The earlier verses affirmed the existence and the Oneness of Allah, and prophethood, giving self-evident proofs and refuting the whimsical and false notions of the doubters and the disbelievers. These two verses speak of the blessings which Allah has showered on man, pointing out that all the same there are men who do not recognize the bounty of Allah and persist in their denial -- the suggestion being that if they do not want to take the trouble of considering the arguments which have been advanced by the Holy Qur&an in the earlier verses, they should, as every man with an undistorted nature must, at least be grateful to their benefactor, for even this would be a way of realizing why they should be obedient to Allah. The first of these two verses refers to the blessings which are particular to the very being of man -- that is to say, he had no life before Allah gave him existence. The second verse refers to the general blessings which are common to man and other creatures -- firstly, the earth and all that it contains and on which man&s life immediately depends, and secondly, the skies with which life on earth is directly related. Verse 28 begins by expressing surprise at those who insist on being ungrateful to Allah and on denying Him. On the face of it, the disbelievers had never denied Allah but only the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، all the same, the Holy Qur&an equates such a denial with the denial of Allah Himself. Then, the verse reminds man that once he was |"dead|" اموات (amwat), or that he had no life. He existed, if at all, in the shape of billions of lifeless particles aimlessly floating; Allah brought them together, made them into a man, and gave them life. The verse proceeds to warn him that Allah will take away his life, and then give it back to him a second time. This second life refers to the Day of Judgment when Allah will collect the lifeless and scattered particles of each and every man again, and give-him a new life. Thus, the first &death& or &state of lifelessness& was at the beginning before man received life from Allah; the second death comes when a man completes the life-span allotted to him; and the second life will be given on the Day of Judgment. The verse ends by telling man that he will ultimately go back to Allah. This, of course, refers to the Resurrection when all men will rise from their graves, will be assembled for giving an account of their deeds, and be finally punished or rewarded according to what they had been doing in the world. According to this verse, the chief blessing of Allah for man is life, for without life he cannot profit from any other blessing. This is obvious enough. But the verse counts death too as a blessing. It is so, because physical death is the door to the perpetual life of the other world after which there is no death.
خلاصہ تفسیر : بھلا کیوں کر ناشکری کرتے ہو اللہ کے ساتھ (کہ اس کے احسانات کو بھلا دیتے ہو اور غیروں کا کلمہ پڑہتے ہو) حالانکہ ( اس پر دلائل واضحہ قائم ہیں کہ صرف ایک اللہ ہی مستحق عبادت ہے مثلا یہ کہ) تھے تم بےجان (یعنی نطفہ میں جان پڑنے سے پہلے) سو تم کو جاندار کیا پھر تم کو موت دیں گے پھر زندہ کریں گے (یعنی قیامت کے دن) پھر انہی کے پاس لے جائے جاؤ گے (یعنی میدان قیامت میں حساب کتاب کے لئے حاضر کئے جاؤ گے) وہ ذات پاک ایسی ہے جس نے پیدا کیا تمہارے فائدہ کے لئے جو کچھ بھی زمین میں موجود ہے سب کا سب (یہ فائدہ عام ہے کھانے پینے کا ہو یا پہننے اور برتنے کا یا نکاح اور روح کو تازگی بخشنے کا اس سے معلوم ہوا کہ دنیا کی کوئی چیز ایسی نہیں جس سے انسان کو فائدہ نہ پہونچتا ہو اور اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہر چیز کا ہر استعمال حلال ہو جیسے سمیات قاتلہ بھی فائدہ انسان سے خالی نہیں مگر ان کا کھا لینا عقلاء کے نزدیک ممنوع) پھر توجہ فرمائی آسمان کی طرف (یعنی اس کی تخلیق و تکمیل کی طرف) تو درست کرکے بنا دئیے ان کو سات آسمان اور وہ تو سب چیزوں کے جاننے والے ہیں، معارف و مسائل : ربط آیات : پچھلی آیتوں میں خدا تعالیٰ کے وجود، توحید اور رسالت کے دلائل واضحہ اور منکرین و مخالفین کے خیالات باطلہ کا رد مذکور تھا مذکورہ دو آیتوں میں اللہ تعالیٰ کے احسانات اور انعامات کا ذکر کرکے اس پر اظہار تعجب کیا گیا ہے کہ اتنے احسانات کے ہوتے ہوئے کیسے یہ ظالم کفر و انکار میں مبتلا ہیں جس میں اس پر تنبیہ ہے کہ اگر دلائل میں غور کرنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے تو کم ازکم محسن کا احسان ماننا اس کی تعظیم و اطاعت پر آجاؤ، پہلی آیت میں ان مخصوص نعمتوں کا ذکر ہے جو ہر انسان کی ذات اور نفس کے اندر موجود ہیں کہ پہلے وہ بےجان ذرات کی صورت میں تھا پھر اس میں اللہ تعالیٰ نے زندگی پیدا فرمائی، دوسری آیت میں ان عام نعمتوں کا ذکر ہے جن سے انسان اور تمام مخلوقات فائدہ اٹھاتی ہیں اور وہ انسان کی زندگی اور بقاء کے لئے ضروری ہیں ان میں پہلے زمین اور اس کی پیداوار کا ذکر کیا گیا جس سے انسان کا قریبی تعلق ہے پھر آسمانوں کا ذکر کیا گیا جن کے ساتھ زمین کی حیات اور پیداوار وابستہ ہے، كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ (کیسے اللہ کا انکار کرتے ہو) ان لوگوں نے اگرچہ بظاہر خدا کا انکار نہیں کیا مگر رسول خدا کے انکار کو خدا ہی کا انکار قرار دے کر ایسا خطاب کیا گیا ہے، كُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُم اموات، میت کی جمع ہے مردہ اور بےجان چیز کو کہا جاتا ہے مراد یہ ہے کہ انسان اپنی اصل حقیقت پر غور کرے تو معلوم ہوگا کہ اس کے وجود کی ابتداء وہ بیجان ذرات ہیں جو کچھ منجمد چیزوں کی شکل میں کچھ بہنے والی چیزوں میں کچھ غذاؤں کی صورت میں تمام دنیا میں پھیلے ہوئے تھے اللہ تعالیٰ نے ان بےجان ذرات کو کہاں کہاں سے جمع فرمایا، پھر ان میں جان ڈالی ان کو زندہ انسان بنادیا یہ اس کی ابتداء پیدائش کا ذکر ہے، ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ یعنی جس نے پہلی مرتبہ تمہارے بےجان ذرات کو جمع کر کے ان میں جان پیدا کی وہ اس عالم میں تمہاری عمر کا مقررہ وقت پورا ہونے کے بعد تمہیں موت دے گا اور پھر ایک عرصہ کے بعد قیامت میں اسی طرح تمہارے جسم کے بےجان اور منتشر ذرّات کو اللہ تعالیٰ نے تمہیں زندہ کیا دوسری موت دنیا کی پوری عمر ہونے کے وقت اور دوسری زندگی قیامت کے روز ہوگی، پہلی موت اور زندگی کے درمیان چونکہ کوئی فاصلہ نہ تھا اس لئے اس میں حرف فاء استعمال کیا گیا فَاَحْيَاكُم اور چونکہ دنیا کی حیات اور موت کے درمیان اور اسی طرح اس موت اور قیامت کی زندگی کے درمیان خاصا فاصلہ تھا اس لئے وہاں لفظ ثُمَّ اختیار کیا گیا ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ کیونکہ لفظ ثُمَّ بعد مدت کے لئے استعمال ہوتا ہے ، ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ یعنی پھر تم اسی ذات پاک کی طرف پھر کر جاؤ گے اس سے مراد حشر ونشر اور قیامت کا وقت ہے، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اس انعام و احسان کا ذکر کیا ہے جو ہر انسان کی اپنی ذات سے متعلق ہے اور جو سارے انعامات و احسانات کا مدار ہے یعنی زندگی، دنیا وآخرت اور زمین و آسمان کی جتنی نعمتیں انسان کو حاصل ہیں وہ سب اسی زندگی پر موقوف ہیں زندگی نہ ہو تو کسی نعمت سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا زندگی کا نعمت ہونا ظاہر ہے مگر اس آیت میں موت کو بھی نعمتوں کی فہرست میں شمار اس لئے کیا گیا ہے کہ یہ دنیا کی موت دروازہ ہے اس دائمی زندگی کا جس کے بعد موت نہیں اس لحاظ سے یہ موت بھی ایک نعمت ہے، مسئلہ : آیت مذکورہ سے ثابت ہوا کہ جو شخص رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کا منکر ہو یا قرآن کے کلام الہی ہونے کا منکر ہو وہ اگرچہ بظاہر خدا کے وجود و عظمت کا انکار نہ کرے مگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ منکرین خدا ہی کی فہرست میں شمار ہے، حیات برزخی : اس آیت میں دنیا کی زندگی اور موت کے بعد صرف ایک حیات کا ذکر ہے جو قیامت کے روز ہونے والی ہے قبر کی زندگی قبر کا سوال و جواب اور قبر میں ثواب و عذاب ہونا قرآن کریم کی متعدد آیات اور حدیث کی متواتر روایات سے ثابت ہے اس کا ذکر نہیں وجہ یہ ہے کہ یہ برزخی زندگی اس طرح کی زندگی نہیں ہے جو انسان کو دنیا میں حاصل ہے یا آخرت میں پھر ہوگی بلکہ ایک درمیانی صورت مثل خواب کی زندگی کے ہے اس کو دنیا کی زندگی کا تکملہ بھی کہا جاسکتا ہے اور آخرت کی زندگی کا مقدمہ بھی اس لئے کوئی مستقل زندگی نہیں جس کا جداگانہ ذکر کیا جائے،