Every available translation of Surat ul Baqara, verse 36, side by side - Urdu, English, Hindi and Roman - with the Arabic text above them.
|
فَاَزَلَّہُمَا
پھر پھسلادیا ان دونوں کو
|
الشَّیۡطٰنُ
شیطان نے
|
عَنۡہَا
اس سے
|
فَاَخۡرَجَہُمَا
پھر اس نے نکلوادیا ان دونوں کو
|
مِمَّا
اس سے جو
|
کَانَا
وہ دونوں تھے
|
فِیۡہِ
جس میں
|
وَقُلۡنَا
اور کہا ہم نے
|
اہۡبِطُوۡا
اتر جاؤ
|
بَعۡضُکُمۡ
بعض تمہارے
|
لِبَعۡضٍ
بعض کے
|
عَدُوٌّ
دشمن ہیں
|
وَلَکُمۡ
اور تمہارے لئے
|
فِی الۡاَرۡضِ
زمین میں
|
مُسۡتَقَرٌّ
جائے قرار ہے
|
وَّمَتَاعٌ
اور فائدہ اٹھانا ہے
|
اِلٰی حِیۡنٍ
ایک وقت تک
|
|
فَاَزَلَّہُمَا
تو پھسلادیا ان دونوں کو
|
الشَّیۡطٰنُ
شیطان نے
|
عَنۡہَا
اس سے
|
فَاَخۡرَجَہُمَا
چنانچہ اس نے نکلوادیا ان دونوں کو
|
مِمَّا
اس میں سے جو
|
کَانَا
وہ دونوں تھے
|
فِیۡہِ
جس میں
|
وَقُلۡنَا
اور کہا ہم نے
|
اہۡبِطُوۡا
تم سب اتر جاؤ
|
بَعۡضُکُمۡ
بعض تمہارے
|
لِبَعۡضٍ
بعض کے لیے
|
عَدُوٌّ
دشمن ہیں
|
وَلَکُمۡ
اور تمہارے لئے
|
فِی الۡاَرۡضِ
زمین میں
|
مُسۡتَقَرٌّ
ٹھہرنا ہے
|
وَّمَتَاعٌ
اورفائدہ( اٹھانا )ہے
|
اِلٰی حِیۡنٍ
ایک وقت تک
|
But Satan caused them to slip out of it and removed them from that [condition] in which they had been. And We said, "Go down, [all of you], as enemies to one another, and you will have upon the earth a place of settlement and provision for a time."
لیکن شیطان نے ان کو بہکا کر وہاں سے نکلوا ہی دیا اور ہم نے کہہ دیا کہ اتر جاؤ !تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور ایک وقتِ مقّرر تک تمہارے لئے زمین میں ٹھہرنا اور فائدہ اٹھانا ہے ۔
آخر کار شیطان نے اسی درخت کی ترغیب دیکر آدم و حوا دونوں کو ورغلا دیا۔ اور جس حالت میں وہ تھے انہیں وہاں سے نکلوا کر ہی دم لیا۔ تب ہم نے کہا : تم سب یہاں سے اتر (نکل) جاؤ۔ کیونکہ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو۔ اور اب تمہیں ایک معین وقت (موت یا قیامت) تک زمین میں رہنا اور گزر بسر کرنا ہے۔
تو شیطان نے ان دونوں کواس سے پھسلادیا،چنانچہ اس نے ان دونوں کواس جگہ سے نکلوادیاجس میں وہ تھے اورہم نے حکم دیا: ’’تم سب یہاں سے اُتر جاؤ،تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اورتمہارے لیے زمین میں ایک وقت تک ٹھہرنااورفائدہ اُٹھانا ہے‘‘
Then, Satan caused them to slip from it, and brought them out of where they had been. And We said, |"Go down, you all, some of you enemies of some; and on the earth there will be for you a dwelling place and enjoyment for a time.|"
پھر ہلا دیا شیطان نے اس جگہ سے پھر نکالا ان کو اس عزت و راحت سے کہ جس میں تھے اور ہم نے کہا تم سب اترو تم ایک دوسرے کے دشمن ہوگے اور تمہارے واسطے زمین میں ٹھکانا ہے اور نفع اٹھانا ایک وقت تک
پھر پھسلا دیا ان دونوں کو شیطان نے اس درخت کے بارے میں تو نکلوا دیا ان دونوں کو اس کیفیت میں سے جس میں وہ تھے۔ ) اور ہم نے کہا تم سب اترو تم ایک دوسرے کے دشمن ہو گے۔ اور تمہارے لیے اب زمین میں ٹھکانا ہے اور نفع اٹھانا ہے ایک خاص وقت تک۔
آخرکار شیطان نے ان دونوں کو اس درخت کی تر غیب دے کر ہمارے حکم کی پیروی سے ہٹادیا اور انہیں اس حالت سے نکلوا کر چھوڑا ، جس میں وہ تھے ۔ ہم نے حکم دیا کہ اب تم سب یہاں سے اتر جاؤ ، تم ایک دوسرے کے دشمن 50 ہو اور تمہیں ایک خاص وقت تک زمین میں ٹھیرنا اور وہیں گزر بسر کرنا ہے ۔
پھر ہوا یہ کہ شیطان نے ان دونوں کو وہاں سے ڈگمگادیا اور جس ( عیش ) میں وہ تھے اس سے انہیں نکال کر رہا ( ٣٤ ) اور ہم نے ( آدم ، ان کی بیوی اور ابلیس سے ) کہا : اب تم سب یہاں سے اتر جاؤ ، تم ایک دوسرے کے دشمن ہوگے ، اور تمہارے لئے ایک مدت تک زمین میں ٹھہرنا اور کسی قدر فائدہ اٹھانا ( طے کردیا گیا ) ہے ( ٣٥ )
پھر ان دونوں کو شیطان سے پھسلا کر وہاں سے ہٹا دیا او جس مزے میں تھے اس میں سے نکلوا کر چھوڑا اور ہم نے حکم دیا تم سب اتر جاؤ ایک دوسرے کے دشمن اور تم کو زمین میں رہنا اور وہاں کے مزے اٹھانا ہے ایک مدت تک۔ 5
پھر شیطان نے ان کو اس سے بہکایا تو جس (عیش ونشاط) میں تھے اس سے ان کو نکلوادیا اور ہم نے فرمایا (یہاں سے) چلے جاؤ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہارے لئے زمین میں ایک مقررہ وقت تک رہائش اور معاش ہے
پھر شیطان نے ان دونوں کو ڈگمگا دیا اور دونوں کو (اس راحت و آرام سے ) نکلوا دیا جس میں وہ تھے اور ہم نے کہا کہ تم سب یہاں سے نیچے اتر جاؤ۔ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو گے، تمہارے لئے زمین میں ایک متعین وقت تک گزر بسر کا سامان ہے۔
پھر شیطان نے دونوں کو وہاں سے پھسلا دیا اور جس (عیش ونشاط) میں تھے، اس سے ان کو نکلوا دیا۔ تب ہم نے حکم دیا کہ (بہشت بریں سے) چلے جاؤ۔ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو، اور تمہارے لیے زمین میں ایک وقت تک ٹھکانا اور معاش (مقرر کر دیا گیا) ہے
Then the Satan caused the twain to slip on account thereof, and drave them forth from that which the twain were in. And We said: get ye down, one of you an enemy unto anot her, and for you on the earth shall be a resting-place and enjoyment for a season.
پھر شیطان نے دونوں کو پھسلایا اسی درخت کے باعث ۔ اور جس میں تھے اس سے انہیں نکلوادیا ۔ اور ہم نے کہا (اب) تم سب نیچے اتر جاؤ ۔ ایک دوسرے کے دشمن ہوکر ۔ اور تمہارے لئے زمین ہی پر ٹھکانا اور ایک میعاد تک نفع اٹھانا ہے ۔
تو شیطان نے ان کو وہاں سے پھسلا دیا اور ان کو نکلوا چھوڑا اس ( عیش وآرام ) سے ، جس میں وہ تھے اور ہم نے کہا کہ اترو! تم ایک دوسرے کے دشمن ہوگے اور تمہارے لئے ایک خاص وقت تک زمین میں رہنا بسنا اور کھانا بلسنا ہے ۔
پس شیطان نے ان دونوں کو اس ( جنت ) سے پھلادیا پس جس ( عیش ) میں وہ دونوں تھے انہیں اس سے نکال دیا اور ہم نے فرمایا: اتر جاؤ ، تم میں سے بعض بعض کے دشمن ہوں گے اور تمہارے لیے زمین میں ( عارضی ) ٹھہرنا ہے اور ایک وقت مقررہ تک نفع اُٹھانا ۔
آخر کار شیطان نے ان دونوں کو اس درخت کی ترغیب دلاکر ہمارے حکم کی پیروی سے ہٹا دیا اور انہیں وہاں سے نکلوا کر چھوڑا جہاں وہ تھے ہم نے حکم دیا ! اب تم سب یہاں سے اتر جاؤ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہیں ایک خاص وقت تک زمین میں ٹھہرنا اور فائدہ اٹھانا
مگر آخر شیطان نے پھسلا دیا ان دونوں کو اسی درخت کی بنا پر اور اس نے نکال دیا ان دونوں کو ان نعمتوں سے جن میں وہ (رہ رہے) تھے اور حکم دیا ہم نے (آدم اور حوا کو) کہ اتر جاؤ تم اس حال میں کہ تم ایک دوسرے کے دشمن ہوؤ گے اور تمہارے لئے زمین میں ٹھکانا ہے اور برتنے (استعمال کرنے) کا سامان ایک (مقرر) وقت تک
آخر کارشیطان نے ان دونوں کو بہکاکروہاں سے نکلواہی دیا اور ہم نے کہہ دیاکہ ( زمین پر ) اترجائو!تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہیں ایک وقت تک زمین میں رہنا اور گزربسر کرنا ہوگا
تو شیطان نے اس سے ( یعنی جنت سے ) انہیں لغزش دی اور جہاں رہتے تھے وہاں سے انہیں الگ کردیا ( ف٦٤ ) اور ہم نے فرمایا نیچے اترو ( ف٦۵ ) آپس میں ایک تمہارا دوسرے کا دشمن اور تمہیں ایک وقت تک زمین میں ٹھہرنا اور برتنا ہے ۔ ( ف٦٦ )
پھر شیطان نے انہیں اس جگہ سے ہلا دیا اور انہیں اس ( راحت کے ) مقام سے جہاں وہ تھے الگ کر دیا ، اور ( بالآخر ) ہم نے حکم دیا کہ تم نیچے اتر جاؤ ، تم ایک دوسرے کے دشمن رہو گے ۔ اب تمہارے لئے زمین میں ہی معیّنہ مدت تک جائے قرار ہے اور نفع اٹھانا مقدّر کر دیا گیا ہے
تب شیطان نے ( اس درخت کے باعث ) ان کے قدم پھسلائے ۔ اور انہیں اس ( عیش و آرام ) سے نکلوا دیا جس میں وہ تھے اور ہم نے کہا اب تم ( زمین پر ) اتر جاؤ ۔ ایک دوسرے کے دشمن ہو کر ۔ اور تمہارے لئے زمین میں ایک ( خاص ) وقت تک ٹھہرنے اور فائدہ ا ٹھانے کا سامان موجود ہے ۔
Then did Satan make them slip from the (garden), and get them out of the state (of felicity) in which they had been. We said: "Get ye down, all (ye people), with enmity between yourselves. On earth will be your dwelling-place and your means of livelihood - for a time."
Satan made Adam and his spouse err and caused them to abandon the state in which they had been living. Then We said, "Descend, you are each other's enemies! The earth will be a dwelling place for you and it will provide you with sustenance for an appointed time.
Then the Shaytan made them slip therefrom (the Paradise), and got them out from that in which they were. We said: "Get you down, all, with enmity between yourselves. On earth will be a dwelling place for you and an enjoyment for a time."
But the Shaitan made them both fall from it, and caused them to depart from that (state) in which they were; and We said: Get forth, some of you being the enemies of others, and there is for you in the earth an abode and a provision for a time.
But Satan caused them to deflect therefrom and expelled them from the (happy) state in which they were; and We said: Fall down, one of you a foe unto the other! There shall be for you on earth a habitation and provision for a time.
फिर शैतान ने उस दरख़्त के ज़रिए दोनों को लग़ज़िश में मुब्तला कर दिया और उनको उस (ऐश) से निकाल दिया जिसमें वे थे, और हमने कहाः तुम सब उतरो यहाँ से तुम एक-दूसरे के दुश्मन होगे, और तुम्हारे लिए ज़मीन में ठहरना और काम चलाना है एक मुद्दत तक।
پھر لغزش دیدی ان ( آدم اور حوا) کو شیطان نے اس (درخت) کی وجہ سے سو برطرف کرکے رہا ان کو اس (عیش) سے جس میں وہ تھے اور ہم نے کہا کے نیچے اترو تم میں سے بعضے بعضوں کے دشمن رہیں گے اور تم کو زمین پر چندے ٹھیرنا ہے اور کام چلانا ایک میعاد معین تک۔ (2) (36)
لیکن شیطان نے ان کو پھسلا کر وہاں سے نکلوا دیا اور ہم نے فرمایا کہ اتر جاؤ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور ایک وقت مقرر تک تمہارے لیے زمین میں ٹھہرنا اور فائدہ اٹھانا ہے
آخرکار شیطان نے ان دونوں کو اس درخت کی ترغیب دے کر ہمارے حکم کی پیروی سے ہٹادیا اور انہیں اس حالت سے نکلوا کر چھوڑا جس میں وہ تھے
سو شیطان نے ان دونوں کو اس درخت کے ذریعہ سے لغزش دی، سو ان دونوں کو اس سے نکال دیا جس میں وہ تھے، اور ہم نے کہا کہ اترجاؤ۔ تم میں سے بعض، بعض کے دشمن ہوں گے۔ اور تمہارے لیے زمین میں ٹھہرنا ہے، اور ایک زمانہ تک نفع حاصل کرنا ہے۔
پھر ہلا دیا ان کو شیطان نے اس جگہ سے پھر نکالا ان کو اس عزت و راحت سے کہ جس میں تھے اور ہم نے کہا تم سب اترو تم ایک دوسرے کے دشمن ہو گے اور تمہارے واسطے زمین میں ٹھکانا ہے اور نفع اٹھانا ہے ایک وقت تک
پھر ڈگمگا دیا آدم (علیہ السلام) اور حوا (علیہ السلام) کو شیطان نے اس درخت کی وجہ سے اور اس عیش سے جس میں وہ دونوں تھے ان کو نکال کر چھوڑا اور ہم نے کہا نیچے جائو تمہاری حالت یہ ہوگی کہ تم ایک دوسرے کے دشمن رہو گے اور تم کو زمین میں ٹھہرنا اور فائدہ اٹھانا ہے ایک وقت معین تک