Reminding the Children of Israel that They were preferred above the Other Nations
Allah says;
يَا بَنِي إِسْرَايِيلَ اذْكُرُواْ نِعْمَتِيَ الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَأَنِّي فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ
O Children of Israel! Remember My favor which I bestowed upon you and that I preferred you over the Alamin (nations).
Allah reminds the Children of Israel of the favors that He granted their fathers and grandfathers, how He showed preference to them by sending them Messengers from among them and revealing Books to them, more so than any of the other previous nations.
Similarly, Allah said,
وَلَقَدِ اخْتَرْنَـهُمْ عَلَى عِلْمٍ عَلَى الْعَـلَمِينَ
And We chose them (the Children of Israel) over the Alamin, (nations) with knowledge. (44:32)
and,
وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ يَـقَوْمِ اذْكُرُواْ نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِيَأءَ وَجَعَلَكُمْ مُّلُوكاً وَءَاتَـكُمْ مَّا لَمْ يُوْتِ أَحَداً مِّن الْعَـلَمِينَ
And (remember) when Musa (Moses) said to his people: "O my people! Remember the favor of Allah to you: when He made Prophets among you, made you kings, honored you above the Alamin (nations)." (5:20)
Abu Jafar Ar-Razi reported that Ar-Rabi bin Anas said that Abu Al-Aliyah said that Allah's statement,
وَأَنِّي فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ
(and that I preferred you over the Alamin) means,
"The kingship, Messengers and Books that were granted to them, instead of granting such to the other kingdoms that existed during their time, for every period there is a nation."
It was also reported that Mujahid, Ar-Rabi bin Anas, Qatadah and Ismail bin Abi Khalid said similarly.
The Ummah of Muhammad is Better than the Children of Israel
This is the only way the Ayah can be understood, because this Ummah is better than theirs, as Allah said;
كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُوْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَوْ ءَامَنَ أَهْلُ الْكِتَـبِ لَكَانَ خَيْراً لَّهُمْ
You are the best of people ever raised up for mankind; you enjoin good and forbid evil, and you believe in Allah. And had the People of the Book (Jews and Christians) believed, it would have been better for them. (3:110)
Also, the Musnad and Sunan Collections of Hadith recorded that Muawiyah bin Haydah Al-Qushayri said that the Messenger of Allah said,
أَنْتُمْ تُوَفُّونَ سَبْعِينَ أُمَّةً أَنْتُمْ خَيْرُهَا وَأَكْرَمُهَا عَلَى الله
You (Muslims) are the seventieth nation, but you are the best and most honored of them according to Allah.
There are many Hadiths on this subject, and they will be mentioned when we discuss Allah's statement,
كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ
(You are the best of peoples ever raised up for mankind), (3:110).
بنی اسرائیل کے آباؤ اجداد پر اللہ تعالیٰ کے انعامات
بنی اسرائیل کے آباؤ اجداد پر جو نعمت الٰہیہ انعام کی گئی تھی اس کا ذکر ہو رہا ہے کہ ان میں سے رسول ہوئے ان پر کتابیں اتریں انہیں ان کے زمانہ کے دوسرے لوگوں پر مرتبہ دیا گیا جیسے فرمایا آیت ( وَلَــقَدِ اخْتَرْنٰهُمْ عَلٰي عِلْمٍ عَلَي الْعٰلَمِيْنَ ) 44 ۔ الدخان:32 ) یعنی انہیں ان کے زمانے کے ( اور لوگوں پر ) ہم نے علم میں فضیلت دی ۔ اور فرمایا آیت ( وَاِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ يٰقَوْمِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ اِذْ جَعَلَ فِيْكُمْ اَنْۢبِيَاۗءَ وَجَعَلَكُمْ مُّلُوْكًا ڰ وَّاٰتٰىكُمْ مَّا لَمْ يُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ ) 5 ۔ المائدہ:20 ) یعنی موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اے میری قوم تم اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کو یاد کرو جو تم پر انعام کی گئی ہے تم میں اس نے پیغمبر پیدا کئے تمہیں بادشاہ بنایا اور وہ دیا جو تمام زمانے کو نہیں دیا ۔ تمام لوگوں پر فضیلت ملنے سے مراد ان کے زمانے کے تمام اور لوگ ہیں اس لئے کہ امت محمدیہ ان سے یقینا افضل ہے اس امت کی نسبت فرمایا گیا ہے آیت ( كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ ) 3 ۔ آل عمران:110 ) تم بہتر امت ہو جو لوگوں کے لئے بنائی گئی ہو تم بھلائیوں کا حکم کرنے والے اور برائیوں سے روکنے والے ہو اور اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہو اگر اہل کتاب بھی ایمان لاتے تو ان کے لئے بہتر ہوتا ۔ مسانید اور سنن میں مروی ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تم سترویں امت ہو اور سب سے بہتر اور بزرگ ہو اس قسم کی اور بہت سی احادیث کا ذکر انشاء اللہ آیت ( كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ ) 3 ۔ آل عمران:110 ) کی تفسیر میں آئے گا اور کہا گیا ہے کہ تمام لوگوں پر خاص قسم کی فضیلت مراد ہے جس سے ہر قسم کی فضیلت لازم نہیں آتی رازی نے یہی کہا ہے مگر یہ غور طلب بات ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی فضیلت اور تمام امتوں پر ہے اس لئے کہ انبیاء کرام انہی میں سے ہوتے چلے آئے ہیں لیکن اس میں بھی غورو خوض کی ضرورت ہے اس لئے کہ اس طرح کے اطلاق کے اجتماعی اعزاز کو اگلے لوگوں پر بھی ہوتا ہے ۔ اور حقیقت میں اگلے انبیاء ان میں شمار نہ تھے جیسے حضرت ابراہیم خلیل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آنحضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم جو ان سب کے بعد ہوئے لیکن تمام مخلوق سے افضل تھے اور جو تمام اولاد آدم کے سردار ہیں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ، دعا ( صلوٰۃ اللہ وسلامہ علیہ ) ۔