Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 264

سورة البقرة

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُبۡطِلُوۡا صَدَقٰتِکُمۡ بِالۡمَنِّ وَ الۡاَذٰی ۙ کَالَّذِیۡ یُنۡفِقُ مَالَہٗ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤۡمِنُ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِؕ فَمَثَلُہٗ کَمَثَلِ صَفۡوَانٍ عَلَیۡہِ تُرَابٌ فَاَصَابَہٗ وَابِلٌ فَتَرَکَہٗ صَلۡدًا ؕ لَا یَقۡدِرُوۡنَ عَلٰی شَیۡءٍ مِّمَّا کَسَبُوۡا ؕ وَ اللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۲۶۴﴾

O you who have believed, do not invalidate your charities with reminders or injury as does one who spends his wealth [only] to be seen by the people and does not believe in Allah and the Last Day. His example is like that of a [large] smooth stone upon which is dust and is hit by a downpour that leaves it bare. They are unable [to keep] anything of what they have earned. And Allah does not guide the disbelieving people.

اے ایمان والو !اپنی خیرات کو احسان جتا کر اور ایذا پہنچا کر برباد نہ کرو !جس طرح وہ شخص جو اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لئے خرچ کرے اور نہ اللہ تعالٰی پر ایمان رکھے نہ قیامت پر ، اس کی مثال اس صاف پتھر کی طرح ہے جس پر تھوڑی سی مٹی ہو پھر اس پر زور دار مینہ برسے اور وہ اسے بالکل صاف اور سخت چھوڑ دے ان ریاکاروں کو اپنی کمائی میں سے کوئی چیز ہاتھ نہیں لگتی اور اللہ تعالٰی کافروں کی قوم کو ( سیدھی ) راہ نہیں دکھاتا ۔

Word by Word by

Dr Farhat Hashmi

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ
اے لوگو جو
اٰمَنُوۡا
ایمان لائے ہو
لَا تُبۡطِلُوۡا
نہ تم ضائع کرو
صَدَقٰتِکُمۡ
اپنے صدقات کو
بِالۡمَنِّ
ساتھ احسان
وَالۡاَذٰی
اور اذیت کے
کَالَّذِیۡ
اس کی طرح جو
یُنۡفِقُ
خرچ کرتا ہے
مَالَہٗ
مال اپنا
رِئَآءَ
دکھانے کے لیے
النَّاسِ
لوگوں کے
وَ لَا
اور نہیں
یُؤۡمِنُ
وہ ایمان لاتا
بِاللّٰہِ
اللہ پر
وَالۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِؕ
اور آخری دن پر
فَمَثَلُہٗ
تو مثال اس کی
کَمَثَلِ
مانند مثال
صَفۡوَانٍ
چکنے پتھر کے ہے
عَلَیۡہِ
جس پر
تُرَابٌ
مٹی ہو
فَاَصَابَہٗ
تو پہنچے اسے
وَابِلٌ
تیز بارش
فَتَرَکَہٗ
تو وہ چھوڑ دے اسے
صَلۡدًا
صاف چٹان
لَا یَقۡدِرُوۡنَ
نہیں وہ قدرت رکھتے ہوں گے
عَلٰی شَیۡءٍ
کسی چیز پر
مِّمَّا
اس میں سے جو
کَسَبُوۡا
انہوں نے کمائی کی
وَ اللّٰہُ
اور اللہ
لَا یَہۡدِی
نہیں وہ ہدایت دیتا
الۡقَوۡمَ
ان لوگوں کو
الۡکٰفِرِیۡنَ
جو کافرہیں
Word by Word by

Nighat Hashmi

یٰۤاَیُّہَاالَّذِیۡنَ
اے لوگو جو
اٰمَنُوۡا
ایمان لائے ہو
لَاتُبۡطِلُوۡا
نہ تم ضائع کرو
صَدَقٰتِکُمۡ
صدقات اپنے
بِالۡمَنِّ
ساتھ احسان کے
وَالۡاَذٰی
اور تکلیف کے
کَالَّذِیۡ
اُس شخص کی طرح جو
یُنۡفِقُ
خرچ کرتا ہے
مَالَہٗ
مال اپنا
رِئَآءَ النَّاسِ
لوگوں کو دکھانے (کے لیے)
وَلَا
اورنہیں
یُؤۡمِنُ
وہ ایمان رکھتا
بِاللّٰہِ
اللہ تعالیٰ پر
وَالۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِؕ
اورآخرت کے دن پر
فَمَثَلُہٗ
پھر مثال اس کی
کَمَثَلِ
مثال جیسی ہے
صَفۡوَانٍ
ایک چٹان کی
عَلَیۡہِ
اُس پر
تُرَابٌ
کچھ مٹی ہو
فَاَصَابَہٗ
پھر پہنچے اس کو
وَابِلٌ
زوردار بارش
فَتَرَکَہٗ
تو چھوڑ جائے اس کو
صَلۡدًا
سخت چٹان
لَا
نہیں
یَقۡدِرُوۡنَ
وہ قدرت رکھیں گے
عَلٰی شَیۡءٍ
کسی چیزپر
مِّمَّا
اس میں سے جو
کَسَبُوۡا
انہوں نے کمایا
وَاللّٰہُ
اوراللہ تعالیٰ
لَا
نہیں
یَہۡدِی
وہ ہدایت دیتا
الۡقَوۡمَ
لوگوں کو
الۡکٰفِرِیۡنَ
کافر
Translated by

Juna Garhi

O you who have believed, do not invalidate your charities with reminders or injury as does one who spends his wealth [only] to be seen by the people and does not believe in Allah and the Last Day. His example is like that of a [large] smooth stone upon which is dust and is hit by a downpour that leaves it bare. They are unable [to keep] anything of what they have earned. And Allah does not guide the disbelieving people.

اے ایمان والو !اپنی خیرات کو احسان جتا کر اور ایذا پہنچا کر برباد نہ کرو !جس طرح وہ شخص جو اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لئے خرچ کرے اور نہ اللہ تعالٰی پر ایمان رکھے نہ قیامت پر ، اس کی مثال اس صاف پتھر کی طرح ہے جس پر تھوڑی سی مٹی ہو پھر اس پر زور دار مینہ برسے اور وہ اسے بالکل صاف اور سخت چھوڑ دے ان ریاکاروں کو اپنی کمائی میں سے کوئی چیز ہاتھ نہیں لگتی اور اللہ تعالٰی کافروں کی قوم کو ( سیدھی ) راہ نہیں دکھاتا ۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

اے ایمان والو ! اپنے صدقات کو احسان جتلا کر اور دکھ پہنچا کر ضائع مت کرو جیسے وہ شخص (ضائع کرتا ہے) جو اپنا مال لوگوں کو دکھلانے کی خاطر خرچ کرتا ہے اور اللہ اور روز آخرت پر ایمان نہیں رکھتا۔ ایسے شخص کی مثال یوں ہے جیسے ایک صاف اور چکنا پتھر ہو جس پر مٹی کی تہہ جمی ہو۔ پھر اس پر زور کا مینہ برسا تو مٹی بہہ گئی اور پتھر کا پتھر باقی رہ گیا۔ اس طرح خرچ کرنے سے اگر وہ کچھ (ثواب) کماتے بھی ہیں تو بھی ان کے ہاتھ کچھ نہ آئے گا۔ اور اللہ کافروں کو سیدھی راہ نہیں دکھاتا

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اے لوگوجوایمان لائے ہو! اپنے صدقات احسان جتلانے اور تکلیف پہنچا نے سے ضائع نہ کرواُس شخص کی طرح جو اپنامال لوگوں کودکھانے کے لیے خرچ کرتا ہے اوروہ اﷲ تعالیٰ اور آخرت کے دن پرایمان نہیں

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

O those who believe, do not nullify your charities by boasting about favour, and teasing, like the one who spends his wealth to show off before people and does not believe in Allah and in the Last Day. So, his example is like a rock on which there is dust, then came over it a heavy rain and left it barren. They have no ability to gain anything out of what they have done. And Allah does not give guidance to the people who disbelieve.

اے ایمان والو مت ضائع کرو پنی خیرات احسان رکھ کر اور زیادہ دے کر اس شخص کی طرح جو خرچ کرتا ہے اپنا مال لوگوں کے دکھانے کو اور یقین نہیں رکھتا ہے اللہ پر اور قیامت کے دن پر سو اس کی مثال ایسی ہے جیسے صاف پتھر کہ اس پر پڑی ہے کچھ مٹی پھر برسا اس پر زور کر مینھ تو کر چھوڑ اس کو بالکل صاف کچھ ہاتھ نہیں لگتا ایسے لوگوں کے ثواب اس چیز کا جو انہوں نے کمایا اور اللہ نہیں دکھاتا سیدھی راہ کافروں کو،

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

اے اہل ایمان ! اپنے صدقات کو باطل نہ کرلو احسان جتلا کر اور کوئی اذیت بخش بات کہہ کر اس شخص کی طرح جو اپنا مال خرچ کرتا ہے لوگوں کو دکھانے کے لیے اور وہ ایمان نہیں رکھتا اللہ اور یوم آخرت پر تو اس کی مثال اس چٹان کی سی ہے جس پر کچھ مٹی (جم گئی) ہو پھر اس پر زوردار بارش پڑے تو وہ اس کو بالکل صاف پتھر چھوڑ دے ان کی کمائی میں سے کچھ بھی ان کے ہاتھ نہیں آئے گا اور اللہ تعالیٰ ایسے کافروں کو راہ یاب نہیں کرتا

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

O Believers, do not spoil your charity by taunts and injury to the recipients like the one who practises charity to be seen by men, while he neither believes in Allah nor in the Last Day. His charity may be likened to the rainfall on a rock which had only a thin layer of soil upon it. When heavy rain fell on it, the whole of the soil washed away and the rock was left bare Such people do not gain the reward they imagine they have earned by their seeming charity; Allah does not show the Right Way to the ungrateful.

اے ایمان لانے والو! اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور دکھ دے کر اس شخص کی طرح خاک میں نہ ملا دو ، جو اپنا مال محض لوگوں کے دکھانے کو خرچ کرتا ہے اور نہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے ، نہ آخرت 303 پر ۔ اس کے خرچ کی مثال ایسی ہے ، جیسے ایک چٹان تھی ، جس پر مٹی کی تہہ جمی ہوئی تھی ۔ اس پر جب زور کا مینہ برسا ، تو ساری مٹی بہہ گئ اور صاف چٹان کی چٹان رہ گئی ۔ 304 ایسے لوگ اپنے نزدیک خیرات کر کے جو نیکی کماتے ہیں ، اس سے کچھ بھی ان کے ہاتھ نہیں آتا ، اور کافروں کو سیدھی راہ دکھانا اللہ کا دستور نہیں ہے 305 ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

اے ایمان والو اپنے صدقات کو احسان جتلا کر اور تکلیف پہنچا کر اس شخص کی طرح ضائع مت کرو جو اپنا مال لوگوں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتا ہے اور اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتا ۔ چنانچہ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک چکنی چٹان پر مٹی جمی ہو ، پھر اس پر زور کی بارش پڑے اور اس ( مٹی کو بہا کر چٹان ) کو ( دوبارہ ) چکنی بنا چھوڑے ۔ ( ١٨٠ ) ایسے لوگوں نے جو کمائی کی ہوتی ہے وہ ذرا بھی ان کے ہاتھ نہیں لگتی ، اور اللہ ( ایسے ) کافروں کو ہدایت تک نہیں پہنچاتا ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

اے ایمان والوں اپنی خیرات کو احسان جتا کر اور ستا کے بےکار مت کرو جس میں کچھ ثواب نہ ہو اس شخص کی طرح جو لوگوں کی دکھا وئے کی نیت سے خر کرتا ہے اور اللہ اور پچھلے دن پر اس کو یقین نہیں 3 یعنی منا فق ہے تو اس میں مثال ایسی ہے جیسے پتھر کی چٹان پر تھوڑی سی مٹی ہو پھر زور کا منہ پڑھے اور اس کو صفا چٹ کردے قیامت کے دن ان لوگوں کو اپنی کمائی میں سے کچھ ہاتھ نہ لگے گا اور اللہ کافر ناشکرے لوگوں کو راہ پر نہیں لاتا۔ 4

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

اے ایمان والو ! اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور ایذا دے کر برباد نہ کرو جیسے کوئی اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لئے خرچ کرے اور وہ اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان نہ رکھتا ہو تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے صاف چٹان کہ اس پر کچھ مٹی پڑی ہو پھر اس پر بارش برسے تو اسے صاف کردے ان کی اپنی کمائی کچھ بھی ان کے ہاتھ نہ آئے گی اور اللہ کافروں کی راہنمائی نہیں فرماتے

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

اے ایمان والو ! کسی کا دل دکھا کر اور احسان جتا کر اپنے صدقات کو اس شخص کی طرح ضائع نہ کرو جو محض لوگوں کو دکھانے کے لئے خرچ کرتا ہے نہ تو اللہ پر ایمان لاتا ہے اور نہ آخرت پر یقین رکھتا ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک چکنا پتھر جس پر کچھ مٹی جم گئی ہو پھر اس پر ایک زور کی بارش آئی۔ (مٹی بہہ گئی) اور وہ پتھر پھر اسی طرح صاف چکنا پتھر رہ گیا۔ ایسے لوگ اپنے کئے ہوئے کاموں کا کوئی فائدہ حاصل نہ کرسکیں گے۔ اللہ تعالیٰ ناشکرے لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

Translated by

Fateh Muhammad Jalandhari

مومنو! اپنے صدقات (وخیرات) احسان رکھنے اور ایذا دینے سے اس شخص کی طرح برباد نہ کردینا۔ جو لوگوں کو دکھاوے کے لئے مال خرچ کرتا ہے اور خدا اور روز آخرت پر ایمان نہیں رکھتا۔ تو اس (کے مال) کی مثال اس چٹان کی سی ہے جس پر تھوڑی سی مٹی پڑی ہو اور اس پر زور کا مینہ برس کر اسے صاف کر ڈالے۔ (اسی طرح) یہ (ریاکار) لوگ اپنے اعمال کا کچھ بھی صلہ حاصل نہیں کرسکیں گے۔ اور خدا ایسے ناشکروں کو ہدایت نہیں دیا کرتا

Translated by

Abdul Majid Daryabadi

O O Ye who believe! make not your alms void by laying an obligation and by hurt, like unto him who expendeth his substance to be seen of men, and believeth not in Allah and the Last Day. The likeness of him is as the likeness of a smooth stone whereon is dust; a heavy rain falleth upon it, and leaveth it bare. They shall not have power over aught of that which they have earned and Allah shall not guide the disbelieving people.

اے ایمان والو اپنے صدقوں کو احسان (رکھ کر) اور اذیت (پہنچا کر) باطل نہ کردو ۔ جس طرح وہ شخص اپنا مال خرچ کرتا ہے لوگوں کے دکھاوے کو اور اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتا ۔ سو اسکی مثال تو ایسی ہے کہ جیسے ایک چکنا پتھر ہے جس پر کچھ مٹی ہے پھر اس پر زور کی بارش ہو سو وہ اس کو بالکل صاف کردے ۔ (ایسے لوگ) کچھ بھی نہ حاصل کرسکیں گے اپنی کمائی سے ۔ اور اللہ کافر لوگوں کو راہ ہدایت نہ دکھائے گا ۔

Translated by

Amin Ahsan Islahi

اے ایمان والو! احسان جتا کر اور دل آزاری کرکے اپنی خیرات کو اکارت مت کرو ، اس شخص کی مانند جو اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کیلئے خرچ کرتا ہے اور اللہ اور روزِ آخرت پر وہ ایمان نہیں رکھتا ۔ ایسے شخص کی تمثیل یوں ہے کہ ایک چٹان ہو ، جس پر کچھ مٹی ہو ، پھر اس پر زور کا مینہ پڑے اور وہ اس کو بالکل سپاٹ پتھر چھوڑ جائے ۔ ان کی کمائی میں سے کچھ بھی ان کے پلے نہیں پڑے گا اور اللہ ناشکروں کو بامراد نہیں کرے گا ۔

Translated by

Mufti Naeem

اے ایمان والو! اپنے صدقات کو احسان جتلانے اور ( سائل کو ) اذیت والی بات ( کہنے ) سے ضائع نہ کرو ، اسی شخص کی طرح جو اپنے مالوں کو لوگوں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتا ہے اور وہ اﷲ ( تعالیٰ ) اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں لاتا پس اس کی مثال اس چکنی چٹان کی سی ہے جس پر ( کچھ ) مٹی ( جمی ہوئی ) ہو پس اس پر بارش برسے پس وہ اس ( چٹان کو ) بالکل چکنا بناڈالے ، یہ لوگ اپنے کاٹے ہوئے میں سے کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتے اور اﷲ ( تعالیٰ ) کافر قوم کو ہدایت نہیں دیا کرتے

Translated by

Muhtrama Riffat Ijaz

اے ایمان والو ! اپنی خیرات ضائع نہ کرو احسان جتا کر اور تکلیف پہنچا کر وہ شخص جو اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لئے خرچ کرتا ہے اللہ اور آخرت کے دن پر یقین نہیں رکھتا اس کی مثال ایسے ہے جیسے صاف پتھر اس پر کچھ مٹی پڑی ہے۔ پھر اس زور سے مینہ برسا کہ اسے بالکل صاف کردیا۔ ایسے لوگوں کو اپنے کمائے کا کچھ بھی ثواب نہیں ملتا اور اللہ کافروں کو سیدھی راہ نہیں دکھاتا

Translated by

Mulana Ishaq Madni

اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو، اکارت (اور ضائع) مت کرو تم لوگ اپنے صدقات (و خیرات) کو، احسان جتلا کر، اور ایذا پہنچا کر، اس شخص کی طرح جو خرچ کرتا ہے اپنا مال لوگوں کو دکھلاوے کے لئے، اور وہ ایمان نہیں رکھتا اللہ پر، اور قیامت کے دن پر، سو اس کی مثال ایسے ہے، جیسے کسی چٹان پر کچھ مٹی پڑی ہو، پھر زور کی بارش پڑ کر اس کو بالکل صاف کر دے، ایسے لوگوں کو اپنی کمائی میں سے کچھ بھی ہاتھ نہ لگ سکے گا، اور اللہ ہدایت (کی دولت) سے نہیں نوازتا ایسے ظالم لوگوں کو، (ان کی اپنی بدنیتی اور سوء اختیار کی بناء پر)

Translated by

Noor ul Amin

اے ایمان والواپنے صدقات کو احسان جتلا کر اور دکھ پہنچاکرضائع مت کروجیسے وہ شخص ( ضائع کرتا ہے ) جواپنامال لوگوں کو دکھلانے کی خاطرخرچ کرتا ہے اور اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتا اس کی مثال یوں ہے جیسے ایک صاف اور چکناپتھرہوجس پر مٹی کی تہ جمی ہوپھراس پر زورکامینہ برساتومٹی بہہ گئی اور پتھر باقی رہ گیا جو ثواب بھی وہ کمائیں گے توبھی ان کے ہاتھ کچھ نہ آئیگااوراللہ کافروں کو ہدایت نہیں دیتا

Kanzul Eman by

Ahmad Raza Khan

اے ایمان والوں اپنے صدقے باطل نہ کردو احسان رکھ کر اور ایذا دے کر ( ف۵۵٤ ) اس کی طرح جو اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لئے خرچ کرے اور اللہ اور قیامت پر ایمان نہ لائے ، تو اس کی کہاوت ایسی ہے جیسے ایک چٹان کہ اس پر مٹی ہے اب اس پر زور کا پانی پڑا جس نے اسے نرا پتھر کر چھوڑا ( ف۵۵۵ ) اپنی کمائی سے کسی چیز پر قابو نہ پائیں گے ، اور اللہ کافروں کو راہ نہیں دیتا ،

Translated by

Tahir ul Qadri

اے ایمان والو! اپنے صدقات ( بعد ازاں ) احسان جتا کر اور دُکھ دے کر اس شخص کی طرح برباد نہ کر لیا کرو جو مال لوگوں کے دکھانے کے لئے خرچ کرتا ہے اور نہ اﷲ پر ایمان رکھتا ہے اور نہ روزِ قیامت پر ، اس کی مثال ایک ایسے چکنے پتھر کی سی ہے جس پر تھوڑی سی مٹی پڑی ہو پھر اس پر زوردار بارش ہو تو وہ اسے ( پھر وہی ) سخت اور صاف ( پتھر ) کر کے ہی چھوڑ دے ، سو اپنی کمائی میں سے ان ( ریاکاروں ) کے ہاتھ کچھ بھی نہیں آئے گا ، اور اﷲ کافر قوم کو ہدایت نہیں فرماتا

Translated by

Hussain Najfi

اے ایمان والو! ( سائل کو ) احسان جتا کر اور ایذا پہنچا کر اپنے صدقہ و خیرات کو اس شخص کی طرح اکارت و برباد نہ کرو جو محض لوگوں کو دکھانے کیلئے اپنا مال خرچ کرتا ہے اور خدا اور روزِ آخرت پر ایمان نہیں رکھتا ۔ اس کی ( خیرات کی ) مثال اس چکنی چٹان کی سی ہے ۔ جس پر کچھ خاک پڑی ہوئی ہو اور اس پر بڑے دانے والی زور کی بارش برسے ۔ اور ( خاک کو بہا کر لے جائے ) اور اس ( چٹان ) کو صاف چکنا چھوڑ جائے ۔ اسی طرح یہ ( ریاکار ) لوگ جو کچھ ( صدقہ و خیرات وغیرہ ) کرتے ہیں اس سے کچھ بھی ان کے ہاتھ نہیں آئے گا اور خدا کافر لوگوں کو ہدایت نہیں کرتا ( انہیں منزل مقصود تک نہیں پہنچاتا ) ۔

Translated by

Abdullah Yousuf Ali

O ye who believe! cancel not your charity by reminders of your generosity or by injury,- like those who spend their substance to be seen of men, but believe neither in Allah nor in the Last Day. They are in parable like a hard, barren rock, on which is a little soil: on it falls heavy rain, which leaves it (Just) a bare stone. They will be able to do nothing with aught they have earned. And Allah guideth not those who reject faith.

Translated by

Muhammad Sarwar

Believers, do not make your charities fruitless by reproachfully reminding the recipient of your favor or making them feel insulted, like the one who spends his property to show off and who has no faith in God or belief in the Day of Judgment. The example of his deed is as though some soil has gathered on a rock and after a rain fall it turns hard and barren. Such people can not benefit from what they have earned. God does not guide the unbelievers.

Translated by

Safi ur Rehman Mubarakpuri

O you who believe! Do not render in vain your Sadaqah (charity) by reminders of your generosity or by injury, like him who spends his wealth to be seen of men, and he does not believe in Allah, nor in the Last Day. His likeness is the likeness of a smooth rock on which is a little dust; on it falls heavy rain which leaves it bare. They are not able to do anything with what they have earned. And Allah does not guide the disbelieving people.

Translated by

Muhammad Habib Shakir

O you who believe! do not make your charity worthless by reproach and injury, like him who spends his property to be seen of men and does not believe in Allah and the last day; so his parable is as the parable of a smooth rock with earth upon it, then a heavy rain falls upon it, so it leaves it bare; they shall not be able to gain anything of what they have earned; and Allah does not guide the unbelieving people.

Translated by

William Pickthall

O ye who believe! Render not vain your almsgiving by reproach and injury, like him who spendeth his wealth only to be seen of men and believeth not in Allah and the Last Day. His likeness is as the likeness of a rock whereon is dust of earth; a rainstorm smiteth it, leaving it smooth and bare. They have no control of aught of that which they have gained. Allah guideth not the disbelieving folk.

Translated by

Moulana Younas Palanpuri

ऐ ईमान वालो! एहसान रख कर और सता कर अपने सदक़े को ज़ाया न करो, उस इंसान की तरह जो अपना माल दिखावे के लिए ख़र्च करता है और अल्लाह पर और आख़िरत के दिन पर ईमान नहीं रखता, पस उसकी मिसाल ऐसी है जैसे एक चट्टान हो जिस पर कुछ मिट्टी हो, फिर उस पर ज़ोर की बारिश पड़े और उसको बिल्कुल साफ़ कर दे, ऐसे लोगों को अपनी कमाई कुछ भी हाथ न लगेगी, और अल्लाह मुनकिर लोगों को राह नहीं दिखाता।

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

اے ایمان والو تم احسان جتلاکر یا ایذا پہنچاکر اپنی خیرات کو برباد مت کرو جس طرح وہ شخص جو اپنا مال خرچ کرتا ہے (محض) لوگوں کے دکھلانے کی غرض سے اور ایمان نہیں رکھتا اللہ پر اور یوم قیامت پر سو اس شخص کی حالت ایسی ہے جیسے ایک چکنا پتھر جس پر کچھ مٹی (آگئی) ہو پھر اس پر زور کی بارش پڑجاوے سو اس کو بالکل صاف کردے ایسے لوگوں کو اپنی کمائی ذرا بھی ہاتھ نہ لگے گی۔ اور اللہ تعالیٰ کافر لوگوں کو (جنت کا) رستہ نہ بتلاویں گے۔ (5) (264)

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

اے ایمان والو ! اپنی خیرات کو احسان جتلا کر اور ایذا پہنچا کر برباد نہ کرو جس طرح وہ شخص جو اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لیے خرچ کرتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ اور قیامت پر ایمان نہیں رکھتا۔ اس کی مثال اس صاف پتھر کی طرح ہے جس پر معمولی سی مٹی ہو پھر اس پر زور دار بارش برسے اور وہ اسے بالکل صاف کر دے ایسے ریا کاروں کو اپنی کمائی سے کچھ حاصل نہیں ہوتا اور اللہ تعالیٰ کافروں کو ہدایت نہیں دیتا

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اے ایمان لانے والو ! اپنے صدقات کو احسان جتاکر اور دکھ دے کر اس شخص کی طرح خاک میں نہ ملادو ، جو اپنا مال محض لوگوں کے دکھانے کو خرچ کرتا ہے اور نہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے ، نہ آخرت پر ۔ اس شخص کے خرچ کی مثال ایسی ہے جیسے ایک چٹان تھی ، جس پر مٹی کی تہہ جمی ہوئی تھی ۔ اس پر جب زور کامینہ برسا تو ساری مٹی بہہ گئی اور صاف چٹان کی چٹان رہ گئی ۔ ایسے لوگ اپنے نزدیک خیرات کرکے جو نیکی کماتے ہیں ، اس سے کچھ بھی ان کے ہاتھ نہیں آتا ، اور کافروں کو سیدھی راہ دکھانا ، اللہ کا دستور نہیں ہے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اے ایمان والو ! مت باطل کرو اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور تکلیف پہنچا کر اس شخص کی طرح سے جو اپنا مال خرچ کرتا ہے لوگوں کو دکھانے کے لیے اور ایمان نہیں لاتا اللہ پر اور یوم آخرت پر، سو اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی چکنا پتھر ہو جس پر ذرا سی مٹی ہو پھر پہنچ گئی اس کو زور دار بارش سو کر چھوڑا اس کو بالکل ہی صاف، یہ لوگ اپنی کمائی میں سے کسی چیز پر قادر نہ ہوں گے، اور اللہ کافر قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

اے ایمان والو مت ضائع کرو اپنی خیرات احسان رکھ کر اور ایذاء دے کر اس شخص کی طرح جو خرچ کرتا ہے اپنا مال لوگوں کے دکھانے کو اور یقین نہیں رکھتا ہے اللہ پر اور قیامت کے دن پر سو اس کی مثال ایسی ہے جیسے صاف پتھر کہ اس پر پڑی ہے کچھ مٹی پھر برسا اس پر زور کا مینہ تو کر چھوڑا اس کو بالکل صاف کچھ ہاتھ نہیں لگتا ایسے لوگوں کے ثواب اس چیز کا جو انہوں نے کمایا اور اللہ نہیں دکھاتا سیدھی راہ کافروں کو

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

اے ایمان والو اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور ایذا پہنچا کر اس شخص کی طرح ضائع نہ کرو جو اپنا مال محض لوگوں کے دکھانیکو خرچ کرتا ہے اور وہ نہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہے اور نہ قیامت کے دن پر سو ایسے ریا کار کی حالت ایسی ہے جیسے ایک صاف چکنا پتھر کہ اس پر معمولی سی مٹی پڑی ہوئی ہو پھر اس پتھر پر زور کی بارش ہوجائے اور وہ بارش اس کو بالکل صاف کر کے چھوڑ دے ایسے لوگ اپنے کئے ہوئے کاموں کا کوئی فائدہ حاصل نہ کرسکیں گے اور اللہ تعالیٰ ایسے ناسپاس لوگوں کی رہبری نہیں کیا کرتا ۔