Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 40

سورة البقرة

یٰبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اذۡکُرُوۡا نِعۡمَتِیَ الَّتِیۡۤ اَنۡعَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ وَ اَوۡفُوۡا بِعَہۡدِیۡۤ اُوۡفِ بِعَہۡدِکُمۡ ۚ وَ اِیَّایَ فَارۡہَبُوۡنِ ﴿۴۰﴾

O Children of Israel, remember My favor which I have bestowed upon you and fulfill My covenant [upon you] that I will fulfill your covenant [from Me], and be afraid of [only] Me.

اے بنی اسرائیل میری اس نعمت کو یاد کرو جو میں نے تم پر انعام کی اور میرے عہد کو پورا کرو میں تمہارے عہد کو پورا کروں گا اور مجھ ہی سے ڈرو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Encouraging the Children of Israel to embrace Islam Allah says; يَا بَنِي إِسْرَايِيلَ ... O Children of Israel! Allah commanded the Children of Israel to embrace Islam and to follow Muhammad. He also reminded them with the example of their father Israel, Allah's Prophet Yaqub, as if saying, "O children of the pious, righteous servant of Allah who obeyed Allah! Be like your father, following the truth." This statement is similar to one's saying, "O you son of that generous man! Do this or that," or, "O son of the brave man, engage the strong fighters," or "O son of the scholar, seek the knowledge," and so forth. Similarly, Allah said, ذُرِّيَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ إِنَّهُ كَانَ عَبْدًا شَكُورًا O offspring of those whom We carried (in the ship) with Nuh (Noah)! Verily, he was a grateful servant. (17:3) Israel is Prophet Yaqub (Jacob) Israel is Prophet Yaqub, for Abu Dawud At-Tayalisi recorded that Abdullah Ibn Abbas said, "A group of Jews came to the Prophet and he said to them, هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ إِسْرَايِيلَ يَعْقُوبُ Do you know that Israel is Jacob? They said, "Yes, by Allah." He said, اللَّهُمَّ اشْهَد O Allah! Be witness." At-Tabari recorded that Abdullah Ibn Abbas said that; `Israel' means, `the servant of Allah.' Allah's Blessings for the Children of Israel Allah said, ... اذْكُرُواْ نِعْمَتِيَ الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ ... Remember My favor which I bestowed upon you. Mujahid commented, "Allah's favor that; He granted the Jews is that He made water gush from stones, sent down manna and quails for them, and saved them from being enslaved by Pharaoh." Abu Al-Aliyah also said, "Allah's favor mentioned here is His sending Prophets and Messengers among them, and revealing Books to them." I - Ibn Kathir - say that this Ayah is similar to what Musa said to the Children of Israel, يَـقَوْمِ اذْكُرُواْ نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِيَأءَ وَجَعَلَكُمْ مُّلُوكاً وَءَاتَـكُمْ مَّا لَمْ يُوْتِ أَحَداً مِّن الْعَـلَمِينَ O my people! Remember the favor of Allah to you: when He made Prophets among you, made you kings, and gave you what He had not given to any other among the nations (of their time. (5:20), meaning, during their time. Also, Muhammad bin Ishaq said that Ibn Abbas said, اذْكُرُواْ نِعْمَتِيَ الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ (Remember My favor which I bestowed upon you), means, "My support for you and your fathers," that is saving them from Pharaoh and his people. Reminding the Children of Israel of Allah's Covenant with Them Allah's statement, ... وَأَوْفُواْ بِعَهْدِي أُوفِ بِعَهْدِكُمْ ... And fulfill (your obligations to) My covenant (with you) so that I fulfill (My obligations to) your covenant (with Me), means, `My covenant that I took from you concerning Prophet Muhammad, when he is sent to you, so that I grant you what I promised you if you believe in him and follow him. I will then remove the chains and restrictions that were placed around your necks, because of the errors that you committed.' Also, Al-Hasan Al-Basri said, "The `covenant' is in reference to Allah's statement, وَلَقَدْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَـقَ بَنِى إِسْرَءِيلَ وَبَعَثْنَا مِنهُمُ اثْنَىْ عَشَرَ نَقِيباً وَقَالَ اللَّهُ إِنِّى مَعَكُمْ لَيِنْ أَقَمْتُمُ الصَّلوةَ وَءَاتَيْتُمْ الزَّكَوةَ وَءَامَنتُمْ بِرُسُلِى وَعَزَّرْتُمُوهُمْ وَأَقْرَضْتُمُ اللَّهَ قَرْضاً حَسَناً لاُكَفِّرَنَّ عَنْكُمْ سَيِّيَـتِكُمْ وَلادْخِلَنَّكُمْ جَنَّـتٍ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا الاٌّنْهَـرُ Indeed, Allah took the covenant from the Children of Israel (Jews), and We appointed twelve leaders among them. And Allah said: "I am with you if you perform As-Salah and give Zakah and believe in My Messengers; honor and assist them, and lend a good loan to Allah, verily, I will expiate your sins and admit you to Gardens under which rivers flow (in Paradise)." (5:12) Other scholars said, "The covenant is what Allah took from them in the Tawrah, in that, He will send a great Prophet - meaning Muhammad - from among the offspring of Ismail, who will be obeyed by all peoples. Therefore, whoever obeys him, then Allah will forgive his sins, enter him into Paradise and award him two rewards." We should mention here that Ar-Razi mentioned several cases of information brought by the earlier Prophets regarding the coming of Muhammad. Further, Abu Al-Aliyah said that, وَأَوْفُواْ بِعَهْدِي (And fulfill (your obligations to) My covenant (with you)) means, "His covenant with His servants is to embrace Islam and to adhere to it." Ad-Dahhak said that Ibn Abbas said, "`I fulfill My obligations to you' means, `I (Allah) will be pleased with you and admit you into Paradise."' As-Suddi, Ad-Dahhak, Abu Al-Aliyah and Ar-Rabi bin Anas said similarly. Allah's statement, ... وَإِيَّايَ فَارْهَبُونِ And fear Me and Me alone. Ibn Abbas said that it means, "Fear the torment that I might exert on you, just as I did with your fathers, like the mutation, etc." This Ayah contains encouragement, followed by warning. Allah first called the Children of Israel, using encouragement, then He warned them, so that they might return to the Truth, follow the Messenger, heed the Qur'an's prohibitions and commands and believe in its content. Surely, Allah guides whom He wills to the straight path. Allah said next,

بنی اسرائیل سے خطاب ان آیتوں میں بنی اسرائیل کو اسلام قبول کرنے اور حضور علیہ السلام کی تابعداری کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور انتہائی لطیف پیرایہ میں انہیں سمجھایا گیا ہے کہ تم ایک پیغمبر کی اولاد میں سے ہو تمہارے ہاتھوں میں کتاب اللہ موجود ہے اور قرآن اس کی تصدیق کر رہا ہے پھر تمہیں نہیں چاہئے کہ سب سے پہلے انکار تمہیں سے شروع ہو ۔ اسرائیل حضرت یعقوب علیہ الصلوٰۃ والسلام کا نام تھا تو گویا ان سے کہا جاتا ہے کہ تم میرے صالح اور فرمانبردار بندے کی اولاد ہو ۔ تمہیں چاہیے کہ اپنے جدِامجد کی طرح حق کی تابعداری میں لگ جاؤ ۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ تم سخی کے لڑکے ہو سخاوت میں آگے بڑھو تم پہلوان کی اولاد ہو داد شجاعت دو ۔ تم عالم کے بچے ہو علم میں کمال پیدا کرو ۔ دوسری جگہ اسی طرز کلام کو اسی طرح ادا کیا گیا ہے ۔ آیت ( ذُرِّيَّــةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ ۭ اِنَّهٗ كَانَ عَبْدًا شَكُوْرًا ) 17 ۔ الاسرآء:3 ) یعنی ہمارے شکر گزار بندے حضرت نوح کے ساتھ جنہیں ہم نے ایک عالمگیر طوفان سے بچایا تھا یہ ان کی اولاد ہے ایک حدیث میں ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کہ کیا تم نہیں جانتے کہ اسرائیل حضرت یعقوب کا نام تھا کا وہ سب قسم کھا کر کہتے ہیں کہ واللہ یہ سچ ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا اے اللہ تو گواہ رہ ۔ اسرائیل کے لفظی معنی عبداللہ کے ہیں ان نعمتوں کو یاد دلایا جاتا ہے جو قدرت کاملہ کی بڑی بڑی نشانیاں تھیں ۔ مثلاً پتھر سے نہروں کو جاری کرنا ۔ من و سلوی اتارنا ۔ فرعونیوں سے آزاد کرنا ۔ انہیں میں سے انبیاء اور رسولوں کو مبعوث کرنا ۔ ان میں سلطنت اور بادشاہی عطا فرمانا وغیرہ ان کو ہدایت دی جاتی ہے میرے وعدوں کو پورا کرو یعنی میں نے جو عہد تم سے لیا تھا کہ جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے پاس آئیں اور ان پر میری کتاب قرآن کریم نازل ہو تو تم اس پر اور آپ کی ذات پر ایمان لانا ۔ وہ تمہارے بوجھ ہلکے کریں گے اور تمہاری زنجیریں توڑ دیں گے اور تمہارے طوق اتار دیں گے اور میرا وعدہ بھی پورا ہو جائے گا کہ میں تمہیں اس دین کے سخت احکام کے متبادل آسان دین دوں گا ۔ دوسری جگہ اس کا بیان اس طرح ہوتا ہے آیت ( ۭوَقَالَ اللّٰهُ اِنِّىْ مَعَكُمْ ۭلَىِٕنْ اَقَمْــتُمُ الصَّلٰوةَ وَاٰتَيْتُمُ الزَّكٰوةَ وَاٰمَنْتُمْ بِرُسُلِيْ وَعَزَّرْتُمُوْهُمْ وَاَقْرَضْتُمُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَـنًا ) 5 ۔ المائدہ:12 ) یعنی اگر تم نمازوں کو قائم کرو گے زکوٰۃ رہو گے میرے رسولوں کی ہدایت مانتے رہو گے مجھے اچھا قرضہ دیتے رہو گے تو میں تمہاری برائیاں دور کر دونگا اور تمہیں بہتی ہوئی نہروں والی جنت میں داخل کروں گا ۔ یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ توراۃ میں وعدہ کیا گیا تھا کہ میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک اتنا بڑا عظیم الشان پیغمبر پیدا کر دونگا جس کی تابعداری تمام مخلوق پر فرض ہو گی ان کے تابعداروں کو بخشوں گا انہیں جنت میں داخل کروں گا اور دوہرا اجر دوں گا ۔ حضرت امام رازی نے اپنی تفسیر میں بڑے بڑے انبیاء علیہم السلام سے آپ کی بابت پیشنگوئی نقل کی ہے یہ بھی مروی ہے کہ اللہ کا عہد اسلام کو ماننا اور اس پر عمل کرنا تھا ۔ اللہ کا اپنے عہد کو پورا کرنا ان سے خوش ہونا اور جنت عطا فرمانا ہے مزید فرمایا مجھ سے ڈرو ایسا نہ ہو جو عذاب تم سے پہلے لوگوں پر نازل ہوئے کہیں تم پر بھی نہ آ جائیں ۔ اس لطیف پیرایہ کو بھی ملاحظہ فرمائیے کہ ترغیب کے بیان کے ساتھ ہی کس طرح ترہیب کے بیان کو ملحق کر دیا گیا ہے ۔ رغبت و رہبت دونوں جمع کر کے اتباع حق اور نبوت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت دی گئی ۔ قرآن کے ساتھ نصیحت حاصل کرنے اس کے بتلائے ہوئے احکام کو ماننے اور اس کے روکے ہوئے کاموں سے رک جانے کی ہدایت کی گئی ۔ اسی لئے اس کے بعد ہی فرمایا کہ تم اس قرآن حکیم پر ایمان لاؤ جو تمہاری کتاب کی بھی تصدیق اور تائید کرتا ہے جسے لے کر وہ نبی آئے ہیں جو امی ہیں عربی ہیں ، جو بشیر ہیں ، جو نذیر ہیں ، جو سراج منیر ہیں جن کا اسم شریف محمد ہے صلی اللہ علیہ وسلم ۔ جو توراۃ کی سچائی کی دلیل تھی اس لئے کہا گیا کہ وہ تمہارے ہاتھوں میں موجود کتابوں کی تصدیق کرتے ہیں ۔ علم ہونے کے باوجود تم ہی سب سے پہلے انکار نہ کرو بعض کہتے ہیں بہ کی ضمیر کا مرجع قرآن ہے اور پہلے آ بھی چکا ہے بما انزلت اور دونوں قول درحقیقت سچے اور ایک ہی ہیں ۔ قرآن کو ماننا رسول کو ماننا ہے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق قرآن کی تصدیق ہے ۔ اول کافر سے مراد بنی اسرائیل کے اولین منکر ہیں کیونکہ کفار قریش بھی انکار اور کفر کر چکے تھے ۔ لہذا بنی اسرائیل کا انکار اہل کتاب میں سے پہلی جماعت کا انکار تھا اس لئے انہیں اول کافر کہا گیا ان کے پاس وہ علم تھا جو دوسروں کے پاس نہ تھا ۔ میری آیتوں کے بدلے تھوڑا مول نہ لو یعنی دنیا کے بدلے جو قلیل اور فانی ہے میری آیات پر ایمان لانا اور میرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کرنا نہ چھوڑو اگرچہ دنیا ساری کی ساری بھی مل جائے جب بھی وہ آخرت کے مقابلہ میں تھوڑی بہت تھوڑی ہے اور یہ خود ان کی کتابوں میں بھی موجود ہے ۔ سنن ابو داؤد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو شخص اس علم کو جس سے اللہ کی رضامندی حاصل ہوئی ہے اس لئے سیکھے کہ اس سے دنیا کمائے وہ قیامت کے روز جنت کی خوشبو تک نہ پائے گا علم سکھانے کی اجرت بغیر مقرر کئے ہوئے لینا جائز ہے اسی طرح علم سکھانے والے علماء کو بیت المال سے لینا بھی جائز ہے تاکہ وہ خوش حال رہ سکیں اور اپنی ضروریات پوری کر سکیں ۔ اگر بیت المال سے کچھ مال نہ ملتا ہو اور علم سکھانے کی وجہ سے کوئی کام دھندا بھی نہ کر سکتے ہوں تو پھر اجرت مقرر کر کے لینا بھی جائز ہے اور امام مالک امام شافعی ، امام احمد اور جمہور علماء کا یہی مذہب ہے اس کی دلیل وہ حدیث بھی ہے جو صحیح بخاری شریف میں حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے ہے کہ انہوں نے اجرت مقرر کر لی اور ایک سانپ کے کاٹے ہوئے شخص پر قرآن پڑھ کر دم کیا جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ قصہ پیش ہوا تو آپ نے فرمایا حدیث ( ان احق ما اخذتم علیہ اجرا کتاب اللہ ) یعنی جن چیزوں پر تم اجرت لے سکتے ہو ان سب میں زیادہ حقدار کتاب اللہ ہے دوسری مطول حدیث میں ہے کہ ایک شخص کا نکاح ایک عورت سے آپ کر دیتے ہیں اور فرماتے ہیں حدیث ( زوجتکھا بما معک من القران ) میں نے اس کو تیری زوجیت میں دیا اور تو اسے قرآن حکیم جو تجھے یاد ہے اسے بطور حق مر یاد کرا دے ابو داؤد کی ایک حدیث میں ہے ایک شخص نے اہل صفہ میں سے کسی کو کچھ قرآن سکھایا اس نے اسے ایک کمان بطور ہدیہ دی اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا ۔ آپ نے فرمایا اگر تجھے آگ کی کمان لینی ہے تو اسے لے چنانچہ اس نے اسے چھوڑ دیا ۔ حضرت ابی بن کعب صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ایسی ہی ایک مرفوع حدیث مروی ہے ۔ ان دونوں احادیث کا مطلب یہ ہے کہ جب اس نے خالص اللہ کے واسطے کی نیت سے سکھایا پھر اس پر تحفہ اور ہدیہ لے کر اپنے ثواب کو کھونے کی کیا ضرورت ہے؟ اور جبکہ شروع ہی سے اجرت پر تعلیم دی ہے تو پھر بلاشک و شبہ جائز ہے جیسے اوپر کی دونوں احادیث میں بیان ہو چکا ہے ۔ واللہ اعلم ۔ صرف اللہ ہی ہے ڈرنے کے یہ معنی ہیں کہ اللہ کی رحمت کی امید پر اس کی عبادت و اطاعت میں لگا ہے اور اس کے عذابوں سے ڈر کر اس کی نافرمانیوں کو چھوڑ دے اور دونوں حالتوں میں اپنے رب کی طرف سے دئیے گئے نور پر گامزن رہے ۔ غرض اس جملہ سے انہیں خوف دلایا گیا کہ وہ دنیاوی لالچ میں آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی تصدیق کو جو اس کی کتابوں میں ہے نہ چھپائیں اور دنیوی ریاست کی طمع پر آپ کی مخالفت پر آمادہ نہ ہوں بلکہ رب سے ڈر کر اظہار حق کرتے رہیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

40۔ 1 اسرا ئِیْلُ (بمنعی عبداللہ) حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا لقب تھا۔ یہود کو بنو اسرائِیْل کہا جاتا تھا یعنی یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد۔ کیونکہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بارہ بیٹے تھے جس میں یہود کے بارہ قبیلے بنے اور ان میں بکثرت انبیاء اور رسل تھے۔ یہود کو عرب میں اس کی گزشتہ تاریخ اور علم و مذہب سے وابستگی کی وجہ سے ایک خاص مقام حاصل تھا اس لئے انہیں گزشتہ انعامات الٰہی یاد کرا کے کہا جا رہا ہے کہ تم میرا وہ عہد پورا کرو جو تم سے نبی آخر زمان کی نبوت اور ان پر ایمان لانے کی بابت لیا گیا تھا۔ اگر تم اس عہد کو پورا کرو گے تو میں اپنا عہد پورا کروں گا کہ تم سے وہ بوجھ اتار دئیے جائیں گے اور جو تمہاری غلطیاں اور کوتاہیوں کی وجہ سے بطور سزا پر لادھ دیئے گئے تھے اور تمہیں دوبارہ عروج عطا کیا جائے گا۔ اور مجھ سے ڈرو کہ میں تمہیں مسلسل اس ذلت و ادبار میں مبتلا رکھ سکتا ہوں جس میں تم بھی مبتلا ہو اور تمہارے آبا و اجداد بھی مبتلا رہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥٩] بنی اسرائیل سے خطاب کا آغاز :۔ یہاں سے خطاب کا رخ عوام الناس کے بجائے بنی اسرائیل کی طرف ہوگیا ہے جو چودھویں رکوع تک چلتا ہے۔ یہود مدینہ میں بکثرت آباد تھے۔ چونکہ سیدنا اسحاق (علیہ السلام) سے لے کر ان میں تقریباً چار ہزار نبی آچکے تھے۔ اس لیے تمام عرب پر ان کے علم و فضل کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی۔ ان پر اللہ تعالیٰ نے بیشمار انعامات کئے تھے۔ مگر کچھ مدت گزرنے پر ان میں بہت سے عیوب پیدا ہوگئے تھے اپنے اس علمی تفوق کی بنا پر اور اس حسد کی بنا پر کہ آنے والا نبی اسحاق کی اولاد سے نہیں، انہوں نے دعوت اسلام قبول کرنے سے انکار کردیا۔ چناچہ اگلی آیات میں ان کا مفصل ذکر آ رہا ہے۔ اسرائیل کا معنی عبداللہ ہے اور یہ یعقوب (علیہ السلام) کا لقب تھا اور بنو اسرائیل سے مراد ان کی اولاد یا یہودی قوم ہے۔ جن کے لیے تورات نازل ہوئی۔ [٦٠] بنی اسرائیل کا کتاب اللہ سے سلوک :۔ وہ عہد یہ تھا کہ تم تورات کے احکام کے پابند رہو گے اور میں جو پیغمبر بھیجوں اس پر ایمان لا کر اس کا ساتھ دو گے اور اللہ کا عہد یہ تھا کہ ملک شام تمہارے قبضہ میں رہے گا۔ بنی اسرائیل نے اس اقرار کو قبول تو کرلیا مگر بعد میں اس پر قائم نہ رہے، بدنیتی کی، رشوت لے کر غلط مسئلے بتائے، حق کو چھپایا۔ آنے والے نبیوں کی اطاعت کے بجائے ان میں سے بعض کو قتل ہی کر ڈالا اور اپنی ریاست جمائی اور تورات میں جہاں کہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی توصیف تھی اسے بھی بدل ڈالا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اس سے پہلے ” يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ “ کے ساتھ تمام لوگوں کو دعوت تھی، اب بنی اسرائیل کو خصوصی خطاب ہے، کیونکہ اہل کتاب ہونے کی وجہ سے ان کا زیادہ حق ہے کہ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائیں۔ یہ خطاب کبھی انعامات یاد دلا کر ہے جو ان پر کیے گئے، کبھی ان کی بد اعمالیوں پر ڈانٹ کے ساتھ ہے اور کبھی ان سزاؤں کے ذکر کے ساتھ ہے جو ان کی نافرمانیوں پر انھیں دی گئیں۔ یہاں سے لے کر آیت ایک سو سینتالیس تک ان پر دس انعامات، ان کی دس بد اعمالیوں اور انھیں دی جانے والی دس سزاؤں کا ذکر ہے۔ ( التسہیل ) اسرائیل یعقوب (علیہ السلام) کا دوسرا نام یا لقب ہے، جس کے معنی ہیں اللہ کا بندہ۔ اس لیے ان کی اولاد کو بنی اسرائیل کہا جاتا ہے۔ بنی اسرائیل میں پہلے پیغمبر یوسف (علیہ السلام) اور آخری پیغمبر عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔ (قرطبی) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے کے بنی اسرائیل کو یہ چیزیں یاد دلائی گئیں، حالانکہ یہ سب کچھ پہلے بنی اسرائیل پر گزرا تھا، کیونکہ ان کے بزرگوں پر انعام ان پر بھی انعام تھا اور وہ اب بھی اپنے بزرگوں کی بد عادتوں میں ان کے نقش قدم پر چل رہے تھے۔ گزشتہ بنی اسرائیل کے ساتھ ساتھ آپ کے زمانے میں موجود بنی اسرائیل کے اعمال بد کا بھی ذکر فرمایا، مثلاً رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہچاننے کے باوجود کفر، کتاب اللہ کی تحریف، جبریل (علیہ السلام) سے عداوت، جادو کرنا، ایک دوسرے کو قتل کرنا وغیرہ۔ بنی اسرائیل کے احوال اتنی تفصیل سے ذکر فرمانے سے یہ بھی مقصود ہے کہ امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان بد اعمالیوں سے بچے اور ان کے نتائج سے ڈرتی رہے۔ نِعْمَتِىَ ) اگرچہ یہ لفظ واحد ہے، مگر جنس مراد ہے، جس میں تمام نعمتیں شامل ہیں۔ (وَاَوْفُوْا بِعَهْدِىْٓ) یہاں اس عہد کی تفصیل بیان نہیں فرمائی، سورة مائدہ (١٢) میں اس عہد کی تفصیل موجود ہے۔ اس کے مطابق ان کا اللہ تعالیٰ سے عہد یہ تھا کہ تم نماز قائم کرو گے اور زکوٰۃ دو گے اور میرے رسولوں پر (جن میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی شامل ہیں) ایمان لاؤ گے، ان کی مدد کرو گے اور اللہ کو اچھا قرض دو گے اور اللہ کا ان سے عہد یہ تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں گا اور تم سے تمہارے گناہ دور کروں گا اور تمہیں جنتوں میں داخل کروں گا۔ (وَاِيَّاىَ فَارْھَبُوْنِ ) کا معنی ” خاص مجھ سے “ ہے۔ ” َ فَارْھَبُوْنِ “ اصل میں ” فَارْہَبُوْنِیْ “ تھا۔ ” یاء “ حذف ہوگئی، اس کا معنی بھی مجھ سے ڈرو ہے۔ خاص مجھ سے کے بعد دوبارہ ” مجھ سے ڈرو “ کی وجہ سے ” خاص مجھی سے ڈرو۔ “ ترجمہ کیا گیا ہے، ورنہ خاص کے بعد ” مجھ “ کا لفظ کافی تھی، مجھی کی ضرورت نہ تھی۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The Surah Al-Baqarah begins by speaking of the Holy Qur&an itself, and tells us that although it provides guidance to all men, yet only true Muslims will derive a full benefit from it. The Sarah proceeds to warn the disbelievers against the grievous punishment which awaits them in the other world, and also to delineate the misdeeds of the two kinds of disbelievers - those who deny openly, and the hypocrites. Then, addressing all the three groups, it urges upon them to worship Allah alone, and, presenting the Holy Qur&an as a miracle which cannot be imitated by man, invites them to have faith in it. Next, the Surah recounts how Adam (علیہ السلام) was created to be the vice regent of Allah, and thus shows the omnipotence and wisdom of Allah so that men may realize why they must obey and worship Him and never be disobedient to Him. Now, in the days of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) there were two kinds of people among the disbelievers and the hypocrites. On the one hand were mushrikin مشرکین ، idolaters and associators who did not possess any religious knowledge, were even otherwise mostly illiterate, and followed the customs of their forefathers - for example, the inhabitants of Makkah in general whom the Holy Qur&an calls the Ummiyyun اُمیون (the illiterate). On the other hand were those who believed in the earlier prophets, had a knowledge of the earlier Divine Books like the Torah and the Evangile, and were known as being well-educated. Some of them were the followers of Sayyidna Musa (علیہ السلام) (Moses), but did not accept Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) (Jesus) as a prophet - these were the Yahud یہود or the Jews. Others were the followers of Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) ، but did not believe that Sayyidna Musa (علیہ السلام) was, being a prophet, divinely protected against all sin - these were the Nasara نصارا or the Christians. On account of their belief either in the Torah or the Evangel or in both, the Holy Qur&an calls these two groups Ahl al-Kitab اھل الکتاب (the people of the Book). Being well-educated, they were respected and trusted by the people around them, and their opinion had a great deal of weight. If they came to the straight path, others too could be expected to follow their example۔ The Jews predominated in Madinah and its environs. The Surah Al-Baqarah is also Madinite. So, after dealing with the idolaters and associators, it addresses the people of the Book in a special manner, from verse 40 to verse 123. Adopting a persuasive and friendly tone, the Surah refers to the noble family to which they belong and the honour which they receive from the people on account of such an affiliation; then, recounting the blessings which Allah has been showering on them, it asks them to be aware of their many misdeeds and their sins, and invites them to come to the Straight Path. All this has been said, to begin with, in a very brief manner - four verses inviting them to Islam, and three to good deeds. Then comes a long and detailed address to them, at the beginning of which, as also just before the end, occur the words, يَا بَنِي إِسْرَ‌ائِيلَ ya Bani Isra&il (0 children of Israel) -the repetition is, of course, the usual rhetorical device for making the speech persuasive. Isra&il is a Hebrew word, signifying &the servant of Allah&; it is also the second name of Sayyidna Ya` qub (Jacob) (علیہ السلام) . Certain scholars have remarked that among the prophets it is the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) alone who has several names, except for Sayyidna Ya` qub (علیہ السلام) who has two names, Ya` qub and Isra&il. The Holy Qur&an addresses the Jews here, not as the |"Children of Ya` qub|", but as the |"Children of Isra&il|", so that the title may remind them that they are the children of the &the servant of Allah&, and hence they should follow the example of their father in worshipping Allah alone and in obeying Him. In verse 40, Allah asks the Israelites to fulfill His covenant - that is to say, the one they had made with Allah. According to Qatadah قتادہ and Mujahid مجاہد ، the following verse of the Holy Qur&an refers to this covenant which had been mentioned in Torah توراة as well (For the Covenant, see Exodus, ch. XXXIV) (165): وَلَقَدْ أَخَذَ اللَّـهُ مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَ‌ائِيلَ وَبَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ‌ نَقِيبًا ۖ وَقَالَ اللَّـهُ إِنِّي مَعَكُمْ ۖ لَئِنْ أَقَمْتُمُ الصَّلَاةَ وَآتَيْتُمُ الزَّكَاةَ وَآمَنتُم بِرُ‌سُلِي وَعَزَّرْ‌تُمُوهُمْ وَأَقْرَ‌ضْتُمُ اللَّـهَ قَرْ‌ضًا حَسَنًا لَّأُكَفِّرَ‌نَّ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَلَأُدْخِلَنَّكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِ‌ي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ‌ Allah made a covenant with the children of Isra&il, and We raised up from among them twelve chieftains. And Allah said, &I am with you. Surely, if you perform the prayer, and pay the alms, and believe in My messengers and help them, and lend to Allah a good loan, I will forgive your evil deeds, and I will admit you to gardens underneath which rivers flow& (5:12). The covenant mentions acts like prayers and alms, but the most important clause is having faith in all the messengers of Allah including the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . Hence, according to the blessed Companion Ibn ` Abbas (رض) ، the covenant here signifies having faith in and obeying the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (See Ibn Jarir). As for Allah fulfilling their covenant, the verse we have just quoted (5:12) makes the meaning clear - Allah will forgive the sins of those who fulfill the terms of the covenant, and will admit them to Paradise. Verse 41 makes it quite explicit that according to the covenant it is obligatory for the Israelites to have faith in the Holy Qur&an, for, after all, it has been sent down to confirm the essential teachings of the Torah. Now, the Israelite scholars were afraid that if they told the truth in this matter, they would be going against the public sentiment, and thus lose their adherents and income both. So, these three verses exhort them to speak the truth without fear, for Allah alone is worthy of being feared.19 19. Let us add that what the Holy Qur&an confirms with regard to the Torah and the Evangile is the fact that they are the Books of Allah. As for the distortions which have from time to time been introduced into them, they are no part of the original texts, and hence the question of confirming such interpolated passages does not arise. Injunctions and related considerations (1) Al-Qurtubi remarks in his Commentary that Allah, in asking the Israelites to worship and obey Him, reminds them of the bounties and blessings He has showered on them, but in the case of the followers of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . He asks them to do so without mentioning His bounties: فَاذْكُرُ‌ونِي أَذْكُرْ‌كُمْ : |"Remember Me, I will remember you.|" (2:152) This is a subtle suggestion which brings out the superiority of this Ummah over the others - the Islamic Ummah has a direct relationship with Allah, for it begins by recognizing the Benefactor, and through this knowledge recognizes His bounties; other peoples, on the contrary, begin by recognizing the bounties, and proceed through this medium to a knowledge of the Benefactor. (2) Verse 40 shows that it is obligatory to fulfill the agreement one has entered into, and it is forbidden to break one&s promise. The injunction has been stated explicitly in another verse: أَوْفُوا بِالْعُقُودِ : |"Fulfill your agreements.|" (5:1) According to a hadith reported by Muslim, those who break their promises would, before being finally punished in the other world, be humiliated before the whole human race when it assembles together on the Day of Judgment, for a flag would be placed as a stigma beside everyone who has committed this sin, and the bigger the crime, the higher would the flag be.

خلاصہ تفسیر : اے بنی اسرائیل (یعنی حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد) یاد کرو تم لوگ میرے ان احسانوں کو جو کئے ہیں میں نے تم پر (تاکہ حق نعمت سمجھ کر ایمان لانا تمہارے لئے آسان ہوجائے، آگے اس یاد کرنے کی مراد بتلاتے ہیں) اور پورا کرو تم میرے عہد کو (یعنی تم نے جو تورات میں مجھ سے عہد کیا تھا جس کا بیان قرآن کی اس آیت میں ہے، وَلَقَدْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ ۚ وَبَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيْبًا (١٢: ٥) پورا کروں گا میں تمہارے عہد کو (یعنی میں نے جو عہد تم سے کیا تھا ایمان لانے پر جیسا کہ آیت مذکورہ میں ہے لَّاُكَفِّرَنَّ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ اور صرف مجھ ہی سے ڈرو (اپنے عوام معتقدین سے نہ ڈرو کہ ان کا اعتقاد نہ رہے گا اور ان سے آمدنی بند ہوجاوے گی) اور ایمان لے آؤ اس کتاب پر جو میں نے نازل کی ہے (یعنی قرآن پر) ایسی حالت میں کہ وہ سچ بتلانے والی ہے اس کتاب کو جو تمہارے پاس ہے (یعنی تورات کے کتاب الہی ہونے کی تصدیق کرتی ہے اور جو اس میں تحریفات کی گئی ہیں وہ خود تورات و انجیل ہونے ہی سے خارج ہیں ان کی تصدیق اس سے لازم نہیں آتی) اور مت بنو تم پہلے انکار کرنے والے اس قرآن کے (یعنی تمہیں دیکھ کر جو دوسرے لوگ انکار کریں گے ان سب میں اول بانی انکار و کفر کے تم ہوگے اس لئے قیامت تک ان کے کفر و انکار کا وبال تمہارے نامہ اعمال میں ہی درج ہوتا رہے گا) اور مت لو بمقابلہ میرے احکام کے معاوضہ حقیر اور خاص مجھ ہی سے پورے طور پر ڈرو (یعنی میرے احکام چھوڑ کر یا ان کو بدل کر یا چھپا کر عوام الناس سے دنیائے ذلیل و قلیل کو وصول مت کرو جیسا کہ ان کو عادت تھی جس کی تصریح آگے آتی ہے وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بالْبَاطِلِ اور مخلوط مت کرو حق کو ناحق کے ساتھ اور پوشیدہ بھی مت کرو حق کو جس حالت میں کہ تم جانتے بھی ہو (کہ حق کو چھپانا بری بات ہے) معارف و مسائل : ربط آیات : سورة بقرہ قرآن کے ذکر سے شروع کی گئی اور یہ بتلایا گیا کہ قرآن کی ہدایت اگرچہ ساری مخلوق کے لئے عام ہے مگر اس سے نفع صرف مؤمنین اٹھائیں گے اس کے بعد ان لوگوں کے عذاب شدید کا ذکر فرمایا جو اس پر ایمان نہیں لائے ان میں ایک طبقہ کھلے کافروں اور منکروں کا تھا دوسرا منافقین کا دونوں کا مع ان کے کچھ حالات اور غلط کاریوں کا ذکر کیا گیا اس کے بعد مؤمنین مشرکین، منافقین کے تینوں طبقوں کو خطاب کرکے سب کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کی تاکید کی گئی اور قرآن مجید کے اعجاز کا ذکر کرکے سب کو دعوت ایمان دی گئی پھر تخلیق آدم (علیہ السلام) کا ذکر کرکے ان پر ان کی اصلیت اور حقیقت اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ واضح کی گئی تاکہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت و عبادت کی ترغیب اور نافرمانی سے بچنے کی فکر ہو، پھر کفار کی دو جماعتیں جن کا ذکر اوپر آیا ہے کھلے کافر اور منافق ان دونوں میں دو طرح کے لوگ تھے ایک تو بت پرست مشرکین جو محض باپ دادوں کی رسوم کی پیروی کرتے تھے کوئی علم قدیم یا جدید ان کے پاس نہ تھا عام طور پر ان پڑھ امی تھے جیسے عام اہل مکہ اسی لئے قرآن میں ان لوگوں کو امیین کہا گیا ہے دوسرے وہ لوگ تھے جو انبیاء (علیہم السلام) پر ایمان لائے اور پہلی کتابوں تورات و انجیل وغیرہ کا علم ان کے پاس تھا لکھے پڑھے لوگ کہلاتے تھے ان میں بعض حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان رکھتے تھے عیسیٰ (علیہ السلام) پر نہیں ان کو یہود کہا جاتا تھا اور بعض موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان رکھتے تھے حضرت موسیٰ ٰ (علیہ السلام) کو بحیثیت نبی معصوم نہیں مانتے تھے یہ نصاریٰ کہلاتے تھے ان دونوں کو قرآن میں اس بناء پر اہل کتاب کہا گیا ہے کہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی آسمانی کتاب تورات یا انجیل پر ایمان رکھتے تھے یہ لوگ لکھے پڑھے اہل علم ہونے کہ وجہ سے لوگوں کی نظر میں معزز اور قابل اعتماد مانے جاتے تھے ان کی بات ان پر اثر انداز ہوتی تھی یہ راستے پر آجائیں تو دوسروں کے مسلمان ہونے کی توقع بڑی تھی مدینہ طیبہ اور اس کے قرب و جوار میں ان لوگوں کی کثرت تھی، سورة بقرہ چونکہ مدنی سورت ہے اس لئے اس میں مشرکین و منافقین کے بیان کے بعد اہل کتاب کو خصوصیت اور اہتمام کے ساتھ خطاب کیا گیا ہے چالیسویں آیت سے شروع ہو کر ایک سو تئیس آیات آخر پارہ (الۗمّۗ) تک انہیں لوگوں سے خطاب ہے جس میں ان کو مانوس کرنے کے لئے اوّل ان کی خاندانی شرافت اور اس سے دنیا میں حاصل ہونے والے اعزاز کا پھر اللہ تعالیٰ کی مسلسل نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے پھر ان کی بےراہی اور غلط کاری پر متنبہ کیا گیا اور صحیح راستہ کی طرف دعوت دی گئی ان میں سے پہلی سات آیتوں میں اجمالی خطاب ہے جن میں تین میں دعوت ایمان اور چار میں اعمال صالحہ کی تلقین ہے اس کے بعد بڑی تفصیل سے ان کو خطاب کیا گیا تفصیلی خطاب کے شروع میں اور بالکل ختم پر پھر اہتمام کے لئے يٰبَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ فرما کر انھیں الفاظ کا اعادہ کیا گیا ہے جن سے شروع کیا گیا تھا ؛ جیسا کہ کلام کو موثر اور وقیع بنانے کے لئے ایسا کرنے کا دستور ہے، (يٰبَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ ) اسرائیل عبرانی زبان کا لفظ ہے اس کے معنی عبداللہ ہیں یہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا دوسرا نام ہے بعض علماء نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سوا کسی اور نبی کے نام متعدد نہیں ہیں صرف حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے دو نام ہیں یعقوب اور اسرائیل، قرآن میں اس جگہ ان کو نبی یعقوب کہہ کر خطاب نہیں کیا بلکہ دوسرے نام اسرائیل کا استعمال کیا اس میں حکمت یہ ہے کہ خود اپنے لقب اور نام ہی سے ان کو معلوم ہوجائے کہ ہم عبداللہ یعنی اللہ کے عبادت گذار بندے کی اولاد ہیں ہمیں بھی ان کے نقش قدم پر چلنا چاہئے اس آیت میں بنی اسرائیل کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا کہ پورا کرو تم میرے عہد کو یعنی تم نے مجھ سے عہد کیا تھا توریت میں جس کا بیان بقول قتادہ و مجاہد اس آیت میں ہے : وَلَقَدْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ ۚ وَبَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيْبًا (پارہ ٦ سورة مائدہ، آیت نمبر ١٢) اس میں سب سے اہم معاہدہ تمام رسولوں پر ایمان لانے کا شامل ہے جن میں ہمارے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خصوصیت سے داخل ہیں نیز نماز، زکوٰۃ، اور صدقات بھی اس عہد میں شامل ہیں جس کا خلاصہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان اور آپ کا مکمل اتباع ہے اسی لئے حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ اس عہد سے مراد محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اتباع ہے (ابن جریر بسند صحیح) پورا کروں گا میں تمہارے عہد کو یعنی اسی آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ جو لوگ اس عہد کو پورا کریں گے تو ان کے گناہ معاف کردئیے جائیں گے اور جنت میں داخل کیا جائے گا تو حسب وعدہ ان لوگوں کو جنت کی نعمتوں سے سرفراز کیا جائے گا، خلاصہ یہ ہے کہ اے بنی اسرائیل تم میرا عہد محمد مصطفٰے (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اتباع کا پورا کرو تو میں اپنا عہد تمہاری مغفرت اور جنت کا پورا کردوں گا اور صرف مجھ سے ہی ڈرو اور عوام الناس معتقدین سے نہ ڈرو کہ ان کی منشاء کے خلاف کلمہ حق کہیں گے تو وہ معتقد نہ رہیں گے آمدنی بند ہوجائے گی۔ (١) امت محمدیہ کی ایک خاص فضیلت : تفسیر قرطبی میں ہے کہ اللہ جل شانہ نے بنی اسرائیل کو اپنی نعمتیں اور احسانات یاد دلا کر اپنی یاد اور اطاعت کی طرف دعوت دی ہے اور امت محمدیہ کو جب اسی کام کے لئے دعوت دی تو احسانات و انعامات کے ذکر کے بغیر فرمایا فاذْكُرُوْنِيْٓ اَذْكُرْكُمْ یعنی تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد رکھوں گا اس میں امت محمدی کی خاص فضیلت کی طرف اشارہ ہے کہ ان کا تعلق محسن ومنعم سے بلا واسطہ ہے یہ محسن کو پہچان کر احسان کر کے پہچانتے ہیں بخلاف دوسری امتوں کے کہ وہ احسانات کے ذریعہ محسن کو پہچانتے ہیں، (٢) ایفائے عہد واجب اور عہد شکنی حرام ہے : اس آیت سے معلوم ہوا کہ عہد ومعاہدے کو پورا کرنا ضروری ہے اور عہد شکنی حرام ہے سورة مائدہ کی پہلی آیت میں اس سے زیادہ وضاحت کے ساتھ یہ مضمون آیا ہے : اَوْفُوْا بالْعُقُوْدِ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ عہد شکنی کرنے والوں کو جو سزا آخرت میں ملے گی اس سے پہلے ہی ایک سزا یہ دی جائے گی کہ محشر کے میدان میں جہاں تمام اولین وآخرین کا اجتماع ہوگا عہد شکنی کرنے والے پر ایک جھنڈا بطور علامت کے لگا دیا جائے گا اور جیسی بڑی عہد شکنی کی ہے اتنا ہی یہ جھنڈا بلند ہوگا اس طرح ان کو میدان حشر میں رسوا اور شرمندہ کیا جائے گا (صحیح مسلم عن سعید) (٣) جو شخص کسی گناہ یا ثواب کا سبب بنتا ہے اس پر بھی کرنے والوں کا گناہ یا ثواب لکھا جاتا ہے

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

رکوع نمبر 5 يٰبَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِىَ الَّتِىْٓ اَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَاَوْفُوْا بِعَہْدِىْٓ اُوْفِ بِعَہْدِكُمْ۝ ٠ ۚ وَاِيَّاىَ فَارْھَبُوْنِ۝ ٤٠ اِسْرَاۗءِيْلَ ( بني) ، جمع ابن، والألف في ابن عوض من لام الکلمة المحذوفة فأصلها بنو . (إسرائيل) ، علم أعجمي، وقد يلفظ بتخفیف الهمزة إسراييل، وقد تبقی الهمزة وتحذف الیاء أي إسرائل، وقد تحذف الهمزة والیاء معا أي : إسرال . ذكر ( نصیحت) وذَكَّرْتُهُ كذا، قال تعالی: وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ [إبراهيم/ 5] ، وقوله : فَتُذَكِّرَ إِحْداهُمَا الْأُخْرى [ البقرة/ 282] ، قيل : معناه تعید ذكره، وقد قيل : تجعلها ذکرا في الحکم «1» . قال بعض العلماء «2» في الفرق بين قوله : فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ [ البقرة/ 152] ، وبین قوله : اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ [ البقرة/ 40] : إنّ قوله : فَاذْكُرُونِي مخاطبة لأصحاب النبي صلّى اللہ عليه وسلم الذین حصل لهم فضل قوّة بمعرفته تعالی، فأمرهم بأن يذكروه بغیر واسطة، وقوله تعالی: اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ مخاطبة لبني إسرائيل الذین لم يعرفوا اللہ إلّا بآلائه، فأمرهم أن يتبصّروا نعمته، فيتوصّلوا بها إلى معرفته . الذکریٰ ۔ کثرت سے ذکر الہی کرنا اس میں ، الذکر ، ، سے زیادہ مبالغہ ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ ذَكَّرْتُهُ كذا قرآن میں ہے :۔ وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ [إبراهيم/ 5] اور ان کو خدا کے دن یاد دلاؤ ۔ اور آیت کریمہ ؛فَتُذَكِّرَ إِحْداهُمَا الْأُخْرى [ البقرة/ 282] تو دوسری اسے یاد دلا دے گی ۔ کے بعض نے یہ معنی کئے ہیں کہ اسے دوبارہ یاد دلاوے ۔ اور بعض نے یہ معنی کئے ہیں وہ حکم لگانے میں دوسری کو ذکر بنادے گی ۔ بعض علماء نے آیت کریمہ ؛۔ فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ [ البقرة/ 152] سو تم مجھے یاد کیا کر میں تمہیں یاد کروں گا ۔ اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ [ البقرة/ 40] اور میری وہ احسان یاد کرو ۔ میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ کے مخاطب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب ہیں جنہیں معرفت الہی میں فوقیت حاصل تھی اس لئے انہیں براہ راست اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ اور دوسری آیت کے مخاطب بنی اسرائیل ہیں جو اللہ تعالیٰ کو اس نے انعامات کے ذریعہ سے پہچانتے تھے ۔ اس بنا پر انہیں حکم ہوا کہ انعامات الہی میں غور فکر کرتے رہو حتی کہ اس ذریعہ سے تم کو اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہوجائے ۔ نعم النِّعْمَةُ : الحالةُ الحسنةُ ، وبِنَاء النِّعْمَة بِناء الحالةِ التي يكون عليها الإنسان کالجِلْسَة والرِّكْبَة، والنَّعْمَةُ : التَّنَعُّمُ ، وبِنَاؤُها بِنَاءُ المَرَّة من الفِعْلِ کا لضَّرْبَة والشَّتْمَة، والنِّعْمَةُ للجِنْسِ تقال للقلیلِ والکثيرِ. قال تعالی: وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لا تُحْصُوها[ النحل/ 18] ( ن ع م ) النعمۃ اچھی حالت کو کہتے ہیں ۔ اور یہ فعلۃ کے وزن پر ہے جو کسی حالت کے معنی کو ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے جیسے : ۔ جلسۃ ورکبۃ وغیرہ ذالک ۔ اور نعمۃ کے معنی تنعم یعنی آرام و آسائش کے ہیں اور یہ فعلۃ کے وزن پر ہے جو مرۃ ہے جو مرۃ کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسے : ۔ ضر بۃ وشتمۃ اور نعمۃ کا لفظ اسم جنس ہے جو قلیل وکثیر کیلئے استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لا تُحْصُوها[ النحل/ 18] اور اگر خدا کے احسان گننے لگو تو شمار نہ کرسکو ۔ وفی وقد عبّر عن الموت والنوم بالتَّوَفِّي، قال تعالی: اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِها[ الزمر/ 42] أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ [يونس/ 46] ( و ف ی) الوافی اور کبھی توفی کے معنی موت اور نیند کے بھی آتے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِها[ الزمر/ 42] خدا لوگوں کی مرنے کے وقت ان کی روحیں قبض کرلیتا ہے أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ [يونس/ 46] یا تمہاری مدت حیات پوری کردیں عهد العَهْدُ : حفظ الشیء ومراعاته حالا بعد حال، وسمّي الموثق الذي يلزم مراعاته عَهْداً. قال : وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كانَ مَسْؤُلًا[ الإسراء/ 34] ، أي : أوفوا بحفظ الأيمان، قال : لا يَنالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ [ البقرة/ 124] ( ع ھ د ) العھد ( ض ) کے معنی ہیں کسی چیز کی پیہم نگہہ داشت اور خبر گیری کرنا اس بنا پر اس پختہ وعدہ کو بھی عھد کہاجاتا ہے جس کی نگہداشت ضروری ہو ۔ قرآن میں ہے : وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كانَ مَسْؤُلًا[ الإسراء/ 34] اور عہد کو پورا کرو کہ عہد کے بارے میں ضرور پرسش ہوگی ۔ یعنی اپنی قسموں کے عہد پورے کرو ۔ لا يَنالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ [ البقرة/ 124] کہ ظالموں کے حق میں میری ذمہ داری پوری نہیں ہوسکتی ۔ رهب الرَّهْبَةُ والرُّهْبُ : مخافة مع تحرّز و اضطراب، قال : لَأَنْتُمْ أَشَدُّ رَهْبَةً [ الحشر/ 13] ، وقال : جَناحَكَ مِنَ الرَّهْبِ [ القصص/ 32] ، وقرئ : مِنَ الرَّهْبِ ، أي : الفزع . قال مقاتل : خرجت ألتمس تفسیر الرّهب، فلقیت أعرابيّة وأنا آكل، فقالت : يا عبد الله، تصدّق عليّ ، فملأت كفّي لأدفع إليها، فقالت : هاهنا في رَهْبِي «5» ، أي : كمّي . والأوّل أصحّ. قال تعالی: وَيَدْعُونَنا رَغَباً وَرَهَباً [ الأنبیاء/ 90] ، وقال : تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ [ الأنفال/ 60] ، وقوله : وَاسْتَرْهَبُوهُمْ [ الأعراف/ 116] ، أي : حملوهم علی أن يَرْهَبُوا، وَإِيَّايَ فَارْهَبُونِ [ البقرة/ 40] ، أي : فخافون، والتَّرَهُّبُ : التّعبّد، وهو استعمال الرّهبة، والرَّهْبَانِيّةُ : غلوّ في تحمّل التّعبّد، من فرط الرّهبة . قال : وَرَهْبانِيَّةً ابْتَدَعُوها[ الحدید/ 27] ، والرُّهْبَانُ يكون واحدا، وجمعا، فمن جعله واحدا جمعه علی رَهَابِينَ ، ورَهَابِنَةٌ بالجمع أليق . والْإِرْهَابُ : فزع الإبل، وإنما هو من : أَرْهَبْتُ. ومنه : الرَّهْبُ «1» من الإبل، وقالت العرب : رَهَبُوتٌ خير من رحموت «2» . ( ر ھ ب ) الرھب والرھبۃ ایسے خوف کو کہتے ہیں جس میں احتیاط اور اضطراب بھی شامل ہو قرآن میں : ۔ لَأَنْتُمْ أَشَدُّ رَهْبَةً [ الحشر/ 13] تمہاری ہیبت تو ( ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ سے بڑھکر ہے جَناحَكَ مِنَ الرَّهْبِ [ القصص/ 32] اور دفع ) خوف کے لئے اپنے بازو سکیڑ لو ) ۔ اس میں ایک قرآت رھب بضمہ الراء بھی ہے ۔ جس کے معنی فزع یعنی گھبراہٹ کے ہیں متقاتل کہتے ہیں کہ رھب کی تفسیر معلوم کرنے کی غرض سے نکلا دریں اثنا کہ میں کھانا کھا رہا تھا ایک اعرابی عورت آئی ۔ اور اس نے کہا اسے اللہ کے بندے مجھے کچھ خیرات دیجئے جب میں لپ بھر کر اسے دینے لگا تو کہنے لگے یہاں میری آستین میں ڈال دیجئے ( تو میں سمجھ گیا کہ آیت میں بھی ( ھب بمعنی آستین ہے ) لیکن پہلے معنی یعنی گھبراہٹ کے زیادہ صحیح ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَيَدْعُونَنا رَغَباً وَرَهَباً [ الأنبیاء/ 90] ہمارے فضل کی توقع اور ہمارے عذاب کے خوف سے ہمیں پکارتے رہتے ہیں ) تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ [ الأنفال/ 60] اس سے تم اللہ کے دشمنوں پر اور اپنے دشمنوں پر دھاک بٹھائے رکھو گے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ [ الأعراف/ 116] اور ان کو دہشت میں ڈال دیا ۔ میں استر ھاب کے معنی دہشت زدہ کرنے کے ہیں ۔ وَإِيَّايَ فَارْهَبُونِ [ البقرة/ 40] اور مجھ سے ہی ڈرو ۔ اور ترھب ( تفعیل کے معنی تعبد یعنی راہب بننے اور عبادت ہیں خوف سے کام لینے کے ہیں اور فرط خوف سے عبادت گذاری میں غلو کرنے رھبانیۃ کہا جاتا ہے قرآن میں ہے ۔ وَرَهْبانِيَّةً ابْتَدَعُوها[ الحدید/ 27] اور رہبانیت ( لذت دنیا کا چوڑ بیٹھنا جو انہوں نے از خود ایجاد کی تھی ۔ اور رھبان ( صومعہ لوگ واحد بھی ہوسکتا ہے اور جمع بھی جو اس کو واحد دیتے ہیں ان کے نزدیک اس کی جمع رھا بین آتی ہے لیکن اس کی جمع رھا بتۃ بنانا زیادہ مناسب ہے الا رھاب ( افعال ) کے اصل معنی اونٹوں کو خوف زدہ کرنے کے ہیں یہ ارھبت ( فعال کا مصدر ہے اور اسی سے زھب ہے جس کے معنی لاغر اونٹنی ( یا شتر نر قوی کلاں جثہ ) کے میں مشہور محاورہ ہے : ۔ کہ رحم سے خوف بہتر ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

اب یہاں سے بنی اسرائیل سے خطاب شروع ہو رہا ہے۔ یہ خطاب پانچویں رکوع سے چودہویں رکوع تک ‘ مسلسل دس رکوعات پر محیط ہے۔ البتہ ان میں ایک تقسیم ہے۔ پہلا رکوع دعوت پر مشتمل ہے ‘ اور جب کسی گروہ کو دعوت دی جاتی ہے تو تشویق و ترغیب ‘ دلجوئی اور نرمی کا انداز اختیار کیا جاتا ہے ‘ جو دعوت کے اجزاء لاینفک ہیں۔ اس انداز کے بغیر دعوت مؤثرّ نہیں ہوتی۔ یوں سمجھ لیجیے کہ یہ سات آیات (پانچواں رکوع) ان دس رکوعوں کے لیے بمنزلۂ فاتحہ ہیں۔ بنی اسرائیل کی حیثیت سابقہ امت مسلمہ کی تھی ‘ جن کو یہاں دعوت دی جا رہی ہے۔ وہ بھی مسلمان ہی تھے ‘ لیکن محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انکار کر کے کافر ہوگئے۔ ورنہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ماننے والے تھے ‘ شریعت ان کے پاس تھی ‘ بڑے بڑے علماء ان میں تھے ‘ علم کا چرچا ان میں تھا۔ غرضیکہ سب کچھ تھا۔ یہاں ان کو دعوت دی جا رہی ہے۔ اس سے ہمیں یہ رہنمائی ملتی ہے کہ آج مسلمانوں میں ‘ جو اپنی حقیقت کو بھول گئے ہیں ‘ اپنے فرض منصبی سے غافل ہوگئے ہیں اور دنیا کی دیگر قوموں کی طرح ایک قوم بن کر رہ گئے ہیں ‘ اگر کوئی ایک داعی گروہ کھڑا ہو تو ظاہر بات ہے سب سے پہلے اسے اسی امت کو دعوت دینی ہوگی۔ اس لیے کہ دنیا تو اسلام کو اسی امت کے حوالے سے پہچانے گی (Physician heals thyself) ۔ پہلے یہ خود ٹھیک ہو اور صحیح اسلام کا نمونہ پیش کرے تو دنیا کو دعوت دے سکے گی کہ آؤ دیکھو یہ ہے اسلام ! چناچہ ان کو دعوت دینے کا جو اسلوب ہونا چاہیے وہ اس اسلوب کا عکس ہوگا جو ان سات آیات میں ہمارے سامنے آئے گا۔ آیت ٤٠ (یٰبَنِیْٓ اِسْرَآءِ ‘ یْلَ اذْکُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْٓ اَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ ) ” بنی اسرائیل “ کی ترکیب کو سمجھ لیجیے کہ یہ مرکب اضافی ہے۔ ” اسر “ کا معنی ہے بندہ یا غلام۔ اسی سے ” اسیر “ بنا ہے جو کسی کا قیدی ہوتا ہے۔ اور لفظ ” ئیل “ عبرانی میں اللہ کے لیے آتا ہے۔ چناچہ اسرائیل کا ترجمہ ہوگا ” عبداللہ “ یعنی اللہ کا غلام ‘ اللہ کی اطاعت کے قلادے کے اندر بندھا ہوا۔ ” اسرائیل “ لقب ہے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا۔ ان کے بارہ بیٹے تھے اور ان سے جو نسل چلی وہ بنی اسرائیل ہے۔ ان ہی میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت ہوئی اور انہیں تورات دی گئی۔ پھر یہ ایک بہت بڑی امت بنے۔ قرآن مجید کے نزول کے وقت تک ان پر عروج وزوال کے چار ادوار آ چکے تھے۔ دو مرتبہ ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کی بارشیں ہوئیں اور انہیں عروج نصیب ہوا ‘ جبکہ دو مرتبہ دنیا پرستی ‘ شہوت پرستی اور اللہ کے احکام کو پس پشت ڈال دینے کی سزا میں ان پر اللہ کے عذاب کے کوڑے برسے۔ اس کا ذکر سورة بنی اسرائیل کے پہلے رکوع میں آئے گا۔ اس وقت جبکہ قرآن نازل ہو رہا تھا وہ اپنے اس زوال کے دور میں تھے۔ حال یہ تھا کہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے ہی ان کا ” معبد ثانی “ (Second Temple) بھی منہدم کیا جا چکا تھا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے جو ہیکل سلیمانی بنایا تھا ‘ جس کو یہ ” معبدِ اوّل “ (First Temple) کہتے ہیں ‘ اسے بخت نصر (Nebukadnezar) نے حضرت مسیح ( علیہ السلام) سے بھی چھ سو سال پہلے گرا دیا تھا۔ اسے انہوں نے دوبارہ تعمیر کیا تھا جو ” معبد ثانی “ کہلاتا تھا۔ لیکن ٧٠ عیسوی میں محمد عربی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ولادت سے پانچ سو سال پہلے رومیوں نے حملہ کر کے یروشلم کو تباہ و برباد کردیا ‘ یہودیوں کا قتل عام کیا اور جو ” معبد ثانی “ انہوں نے تعمیر کیا تھا اسے بھی مسمار کردیا ‘ جو اب تک گرا پڑا ہے ‘ صرف ایک دیوار گریہ (Veiling Wall) باقی ہے جس کے پاس جا کر یہودی ماتم اور گریہ وزاری کرلیتے ہیں ‘ اور اب وہ اسے سہ بارہ بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ چناچہ ان کے ” معبد ثالث “ (Third Temple) کے نقشے بن چکے ہیں ‘ اس کا ابتدائی خاکہ تیار ہوچکا ہے۔ بہرحال جس وقت قرآن نازل ہو رہا تھا اس وقت یہ بہت ہی پستی میں تھے۔ اس وقت ان سے فرمایا گیا : ” اے بنی اسرائیل ! ذرا یاد کرو میرے اس انعام کو جو میں نے تم پر کیا تھا “۔ وہ انعام کیا ہے ؟ میں نے تم کو اپنی کتاب دی ‘ نبوت سے سرفراز فرمایا ‘ اپنی شریعت تمہیں عطا فرمائی۔ تمہارے اندر داؤد اور سلیمان ( علیہ السلام) جیسے بادشاہ اٹھائے ‘ جو بادشاہ بھی تھے ‘ نبی بھی تھے۔ (وَاَوْفُوْا بِعَہْدِیْٓ اُوْفِ بِعَہْدِکُمْ ج) بنی اسرائیل سے نبی آخر الزماں حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے کا عہد لیا گیا تھا۔ تورات میں کتاب استثناء یا سفر استثناء (Deuteronomy) کے اٹھارہویں باب کی آیات ١٨۔ ١٩ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے خطاب کر کے یہ الفاظ فرمائے : ” میں ان کے لیے ان ہی کے بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اسے حکم دوں گا وہی وہ ان سے کہے گا۔ اور جو کوئی میری ان باتوں کو جن کو وہ میرا نام لے کر کہے گا ‘ نہ سنے تو میں ان کا حساب اس سے لوں گا۔ “ یہ گویا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی امت کو بتایا جا رہا تھا کہ نبی آخر الزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئیں گے اور تمہیں ان کی نبوت کو تسلیم کرنا ہے۔ قرآن مجید میں اس کا تفصیلی ذکر سورة الاعراف میں آئے گا۔ یہاں فرمایا کہ تم میرا عہد پورا کرو ‘ میرے اس نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ‘ کو تسلیم کرو ‘ اس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لاؤ ‘ اس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صدا پر لبیک کہو تو میرے انعام و اکرام مزید بڑھتے چلے جائیں گے۔ (وَاِیَّایَ فَارْہَبُوْنِ )

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

56. 'Israel' means the slave of God. This was the title conferred on Jacob (Ya'qub) by God Himself. He was the son of Isaac and the grandson of Abraham. His progeny are styled the 'Children of Israel'. Turning to the Qur'anic text itself, it is noteworthy that the foregoing verses have been in the nature of introductory remarks addressed to all mankind. From the present section up to and including the fourteenth (verses 40 discourse, the reader should be particularly aware of the following purposes: The first purpose of this discourse is to invite those followers of the earlier Prophets who still had some element of righteousness and goodness to believe in the Truth preached by the Prophet Muhammad (peace be on him) and to join hands in promoting the mission he championed. In these sections they are told that the Qur?an and the Prophet are bearers of the same message and mission preached by the earlier Prophets and Scriptures. The earlier communities were entrusted with the Truth in order that, as well as following it themselves, they might call others towards it and try to persuade them to follow it. But instead of directing the world in the light of this truth, they themselves failed to follow the Divine Guidance and sank into degeneracy. Their history and their contemporary religious and moral condition bore out this degeneration. They are also told that God has once again entrusted the same Truth to one of His servants and has appointed him to carry out the same mission as that of the earlier Prophets and their followers. What the Prophet has brought is, therefore, neither new nor foreign; it is their very own and they are asked to accept it as such. A fresh group of people has now arisen with the same mission they had, but which they failed to carry out. It is clearly their duty to support these people. The second purpose of this discourse is to leave no reasonable justification for the negative Jewish attitude towards Islam, and to expose fully the true state of the religious and moral life of the Jews. This discourse makes it clear that the religion preached by the Prophet was the same as that preached by the Prophets of Israel. So far as the fundamentals are concerned, nothing in the Qur?an differs from the teachings of the Torah. It is also established that the Jews failed glaringly to follow the guidance entrusted to them, even as they had failed to live up to the position of leadership in which they had been placed. This point is established by reference to events of irrefutable authenticity. Moreover, the way in which the Jews resorted to conspiracies and underhand machinations designed to create doubts and misgivings, the mischievous manner in which they engaged in discussions, the acts of trickery in which they indulged in wilful opposition to the Truth, and the vile tactics which they employed in order to frustrate the mission of the Prophet, were all brought into sharp relief so as to establish that their formal, legalistic piety was a sham. What lay behind it was bigotry, chauvinism and self This candid criticism of the Jews had several salutary effects. On the one hand, it made the situation clear to the good elements among the Jews. On the other, it destroyed the religious and moral standing of the Jews among the people of Madina, and among the pagans of Arabia as a whole. Moreover, it undermined the morale of the Jews to such an extent that from then on they could not oppose Islam with a firmness born of strong inner conviction. Third, the message addressed in the earlier sections to mankind as a whole is here elucidated with reference to a particular people. The example of the Jews is cited to show the tragic end that overtakes a people when it spurns Divine Guidance. The reason for choosing the Children of Israel as an example is that they alone, out of all the nations, constituted for four thousand years the continual embodiment of a tragedy from which many lessons could be learnt. The vicissitudes of fortune which visit a people, depending on whether they follow or refrain from following Divine Guidance, were all conspicuous in the history of this nation. Fourth, this discourse is designed to warn the followers of Muhammad (peace be on him) to avoid the same pitfalls as the followers of the earlier Prophets. While explaining the requirements of the true faith, it clearly specifies the moral weaknesses, the false concepts of religion, and the numerous errors in religious belief and practice which had made inroads among the Jews. The purpose is to enable Muslims to see their true path clearly and to avoid false ones. While studying the Qur'anic criticism of the Jews and Christians, Muslims should remember the Tradition from the Prophet in which he warned them that they would so closely follow the ways of the earlier religious communities that if the latter had entered a lizard's burrow, so would the Muslims. The Prophet was asked: 'Do you mean the Christians and Jews, O Messenger of God?' The Prophet replied: 'Who else?' (See Bukhiri, 'Itisam', 14; Muslim, "Ilm', 6

سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :56 اسرائیل کے معنی ہیں عبد اللہ یا بندہ خدا ۔ یہ حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب تھا ، جو ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوا تھا ۔ وہ حضرت اسحاق علیہ السلام کے بیٹے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پوتے تھے ۔ انہی کی نسل کو بنی اسرائیل کہتے ہیں ۔ پچھلے چار رکوعوں میں تمہیدی تقریر تھی ، جس کا خطاب تمام انسانوں کی طرف عام تھا ۔ اب یہاں سے چودھویں رکوع تک مسلسل ایک تقریر اس قوم کو خطاب کرتے ہوئے چلتی ہے جس میں کہیں کہیں عیسائیوں اور مشرکینِ عرب کی طرف بھی کلام کا رخ پھر گیا ہے اور موقع موقع سے ان لوگوں کو بھی خطاب کیا گیا ہے جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر ایمان لائے تھے ۔ اس تقریر کو پڑھتے ہوئے حسبِ ذیل باتوں کو خاص طَور پر پیشِ نظر رکھنا چاہیے: اوّلاً ، اس کا منشا یہ ہے کہ پچھلے پیغمبروں کی اُمت میں جو تھوڑے بہت لوگ ابھی ایسے باقی ہیں جن میں خیر و صلاح کا عنصر موجود ہے ، اُنہیں اس صداقت پر ایمان لانے اور اس کام میں شریک ہونے کی دعوت دی جائے جس کے ساتھ محمد علیہ السلام اُٹھائے گئے تھے ۔ اس لیے ان کو بتایا جا رہا ہے کہ یہ قرآن اور یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہی پیغام اور وہی کام لے کر آیا ہے جو اس سے پہلے تمہارے انبیا اور تمہارے پاس آنے والے صحیفے لائے تھے ۔ پہلے یہ چیز تم کو دی گئی تھی تاکہ تم آپ بھی اس پر چلو اور دنیا کو بھی اس کی طرف بُلانے اور اس پر چلانے کی کوشش کرو ۔ مگر تم دنیا کی رہنمائی تو کیا کرتے ، خود بھی اس ہدایت پر قائم نہ رہے اور بگڑتے چلے گئے ۔ تمہاری تاریخ اور تمہاری قوم کی موجودہ اخلاقی و دینی حالت خود تمہارے بگاڑ پر گواہ ہے ۔ اب اللہ نے وہی چیز دے کر اپنے ایک بندے کو بھیجا ہے اور وہی خدمت اس کے سپرد کی ہے ۔ یہ کوئی بیگانہ اور اجنبی چیز نہیں ہے ، تمہاری اپنی چیز ہے ۔ لہٰذا جانتے بُوجھتے حق کی مخالفت نہ کرو ، بلکہ اسے قبول کر لو ۔ جو کام تمہارے کرنے کا تھا ، مگر تم نے نہ کیا ، اسے کرنے کے لیے جو دوسرے لوگ اُٹھے ہیں ، ان کا ساتھ دو ۔ ثانیاً ، اس کا منشا عام یہودیوں پر حُجّت تمام کرنا اور صاف صاف ان کی دینی و اخلاقی حالت کو کھول کر رکھ دینا ہے ۔ ان پر ثابت کیا جارہا ہے کہ یہ وہی دین ہے ، جو تمہارے انبیا لے کر آئے تھے ۔ اُصولِ دین میں سے کوئی ایک چیز بھی ایسی نہیں ہے ، جس میں قرآن کی تعلیم تورات کی تعلیم سے مختلف ہو ۔ ان پر ثابت کیا جارہا ہے کہ جو ہدایت تمہیں دی گئی تھی اس کی پیروی کرنے میں ، اور جو رہنمائی کا منصب تمہیں دیا گیا تھا اس کا حق ادا کرنے میں تم بری طرح ناکام ہوئے ہو ۔ اس کے ثبوت میں ایسے واقعات سے اِستِشْہاد کیا گیا ہے جن کی تردید وہ نہ کر سکتے تھے ۔ پھر جس طرح حق کو حق جاننے کے باوجود وہ اس کی مخالفت میں سازشوں ، وسوسہ اندازیوں ، کج بحثیوں اور مکّاریوں سے کام لے رہے تھے ، اور جن ترکیبوں سے وہ کوشش کر رہے تھے کہ کسی طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن کامیاب نہ ہونے پائے ، ان سب کی پردہ دری کی جارہی ہے ، جس سے یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ ان کی ظاہری مذہبیّت محض ایک ڈھونگ ہے ، جس کے نیچے دیانت اور حق پرستی کے بجائے ہٹ دھرمی ، جاہلانہ عصبیت اور نفس پرستی کام کر رہی ہے اور حقیقت میں وہ یہ چاہتے ہی نہیں ہیں کہ نیکی کا کوئی کام پھل پُھول سکے ۔ اس طرح اتمامِ حجّت کرنے کا فائدہ یہ ہوا کہ ایک طرف خود اس قوم میں جو صالح عنصر تھا ، اس کی آنکھیں کُھل گئیں ، دُوسری طرف مدینے کے عوام پر اور بالعموم مشرکینِ عرب پر ان لوگوں کا جو مذہبی و اخلاقی اثر تھا ، وہ ختم ہو گیا ، اور تیسری طرف خود اپنے آپ کو بے نقاب دیکھ کر ان کی ہمتیں اتنی پست ہوگئیں کہ وہ اس جُراٴت کے ساتھ کبھی مقابلے میں کھڑے نہ ہو سکے جس کے ساتھ ایک وہ شخص کھڑا ہوتا ہے جسے اپنے حق پر ہونے کا یقین ہو ۔ ثالثًا ، پچھلے چار رکوعوں میں نوعِ انسانی کو دعوت عام دیتے ہوئے جو کچھ کہا گیا تھا ، اسی کے سلسلے میں ایک خاص قوم کی معین مثال لے کر بتایا جا رہا ہے کہ جو قوم خدا کی بھیجی ہوئی ہدایت سے منہ موڑتی ہے ، اس کا انجام کیا ہوتا ہے ۔ اس توضیح کے لیے تمام قوموں میں سے بنی اسرائیل کو منتخب کرنے کی وجہ یہ ہے کہ دنیا میں صرف یہی ایک قوم ہے جو مسلسل چار ہزار برس سے تمام اقوامِ عالم کے سامنے ایک زندہ نمونہ عبرت بنی ہوئی ہے ۔ ہدایت الہٰی پر چلنے اور نہ چلنے سے جتنے نشیب و فراز کسی قوم کی زندگی میں رُونما ہو سکتے ہیں اور سب اس قوم کی عبرتناک سرگزشت میں نظر آجاتے ہیں ۔ رابعًا ، اس سے پیروانِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو سبق دینا مقصُود ہے کہ وہ اس انحطاط کے گڑھے میں گرنے سے بچیں جس میں پچھلے انبیا کے پیرو گر گئے ۔ یہودیوں کی اخلاقی کمزوریوں ، مذہبی غلط فہمیوں اور اعتقادی و عملی گمراہیوں میں سے ایک ایک کی نشان دہی کر کے اس کے بالمقابل دین حق کے مقتضیات بیان کیے گئے ہیں تاکہ مسلمان اپنا راستہ صاف دیکھ سکیں اور غلط راہوں سے بچ کر چلیں ۔ اس سلسلے میں یہُود و نصاریٰ پر تنقید کرتے ہوئے قرآن جو کچھ کہتا ہے اس کو پڑھتے وقت مسلمانوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث یاد رکھنی چاہیے جس میں آپ ؐ نے فرمایا ہے کہ تم بھی آخر کار پچھلی اُمتوں ہی کی روش پر چل کر رہو گے حتّٰی کہ اگر وہ کسی گوہ کے بِل میں گُھسے ہیں ، تو تم بھی اسی میں گُھسو گے ۔ صحابہ ؓ نے پُوچھا: یا رسول اللہ ، کیا یہُود و نصاریٰ مراد ہیں؟ آپ ؐ نے فرمایا ، اور کون؟ نبی اکرم ؐ کا ارشاد محض ایک تَو بِیخ نہ تھا بلکہ اللہ کی دی ہوئی بصیرت سے آپ یہ جانتے تھے کہ انبیا کی اُمتوں میں بگاڑ کن کن راستوں سے آیا اور کن کن شکلوں میں ظہُور کرتا رہا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

۳۷ ’’اسرائیل‘‘ حضرت یعقوب علیہ السلام کا دوسرا نام ہے، ان کی اولاد کو بنی اسرائیل کہا جاتا ہے۔ تمام تر یہودی اور اکثر عیسائی اسی نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ مدینہ منورہ میں یہودیوں کی اچھی خاصی تعداد آباد تھی، اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ پہنچنے کے بعد نہ صرف ان کو اسلام کی دعوت دی تھی، بلکہ ان سے امن کا معاہدہ بھی فرمایا تھا۔ لہٰذا اس مدنی سورت میں زیرنظر آیت سے آیت نمبر : ۳۴۱ تک مسلسل بنی اسرائیل کا تذکرہ ہے، جس میں انہیں اسلام کی دعوت بھی دی گئی ہے اور ان کو نصیحت کرنے کے ساتھ ان کی بد عنوانیوں پر متنبہ بھی کیا گیا ہے، شروع میں ان کو یاد دلایا گیا ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے ان پر کیسے کیسے انعامات فرمائے تھے، اس کا تقاضا یہ تھا کہ وہ اﷲ تعالیٰ کے شکر گزار ہو کر اس عہد کو پورا کرتے جو اﷲ تعالیٰ نے ان سے لیا تھا کہ وہ تورات پر ٹھیک ٹھیک عمل کریں گے اور اللہ کے بھیجے ہوئے ہر نبی پر ایمان لائیں گے۔ لیکن انہوں نے تورات پر عمل کرنے کے بجائے اس کی من مانی تأویلیں شروع کردیں اور اس کے احکام کو بدل ڈالا۔ چونکہ اس طرز عمل کی وجہ یہ بھی تھی کہ حق کو قبول کرنے کی صورت میں انہیں اپنے ہم مذہب لوگوں کا ڈر تھا کہ وہ کہیں ان سے بد ظن نہ ہوجائیں، اس لئے ان دو آیتوں کے آخر میں فرمایا گیا ہے کہ مخلوق سے ڈرنے کے بجائے انہیں اللہ سے ڈرنا چاہئے، اور اللہ کے سوا کسی کا خوف دل میں نہیں رکھنا چاہئے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(40 ۔ 41): اسرائیل حضرت یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم ( علیہ السلام) کا نام ہے۔ بنی اسرائیل اور یہود حضرت یعقوب ( علیہ السلام) کی اولاد کو کہتے ہیں۔ اسرائیل کے معنی ہیں اللہ کا بندہ۔ ان آیتوں میں ان یہود کا ذکر ہے جو مدینہ کے اطراف میں رہتے تھے جن سے مدینہ کے منافق لوگ سازش رکھتے تھے۔ بنی اسرائیل میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بھی تھے۔ انہوں نے بنی اسرائیل کو فرعون کی قید سے چھڑایا اور ملک شام میں ان کو آباد کیا۔ یہی ملک حضرت یعقوب کا وطن ہے جب حضرت یوسف مصر کو گئے تھے تو ان کے سبب سے اور اولاد یعقوب کا بھی مصر کو جانا ہوا تھا پھر حضرت یوسف کی وفات کے بعد یہ لوگ فرعون کی قید میں پھنس گئے۔ فرعون ان سے قیدیوں کی طرح ذلیل کام لیتا تھا۔ اور نہایت ذلت سے ان کو رکھتا۔ آخر حضرت موسیٰ کے عہد نبوت میں فرعون اور اس کا لشکر سب غرق ہو کر مرگئے اور بنی اسرائیل کو اس بلا سے نجات ہوئی۔ پھر حضرت موسیٰ پر تورات نازل ہوئی جس میں نبی آخر الزمان کی نشانیاں تھیں اور نبی آخر الزمان کی اطاعت کا عہد تھا۔ اللہ تعالیٰ نے یہود کو مخاطب ٹھہرا کر اپنی نعمتوں کے یاد دلانے کے بعد اسی عہد کا ذکر ان آیتوں میں کیا ہے۔ مکہ کے اطراف میں یہود نہیں تھے۔ اس لئے جو حصہ قرآن کا مکہ میں نازل ہوا ہے اس میں یہود کا ذکر نہیں ہے۔ ہجرت کے بعد یہ پہلا فرقہ یہود کا ہے جس کو قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے مخاطب ٹھہرایا ہے اس لئے ان کو پہلا کافر فرمایا ہے جس کا مطلب یہ ہے جس طرح ان کو قرآن پر ایمان لانے کو کہا گیا ہے ان کو اس پر ایمان لانا چاہیے کیونکہ اس قرآن کی تصدیق خود تورات میں موجود ہے اور اگر یہ لوگ قرآن کے منکر ہوئے تو ان کے دیکھا دیکھی ان کے بعد شامد کے ملک کے اور بھی یہود لوگ قرآن کے منکر ہوں گے اول کافر بھی کہلائیں گے کس لئے کہ جو لگ ان کے بعد منکر ہوں گے وہ ان کے ہی پیرو ہوں گے اور کعب بن اشراف وغیرہ علماء اور روسا یہود آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نشانیاں جو تورات میں تھیں اذن کو اس لئے چھپاتے تھے کہ جاہل یہود لوگ جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سچا نبی جان لیویں گے تو آپ کی طرف ان کا میلان طبع ہوجاوے گھا اور اس جاہل فرقہ یہود سے علمائے یہود کو جو کچھ منفعت دنیوی ہے وہ بند ہوجاوے گی۔ اسی تھوڑے سے لالچ کو اللہ تعالیٰ نے تورات کی آیتوں کا تھوڑا مول فرمایا ہے اور اس لالچ کے سبب سے جو وبال ان پر پڑجاوے گا اس سے اذن کو ڈرایا ہے۔ صحیحین میں ابو موسیٰ اشعری سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تین شخص دنیا میں ایسے ہیں جن کو دوہرا اجر ملے گا۔ ایک اہل کتاب میں کا وہ شخص جس نے اپنے نبی اور کتاب کو بھی مانا اور قرآن کو اللہ کا کلام اور مجھ کو بھی اللہ کا رسول جانا۔ دوسرا وہ غلام جس نے اپنے آقا کو خوش رکھا اور اللہ تعالیٰ کا بھی حق ادا کیا۔ تیسرا وہ شخص جس نے اپنی لونڈی کو اچھی طرح تربیت کیا اور پھر اس کو آزاد کرکے اس سے نکاح کرلیا۔ ١۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہود تورات کے عہد پر قائم رہتے تو اللہ تعالیٰ دوہرے اجر کا اپنا عہد اذن سے پورا کرتا لیکن وہ اپنے عہد پر قائم نہیں رہے۔ اس واسطے وہ دین دنیا کی رسوائی میں پھنس گئے۔ دنیا میں اکثر ان میں جلا وطن کئے گئے اور کچھ قتل ہوگئے دین میں تو کھلا ٹھکانا ان کا دوزخ ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(2:40) یبنی اسرائیل۔ یاء حرف نداء بنی اسرائیل مضاف، مضاف الیہ مل کر منادی۔ بنی اسرائیل اصل میں بنیں تھا۔ ن جمع اضافت کے سبب گرگیا۔ اسرائیل منصوب بوجہ غیر منصرف عجمہ و معرفہ ہونے کے ہے۔ اسرائیل کے معنی عبد اللہ۔ یعنی اللہ کا بندہ ہے یہ عبرانی زبان کا لفظ ہے بنی اسرائیل اے اسرائیل کے بیٹو، یا اسے اسرائیل کی اولاد۔ اسرائیل حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا لقب ہے۔ اذکروا فعل امر جمع مذکر حاضر۔ ذکر (باب نصر) تم یاد کرو۔ نعمتی۔ مضاف مضاف الیہ ۔ میری نعمتیں، میرے احسان۔ یہاں نعمت لفظاً واحد ہے لیکن اس کے معنی جمع کے ہیں کیونکہ نعمت ایک نہ تھی بلکہ غیر متناہی تھیں۔ ی ضمیر واحد متکلم کی ہے۔ میری نعمتیں۔ اوفوا فعل امر جمع مذکر حاضر۔ ایفاء (افعال) تم پورا کرو۔ عھدی۔ مضاف مضاف الیہ ۔ میرا عہد۔ ادف۔ مضارع کا صیغہ واحد متکلم ۔ ایفاء (افعال) مصدر، میں پورا کروں گا۔ بعھدکم ۔ یعنی وہ وعدہ جو میں نے تم سے کیا ہے اوف اصل میں اوفی تھا۔ لیکن اوف بعھدکم جملہ جزاء ہے جیسا کہ جملہ اولیٰ شرطیہ کی خبر دے رہا ہے اس لئے اوف میں ی حذف ہوگئی۔ وایای فارھبون۔ واؤ عاطفہ ہے ایای میں فعل محذوف ہے گویا عبارت یوں ہے ایای ارھبوا۔ ایای۔ ضمیر منصوب منفصل مفعول ہے۔ اور حصر کا فائدہ دیتی ہے۔ اور مفعول کو تخصیص کے لئے فعل سے مقدم لایا گیا ہے (ملاحظہ ہو 1:4) ۔ ارھبوا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے۔ ترجمہ ہوگا۔ اور تم صرف مجھ ہی سے ڈرو۔ فارھبون۔ دوسرا جملہ ہے ف جزا کا ہے۔ اس سے قبل جملہ شرطیہ محذوف ہے گویا کلام یوں ہے ان کنتم راھبین شیئا فارھبونی۔ اگر تم کسی شے سے ڈرتے ہو تو مجھ سے ڈرو۔ ارعبون۔ ارھبوا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے ف وقایہ اور ی متکلم محذوف ہے ارھبوا رھبۃ۔ مصدر باب سمع سے ہے۔ رھبۃ ایسے خوف یا ڈر کو کہتے ہیں۔ جس میں احتیاط اور اضطراب و بےچینی شامل ہو۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 بعض نے عہد اول سے خاص کر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اتباع کا عہد مراد لیا ہے مگر عموم پر محمول کرنا بہتر ہے۔ (قرطبی) بنی اسرائیل کی طرح متعدد آیات میں امت محمدی سے بھی ایفائے عہد کا تقاضا کیا گیا ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات 40 46 اسرارو معارف جیسا کہ پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ یہ سورة بلحاظ نزول مدنی ہے اور مدینہ منورہ میں یہود کا کافی تسلط تھا۔ قلعے اور جاگیریں بھی تھیں کاروباری لحاظ سے بھی بہت بڑھے ہوئے تھے اور ان میں بڑے بڑے علماء بھی تھے نیز وہ اپنے آسمانی مذہب پر ہونے اور حق پر ہونے کے مدعی بھی تھے۔ لہٰذا اللہ کریم نے سب سے پہلے مومن کے اوصاف ، پھر کافر اور منافق کے حالات بیان فرمائے پھر عمومی دعوت تمام انسانیت کو دی اور آپ روئے سخن براہ راست یہود کی طرف ہے کہ اسے اولاد یعقوب (علیہ السلام) کہتے ہیں اسرائیل حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا لقب ہے۔ ان سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک تمام نبی بنی اسرائیل میں ہوئے ہیں۔ باوجود دوسری نعمتوں کے یہی ایک نعمت کس قدر عظیم ہے کہ سلسلہ نبوت صدیوں تک اس قوم میں جاری رہا جس کے طفیل انہیں دنیا کی عزت حتیٰ کہ حکومت تک نصیب رہی اور اخروی کامیابی بھی ، مگر ایک بات جو ہر نبی نے اپنی امت سے ارشاد فرمائی اور بنی اسرائیل میں اول سے آخر تک سب انبیاء نے بتلائی نیز کتب سماوی نے اس کی اطلاع دی نہ صرف اطلاع بلکہ اس پر ایمان لانا اور اس کا اقرار بھی ارکان دین میں سے تھا اور اس کا منکر کافر۔ وہ یہ تھی کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاتم الانبیاء مبعوث ہوں گے جب قبل بعثت ان کا ماننا ارکان دین میں سے ہوا تو پھر بعثت پر ایمان لانا تو دین کی بنیاد ٹھہرا۔ لہٰذا تمہیں نہ صرف اس پر ایمان لانا ہوگا بلکہ ہر طرح سے ان کی نصرت کرنی ہوگی اور یہ لوگ قبل بعثت تک تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تشریف آوری کے منتظر رہے مگر بعثت پر انکار کر بیٹھے تو فرمایا ، اوفوا بعھدی ، یعنی جو وعدہ نسلاً بعد نسل میرے ساتھ کرتے چلے آئے ہو اب پورا کرو۔ اس پر قائم رہو تو میں بھی اپنا وعدہ کہ تم دنیا وآخرت میں عزت پائو گے پورا کروں۔ مگر یہ صرف اس صورت میں ہوسکے گا تم مجھ سے ہی ڈرو۔ اگر تمہاری امیدیں میے سوا ، دوسرے سے وابستہ ہوں گی اور اس کی ناراضگی کا اندیشہ رکھو گے تو پھر اسی کی پسند پر بھی چلو گے۔ وامنوابما انزلت مصدقا قالما معکم ولا تکونوا اول کافر بہ ولا تشتروا بایتی ثمنا قلیلا وایای فاتقون۔ اور اس حقیقت پر ایمان لائو جو میں نے نازل فرمائی ہے اور جو تمہاری کتاب کی تصدیق کرتی ہے نہ صرف اس معنی سے کہ قرآن تو رات وانجیل کو منزل من اللہ بتاتا ہے بلکہ عملاً بھی ذات نبوی علیٰ صاحبھا الصلوٰۃ والسلام اور قرآن کریم اس پیشگوئی کو جو پہلی کتابوں میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں تھی حرف بحرف پورا کرکے ان کی تصدیق فرماتے ہیں۔ لہٰذا تمہیں زیب نہیں دیتا کہ تم ہی پہلے انکار کرنے والے بن جائو ، اور دوسرے لوگ جو تمہیں عالم جانتے ہیں تمہاری وجہ سے انکار کرتے چلے جائیں تو اس طرح تم نہ صرف اپنے کفر بلکہ دوسروں کے کفر کے بھی ذمہ دار قرار پائے گے۔ حدیث شریف میں وارد ہے کہ نیکی کی ترغیب دینے الا بھی اسی قدر ثواب پاتا ہے جتنا اس پر عمل کرنے والا ، اور بدی کی دعوت دینے والا یا برائی ایجاد کرنے والا اسی قدر گناہ پاتا ہے جس قدر لوگ اس پر عمل کرتے چلے جاتے ہیں۔ یہاں صوفیوں کے لئے بہت باریک بات ہے کہ ان کی بعض حرکات کی وجہ سے لوگ اہل اللہ سے بدظن ہوجاتے ہیں جس کے لئے یہ ذمہ دار ہوں گے اور بعض عادات جو خلاف سنت ہوتی ہیں لوگ اپنا کر ان پر ہمیشہ بوجھ لادتے رہتے ہیں اس لئے صوفی کو چاہیے کہ عادات تک کی نگہبانی کرے کہ یہ مقتدار ہوتے ہیں آیات کے بدلے دنیا حاصل کرنے میں نہ لگ جائو جو ایک قلیل معاوضہ ہے اور بہت تھوڑی قیمت ہے کہ ساری دنیا بھی بدلے میں ملے بھی کم ہے چہ جائیکہ تم حقیر سی رقم یاوقتی اقتدار کی ہوس میں تورات کی آیات بدل دیتے ہو۔ کچھ تو اللہ کا خوف کرو۔ یعنی اقتدار کے جانے کا غم نہ کرو ، دولت نہ ملنے کا اندیشہ نہ رکھو۔ بلکہ میری ناراضگی سے ڈرو۔ یہاں معارف قرآن میں اس موضوع پر بحث ہے کہ کیا ائمہ مساجد کو تنخواہ لینی جائز ہے ؟ یا ختم قرآن یا تعلیم قرآن پہ اجرت کیسی ہے اگر چاہیں تو دیکھ لیں مگر یہ آیت اس پر بات نہیں کرتی بلکہ یہ فتویٰ فروشوں کو متنبہ کرتی ہے جو روپے لے کر یا اقتدار قائم رکھنے کو یا کسی بھی دنیاوی لالچ میں آکر غلط فتوے دے دیتے ہیں کہ یہ براہ راست احکام باری کی توہین وتذلیل ہے کہ علمائے یہود ایسا ہی کرتے تھے۔ حالانکہ جانتے تھے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) برحق نبی ہیں مگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف فتویٰ دیتے تھے۔ لہٰذا فرمایا کہ اگر تم ایماندار ہو جیسا کہ تمہارا دعویٰ ہے تو پھر صرف مجھ سے ڈرو ، اقتدار اور دنیا کے جانے سے لرزاں وترساں کیوں ہو ؟ ولا تلبسو الحق بالباطل وتکتموا الحق وانتم تعلمون۔ سچ کو جھوٹ کے ساتھ اور حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط نہ کرو اور سچائی کو نہ چھپائو کہ تم خوب جانتے ہو۔ کیونکہ علمائے یہودونصاریٰ تو نہ صرف حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بلکہ صحابہ کرام (رض) تک کے اوصاف حمیدہ سے اس قدر واقف تھے کہ صرف حضرت فاروق اعظم (رض) کو دیکھ کر بیت المقدس سپرد کردیا تھا کہ ہماری کتابوں کی پیشگوئی کے مطابق یہ وہی شخص ہے جس کے ہاتھ پر فتح مقدر ہے۔ واقیموالصلوٰۃ واتوالزکوٰۃ والرکعوامع الراکعین۔ حق پر قائم رہنے کے لئے صلوٰۃ قائم کرو اور مال میں سے فرض صدقات ادا کرو ، نیز بدنی اور مالی عبادات پوری محنت سے کرو کہ یہی تقاضائے ایمان ہے اقامت صرف پڑھنے کو نہیں کہا جاتا بلکہ صلوٰۃ کی جملہ شرائط جسم اور لباس کی طہارت ، وضو ، وقت ، باجماعت اور پھر ارکان صلوٰۃ کا پورا پورا خیال رکھنا۔ قیام ، رکوع ، سجود ، جلسہ وغیرہ تمام امور کی نگہداشت کرنا بلکہ اس سے بڑھ کر تلقین اور تبلیغ بھی اقامت صلوٰۃ کا شعبہ ہے اور زکوٰۃ ادا کرنے والے بنو نیز رکوع کرو رکوع کرنے والوں کے ساتھ۔ یہاں سے اکثر حضرات وجوب جماعت کو ثابت کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ بغیر عذر شرعی ، مرد کے فرائض پنجگانہ گھر میں ادا ہی نہیں ہوتے اور سستی وتساہل عذر شرعی میں داخل نہیں۔ اس کے علاوہ حدیث شریف میں جو تاکید ہے وہ بھی یہی ظاہر کرتی ہے کہ جہاں تک اذان کی آواز پہنچتی ہے لوگوں کو نماز کے لئے حاضر ہونا چاہیے اس میں لائوڈ سپیکر شرط نہیں بلکہ متوسط آدمی کی آواز۔ حتیٰ کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک نابینا صحابی (رض) کو بھی رخصت نہ فرمائی تھی ، یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مسلمانوں کا آپس میں متحد ہونا بھی ضروری ہے اور یہ روش کہ سجدہ والا دوسری مساجد والوں پر طعن کرنے ناجائز اور سخت نامناسب ہے ، عجب حیرت ہے کہ لوگوں کو کافر بھی مساجد میں ہی نظر آتے ہیں کبھی جوا خانوں میں جانے والوں اور فحاشی کے اڈوں پر راتیں بسر کرنے والوں سے کچھ نہیں کہا جاتا حالانکہ یہ امور بھی گناہ کبیرہ ہیں کفر نہیں۔ علمائے حق نے سچے مسلمان کے اوصاف میں یہ وصف بھی نقل کیا ہے کہ اگر وہ دین کے کام میں مخلص ہے تو دوسروے کیا سی کام کو کرنے سے خوش ہوگا ، اور نہ حسد کرے گا جو آج کل عام ہے۔ اتامرون الناس بالبر وتنسون انفسکم وانتم تتلون الکتاب افلا تعقلون۔ اللہ کے بندو ! لوگوں کو تو بھلائی کا حکم کرتے ہو ، نیک کام کرنے کی تلقین کرتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو۔ علمائے یہود اپنے مسلمان ہوجانے والے رشتہ داروں سے تو یہ کہتے تھے کہ یہ حق ہے اور اس پر جمے رہو مگر خود اس طرف نہیں آتے تھے نیز یہ ان لوگوں کو بھی متنبہ فرمایا جارہا ہے جو وعظ تو خوب کہتے ہیں مگر عملی زندگی درست نہیں رکھتے لوگوں کو جن باتوں سے منع کرتے ہیں خود انہی کے مرتکب ہوتے ہیں اور پھر اس پر طرہ یہ کہ عوام تو محض سنی سنائی کی حد تک جان سکتے ہیں اور تم خود کتاب کے جاننے والے یعنی عالم ہو کیا تم اتنی عقل بھی نہیں رکھتے۔ تمام نیکیوں کی بنیاد عقیدہ ہے جو شخص بھی عقائد کی طرف متوجہ نہیں ہوتا اور ان کی اصلاح نہیں کرپاتا وہ مزید نیکی کیا خاک کرے گا۔ جیسے علمائے یہود باقی اچھے کام کرنے کو تو کہتے تھے مگر عقیدہ جو ضروری اور بنیادی چیز تھا یعنی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانا۔ نہ اس کی تلقین کرتے نہ خود لاتے۔ تو یہ سب کیوں ہے ؟ لذت طلبی اور عزت واقتدار کی خواہش ، دولت کی طلب کہ شاید اس طرح یہ چیزیں نصیب ہوں اور زندگی آرام سے گزرے۔ فرمایا ، یہ انداز فکر ہی خلاف حقیقت ہے کہ یہ دنیا مصیبتوں کا گھر ہے جس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ خواہش تو انسان کرسکتا ہے مگر اس کی تکمیل اس کے بس میں نہیں اور یہ خواہشات زندگی کو اجیرن بنادیتی ہیں اس کے لئے نہ دولت کے پیچھے دوڑو نہ اقتدار اور پیشوا بننے کی ہوس میں حق سے گریز کرو۔ بلکہ واستعینوا بالصبروالصلوٰۃ ، صبر اور صلوٰۃ ۔ یعنی عبادت اور دعا سے مدد حاصل کرو۔ صبر کیا ہے ؟ اللہ کی اطاعت پر اپنے آپ کو کاربند کرلینا اور عدم اطاعت سے نفس کو روک لینا۔ اصول تجویز اور اصول تفویض : یعنی تجویز کرنا چھوڑو ، طریق تفویض اختیار کرو ، وہ یہ کہ سب سے پہلے تو خلاف شرع اور ممنوعہ امور سے رک جائو۔ بہت بڑی مصیبت سر سے ٹل جائے گی پھر جو کام مباح ہیں ان میں اپنی کوشش تو ضرور کرو ، اور امکانی حد تک محنت کرو مگر نتائج کی امید اللہ سے رکھو ، محنت بھی کرو اور دعا بھی ، مگر نہ محنت پر یہ حکم لگادو کہ اس کا نتیجہ یقینا وہی ہوگا جو میں چاہتا ہوں کہ یہ تمہارے بس میں نہیں اور نہ صرف محنت پہ بس کرو بلکہ دعا بھی کرو اور دعا کو بھی درخواست جانو حکم نہ سمجھو کہ اللہ پر نافذ ہوجائے گا اب اگر نتیجہ دنیا میں بھی تمہاری امید کے مطابق نکلا تو کیا کہنے کہ ثواب آخرت بھی بلاوجہ اتباع شریعت کے اور اللہ سے شرف ہم کلامی بذریعہ دعا نصیب ہو اور دل کی مراد بھی بر آتی لیکن اگر نتیجہ دنیا میں تمہاری امید کے برعکس آیا تو پہلے دو لطف تو مل ہی گئے جو اصل مقصود ہیں اور کیا خبر کہ تمہاری توقع اور خواہش کے مقابلے میں اس سے بہتر متبادل چیز بخش دے اور یقینا ایسا ہی ہوتا ہے۔ یہ طریقہ دنیا میں بھی لذت واکرام حاصل کرنے کا ہے نہ چوری ، نہ ثبوت ، نہ کتمان حق یہ راستہ مصائب کو تجھ سے دور کرے گا یہ نسخہ ذرا مشکل ہے بلکہ بہت مشکل ہے وانھا کبیرۃ یہ بہت مشکل کام ہے الا علی الخاشعین الذین یظنون انھر حلاقواربھم وانھر الیہ راجعون ، مگر ان لوگوں کے لئے مشکل نہیں جن کے قلوب میں خشوع موجود ہے کہ خشوع فعل ہی قلب کا ہے اور یہ اس کیفیت کا نام ہے جو عظمت باری اور ہیبت الٰہی کے سامنے اپنی بےمائیگی اور بےبسی کا اندازہ کرکے پیدا ہوتی ہے اللہ کی وہ عظمت کہ ساری کائنات کا خالق مالک ، رازق اور پروردگار ہے پھر اس وسیع کائنات میں خود یہ زمین ایک ذرہ ہے اس پر نہ جانے کس قدر اقسام ذوی الارواح کی ہیں جن میں سے پوری انسانیت ایک اکائی کا درجہ رکھتی ہے اس اکائی میں ایک آدمی کیا ہے ذرا عشاریہ لگا کر صفر لگانا شروع کردیں ، دیکھیں زندگی میں ایک لکھنے کی نوبت آتی ہے یا پوری زندگی صفر صفر ہی تمام ہوتی ہے۔ اس طرح عظمت باری کا شعور جو ایک کیفیت ہے اور قلب پر وارد ہوتی ہے اسی کو خشوع کا نام دیا گیا ہے۔ اور یہ قلب ہی ہے جو یقین عطاء کرتا ہے کہ مجھے اپنے پروردگار سے ملنا ہے اگر یہ ملاقات اور لوٹ کر جانا نہ ہوتا تو پوری تخلیق یہ عبث ہوتی کہ بےنتیجہ کام عبث ہوا کرتا ہے اور فضول کام کرنے والے کو رب نہیں کہا جاتا۔ یہ بھی شان ربوبیت کے لئے ضروری ہے کہ قیامت قائم ہو ، نتائج سامنے آئیں اور نیک وبداثرات مرتب کئے جائیں اسی وجہ سے یہاں ملقواربھم فرمایا گیا ہے کہ یہ تمام امور صفت ربوبیت کا اظہار ہیں ، لہٰذا کیفیات کو محسوس کرنے کے لئے زندگی شرط ہے۔ مُردوں کو گرمی ، سردی ، رنج اور خوشی سے کیا سروکار۔ تو دل بھی جب ہی محسوس کرے گا جب زندہ ہوگا۔ یہ دل ہی کی بےحسی ہے کہ عبادات متروک ہیں۔ اگر مردہ نہیں تو بےہوش ضرور ہے اور اکثر یہی بےہوشی موت پر منتج ہوتی ہے اور لوگ نئے اور باطل مذاہب کے جال میں پھنس جاتے ہیں اس لئے کسی ایسے معاج کی ضرورت ہے جو اس فن میں مہارت رکھتا ہو ، برکات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دل روشن رکھتا ہو اور دوسرے قلوب تک یہ روشنی پہنچائے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دوسری طرح کے فیوض وبرکات جاری ہوئے ایک ارشادات رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دوم مجلس رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی برکات ، ارشادات سے بھی وہی مستفید ہوئے جنہوں نے فیض صحبت پایا۔ ورن محض سننے کی حد تک تو کافر بھی شریک ہیں ، سو آج بھی اسی طرح فیض صحبت کی ضرورت ہے ورنہ محض سنی سنائی سے بات بننے سے رہی جس طرح اقوال و ارشادات متفق ہوتے ہیں اسی طرح نسلاً بعد نسل فیض صحبت بھی سینوں کو منور کرتا چلا آتا ہے۔ ذرا ساسل اولیاء اللہ کو دیکھو ! سند حدیث کی طرح موجود ہیں ان میں کوئی شخص جو واقعی سینہ منور رکھتا ہو اور دل کو جگا سکتا ہو مل جائے تو بات بنے خشوع بھی نصیب ہو۔ القائے الٰہی پہ یقین حاصل ہو اور انسانی افعال کے نتائج اخرویہ پہ نگاہ رکھنے ک یاہلیت پالے۔ ورنہ دنیا اور آرام ؎ ایں خیال است ومحال است وجنوں عبادات میں نیت کا مقام : بغیر خشوع اکثر نمازیں بھی گستاخی کے ضمن میں آتی ہیں یعنی بندہ رب سے ہم کلام ہو اور متوجہ دوسری طرف ہو۔ یہ بہت بڑی گستاخی ہے مگر بایں ہمہ بندہ ہو اور نماز ادا ہی نہ کرے فرائض کو فراموش ہی کردے یہ گستاخی کی حد سے بڑھ کر ہے اور ایک طرح سے ظلم اپنی تباہی کا سامان ہے نہ پڑھنے سے تو بغیر خشوع پڑھنا بہتر۔ مگر اس میں بھی یہ کوشش جاری رکھے کہ اپنے آپ کو اپنے باطن کو اللہ کی طرف متوجہ رکھے۔ اللہ بڑا کریم ہے اس کی ذات سے امید قوی رکھے کہ قبول فرمائے گا اور اگر صحبت کامل نصیب ہو تو پھر دل کا نور عرش کی بلندیوں کو چھوتا ہے جو عبادت کے وقت ایک خاص کیفیت پیدا کرلیتا ہے اگر ذرا غفلت آئے تو اس میں کمی آتی ہے انسان فوراً سنبھل جاتا ہے بلکہ اس سے کہیں آگے چلا جاتا ہے۔ بندہ کا ذاتی مشاہد ہے کہ ایک دفعہ پشاور جاتے ہوئے راستے میں عصر کا وقت ہوا ساتھ ہی ایک مولانا بھی تھے اور ایک درویش صفت دوست بھی میں نے اپنے گلے سے پستول اتار کر مولاناکو دے دیا تھا کہ ڈرائیونگ کرتے ہوئے دقت پیدا کرتا ہے فرض ادا کرتے وقت بھی اس کے گلے میں تھا۔ انہوں نے امامت کی اور ہم نے صلوٰۃ ادا کی تو دوسرے ساتھی کہنے لگے : ” مولانا ! آپ نے ہم سے کیا زائد عمل کیا ہے ؟ “ پوچھا ” کیوں ؟ “ کہنے لگے : ” فرشتہ ثواب لکھ رہا تھا۔ ہماری نسبت آپ کا ثواب زیادہ لکھا گیا میں نے اس سے پوچھا ایسا کیوں ہے تو کہتا ہے کہ ان کی نیت ایک اور کام بھی کرگئی۔ اب آپ بتادیں کہ وہ زائد کام آپ نے کیا کیا ہے ؟ “ مولوی صاحب کہنے لگے ، ” یار ! میرے گلے میں پستول تھا سوچا اسلحہ لگا کر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی صلوٰۃ ادا کی ہے چلو۔ خواہ پستول کسی کا ہے مگر مسلح ہو کر پڑھنے کی سنت تو ادا ہوجائے گی “۔ سبحان اللہ ! اتنی سی سوچ کا فرق کس قدر ثواب کے حصول کا باعث بن گیا۔ کاش ! مسلمان تجھے سنت کی قدر ہوتی ۔ اللہ تمام مسلمانوں کی سنت پہ کار بند فرمادے۔ خشوع کے حصول کے لئے توبہ قلبی کی ضرورت ہے یہی وجہ ہے کہ قاضی ثناء اللہ پانی پتی مرحوم نے حصول تصوف یا سلوک کو ہر مرد و زن کے واجب لکھا ہے کہ بغیر اس کی عبادت محض ایک رسمی کاروائی رہ جاتی ہیں۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 40 تا 46 (بنی) : بیٹے، اولاد، ابن کی جمع بنین ہے، اضافت کی وجہ سے نون گر گیا۔ (اسرائیل): حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا لقب ہے۔ ترجمہ : اللہ کا بندہ ۔ (اوفوا) : پوراکرو۔ (عھد): وعدہ، معاہدہ۔ (ارھبون ) : مجھ سے ڈرو۔ (ارھبوا۔ ۔۔ ۔ تم ڈرو، وقایہ ، فارھبونی، ” ی “ گرگئی ) ۔ (مصدق): تصدیق کرنے والا، سچا بتانے والا۔ (لا تکونوا): تم نہ ہو۔ (کافر): انکار کرنے والا۔ (لا تشتروا): تم فروخت نہ کرو۔ (ثمنا قلیلاً ): تھوڑی قیمت، گھٹیا قیمت۔ (فاتقون): مجھ سے ڈرو، (یہ بھی ارھبون کی طرح ہے) ۔ (لا تلبسوا): نہ ملاؤ۔ (الحق): سچ۔ (الباطل): جھوٹ۔ (تکتموا): تم نہ چھپاؤ۔ (یہاں اصل میں لفظ ہے لا تکتموا ۔ نہ چھپاؤ) ۔ (ارکعوا): رکوع کرو، جھکو۔ (اتامرون): کیا تم حکم دیتے ہو۔ سکھاتے ہو۔ تشریح : آیت نمبر 40 تا 46 اسرائیل عبرانی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں ” اللہ کا بندہ “ ۔۔۔۔ اسرائیل حضرت ابراہیم کے پوتے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا لقب ہے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بارہ بیٹے ہیں جن کو بنی اسرائیل فرمایا گیا ہے۔ جو بعد میں اپنے آپ کو یہودی کہنے لگے۔ اس رکوع میں بنی اسرائیل (یہودیوں) سے خطاب کیا گیا ہے جن پر اللہ نے بڑے بڑے انعامات کئے۔ ایک روایت کے مطابق حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک تقریباً چار ہزار انبیاء کرام تشریف لائے، توریت ، زبور اور انجیل جیسی عظیم کتابیں دی گئیں اور دنیاوی عزت و عظمت سے نوازا گیا تھا۔ ان ہی وجوہات کی بناء پر بنی اسرائیل کو سارے عرب میں بڑا وقار حاصل تھا عرب کے لوگ اس فیصلے کے منتظر تھے کہ حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بنی اسرائیل تصدیق کرتے ہیں یا نہیں۔ اسی لئے سورة بقرہ میں بنی اسرائیل سے خطاب فرمایا گیا ہے۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ اے بنی اسرائیل تم اللہ کی ان تمام نعمتوں کا شکر ادا کر جو اس نے اپنے فضل وکرم سے تمہارے اوپر کی ہیں، تمہیں آج اور اس سے پہلے جو بھی نعمتیں حاصل تھیں اس میں تمہاری ذاتی صلاحیتوں ، اہلیتوں اور قابلیتوں کا کوئی دخل نہ تھا اور نہ ہی تمہارے اس نسلی امتیاز اور نسبی شرافت کا نتیجہ ہے جس پر تم فخر و غرور کرتے ہو بلکہ یہ محض اس کا فضل و کرم ہے۔ اب تمہارے اوپر اللہ کا سب سے بڑا فضل وکرم یہ ہے کہ تمہارے اندر وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہاری اصلاح کے لئے بھیجے گئے ہیں جن کے آنے کی خوش خبریاں تمہاری کتابوں میں موجود ہیں، اور جن کے آنے کے تم منتظر تھے۔ وہ تمہاری کتاب کی تصدیق کرنے والے ہیں اس لئے تم ان پر ایمان لے آؤ، ان کی شریعت کی پابندی کرو تا اللہ کے دین کے ذریعے تمہیں پھر وہی عظمتیں حاصل ہوجائیں جو تم اپنی ناشکریوں اور بد اعمالیوں کی بھینٹ چڑھا چکے ہو۔ تم نے مجھ سے شریعت کی پابندی کا وعدہ کیا تھا اور میں نے اس کے بدلے میں تمہیں دنیا کی بہترین زندگی، اس کی راحتیں اور عظمتیں دینے اور آخرت میں دائمی نجات اور ابدی سکون کا وعدہ کیا تھا۔ آج اگر تم حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آؤ تو یقیناً تمہیں وہی کھوئی ہوئی عظمتیں دوبارہ نصیب ہوجائیں گی۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : حضرت آدم (علیہ السلام) کی نسل میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد یعنی بنی اسرائیل کو امت محمدیہ سے پہلے دنیا میں سب سے زیادہ عزت و عظمت اوراقتدارو اختیار ملا مگر انہوں نے اس کی ناقدری اور ناشکری کی جس کی وجہ سے وہ ذلیل و خوار ہوئے ان کی ذلت و رسوائی کے اسباب کی تفصیل سورة البقرۃ کی سو آیات میں بیان ہوئی ہے۔ (عہد کی تفصیل دیکھیں البقرۃ : ٨٣) ہر دور میں اہل علم کا اس بات پر اتفاق رہا ہے کہ اسرائیل حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا لقب ہے جس کا عبرانی زبان میں معنٰی ہے۔ ” اللہ کا بندہ “ لہٰذا بنی اسرائیل کا معنٰی ہوا کہ اللہ کے بندے کی اولاد۔ تاریخ کے اوراق سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور ان کی اولاد کا اصلی وطن کنعان، فلسطین تھا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانے میں یہ لوگ مصر میں آباد ہوئے۔ ان کے آنے کے بعد ان کے آبائی وطن کنعان، فلسطین اور پورے شام پر عمالقہ نامی قوم نے قبضہ کرلیا۔ جناب یعقوب (علیہ السلام) کے بارہ بیٹے تھے جن میں چوتھے بیٹے کا نام یہودہ تھا۔ اسی نسبت سے بنی اسرائیل کو یہودی بھی کہا جاتا ہے۔ یہ اپنے دور میں بڑی معزز اور محترم قوم تھی ان میں ہزاروں جلیل القدر انبیاء ہوئے ہیں جن میں سب سے نمایاں حضرت موسیٰ اور آخر میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہوئے ہیں۔ مصر میں جب بنی اسرائیل پر فرعون نے مظالم ڈھانے شروع کیے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے انتھک اور بےمثال جدو جہدکرکے ان کو فرعون کے جور وستم سے نجات دلوائی۔ فرعون دریا میں غرق ہوا تو اس کے بعد بنی اسرائیل کو عمالقہ سے جہاد کا حکم ہوا۔ بنی اسرائیل فلسطین کی طرف چلے تو قریب جا کر جب انہیں عمالقہ کی طاقت کا علم ہوا تو انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے صاف کہہ دیا کہ اے موسیٰ تم اور تمہارا خدا لڑو ہم تو یہیں ٹھہریں گے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بہت سمجھایا مگر انہوں نے جہاد سے انکار کردیا۔ جس کی پاداش میں انہیں چالیس سال تیہ کے صحرا میں بطور سزا رہنا پڑا۔ یہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) فوت ہوئے پھر انہوں نے یوشع بن نون کی زیر کمان جہاد کیا اور فاتحانہ انداز میں فلسطین داخل ہوئے۔ بنی اسرائیل میں مجموعی طور پر یہودی اور عیسائی دونوں شامل ہیں۔ لیکن بعض مقامات پر بنی اسرائیل سے مراد صرف یہودی ہوتے ہیں۔ جس کا علم قرآن مجید کے سیاق وسباق سے ہوتا ہے۔ اس کے سیاسی ومذہبی راہنماؤں ‘ حکمرانوں اور عوام کے گھناؤنے کردار کا قرآن مجید کی ابتدا میں بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ نزول قرآن کے وقت دنیا میں یہ دو بڑے مذاہب تھے۔ باقی مذاہب ان کی بگڑی ہوئی شکلیں تھیں۔ ہندوستان میں جسے قدیم تاریخ میں بلادالہند کہا جاتا ہے ہندو اپنے مذہب کو تین ہزار سال پرانا مذہب ثابت کرتے ہیں اس مذہب کی اکثر رسومات اور گائے پرستی کا تصور یہودی مذہب سے ہی لیا گیا ہے۔ ہندو مذہب کی اصلاح کے لیے بدھ مت کی تحریک چلی جو اپنی عادات و رسومات کے لحاظ سے عیسائیت کے زیادہ قریب ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ انہی وجوہات کی بنیاد پر سورة بقرۃ کو قرآن مجید کی ابتدا میں رکھا گیا ہے۔ تاکہ قرآن مجید کا مطالعہ کرنے والے شخص کے ذہن میں شروع ہی سے بنیادی امور اور یہ بات منقش ہوجائے کہ پہلی اقوام بالخصوص بنی اسرائیل کے عروج وزوال کے اسباب کیا تھے ؟ وہ کیوں ذلت و رسوائی کے اندھے کنویں میں الٹے ہو کر گرے ؟ اس کے پیچھے ان کے علماء اور سیاسی راہنماؤں کا کیا کردار تھا ؟ بنی اسرائیل کے حوالے سے امت مسلمہ کو سمجھایا جا رہا ہے کہ اس عظیم قوم کا کردار سامنے رکھو کہ بزرگوں کی گدی نشینی ‘ صاحب زادگی، مذہبی امتیازات ‘ ابناء اللہ کے بھاری بھرکم دعوے، اقتدار اور وسیع اختیار ات بھی اس قوم کو ذلت سے نہ بچا سکے۔ اس خدشے کے پیش نظر رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا : ( لَتَتَّبِعُنَّ سُنَنَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ شِبْرًا شِبْرًا وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ حَتّٰی لَوْ دَخَلُوْا جُحْرَ ضَبٍّ تَبِعْتُمُوْھُمْ قُلْنَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ الْیَھُوْدُ وَالنَّصَارٰی قَالَ فَمَنْ ) (رواہ البخاری : کتاب الإعتصام بالکتاب والسنۃ، باب قول النبي (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لتتبعن سنن من کان قبلکم) ” تم ضرور اپنے سے پہلے لوگوں کی ہاتھوں ہاتھ اور قدم با قدم اتباع کرو گے حتی کہ اگر وہ گوہ کے سوراخ میں داخل ہوئے ہوں گے تو تم بھی ان کی اتباع کرو گے۔ صحابہ کرام (رض) کہتے ہیں ہم نے پوچھا : اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہ یہودی اور عیسائی ہیں ؟ آپ نے فرمایا تو اور کون ؟۔ “ (غور کرنا ہے۔۔ اس کے ساتھ ہی یہ بتلانا مقصود ہے کہ مدینہ اور اس کے گرد و پیش جتنے قبائل اور قومیں آباد تھیں وہ یہودیوں کو بزرگوں کی اولاد اور انبیاء کے وارث تصور کرتے تھے۔ جس کی وجہ سے یہ قبائل یہودیوں کے نظریات کو سچ اور حق کی کسوٹی سمجھتے تھے۔ ان اسباب کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ نے انہیں بڑے دلربا انداز میں سمجھاتے ہوئے یہ احساس دلانے کی کوشش کی ہے کہ اے میرے بندے یعقوب کی اولاد ! میری عطا کردہ نعمتوں، فضیلتوں اور رفعتوں کا احساس کرتے ہوئے تمہارا اولین فرض بنتا ہے کہ نبی آخر الزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت کرنے کی بجائے ان کی نصرت و حمایت کرتے ہوئے حلقۂ اسلام میں داخل ہو کر اس عہد سے وفا کرو جو تم سے توحید اور خاتم النبیین کے بارے میں لیا گیا ہے۔ میں بھی ایفائے عہد کے بدلے تمہیں دوبارہ نعمتوں اور عزتوں سے سرفراز کروں گا۔ یاد رکھنا اگر سابقہ مقام کی بحالی اور عزت رفتہ کے خواہش مند ہو تو تمہیں نبی آخر الزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قیادت میں آئے بغیر یہ شرف نہیں مل سکتا۔ اس کے لیے درج ذیل امور کو بجا لانا ہوگا۔ چناچہ بنی اسرائیل کو پہلے خطاب میں ابتدائی سبق اور تورات و انجیل کی بنیادی تعلیمات کی یاد دہانی کے طور پر سولہ باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ ١۔ میری نعمتوں کو ہر دم یاد رکھا کرو۔ ٢۔ تم عہد وفا کرو گے تو تمہارے ساتھ بھی ایفائے عہد ہوگا۔ ٣۔ ہمیشہ اللہ ہی سے ڈرتے رہو۔ ٤۔ قرآن مجید پر ایمان لاؤ۔ کیونکہ یہ تورات و انجیل کی تصدیق کرتا ہے۔ ٥۔ سب سے پہلے تم ہی کفر کرنے والے نہ بنو۔ ٦۔ دنیا کے معمولی مفاد کے بدلے اللہ کی آیات کو فروخت نہ کرو۔ ٧۔ حق اور باطل کے التباس سے اجتناب کرو۔ ٨۔ جانتے بوجھتے حق کو چھپانے کی کوشش نہ کرو۔ ٩۔ نماز ادا کرو۔ ١٠۔ زکوٰۃ کی ادائیگی کا اہتمام کرتے رہو۔ ١١۔ رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کیا کرو۔ یاد رہے کہ یہودیوں نے رکوع کو نماز سے نکال رکھا ہے۔ جس کی وجہ سے رکوع کا خاص طور پر حکم دیا گیا ہے۔ ١٢۔ لوگوں کو نیکی کا حکم کرو مگر اپنے آپ کو بھول جانے سے بچو۔ ١٣۔ اللہ کی دی ہوئی عقل کا صحیح استعمال کرتے رہو۔ ١٤۔ مصائب پر صبر کرو۔ ١٥۔ اللہ تعالیٰ سے صبر اور نماز کے ذریعے مدد طلب کیا کرو۔ ١٦۔ اللہ تعالیٰ سے ملاقات اور اس کی بارگاہ میں پیش ہونے کا عقیدہ پختہ اور اس کے تقاضے پورے کرو۔ ان میں سے ہر فرمان ایک مضمون کا حامل اور اصلاح ذات اور فلاح جماعت کا جامع پروگرام پیش کر رہا ہے۔ پہلی آسمانی کتابوں پر ایمان کے دعوے دار کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ ایسی بات کا انکار کرے جو اس کے نظریہ کی تائید کر رہی ہو گویا کہ اہل علم کی یہ شان نہیں کہ وہ کفر کے امام بنیں انہیں تو ہدایت کا پیش رو ہونا چاہیے۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد رکھنا چاہیے۔ ٢۔ اللہ سے کیے ہوئے وعدوں کی پاسداری کرنی چاہیے۔ ٣۔ اس کا خوف دل و جان میں بسائے رکھنا چاہیے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

جو لوگ بنی اسرائیل کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں ‘ وہ حیران رہ جاتے ہیں کہ باری تعالیٰ نے اس قوم کو کن کن نعمتوں سے نوازا۔ اور یہ کہ نعمتوں کی اس مسلسل بارش کے مقابلے میں وہ کس مکروہ انداز میں بار بار حق کا انکار کرتے رہے ۔ یہاں ابتداء میں اللہ تعالیٰ اجمالاً ان نعمتوں کا تذکرہ کرتے ہیں جو اس نے ان پر کیں۔ اس کے بعد آنے والے پیرا گرافوں میں بالتفصیل ان کا ذکر آتا ہے ۔ یہ انعامات انہیں اس لئے یاد دلائے جاتے ہیں ¬‎تاکہ انہیں اس بات کی دعوت دی جائے کہ جو عہد تم نے اللہ سے باندھا تھا اسے پورا کرو تاکہ اللہ تعالیٰ اپنے انعامات کا سلسلہ جاری رکھے اور اپنی نعمتوں سے انہیں نوازدے ۔ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَأَوْفُوا بِعَهْدِي أُوفِ بِعَهْدِكُمْ ” اے بنی اسرائیل ! ذرا خیال کرو میری اس نعمت کا جو میں نے تم کو عطا کی تھی ‘ میرے ساتھ تمہارا جو عہد تھا ‘ اسے پورا کرو ‘ تو میرا جو عہد تمہارے ساتھ تھا اسے میں پورا کروں۔ “ یہاں جس عہد کا ذکر ہورہا ہے ‘ وہ کون سا عہد ہے ؟ کیا اس سے ” عہد اول “ مراد ہے یعنی جو اللہ تعالیٰ اور حضرت آدم (علیہ السلام) کے درمیان طے پایا تھا جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ مِنِّي هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ (٣٨) وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ” پھر میری طرف سے کوئی ہدایت تمہارے پاس پہنچے ‘ تو جو لوگ میری اس ہدایت کی پیروی کریں گے ‘ ان کے لئے کسی خوف اور رنج کا موقع نہ ہوگا اور جو اس کو قبول کرنے سے انکار کریں گے اور ہماری آیات کو جھٹلائیں گے ‘ وہ آگ میں جانے والے لوگ ہیں ‘ جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ “ یا یہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے ساتھ کئے ہوئے ‘ اس عہد الٰہی سے بھی پہلے کا وہ تکوینی عہد ہے ‘ جو اللہ تعالیٰ اور فطرت انسانی کے درمیان تکمیل پایا ‘ جس میں فطرت کے لئے یہ ضروری قرار دیا گیا کہ وہ اللہ کی معرفت حاصل کرے ۔ اور صرف اللہ وحدہ لاشریک کی پیروی کرے ۔ یہ فطری معاہدہ تو ایسا ہے جو بیان اور برہان کا محتاج نہیں کیونکہ انسانی فطرت اپنی حقیقت اور لدنی میلانات کی بناپر ہی خود بخود معرفت کردگار کی طرف متوجہ ہوا کرتی ہے ۔ صرف گمراہی اور فسادفطرت کی ہی کی وجہ سے انسان معرفت الٰہی سے غافل ہوجاتا ہے ۔ یا یہ وہ عہد ہے جو اللہ تعالیٰ نے ابراہیم ‘ بنی اسرائیل کے جد اعلیٰ کے ساتھ کیا اور جس کا ذکر اسی سورت میں عنقریب ہوگا۔ وَاِذبۡتَلٰیَ اِبۡرَاھِیۡمَ رَبَّہُ بِکَلِمٰتٍ فَاَتَمَّھُنَّ قَالَ اِنِّیۡ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا قَالَ وَمِنً ذُرِّیَتِیۡ قَالَ لَا یَنَالُ عَھۡدِیۡ الظَّالِمِیۡنَ ” یاد کرو جب ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کے رب نے چند باتوں میں آزمایا اور وہ ان سب میں پورا اتر گیا تو اس نے کہا ” میں تجھے سب لوگوں کو پیشوا بنانے والا ہوں ۔ “ ابراہیم (علیہ السلام) نے عرض کیا ” اور کیا میری اولاد سے بھی یہی وعدہ ہے۔ “ اس نے جواب دیا ” میرا وعدہ ظالموں سے متعلق نہیں ہے۔ “ (٢۔ ١٢٤) یہ بنی اسرائیل کا وہ مخصوص عہد ہے جو اللہ نے ان کے ساتھ اس وقت طے کیا ، جبکہ کوہ طور ان کے سروں پر لٹک رہا تھا اور اللہ نے انہیں حکم دیا کہ جو ہدایات انہیں دی جارہی ہیں ، وہ سختی سے ان پر عمل کریں اور جس کا ذکر بنی اسرائیل پر اس طویل تنقید کے ضمن ہی میں (٢۔ ٩٣) آرہا ہے۔ یہ تمام عہد اہل بیت کے لحاظ سے ایک ہی ہیں ۔ ان سے مدعا یہ ہے کہ اللہ کے بندے دل وجان سے اس کی طرف متوجہ ہوں ، اپنی پوری زندگی کو اس کے حوالے کردیں اللہ کا دین ایک ہی ہے اور تمام انبیاء جو پیغام لے کر آئے ، وہ ایک ہی ہے یعنی دین اسلام اور آغاز کائنات سے لے کر آج تک قافلہ ایمان ، اسی دین کو شعار بناکر چلتا رہا۔ غرض اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو دعوت دیتے ہیں کہ ان معاہدوں کی پابندی کرتے ہوئے وہ اس سے ڈریں اور اپنے اندر صرف اسی کی خشیت پیدا کریں ۔ وَإِيَّايَ فَارْهَبُونِ ” اور مجھ ہی سے تم ڈرو۔ “

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

بنی اسرائیل کو انعامات کی یاد دہانی بنی اسرائیل ( اسرائیل کی اولاد) اس سے یہودی مراد ہیں۔ اسرائیل حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا لقب ہے جو عبرانی زبان کا لفظ ہے۔ اسرائیل کا معنی ہے صفوۃ اللہ یعنی اللہ کا برگزیدہ بندہ اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس کا معنی ہے عبداللہ ( اللہ کا بندہ) ۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بارہ بیٹے تھے۔ جن کی اولاد بارہ قبیلوں پر منقسم ہے اور بنی اسرائیل کا خطاب ان سب کو شامل ہے۔ بنی اسرائیل مدینہ منورہ میں اور خیبر میں اور شام میں اور ان کے علاوہ مختلف علاقوں میں آباد تھے۔ سیدنا حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عربی تھے۔ آپ کی بعثت تو سارے ہی انسانوں کے لیے ہے لیکن آپ کے اولین مخاطبین مکہ معظمہ کے رہنے والے تھے اور وہاں سے ہجرت فرمائی تو مدینہ منورہ میں اوس و خزرج اور یہودیوں کے تینوں قبیلے سامنے تھے اوس اور خزرج تو مسلمان ہوگئے لیکن یہودیوں میں سے صرف چند افراد نے اسلام قبول کیا جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے، قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کو خصوصی خطاب بھی فرمایا ہے اور ان کو اپنے انعامات اور احسانات یاد دلائے ہیں۔ آیت بالا میں یہی ارشاد فرمایا ہے کہ اے بنی اسرائیل ! میری ان نعمتوں کو یاد کرو جو میں نے تم کو دی ہیں اور میرا عہد پورا کرو میں بھی تمہارا عہد پورا کروں گا اور صرف مجھ سے ڈرو۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بنی اسرائیل پر جو کچھ تھیں وہ ان کو جانتے تھے انہیں اپنی تاریخ کا پتہ تھا۔ قرآن مجید میں ان نعمتوں کا تذکرہ فرمانے میں جہاں یہود کو نصیحت ہے کہ وہ اللہ کے آخری نبی پر ایمان لائیں وہاں سیدنا حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کے دلائل بھی ہیں کیونکہ آپ نے کسی سے نہیں پڑھا تھا، اہل کتاب کی صحبت نہیں اٹھائی تھی۔ یہ واقعات آپ کو کہاں سے معلوم ہوئے اس کا جواب صرف یہی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتائے، آپ کا ان چیزوں کی خبر دینا، یہ سب آپ کے معجزات میں شامل ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

96 ۔ اسرائیل عبرانی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں " اللہ کا بندہ " یہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا لقب ہے۔ اور بنی اسرائیل سے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد مراد ہے۔ اور یہاں بنی اسرائیل سے ان یہودیوں کو خطاب کیا گیا ہے جو مدینہ اور اس کے قرب و جوار میں آباد تھے۔ اذْكُرُوْا نِعْمَتِىَ پندونصیحت سے پہلے انعامات کا ذکر نہایت ہی مؤثر حکمت عملی ہے اور یہاں نعمت ہم جنس ہے اور اس سے مراد وہ مادی اور روحانی انعامات ہیں جو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر کیے۔ مثلاً دولت، حکومت، نبوت اور دوسرے وقتی انعامات جیسا کہ ایک جگہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ وَاِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ يٰقَوْمِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ اِذْ جَعَلَ فِيْكُمْ اَنْۢبِيَاۗءَ وَجَعَلَكُمْ مُّلُوْكًا ڰ وَّاٰتٰىكُمْ مَّا لَمْ يُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ ( سورة مائدہ) ان انعامات کی کسی قدر تفصیل آگے آرہی ہے۔ 97 ۔ یہ دوسرا امر ہے یہاں لفظ عہد دونوں جگہ مصدر ہے اور دونوں جگہ اپنے مفعول کی جانب مضاف ہے اور فاعل محذوف ہے۔ اي وَاَوْفُوْا بِعَھْدِکُمْ اِيَّايَ اُوْفِ بِعَھْدِيْ اِيَّاکُمْ یعنی جو عہد تم نے میرے ساتھ کیا تھا تم اسے پورا کرو تو جو عہد میں نے تمہارے ساتھ کیا ہوا ہے میں اسے پورا کروں گا۔ وھو المفھوم من کلام قتادۃ و مجاھد ان کلیھما مضاف الی المفعول۔ ان فسر الایفاء باتمام العھد تکون الاضافۃ الی المفعول فی الموضعین (روح ص 242 ج 1) بنی اسرائیل نے تو اللہ تعالیٰ سے یہ عہد کیا تھا کہ وہ بنی اسماعیل میں پیدا ہونے والے آخری نبی پر ایمان لائیں گے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے گناہ معاف کرنے اور انہیں جنت میں داخل کرنے کا عہد کیا تھا۔ چناچہ حضرت ابن عباس سے منقول ہے۔ ان اللہ تعالیٰ کان عھدا الی بنی اسرائیل فی التورۃ انی باعث من بنی اسماعیل نبیا امیا فمن تبعہ وصدق بالنور الذی یاتی بہ ای بالقران غفرت ذنبہ وادخلتہ الجنۃ الخ (کبیر ص 484 ج 1، معالم ص 44 ج 1) یا مراد وہ عہد ہے جو آیت ذیل میں مذکور ہے۔ ۧوَلَقَدْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ بَنِيْٓ اِ سْرَاۗءِيْلَ ۚ وَبَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيْبًا ۭوَقَالَ اللّٰهُ اِنِّىْ مَعَكُمْ ۭلَىِٕنْ اَقَمْــتُمُ الصَّلٰوةَ وَاٰتَيْتُمُ الزَّكٰوةَ وَاٰمَنْتُمْ بِرُسُلِيْ وَعَزَّرْتُمُوْهُمْ وَاَقْرَضْتُمُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَـنًا لَّاُكَفِّرَنَّ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ وَلَاُدْخِلَنَّكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْھٰرُ ۚ۔ (سور مائدہ رکوع 3) ۔ وَاِيَّاىَ فَارْھَبُوْنِ ۔ یہ تیسرا امر ہے۔ جب تمہارا منعم حقیقی اور محسن تحقیقی میں ہی ہوں تو صرف مجھ ہی سے ڈرو، اگر تم مجھ سے ڈر کر میرے احکام کی تعمیل کرنے لگ جاؤگے تو کوئی تمہارا کچھ نہ بگاڑ سکے گا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 4۔ اے اولاد یعقوب ! تم میرے ان احسانات کو جو میں نے تم پر کئے ہیں یاد کرو اور تم میرے اس عہد کو پورا کرو جو تم نے مجھ سے کیا ہے تو میں بھی اس عہد کو پورا کروں گا جو میں نے تم سے کیا ہے اور تم مجھ ہی سے ڈرو۔ ( تیسیر) اسرائیل عبرانی زبان میں خدا کے بندے کو کہتے ہیں ۔ یہ حضرت یعقو ب (علیہ السلام) کا نام ہے ان کی اولاد کو خطاب فرمایا ہے اور اس عہد کے پورا کرنیکا مطالبہ کیا ہے جو انہوں نے کیا تھا۔ اس عہد کے متعلق مفسرین کے بہترین سے اقوال ہیں ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ، بنی اسرائیل کہتے ہیں اولاد حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو ان ہی میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور توریت اتری اور فرعون سے خلاص کر ا کر اور نجات دلوا کر ملک شام میں بسایا ۔ ان سے اللہ تعالیٰ نے اقرار کیا تھا کہ حکم توریت پر قائم رہو گے اور جو نبی میں بھیجوں گا اس کے مدد گار رہو گے تو ملک شام تم کو رہے گا ۔ پھر وہ گمرا ہوئے یعنی بدنیت ہوئے رشوت لیتے اور مسئلہ غلط بتاتے اور خوشامد کے واسطے حق بات چھپاتے اور اپنی ریاست چاہتے ۔ پیغمبر کی اطاعت نہ کرتے اور پیغمبر کی صفت جو توریت میں لکھی تھی بدل ڈالی ۔ اللہ تعالیٰ ان کو یاد دلاتا ہے اپن احسان اور انکی فرمانی ، موضح القرآن ۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس عہد سے مراد یا تو وہی عام عہد ہے جس کو عہد الست کہتے ہیں یا ان عہود و میثاق کی طرف اشارہ ہے جو ان سے انبیاء کی معرفت وقتاً فوقتاً لتے گئے تھے جن کا ذکر قرآن کریم میں کئی جگہ آیا ہے۔ ولقد اخذ اللہ میثاق بنی اسرائیل اور لقد اخذاللہ میثاق الذین اوتوا الکتب وغیرہ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اگر کوئی عہد کسی کو یاد نہ ہو تب بھی خالق اور مخلوق کے مابین اور محسن اور محسن الیہ کے درمیان قدرتی اور طبعی طور پر ایک عہد ہوتا ہے جب کسی کے احسانات اور انعامات سے آپ فائدہ اٹھائیں گے تو اس کا صاف مطلب یہ ہوگا کہ آپ اس کے فرمانبردار اور شکر گزار رہیں گے خواہ اس قسم کا کوئی عہد نامہ لکھا جائے یا نہ لکھا جائے۔ ماں کے اور بچے کے درمیان کوئی عہد نامہ نہیں لکھا جاتا۔ لیکن ہر بچہ طبی طور پر جو ان ہو کر اس امر کو جانتا ہے کہ مجھے ماں کی اطاعت کرنی چاہئے اور فرمانبرداری میرے لئے ضروری ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے گونا گوں اور بیشمار احسانات سے ہم شب و روز متمتع اور بہر ہ مند ہوتے ہیں ۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اسکی ہر نعمت عہد نامہ کی ایک سط رہے۔ خواہ بندہ کوئی عہد نامہ لکھے یا نہ لکھے۔ اسی طرح ان انعامات الٰہی کا لا متناہی سلسلہ اس امر کو ظاہر کرتا ہے کہ فرمانبردار اور شکر گزار لوگوں سے اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ وہ ان کو ان کی اطاعت اور فرمانبرداری کا بدلہ اور صلہ عطا فرماتا رہے گا ۔ یہاں تک کہ ان کو جنت میں پہنچا کر دائمی طور پر انہیں جنت کا مالک بنا دے۔ یہی وہ عہد و پیماں ہے جسکی طرف مذکورہ آیت میں اشارہ فرمایا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جس طرح قرآن میں وعد اللہ المومن والمومنات اور وعد اللہ الذین آمنوا منکم اور وعدا ً علیہ حقا ً جا بجا فرمایا ہے اسی طرح سابقہ کتب سماویہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے بھی اس قسم کے الفاظ فرمائے ہوں اور انبیاء سابقین کی معرفت اس قسم کے عہد و پیمان بنی اسرائیل سے کہے ہو جیسا کہ حضرت شاہ صاحب (رح) نے فرمایا ہے اور قرآن بھی اس وعدے کی جانب اشارہ ہے۔ لا کفرن عنکم سیاتکم ولا دخلنکم جنت تجری من تحتھا الانھار بہر حال حق تعالیٰ نے اپنے احسانات کو یاد دلاتے ہوئے ان سے ایفائے عہد کا مطالبہ کیا ہے اور یہ بھی فرمایا ہے کہ میں نے جو عدہ تم سے کیا ہے میں بھی اس کو پورا کروں گا ۔ یعنی دنیا میں بہترین زندگی اور آخرت میں دائمی نجات اور آخر میں یہ جو فرمایا کہ مجھ سے ہی ڈرا کرو ۔ اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ تم جو دنیوی لالچ اور دنیوی خوف کی وجہ سے میری عدول حکمی کر رہے ہو یہ طریقہ بہت ہی غلط ہے خوف اور ڈر کے لائق تو صرف میری ہی ذات ہے، لہٰذا صرف مجھ سے ہی ڈرو ۔ اور جن پیشین گوئیوں کا ذکر تمہاری کتابوں میں موجود ہے اس کے مطابق جو رسول آیا اور جو کتاب آئی ہے اس کو بلا کسی خوف اور بلا کسی چوں و چرا کے تسلیم کرو۔ ( تسہیل)