Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 28

سورة البقرة

کَیۡفَ تَکۡفُرُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ کُنۡتُمۡ اَمۡوَاتًا فَاَحۡیَاکُمۡ ۚ ثُمَّ یُمِیۡتُکُمۡ ثُمَّ یُحۡیِیۡکُمۡ ثُمَّ اِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴿۲۸﴾

How can you disbelieve in Allah when you were lifeless and He brought you to life; then He will cause you to die, then He will bring you [back] to life, and then to Him you will be returned.

تم اللہ کے ساتھ کیسے کفر کرتے ہو؟ حالانکہ تم مردہ تھے اس نے تمہیں زندہ کیا ۔ پھر تمہیں مار ڈالے گا پھر زندہ کرے گا پھر اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah testifies to the fact that He exists and that He is the Creator and the Sustainer Who has full authority over His servants, كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ وَكُنتُمْ أَمْوَاتاً فَأَحْيَاكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ How can you disbelieve in Allah seeing that you were dead and He gave you life! Then He will give you death, then again will bring you to life (on the Day of Resurrection) and then unto Him you will return. How can anyone deny Allah's existence or worship others with Him while; وَكُنتُمْ أَمْوَاتاً فَأَحْيَاكُمْ (You were dead and He gave you life), meaning, He brought them from the state of non-existence to life. Similarly, Allah said, أَمْ خُلِقُواْ مِنْ غَيْرِ شَىْءٍ أَمْ هُمُ الْخَـلِقُونَ أَمْ خَلَقُواْ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضَ بَل لاَّ يُوقِنُونَ Were they created by nothing! Or were they themselves the creators! Or did they create the heavens and the earth! Nay, but they have no firm belief. (52:35-36) and, هَلْ أَتَى عَلَى الاِنسَـنِ حِينٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُن شَيْياً مَّذْكُوراً Has there not been over man a period of time, when he was not a thing worth mentioning. (76:1) There are many other Ayat on this subject. Ibn Jarir reported from Ata that Ibn Abbas said that, وَكُنتُمْ أَمْوَاتاً فَأَحْيَاكُمْ (Seeing that you were dead and He gave you life) means, "You did not exist beforehand. You were nothing until Allah created you; He will bring death to you and then bring you back to life during Resurrection." Ibn Abbas then said, "This is similar to Allah's statement; قَالُواْ رَبَّنَأ أَمَتَّنَا اثْنَتَيْنِ وَأَحْيَيْتَنَا اثْنَتَيْنِ They will say: "Our Lord! You have made us to die twice and You have given us life twice." (40:11)"

ٹھوس دلائل پر مبنی دعوت اس بات کا ثبوت دیتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ موجود ہے وہ قدرتوں والا ہے ۔ وہی پیدا کرنے والا اور اختیار والا ہے ۔ اس آیت میں فرمایا تم اللہ تعالیٰ کے وجود سے انکار کیسے کر سکتے ہو؟ یا اس کے ساتھ دوسرے کو عبادت میں شریک کیسے کر سکتے ہو؟ جبکہ تمہیں عدم سے وجود میں لانے والا ایک وہی ہے ۔ دوسری جگہ فرمایا کیا یہ بغیر کسی چیز کے پیدا کئے گئے؟ یا یہ خود پیدا کرنے والے ہیں؟ انہوں نے زمین و آسمان بھی پیدا کیا ہے؟ ہرگز نہیں بلکہ یہ بےیقین لوگ ہیں ۔ اور جگہ ارشاد ہوتا ہے آیت ( ھل اتی علی الانسان حین من الدھر لم یکن شیأ مذکورا ) یقینا انسان پر وہ زمانہ بھی آیا ہے جس وقت یہ قابل ذکر چیز ہی نہ تھا ۔ اور بھی اس طرح کی بہت سی آیتیں ہیں ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کفار جو کہیں گے آیت ( رَبَّنَآ اَمَتَّنَا اثْنَتَيْنِ ) 40 ۔ غافر:11 ) اے اللہ دو دفعہ تو نے ہمیں مارا اور دو دفعہ جلایا ہمیں اپنے گناہوں کا اقرار ہے ۔ اس سے مراد یہی ہے جو اس آیت ( وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ ) 2 ۔ البقرۃ:28 ) میں ہے مطلب یہ ہے کہ تم اپنے باپوں کی پیٹھ میں مردہ تھے یعنی کچھ بھی نہ تھے ۔ اس نے تمہیں زندہ کیا یعنی پیدا کیا پھر تمہیں مارے گا یعنی موت ایک روز ضرور آئے گی پھر تمہیں قبروں سے اٹھائے گا ۔ پس ایک حالت مردہ پن کی دنیا میں آنے سے پہلے پھر دوسری دنیا میں مرنے اور قبروں کی طرف جانے کی پھر قیامت کے روز اٹھ کھڑے ہونے کی ۔ دو زندگیاں اور دو موتیں ۔ ابو صالح فرماتے ہیں کہ قبر میں انسان کو زندہ کر دیا جاتا ہے ۔ عبدالرحمن بن زید کا بیان ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی پیٹھ میں انہیں پیدا کیا پھر ان سے عہد و پیمان لے کر بےجان کر دیا پھر ماں کے پیٹ میں انہیں پیدا کیا پھر دنیوی موت ان پر آئی پھر قیامت والے دن انہیں زندہ کرے گا لیکن یہ قول غریب ہے ۔ پہلا قول ہی درست ہے ۔ ابن مسعود ، ابن عباس اور تابعین کی ایک جماعت کا یہی قول ہے ۔ قرآن میں اور جگہ ہے آیت ( قُلِ اللّٰهُ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يَجْمَعُكُمْ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَا رَيْبَ فِيْهِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ ) 45 ۔ الجاثیۃ:26 ) اللہ ہی تمہیں پیدا کرتا ہے پھر مارتا ہے پھر تمہیں قیامت کے دن جمع کرے گا ۔ ان پتھروں اور تصویروں کو جنہیں مشرکین پوجتے تھے قرآن نے مردہ کہا ۔ فرمایا اموات غیر احیاء وہ سب مردہ ہیں زندہ نہیں ۔ زمین کے بارے میں فرمایا آیت ( وَاٰيَةٌ لَّهُمُ الْاَرْضُ الْمَيْتَةُ ) 36 ۔ یس:33 ) ان کے لئے مردہ زمین بھی ہماری صداقت کی نشانی ہے جسے ہم زندہ کرتے ہیں اور اس سے دانے نکالتے ہیں جسے یہ کھاتے ہیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

28۔ 1 آیت میں دو موتوں اور دو زندگیوں کا تذکرہ۔ پہلی موت سے مراد عدم (نیست یعنی نہ ہونا) ہے اور پہلی زندگی ماں کے پیٹ سے نکل کر موت سے ہمکنار ہونے تک ہے۔ پھر موت آجائے گی پھر آخرت کی زندگی دوسری زندگی ہوگی جس کا انکار کفار اور منکرین قیامت کرتے ہیں بعض علماء کی رائے ہے کہ قبر کی زندگی (کَمَا ھِیَ ) دنیوی زندگی میں ہی شامل ہوگی (فتح القدیر) صحیح یہ ہے کہ برزخ کی زندگی حیات آخرت کا پیش خیمہ اور اس کا سرنامہ ہے اس لئے اس کا تعلق آخرت کی زندگی سے ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٦] زندگی اور موت کے چار مراحل :۔ اس آیت میں انسان پر وارد ہونے والی چار کیفیات کا ذکر ہے۔ پہلے موت، پھر زندگی، پھر موت، پھر زندگی۔ روح اور جسم کے اتصال کا نام زندگی اور ان کے انفصال کا نام موت ہے۔ پہلی حالت موت ہے یعنی جملہ انسانوں کی ارواح تو پیدا ہوچکی تھیں۔ لیکن جسم اپنے اپنے وقت پر عطا ہوئے، اسی عرصہ میں عہد الست لیا گیا تھا۔ دوسری حالت انسان کی پیدائش سے لے کر اس کے مرنے تک ہے، جس میں وہ اچھے یا برے اعمال کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ تیسری حالت موت سے لے کر حشر تک اور چوتھی اور آخری حالت دوبارہ جی اٹھنے (حشر) کے بعد لامتناہی زندگی ہے۔ یاد رہے کہ جن حالتوں کو موت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ان میں بھی زندگی کی کچھ نہ کچھ رمق موجود ہوتی ہے۔ مگر چونکہ غالب اثرات موت کے ہوتے ہیں۔ لہذا انہیں موت سے تعبیر کیا گیا۔ کیونکہ پہلی موت کے درمیان ہی عہد الست لیا گیا تھا اور دوسری موت میں ہی انسان کو قبر کا عذاب ہوتا ہے اور دنیا میں بھی یہ حالت خواب سے سمجھا دی گئی ہے۔ کیونکہ خواب کی حالت میں انسان پر بیشتر اثرات موت کے غالب ہوتے ہیں۔ تاہم وہ عالم خواب میں چلتا پھرتا، کھاتا پیتا اور کئی طرح کے کام کرتا ہے اور خواب یا نیند کو حدیث میں موت کی بہن قرار دیا گیا ہے، زندگی کی نہیں، نیز سونے کے وقت یہ دعا سکھائی گئی ہے۔ اللھم باسمک أموت وأحییٰ نیز قرآنی تصریحات سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ موت سلبی چیز نہیں بلکہ ایجابی ہے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے موت کو پہلے پیدا کیا تھا اور زندگی کو بعد میں جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے : آیت (الَّذِيْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلاً ) 72 ۔ 2) && اسی نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون اعمال کے اعتبار سے اچھا ہے && اور زیر مطالعہ آیت میں انسان کی توجہ اس طرف مبذول کرائی گئی ہے کہ جو ہستی تمہاری ذات پر اتنے وسیع تصرفات کی قدرت رکھتی ہے تم اس کا انکار کیسے کرسکتے ہو ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

( يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا) کے ساتھ توحید کی جو بات شروع ہوئی تھی وہی بات آگے بڑھائی جا رہی ہے کہ اللہ کے ساتھ تمہارے کفر پر تعجب ہے، جس نے تمہیں اس وقت زندگی بخشی جب تم بےجان تھے، یعنی موجود ہی نہ تھے، پھر وہ تمہیں موت دے گا۔ زندگی اور موت کا یہ سلسلہ جو تمہارے سامنے ہے یہ اللہ تعالیٰ کے وجود اور توحید کی بھی دلیل ہے اور تمہیں دوبارہ زندہ کر کے اپنے سامنے حاضر کرنے کی بھی۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The earlier verses affirmed the existence and the Oneness of Allah, and prophethood, giving self-evident proofs and refuting the whimsical and false notions of the doubters and the disbelievers. These two verses speak of the blessings which Allah has showered on man, pointing out that all the same there are men who do not recognize the bounty of Allah and persist in their denial -- the suggestion being that if they do not want to take the trouble of considering the arguments which have been advanced by the Holy Qur&an in the earlier verses, they should, as every man with an undistorted nature must, at least be grateful to their benefactor, for even this would be a way of realizing why they should be obedient to Allah. The first of these two verses refers to the blessings which are particular to the very being of man -- that is to say, he had no life before Allah gave him existence. The second verse refers to the general blessings which are common to man and other creatures -- firstly, the earth and all that it contains and on which man&s life immediately depends, and secondly, the skies with which life on earth is directly related. Verse 28 begins by expressing surprise at those who insist on being ungrateful to Allah and on denying Him. On the face of it, the disbelievers had never denied Allah but only the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، all the same, the Holy Qur&an equates such a denial with the denial of Allah Himself. Then, the verse reminds man that once he was |"dead|" اموات (amwat), or that he had no life. He existed, if at all, in the shape of billions of lifeless particles aimlessly floating; Allah brought them together, made them into a man, and gave them life. The verse proceeds to warn him that Allah will take away his life, and then give it back to him a second time. This second life refers to the Day of Judgment when Allah will collect the lifeless and scattered particles of each and every man again, and give-him a new life. Thus, the first &death& or &state of lifelessness& was at the beginning before man received life from Allah; the second death comes when a man completes the life-span allotted to him; and the second life will be given on the Day of Judgment. The verse ends by telling man that he will ultimately go back to Allah. This, of course, refers to the Resurrection when all men will rise from their graves, will be assembled for giving an account of their deeds, and be finally punished or rewarded according to what they had been doing in the world. According to this verse, the chief blessing of Allah for man is life, for without life he cannot profit from any other blessing. This is obvious enough. But the verse counts death too as a blessing. It is so, because physical death is the door to the perpetual life of the other world after which there is no death.

خلاصہ تفسیر : بھلا کیوں کر ناشکری کرتے ہو اللہ کے ساتھ (کہ اس کے احسانات کو بھلا دیتے ہو اور غیروں کا کلمہ پڑہتے ہو) حالانکہ ( اس پر دلائل واضحہ قائم ہیں کہ صرف ایک اللہ ہی مستحق عبادت ہے مثلا یہ کہ) تھے تم بےجان (یعنی نطفہ میں جان پڑنے سے پہلے) سو تم کو جاندار کیا پھر تم کو موت دیں گے پھر زندہ کریں گے (یعنی قیامت کے دن) پھر انہی کے پاس لے جائے جاؤ گے (یعنی میدان قیامت میں حساب کتاب کے لئے حاضر کئے جاؤ گے) وہ ذات پاک ایسی ہے جس نے پیدا کیا تمہارے فائدہ کے لئے جو کچھ بھی زمین میں موجود ہے سب کا سب (یہ فائدہ عام ہے کھانے پینے کا ہو یا پہننے اور برتنے کا یا نکاح اور روح کو تازگی بخشنے کا اس سے معلوم ہوا کہ دنیا کی کوئی چیز ایسی نہیں جس سے انسان کو فائدہ نہ پہونچتا ہو اور اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہر چیز کا ہر استعمال حلال ہو جیسے سمیات قاتلہ بھی فائدہ انسان سے خالی نہیں مگر ان کا کھا لینا عقلاء کے نزدیک ممنوع) پھر توجہ فرمائی آسمان کی طرف (یعنی اس کی تخلیق و تکمیل کی طرف) تو درست کرکے بنا دئیے ان کو سات آسمان اور وہ تو سب چیزوں کے جاننے والے ہیں، معارف و مسائل : ربط آیات : پچھلی آیتوں میں خدا تعالیٰ کے وجود، توحید اور رسالت کے دلائل واضحہ اور منکرین و مخالفین کے خیالات باطلہ کا رد مذکور تھا مذکورہ دو آیتوں میں اللہ تعالیٰ کے احسانات اور انعامات کا ذکر کرکے اس پر اظہار تعجب کیا گیا ہے کہ اتنے احسانات کے ہوتے ہوئے کیسے یہ ظالم کفر و انکار میں مبتلا ہیں جس میں اس پر تنبیہ ہے کہ اگر دلائل میں غور کرنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے تو کم ازکم محسن کا احسان ماننا اس کی تعظیم و اطاعت پر آجاؤ، پہلی آیت میں ان مخصوص نعمتوں کا ذکر ہے جو ہر انسان کی ذات اور نفس کے اندر موجود ہیں کہ پہلے وہ بےجان ذرات کی صورت میں تھا پھر اس میں اللہ تعالیٰ نے زندگی پیدا فرمائی، دوسری آیت میں ان عام نعمتوں کا ذکر ہے جن سے انسان اور تمام مخلوقات فائدہ اٹھاتی ہیں اور وہ انسان کی زندگی اور بقاء کے لئے ضروری ہیں ان میں پہلے زمین اور اس کی پیداوار کا ذکر کیا گیا جس سے انسان کا قریبی تعلق ہے پھر آسمانوں کا ذکر کیا گیا جن کے ساتھ زمین کی حیات اور پیداوار وابستہ ہے، كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ (کیسے اللہ کا انکار کرتے ہو) ان لوگوں نے اگرچہ بظاہر خدا کا انکار نہیں کیا مگر رسول خدا کے انکار کو خدا ہی کا انکار قرار دے کر ایسا خطاب کیا گیا ہے، كُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُم اموات، میت کی جمع ہے مردہ اور بےجان چیز کو کہا جاتا ہے مراد یہ ہے کہ انسان اپنی اصل حقیقت پر غور کرے تو معلوم ہوگا کہ اس کے وجود کی ابتداء وہ بیجان ذرات ہیں جو کچھ منجمد چیزوں کی شکل میں کچھ بہنے والی چیزوں میں کچھ غذاؤں کی صورت میں تمام دنیا میں پھیلے ہوئے تھے اللہ تعالیٰ نے ان بےجان ذرات کو کہاں کہاں سے جمع فرمایا، پھر ان میں جان ڈالی ان کو زندہ انسان بنادیا یہ اس کی ابتداء پیدائش کا ذکر ہے، ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ یعنی جس نے پہلی مرتبہ تمہارے بےجان ذرات کو جمع کر کے ان میں جان پیدا کی وہ اس عالم میں تمہاری عمر کا مقررہ وقت پورا ہونے کے بعد تمہیں موت دے گا اور پھر ایک عرصہ کے بعد قیامت میں اسی طرح تمہارے جسم کے بےجان اور منتشر ذرّات کو اللہ تعالیٰ نے تمہیں زندہ کیا دوسری موت دنیا کی پوری عمر ہونے کے وقت اور دوسری زندگی قیامت کے روز ہوگی، پہلی موت اور زندگی کے درمیان چونکہ کوئی فاصلہ نہ تھا اس لئے اس میں حرف فاء استعمال کیا گیا فَاَحْيَاكُم اور چونکہ دنیا کی حیات اور موت کے درمیان اور اسی طرح اس موت اور قیامت کی زندگی کے درمیان خاصا فاصلہ تھا اس لئے وہاں لفظ ثُمَّ اختیار کیا گیا ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ کیونکہ لفظ ثُمَّ بعد مدت کے لئے استعمال ہوتا ہے ، ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ یعنی پھر تم اسی ذات پاک کی طرف پھر کر جاؤ گے اس سے مراد حشر ونشر اور قیامت کا وقت ہے، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اس انعام و احسان کا ذکر کیا ہے جو ہر انسان کی اپنی ذات سے متعلق ہے اور جو سارے انعامات و احسانات کا مدار ہے یعنی زندگی، دنیا وآخرت اور زمین و آسمان کی جتنی نعمتیں انسان کو حاصل ہیں وہ سب اسی زندگی پر موقوف ہیں زندگی نہ ہو تو کسی نعمت سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا زندگی کا نعمت ہونا ظاہر ہے مگر اس آیت میں موت کو بھی نعمتوں کی فہرست میں شمار اس لئے کیا گیا ہے کہ یہ دنیا کی موت دروازہ ہے اس دائمی زندگی کا جس کے بعد موت نہیں اس لحاظ سے یہ موت بھی ایک نعمت ہے، مسئلہ : آیت مذکورہ سے ثابت ہوا کہ جو شخص رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کا منکر ہو یا قرآن کے کلام الہی ہونے کا منکر ہو وہ اگرچہ بظاہر خدا کے وجود و عظمت کا انکار نہ کرے مگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ منکرین خدا ہی کی فہرست میں شمار ہے، حیات برزخی : اس آیت میں دنیا کی زندگی اور موت کے بعد صرف ایک حیات کا ذکر ہے جو قیامت کے روز ہونے والی ہے قبر کی زندگی قبر کا سوال و جواب اور قبر میں ثواب و عذاب ہونا قرآن کریم کی متعدد آیات اور حدیث کی متواتر روایات سے ثابت ہے اس کا ذکر نہیں وجہ یہ ہے کہ یہ برزخی زندگی اس طرح کی زندگی نہیں ہے جو انسان کو دنیا میں حاصل ہے یا آخرت میں پھر ہوگی بلکہ ایک درمیانی صورت مثل خواب کی زندگی کے ہے اس کو دنیا کی زندگی کا تکملہ بھی کہا جاسکتا ہے اور آخرت کی زندگی کا مقدمہ بھی اس لئے کوئی مستقل زندگی نہیں جس کا جداگانہ ذکر کیا جائے،

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ بِاللہِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ۝ ٠ ۚ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ اِلَيْہِ تُرْجَعُوْنَ۝ ٢٨ كيف كَيْفَ : لفظ يسأل به عمّا يصحّ أن يقال فيه : شبيه وغیر شبيه، كالأبيض والأسود، والصحیح والسّقيم، ولهذا لا يصحّ أن يقال في اللہ عزّ وجلّ : كيف، وقد يعبّر بِكَيْفَ عن المسئول عنه كالأسود والأبيض، فإنّا نسمّيه كيف، وكلّ ما أخبر اللہ تعالیٰ بلفظة كَيْفَ عن نفسه فهو استخبار علی طریق التنبيه للمخاطب، أو توبیخا نحو : كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ [ البقرة/ 28] ، كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ [ آل عمران/ 86] ، كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِينَ عَهْدٌ [ التوبة/ 7] ، انْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْأَمْثالَ [ الإسراء/ 48] ، فَانْظُرُوا كَيْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ [ العنکبوت/ 20] ، أَوَلَمْ يَرَوْا كَيْفَ يُبْدِئُ اللَّهُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ [ العنکبوت/ 19] . ( ک ی ف ) کیف ( اسم استفہام ) اس چیز کی حالت در یافت کرنے کے لئے آتا ہے جس پر کہ شیبہ اور غیر شیبہ کا لفظ بولا جاسکتا ہو جیسے ابیض ( سفید اسود ( سیاہی ) صحیح ( تندرست ) سقیم ( بیمار ) وغیرہ ۔ لہذا اللہ تعالیٰ کے متعلق اس کا استعمال جائز نہیں ہے اور کبھی اس چیز پر بھی کیف کا اطلاق کردیتے ہیں جس کے متعلق سوال کر نا ہو مثلا کہا جاتا ہے کہ اسود اور ابیض مقولہ کیف سے ہیں اور جہاں کہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے متعلق کیف کا لفظ استعمال کیا ہے تو وہ تنبیہ یا قو بیخ کے طور پر مخاطب سے استخبار کے لئے لایا گیا ہے جیسے فرمایا : ۔ كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ [ البقرة/ 28] کافرو تم خدا سے کیونکر منکر ہوسکتے ہو ۔ كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ [ آل عمران/ 86] خدا ایسے لوگوں کو کیونکر ہدایت دے ۔ كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِينَ عَهْدٌ [ التوبة/ 7] بھلا مشرکوں کے لئے کیونکر قائم رہ سکتا ہے ۔ انْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْأَمْثالَ [ الإسراء/ 48] دیکھو انہوں نے کس کس طرح کی تمہارے بارے میں باتیں بنائیں ۔ فَانْظُرُوا كَيْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ [ العنکبوت/ 20] اور دیکھو کہ اس نے کس طرح خلقت کو پہلی مر تبہ پیدا کیا ۔ أَوَلَمْ يَرَوْا كَيْفَ يُبْدِئُ اللَّهُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ [ العنکبوت/ 19] کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ خدا کسی طرح خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا پھر کس طرح اس کو بار بار پیدا کرتا رہتا ہے ۔ كفر ( ناشکري) الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وكُفْرُ النّعمة وكُفْرَانُهَا : سترها بترک أداء شكرها، قال تعالی: فَلا كُفْرانَ لِسَعْيِهِ [ الأنبیاء/ 94] . وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ، فَأَبى أَكْثَرُ النَّاسِ إِلَّا كُفُوراً [ الفرقان/ 50] ويقال منهما : كَفَرَ فهو كَافِرٌ. قال في الکفران : لِيَبْلُوَنِي أَأَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُ وَمَنْ شَكَرَ فَإِنَّما يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌ [ النمل/ 40] ، وقال : وَاشْكُرُوا لِي وَلا تَكْفُرُونِ [ البقرة/ 152] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ کفر یا کفر ان نعمت کی ناشکری کر کے اسے چھپانے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَلا كُفْرانَ لِسَعْيِهِ [ الأنبیاء/ 94] ؂ تو اس کی کوشش رائگاں نہ جائے گی ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا فَأَبى أَكْثَرُ النَّاسِ إِلَّا كُفُوراً [ الفرقان/ 50] مگر اکثر لوگوں نے انکار کرنے کے سوا قبول نہ کیا ۔ اور فعل کفر فھوا کافر ہر دو معانی کے لئے آتا ہے ۔ چناچہ میا 5 کفران کے متعلق فرمایا : ۔ لِيَبْلُوَنِي أَأَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُ وَمَنْ شَكَرَ فَإِنَّما يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌ [ النمل/ 40] تاکہ مجھے آز مائے کر میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوم ۔ اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے شکر کرتا ہے ۔ اور جو ناشکری کرتا ہے ۔ تو میرا پروردگار بےپروا اور کرم کر نیوالا ہے ۔ وَاشْكُرُوا لِي وَلا تَكْفُرُونِ [ البقرة/ 152] اور میرا احسان مانتے رہنا اور ناشکری نہ کرنا ۔ موت أنواع الموت بحسب أنواع الحیاة : فالأوّل : ما هو بإزاء القوَّة النامية الموجودة في الإنسان والحیوانات والنّبات . نحو قوله تعالی: يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الروم/ 19] ، وَأَحْيَيْنا بِهِ بَلْدَةً مَيْتاً [ ق/ 11] . الثاني : زوال القوّة الحاسَّة . قال : يا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هذا [ مریم/ 23] ، أَإِذا ما مِتُّ لَسَوْفَ أُخْرَجُ حَيًّا [ مریم/ 66] . الثالث : زوال القوَّة العاقلة، وهي الجهالة . نحو : أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] ، وإيّاه قصد بقوله : إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتى[ النمل/ 80] . الرابع : الحزن المکدِّر للحیاة، وإيّاه قصد بقوله : وَيَأْتِيهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكانٍ وَما هُوَ بِمَيِّتٍ [إبراهيم/ 17] . الخامس : المنامُ ، فقیل : النّوم مَوْتٌ خفیف، والموت نوم ثقیل، وعلی هذا النحو سمّاهما اللہ تعالیٰ توفِّيا . فقال : وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ [ الأنعام/ 60] ( م و ت ) الموت یہ حیات کی ضد ہے لہذا حیات کی طرح موت کی بھی کئی قسمیں ہیں ۔ اول قوت نامیہ ( جو کہ انسان حیوانات اور نباتات ( سب میں پائی جاتی ہے ) کے زوال کو موت کہتے ہیں جیسے فرمایا : ۔ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الروم/ 19] زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے ۔ وَأَحْيَيْنا بِهِ بَلْدَةً مَيْتاً [ ق/ 11] اور اس پانی سے ہم نے شہر مردہ یعنی زمین افتادہ کو زندہ کیا ۔ دوم حس و شعور کے زائل ہوجانے کو موت کہتے ہیں ۔ چناچہ فرمایا ۔ يا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هذا[ مریم/ 23] کاش میں اس سے پہلے مر چکتی ۔ أَإِذا ما مِتُّ لَسَوْفَ أُخْرَجُ حَيًّا [ مریم/ 66] کہ جب میں مرجاؤں گا تو کیا زندہ کر کے نکالا جاؤں گا ۔ سوم ۔ قوت عاقلہ کا زائل ہوجانا اور اسی کا نام جہالت ہے چناچہ فرمایا : ۔ أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] بھلا جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کیا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتى[ النمل/ 80] کچھ شک نہیں کہ تم مردوں کو بات نہیں سنا سکتے ۔ چہارم ۔ غم جو زندگی کے چشمہ صافی کو مکدر کردیتا ہے چنانچہ آیت کریمہ : ۔ وَيَأْتِيهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكانٍ وَما هُوَبِمَيِّتٍ [إبراهيم/ 17] اور ہر طرف سے اسے موت آرہی ہوگی ۔ مگر وہ مرنے میں نہیں آئے گا ۔ میں موت سے یہی مین مراد ہیں ۔ پنجم ۔ موت بمعنی نیند ہوتا ہے اسی لئے کسی نے کہا ہے کہ النوم موت خفیف والموت نوم ثقیل کہ نیند کا نام ہے اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو توفی سے تعبیر فرمایا ۔ چناچہ ارشاد ہے : ۔ وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ [ الأنعام/ 60] اور وہی تو ہے جو ارت کو تمہاری روحیں قبض کرلیتا ہے حيى الحیاة تستعمل علی أوجه : الأوّل : للقوّة النّامية الموجودة في النّبات والحیوان، ومنه قيل : نبات حَيٌّ ، قال عزّ وجلّ : اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الحدید/ 17] ، الثانية : للقوّة الحسّاسة، وبه سمّي الحیوان حيوانا، قال عزّ وجلّ : وَما يَسْتَوِي الْأَحْياءُ وَلَا الْأَمْواتُ [ فاطر/ 22] ، الثالثة : للقوّة العاملة العاقلة، کقوله تعالی: أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] والرابعة : عبارة عن ارتفاع الغمّ ، وعلی هذا قوله عزّ وجلّ : وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْواتاً بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] ، أي : هم متلذّذون، لما روي في الأخبار الکثيرة في أرواح الشّهداء والخامسة : الحیاة الأخرويّة الأبديّة، وذلک يتوصّل إليه بالحیاة التي هي العقل والعلم، قال اللہ تعالی: اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذا دَعاكُمْ لِما يُحْيِيكُمْ [ الأنفال/ 24] والسادسة : الحیاة التي يوصف بها الباري، فإنه إذا قيل فيه تعالی: هو حيّ ، فمعناه : لا يصحّ عليه الموت، ولیس ذلک إلّا لله عزّ وجلّ. ( ح ی ی ) الحیاۃ ) زندگی ، جینا یہ اصل میں حیی ( س ) یحییٰ کا مصدر ہے ) کا استعمال مختلف وجوہ پر ہوتا ہے ۔ ( 1) قوت نامیہ جو حیوانات اور نباتات دونوں میں پائی جاتی ہے ۔ اسی معنی کے لحاظ سے نوبت کو حیہ یعنی زندہ کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الحدید/ 17] جان رکھو کہ خدا ہی زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے ۔ ۔ ( 2 ) دوم حیاۃ کے معنی قوت احساس کے آتے ہیں اور اسی قوت کی بناء پر حیوان کو حیوان کہا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَما يَسْتَوِي الْأَحْياءُ وَلَا الْأَمْواتُ [ فاطر/ 22] اور زندے اور مردے برابر ہوسکتے ہیں ۔ ( 3 ) قوت عاملہ کا عطا کرنا مراد ہوتا ہے چنانچہ فرمایا : ۔ أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] بھلا جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کیا ۔ ( 4 ) غم کا دور ہونا مراد ہوتا ہے ۔ اس معنی میں شاعر نے کہا ہے ( خفیف ) جو شخص مرکر راحت کی نیند سوگیا وہ درحقیقت مردہ نہیں ہے حقیقتا مردے بنے ہوئے ہیں اور آیت کریمہ : ۔ وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْواتاً بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] جو لوگ خدا کی راہ میں مارے گئے ان کو مرے ہوئے نہ سمجھنا وہ مرے ہوئے نہیں ہیں بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہیں ۔ میں شہداء کو اسی معنی میں احیاء یعنی زندے کہا ہے کیونکہ وہ لذت و راحت میں ہیں جیسا کہ ارواح شہداء کے متعلق بہت سی احادیث مروی ہیں ۔ ( 5 ) حیات سے آخرت کی دائمی زندگی مراد ہوتی ہے ۔ جو کہ علم کی زندگی کے ذریعے حاصل ہوسکتی ہے : قرآن میں ہے : ۔ اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذا دَعاكُمْ لِما يُحْيِيكُمْ [ الأنفال/ 24] خدا اور اس کے رسول کا حکم قبول کرو جب کہ رسول خدا تمہیں ایسے کام کے لئے بلاتے ہیں جو تم کو زندگی ( جادواں ) بخشتا ہے۔ ( 6 ) وہ حیات جس سے صرف ذات باری تعالیٰ متصف ہوتی ہے ۔ چناچہ جب اللہ تعالیٰ کی صفت میں حی کہا جاتا ہے تو اس سے مراد وہ ذات اقدس ہوئی ہے جس کے متعلق موت کا تصور بھی نہیں ہوسکتا ۔ پھر دنیا اور آخرت کے لحاظ بھی زندگی دو قسم پر ہے یعنی حیات دنیا اور حیات آخرت چناچہ فرمایا : ۔ فَأَمَّا مَنْ طَغى وَآثَرَ الْحَياةَ الدُّنْيا [ النازعات/ 38] تو جس نے سرکشی کی اور دنیا کی زندگی کو مقدم سمجھنا ۔ إلى إلى: حرف يحدّ به النهاية من الجوانب الست، وأَلَوْتُ في الأمر : قصّرت فيه، هو منه، كأنه رأى فيه الانتهاء، وأَلَوْتُ فلانا، أي : أولیته تقصیرا نحو : کسبته، أي : أولیته کسبا، وما ألوته جهدا، أي : ما أولیته تقصیرا بحسب الجهد، فقولک : «جهدا» تمييز، وکذلك : ما ألوته نصحا . وقوله تعالی: لا يَأْلُونَكُمْ خَبالًا[ آل عمران/ 118] منه، أي : لا يقصّرون في جلب الخبال، وقال تعالی: وَلا يَأْتَلِ أُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ [ النور/ 22] قيل : هو يفتعل من ألوت، وقیل : هو من : آلیت : حلفت . وقیل : نزل ذلک في أبي بكر، وکان قد حلف علی مسطح أن يزوي عنه فضله وردّ هذا بعضهم بأنّ افتعل قلّما يبنی من «أفعل» ، إنما يبنی من «فعل» ، وذلک مثل : کسبت واکتسبت، وصنعت واصطنعت، ورأيت وارتأيت . وروي : «لا دریت ولا ائتلیت»وذلک : افتعلت من قولک : ما ألوته شيئا، كأنه قيل : ولا استطعت . الیٰ ۔ حرف ( جر ) ہے اور جہات ستہ میں سے کسی جہت کی نہایتہ حدبیان کرنے کے لئے آتا ہے ۔ ( ا ل و ) الوت فی الامر کے معنی ہیں کسی کام میں کو تا ہی کرنا گو یا کوتاہی کرنے والا سمجھتا ہے کہ اس امر کی انتہا یہی ہے ۔ اور الوت فلانا کے معنی اولیتہ تقصیرا ( میں نے اس کوتاہی کا والی بنا دیا ) کے ہیں جیسے کسبتہ ای اولیتہ کسبا ( میں نے اسے کسب کا ولی بنا دیا ) ماالوتہ جھدا میں نے مقدر پھر اس سے کوتاہی نہیں کی اس میں جھدا تمیز ہے جس طرح ماالوتہ نصحا میں نصحا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ { لَا يَأْلُونَكُمْ خَبَالًا } ( سورة آل عمران 118) یعنی یہ لوگ تمہاری خرابی چاہنے میں کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے ۔ اور آیت کریمہ :{ وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ } ( سورة النور 22) اور جو لوگ تم میں سے صاحب فضل داور صاحب وسعت ) ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھائیں ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ یہ الوت سے باب افتعال ہے اور بعض نے الیت بمعنی حلفت سے مانا ہے اور کہا ہے کہ یہ آیت حضرت ابوبکر کے متعلق نازل ہوئی تھی جب کہ انہوں نے قسم کھائی تھی کہ وہ آئندہ مسطح کی مالی امداد نہیں کریں گے ۔ لیکن اس پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ فعل ( مجرد ) سے بنایا جاتا ہے جیسے :۔ کبت سے اکتسبت اور صنعت سے اصطنعت اور رایت سے ارتایت اور روایت (12) لا دریت ولا ائتلیت میں بھی ماالوتہ شئیا سے افتعال کا صیغہ ہے ۔ گویا اس کے معنی ولا استطعت کے ہیں ( یعنی تونے نہ جانا اور نہ تجھے اس کی استطاعت ہوئ ) اصل میں رجع الرُّجُوعُ : العود إلى ما کان منه البدء، أو تقدیر البدء مکانا کان أو فعلا، أو قولا، وبذاته کان رجوعه، أو بجزء من أجزائه، أو بفعل من أفعاله . فَالرُّجُوعُ : العود، ( ر ج ع ) الرجوع اس کے اصل معنی کسی چیز کے اپنے میدا حقیقی یا تقدیر ی کی طرف لوٹنے کے ہیں خواہ وہ کوئی مکان ہو یا فعل ہو یا قول اور خواہ وہ رجوع بذاتہ ہو یا باعتبار جز کے اور یا باعتبار فعل کے ہو الغرض رجوع کے معنی عود کرنے اور لوٹنے کے ہیں اور رجع کے معنی لوٹا نے کے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٨) اب اللہ تعالیٰ حیرانگی سے ان کی حقیقت کو واضح فرماتے ہیں کہ تم نطفہ کی صورت میں اپنے باپوں کی پشتوں میں موجود تھے، اس کے بعد اس نے تمہیں تمہاری ماؤں کے رحم میں زندہ کیا، پھر تمہاری عمر کے پورا ہونے پر تمہیں موت دی، اس کے بعد قیامت میں تمہیں زندہ کرے گا اور آخرت میں پھر تمہیں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا پڑے گا، جہاں تمہارے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٨ (کَیْفَ تَکْفُرُوْنَ باللّٰہِ وَکُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْیَاکُمْ ج) (ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ ثُمَّ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ ) اس مقام پر ایک بڑی گہری حکمت اور فلسفے کی بات بیان کی گئی ہے جو آج نگاہوں سے بالکل اوجھل ہوچکی ہے۔ وہ یہ کہ ہم دنیا میں آنے سے پہلے مردہ تھے (کُنْتُمْ اَمْوَاتًا) ۔ اس کے کیا معنی ہیں ؟ یہ مضمون سورة غافر؍سورۃ المؤمن میں زیادہ وضاحت سے آیا ہے ‘ جو سورة البقرۃ سے پہلے نازل ہوچکی تھی۔ لہٰذا یہاں اجمالی تذکرہ ہے۔ وہاں اہل جہنم کا قول بایں الفاظ نقل ہوا ہے : (رَبَّنَا اَمَتَّنَا اثْنَتَیْنِ وَاَحْیَیْتَنَا اثْنَتَیْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَھَلْ اِلٰی خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِیْلٍ ) ” اے ہمارے ربّ ! تو نے دو مرتبہ ہم پر موت وارد کی اور دو مرتبہ ہمیں زندہ کیا ‘ اب ہم نے اپنے گناہوں کا اعتراف کرلیا ہے ‘ تو اب یہاں سے نکلنے کا بھی کوئی راستہ ہے ؟ “ اس سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ انسان کی تخلیقِ اوّل عالم ارواح میں صرف ارواح کی حیثیت سے ہوئی تھی۔ احادیث میں الفاظ وارد ہوئے ہیں : (اَلْاَرْوَاحُ جُنُوْدٌ مُجَنَّدَۃٌ ) [ متفق علیہ ] یعنی ارواح جمع شدہ لشکروں کی صورت میں تھیں۔ ان ارواح سے وہ عہد لیا گیا جو ” عہد الست “ کہلاتا ہے۔ پھر انہیں سلا دیا گیا۔ یہ گویا پہلی موت تھی جو ہم گزار آئے ہیں۔ (آپ جانتے ہیں کہ مردہ معدوم نہیں ہوتا ‘ بےجان ہوتا ہے ‘ ایک طرح سے سویا ہوا ہوتا ہے۔ قرآن حکیم میں موت اور نیند کو باہم تشبیہہ دی گئی ہے۔ ) پھر دنیا میں عالم خلق کا مرحلہ آیا ‘ جس میں تناسل کے ذریعے سے اجساد انسانیہ کی تخلیق ہوتی ہے اور ان میں ارواح پھونکی جاتی ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے مروی متفق علیہ حدیث کے مطابق رحم مادر میں جنین جب چار ماہ کا ہوجاتا ہے تو اس میں وہ روح لا کر پھونک دی جاتی ہے۔ یہ گویا پہلی مرتبہ کا زندہ کیا جانا ہوگیا۔ ہم اس دنیا میں اپنے جسد کے ساتھ زندہ ہوگئے ‘ ہمیں پہلی موت کی نیند سے جگادیا گیا۔ اب ہمیں جو موت آئے گی وہ ہماری دوسری موت ہوگی اور اس کے نتیجے میں ہمارا جسد وہیں چلا جائے گا جہاں سے آیا تھا (یعنی مٹی میں) اور ہماری روح بھی جہاں سے آئی تھی وہیں واپس چلی جائے گی۔ یہ فلسفہ و حکمت قرآنی کا بہت گہرا نکتہ ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(28 ۔ 29): اوپر یہود اور منافقوں کی بد عہدی کا ذکر تھا کہ کفر عنادی کے سبب سے یہود نے تورات کے عہد کو پورا نہیں کیا بلکہ نبی آخر الزمان کے اوصاف کو چھپا کر منافقوں کو طرح طرح سے بہکایا اور ان کو بھی یہ عہدی سکھائی کہ مسلمانوں کے رو و برو وہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں اور اپنی خاص مجلسوں میں اس زبانی عہد سے بھی پھرجاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تو مسلمانوں سے دل لگی کرتے تھے۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان دونوں فرقوں کو جتلایا کہ پیدا ہونے سے پہلے یہ لوگ مٹی تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ان کی راحت کی چیزیں جو کچھ دنیا میں ہیں ان سب کو پیدا کیا سب چیز کا ذرا ذرا حال اس کو معلوم ہے۔ اپنے علم میں جس قدر عمر ان لوگوں کی اس نے لکھی ہے اس کے ختم ہوجانے کے بعدان کو مارے گا اور پھر حشر کے دن ان کو زندہ کر کے ذرہ ذرہ کا ان سخت حساب لیوے گا۔ غرض لوگوں سے اپنے دل کی کفرونفاق کی باتیں چھپا سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے اس سے ان کی کوئی بات پوشیدہ نہیں ہے صحیح بخاری میں روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ کسی شخص نے راس المفسرین حضرت عبد اللہ بن عباس سے پوچھا کہ بعض آیتوں میں آسمان کے پیدا کرنے کا ذکر زمین کے پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اور بعض آیتوں میں زمین کے پیدا کرنے کے بعد اس کا کیا سبب ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس نے فرمایا کہ زمین ایک تو وہ کے طور پر آسمان سے پہلے پیدا ہوئی ہے اور اس کا پھیلانا آسمان کے پیدا کرنے کے بعد ہوا ہے ١۔ سوائے حضرت عبد اللہ بن عباس کے اور سلف نے بھی یہی فرمایا ہے اور اسی قول سے مختلف آیات قرآنی میں مطابقت پیدا ہوتی ہے۔ سورة حم السجدہ اور سورة والنازعات میں اس کی تفصیل اور زیادہ آوے گی۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(2:28) کیف حرف استفہام ہے۔ کیسے، کیونکر، کس طرح۔ یہاں سوال سے مقصود کفار کی جرأت انکار پر استعجاب ہے یا برائے زجر و توبیخ آیا ہے۔ کیف کا استعمال قرآن کریم میں جہاں کہیں بھی آیا ہے سیاق ہمیشہ توبیخ و تنبیہ ہی رہا ہے۔ وکنتم ۔۔ الخ جملہ حالیہ ہے۔ جملہ کیف تکفرون سے ھال ہے (توجہیہ کے لئے ملاحظہ ہو تفسیر حقانی آیتہ ہذا) الف : کنتم امواتا (حالانکہ) تم بےجان تھے۔ پیدائش سے پہلے، صلب پدر میں تشکیل سے پہلے۔ ثم حرف عطف ہے ماقبل سے مابعد کے متاخر ہونے پر دلالت کرتا ہے خواہ یہ متاخر ہونا۔ بالذات ہو۔ مثلاً اثم اذا ماوقع امنتم بہ (10:51) کیا جب وہ آواقع ہوگا تب اس پر ایمان لاؤ گے۔ یا یہ متاخر ہونا رتبہ یا مرتبہ کے لحاظ سے ہو ایسے موقع پر اس کے معنی ہوتے ہیں : اس سے بھی بڑھ کر، مثلاً اگلی ہی آیت (2: 29) میں ارشاد ہوتا ہے : ثم استوی الی السماء فسوھن سبع سموت اس کے معنی یہ ہیں (اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ) وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور انہیں سات آسمان درست کرکے بنا دیئے۔ زمین ومافیہا کی خلقت کے بعد آسمانوں کی تخلیق کا ذکر مؤخر الذکر کی عظمت و تفضل کے لئے ہے۔ ورنہ قرآن مجید میں آسمانوں کے بنائے جانے کے بعد زمین کا بنایا جانا صاف ظاہر ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : والارض بعد ذلک دحھا (79:30) اور اس کے بعد اس نے زمین کو پھیلایا۔ تراخی فی المرتبہ کی دوسری مثال وبدا خلق الانسان من طین (7) ثم جعل نسلہ من سللۃ من ماء مھین (8) ثم سوہ ونفخ فیہ من روحہ (9) (32: 79) اور اس نے انسان کی پیدائش کو مٹی سے شروع کیا۔ پھر اس کی نسل خلاصے سے (یعنی) حقیر پانی سے پیدا کیا ۔ پھر اس کو درست کیا۔ پھر اس میں اپنی طرف سے روح پھونکی۔ اس میں تراخی فی الوقت بھی ہے۔ تراخی فی المرتبہ میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا شعر ہے : فعار ثم عار ثم عار شقاء المرء من اکل الطعام شرم کی بات ہے۔ بہت ہی شرم کی بات ہے بہت ہی شرم کی بات ہے۔ کہ آدمی کھانا کھا کر بیمار ہوجائے۔ یا متاخر ہونا وقت کے لحاظ سے ہو۔ مثلا ً ثم عفونا عنکم من بعد ذلک لعلکم تشکرون ۔ (2:52) پھر اس کے بعد ہم نے تم کو معاف کردیا تاکہ تم شکر کرو، (ا) ثم عام طور پر تراضی وقت کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ بمعنی پھر، اس کے بعد۔ (ب) ثم یمیتکم پھر تمہیں ماریگا دنیوی زندگی ختم ہونے پر۔ (ج) ثم یحیکم پھر تمہیں زندہ کرے گا یعنی جس دن صور پھونکا جائے گا۔ تو پھر تمہیں دوبارہ زندہ کرے گا۔ (د) ثم الیہ ترجعون پھر تم اسی کی طرف پلٹائے جاؤ گے (حساب و کتاب اور سزاو جزا کے لئے) ترجعون مضارع مجہول جمع مذکر حاضر۔ رجع (باب ضرب) مصدر سے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 ۔ تعجب اور انکار کے طور پر فرمایا کہ توحید کے دلائل کی وضاحت کے بعد تمہارا شرک قابل تعجب ہے۔ (بیضاوی) یہاں دو موتوں اور دو زندگیوں کا ذکر ہے۔ انسان پہلے معدوم تھا پھر وجود میں آیا، عدم پہلی موت اور وجود پہلی زندگی ہے دوسری موت یہ معروف موت ہے اور دوسری زندگی آخرت کی زندگی ہے۔ (فتح القدیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 28 تا 29 (کیف) : کیونکر، کس لئے، کیسے ؟ (اموات): مردے، بےجان (موتہ کی جمع ہے) ۔ (احیا): اس نے زندگی دی۔ (ثم) پھر، اس کے بعد ۔ (یمیت): وہ موت دے گا۔ (یحی) : وہ زندہ کرے گا۔ (الیہ) : اسی کی طرف (الیٰ ، طرف، تک ، ہ، وہ) ۔ (ترجعون): تم لوٹائے جاؤ گے۔ (ھو الذی) : وہی تو ہے (ھو، وہ ، الذی، جو، جس نے۔ ترجمہ ہوگا وہی تو ہے جس نے ) ۔ (جمیع): سب کا سب۔ (استوی): وہ برابر ہوا، اس نے توجہ کی۔ (سوی): اس نے برابر کیا۔ (سبع): اس نے برابر کیا۔ (سموت): آسمان (سماء کی جمع ہے ) ۔ (علیم): بہت زیادہ جاننے والا۔ تشریح : آیت نمبر 28 تا 29 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے انسان پر اپنی بےانتہا نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے۔ ارشاد ہے کہ تم بےجان تھے یعنی اس سے پہلے تمہارا وجود ہی نہ تھا اس نے تمہیں زندگی کی نعمت سے نوازا اور تمہاری زندگی وبقاء کے سارے سامان مہیا کر دئیے پھر وہ تمہیں موت کی نیند سلا دے گا، اگر دیکھا جائے تو جہاں زندگی ایک نعمت ہے موت بھی نعمت سے کم نہیں ہے کیونکہ عالم آخرت کی نعمتیں اور وہاں کی زندگی کی ابتداء موت سے ہی ہوتی ہے لہٰذا نعمت کا ذریعہ بھی نعمت ہی ہوا کرتا ہے۔ فرمایا کہ موت کے بعد وہ اللہ تمہیں (قیامت کے دن ) پھر ایک نئی زندگی دے گا جو بالاخر نیک اعمال کے سبب تمہیں جنت کی ابدی راحتوں سے ہم کنار کر دے گی۔ فرمایا کہ اللہ نے انسان کو زندگی دی تو اس کی راحت کے سامان بھی پیدا کئے۔ زمین کو پیدا کیا تو سات آسمانوں کو مستحکم اور مضبوط قلعوں کی طرح تقسیم کردیا تا کہ نظام کائنات کو احسن طریقہ سے چلایا جاسکے۔ فرمایا کہ جس اللہ نے تمہارے جسم و جاں کے لئے زمین و آسمان پیدا کئے اور تمہاری روح کے لئے اپنے کلام کو عطا فرمایا تم تو اس کی ذات کا انکار کر ہی نہیں سکتے ۔ وہ ذات جس نے تمہیں ہر طرح کی نعمتوں سے نوازا ہے تو اس سے سرکشی اور بغاوت کر کے اور اس سے منہ موڑ کر سوائے جہالت کی تاریکیوں کے اور کہاں جاسکتے ہو۔ تمہیں روشنی اور نور اسی کے در سے ملے گا۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : بنی آدم کا اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا عہد توڑنے یعنی توحید کا انکار کرنے کا کوئی جواز نہیں اس پر سوا لیہ انداز میں انتباہ کیا گیا ہے کہ تمہارے پاس اس سے انکار کی کوئی عقلی، نقلی اور فطری دلیل نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفروشرک، رسالت مآب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انکار، اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیے ہوئے ابدی اور ازلی عہد کو توڑنا، باہمی تعلقات کو قطع کرنا اور زمین پر دنگا فساد کرنا یہ ایسے کام ہیں جن میں اعتقادی اور عملی طور پر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور انکار پایا جاتا ہے۔ جس کا انسان کو کسی اعتبار سے حق نہیں پہنچتا۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عدم سے وجود بخشا اور اس کے بعد موت سے ہمکنار کرکے دوبارہ زندہ کرنے کے بعد ابدی زندگی کے لیے اٹھائے گا یہ سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کے اختیار میں نہیں۔ انسان اپنے خالق کے سامنے بےبس ہے جب انسان اپنی موت وحیات اور وجود پر اختیار نہیں رکھتا تو اسے اتنی جرأت کیونکر کہ وہ قادر مطلق کا انکار کرے۔ حالانکہ اس کا اپنے اعمال سمیت رب ذو الجلال کے حضور پیش ہونا یقینی امر ہے جس میں ذرہ برابر شک کی گنجائش نہیں ہوسکتی۔ بیشک انسان کا جسم راکھ کی شکل اختیار کر کے ہواؤں کی نذر ہوجائے یا پانی میں حل ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ ان ذرّات کو مجتمع فرما کر انسانی جسم کو روح سمیت اپنے حضور پیش ہونے کا حکم صادر فرمائے گا۔ اس حقیقت کو قرآن اور رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان الفاظ میں بیان فرمایا : (قُلْ کُوْنُوْاحِجَارَۃً أَوْ حَدِیْدًا۔ أَوْ خَلْقًا مِّمَّا یَکْبُرُ فِيْ صُدُوْرِکُمْ ) (بنی اسرائیل : ٥٠) ” آپ فرمائیے تم پتھر بن جاؤ یا لوہا۔ یا اس سے بڑی مخلوق جو تمہارے دل میں آئے۔ “ (مِنْھَا خَلَقْنٰکُمْ وَ فِیْھَا نُعِیْدُکُمْ وَ مِنْھَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً اُخْرٰی) (طٰہٰ : ٥٥) ” اس زمین سے ہی ہم نے تمہیں پیدا کیا اس میں لوٹائیں گے اور اسی سے دوبارہ نکالیں گے۔ “ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ کَانَ رَجُلٌ یُسْرِفُ عَلٰی نَفْسِہٖ فَلَمَّا حَضَرَہُ الْمَوْتُ قَالَ لِبَنِیْہِ إِذَا أَنَا مُتُّ فَأَحْرِ قُوْنِی ثُمَّ اطْحَنُوْنِی ثُمَّ ذَرُوْنِی فِی الرِّیْحِ فَوَ اللّٰہِ لَءِنْ قَدَرَ عَلَیَّ رَبِّی لَیُعَذِّبَنِّی عَذَابًا مَا عَذَّبَہُ أَحَدًا فَلَمَّا مَاتَ فُعِلَ بِہٖ ذٰلِکَ فَأَمَرَ اللّٰہُ الْأَرْضَ فَقَالَ اجْمَعِی مَا فِیْکِ مِنْہُ فَفَعَلَتْ فَإِذَا ھُوَ قَآءِمٌ فَقَالَ مَا حَمَلَکَ عَلٰی مَا صَنَعْتَ قَالَ یَا رَبِّ خَشْیَتُکَ فَغَفَرَ لَہُ ) (رواہ البخاری : کتاب أحادیث الأنبیاء) ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ایک آدمی اپنے آپ پر بڑا ظلم و ستم کرتا تھا۔ موت کے قریب اس نے اپنے بیٹوں کو کہا جب میں فوت ہوجاؤں تو میری لاش کو جلا کر راکھ ہواؤں میں اڑا دینا۔ اللہ کی قسم ! اگر مجھ پر میرے رب نے قابو پالیا تو مجھے ایسا عذاب دے گا کہ اس سے پہلے اس نے کسی کو عذاب نہ دیا ہوگا۔ چناچہ اس کی موت پر اس کے ساتھ ایسے ہی کیا گیا اللہ تعالیٰ نے زمین کو حکم دیا کہ تیرے پاس جو کچھ ہے سب جمع کر دے۔ جمع کرنے کے بعد اس آدمی سے پوچھا کہ تو نے اس طرح کیوں کیا ؟ جواباً اس نے عرض کی۔ اے اللہ ! تیرے ڈر کی وجہ سے میں نے ایسا کیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے معاف فرما دیا۔ “ جہنمیوں کا اعتراف : (قَالُوْارَبَّنَآ أَمَتَّنَا اثْنَتَیْنِ وَأَحْیَیْتَنَا اثْنَتَیْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَھَلْ إِلٰی خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِیْلٍ ) (المؤمن : ١١) ” کہیں گے اے ہمارے رب ! تو نے ہمیں دو مرتبہ موت دی اور دو مرتبہ زندہ کیا ہم اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں تو کیا یہاں سے نکلنے کی کوئی راہ ہے ؟۔ “ تمام مفسرین نے دو اموات سے مراد ایک وہ موت لی ہے جب انسان عدم کی حالت میں ہوتا ہے، دوسری موت انسانی زندگی کا خاتمہ ہے اسی طرح دنیوی زندگی اور دوسری جنت یا جہنم کی زندگی ہے۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کو ہی موت وحیات پر اختیار ہے اور اسی کی طرف سب نے جمع ہونا ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کے اقتدار اور اختیار کا انکار کرنا کفر ہے۔ ٣۔ انسان کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنے رب کی ذات اور صفات کا انکار کرے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنے کا کوئی جواز نہیں : ١۔ ” اللہ “ ہی خالق ہے اس کے ساتھ کفر کیوں ؟ (البقرہ : ٢٨) ٢۔ ” اللہ “ کی آیات پڑھی جانے کے باوجود کفر کا کیا معنی ؟ (آل عمران : ١٠١) ٣۔ زمین و آسمان بنانے اور بارش اتارنے والا ” اللہ “ ہے اس کے ساتھ دوسرا الٰہ کیوں ؟ (النمل : ٦٠) ٤۔ بحرو بر میں رہنمائی کرنے والا ” اللہ “ ہے اس کا انکار کیوں ؟ (النمل : ٦٣) ٥۔ زندہ کرنے والے اور رزق عطا فرمانے والے ” اللہ “ کے ساتھ کفر چہ معنی دارد ؟ (النمل : ٦٤) ٦۔ پریشانیوں کا مداوا کرنے والا صرف ” اللہ “ ہے اس کا انکار کیوں ؟ (النمل : ٦٢)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ان قوی دلائل کے ہوتے ہوئے اللہ کا انکار کرنا ، کفر و انکار کی وہ قبیح اور ناپسندیدہ روش ہے جس کی پشت پر کوئی سند و دلیل نہیں ہے ۔ قرآن کریم یہاں ایک ایسی حقیقت پیش کرتا ہے جس سے ان کے لئے کوئی راہ فرار نہیں ہے۔ وہ اس بات پر مجبور ہیں کہ اس حقیقت اور اس کے لازمی نتائج کو تسلیم کرلیں ۔ قرآن ان کے سامنے قافلہ حیات اور اس کے مختلف حالات و کیفیات لاکر رکھ دیتا ہے تاکہ وہ اس پر غور کریں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان مردہ حالت میں تھے ، اللہ نے انہیں زندگی سے نوازا ، اللہ ہی انہیں حالت موت سے حالت حیات کی طرف لایا ، یہ ایک ایسی روشن حقیقت ہے کہ سوائے قدرت الٰہی اور تخلیق الٰہی کے اس کی کوئی اور توجیہ وہ نہیں کرسکتے ۔ وہ زندہ ہیں ان کے قلب جسدی میں حیات موجود ہے ؟ اس حیات کا خالق کون ہے ؟ وہ کون ہے جس نے جمادات میں یہ زائد صفت ، صفت حیات پیدا کی ؟ کیونکہ جمادات جن پر موت وجمود کی حالت طاری ہے ، وہ حیات کی حقیقت ومزاج سے بالکل مختلف ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ اس حیات کا مصدر کیا ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ سوال ایسا ہے کہ عقل ونفس ہر وقت کوئی حقیقی اور تشفی بخش جواب چاہتا ہے اور کسی کے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ اس سوال کو نظر انداز کرسکے ۔ پھر اس سوال کے جواب میں کوئی ایسی بات انسان کو مطمئن نہیں کرسکتی جس میں اس مادی دنیا سے آگے کسی خالق ذات کو تسلیم نہ کیا گیا ہو۔ غرض یہ زندگی جو اس زمین پر رواں دواں ہے اور جس کی روش جمادات سے بالکل مختلف ہے کہاں سے آئی ؟ اس کا واحد تشفی بخش جواب یہ ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے آئی اور اسی کی قدرت کا کرشمہ ہے ، یہی جواب ایسا ہے جو سمجھ میں آسکتا ہے ۔ اگر کسی کو یہ جواب تسلیم نہیں ہے تو ہم اس سے پوچھتے ہیں کہ لائے وہ کوئی تشفی بخش جواب ؟ یہ ہے وہ حقیقت جسے قرآن کریم اس موقع پر لوگوں کے سامنے رکھتا ہے ۔ كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ وَكُنْتُمْ أَمْوَاتًا فَأَحْيَاكُمْ ” تم اللہ کے ساتھ کفر کارویہ اختیار کرتے ہو حالانکہ تم بےجان تھے ، اس نے تم کو زندگی عطاکی ۔ “ یعنی تم اس طرح بےجان تھے جس طرح تمہارے اردگرد پھیلی ہوئی یہ کائنات بےجان ہے ۔ اس نے تمہارے اندر جان پیدا کی اور تمہیں زندہ کیا ۔ کوئی اپنے خالق سے انکار کیوں کرسکتا ہے ۔ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ” پھر تمہاری جان سلب کرلے گا۔ “ یہ بھی ایک ایسی حقیقت ہے جس کا کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ کیونکہ زندہ وذی روح مخلوقات کا مرنا روزمرہ کا معمول ومشاہدہ ہے ۔ لہٰذا زندگی کے بعد مرنا ایک ایسی حقیقت ہے جو ازخود ہی ذہنوں پر حاوی ہوتی ہے اور اس میں کسی قسم کی بحث وجدال کی کوئی گنجائش نہیں ہے ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ” پھر وہ تمہیں دوبارہ زندگی عطاکرے گا۔ “ یہ تھی وہ حقیقت جس میں ان کو شک تھا ، لہٰذا وہ اس کے بارے میں بحث وجدال کرتے تھے اور آج بھی اس میں بعض کج فطرت لوگ شک کرتے ہیں ، جو آج پھر صدیوں قبل کی جاہلیت کی طرف لوٹ چکے ہیں ۔ لیکن انسان اگر اس بات پر غور کرے کہ وہ پہلے بھی کچھ نہ تھا۔ اسے پیدا کیا گیا ، لہٰذا یہ بات عقل سے بعید نہیں ہے کہ موت کے بعد دوبارہ اسے زندہ کیا جاسکتا ہے ۔ پس یہ عقیدہ کوئی ایسا عجوبہ نہیں ہے کہ لازماً اس کی تکذیب ہی کی جائے ۔ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ” پھر اسی کی طرف تمہیں پلٹ کرجانا ہے۔ “ جیسا کہ اس نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا اسی طرح تم اس کی طرف لوٹوگے ، جس طرح اس نے تمہیں زمین میں پھیلایا۔ اسی طرح تم اٹھائے جاؤگے ۔ جس طرح تم مردہ حالت سے نکال کر اس زندہ حالت میں لائے گئے ۔ اسی طرح تم اسی کی طرف پلٹ کر جاؤگے تاکہ وہ تمہارے درمیان اپنا حکم نافذ کرے اور تمہارے قضیوں کا فیصلہ کرے۔ یہ ایک مختصر سی آیت ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے اندر پل بھر میں زندگی کا پورا دفتر پھیلا بھی دیا ۔ اور لپیٹ بھی لیا ۔ ایک چمک اٹھی اور دیکھا گیا کہ پوری انسانیت اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے ۔ اللہ نے پہلے اسے زندہ کرکے زمین میں پھیلایا ، پھر اسے اچانک موت نے آلیا ، پھر روز محشر کا منظر ہے جس میں پوری انسانیت اٹھ رہی ہے اور اللہ کی طرف لوٹ رہی ہے بعینہ اسی طرح جس طرح پہلے اللہ نے اسے زندہ کیا تھا ۔ اس برق رفتارپیرایہ بیان میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ صاف صاف نظر آتی ہے اور انسانی احساس و شعور پر اس کے گہرے اثرات پڑتے ہیں ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

مکرر دعوت توحید اس آیت میں پھر توحید کی دعوت دی گئی جو (یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اعْبُدُوْا) میں دی گئی تھی اور ارشاد ہو رہا ہے کہ تم اپنے خالق ومالک کے کیسے منکر ہو رہے ہو اور اس کی توحید سے کیسے انحراف کر رہے ہو حالانکہ اس نے تم کو وجود بخشا ہے۔ تم نطفے کی حالت میں بےجان تھے۔ سو اللہ تعالیٰ نے تم کو زندگی دی تمہارا جسم بنایا اور اس میں روح پھونکی۔ عقل کا تقاضا ہے کہ ایسی ذات پاک پر ایمان لائیں اور کفر اختیار نہ کریں اور بات اتنی ہی نہیں ہے کہ مردہ تھے اس کے بعد اس نے زندگی بخشی بلکہ اس کے بعد یہ بھی ہے کہ جب تمہاری اجل مقررہ ختم ہوگی وہ تمہیں موت دے گا اس کے بعد پھر زندگی بخشے گا، اس زندگی کے بعد اسی کی طرف لوٹا دیئے جاؤ گے۔ اس وقت اس دنیا میں کیے ہوئے اعمال کا حساب ہوگا۔ کفر کا اور برے اعمال کا بدلہ ملے گا۔ ایمان اور عمل صالح کی بھی جزا ملے گی۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

72 ۔ مشرکین کے دونوں شبہات کا جواب دینے کے بعد یہاں سے پھر اصل دعویٰ توحید کی طرف رجوع ہے اور مزید دلائل سے اسے ثابت کیا گیا ہے۔ استفہام تعجب اور انکار کیلئے ہے اور تکفرون کے معنی تشرکون کے ہیں یعنی ایسے واضح دلائل کی موجودگی میں تم کس طرح اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہو۔ کَیْفَ تَکْفُرُوْنَ باللہ بعد نصب الدلائل ووضوع البرھان ثم ذکر الدلائل (معالم ص 37 ج 1) کیف تکفرون باللہ ای کیف تعبدون معہ غیرہ (ابن کثیر ص 67 ج 1) دلائل واضحہ اور براہین قاطعہ کی موجودگی میں تمہارا شرک کرنا نہایت ہی قابل تعجب ہے۔ تم جانتے ہو کہ محیی وممیت، خالق ارض وسماء اور عالم کل شئی اللہ ہی ہے اور یہ اوصاف کسی میں نہیں پائے جاتے تو پھر کیوں اس کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔ وَکُنْتُمْ اَمْوَاتاً یعنی تم بےجان نطفے تھے۔ نطفا فی اصلاب آبائکم (معالم) فَاَحْیَاکُمْ ۔ تمہیں زندگی دی اور زندگی کو قائم رکھنے کے لیے تمام ضروریات مہیا کیں۔ ثُمَّ یُمِیْتُکُم۔ پھر جب تمہاری مقررہ عمریں پوری ہوجائیں گی وہ تمہیں ماردیگا۔ ثُمَّ یُحْیِیْکُم پھر قیامت کے دن وہ تم سب کو دوبارہ زندہ کرے گا۔ ثُمَّ اِلَیْہِ تُرْجَعُوّنَ ۔ پھر حساب و کتاب اور جزاء وسزا کے لیے تم اس کے سامنے لائے جاؤگے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi