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ یہ منافقین جھوٹے ہیں۔ انہوں نے اپنی قسموں کو اپنے لئے ڈھال بنا رکھا ہے۔ ) قضا، امامت اور عدالت وغیرہ کے مناصب صرف ظاہری حالت دیکھ کر نہ سپرد کردیئے جائیں اسی طرح قول باری ہے (واذا رایتھم تعجبک اجسامھم وان یقولوا تسمع لقولھم اور جب آپ ان کو دیکھیں تو ان کے قدو قامت آپ کو خوشنما معلوم ہوں اور یہ باتیں کرنے لگیں تو آپ ان کی باتیں سننے لگیں) اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان باتوں سے آگاہ کردیا جو انہوں نے اپنے دلوں میں چھپا رکھی ہیں تاکہ آپ ان کی ظاہری باتوں سے دھوکے میں نہ آ جائیں۔ نیز اللہ تعالیٰ نے ان جیسے لوگوں میں ہمارے لئے عبرت کا سامان رکھ دیا تاکہ ہم لوگوں کے ظاہری امور پر اور ان کی ان باتوں پر بھروسہ نہ کر بیٹھیں جو وہ اپنے ما فی الضمیر کے اظہار کے طور پر بیان کرتے ہوں۔ ان جیسے لوگوں کے ساتھ جن دینی اور دنیاوی امور کا تعلق ہو اس آیت میں ان میں ہمیں احتیاط برتنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ہم کسی دینی یا دنیاوی امر میں کسی انسان کی صرف ظاہری حالت پر ہی اعتماد نہ کر بیٹھیں بلکہ اس کے متعلق تحقیق و تفتیش بھی کریں۔ اس میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ جس شخص کو قضا یا امامت (خلافت) یا اسی قسم کے کسی اہ ممنصب کے لئے منتخب کیا جائے یا عدالت میں گواہی دینے کے لئے طلب کیا جائے تو یہ ضروری ہے کہ صرف ان کے ظاہر کو قابل قبول نہ سمجھا جائے بلکہ ان کے متعلق پوری طرح چھان پھٹک کرلی جائے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان جیسے لوگوں کو مسلمانوں کے معاملات سپرد کردینے کے سلسلے میں ہمیں پوری طرح چوکنا رہنے کا حکم دیا ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ درج بالا آیت کے فوراً ہی بعد اللہ کا ارشاد ہے (واذا تولی سعی فی الارض لیفسد فیھا و یھلک الحرث والنسل۔ جب اسے اقتدار حاصل ہوجاتا ہے تو زمین میں اس کی ساری دوڑ دھپو اس لئے ہوتی ہے کہ فساد پھیلائے، کھیتوں کو غارت کرے اور نسل انسانی کو تباہ کرے۔ اس مقام پر اقتدار کے ذکر کی وجہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیں یہ بتایا جا رہا ہے کہ جسے اقتدار سونپا جائے جب تک مختلف ذرائع سے اس کے حالات کی چھان پھٹک نہ کرلی جائے۔ اس وقت تک صرف) اس کے ظاہر پر انحصار کرنا جائز نہیں ہوتا۔ قول باری (وھو الدالخصام) یہ اس شخص کی کیفیت ہے جو بار بار اپنی نیک نیتی پر خدا کو گواہ بناتا ہے لیکن اس کی حالت یہ ہے کہ اپنی بدنیتی کی بنا پر انتہائی جھگڑالو ہے۔ اگر کسی معاملے میں اس کا کسی کے ساتھ تنازعہ ہوجائے تو شدید جھگڑے کے ذریعے اپنے فریق مقابل کو مجبور کر کے اس کے حق سے ہٹا کر اسے اپنے قبضے میں کرلیتا ہے۔ محاورہ ہے لدہ عن کذا یعنی اس نے اسے مجبور و محبوس کردیا۔ اس معنی میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (انکم تختصمون الی ولعل بعض کو یکون الحسن بججتہ من بعض من النار تم اپنے جھگڑے میرے پاس فیصلے کے لئے لے کر آتے ہوسکتا ہے کہ تم میں سے بعض اپنی دلیل سے دوسرے کی بہ نسبت زیادہ خبردار ہو۔ جہاں تک میرا تعلق ہے میں تو جو سنوں گا اس کے فیصلہ کروں گا اگر میں نے ظاہری دلائل کی بنا پر کسی شخص کو اس کے بھائی کا حق دے دیا تو یاد رکھو میں اسے جہنم کی آگ کا ایک ٹکڑا دوں گا۔ اس بنا پر (الدالخصام) کے معنی یہ ہوں گے کہ یہ شخص جھگڑا کرنے کے لحاظ سے دونوں فریضوں میں سے زیادہ شدید ہے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٠٤) آپ کو بعض لوگوں کی دنیاوی زندگی میں گفتگو اور ان کا طرز بیان پسندیدہ معلوم ہوتا ہے اور اس کے ساتھ وہ اللہ تعالیٰ کی اس بات پر قسم کھاتا ہے کہ میں آپ سے محبت رکھتا ہوں اور آپ کی پیروں کرتا ہوں حالانکہ وہ جھوٹا اور سخت قسم کا جھگڑالو ہے۔ شان نزول : (آیت) ” ومن الناس من یعجبک “۔ (الخ) ابن ابی حاتم (رح) نے سعید (رض) یا عکرمہ (رض) کے ذریعہ سے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ جب وہ لشکر شہید کردیا گیا جس میں عاصم اور مرشد تھے تو منافقوں میں سے دو آدمیوں نے کہا کہ جو لوگ اس طرح مارے گئے ان کے لیے ہلاکت ہے۔ کیوں نہ یہ اپنے گھروں میں بیٹھے رہے اور کیوں نہ انہوں نے اپنے صاحب کی رسالت کو ادا کردیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ اتاری کہ (آیت) ” ومن الناس من یعجبک “۔ اور ابن جریر (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت کریمہ اخنس بن شریق (رض) کے بارے میں اتری ہے، رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آکر اس نے اسلام ظاہر کیا، حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کی یہ بات پسند آئی، اس کے بعد یہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے چلا گیا اور مسلمانوں کی ایک جماعت کی کھیتی اور گدھوں پر سے اس کا گزر ہوا تو اس نے کھیتی جلادی اور گدھوں کے پاؤں کاٹ ڈالے۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح )

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٠٤ (وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یُّعْجِبُکَ قَوْلُہٗ فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا) یہ منافقین میں سے ایک خاص گروہ کا تذکرہ ہو رہا ہے۔ منافقین میں سے بعض تو ایسے تھے کہ ان کی زبانوں پر بھی نفاق واضح طور پر ظاہر ہوجاتا تھا ‘ جبکہ منافقین کی ایک قسم وہ تھی کہ بڑے چاپلوس اور چرب زبان تھے۔ ان کی گفتگو ایسی ہوتی تھی گویا وہ تو بڑے ہی مخلص اور بڑے ہی فداکار ہیں۔ اپنا موقف اس انداز سے پیش کرتے کہ یوں لگتا تھا کہ بڑی ہی نیک نیتی پر مبنی ہے ‘ لیکن ان کا کردار انتہائی گھناؤنا تھا۔ ان کی ساری بھاگ دوڑ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اسلام کی مخالفت کی راہ میں ہوتی تھی۔ ان کے بارے میں فرمایا کہ بعض لوگ ایسے بھی ہیں کہ جن کی باتیں دنیا کی زندگی میں تمہیں بہت اچھی لگتی ہیں۔ (وَیُشْہِدُ اللّٰہَ عَلٰی مَا فِیْ قَلْبِہٖ لا) اور وہ اللہ کو بھی گواہ ٹھہراتا ہے اپنے دل کی بات پر۔ اس کا انداز کلام یہ ہوتا ہے کہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں اللہ جانتا ہے کہ خلوص سے کہہ رہا ہوں ‘ پوری نیک نیتی سے کہہ رہا ہوں۔ منافق کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ اپنے آپ کو قابل اعتبار ثابت کرنے کے لیے بات بات پر قسم کھاتا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

223. Such a person tends to claim again and again that he was merely a well-wisher and was simply striving to uphold what is true and right, and to promote the welfare of the people rather than doing things for the sake of personal aggrandizement. 224. The words aladd al-khisam mean 'the most fierce in enmity'. This would apply to someone who concentrates all his energies on opposing truth, and who resorts to whatever falsehood, dishonesty, treachery and breach of faith he thinks necessary to achieve his ends.

سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :223 یعنی کہتا ہے: خدا شاہد ہے کہ میں محض طالب خیر ہوں ، اپنی ذاتی غرض کے لیے نہیں ، بلکہ صرف حق اور صداقت کے لیے یا لوگوں کی بھلائی کے لیے کام کر رہا ہوں ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :224 ”اَلَدُّ الْخِصَام“ کے معنی ہیں”وہ دشمن جو تمام دشمنوں سے زیادہ ٹیڑھا ہو“ ۔ یعنی جو حق کی مخالفت میں ہر ممکن حربے سے کام لے ۔ کسی جھوٹ ، کسی بے ایمانی ، کسی غدر و بد عہدی اور کسی ٹیڑھی سے ٹیڑھی چال کو بھی استعمال کرنے میں تامل نہ کرے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(204 ۔ 206) ۔ بعض مفسروں نے کہا ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں ایک شخص اخنس بن شریق منافق کی شان میں یہ آیت اتری ہے وہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جب آتا تھا تو اسلام کی تائید میں بڑی میٹھی باتیں کرتا تھا اور جب آپ کے پاس سے جاتا تھا تو اسلام کی بد خواہی کی باتیں کرتا تھا اور طرح طرح کے جھگڑے اور فساد کھڑے کرتا تھا اور بعضوں نے کہا کہ واقعہ رجیع کی خبر جب مدینہ میں پہونچی تو بعض منافقوں نے ظاہر میں تو مسلمانوں کی ہمدردی کے کلمات ان شہداء کی شان میں منہ سے نکالے۔ لیکن باطن میں ان شہداء اور مسلمانوں کی ہجر اور مذمت ان کو مقصود تھی اس پر اللہ تعالیٰ نے ان منافقوں کی مذمت اور شہداء رجیع کے مدح میں یہ آیت نازل فرمائی واقعہ رجیع کی پوری تفصیل تو بخاری میں حاصل اس واقعہ کا اسی قدر ہے کہ جنگ احد کے بعد دس صحابہ کرام کو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جاسوسی کے طور پر قریش کی خبر لانے کے لئے روانہ فرمایا تھا اور عاصم بن ثابت صحابی کو باقی کے نو شخصوں پر سردار قرار دیا تھا۔ دن بھر یہ لوگ پہاڑوں میں چھپے رہتے تھے اور رات کو راستہ چلتے تھے مذیل قبیلہ کے دیہات میں سے ایک گاؤں رجیع ہے وہاں کے پہاڑوں میں ایک روز انہوں نے مقام کیا اور رات کو راستہ چلتے چلتے مدینہ منورہ کی سر زمین کے چھوارے جو ان کے پاس بطور زاد راہ کے تھے وہ چھوارے انہوں نے کھا کر گٹھلیاں جنگل میں پھینک دیں ایک عورت اس جنگل میں نظر آتی تھیں بنی لحیان نے یہ سن کر خیال کیا کہ مدینہ کے کچھ لوگ ضرور مخالفانہ اس سر زمین پر آئے ہوں گے اس خیال سے بنی لحیان میں سے سو آدمی کے قریب ہتھیار باندھ کر مدینہ کے لوگوں کو تلاش میں نکلے اور رجیع مقام کے پاس طرفین کا مقابلہ ہوا پہلے بنی لحیان کے لوگوں نے ان دس شخصوں سے یہ کہا تھا کہ اگر تم ہتھیار ڈال کر ہماری امان میں آجاؤ تو ہم تمہاری جان بخشی کردیتے ہیں مگر صحابہ کرام کی ہمت ایسی پست ہمتی کی باتوں کو کب گوارا کرتی تھی۔ حضرت عاصم بن ثابت (رض) نے صاف فرما دیا کہ ہم کو مشرکوں کی امان ہرگز منظور نہیں آخر لڑائی شروع ہوئی اور عاصم بن ثابت اور چھ شخصوں کے علاو یہ سات صحابی تو شہید ہوئے اور تین شخصوں کو مشرکوں نے قید کرلیا عاصم بن ثابت (رض) نے جنگ بدر میں مشرکوں کے بڑے نامی سرداروں کو قتل کیا تھا اس جلن سے مشرکوں نے چاہا تھا کہ حضرت عاصم (رض) کی لاش بہم پہنچا کر کچھ بےادبی کریں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے شہد کی مکھیاں لاش کے گرد گرد بھیج دیں ان مکھیوں نے لاش کی حفاظت کی اور مشرکین لاش تک نہ پہنچ سکے گرفتار شدہ تین شخصوں کو بھی مکہ میں لے جا کر آخر کو مشرکوں نے شہید کر ڈالا۔ جس میں ایک خبیب (رض) بھی تھے جن کے شہید ہونے کا بڑا درد ناک واقعہ بخاری اور شرح بخاری میں بالتفصیل مذکور ہے۔ ١۔ حافظ ابن کثیر (رح) نے اس بات کو ترجیح دی ہے کہ آیت ان دونوں سببوں میں سے خواہ کسی سبب سے یا دونوں سببوں کے مل کر ایک سبب ہوجانے سے نازل ہوئی۔ لیکن آیت کا مضمون عام منافقوں کی شان میں ہے ٢۔ اور آیت کے معنی میں مسلمانوں کو منافقوں کی عادتوں سے پرہیز کرنے اور شہدا رجیع جیسی ہمت اختیار کرنے ہدایت ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(2:204) ومن الناس من یعجبک قولہ۔ واؤ عاطفہ ہے اس جملہ کا عطف جملہ فمن الناس من یقول ۔۔ (آیہ 200) پر ہے۔ آیہ 200 میں ذکر تھا کہ بعض ایسے بھی ہیں کہ جو حج کے ایام اور ایسے مواضع میں صرف دنیا خدا تعالیٰ سے مانگتے ہیں کس لئے کہ آخرت اور وہاں کی نعمتوں کا ان کو یقین ہی نہیں۔ اور بعض ایسے بھی ہیں کہ دنیا و آخرت دونوں کا سوال کرتے ہیں۔ اب یہاں ان دونوں گروہوں کی تشریح ہے۔ من تبعیضیہ ہے اور من موصولہ۔ یعجبک۔ مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب ۔ اعجاب (افعال) مصدر ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر تجھ کو بھلا لگتا ہے۔ تجھ کو پسند آتا ہے۔ فی الحیوۃ الدنیا۔ متعلق قول سے ہے۔ ای فی امور الدنیا و اسباب المعاش یعنی اس کی گفتگو بابت امور دینا و اسباب مواش۔ مطلب یہ ہے کہ دنیاوی امور کے متعلق یا اس کی غرض سے اظہار دعوی محبت اور آپ سے اظہار اسلام وہ ایسے فصیح اور شیریں کلام میں کرتا ہے جو آپ کو متاثر کرتا ہے۔ یشھد اللہ۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ اشھاد (افعال) مصدر اللہ۔ مفعول ۔ وہ اللہ کو گواہ بناتا ہے۔ یعنی اللہ کی قسمیں کھا کر کہتا ہے کہ جو کچھ اس کے دل میں ہے وہ اس کی زبان کے مطابق ہے۔ وھو الذ الخصام ۔ جملہ حالیہ الد۔ سخت جھگڑا لو۔ لدیلد (باب نصر) افعل التفضیل کا صیغہ لد مصدر خصام۔ خضم کی جمع جیسے بحار۔ بحر یا صیعاب صعب کی جمع ہے۔ خضم جھگڑنے والا۔ الد الخصام جھگڑا کرنے والوں میں سب سے زیادہ جھگڑالو۔ بہت بڑا جھگڑالو۔ خصام مصدر بھی ہوسکتا ہے اس صورت میں الد الخصام بمعنی شدید الخصومۃ ہوگا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 204 تا 207 یعجب (پسند آتا ہے ) ۔ یشھد (گواہ کرتا ہے) ۔ الد الخصام (سخت جھگڑالو) ۔ تولیٰ (وہ پلٹا) ۔ سعی (اس نے کوشش کی ) ۔ یھلک (ہلاک اور برباد کردیتا ہے) ۔ الحرث (کھیتی) ۔ النسل (جانور، مویشی) ۔ اتق اللہ (اللہ سے ڈر) ۔ اخذتہ (اس کو پکڑ لیتا ہے (اس کو پکڑ لیتی ہے) ۔ حسبہ (اس کو کافی ہے ) ۔ یشری (فروخت کردیتا ہے) ۔ ابتغاء (تلاش کرنا) ۔ مرضات اللہ (اللہ کی رضا و خوشنودی) ۔ العباد (عبد) بندے) ۔ تشریح : آیت نمبر 204 تا 207 ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے منافقوں اور کمزور کردار کے انسانوں کی خصلتیں اور مخلص مومنوں کی شان اور صفات بیان فرمائی ہیں۔ فرمایا کہ مدینہ کے بہت سے وہ منافق جو سہل پسند، کھاتے پیتے اور صاف ستھرے لباس والے ہیں جو اپنے کردار کی کمزوریوں کو چھپانے کے لئے بڑی لچھے دار اور دلچسپ باتیں کرتے ہیں اور بات بات پر قسمیں کھاتے ہیں جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مجلس میں آتے ہیں تو اسلام اور رسول کی تعریف میں زمین آسمان ایک کردیتے ہیں لیکن جب یہ آپ کی مجلس سے اٹھ کر جاتے ہیں تو ان کی تمام تر بھاگ دوڑ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہوتی ہے۔ فرمایا کہ بناوٹی اور لچھے دار باتیں۔ ان منافقوں کا روزمرہ کا کھیل ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو کردار کی عظمت اور بلندیوں سے محروم اور اندر سے کھوکھلے ہیں۔ ان کے سینوں میں نہ ضمیر ہے ، نہ ایمان ، نہ اسلام آپ ان کی باتوں میں نہ آئیں کیونکہ یہ باتیں محض آپ کا دل جیتنے کے لئے کرتے ہیں لیکن شاید انہیں معلوم نہیں کہ آج یہ خوب بناوٹی باتیں کرلیں لیکن وہ وقت دور نہیں ہے جب جھوٹے اور سچے، کھرے اور کھوٹے میں فرق و امتیاز کردیا جائے گا اور ان کے چہروں سے یہ جھوٹے نقاب نوچ کر پھینک دئیے جائیں گے اور یہ بےنقاب ہو کر ساری دنیا کے سامنے آجائیں گے۔ فرمایا کہ بات بات پر اللہ کو گواہ بنا کر قسمیں کھانے سے بھی آپ ان کے فریب میں نہ آئیں جسے اپنے عمل پر اعتماد نہیں ہوتا وہی جھوٹی قسموں کا سہارا لیا کرتا ہیں۔ یہ نفسیاتی بیمار ہیں لہٰذا ان کی کسی بات کا اعتبار نہیں ہے۔ اعتبار ان لوگوں کا ہے جو اللہ کی رضا و خوشنودی اور رسول کی اطاعت کے لئے اپنا سب کچھ قربان کردیتے ہیں اور تن من دھن سے ہر وقت اسلام کے لئے جہاد کرنے کو تیار رہتے ہیں۔ فرمایا کہ جو جانباز، مجاہد اور وفا دار ہیں ان کی زندگی کا مقصد اللہ کی رضا و خوشنودی اور رسول کی پیروی ہے وہی اللہ تعالیٰ کی تمام رحمتوں کے مستحق ہیں وہ اللہ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے۔ اگر ان سے کچھ بھول چوک ہوجاتی ہے تو وہ ان کی لغزشوں کو معاف کرد یتا ہے اور ان کی توبہ قبول کرتا ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : پہلے دو قسم کی سوچ اور فکر کے درمیان فرق بیان ہوا تھا اب مخلص ‘ اور غیر مخلص ‘ مصلح اور فساد کرنے والے کے درمیان فرق بتلایا گیا ہے۔ درمیان میں اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ کیونکہ جب تک انسان دنگہ فساد سے پرہیز نہیں کرتا۔ منیٰ میں قیام اور ایّام تشریق کا مسئلہ بیان کرنے سے پہلے لوگوں کی دو قسم پر مبنی سوچ کا ذکر ہورہا تھا۔ اب دو کرداروں کو بیان کیا جارہا ہے، پہلا کردار دنیا پرست کا ہے جس کے قول وفعل میں اس قدر تضاد ہوتا ہے کہ اس کی زبان میٹھی ہے اور وہ اپنے کردار کی کھوٹ اور گفتگو کی چوری کو چھپانے کے لیے ہر بات پر اللہ تعالیٰ کے مقدّس نام کو استعمال کرتا ہے۔ اس کا کسی سے الجھاؤ ہوجائے تو وہ پرلے درجے کا جھگڑالو ثابت ہوتا ہے اور جب بھی اسے وسائل اور کچھ اقتدار حاصل ہوتا ہے تو اس کی پالیسیاں اور کردار لوگوں کے لیے تباہ کن اور آئندہ نسلوں کے لیے مہلک ثابت ہوتا ہے۔ اس شخص کو جب اللہ تعالیٰ کا خوف اور اس کی غلطی کا احساس دلایاجائے تو اصلاح کی بجائے اسے اپنی توہین تصور کرتا ہے۔ ایسے شخص کے فکر وعمل میں خیر کی تبدیلی آنے کا کوئی امکان نہیں ہوتا۔ یہ گناہ چھوڑنے اور اپنی اصلاح کرنے کے بجائے دنگا فساد کرنے پر اتر آتا ہے۔ اس کے جھوٹے وقار اور تکبر کے خاتمہ کے لیے جہنم کی سزا ہی ہوسکتی ہے۔ اس کا ٹھکانہ دنیا کے بجائے جہنم ہی ہونا چاہیے۔ جس میں اس کے فکرو عمل کی ٹھیک ٹھیک سزا دی جائے گی۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ جب فاسق وفاجر شخص دنیا سے کوچ کرتا ہے تو روئے زمین پر تمام مخلوق اس کے جانے پر خوشی کا اظہار کرتی ہے یہاں تک کہ زمین اسے دبوچ کر اپنا بوجھ ہلکا کرتی ہے۔ [ رواہ البخاری : کتاب الرقاق ‘ باب سکرات الموت ] مفسرین نے اس آیت کی تشریح میں اخنس بن شریک منافق کے کردار کی نشاندہی کی ہے جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوتا تو چکنی چپڑی باتیں کرتے ہوئے اسلام کی تائید کرتا جب اپنے ساتھیوں میں جاتا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اسلام کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے دوسروں کو سازشوں کے لیے آمادہ کرتا تھا۔ اس کے برعکس ایک مومن کا کردار یہ ہوا کرتا ہے کہ وہ گفتار کے بجائے کردار کا غازی ہوتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے نہ صرف اپنی انا کی قربانی دیتا ہے بلکہ وقت آنے پر سب کچھ اللہ تعالیٰ کی راہ میں لٹا کر اس کی رضا کا طالب ہوتا ہے۔ اس آیت کے شان نزول میں حضرت ابویحییٰ صہیب رومی (رض) کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ جب وہ مدینہ طیبہ کے لیے نکلے ابھی مکہ معظمہ سے تھوڑی دور ہی گئے تھے کہ کفار نے انہیں آگھیرا۔ حضرت صہیب (رض) نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم جانتے ہو کہ میں تم سے بہتر تیر انداز ہوں اور میرا نشانہ کم ہی خطا ہوا کرتا ہے۔ اگر میری طرف بڑھوگے تو میں تمہیں ایک ایک کرکے نشانہ بناؤں گا۔ جب میرے ترکش سے تیر ختم ہوجائیں گے تو تلوار سے مقابلہ ہوگا۔ لہٰذا میرے راستے میں حائل ہونے کی کوشش نہ کرو۔ اگر تم مال لے کر میرا پیچھا چھوڑنا چاہو تو میرا اتنا سرمایہ میرے مکان کے فلاں کونے میں دفن ہے۔ تم جاکر اسے حاصل کرسکتے ہو۔ کفار خزانے کے لالچ میں واپس پلٹے اور جناب صہیب رومی (رض) کے مدینہ پہنچنے پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی جس میں ایثار و قربانی سے بھر پور کردار کی تعریف کے ساتھ یہ خوشخبری دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے کردار کے لوگوں کے ساتھ نہایت ہی شفقت فرماتا ہے۔ مسائل ١۔ چکنی چپڑی باتوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔ ٢۔ جھوٹی بات پر اللہ تعالیٰ کو گواہ بنانا بڑا گناہ ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ فساد کو پسند نہیں کرتا۔ ٤۔ گناہ کو عزت کا باعث سمجھنا جہنم کو ٹھکانہ بنانا ہے۔ ٥۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ نہایت ہی مشفق و مہربان ہے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

درس ١٣ ایک نظر میں قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے مختلف قسم کی ہدایات دیں۔ مختلف موضوعات پر قانون وضع کئے گئے ہیں ۔ ان ہدایات اور قوانین کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ان سے ایک خدائی نظام زندگی وجود میں آتا ہے جو انسان کی پوری زندگی پر حاوی ہے ۔ اس راہنمائی اور اس قانون سازی کے درمیان اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک نظام تربیت بھی عطا کردیا ہے ۔ یہ ایک بہترین نظام اصلاح ہے ۔ اس لئے کہ اللہ نفس انسانی کی حقیقت کے بارے میں اس کی ظاہری اور خفیہ رسم وراہوں کے بارے میں سب سے زیادہ علم رکھتا ہے اللہ تعالیٰ نفس انسانی کے ہر پہلو کو لیتا ہے ۔ اور مختلف انسانوں کی ایسی تصویر بناتا ہے ، جس کے خدوخال واضح ہوتے ہیں ۔ جس میں تمام مطلوبہ خصائص واضح طور پر نظر آتے ہیں ۔ جب انسان الفاظ کی اس تصویر کو آئینہ دماغ میں رکھ کر ، انسانوں کی بھیڑ میں ان اوصاف کے حاملین کی تلاش میں نکلتا ہے ، تو یوں لگتا ہے کہ گویا وہ لوگ گلیوں اور بازاروں میں چلتے پھرتے ہیں ۔ زمین پر دوڑتے پھرتے ہیں اور ایک انسان انگلی رکھ کر بتاسکتا ہے کہ یہ ہیں وہ لوگ جن کا تذکرہ قرآن نے کیا ہے ۔ اس سبق میں انسانوں کی دواقسام کے واضح خدوخال بیان کئے گئے ہیں ۔ یہ اقسام عام طور پر انسانوں میں پائی جاتی ہیں ۔ پہلی قسم نمائشی ، شریر اور زبان دراز لوگوں کی ہے ۔ ایسا شخص اپنی ذات کو پوری زندگی کا محور بنالیتا ہے ۔ ایسا شخص بظاہر بہت ہی بھلامعلوم ہوتا ہے ، لیکن جب اندرون کھلتا ہے تو گندگی ہی گندگی ہوتی ہے ۔ اسے جب اصلاح احوال اور اللہ خوفی کی طرف دعوت دی جائے تو حق کی طرف نہیں آتا ۔ اپنی اصلاح نہیں کرتا ، اپنے وقار کا خیال اسے گناہ پر جما دیتا ہے ۔ اپنے غرور کی وجہ سے وہ سچائی اور بھلائی سے منہ پھیرلیتا ہے وہ کھیتوں کو غارت کرتا ہے اور نسل انسانی کو تباہ کرتا ہے ۔ دوسری قسم ان مومنین صادقین کی ہے جو اپنی پوری ہستی کا سودا رضائے الٰہی کے حصول کے عوض کرلیتے ہیں ۔ پوری زندگی بیچ دیتے ہیں ۔ اس کا کچھ حصہ بھی رہنے نہیں دیتے ۔ اپنی سعی اور عمل ، اپنی تمام تگ ودو میں ، وہ اپنا کوئی حصہ نہیں رکھتے ۔ وہ اپنے آپ کو فنا ۔۔۔۔ کردیتے ہیں اور ہمہ تن اللہ کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں ۔ انسانوں کے یہ دومعیاری نمونے پیش کرنے کے بعد اب مسلمانوں کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ کسی تردد ، کسی جھجھک ، مطالبہ خوارق و معجزات کے بغیر پورے پورے دین اسلام میں داخل ہوجائیں ۔ بنی اسرائیل کی طرح نہ بنیں ، جنہوں نے قدم قدم پر خوارق ومعجزات کا مطالبہ کیا ، اللہ کی اس نعمت یعنی اسلامی نظام زندگی کی نعمت کو چھوڑ کر کفر کا راستہ اختیا کیا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :” پوری طرح اسلام میں داخل ہوجاؤ۔ “ اشارہ اس طرف ہے کہ اسلام ایک مکمل نظام زندگی ہے اور تمہیں اپنی پوری زندگی کو اس نظام میں ڈھالنا ہے اس نظام پر عمل کرنا ہے ۔ (تفصیل آگے آرہی ہے ) ایمان کی نعمت عظمیٰ اور مسلمانوں پر اس کی امن وآشتی کی چھاؤں کے مقابلے میں ، کفار کے غلط نقطہ نظر کی ایک جھلک بھی دکھائی جاتی ہے ۔ یہ لوگ اپنے ناقص تصور زندگی کی وجہ سے مسلمانوں کا مذاق اڑاتے ہیں ۔ لیکن بتادیا جاتا ہے کہ اللہ کے نزدیک کس کی کیا قدر (Value) ہے۔” مگر قیامت کے روز پرہیزگار لوگ ہی ان کے مقابلے میں عالی مقام ہوں گے۔ “ اس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ لوگوں کے درمیان اختلاف رائے کس طرح پیدا ہوگیا اور یہ کہ اس کا حل صرف یہ ہے کہ وہ معیار حق کی طرف پلٹیں اور اسے اپنا حاکم تسلیم کریں ۔ بتایا جاتا ہے کہ حق کا یہ معیار اللہ کی کتاب ہے ، جو نازل ہی اس لئے کی گئی ہے تاکہ لوگوں کے درمیان حق کے بارے میں جو اختلاف رائے پیدا ہوگیا ہے ، اس میں ان کے درمیان فیصلہ کرے۔ اس مناسبت سے بتادیا جاتا ہے کہ اس معیار حق کتاب اللہ کے حاملین کی راہ میں بیشمار مشکلات ہیں ۔ امت مسلمہ کو بتایا جاتا ہے کہ اس کی راہ میں سختیاں ہیں ، مصیبتیں ہیں ، نہ صرف تمہاری راہ میں بلکہ تاریخ انسانی مین جس جماعت نے بھی اس امانت کا بوجھ اٹھایا ، اس کا حال یہی رہا ہے تاکہ وہ اپنے آپ کو اس بار امت کے اٹھانے کے لئے تیار کرسکے ۔ جسے بہرحال اس نے اٹھانا ہے ۔ اور تاکہ وہ خوشی خوشی اس بوجھ کو اٹھانے کے لئے تیار ہو ، اطمینان کے ساتھ ۔ جب بھی فضا میں خطرات کی آلودگی ہو ، جب بھی اسے یہ نظر آتا ہو کہ صبح دور ہے ، وہ اللہ کی نصرت کے بارے میں پر امید رہے ۔ اس سبق میں ہم دیکھتے ہیں کہ اسلامی جماعت کی ٹریننگ اور تربیت کے قانون سازی کے ساتھ ساتھ اسلامی نظم وتربیت بھی سکھایا جارہا ہے ۔ اس تربیت کے مختلف پہلو بیان کئے جاتے ہیں جن کا زمزمہ نہایت خوشگوار اور پرتاثیر ہے اور یہ سب کچھ ان ہدایات و وضع قوانین کے اثنا میں ہورہا ہے جن سے اسلامی نظام بنتا ہے جو انسان کی پوری زندگی پر حاوی ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

میٹھی باتیں کرنیوالے منافقوں اور مفسدوں کا تذکرہ معالم التنزیل ص ١٧٩ ج ١ میں لکھا ہے کہ یہ آیت اخنس بن شریق کے بارے میں نازل ہوئی یہ شخص میٹھی باتیں کرنے والا تھا۔ دیکھنے میں بھی اچھا لگتا تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آتا تھا اور پاس بیٹھ کر اپنا مسلمان ہونا ظاہر کرتا تھا۔ اور کہتا تھا کہ میں آپ سے محبت کرتا ہوں اور اس پر قسمیں کھاتا تھا اور اندر سے منافق تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (اس کی ظاہری باتوں کی وجہ سے) اسے قریب بٹھاتے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اخنس بن شریق کی حرکت : لباب النقول میں بحوالہ ابن جریر مفسر سدی سے نقل کیا ہے کہ یہ آیت اخنس بن شریق کے بارے میں نازل ہوئی، وہ آپ کی خدمت میں آیا اور اپنا مسلمان ہونا ظاہر کیا۔ آپ کو اس کی باتیں پسند آئیں پھر وہ آپ کے پاس سے چلا گیا اور مسلمانوں کی کھیتیوں پر گزرا جہاں گدھے بھی (چر رہے) تھے اس نے کھیتیوں کو آگ لگا دی اور گدھوں کے پاؤں کاٹ کر چلا گیا۔ اس پر آیت بالا نازل ہوئی۔ (یُھْلِکَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَ ) میں اسی کو بیان فرمایا۔ علامہ مناوی نے فیض القدیر شرح الجامع الصغیر ص ١٤٥ ج ٢ میں بعض علماء سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا اللّٰھم انی أعوذبک من خلیل ماکر (الحدیث) میں یہ اخنس بن شریق مراد ہے جو میٹھی زبان والا تھا، جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے باتیں تھا تو نرم نرم باتیں کرتا تھا اور یوں کہتا تھا کہ اللہ جانتا ہے کہ میں سچا ہوں۔ لباب النقول میں حضرت ابن عباس (رض) سے ایک یہ بات نقل کی ہے کہ جس جماعت میں حضرت عاصم اور حضرت مرثد تھے اس جماعت کے شہید ہونے کا جب علم ہوا تو دو منافقوں نے یہ کہا کہ افسوس ہے ان لوگوں پر جو فتنے میں پڑگئے اور ہلاک ہوگئے۔ نہ تو اپنے گھروں میں ہی بیٹھے اور نہ تبلیغی ذمہ داری کو پورا کرسکے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت بالا نازل فرمائی۔ بہر حال آیت کا سبب نزول جو بھی ہو الفاظ کا عموم ان تمام لوگوں کو شامل ہے جو دنیاوی زندگی میں میٹھی میٹھی اور چکنی چپڑی باتیں کرکے مسلمانوں کے عوام اور خواص میں اپنا مقام پیدا کرنا چاہتے ہیں اندر سے منافق ہوتے ہیں اور اپنے مسلمان ہونے کے جھوٹے دعوے ثابت کرنے کے لیے بار بار قسم کھاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ گواہ ہے ہم سچے مسلمان ہیں، ان لوگوں کا مقصد چونکہ اول سے آخر تک دنیا اور دنیا کا جاہ و مال ہی ہوتا ہے اور اندر سے مسلمان نہیں ہوتے اس لیے جب بھی کوئی موقعہ دیکھتے ہیں مسلمانوں کو زک دینے اور نقصان پہنچانے اور ان کی حکومتوں کے خلاف منصوبے بنانے میں اور ان کی حکومتوں کو برباد کرنے میں کوئی دقیقہ اٹھا کر نہیں رکھتے۔ جو کام اخنس بن شریق نے کیا کہ خدمت عالی میں حاضرہو کر مسلمان ہونے کا دعوی کیا اور اللہ کو اپنے دعوے کی سچائی پر گواہ بنایا اور پھر وہاں سے نکل کر مسلمانوں کی کھیتیوں کو آگ لگا دی اور مویشیوں کو کاٹ کر پھینک دیا وہی کام ہمیشہ سے منافقین کرتے آئے ہیں اور اب بھی کرتے رہتے ہیں۔ علامہ قرطبی لکھتے ہیں کہ قتادہ اور مجاہد اور علماء کی ایک جماعت کا قول ہے کہ یہ آیت ہر ایسے شخص کے بارے میں نازل ہوئی جو کفر چھپائے ہوئے ہو، نفاق اور جھوٹ کو اپنائے ہوئے اپنی زبان سے اپنے دل کے خلاف ظاہر کرتا ہو۔ نیز علامہ قرطبی نے یہ بھی لکھا ہے کہ اس آیت میں اس بات کی دلیل ہے کہ دینی اور دنیاوی امور میں احتیاط کی ضرورت ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن ص ١٠ ج ٣) لفظ (فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا) کے بارے میں مفسر بیضاوی فرماتے ہیں کہ اس کا معنی یہ ہے کہ امور دنیا اور اسباب معاش میں آپ کو اس کی باتیں اچھی لگتی ہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ دنیاوی مقصد حاصل کرنے کے لیے وہ ایسی باتیں کرتا ہے۔ اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ دنیاوی باتوں میں اس کی حلاوت اور فصاحت آپ کو پسند آتی ہے لیکن آخرت میں اس کی کوئی بات قابل التفات نہیں ہوگی۔ وہاں جو اس کو وحشت سوار ہوئی اس کی وجہ سے وہ بولنے بھی نہ پائے گا۔ (ص ١٠٩ ج ١) جھگڑالو اور چرب زبان کی مذمت : (اَلَدُّ الْخِصَامِ ) یہ دونوں کلمے آپس میں مضاف مضاف الیہ ہیں۔ پہلا لفظ لدد سے اسم تفضیل کا صیغہ ہے جس کا معنی ہے بہت زیادہ جھگڑالو اور خصام بھی جھگڑے کو کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ یہ شخص بہت زیادہ جھگڑالو ہے۔ مفسر بیضاوی نے اس کا ترجمہ شدید العدا وہ (سخت دشمنی والا) کیا ہے جو اس کا لازمی معنی ہے۔ منافقوں کی یہ صفت بیان فرمانے سے ہر جھگڑالو کی مذمت معلوم ہوئی جو باطل کے لیے جھگڑتا ہو۔ حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ لوگوں میں سب سے زیادہ مبغوض وہ ہے جو زیادہ جھگڑالو ہو۔ (صحیح بخاری ص ٦٤٩ ج ٢، ص ١٠٦٦ ج ٢) میٹھی میٹھی باتیں کرکے لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنا اور دل میں جو کچھ ہے اس کے خلاف ظاہر کرنا آج کی دنیا میں اس کو بڑی ہوشیاری سمجھا جاتا ہے بلکہ یہ چیز سیاست حاضرہ کا جزو بن چکی ہے، سنن تر مذی ابواب الزہد میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ آخر زمانہ میں ایسے لوگ نکلیں گے جو دین کے ذریعہ دنیا حاصل کریں گے اور تواضع ظاہر کرنے کے لیے بھیڑوں کی کھالوں کے کپڑے پہنیں گے ان کی زبانیں شکر سے زیادہ میٹھی ہوں گی۔ اور ان کے دل بھیڑیوں کی طرح ہوں گے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کیا یہ لوگ میرے حلم سے دھوکہ کھاتے ہیں یا مجھ پر جرأت کرتے ہیں میں اپنی قسم کھاتا ہوں کہ میں ان لوگوں پر ان ہی میں سے ایسا فتنہ بھیجوں گا کہ جو ان میں ہوشمند عقل والا ہوگا اسے (بھی) حیران کر دے گا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

392 ۔ ربط :۔ یہاں تک تو حج کے ضروری احکام کا بیان تھا۔ حکم جہاد کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم میرے گھر کی اس طریقے سے حاضری دو اور اس طریقہ سے مجھ سے دعا مانگو تو میں تمہیں فتح دوں گا۔ اب آگے پھر جہاد کا حکم آرہا ہے۔ چناچہ اگلی آیت سے جہاد کی دوسری بارترغیب وتحضیض شروع ہورہی ہے۔ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُّعْجِبُكَ سے لے کرفَاِنَّ اللهَ بِهٖ عَلِیْم تک ترغیب الی الجہاد ہے۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے کئی طریقوں سے جہاد کی ترغیب دی ہے۔ (1) شروفساد برپا کرنے والے اور فتنہ انگیز عناصر جنہوں نے زمین کو فتنہ و فساد کی آماجگاہ بنایا ہوا ہے ایسے لوگوں کا خاتمہ کیوں نہیں کردیتے ہو۔ ایسے شریر لوگوں سے جہاد نہ کرنا بھی اتباع شیطان میں داخل ہے۔ (2) جہاد کے ذریعے خدا کی رضا حاصل کرو۔ (2) اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور اس کے تمام احکام مانو ان میں سے ایک جہاد بھی ہے (4) اگر خدا کے احکام سے سرتابی کروگے تو سخت سزا ملے گی بنی اسرائیل کا حال دیکھ لو خدا کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان کا کیا حشر ہوا۔ (5) مشرکین اور کفار دولت دنیا کے نشہ میں بدمست ہو کر اسلام اور مسلمانوں کا مذاق اڑاتے ہیں۔ لہذا ان سے جہاد کرو۔ (6) اللہ کے فطری دین توحید میں لوگوں نے اختلاف پیدا کر رکھا ہے ان کی بیخ کنی کرو۔ (7) جنت میں جانا آسان کام نہیں۔ اس کی خاطر تمہیں مال وجان کی قربانی دینی پڑے گی (8) اللہ کے دین کی خاطر جہاد میں جو کچھ بھی خرچ کروگے وہ ضائع نہیں جائے گا۔ یہ پہلی ترغیب ہے۔ یعنی کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو محض دنیوی اغراض ومقاصد کے پیش نظر آپ سے ایسی میٹھی اور فصیح وبلیغ باتیں کرتے ہیں کہ آپ ان کی باتوں کو بہت وقعت دینے لگتے ہیں اور ان کو پسند کرتے ہیں۔ المعنی ومنھم من یروقک ویعظم فی نفسک ما یقولہ (روح ص 94 ج 2، مدارک ص 81 صج 1) بعض مفسرین کا خیال ہے کہ اس سے مراد اخنس بن شریق ہے جو بہت بڑا منافق تھا مگر محققین کی رائے یہ ہے کہ یہ آیت ہر اس ادمی کے حق میں ہے جو ان آیات میں مذکورہ اوصاف کا حامل ہو۔ القول الثانی وھو اختیار اکثر المحققین والمفسرین ان ھذہ الایۃ عامۃ فی حق کل من کان موصوفاً بھذہ الصفات المذکورۃ (کبیر ص 277 ج 2) وَيُشْهِدُ اللّٰهَ عَلٰي مَا فِيْ قَلْبِهٖ ۙ وَھُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ ۔ اللہ کو گواہ بنانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ قسمیں کھاتے ہیں یا مطلب یہ ہے کہ وہ " خدا شاہد ہے، خدا گواہ ہے " وغیرہ الفاظ کہتے ہیں۔ یعنی وہ اپنے مافی الضمیر کی سچائی پر خدا کو گواہ بناتے ہیں۔ اور قسمیں کھا کھا کر آپ کو اپنے اخلاص کا یقین دلاتے ہیں حالانکہ وہ آپ کے شدید ترین مخالف ہوتے ہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi