Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 47

سورة البقرة

یٰبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اذۡکُرُوۡا نِعۡمَتِیَ الَّتِیۡۤ اَنۡعَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ وَ اَنِّیۡ فَضَّلۡتُکُمۡ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۴۷﴾

O Children of Israel, remember My favor that I have bestowed upon you and that I preferred you over the worlds.

اے اولاد یعقوب میری اس نعمت کو یاد کرو جو میں نے تم پر انعام کی اور میں نے تمہیں تمام جہانوں پر فضیلت دی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Reminding the Children of Israel that They were preferred above the Other Nations Allah says; يَا بَنِي إِسْرَايِيلَ اذْكُرُواْ نِعْمَتِيَ الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَأَنِّي فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ O Children of Israel! Remember My favor which I bestowed upon you and that I preferred you over the Alamin (nations). Allah reminds the Children of Israel of the favors that He granted their fathers and grandfathers, how He showed preference to them by sending them Messengers from among them and revealing Books to them, more so than any of the other previous nations. Similarly, Allah said, وَلَقَدِ اخْتَرْنَـهُمْ عَلَى عِلْمٍ عَلَى الْعَـلَمِينَ And We chose them (the Children of Israel) over the Alamin, (nations) with knowledge. (44:32) and, وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ يَـقَوْمِ اذْكُرُواْ نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِيَأءَ وَجَعَلَكُمْ مُّلُوكاً وَءَاتَـكُمْ مَّا لَمْ يُوْتِ أَحَداً مِّن الْعَـلَمِينَ And (remember) when Musa (Moses) said to his people: "O my people! Remember the favor of Allah to you: when He made Prophets among you, made you kings, honored you above the Alamin (nations)." (5:20) Abu Jafar Ar-Razi reported that Ar-Rabi bin Anas said that Abu Al-Aliyah said that Allah's statement, وَأَنِّي فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ (and that I preferred you over the Alamin) means, "The kingship, Messengers and Books that were granted to them, instead of granting such to the other kingdoms that existed during their time, for every period there is a nation." It was also reported that Mujahid, Ar-Rabi bin Anas, Qatadah and Ismail bin Abi Khalid said similarly. The Ummah of Muhammad is Better than the Children of Israel This is the only way the Ayah can be understood, because this Ummah is better than theirs, as Allah said; كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُوْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَوْ ءَامَنَ أَهْلُ الْكِتَـبِ لَكَانَ خَيْراً لَّهُمْ You are the best of people ever raised up for mankind; you enjoin good and forbid evil, and you believe in Allah. And had the People of the Book (Jews and Christians) believed, it would have been better for them. (3:110) Also, the Musnad and Sunan Collections of Hadith recorded that Muawiyah bin Haydah Al-Qushayri said that the Messenger of Allah said, أَنْتُمْ تُوَفُّونَ سَبْعِينَ أُمَّةً أَنْتُمْ خَيْرُهَا وَأَكْرَمُهَا عَلَى الله You (Muslims) are the seventieth nation, but you are the best and most honored of them according to Allah. There are many Hadiths on this subject, and they will be mentioned when we discuss Allah's statement, كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (You are the best of peoples ever raised up for mankind), (3:110).

بنی اسرائیل کے آباؤ اجداد پر اللہ تعالیٰ کے انعامات بنی اسرائیل کے آباؤ اجداد پر جو نعمت الٰہیہ انعام کی گئی تھی اس کا ذکر ہو رہا ہے کہ ان میں سے رسول ہوئے ان پر کتابیں اتریں انہیں ان کے زمانہ کے دوسرے لوگوں پر مرتبہ دیا گیا جیسے فرمایا آیت ( وَلَــقَدِ اخْتَرْنٰهُمْ عَلٰي عِلْمٍ عَلَي الْعٰلَمِيْنَ ) 44 ۔ الدخان:32 ) یعنی انہیں ان کے زمانے کے ( اور لوگوں پر ) ہم نے علم میں فضیلت دی ۔ اور فرمایا آیت ( وَاِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ يٰقَوْمِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ اِذْ جَعَلَ فِيْكُمْ اَنْۢبِيَاۗءَ وَجَعَلَكُمْ مُّلُوْكًا ڰ وَّاٰتٰىكُمْ مَّا لَمْ يُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ ) 5 ۔ المائدہ:20 ) یعنی موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اے میری قوم تم اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کو یاد کرو جو تم پر انعام کی گئی ہے تم میں اس نے پیغمبر پیدا کئے تمہیں بادشاہ بنایا اور وہ دیا جو تمام زمانے کو نہیں دیا ۔ تمام لوگوں پر فضیلت ملنے سے مراد ان کے زمانے کے تمام اور لوگ ہیں اس لئے کہ امت محمدیہ ان سے یقینا افضل ہے اس امت کی نسبت فرمایا گیا ہے آیت ( كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ ) 3 ۔ آل عمران:110 ) تم بہتر امت ہو جو لوگوں کے لئے بنائی گئی ہو تم بھلائیوں کا حکم کرنے والے اور برائیوں سے روکنے والے ہو اور اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہو اگر اہل کتاب بھی ایمان لاتے تو ان کے لئے بہتر ہوتا ۔ مسانید اور سنن میں مروی ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تم سترویں امت ہو اور سب سے بہتر اور بزرگ ہو اس قسم کی اور بہت سی احادیث کا ذکر انشاء اللہ آیت ( كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ ) 3 ۔ آل عمران:110 ) کی تفسیر میں آئے گا اور کہا گیا ہے کہ تمام لوگوں پر خاص قسم کی فضیلت مراد ہے جس سے ہر قسم کی فضیلت لازم نہیں آتی رازی نے یہی کہا ہے مگر یہ غور طلب بات ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی فضیلت اور تمام امتوں پر ہے اس لئے کہ انبیاء کرام انہی میں سے ہوتے چلے آئے ہیں لیکن اس میں بھی غورو خوض کی ضرورت ہے اس لئے کہ اس طرح کے اطلاق کے اجتماعی اعزاز کو اگلے لوگوں پر بھی ہوتا ہے ۔ اور حقیقت میں اگلے انبیاء ان میں شمار نہ تھے جیسے حضرت ابراہیم خلیل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آنحضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم جو ان سب کے بعد ہوئے لیکن تمام مخلوق سے افضل تھے اور جو تمام اولاد آدم کے سردار ہیں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ، دعا ( صلوٰۃ اللہ وسلامہ علیہ ) ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

47۔ 1 یہاں سے دوبارہ اسرائیل کو وہ انعامات یاد کرائے جا رہے ہیں جو ان پر کئے گئے اور ان کو قیامت کے دن سے ڈرایا جا رہا ہے جس دن نہ کوئی کسی کے کام آئے گا نہ سفارش قبول ہوگی نہ معاوضہ دے کر چھٹکارہ ہو سکے گا، اور نہ کوئی مددگار آگے آئے گا۔ ایک انعام یہ بیان فرمایا کہ ان کو تمام جہانوں پر فضیلت دی گئی یعنی امت محمدیہ سے پہلے افضل العالمین ہونے کی یہ فضیلت بنواسرائیل کو حاصل تھی جو انہوں نے معصیت الٰہی کا ارتکاب کرکے گنوالی اور امت محمدیہ کو خیرامۃ کے لقب سے نوازا گیا۔ اس میں اس امر پر تنبیہ ہے کہ انعامات الٰہی کسی خاص نسل کے ساتھ وابستہ نہیں ہیں بلکہ یہ ایمان اور عمل کی بنیاد پر ملتے ہیں اور ایمان وعمل سے محرومی پر سلب کرلئے جاتے ہیں، جس طرح امت محمدیہ کی اکثریت بھی اس وقت اپنی بدعملیوں اور شرک و بدعات کے ارتکاب کی وجہ سے خیرامۃ کے بجائے شرامۃ بنی ہوئی ہے۔ ھداھا اللہ تعالیٰ یہود کو یہ دھوکا بھی تھا کہ ہم اللہ کے محبوب اور چہیتے ہیں۔ اس لئے مواخذہ آخرت سے محفوظ رہیں گے اللہ تعالیٰ نے فرما دیا کہ وہاں اللہ تعالیٰ کے نافرمانوں کو کوئی سہارا نہیں دے سکے گا۔ اسی فریب میں امت محمدیہ بھی مبتلا ہے اور مسئلہ شفاعت کو (جواہل سنت کے یہاں مسلمہ ہے) اپنی بدعملی کا جواز بنا رکھا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦٦] یعنی ایک وہ وقت تھا جب تمام اقوام پر بنی اسرائیل کے علم و فضیلت کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی۔ لیکن اللہ کی اس نعمت کا ان پر الٹا اثر ہوا، بجائے اس کے کہ وہ شکر ادا کرتے اور اس کے حضور سرنگوں ہوتے اور تقویٰ اختیار کرتے وہ ازراہ تکبر یہ سمجھ بیٹھے کہ ہم چونکہ انبیاء کی اولاد ہیں۔ لہذا اللہ کے محبوب اور چہیتے ہیں۔ لہذا ہمیں عذاب نہیں ہوگا اور یہ بات ان کے عقیدہ میں راسخ ہوگئی تھی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اوپر آیت ٤٠ میں اختصار کے ساتھ بنی اسرائیل کو اپنے احسانات یاد دلائے تھے، اب تفصیل کے ساتھ ان کا بیان شروع کرنے کے لیے دوبارہ خطاب کیا ہے اور وعظ کا یہ انداز نہایت بلیغ اور مؤثر ہوتا ہے۔ ( المنار) نیز ان کو توجہ دلائی ہے کہ نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت اور دوسری بےہودگیوں سے باز آجاؤ۔ جہانوں پر فضیلت بخشی، اس سے مراد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے زمانوں کے لوگ ہیں، کیونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تشریف لانے پر یہ فضیلت (كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ ) [ آل عمران : ١١٠ ] فرما کر اس امت کو عطا کردی گئی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( خَیْرُ النَّاسِ قَرْنِیْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَہُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَہُمْ )” سب سے بہتر میرے زمانہ کے لوگ ہیں، پھر وہ لوگ جو ان سے ملیں گے، پھر وہ جو ان سے ملیں گے۔ “ [ بخاری، الشہادات، باب لا یشہد علی شہادۃ جور إذا أشہد : ٢٦٥٢، عن عبداللہ بن مسعود (رض) ]

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Verse 47 asks the Israelites to call to their minds the blessing of Allah, so that the recognition of the benefits they have received may induce them to be thankful to Allah and thus to obey Him. The verse is addressed to the Jews contemporaneous with the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) while the blessing had been received by their forefathers. The point is that when a man receives a special favour, his children and grand children too usually partake of the benefits flowing from it; in this sense, the Jews who are being addressed may be said to have received the blessing themselves. As for Allah giving preference to the Israelites |"over the worlds|", the phrase means that they were given preference only in certain matters, or only over a large part of men - for example, over the contemporaries of the earlier Israelites. The day referred to in verse 48 is the Day of Judgment. As for no one being able to suffice another on that day, the phrase should be understood in the sense of one man paying the dues on behalf of another man. Let us, for example, suppose that a man is found wanting in the performance of obligatory acts of worship like Salah نماز and Sawm صوم (fasting), and another man should suggest that his own prayers and fasts may be transferred to the account of the former in order to make up the deficiency. Such a transaction shall not be possible on that day. Ransom, of course, means the money paid for securing the release of a criminal - this too shall be out of the question. As for intercession (shafa-` ah شفاعہ) not being accepted, the phrase does not totally deny the possibility of intercession on the Day of Judgment; it only means that if a man does not have &Iman ایمان (faith), no intercession in his favour shall be accepted. For the Holy Qur&an makes it clear in certain other verses that Allah will allow intercession to be made on behalf of some people (53:26, 34:23, 2:55 etc.), and will disallow it in the case of those who do not possess &Iman ایمان (21:28, 20:109). Since there would be no intercession on behalf of the latter, the question of its being accepted does not simply arise. &Receiving support&, in usual terms, means getting oneself released from a difficult situation with the help of a strong and powerful friend or patron. In short, none of the ways of receiving help possible in this world will be effective in the other world unless one possesses &Iman ایمان . A doctrinal point On the basis of verse 48, the Mu&tazilah and some other groups of a more recent origin have denied the possibility of all intercession in favour of Muslims. But, as we have shown above, the negation of intercession applies only to disbelievers and infidels. (Bayan al-Qur an)

خلاصہ تفسیر اے اولاد یعقوب (علیہ السلام) کہ تم لوگ میری اس نعمت کو یاد کرو (تاکہ شکر اور اطاعت کی تحریک ہو) جو میں نے تم کو انعام میں دی تھی اور اس (بات) کو (یاد کرو) کہ میں نے تم کو (خاص خاص برتاؤ میں) تمام دنیا جہان والوں پر فوقیت دی تھی (اور ایک ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ میں نے تم کو ایک بڑے حصہ مخلوق پر فوقیت دی تھی مثلاً اس زمانہ کے لوگوں پر) ۔ فائدہ : اس آیت میں خطاب چونکہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ کے یہودیوں کو ہے اور عموما ایسا ہوتا ہے کہ باپ دادا پر جو احسان و اکرام کیا جائے اس سے اس کی اولاد بھی فائدہ حاصل کرتی ہے جس کا عام طور پر مشاہدہ ہوتا رہتا ہے اس لئے ان کو بھی اس آیت میں مخاطب سمجھا جاسکتا ہے، اور ڈرو تم ایسے دن سے کہ (جس میں) نہ تو کوئی شخص کسی شخص کی طرف سے کچھ مطالبہ ادا کرسکتا ہے اور نہ کسی شخص کی طرف سے کوئی سفارش قبول ہوسکتی ہے (جبکہ خود اس شخص میں ایمان نہ ہو جس کی سفارش کرتا ہے) اور نہ کسی شخص کی طرف سے کوئی معاوضہ لیا جاسکتا ہے اور نہ ان لوگوں کی طرفداری چل سکے گی، فائدہ : آیت میں جس یوم کا ذکر ہے اس سے قیامت کا دن مراد ہے مطالبہ ادا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ مثلاً کسی کے ذمہ نماز روزہ کا مطالبہ ہو اور دوسرا کہہ دے کہ میرا نماز روزہ لے کر اس کا حساب بیباق کردیا جائے اور معاوضہ یہ کہ کچھ مال وغیرہ داخل کرکے بچا لادے سو دونوں باتیں نہ ہوں گی اور بدون ایمان کے سفارش قبول نہ ہونے کو جو فرمایا ہے تو اور آیتوں سے معلوم ہوا کہ اس کی صورت یہ ہوگی کہ ایسوں کی خود سفارش ہی نہ ہوگی جو قبول کی گنجائش ہو اور طرفداری کی صورت یہ ہوتی ہے کہ کوئی زوردار حمایت کرکے زبردستی نکال لادے، غرض یہ کہ دنیا میں مدد کرنے کے جتنے طریقے ہوتے ہیں بدون ایمان کے کوئی طریقہ بھی نہ ہوگا،

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

رکوع نمبر 6 يٰبَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِىَ الَّتِىْٓ اَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَاَنِّىْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَي الْعٰلَمِيْنَ۝ ٤٧ اِسْرَاۗءِيْلَ ( بني) ، جمع ابن، والألف في ابن عوض من لام الکلمة المحذوفة فأصلها بنو . (إسرائيل) ، علم أعجمي، وقد يلفظ بتخفیف الهمزة إسراييل، وقد تبقی الهمزة وتحذف الیاء أي إسرائل، وقد تحذف الهمزة والیاء معا أي : إسرال . ذكر ( نصیحت) وذَكَّرْتُهُ كذا، قال تعالی: وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ [إبراهيم/ 5] ، وقوله : فَتُذَكِّرَ إِحْداهُمَا الْأُخْرى [ البقرة/ 282] ، قيل : معناه تعید ذكره، وقد قيل : تجعلها ذکرا في الحکم «1» . قال بعض العلماء «2» في الفرق بين قوله : فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ [ البقرة/ 152] ، وبین قوله : اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ [ البقرة/ 40] : إنّ قوله : فَاذْكُرُونِي مخاطبة لأصحاب النبي صلّى اللہ عليه وسلم الذین حصل لهم فضل قوّة بمعرفته تعالی، فأمرهم بأن يذكروه بغیر واسطة، وقوله تعالی: اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ مخاطبة لبني إسرائيل الذین لم يعرفوا اللہ إلّا بآلائه، فأمرهم أن يتبصّروا نعمته، فيتوصّلوا بها إلى معرفته . الذکریٰ ۔ کثرت سے ذکر الہی کرنا اس میں ، الذکر ، ، سے زیادہ مبالغہ ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ ذَكَّرْتُهُ كذا قرآن میں ہے :۔ وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ [إبراهيم/ 5] اور ان کو خدا کے دن یاد دلاؤ ۔ اور آیت کریمہ ؛فَتُذَكِّرَ إِحْداهُمَا الْأُخْرى [ البقرة/ 282] تو دوسری اسے یاد دلا دے گی ۔ کے بعض نے یہ معنی کئے ہیں کہ اسے دوبارہ یاد دلاوے ۔ اور بعض نے یہ معنی کئے ہیں وہ حکم لگانے میں دوسری کو ذکر بنادے گی ۔ بعض علماء نے آیت کریمہ ؛۔ فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ [ البقرة/ 152] سو تم مجھے یاد کیا کر میں تمہیں یاد کروں گا ۔ اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ [ البقرة/ 40] اور میری وہ احسان یاد کرو ۔ میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ کے مخاطب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب ہیں جنہیں معرفت الہی میں فوقیت حاصل تھی اس لئے انہیں براہ راست اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ اور دوسری آیت کے مخاطب بنی اسرائیل ہیں جو اللہ تعالیٰ کو اس نے انعامات کے ذریعہ سے پہچانتے تھے ۔ اس بنا پر انہیں حکم ہوا کہ انعامات الہی میں غور فکر کرتے رہو حتی کہ اس ذریعہ سے تم کو اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہوجائے ۔ نعم النِّعْمَةُ : الحالةُ الحسنةُ ، وبِنَاء النِّعْمَة بِناء الحالةِ التي يكون عليها الإنسان کالجِلْسَة والرِّكْبَة، والنَّعْمَةُ : التَّنَعُّمُ ، وبِنَاؤُها بِنَاءُ المَرَّة من الفِعْلِ کا لضَّرْبَة والشَّتْمَة، والنِّعْمَةُ للجِنْسِ تقال للقلیلِ والکثيرِ. قال تعالی: وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لا تُحْصُوها[ النحل/ 18] ( ن ع م ) النعمۃ اچھی حالت کو کہتے ہیں ۔ اور یہ فعلۃ کے وزن پر ہے جو کسی حالت کے معنی کو ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے جیسے : ۔ جلسۃ ورکبۃ وغیرہ ذالک ۔ اور نعمۃ کے معنی تنعم یعنی آرام و آسائش کے ہیں اور یہ فعلۃ کے وزن پر ہے جو مرۃ ہے جو مرۃ کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسے : ۔ ضر بۃ وشتمۃ اور نعمۃ کا لفظ اسم جنس ہے جو قلیل وکثیر کیلئے استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لا تُحْصُوها[ النحل/ 18] اور اگر خدا کے احسان گننے لگو تو شمار نہ کرسکو ۔ فضل الفَضْلُ : الزّيادة عن الاقتصاد، وذلک ضربان : محمود : کفضل العلم والحلم، و مذموم : کفضل الغضب علی ما يجب أن يكون عليه . والفَضْلُ في المحمود أكثر استعمالا، والفُضُولُ في المذموم، والفَضْلُ إذا استعمل لزیادة أحد الشّيئين علی الآخر فعلی ثلاثة أضرب : فضل من حيث الجنس، کفضل جنس الحیوان علی جنس النّبات . وفضل من حيث النّوع، کفضل الإنسان علی غيره من الحیوان، وعلی هذا النحو قوله : وَلَقَدْ كَرَّمْنا بَنِي آدَمَ [ الإسراء/ 70] ، إلى قوله : تَفْضِيلًا وفضل من حيث الذّات، کفضل رجل علی آخر . فالأوّلان جوهريّان لا سبیل للناقص فيهما أن يزيل نقصه وأن يستفید الفضل، کالفرس والحمار لا يمكنهما أن يکتسبا الفضیلة التي خصّ بها الإنسان، والفضل الثالث قد يكون عرضيّا فيوجد السّبيل علی اکتسابه، ومن هذا النّوع التّفضیل المذکور في قوله : وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ [ النحل/ 71] ، لِتَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ [ الإسراء/ 12] ، يعني : المال وما يکتسب، ( ف ض ل ) الفضل کے منعی کسی چیز کے اقتضا ( متوسط درجہ سے زیادہ ہونا کے ہیں اور یہ دو قسم پر ہے محمود جیسے علم وحلم وغیرہ کی زیادتی مذموم جیسے غصہ کا حد سے بڑھ جانا لیکن عام طور الفضل اچھی باتوں پر بولا جاتا ہے اور الفضول بری باتوں میں اور جب فضل کے منعی ایک چیز کے دوسری پر زیادتی کے ہوتے ہیں تو اس کی تین صورتیں ہوسکتی ہیں ( ۔ ) بر تری بلحاظ جنس کے جیسے جنس حیوان کا جنس نباتات سے افضل ہونا ۔ ( 2 ) بر تری بلحاظ نوع کے جیسے نوع انسان کا دوسرے حیوانات سے بر تر ہونا جیسے فرمایا : ۔ وَلَقَدْ كَرَّمْنا بَنِي آدَمَ [ الإسراء/ 70] اور ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور اپنی بہت سی مخلوق پر فضیلت دی ۔ ( 3 ) فضیلت بلحاظ ذات مثلا ایک شخص کا دوسرے شخص سے بر تر ہونا اول الذکر دونوں قسم کی فضیلت بلحاظ جو ہر ہوتی ہے ۔ جن میں ادنیٰ ترقی کر کے اپنے سے اعلٰی کے درجہ کو حاصل نہیں کرسکتا مثلا گھوڑا اور گدھا کہ یہ دونوں انسان کا درجہ حاصل نہیں کرسکتے ۔ البتہ تیسری قسم کی فضیلت من حیث الذات چونکہ کبھی عارضی ہوتی ہے اس لئے اس کا اکتساب عین ممکن ہے چناچہ آیات کریمہ : ۔ وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ [ النحل/ 71] اور خدا نے رزق ( دولت ) میں بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے ۔ لِتَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ [ الإسراء/ 12] تاکہ تم اپنے پروردگار کا فضل ( یعنی روزی تلاش کرو ۔ میں یہی تیسری قسم کی فضیلت مراد ہے جسے محنت اور سعی سے حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ عالَمُ والعالَمُ : اسم للفلک وما يحويه من الجواهر والأعراض، وهو في الأصل اسم لما يعلم به کالطابع والخاتم لما يطبع به ويختم به، وجعل بناؤه علی هذه الصّيغة لکونه کا لآلة، والعَالَمُ آلة في الدّلالة علی صانعه، ولهذا أحالنا تعالیٰ عليه في معرفة وحدانيّته، فقال : أَوَلَمْ يَنْظُرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأعراف/ 185] ، وأمّا جمعه فلأنّ من کلّ نوع من هذه قد يسمّى عالما، فيقال : عالم الإنسان، وعالم الماء، وعالم النّار، وأيضا قد روي : (إنّ لله بضعة عشر ألف عالم) «1» ، وأمّا جمعه جمع السّلامة فلکون النّاس في جملتهم، والإنسان إذا شارک غيره في اللّفظ غلب حكمه، وقیل : إنما جمع هذا الجمع لأنه عني به أصناف الخلائق من الملائكة والجنّ والإنس دون غيرها . وقد روي هذا عن ابن عبّاس «2» . وقال جعفر بن محمد : عني به النّاس وجعل کلّ واحد منهم عالما «3» ، وقال «4» : العَالَمُ عالمان الکبير وهو الفلک بما فيه، والصّغير وهو الإنسان لأنه مخلوق علی هيئة العالم، وقد أوجد اللہ تعالیٰ فيه كلّ ما هو موجود في العالم الکبير، قال تعالی: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعالَمِينَ [ الفاتحة/ 1] ، وقوله تعالی: وَأَنِّي فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعالَمِينَ [ البقرة/ 47] ، قيل : أراد عالمي زمانهم . وقیل : أراد فضلاء زمانهم الذین يجري كلّ واحد منهم مجری كلّ عالم لما أعطاهم ومكّنهم منه، وتسمیتهم بذلک کتسمية إبراهيم عليه السلام بأمّة في قوله : إِنَّ إِبْراهِيمَ كانَ أُمَّةً [ النحل/ 120] ، وقوله : أَوَلَمْ نَنْهَكَ عَنِ الْعالَمِينَ [ الحجر/ 70] . العالم فلک الافلاک اور جن جواہر واعراض پر حاوی ہے سب کو العالم کہا جاتا ہے دراصل یہ فاعل کے وزن پر ہے جو اسم آلہ کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسے طابع بہ ۔ مایطبع بہ خاتم مایختم بہ وغیرہ اسی طرح عالم بھی ہے جس کے معنی ہیں ماعلم بہ یعنی وہ چیز جس کے ذریعہ کسی شے کا علم حاصل کیا جائے اور کائنات کے ذریعہ بھی چونکہ خدا کا علم حاصل ہوتا ہے اس لئے جملہ کائنات العالم کہلاتی ہے یہی وجہ ہے کہ قرآن نے ذات باری تعالیٰ کی وحدانیت کی معرفت کے سلسلہ میں کائنات پر غور کرنے کا حکم دیا ہے ۔ چناچہ فرمایا ۔ أَوَلَمْ يَنْظُرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأعراف/ 185] کیا انہوں نے اسمان اور زمین گی بادشاہت پر غور نہیں کیا ۔ اور العالم کی جمع ( العالمون ) اس لئے بناتے ہیں کہ کائنات کی ہر نوع اپنی جگہ ایک مستقلی عالم عالم کی حیثیت رکھتی ہے مثلا عالم الاانسان؛عالم الماء وعالمالناروغیرہ نیز ایک روایت میں ہے ۔ ان اللہ بضعتہ عشر الف عالم کہ اللہ تعالیٰ نے دس ہزار سے کچھ اوپر عالم پیدا کئے ہیں باقی رہا یہ سوال کہ ( واؤنون کے ساتھ ) اسے جمع سلامت کے وزن پر کیوں لایا گیا ہے ( جو ذدی العقول کے ساتھ مختص ہے ) تو اس کا جواب یہ ہے کہ عالم میں چونکہ انسان بھی شامل ہیں اس لئے اس کی جمع جمع سلامت لائی گئی ہے کیونکہ جب کسی لفظ میں انسان کے ساتھ دوسری مخلوق بھی شامل ہو تو تغلیبا اس کی جمع واؤنون کے ساتھ بنالیتے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ چونکہ لفظ عالم سے خلائق کی خاص قسم یعنی فرشتے جن اور انسان ہی مراد ہیں جیسا کہ حضرت ابن عباس سے مروی ہے ۔ اس لئے اس کی جمع واؤنون کے ساتھ لائی گئی ہے امام جعفر بن محمد کا قول ہے کہ عالیمین سے صرف انسان مراد ہیں اور ہر فرد بشر کو ایک عالم قرار دے کر اسے جمع لایا گیا ہے ۔ نیز انہوں نے کہا ہے کہ عالم دو قسم پر ہے ( 1 ) العالم الکبیر بمعنی فلک دمافیہ ( 2 ) العالم اصغیر یعنی انسان کیونکہ انسان کی تخلیق بھی ایک مستقل عالم کی حیثیت سے کی گئی ہے اور اس کے اندر قدرت کے وہ دلائل موجود ہیں جا عالم کبیر میں پائے جاتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَوَلَمْ نَنْهَكَ عَنِ الْعالَمِينَ [ الحجر/ 70] کیا ہم نے تم کو سارے جہاں ( کی حمایت وطر فداری سے ) منع نہیں کیا الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعالَمِينَ [ الفاتحة/ 1] سب تعریف خدا ہی کو سزا وار ہے جو تمام مخلوقات کو پروردگار ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَأَنِّي فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعالَمِينَ [ البقرة/ 47] کے بعض نے یہ معنی کئے ہیں کہ تم یعنی بنی اسرائیل کو ان کی ہمعصراز قوام پر فضیلت دی اور بعض نے اس دور کے فضلا مراد لئے ہیں جن میں سے ہر ایک نواز شات الہٰی کی بدولت بمنزلہ ایک عالم کے تھا اور ان کو عالم سے موسم کرنا ایسے ہی ہے جیسا کہ آیت کریمہ : إِنَّ إِبْراهِيمَ كانَ أُمَّةً [ النحل/ 120] بیشک حضرت ابراہیم ایک امہ تھے میں حضرت ابراہیم کو امۃ کہا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

جیسا کہ عرض کیا جا چکا ہے ‘ سورة البقرۃ کے پانچویں رکوع سے چودہویں رکوع تک ‘ بلکہ پندرہویں رکوع کی پہلی دو آیات بھی شامل کر لیجیے ‘ یہ دس رکوعوں سے دو آیات زائد ہیں کہ جن میں خطاب کل کا کل بنی اسرائیل سے ہے۔ البتہ ان میں سے پہلا رکوع دعوت پر مشتمل ہے ‘ جس میں انہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے کی پرزور دعوت دی گئی ہے ‘ جبکہ بقیہ نو رکوع اس فرد قرارداد جرم پر مشتمل ہیں جو بنی اسرائیل پر عائد کی جا رہی ہے کہ ہم نے تمہارے ساتھ یہ احسان و اکرام کیا ‘ تم پر یہ فضل کیا ‘ تم پر یہ کرم کیا ‘ تمہیں یہ حیثیت دی ‘ تمہیں یہ مقام دیا اور تم نے اس اس طور سے اپنے اس مشن کی خلاف ورزی کی جو تمہارے سپرد کیا گیا تھا اور اپنے مقام و مرتبہ کو چھوڑ کر دنیا پرستی کی روش اختیار کی۔ ان نو رکوعوں میں بنی اسرائیل کی تاریخ کا تو ایک بہت بڑا حصہّ اس کے خدوخال (features) سمیت آگیا ہے ‘ لیکن اصل میں یہ امت مسلمہ کے لیے بھی ایک پیشگی تنبیہہ ہے کہ کوئی مسلمان امت جب بگڑتی ہے تو اس میں یہ اور یہ خرابیاں آجاتی ہیں۔ چناچہ اس بارے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی احادیث بھی موجود ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : (لَیَاْتِیَنَّ عَلٰی اُمَّتِیْ مَا اَتٰی عَلٰی بَنِیْ اِسْرَاءِ یْلَ حَذْوَ النَّعْلَ بالنَّعْلِ ) (٧) ” میری امت پر بھی وہ سب حالات وارد ہو کر رہیں گے جو بنی اسرائیل پر آئے تھے ‘ بالکل ایسے جیسے ایک جوتی دوسری جوتی سے مشابہ ہوتی ہے۔ “ ایک دوسری حدیث میں جو حضرت ابوسعید خدری (رض) سے مروی ہے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد نقل ہوا ہے : (لَتَتَّبِعُنَّ سَنَنَ مَنْ قَبْلَکُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ حَتّٰی لَوْ سَلَکُوْا جُحْرَ ضَبٍّ لَسَلَکْتُمُوْہُ ) قُلْنَا : یَارَسُوْلَ اللّٰہِ الْیَھُوْدَ وَالنَّصَارٰی ؟ قَالَ : (فَمَنْ ؟ ) (٨) ” تم لازماً اپنے سے پہلوں کے طور طریقوں کی پیروی کرو گے ‘ بالشت کے مقابلے میں بالشت اور ہاتھ کے مقابلے میں ہاتھ۔ یہاں تک کہ اگر وہ گوہ کے بل میں گھسے ہوں گے تو تم بھی گھس کر رہو گے “۔ ہم نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہود و نصاریٰ کی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تو اور کس کی ؟ “ ترمذی کی مذکورہ بالا حدیث میں تو یہاں تک الفاظ آتے ہیں کہ : (حَتّٰی اِنْ کَانَ مِنْھُمْ مَّنْ اَتٰی اُمَّہٗ عَلَانِیَۃً لَکَانَ فِیْ اُمَّتِیْ مَنْ یَصْنَعُ ذٰلِکَ ) یعنی اگر ان میں کوئی بدبخت ایسا اٹھا ہوگا جس نے اپنی ماں سے علی الاعلان زنا کیا تھا تو تم میں سے بھی کوئی شقی ایسا ضرور اٹھے گا جو یہ حرکت کرے گا۔ اس اعتبار سے ان رکوعوں کو پڑھتے ہوئے یہ نہ سمجھئے کہ یہ محض اگلوں کی داستان ہے ‘ بلکہ : ؂ ّ َ ” خوشتر آں باشد کہ سر دلبراں گفتہ آید در حدیث دیگراں “ کے مصداق یہ ہمارے لیے ایک آئینہ ہے اور ہمیں ہر مرحلے پر سوچنا ہوگا ‘ دروں بینی کرنی ہوگی کہ کہیں اسی گمراہی میں ہم بھی تو مبتلا نہیں ؟ دوسرا اہم نکتہ پہلے سے ہی یہ سمجھ لیجیے کہ سورة البقرۃ کی آیات ٤٧۔ ٤٨ جن سے اس چھٹے رکوع کا آغاز ہو رہا ہے ‘ یہ دو آیتیں بعینہٖ پندرہویں رکوع کے آغاز میں پھر آئیں گی۔ ان میں سے پہلی آیت میں تو شوشے بھر کا فرق بھی نہیں ہے ‘ جبکہ دوسری آیت میں صرف الفاظ کی ترتیب بدلی ہے ‘ مضمون وہی ہے۔ یوں سمجھئے کہ یہ گویا دو بریکٹ ہیں اور نو (٩) رکوعوں کے مضامین ان دو بریکٹوں کے درمیان ہیں۔ اور سورة البقرۃ کا پانچواں رکوع جو ان بریکٹوں سے باہر ہے ‘ اس کے مضامین بریکٹوں کے اندر کے سارے مضامین سے ضرب کھا رہے ہیں۔ یہ حساب کا بہت ہی عام فہم سا قاعدہ ہے کہ بریکٹ کے باہر لکھی ہوئی رقم ‘ جس کے بعد جمع یا تفریق وغیرہ کی کوئی علامت نہ ہو ‘ وہ بریکٹ کے اندر موجود تمام اقدار (values) کے ساتھ ضرب کھائے گی۔ تو گویا اس پورے معاملے میں ہر ہر قدم پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے کی دعوت موجود ہے۔ یہ وضاحت اس لیے ضروری ہے کہ اس حصے میں بعض آیات ایسی آگئی ہیں جن سے کچھ لوگوں کو مغالطہ پیدا ہوا یا جن سے کچھ لوگوں نے جان بوجھ کر فتنہ پیدا کیا کہ نجات اخروی کے لیے محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان ضروری نہیں ہے۔ اس فتنے نے ایک بار اکبر کے زمانے میں ” دینِ الٰہی “ کی شکل میں جنم لیا تھا کہ آخرت میں نجات کے لیے صرف خدا کو مان لینا ‘ آخرت کو مان لینا اور نیک اعمال کرنا کافی ہے ‘ کسی رسول پر ایمان لانا ضروری نہیں ہے۔ یہ فتنہ صوفیاء میں بھی بہت بڑے پیمانے پر پھیلا اور ” مسجد مندر ہکڑو نور “ کے فلسفے کی تشہیر کی گئی۔ یعنی مسجد میں اور مندر میں ایک ہی نور ہے ‘ سب مذاہب اصل میں ایک ہی ہیں ‘ سارا فرق شریعتوں کا اور عبادات کی ظاہری شکل کا ہے۔ اور وہ رسولوں سے متعلق ہے۔ چناچہ رسولوں کو بیچ میں سے نکال دیجیے تو یہ ” دینِ الٰہی “ (اللہ کا دین) رہ جائے گا۔ یہ ایک بہت بڑا فتنہ تھا جو ہندوستان میں اس وقت اٹھا جب سیاسی اعتبار سے مسلمانوں کا اقتدار چوٹی (climax) پر تھا۔ یہ فتنہ جس مسلمان حکمران کا اٹھایا ہوا تھا وہ ” اکبر اعظم “ اور ” مغل اعظم “ کہلاتا تھا۔ اس کے پیش کردہ ” دین “ کا فلسفہ یہ تھا کہ دین محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دور ختم ہوگیا (نعوذ باللہ) ‘ وہ ایک ہزار سال کے لیے تھا ‘ اب دوسرا ہزار سال (الف ثانی) ہے اور اس کے لیے نیا دین ہے۔ اسے ” دین اکبری “ بھی کہا گیا اور ” دینِ الٰہی “ بھی۔ سورة البقرۃ کے اس حصے میں ایک آیت آئے گی جس سے کچھ لوگوں نے اس ” دینِ الٰہی “ کے لیے استدلال کیا تھا۔ ہندوستان میں بیسویں صدی میں یہ فتنہ پھر اٹھا جب گاندھی جی نے ” متحدہ وطنی قومیت “ کا نظریہ پیش کیا۔ اس موقع پر مسلمانوں میں سے ایک بہت بڑا نابغہ (genius) انسان ابوالکلام آزاد بھی اس فتنے کا شکارہو گیا۔ گاندھی جی اپنی پراتھنا میں کچھ قرآن کی تلاوت بھی کرواتے ‘ کچھ گیتا بھی پڑھواتے ‘ کچھ اپنشدوں سے ‘ کچھ بائبل سے اور کچھ گروگرنتھ سے بھی استفادہ کیا جاتا۔ متحدہ وطنی قومیت کا تصور یہ تھا کہ ایک وطن کے رہنے والے لوگ ایک قوم ہیں ‘ لہٰذا ان سب کو ایک ہونا چاہیے ‘ مذہب تو انفرادی معاملہ ہے ‘ کوئی مسجد میں چلا جائے ‘ کوئی مندر میں چلا جائے ‘ کوئی گُردوارے میں چلا جائے ‘ کوئی کلیسا ‘ سنیگاگ یا چرچ میں چلا جائے تو اس سے کیا فرق واقع ہوتا ہے ؟ اس طرح کے نظریات اور تصورات کا توڑ یہی ہے کہ یوں سمجھ لیجیے کہ پانچویں رکوع کی سات آیات بریکٹ کے باہر ہیں اور یہ بریکٹوں کے اندر کے مضمون سے مسلسل ضرب کھا رہی ہیں۔ چناچہ ان بریکٹوں کے درمیان جتنا بھی مضمون آ رہا ہے وہ ان کے تابع ہوگا۔ گویا جہاں تک محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے کا معاملہ ہے وہ ہر مرحلے پر مقدر (understood) سمجھا جائے گا۔ اب ہم ان آیات کا مطالعہ شروع کرتے ہیں۔ آیت ٤٧ (یٰبَنِیْٓ اِسْرَآءِ ‘ یْلَ اذْکُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْٓ اَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ ) اس کی وضاحت گزشتہ رکوع میں ہوچکی ہے ‘ لیکن یہاں آگے جو الفاظ آ رہے ہیں بہت زوردار ہیں : (وَاَنِّیْ فَضَّلْتُکُمْ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ ) “ عربی نحو کا یہ قاعدہ ہے کہ کہیں ظرف کا تذکرہ ہوتا ہے (یعنی جس میں کوئی شے ہے) لیکن اس سے مراد مظروف ہوتا ہے (یعنی ظرف کے اندر جو شے ہے) ۔ یہاں بھی ظرف کی جمع لائی گئی ہے لیکن اس سے مظروف کی جمع مراد ہے۔ ” تمام جہانوں پر فضیلت “ سے مراد ” جہان والوں پر فضیلت “ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے تمہیں تمام اقوام عالم پر فضیلت عطا کی۔ عالم انسانیت کے اندر جتنے بھی مختلف گروہ ‘ نسلیں اور طبقات ہیں ان میں فضیلت عطاکی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

62. This refers to that period of human history when, of all nations, only the Children of Israel possessed that knowledge of Truth which comes from God alone. At that time they were entrusted with the task of directing the nations of the world to righteousness; they were expected to serve God and to invite the rest of the world to do the same.

سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :62 یہ اس دَور کی طرف اشارہ ہے جب کہ تمام دنیا کی قوموں میں ایک بنی اسرائیل کی قوم ہی ایسی تھی ، جس کے پاس اللہ کا دیا ہوا علم حق تھا اور جسے اقوامِ عالم کا امام و رہنما بنا دیا گیا تھا ، تاکہ وہ بندگیِ ربّ کے راستے پر سب قوموں کو بُلائے اور چلائے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

ایک مدت تک اولاد یعقوب میں نبوت بادشاہت اور بڑی بڑی نعمتیں اللہ تعالیٰ کی رہی ہیں حال کے بنی اسرائیل کو جو نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں مدینہ منورہ کے گردونواح میں رہتے تھے۔ ان کے بزرگوں کی حالت یاد دلانے کے لئے اور اس حالت سے ان حال کے یہود کو قائل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ یہ آیتیں نازل فرمائیں تاکہ یہ لوگ ذرا اپنے دل میں شرمائیں کہ وہ اللہ تعالیٰ جس نے آج ان کو نبی زادے اور بادشاہ زادے ہونے کا فخر عنایت فرمایا اس فخر کی شکر گذار کیا یہی ہے کہ اللہ کے رسول سے طرح طرح کی مخالفتیں کر کے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں یہ لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔ کیا اپنے بزرگوں کے قصہ میں یہ بات ان کو یاد نہیں کہ فرعون جیسے صاحب حشمت مصر کے بادشاہ کو رسول وقت کی مخالف نے کیا دن دکھایا۔ ان کی کیا اصل ہے کہ رسول وقت کی مخالفت کر کے یہ دنیا میں شاد و آباد رہ سکتے ہیں۔ اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ سورة حشر کی تفسیر میں معلوم ہوجاوے گا کہ رسول وقت کی مخالفت نے ان لوگوں کو بھی وہی دن دکھایا جس سے فرعون کا قصہ یاد دلا کر اللہ تعالیٰ نے ان کو ڈرایا تھا۔ تاریخی پچھلے واقعہ کو حال کے کسی واقعہ کا نتیجہ جتلانے کے لئے پیش کرنا یہ ثبوت مطلب کا ایک عمدہ طریقہ ہے قرآن شریف میں پچھلے قصے اکثر ایسے محل پر ذکر کئے گئے ہیں۔ مسند امام احمد اور صحیح ابن حبان وغیرہ میں بسند معتبر جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ آج اگر موسیٰ (علیہ السلام) زندہ ہوتے تو ان کو بھی سوائے شریعت محمدی کی تابعداری کے اور کوئی چارہ نہ ہوتا ١۔ اور ترمذی وغیرہ میں معتبر سند سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ نبی آخر الزمان محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت پچھلی سب امتوں سے بہتر ہے ٢۔ اس لئے اس آیت کے یہ معنی نہیں ہیں کہ حضرت موسیٰ حضرت آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یا حضرت ابراہیم سے افضل ہیں یا حضرت موسیٰ کی امت نبی آخر الزمان کی امت سے افضل ہے بلکہ { وَاَنِّیْ فَضَّلْتُکُمْ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ } کے یہ معنی ہیں کہ اس زمانہ کے صاحب فضیلت بنی اسرائیل تھے۔ کیوں کہ نبوت بادشاہت سب کچھ ان کے ہی گھر میں تھا۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(2:47) علی العلمین۔ تمام عالموں پر، تمام جہانوں پر۔ اگرچہ عالم کا اطلاق ماسوی اللہ کے جمیع مخلوق پر ہوتا ہے۔ اور جب اس کو جمع کرکے عالمین بولا جائے تو اور بھی شمول اور عموم کا فائدہ دیتا ہے لیکن یہ ایک محاورہ ہے جس سے مراد اکثر لوگ ہیں۔ یعنی ہم نے تم کو دنیا کے اکثر لوگوں پر فضیلت بخشی ہے۔ اسی طرح کل بول کر اکثر چیزیں مراد لی جاتی ہیں۔ مثلاً قرآن مجید میں ملکہ بلقیس کے متعلق وارد ہے واوتیت من کل شیء اور اسے دیا گیا تھا ہر چیز سے حصہ۔ حالانکہ بہت سی چیزیں اس کو نہ ملی تھیں۔ تو مطلب یہ ہے کہ اسے اکثر چیزیں دی گئی تھیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8 ۔ اوپر آیت 40، میں اجمالی طور پر بنی اسرائیل کو اپنے احسانات یاد دلائے اب تفصیل کے ساتھ ان کا بیان شروع کرنے کے لیے دوبارہ خطاب کیا ہے اور وعظ کا یہ انداز نہایت ملبوغ اور مؤثر ہوتا ہے (اللنار) نیز ان کو توجہ دلائی ہے کہ نبی آخرالزمان کی مخا لفت اور دوسری بیہود گیوں سے باز آجاؤ سارے جہان کے لوگوں پر بزرگی دی یعنی اس دور کے لوگوں پر اور بنی اسرائیل کی یہ فضیلت توحید کا داعی ہونے کی وجہ سے تھی اور امت محمد یہ سے پہلے یہ مرتبہ بنی اسرائیل کے سوا کسی دوسری قوم کو حاصل نہیں ہوا آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کے بعد کنتم خیر امتہ فرماکر امت محمدیہ کو فضیلت عنا یت کردی (وحیدی) بنی اسرائیل پر جو انعامات کئے اردوسروں پر ان کو جو فضیلت اور امتیاز حاصل ہوا بعد کی آیات میں اسی اجمالی کی تفصیل ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات 47 59 تفسیر : اسرارو معارف گزشتہ رکوع میں بنی اسرائیل کے عہد کا ذکر فرمایا گیا تھا اور اس کی ذیل میں اطاعت شریعت اسلامی کا حکم ہوا تھا کہ بالکل یہی تقاضا ان کی اپنی کتاب کا بھی تھا یہاں پھر سے انہیں براہ راست خطاب فرما کر اپنے انعامات گنوائے جا رہے ہیں کہ اس قدر عظیم انعامات پر تمہیں نافرمانی زیب نہیں دیتی اور پھر وہ منعم ایسا ہے کہ اطاعت پر مزید انعامات سے نوازنے والا ہے۔ زیادہ زور کلام بنی اسرائیل کے ساتھ اس لئے ہے کہ ایک تو یہ انبیاء کی اولاد تھے دوسرے ان ہی میں علماء کا وجود تھا اور اکثر مشرک بھی یہود ونصاریٰ کے علماء سے رجوع کرتے اور حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات گرامی اور دعوت کے بارے رائے حاصل کرتے تھے اللہ نے فرمایا کہ میرے انعامات یاد کرو کہ میں نے تمہیں تمہارے دور کے سارے لوگوں پہ فضیلت عطا فرمائی تمہاری قوم کو نبوت سے سرفراز فرمایا اور تمہیں علوم نصیب فرمائے تمہیں اس روز سے ڈرنا چاہیے جس دن کوئی کسی کے کام نہ آسکے گا۔ واتقوا یوماً لا تجزی نفس عن نفس شیئا……………ولا ھم ینصرون۔ یہاں ” اتقو “ بمعنی خوف ہے کہ اس عظیم دن سے خوف کھائو جس دن کوئی شخص کسی بھی شخص کا دکھ نہیں بانٹ سکے گا نہ کسی سے سفارشاً کچھ سزا کم کر اسکے گا کہ کسی کافر کی کسی کافر کے حق میں سفارش قبول ہی نہ ہوگی۔ یاد رہے کہ یہاں خطاب کفار سے ہے لہٰذا مسئلہ شفاعت انبیاء سے متعلق نہیں کہ وہ صرف مومنین کے لئے ہے نہ وہ کافر کی شفاعت فرمائیں گے نہ اس کی اجازت ہوگی۔ بات چل رہی ہے ان بڑے بڑے کفار کی جن کی پیروی کرتے ہوئے یہ حق کو چھوڑے ہوئے تھے کہ یہ تمہارے کسی کام نہ آسکیں گے نہ تو تمہارا بوجھ بانٹ سکیں گے نہ سفارش کرسکیں گے اور نہ ہی قبول ہوگی ۔ نہ کسی سے کوئی عوض قبول ہوگا کہ نافرمانی کے بدلے کوئی جرمانہ ادا کرکے چھوٹ جائے یا یہ لوگ تمہیں چھڑالیں اور نہ تمہاری مدد کے قابل ہوں گے کہ طاقت استعمال کرلیں یا رعب ڈال سکیں ، غرض جتنے طریقے سزا سے بچنے کے تمہارے ذہنوں میں ہیں قیامت کے روز ان میں سے کوئی بھی نہیں چل سکے گا اور بجز ایمان کے کوئی چارہ کار نہیں۔ ایمان ایک ایسی نعمت ہے جس کے ہوتے ہوئے انسان امیدوار شفاعت بھی ہے نیز خلودونار سے بچنے کا وعدہ لئے ہوئے ہے اور تم ایمان سے خالی ہو حالانکہ تم پر ، تمہاری قوم پر ، تمہارے اجداد پر کس قدر عظیم احسانات فرمائے گئے۔ واذ نجینکم من ال فرعون……………وانتم تنظرون۔ ذرا اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے تم کو فرعونیوں سے نجات دی۔ یہ اس طرح ہوا کہ جب حضرت یعقوب (علیہ السلام) اپنے خاندان کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس مصر لے گئے تو یہ لوگ تقریبا 72 کی تعداد میں تھے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی وجہ سے وہاں دین کا دور دورہ ہوا ، عدل و انصاف قائم ہوا۔ یہ لوگ ایک طرح سے مقتداء بن گئے مگر ان کے بعد یہ لوگ انحطاط کا شکار ہوئے پرہیزگاری چھوٹی اور پھر دین بھی گیا اہل مصر بھی نہ صرف اللہ کو بھول گئے بلکہ حاکمان مصر اپنی خدائی کے دعوے دار بن بیٹھے جن میں سے حاکم جو عہد موسوی میں تھا۔ اپنے پہلوں سے بڑھ کر ظالم تھا اور بنی اسرائیل کی حالت اس قدر بدتر ہوئی کہ قبطی انہیں جانوروں کی طرح استعمال کرتے اور ان سے خدمت کراتے جس کی کوئی اجرت بھی نہ تھی۔ جھوٹا موٹا جو دے دیا وہی کھالیا ، نہ ان کی عزت تھی نہ مال اپنا حتیٰ کہ ان کی جان کی بھی کوئی قیمت نہ تھی۔ فرعون کو نجومیوں نے بتایا اس نے خواب دیکھا اور انہوں نے تعبیر دی کہ بنی اسرائیل میں ایک بچہ پیدا ہوگا جو تیری تباہی کا سبب بنے گا۔ تو اس نے بنی اسرائیل کے بچوں کے قتل کا حکم دے دیا کہ ان کے گھروں میں نرینہ اولادرہنے ہی دی جائے اور یہ سلسلہ سالوں تک جاری رہا حتیٰ کہ خود قبطی چیخ اٹھے اور انہوں نے فریاد کی کہ بنی اسرائیل کے بچے تو قتل ہوجاتے ہیں اور بڑی عمر کے لوگ مر رہے ہیں تو ہماری خدمت کون کرے گا۔ یعنی وہ ایسے بےوقعت ہوگئے تھے کہ ان کے قتل کا افسوس کسی کو نہ تھا۔ اپنی خدمت کے لئے فکردامن گیر ہوئی تو فرعون نے حکم دیا کہ ایک سال پیدا ہونے والے بچے قتل کردیئے جائیں اور ایک سال جو پیدا ہوں وہ زندہ چھوڑ دیئے جائیں۔ چناچہ حضرت ہارون (علیہ السلام) اس سال پیدا ہوئے جو معافی کا سال تھا اور موسیٰ (علیہ السلام) اس سال پیدا ہوئے جس سال بچے قتل کئے جاتے تھے۔ ان کا واقعہ اپنی جگہ پر آئے گا۔ بہرحال یہاں یہ بات واضح ہوگئی کہ جو لوگ جتنے قریبی ہوں گے اگر وہ نافرمانی اختیار کریں گے تو آخرت میں تو عذاب ہوگا ہی دنیا میں ذلت ان پر مسلط کردی جائے گی۔ نافرمانی کے اثرات : اور یہی مشاہدہ ہے کہ اگر کوئی صوفی طریقت کو چھوڑ بیٹھے تو مرتد طریقت ہو کر ہمیشہ ذلیل ہوجاتا ہے اور دنیا میں بھی اس کی زندگی موت سے بدتر ہوتی ہے ، جیسے ان لوگوں کو فراعنہ اور قبطیوں کی اصلاح کرنی تھی کہ وارثان نبوت تھے مگر دنیا کے لالچ میں آکر خود ان کے پیچھے چلنے لگے تو کس قدر ذلیل کئے گئے۔ اسی طرح آج کا مسلمان جس کا فریضہ اصلاح عالم ہے جس اخرجت للناس فرمایا گیا ہے اپنا منصب چھوڑ کر کفار کے پیچھے بھاگنے لگا تو نتیجہ ظاہر ہے کہ دنیا بھر کے مصائب اسی پر ٹوٹ رہے ہیں اگر یہ آج بھی لوٹ کر اپنی جگہ آجائے تو فوراً حالات بدل سکتے ہیں اللہ کے لئے کچھ مشکل نہیں ، خدا مسلمان کو توفیق بخشے ، آمین۔ یہ اصول قوموں پر بھی لاگو ہوتا ہے اور افراد پر بھی جو کسی بھی ذرا سے عقل رکھنے والے انسان سے چھپا ہوا نہیں ہے کہ خلاف دین چل کر جس نے بھی عزت چاہی اسے ذلت نصیب ہوئی بنی اسرائیل کی طرح جنہیں یاد کرایا جارہا ہے کہ یومونکم سوالعذاب ۔ تمہیں کس قدر اذیت ناک زندگی کی طرف گھسیٹا جارہا تھا کہ مجبور تھے اس طرح بسر کرنے پر۔ حتیٰ کہ تمہارے بچے تک ذبح کردیئے جانے لگے بچیوں کو چھوڑ دیا جاتا کہ خدمت لیں گے اور لڑکے ذبح کردیئے جاتے۔ یہ تمہارے رب کی طرف سے تم پر بڑی مصیبت تھی کہ اس کی ربوبیت کا تقاضا ہے جہاں جس چیز کا ہونا مناسب ہو وہاں اس کو پہنچا دیتا ہے تمہارے کرتوتوں پر بڑی مصیبت تم پر آتی تھی مگر پھر رحمت باری نے تمہیں سنبھالادیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جیسی ہستی تمہیں بخشی جس نے نہ صرف تمہیں کفر کے اندھیروں سے نکالا بلکہ فرعونیوں سے بھی تمہاری جان چھڑائی اور بحکم الٰہی تمہیں ساتھ لے کر مصر سے نکل کھڑے ہوئے۔ بتایا جارہا ہے کہ اس وقت ان کی تعداد چھ لاکھ تھی کئی عرصہ تک فرعون سے مقابلہ کرنے کے بعد اس کی اصلاح کے لئے کوشش کرنے اور مسلسل اظہار معجزات کے بعد حکم ہوا کہ انہیں لے کر نکلو مگر صبح جب فرعون کو علم ہوا کہ بنی اسرائیل رات کو نکل گئے تو ایک عظیم لشکر لے کر خود تعاقب میں روانہ ہوا جس کی تعداد بعض کے مطابق سات لاکھ تھی۔ بحیرہ قلزم کے قریب ان کو جاپکڑا۔ اب یہ لوگ بہت گھبرائے نہ جائے ماندن نہ پلائے فتن سارے سمندر غرق ہوئے کہ خوف پیچھے فرعونیوں کی تلواریں ۔ اللہ کریم فرماتے ہیں میں نے تمہارے لئے سمندر کو پھاڑ دیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے پانی پر عصامارا۔ پانی اس طرح سے پھٹا کہ بارہ قبیلوں کے لئے بارہ سڑکیں چھوڑ دیں اور خشک زمین نکل آئی یعنی پلائی کی تھی تک نہ رہی اور ہر ٹکڑا پانی کے عظیم پہاڑ کی طرح اپنی جگہ کھڑا تھا مائع تھا مگر ٹھوس کی طرح کھڑا تھا اور بنی اسرائیل آرام سے گزر کر دوسرے کنارے پہنچ گئے۔ جب فرعون ہاں پہنچا تو مبہوت ہوگیا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو مقرر فرمایا۔ جنہوں نے فرعون اور لشکر فرعون سب کو دریا میں ڈال دیا جیسے ہی سارے سمندر میں پہنچ گئے پانی آپس میں مل گیا اور سارا لشکر فرعون سمیت غرق ہو کر تباہ ہوگیا اور لطف یہ کہ سارا تماشہ تم خود دیکھ رہے تھے وہ فرعون جس کے نام سے تم کانپتے تھے اور وہ قبطی جو تم پر ظلم کر رہے تھے کس طرح بےبسی اور بےکسی سے تمہارے سامنے غرق ہو رہے تھے۔ صحبت شیح : یہی حال شیح کا ہے کہ دین کی راہ میں جو رکاوٹ ہو اسے پھاڑ کر راستہ بنادے اور تعاقب میں جو کبر اور ناشکری کا فرعون ہے اسے غرق دریا کرے ، اور ان چیزوں کو آدمی خود محسوس کرے کہ صحبت شیخ میں آنے سے قبل زندگی کیا تھی۔ اور اب اس میں کیا تبدیلی آئی ہے۔ واقدوای موسیٰ…………وانتم ظلمون۔ پھر وہ وقت یاد کرو جب ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) سے چالیس راتیں طور پر عبادت میں گزارنے کے لئے کہا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ چالیس راتیں طور پر گزاریں روز ہ بھی رکھیں ، کسی سے نہ ملیں نہ بات کریں تاکہ وہ قوت ملکوتی اور وہ استعداد جو اسرار الٰہی کو قبول کرتی ہے اللہ کی کتاب کو پالے اور آپ کو تورات عطا ہو۔ یہاں سے چلہ کی اصلی بھی ثابت ہے۔ روح میں قوت پرواز کے حصول کا طریقہ : اصل بات قلت طعام ، قلت کلام اور قلت اخلاط مع الانام ہے یہ نفس کو کمزور کرنے کی بہترین دوا ہے اور نفس کی کمزوری کا مطلب روح کی قوت ہے۔ ان دونوں میں سے ایک کی قوت دوسرے کی کمزوری ہے۔ اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تو لگ گئے اس انعام کی طلب میں اور یار لوگوں نے ان سے پیچھے سامری کا اتباع اختیار کرلیا جو ان کے ساتھ تھا۔ اس نے زیورات گلا کر ایک بچھڑا بنایا جو کسی قسم کی آواز پیدا کرتا تھا۔ روایات میں ملتا ہے کہ جہاں جبرائیل (علیہ السلام) کے گھوڑے کے قدم لگتے وہ جگہ سرسبز ہوجاتی تو اس نے وہاں سے مٹی لے لی جو بچھڑے میں ڈالی تو وہ زندہ ہوگیا ، مگر بعض حضرات کے مطابق اس نے بچھڑے میں اس طرح کے سوراخ رکھے ہوئے تھے جو ہوا سے ایک قسم کی آواز پیدا کرتے تھے۔ واللہ اعلم۔ بہرحال قوم کا بیشترحصہ اس کے سامنے سربسجود ہوگیا۔ یہاں ان تمام باتوں کا اجمالی ذکر ہے کہ احسانات شمار فرمائے جا رہے ہیں آگے چل کر تفصیل بھی ہے۔ فرمایا تم کس قدر ظالم تھے کہ اتنے معجزات قاہرہ دیکھنے کے باوجود اور موسیٰ (علیہ السلام) جیسے جلیل القدر رسول کی صحیت نصیب ہونے کے باوجود تم اللہ کو چھوڑ بیٹھے اور مخلوق کی پرستش پہ مائل ہوگئے۔ ثم عفونا عنکم من بعد ذالک لعلکم تشکرون۔ مگر ہمارا احسان دیکھو کہ بایں ہمہ ہم نے تمہیں معاف کردیا اور تمہاری خطا بخش دی کہ تم شکر کرو اور اللہ کا احسان مانو۔ واذاتینا موسیٰ الکتاب والفرقان لعلکم تہتدون۔ نہ صرف معاف کیا بلکہ تمہاری خاطر موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطا کی ، ایک ایسی کتاب جو حق اور باطل میں فرق بتادینے والی تھی عطا کی کہ تم راہ ہدایت پاسکو۔ گویا نبی کو کتاب کا ملنا چونکہ امت کی ہدایت کے لئے تھا۔ اور ان کے پاس ایک حق و باطل کی کسوٹی پہنچ گئی نیز سب کو کلام اللہ سے مشرف ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ ان سب احسانات کا شکر کس قدر واجب تھا۔ یہ امت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس غرض سے بتایا جارہا ہے کہ ان کے پاس موسیٰ (علیہ السلام) تھے تو تمہیں محمدرسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا امتی ہونے کا شرف حاصل ہے کتاب اللہ اپنی اصلی حالت میں تمہارے پاس محفوظ ہے اور یہی حق و باطل کا معیار ہے جو لوگ ، جو قوم ، جو افراد جن عقائد و اعمال میں اس کے خلاف لڑیں گے وہ گمراہی ہوگی اور اس کا اتباع ہدایت۔ واذقال موسیٰ لقومہ……………انہ ھوالتواب الرحیم۔ اور وہ وقت بھی یاد کرو جب موسیٰ (علیہ السلام) نے تمہیں تمہارے گناہ کی شدت سے آگاہ فرمایا اور تمہیں طریق توبہ بتایا۔ یہی منصب تصوف میں شیخ کا ہے کہ گناہ سے بےرغبتی دلائے اور توبہ کا طریقہ دل میں بٹھائے فرق یہ ہے کہ نبی براہ راست اللہ سے ہدایت لیتا ہے اور شیخ نبی کی اطاعت میں جس شخص کی صحبت میں یہ شے حاصل نہ ہو اس کی صحبت میں رہنا وقت کا ضیاع ہے اور گمراہی کا خطرہ الگ۔ لہٰذا اس ظلم عظیم کا علاج یہ ہے کہ اللہ نے حکم دیا ہے کہ جن لوگوں نے گوسالہ کو سجدہ کیا ہے انہیں وہ لوگ قتل کردیں جو اس میں ملوث نہیں ہوئے تو مقتول کی توبہ منظور ہوجائے گی فرمایا فاقتلوانفسکم اب تمہارا قتل ہونا ہی تمہارے لئے بہتر ہے اسی میں تمہاری بھلائی ہے اور یہ شرک کا داغ اب گردن کے خون ہی سے صاف ہوسکے گا یہ طریق توبہ بعض گناہوں پہ ہماری شریعت میں بھی مقرر ہے جیسے قتل عمد کے بدلے حمل یا زنا کے بدلے پر رحم کو یہ صر ف توبہ سے ساقط نہیں ہوتے ہاں اگر معاملات رفت وگزشت ہوچکے ہوں اور بجز اللہ کوئی جانتا نہ ہو تو علاج توبہ کے سوا کچھ نہیں یہ رحمت خاص ہے امت محمدیہ کے لئے اور کمال تصوف بھی یہ ہے کہ گویا قتل ہوچکا ، نفس مارا جاچکا ہے اب شریعت کے سامنے ایسا ہو جیسا مردہ بدست غسال ، جدھر ہلائے ادھر ہلے گا۔ صحبت پیغمبرکا کمال کہ دوری میں جو مبتلا شرک ہوگئے تھے حضوری میں ایسے صاف دل بن گئے کہ قتل تک ہونا منظور کرلیا اور قتل ہوئے بہت کثرت سے قتل ہوئے تو پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی۔ حکم ہوا کہ جو بچ رہے ہیں انہیں بھی معاف فرماتا ہوں اور جو قتل ہوئے انہیں شہادت سے سرفراز فرماتا ہوں۔ سو پھر تم پر متوجہ ہوا۔ بیشک اللہ توبہ قبول کرنے والا اور بڑا رحم کرنے والا ہے۔ پھر جب موسیٰ (علیہ السلام) نے تورات پیش کی تو کہنے لگے بھئی ! مانلینے سے تو ہم کو اعتراض نہیں۔ بات اتنی ہے کہ اگر خود اللہ کہہ دے کہ یہ میری کتاب ہے تو بڑی بات ہے موسیٰ (علیہ السلام) راضی ہوگئے اور قبیلے کے چیدہ چیدہ افرادہ کو جو کافی تعاد میں تھے لے کر طور پر پہنچے۔ دعا کی اللہ ان کو بھی اپنا کلام سننے کی توفیق وقوت عطا کر ۔ چناچہ انہوں نے سنا اور یہ بہت بڑا کمال تھا جو انہیں نبی کے وسیلے سے غیب ہوا۔ ثابت ہوتا ہے کہ اہل اللہ میں ایسے افراد ہوسکتے ہیں جنہیں باتباع نبی اللہ سے کلام نصیب ہو۔ مگر اس کا درجہ وہ نہ ہوگا جسے وحی کی جائے۔ تو وہ وقت یاد کرو جب تم اس پر بجائے شکر کے حد سے بڑھ گئے کہ بات تو سن لی مگر کہنے لگے نہ جانے کس کی تھی اگر اللہ کو دیکھ لیں اور پھر ہمارے سامنے بات ہو تو مانیں اور یہ حد سے بڑھی ہوئی جسارت تھی۔ اس عالم آب وگل میں دیدار باری کی قوت ہی ہیں دی گئی بلکہ خود حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے تمنا کی تو ارشاد ہوا لن ترانی تم دیکھ نہ سکو گے۔ ساری خدائی میں یہ شرف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہے کہ شب معراج دیدار باری ہوا جس پر بعض کو اختلاف بھی ہے مگر یہاں دو باتیں زیر غور ہیں ایک تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جسدعنصری کے ساتھ عالم بالا کو تشریف لے گئے ہیں جس پر اہل سنت کا کوئی اختلاف نہیں تو یہ بات دنیا کی نہ رہی بلکہ اس عالم کی ہوگئی دوسری یہ کہ سب کا اتفاق ہے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنت کا ملاحظہ ومعائنہ فرمایا۔ نعمائے جنت میں سب سے بڑی نعمت ہی دیدار باری ہے اگر اللہ ہی کو نہ دیکھا تو پھر جنت میں کیا دیکھا۔ یہ بات اس کے حق میں جاتی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیار باری ہوا ۔ واللہ اعلم وعلمہ ، اعظم۔ اور کسی سے یہ کمال ثابت نہیں۔ ہاں ! آخرت میں اور جنت میں جنتیوں کو حسب مراتب نصیب ہونا ثابت ہے۔ یہاں یہ بات تھی بنی اسرائیل کی ، کہنے لگے واذقلتم یا موسیٰ لن نومن لک حتی نری اللہ جھرۃ فاخذتکم الصاعقۃ وانتم تنظرون۔ جب تم نے حد سے بڑھ کر اور بحیثیت سے بڑھ کر مطالبہ کیا تو تم پر بجلی گری اور دیکھتے ہی دیکھتے تم فنا ہوگئے۔ ہوسکتا ہے بجلی ہی ہو یا تجلیات پر بھی کی کوئی بھوک جو یہ برداشت نہ کرسکتے تھے اور نہ کرسکے چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی کہ اللہ کے قتل کی تہمت سے مجھے ۔۔۔ پھر سے زندگی دے اور یہ چونکہ قضائے معلق تھی جو بدل سکتی ہے یعنی ایک فعل کے نتیجہ میں ان پر مسلط کی گئی ، عمر طبعی پوری نہ ہوئی تھی جس کے بعد اٹھائیں تو پھر تمہیں زندہ کردیا گیا۔ کیا کیا کمالات تھے اور کیسے کیسے انعامات تھے جو موسیٰ (علیہ السلام) کے طفیل تمہیں نصیب ہوئے۔ ثم بعثنکم من بعد مولنکم لعلکم تشکرون۔ تمہیں ایسا موقع نصیب ہوا کہ تم شکر کرتے ، اللہ کے احسانات یاد کرکے اس کے سامنے سرجھکا دیتے۔ مگر ہوا کیا کہ تمہیں حکم بلا لو اور تم عمالقعہ سے ، جو حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے چلے جانے کے بعد اس ملک پر قابض ہوگئے تھے اپنا وطن اصلی واپس لے لو ، اور اور جہاد کا ثواب بھی لوٹو۔ یہ حضرات چلے مگر جب راہ میں عمالقہ کی قوت کا حال معلوم ہوا تو دل چھوڑ بیٹھے کہ موسیٰ ! تو اور تیرے خدا لڑے ہم سے یہ مصیبت مول نہیں لی جاسکتی۔ چناچہ سب نے واپسی کی ٹھانی۔ اب جناب سارا دن چلتے اور رات ٹھہرتے مگر چالیس سال چلتے رہے اور رہے وہیں کے وہیں۔ ایک بارہ کو اس کی وادی میں پھنس کر رہ گئے جو عصر اور شام کے درمیان میں تھی۔ نہ وہاں پانی نہ خوراک ، نہ سایہ نہ مکان ، نہ لباس نہ دکان ، لگے خراب ہونے۔ پھر التجا کی موسیٰ ! ہم ہلاک ہوجائیں گے۔ آپ نے پھر دعا کی تو اللہ نے تمام آسانیاں بخش دیں مگر چالیس برس تک اس میں بھٹکنا پڑا کسی طرف نکل نہ سکے۔ وضظلنا علیکم الدام وازلنا علیکم المن والسلویٰ کلوا من طیبت مارزقنکم وما ظلمونا ولکن کانوا العباد ویظلمون یہ انہیں احسانات کو یاد فرمایا جارہا ہے کہ دھوپ نکلتی تو تم پر بادل سایہ کرلیتے اور کھانے پینے کے فکر سے تمہیں یوں آزاد کیا کہ من وسلویٰ عطا فرمایا ” من “ ایک تر نجبین سی تھی جو رات کو جھاڑیوں پر خوب اکٹھی ہوتی اور صبح یہ حاصل کرلیتے۔ اور ” سلویٰ “ بٹیریں تھیں۔ جن کے ڈر آجاتے اور ان سے بھاگتے نہ تھے یہ پکڑ کر ذبح کرتے اور کھاتے ۔ حتیٰ کہ کپڑے نہ میلے ہوتے اور نہ پھٹتے بچوں کو جو کپڑے پہنادیئے وہ جسم کے ساتھ ساتھ بڑھتے رہتے۔ رات کی تاریکی کا تدارک ایک نوری روشنی کردیا جاتا۔ غرضیکہ ان کی تمام تر ضروریات کو خرق عادت کے طور پر پورا کردیا گیا۔ اور زندگی کی ضرورتوں سے بےنیاز ہوگئے مگر باوجود ان عنایات کے اللہ کی اطاعت پر قائم نہ رہ سکے اور لگے نافرمانیاں کرنے ان کی یہ ناشکری اللہ کا تو کچھ بگاڑ نہ سکی۔ مگر خود ان کے حق میں بہت بڑی مصیبت ہوئی کہ زوال نعمت کا سبب بن گئی جس کا ذکر آگے آرہا ہے۔ واذقلنا ادخلوا……………وسنزید المحسنین۔ پھر وہ وقت یاد کرو جب ہم نے تمہیں ایک شہر پر غلبہ دیا اور حکم دیا کہ اس شہر میں داخل ہوجائو اور جو کچھ اس میں ہے تم پر حلال ہے مزے سے کھائو لیکن ایک بات یاد رہے کہ داخلے کے وقت سجدہ کرتے ہوئے داخل ہونا کہ تمہارا عجز اور ہماری عظمت ظاہر ہو نیز شکر ادا کرنے کا باعث ہو اور زبان سے حطۃ یعنی گزشتہ غلطیوں کی معافی مانگتے ہوئے بھی تو ہماری عنایات دیکھو کہ اتنے سے معمولی کام پر پچھلی تمام خطائوں کی معافی کا وعدہ فرمایا۔ بلکہ فرمایا وسنزید المحسنین ، جن میں جتنا خلوص یا خشوع زیادہ ہوگا ان کو معافی کے ساتھ انعامات اور قرب الٰہی نصیب ہوگا۔ احسان نام ہے خلوص قلب کا اور یہ کیفیت ہر دل کی جدا ہوتی ہے۔ تو جس قدر کسی کے دل میں رجوع الی اللہ کی کیفیت بڑھتی جائے گی اس پر دو عالم میں انعامات بھی بڑھتے جائیں گے مگر یہ تم تھے کہ اتنی سی بات پر بھی عمل نہ کرسکے اور تم میں سے بدکاروں نے الفاظ بدل دیئے۔ فبدل الذین ظلموا……………بما کانوا یفقون۔ یہ لوگ جب داخل ہوئے تو نہ ہی سجدہ کیا اور نہ ہی الفاظ درست کہے بلکہ حنطلۃ کہنے لگے جس کا معنی روٹی ہے کہ بھئی ! ہم تو بھوک کے ستائے ہوئے لوگ ہیں ہمیں تو کھانا درکار ہے۔ لہٰذا اس فعل اور قول کو بدل دینے کی وجہ سے ان بدکاروں پر آسمان سے آفت نازل کی گئی۔ کہ ان کی بدکاری کا ثمر تھا۔ ایک ظلم تو سجدہ نہ کرنے کا تھا دوسرا یہ کہ الفاظ ہی بدل دیئے جو مامور بہ تھے یہاں تو معنی بھی بدل گئے اگر معانی محفوظ رکھتے ہوئے صرف الفاظ بدل دیئے جائیں تو بھی درست نہ ہوگا خصوصاً عبادات میں مثلاً اذان یا صلوٰۃ میں ثناء اور التحیات وغیرہ کہ ان کی جگہ معانی کو ملحوظ رکھتے ہوئے بھی الفاظ بدل دینا جائز نہیں اور نہ صلوٰۃ ہوگی (معارف القرآن) ہاں احادیث میں روایت بالمعنی کا جواز ملتا ہے قرصی نے امام مالک ، شافعی اور ابوحنیفہ رحمہم اللہ سے نقل کیا ہے مگر وہ بھی اس شخص کے لئے جو عربی زبان میں ماہر ہو اور مواقع خطاب اور ماحول کے لحاظ سے معانی یا مضمون کو سمجھ سکے ہر کس کے لئے نہیں اور اگر کوئی ایسا کرے گا تو وہ دنیاوی نقصان میں بھی مبتلا ہوگا۔ اس طرح صوفی کے لئے ان الفاظ ووظائف میں جو شیخ نے تعلیم فرماتے ہوں تبدیلی جائز نہیں ورنہ اس کا دینی نقصان بھی ہوگا اور دنیاوی مصائب بھی آئیں گے جس طرح ان نافرمانوں پر طاعون مسلط کردی گئی جو بطور سزا کے تھی اور اس کا سبب ان کی نافرمانی تھا بما اسمانوا یفسقون۔ کہ وہ بداعمال تھے۔ مصائب کا فلسفہ : بدکاروں پر مصیبت بطور سزا آتی ہے اور جو مصائب نیک بندوں پر آتے ہیں وہ بطور انعام ہوتے ہیں کہ بعض مقامات قرب کے حصول کے لئے ضروری ہوتے ہیں جیسے شہادت کے لئے قتل ہونا راہ حق میں ضروری ہے اور بعض اوقات منصب ومقام کے لحاظ سے عبادات میں کمی رہ جاتی ہے جسے تکالیف دنیاوی پورا کرتی ہیں۔ اور کبھی مجاہدہ کرانا مقصود ہوتا ہے تاکہ اس پر انعام مرتب ہو کہ یہ مجاہدہ اضطراری ہے جیسے آگے اسی قصہ میں آرہا ہے اور وہ وقت بھی یاد کرو۔ جب وادی تیہ میں تم کو پیاس نے بےحال کردیا اور تمہارے لئے موسیٰ (علیہ السلام) نے پانی کی دعا کی۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

تشریح : آیت نمبر 47 تا 50 ان آیات میں ایک مرتبہ پھر بنی اسرائیل کو بتایا جا رہا ہے کہ دنیا کی جس فضیلت و برتری پر تمہیں فخر وناز ہے وہ عظمتیں اللہ ہی نے تو عطا کی تھیں۔ اگر تم پھر وہی عظمتیں حاصل کرنا چاہتے ہو تو اللہ کے دین سے پوری طرح وابستگی اختیار کرلو۔ اللہ سے اور اس دن سے ڈرتے رہو جس دن تمہارے یہ جھوٹے فخر و غرور کام نہ آسکیں گے نہ کوئی کسی کی سفارش کرسکے گا، نہ کچھ دے دلا کر چھوٹ سکے گا اور نہ کسی کی طرف سے مدد کی جائے گی وہاں محض انبیاء کی نسبت پر نازل کرنا اور جھوٹے معبودوں کے وہ سہارے جنہوں نے تمہیں گناہوں کی دلدل میں پھنسا دیا ہے کسی کام نہ آسکیں گے وہاں صرف اللہ سے کیا ہوا عہدو پیمان، ایمان اور عمل صالح کام آئیں گے۔ ان نصیحت آموز باتوں کے بعد بنی اسرائیل کی زندگی کے چند اہم واقعات قرآن کریم میں انتہائی اختصار سے بیان کئے جا رہے ہیں یہ واقعات جو عرب کے بچے بچے کی زبان پر تھے اور سب کو اچھی طرح معلوم تھے وہ ان کے لئے سامان عبرت ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد حضرت یعقوب (علیہ السلام) تک ان کی اولاد (کنعان) فلسطین میں رہی۔ پھر بھائیوں کے بغض وحسد کی بناء پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کو غلام کی حیثیت سے مصر پہنچایا گیا، بادشاہ مصر کے پاس ان کو بہت زیادہ عروج اور ترقی نصیب ہوئی۔ جب کنعان میں شدید قحط پڑا تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور ان کے بارہ بیٹے مصر ہی میں آباد ہوگئے۔ مصر میں اللہ نے ان کی اولاد کو خوب بڑھایا اور کئی سو سال کے بعد تو ان کی اولاد اور ایمان والوں کی تعداد لاکھوں تک پہنچ گئی تھی ان کو بنی اسرائیل کہا جانے لگا یوسف (علیہ السلام) کے وصال اور فرعون کے مرکھپ جانے کے بعد مصعب فرعون تخت سلطنت پر بیٹھا، اس کو بنی اسرائیل سے اس قدر نفرت اور عداوت تھی کہ اس نے ان کو ذلیل کرنے کے لئے تمام وہ طریقے اختیار کئے جن سے وہ معاشرہ کے سب سے معمولی کام کرنے والے بن کر رہ گئے۔ ادنیٰ کاموں کے علاوہ تمام محنت و مشقت کے کام کھیتی باڑی اور اینٹ گارے کا کام لیا جا نے لگا، ہر فرعونی کی خدمت کرنا ان کا فرض تھا، ان پر اتنے زبردست ٹیکس لگائے گئے تھے کہ ان کی کمر دھری ہو کر رہ گئی۔ اس سب کے باوجود بنی اسرائیل کی نسل بڑی تیزی کے ساتھ بڑھ رہی تھی اس سے فرعون کو اور بھی پریشانی تھی اس لئے اس نے بنی اسرائیل کے تمام بچوں کے قتل عام اور لڑکیوں کو زندہ رکھنے کا حکم دیا تا کہ وہ لڑکیاں جو ان ہو کر ان کی لونڈیاں بن سکیں۔ غرضیکہ فرعون نے ہر اعتبار سے بنی اسرائیل کو تہس نہس کر کے رکھ دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کو اس پر قوم پر رحم آگیا اور عمران کے گھر میں ایک خوبصورت بیٹا پیدا فرمایا جس کا نام موسیٰ (پانی سے نکالا گیا) رکھا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ان کو فرعون کے محل میں پرورش کرا دیا اور بتا دیا کہ اس کائنات میں ساری طاقت وقدرت اللہ ہی کی ہے، موسیٰ (علیہ السلام) جو ان ہوئے انہوں نے بنی اسرائیل کو نصیحت کی اور بتایا کہ تمہاری ان ذلتوں کی وجہ صرف یہ ہے کہ تم نے اس سچے راستے کو چھوڑ دیا جو اللہ کے انبیاء کا اور نیک لوگوں کا راستہ ہے۔ اگر تم پھر سے عظمتیں حاصل کرنا چاہتے ہو تو اللہ کے دین کو اختیار کرو۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے خطبات سے قوم بنی اسرائیل میں ایک نیا ولولہ اور جوش پیدا ہوا اور انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی عظمت کو تسلیم کرلیا ادھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو طرح طرح کے معجزات دکھلائے مگر وہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر اڑا رہا۔ ایک دن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے بڑی راز داری کے ساتھ اپنی قوم کو اس بات پر تیار کرلیا کہ راتوں رات مصر سے نکل جائیں تا کہ فرعون کے ظلم سے نجات حاصل ہو سکے۔ ایک رات پوری قوم بنی اسرائیل مصر سے روانہ ہوگئی۔ یہ قوم سمندر (بحر قلزم) کے کنارے پر پہنچی ہی تھی کہ فرعون کو اطلاع ہوگئی اور وہ ایک بہت بڑا لشکر لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں روانہ ہوگیا۔ جب بنی اسرائیل کو اس کی اطلاع ملی کہ فرعون اور اس کا لشکر ان کے تعاقب میں بڑھا چلا آرہا ہے تو وہ اس تصور سے بوکھلا گئے کہ آگے سمندر ہے اور پیچھے فرعون کا لشکر، دائیں بائیں بھاگنے کی کوئی جگہ نہیں ہے اس وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے اپنے عصا کو سمندر پر مارا تو اس میں بارہ راستے بن گئے اور بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک بخیریت پہنچ گئے۔ سمندر میں راستے ابھی اسی طرح بنے ہوئے تھے کہ فرعون اور اس کا لشکر وہاں پہنچ گیا اس نے سمندر میں راستے دیکھ کر اسی میں فوج کو داخل ہونے کا حکم دے دیا۔ جب فرعون اور اس کا لشکر سمندر کے درمیان میں پہنچ گئے تو اللہ کے حکم سے پانی پھر مل گیا اور فرعون اور اس کے تمام لشکری ڈوب گئے۔ فرعون کے ظلم سے نجات فرعون اور قوم فرعون کے غرق ہونے تک ان دو واقعات کی طرف ان آیات میں یاد دھانی کرائی گئی ہے کہ ظالم کے ظلم سے نجات اور فرعون اور اس کی قوم کے غرق کرنے میں تمہارے اوپر کتنا بڑا انعام تھا مگر تم نے اللہ کا شکر ادا کرنے بجائے تکبر اور غرور کا راستہ اختیار کیا۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : بنی اسرائیل کو دوسراخطاب۔ بنی اسرائیل سے پہلے خطاب میں کچھ باتوں کا حکم دیا اور کچھ کاموں سے منع کیا تھا۔ اب دوسرے خطاب کا آغاز بھی نہایت دل کش انداز میں کرتے ہوئے نعمتوں کی یاد دہانی کروانے کے بعد قیامت کے دن کی ہولناکیوں سے ڈراتے ہوئے بتلایا ہے کہ دنیا کی عدالتوں میں اثر ورسوخ، سفارش، رشوت یا جرمانہ دے کر تم چھوٹ جاتے ہو۔ رب کبریا کی عدالت میں مجرموں کا چھوٹنا محال اور ناممکن ہے وہاں سچا ایمان اور نیک اعمال کے علاوہ کچھ بھی کام نہیں آئے گا۔ یہاں سے بنی اسرائیل کے عدالتی نظام کا اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے کس قدر اسے تباہی کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ آدمی کے ضمیر کو راغب کرنے اور جھنجھوڑنے کے لیے انعامات کا وعدہ اور خوف نہایت مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔ یہاں خوف دلانے کے بعد احسانات کا ذکر کیا گیا ہے۔ کیونکہ پچھلے خطاب میں فرمایا تھا اگر تم عہد کی پاسداری کرو گے تو ہم تمہیں دوبارہ نعمتیں عطا کریں گے تاکہ ان کے ضمیر میں احساس اور حیا پیدا ہو جس بنا پر وہ اسلام کی مخالفت سے باز آجائیں۔ بنی اسرائیل پر عظیم الشان احسانات 1 ۔ جور و استبداد سے نجات : (وَلَقَدْ نَجَّیْنَا بَنِیْٓ اِسْرَاءِیْلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُہِیْنِ ) ( الدخان : ٣٠) ” ہم نے بنی اسرائیل کو ذلت آمیز عذاب سے نجات دی۔ “ 2 ۔ دریا میں راستہ بنانا : (وَ اِذْ فَرَقْنَا بِکُمُ الْبَحْرَ فَاَنْجَیْنٰٰکُمْ ) (البقرۃ : ٥٠) ” جب ہم نے تمہارے لیے دریا کو پھاڑا اور تمہیں نجات دی۔ “ 3 ۔ بچھڑے کی پرستش کے بعد توبہ قبول کی : (ثُمَّ عَفَوْنَا عَنْکُمْ ) (البقرۃ : ٥٢) ” پھر ہم نے تمہیں معاف کردیا۔ “ 4 ۔ دوبارہ زندگی عطا کرنا : (ثُمَّ بَعَثْنٰکُمْ م مِّنْ بَعْدِ مَوْتِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ ۔ ) (البقرۃ : ٥٦) ” پھر ہم نے تمہاری موت کے بعد تم کو زندہ کیا تاکہ تم شکر ادا کرو۔ “ 5 ۔ بادلوں کا سایہ کیا : (وَ ظَلَّلْنَا عَلَیْکُمُ الْغَمَامَ ) (البقرۃ : ٥١) ” اور ہم نے تم پر بادلوں کا سایہ کیا۔ “ 6 ۔ من وسلویٰ اتارا : (وَ اَنْزَلْنَا عَلَیْکُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰی۔ ) (البقرۃ : ٥٧) ” اور ہم نے تم پر من وسلویٰ نازل کیا۔ “ 7 ۔ بارہ چشمے جاری کیے : (فَانْفَجَرَتْ مِنْہُ اثْنَتَا عَشْرَۃَ عَیْنًا۔ ) (البقرۃ : ٦٠) ” پتھر سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے۔ “ 8 ۔ دنیا میں حکمران بنایا : (وَ جَعََلَکُمْ مُّلُوْکًا) (المائدۃ : ٢٠) ” اور تمہیں بادشاہ بنایا “ 9 ۔ اقوام عالم پر عزت عطا فرمائی : (وَ اَنِّیْ فَضَّلْتُکُمْ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ ) (البقرۃ : ٤٧) ” میں نے تمہیں اقوام عالم پر فضیلت دی۔ “ 0 ۔ جو کچھ بنی اسرائیل کو دیاوہ کسی اور کو نہ دیا : (وَ اٰتٰکُمْ مَا لَمْ یُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ ) (المائدۃ : ٢٠) ” اور جو کچھ تمہیں دیا سارے عالم میں سے کسی کو نہیں دیا۔ “ !۔ تواتر کے ساتھ انبیاء (علیہ السلام) بھیجے گئے : (وَ قَفَّیْنَا مِنْ بَعْدِہٖ بالرُّسُلِ ) (البقرۃ : ٨٧) ” ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بہت سے رسول بھیجے۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ انسان کو نعمت اور فضل سے نوازے تو اس کا شکر ادا کرنا چاہیے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

بنی اسرائیل کو تمام مخلوق پر فضیلت دنیا ، اس وقت کی بات ہے جب وہ صحیح معنوں میں ، اس زمین پر اللہ کے نائب اور خلیفہ تھے ، لیکن جب انہوں نے اپنے رب اور مالک کے احکامات سے منہ پھیرلیا ، اپنے انبیاء کی نافرمانی کرنے لگے ، اللہ نے ان پر جو انعامات کئے تھے ان کی ناشکری کی اور یہ کہ انہوں نے اللہ سے جو عہد کر رکھے تھے ، اور جو ذمہ داریاں لے رکھی تھیں ان کا پورا تدارک کردیا ، تو اللہ تعالیٰ نے بھی فیصلہ کیا کہ اب وہ ہمیشہ کے لئے ملعون مغضوب اور ذلیل و خوار رہیں گے ، ان کی جلاوطنی اور دربدر ہونے کا فیصلہ ہوا اور وہ اللہ کے عتاب کے مستحق ہوگئے۔ انہیں یہاں یاد دلایا جاتا ہے کہ ایک وقت وہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کے ان پر یہ فضل وکرم تھے اور وہ دنیا کی افضل ترین قوم تھے ۔ یہ بات انہیں بطور ترغیب سنائی جارہی ہے کہ اب پھر ان کے لئے اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کے مواقع ہیں ۔ یوں کہ وہ اس نئے قافلہ ایمان میں شامل ہوجائیں ۔ دعوت اسلامی کا ساتھ دیں ۔ اللہ کے عہد میں دوبارہ داخل ہوجائیں اور اللہ نے ان کے آباء اجداد کو جو فضیلت دی تھی اس کا شکر وہ بھی ادا کریں اور اب مومنین کو جو مقام عنایت ہورہا ہے ، اس میں وہ بھی شریک ہوجائیں۔ لیکن اس ترغیب کے ساتھ ساتھ فضل وکرم اور نعمت عمیمہ کی یاد دہانی کے ساتھ ساتھ آنے والے دن کی ترہیب و تخویف بھی آتی ہے جس میں لَا تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا ” کوئی کسی کے ذرا کام نہ آئے گا۔ “ کیونکہ قیامت کے دن ہر شخص فرداً اپنے اعمال کا صلہ پائے گا ۔ وہاں حساب انفرادی طور پر ہوگا ، ہر کوئی صرف اپنے کئے کا جوابدہ ہوگا ، کوئی شخص کسی کے کام نہ آسکے گا ۔ یاد رہے کہ شخصی مسؤلیت ، دنیا وآخرت میں اسلام کا ایک زریں اور عظیم اصول ہے ، شخصی مسؤلیت کا یہ اصول ، انسان کے آزاد ارادہ اور اختیار تمیزی پر قائم ہے ۔ اور اس کے مطابق ہی اللہ تعالیٰ کی جانبب سے عالمگیر عدل و انصاف ہوگا ۔ یہی وہ اصول ہے ، جو انسان کے اندر ، اس کی ذی شرف ہونے کا احساس پیدا کرتا ہے ، اور اس سے اس کے دل میں دائمی بیداری کا جذبہ موجزن رہتا ہے ۔ یہ دونوں چیزیں انسان کی تہذیب اور تربیت کے لئے بےحد مفید ہے ۔ نیز ان سے ان انسانی قدروں میں اضافہ ہوتا ہے ، جن کی بنا پر اسلام نے انسان کو اشرف المخلوقات کا مقام دیا ہے۔ وَلا يُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَلا يُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَلا هُمْ يُنْصَرُونَ ” نہ کسی کی طرف سے سفارش قبول ہوگی ، نہ کسی کو فدیہ لے کر چھوڑاجائے گا ۔ “ اس دن جو شخص ایمان اور عمل صالح کا توشہ لے کر نہ آئے اس کے حق میں کوئی سفارش نہ ہوگی ۔ کفر اور معصیت کی معافی کے لئے کوئی فدیہ نہ لیاجائے گا۔ وَلا هُمْ يُنْصَرُونَ ” اور نہ مجرموں کو کہیں سے مدد مل سکے گی ۔ “ اس دن عذاب الٰہی سے انہیں نجات دینے کے لئے کوئی ناصر وی اور نہ ہوگا۔ کوئی نہ ہوگا کو انہیں اس کے عذاب سے نجات دلاسکے ۔ اس آخری فقرے میں لفظ جمع سے سب کو یکجا بیان کیا گیا ہے ۔ یعنی وہ تمام لوگ جو ایک دوسرے کے کام نہ آسکیں گے ، اور جن کی سفارش ایک دوسرے کے بارے میں قبول نہ ہوگی ، اور ایک دوسرے کے بارے میں ان سے فدیہ نہ لیا جائے گا ، ابتدائے آیت میں بنی اسرائیل کو خطاب کیا گیا ، لیکن آخر میں کلام کا اسلوب خطاب سے غائبین کی طرف چلا گیا ، تاکہ یہ اصول عام ہوجائے اور وہ لوگ جن سے خطاب کیا جارہا ہے وہ اور دوسرے سب لوگ اس میں شامل ہوجائیں۔ اس کے بعد قرآن کریم ایک ایک کرکے اللہ کے ان انعامات کا تذکرہ کرتا ہے جو ان پر ہوتے رہے ہیں اور یہ بتاتا ہے کہ انہوں نے ان انعامات کے مقابلے میں کیا طرز عمل اختیار کیا ؟ کس طرح انہوں نے انکار کیا ، کفر کیا اور راہ راست سے ہٹ گئے ؟ فرعون کی غلامی اور اس کے دردناک مظالم سے انہیں نجات دینا ان احسانات میں سے چونکہ عظیم ترین احسان تھا ، اس لئے یہاں سب سے پہلے اس کا ذکر کیا جاتا ہے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

105 ۔ یہ ترغیب ہے۔ اس کی تفسیر گزر چکی ہے۔ وَاَنِّىْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَي الْعٰلَمِيْنَ یہاں عالمین سے مراد صرف اس زمانے کے تمام لوگ ہیں یعنی اس آیت میں نزول قرآن کے وقت موجودہ یہودیوں کے باپ دادوں کی، ان کی تمام ہم عصر اقوام پر فضیلت کا اظہار مقصود ہے۔ المراد فضلتکم علی عالمی زمانکم (کبیر ص 500 ج 1، قرطبی ص 376 ج 1، معالم ص 47 ج 1) المراد بالعلمین سائر الموجودین فی وقت التفضیل (روح ص 250 ج 1) لہذا اس سے بنی اسرائیل کی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کی امت پر فضیلت لازم نہیں آتی۔ اور وجہ افضلیت کے لیے ہمیشہ کوئی امتیازی خوبی ہونی چاہیے اور وہ عقیدہ توحید ہے۔ زمانہ فترت میں صرف بنی اسرائیل ہی ایک ایسی قوم تھی جو مسلک توحید کی صدیوں پابند رہی۔ دنیا کی باقی قومیں کم وبیش شرک میں مبتلا تھیں لیکن رفتہ رفتہ قوم بنی اسرائیل بھی توحید سے دور ہوتی گئی۔ تاآنکہ حضور نبی کریم (علیہ الصلوۃ والسلام) کے زمانے تک یہودی کئی قسم کے شرکوں میں مبتلا ہوچکے تھے۔ وَاتَّقُوْا يَوْمًا۔ یہ ترہیب ہے۔ یَوْماً نکرہ ہے۔ اور بعد میں آنے والی اس کی صفات متعین کر رہی ہیں کہ اس سے مراد یوم آخرت ہے۔ دنیا میں جرم کی سزا سے بچنے کے لیے عام طور پر چار ذرائع نجات میں سے کوئی ایک ذریعہ استعمال کیا جاتا ہے اور اکثر مجرم ان کے ذریعے قرار واقعی سزا سے بچ جاتے ہیں (1) اگر مجرم کا باپ یا دادا یا اوپر کا کوئی مورث یا کوئی اور دور ونزدیک کا رشتہ دار دین یا دنیا کے لحاظ سے بڑا با اثر اور بارسوخ آدمی ہو، لوگ اس کے دنیوی کارناموں سے متاثر ہوں یا اس کی دینی اور مذہبی خدمات کی وجہ سے اسے اللہ کا ولی مانتے ہوں اور اس سے دلی عقیدت رکھتے ہوں تو ایسے شخص سے تعلق رکھنے والے مجرم کو محض اس تعلق اور انتساب کی بنا پر چھوڑ دیا جاتا ہے (2) کسی با اثر اور صاحب اقتدار آدمی کی سفارش سے بھی مجرم کی سزا معاف کردی جاتی ہے۔ (3) بعض اوقات کچھ دے دلا کر مجرم بری کرالیا جاتا ہے (4) اور بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ طاقت کے بل بوتے پر زبردستی مجرم کو چھڑا لیا جاتا ہے۔ یہودیوں میں شرک اور بدعقیدگی اس درجہ راسخ ہوچکی تھی کہ ان کا خیال تھا کہ ان حربوں کے ذریعے آخرت کی سزا سے بھی بچا جاسکے گا۔ تو اللہ تعالیٰ نے انہیں آگاہ کردیا کہ وہاں یہ چیزیں کام نہیں آئیں گی۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi