Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 49

سورة البقرة

وَ اِذۡ نَجَّیۡنٰکُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ یَسُوۡمُوۡنَکُمۡ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ یُذَبِّحُوۡنَ اَبۡنَآءَکُمۡ وَ یَسۡتَحۡیُوۡنَ نِسَآءَکُمۡ ؕ وَ فِیۡ ذٰلِکُمۡ بَلَآ ءٌ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ عَظِیۡمٌ ﴿۴۹﴾

And [recall] when We saved your forefathers from the people of Pharaoh, who afflicted you with the worst torment, slaughtering your [newborn] sons and keeping your females alive. And in that was a great trial from your Lord.

اور جب ہم نے تمہیں فرعونیوں سے نجات دی جو تمہیں بدترین عذاب دیتے تھے جو تمہارے لڑکوں کو مار ڈالتے تھے اور تمہاری لڑکیوں کو چھوڑ دیتے تھے ، اس نجات دینے میں تمہارے رب کی بڑی مہربانی تھی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Children of Israel were saved from Pharaoh and His Army Who drowned Allah said to the Children of Israel, "Remember My favor on you وَإِذْ نَجَّيْنَاكُم مِّنْ الِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُمْ سُوَءَ الْعَذَابِ ... And (remember) when We delivered you from Fir`awn's (Pharaoh) people, who were afflicting you with a horrible torment, meaning, `I - Allah - saved you from them and delivered you from their hands in the company of Musa, after they subjected you to horrible torture.' This favor came after the cursed Pharaoh had a dream in which he saw a fire emerge from Bayt Al-Maqdis (Jerusalem), and then the fire entered the houses of the Coptics in Egypt, with the exception of the Children of Israel. Its purport was that his kingship would be toppled by a man among the Children of Israel. It was also said that some of Pharaoh's entourage said that the Children of Israel were expecting a man among them to arise who would establish a state for them. We will mention the Hadith on this subject when we explain Surah Ta Ha, Allah willing. After the dream, Pharaoh ordered that every newborn male among the Children of Israel be killed and that the girls be left alone. He also commanded that the Children of Israel be given tasks of hard labor and assigned the most humiliating jobs. The torment here refers to killing the male infants. In Surah Ibrahim this meaning is clearly mentioned, يَسُومُونَكُمْ سُوءَ الْعَذَابِ وَيُذَبِّحُونَ أَبْنَاءكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَاءكُمْ Who were afflicting you with horrible torment, and were slaughtering your sons and letting your women live. (14:6) We will explain this Ayah in the beginning of Surah Al-Qasas, Allah willing, and our reliance and trust are with Him. The meaning of, يَسُومُونَكُمْ (who were afflicting you) is, "They humiliated you," as Abu Ubaydah stated. It was also said that it means, "They used to exaggerate in tormenting you" according to Al-Qurtubi. As for Allah saying, ... يُذَبِّحُونَ أَبْنَاءكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَاءكُمْ ... killing your sons and sparing your women, that explains His statement, يَسُومُونَكُمْ سُوَءَ الْعَذَابِ (who were afflicting you with horrible torment) then it explains the meaning of the favor He gave them, as mentioned in His statement, اذْكُرُواْ نِعْمَتِيَ الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ (Remember My favor which I bestowed upon you). As for what Allah said in Surah Ibrahim, وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللّهِ (And remind them of the annals of Allah), (14:5) meaning, the favors and blessing He granted them, He then said, يَسُومُونَكُمْ سُوءَ الْعَذَابِ وَيُذَبِّحُونَ أَبْنَاءكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَاءكُمْ (Who were afflicting you with horrible torment, and were slaughtering your sons and letting your women live), (14:6). So Allah mentioned saving their children from being slaughtered in order to remind them of the many favors that He granted them. We should state here that Pharaoh (Fir`awn) is a title that was given to every disbelieving king who ruled Egypt, whether from the Amaliq (Canaanites) or otherwise, just as Caesar (Qaysar) is the title of the disbelieving kings who ruled Rome and Damascus. Also, Khosrau (Kisra) is the title of the kings who ruled Persia, while Tubba is the title of the kings of Yemen, and the kings of Abyssinia (Ethiopia) were called Negus (An-Najashi). Allah said, ... وَفِي ذَلِكُم بَلء مِّن رَّبِّكُمْ عَظِيمٌ And therein was a mighty trial from your Lord.) Ibn Jarir commented that this part of the Ayah means, "Our saving your fathers from the torment that they suffered by the hand of Pharaoh, is a great blessing from your Lord." We should mention that in the blessing there a is test, the same as with hardship, for Allah said, وَنَبْلُوكُم بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً And We shall make a trial of you with evil and with good. (21:35) and, وَبَلَوْنَـهُمْ بِالْحَسَنَـتِ وَالسَّيِّيَاتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ And We tried them with good (blessings) and evil (calamities) in order that they might turn (to obey Allah). (7:168). Allah's statement next, وَإِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ فَأَنجَيْنَاكُمْ وَأَغْرَقْنَا الَ فِرْعَوْنَ وَأَنتُمْ تَنظُرُونَ

احسانات کی یاد دہانی ان آیتوں میں فرمان باری ہے کہ اے اولاد یعقوب میری اس مہربانی کو بھی یاد رکھو کہ میں نے تمہیں فرعون کے بدترین عذابوں سے چھٹکارا دیا ، فرعون نے ایک خواب دیکھا تھا کہ بیت المقدس کی طرف سے ایک آگ بھڑکی جو مصر کے ہر ہر قطعی کے گھر میں گھس گئی اور بنی اسرائیل کے مکانات میں وہ نہیں گئی جس کی تعبیر یہ تھی کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص پیدا ہو گا جس کے ہاتھوں اس کا غرور ٹوٹے گا اس کے اللہ کے دعویٰ کی بدترین سزا اسے ملے گی اس لئے اس ملعون نے چاروں طرف احکام جاری کر دئیے کہ بنی اسرائیل میں جو بچہ بھی پیدا ہو ، سرکاری طور سے اس کی دیکھ بھال رکھی جائے اگر لڑکا ہو تو فوراً مار ڈالا جائے اور لڑکی ہو تو چھوڑ دی جائے ۔ علاوہ ازیں بنی اسرائیل سے سخت بیگار لی جائے ہر طرح کی مشقت کے کاموں کا بوجھ ان پر ڈال دیا جائے ۔ یہاں پر عذاب کی تفسیر لڑکوں کے مار ڈالنے سے کی گئی اور سورۃ ابراہیم میں ایک کا دوسری پر عطف ڈالا جس کی پوری تشریح انشاء اللہ سورۃ قصص کے شروع میں بیان ہو گی اللہ تعالیٰ ہمیں مضبوطی دے ہماری مدد فرمائے اور تائید کرے آمین یسومونکم کے معنی مسلسل اور کرنے کے آتے ہیں یعنی وہ برابر دکھ دئیے جاتے تھے چونکہ اس آیت میں پہلے یہ فرمایا تھا کہ میری انعام کی ہوئی نعمت کو یاد کرو اس لئے فرعون کے عذاب کی تفسیر کو لڑکوں کے قتل کرنے کے طور پر بیان فرمایا تاکہ نعمتوں کی تعداد زیادہ ہو ۔ یعنی متفرق عذابوں سے اور بچوں کے قتل ہونے سے تمہیں حضرت موسیٰ کے ہاتھوں نجات دلوائی ۔ مصر کے جتنے بادشاہ عمالیق وغیرہ کفار میں سے ہوئے تھے ان سب کو فرعون کہا جاتا تھا جیسے کہ روم کے کافر بادشاہ کو قیصر اور فارس کے کافر بادشاہ کو کسری اور یمن کے کافر بادشاہ کو تبع اور حبشہ کے کافر بادشاہ کو نجاشی اور ہند کے کافر بادشاہ کو بطلیموس ۔ اس فرعون کا نام ولید بن مصعب بن ریان تھا ۔ بعض نے مصعب بن ریان بھی کہا ہے ۔ عملیق بن اود بن ارم بن سام بن نوح کی اولاد میں سے تھا اس کی کنیت ابو مرہ تھی ۔ اصل میں اصطخر کے فارسیوں کی نسل میں تھا اللہ کی پھٹکار اور لعنت اس پر نازل ہو پھر فرمایا کہ اس نجات دینے میں ہماری طرف سے ایک بڑی بھاری نعمت تھی بلاء کے اصلی معنی آزمائش کے ہیں لیکن یہاں پر حضرت ابن عباس ، حضرت مجاہد ، ابو العالیہ ، ابو مالک سدی وغیرہ سے نعمت کے معنی منقول ہیں ، امتحان اور آزمائش بھلائی برائی دونوں کے ساتھ ہوتی ہے لیکن بلوتہ بلاء کا لفظ عموماً برائی کی آزمائش کے لئے اور ابلیہ ابلا وبلاء کا لفظ بھلائی کے ساتھ کی آزمائش کے لئے آتا ہے یہ کہا گیا ہے کہ اس میں تمہاری آزمائش یعنی عذاب میں اور اس بچوں کے قتل ہونے میں تھی ۔ قرطبی اس دوسرے مطلب کو جمہور کا قول کہتے ہیں تو اس میں اشارہ ذبح وغیرہ کی طرف ہو گا اور بلاء کے معنی برائی کے ہوں گے پھر فرمایا کہ ہم نے فرعون سے بچا لیا ۔ تم موسیٰ کے ساتھ شہر سے نکلے اور فرعون تمہیں پکڑنے کو نکلا تو ہم نے تمہارے لئے پانی کو پھاڑ دیا اور تمہیں اس میں سے پار اتار کر تمہارے سامنے فرعون کو اس کے لشکر سمیت ڈبو دیا ۔ ان سب باتوں کا تفصیل وار بیان سورۃ شعراء میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔ عمرو بن میمون اودی فرماتے ہیں کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر نکلے اور فرعون کو خبر ہوئی تو اس نے کہا کہ جب مرغ بولے تب سب نکلو اور سب کو پکڑ کر قتل کر ڈالو لیکن اس رات اللہ تعالیٰ کی قدرت سے صبح تک کوئی مرغ نہ بولا مرغ کی آواز سنتے ہی فرعون نے ایک بکری ذبح کی اور کہا کہ اس کی کلیجی سے میں فارغ ہوں اس سے پہلے چھ لاکھ قبطیوں کا لشکر جرار میرے پاس حاضر ہو جانا چاہئے چنانچہ حاضر ہو گیا اور یہ ملعون اتنی بڑی جمعیت کو لے کر بنی اسرائیل کی ہلاکت کے لئے بڑے کروفر سے نکلا اور دریا کے کنارے انہیں پا لیا ۔ اب بنی اسرائیل پر دنیا تنگ آ گئی پچھے ہٹیں تو فرعونیوں کی تلواروں کی بھینٹ چڑھیں آگے بڑھیں تو مچھلیوں کا لقمہ بنیں ۔ اس وقت حضرت یوشع بن نون نے کہا کہ اے اللہ کے نبی اب کیا کیا جائے؟ آپ نے فرمایا حکم الٰہی ہمارا راہنما ہے ، یہ سنتے ہی انہوں نے اپنا گھوڑا پانی میں ڈال دیا لیکن گہرے پانی میں جب غوطے کھانے لگا تو پھر کنارے کی طرف لوٹ آئے اور پوچھا اے موسیٰ رب کی مدد کہاں ہے؟ ہم نہ آپ کو جھوٹا جانتے ہیں نہ رب کو تین مرتبہ ایسا ہی کہا ۔ اب حضرت موسیٰ کی طرف وحی آئی کہ اپنا عصا دریا پر مارو عصا مارتے ہی پانی نے راستہ دے دیا اور پہاڑوں کہ طرح کھڑا ہو گیا حضرت موسیٰ اور آپ کے ماننے والے ان راستوں سے گزر گئے انہیں اس طرح پار اترتے دیکھ کر فرعون اور فرعونی افواج نے بھی اپنے گھوڑے اسی راستہ پر ڈال دئیے ۔ جب تمام کے تمام میں داخل ہو گئے پانی کو مل جانے کا حکم ہوا پانے کے ملتے ہی تمام کے تمام ڈوب مرے بنی اسرائیل نے قدرت الٰہی کا یہ نظارہ اپنی آنکھوں سے کنارے پر کھڑے ہو کر دیکھا جس سے وہ بہت ہی خوش ہوئے اپنی آزادی اور فرعون کی بربادی ان کے لئے خوشی کا سبب بنی ۔ یہ بھی مروی ہے کہ یہ دن عاشورہ کا تھا یعنی محرم کی دسویں تاریخ ۔ مسند احمد میں حدیث ہے کہ جب حضور علیہ السلام مدینہ شریف میں تشریف لائے تو دیکھا کہ یہودی عاشورہ کا روزہ رکھتے ہیں پوچھا کہ تم اس دن کا روزہ کیوں رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا اس لئے کہ اس مبارک دن میں بنی اسرائیل نے فرعون کے ظلم سے نجات پائی اور ان کا دشمن غرق ہوا جس کے شکریہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ روزہ رکھا آپ نے فرمایا تم سے زیادہ حقدار موسیٰ علیہ السلام کا میں ہوں پس حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی اس دن روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا ۔ بخاری مسلم نسائی ابن ماجہ وغیرہ میں بھی یہ حدیث موجود ہے ۔ ایک اور ضعیف حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس دن اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے لئے سمندر کو پھاڑ دیا تھا اس حدیث کے راوی زید العمی ضعیف ہیں اور ان کے استاد یزید رقاشی ان سے بھی زیادہ ضعیف ہیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

آل فرعون سے مراد صرف فرعون اور اس کے اہل خانہ ہی نہیں بلکہ فرعون کے تمام پیروکار ہیں۔ جیسا کہ آگے ( وَاَغْرَقْنَآ اٰلَ فِرْعَوْنَ ) 008:054 ہے (ہم نے ال فرعون کو غرق کردیا) یہ غرق ہونے والے فرعون کے گھر کے ہی نہیں تھے اس کے فوجی اور دیگر پیروکار بھی تھے۔ اس کی مزید تفصیل الاحزاب میں انشاء اللہ آئے گی۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦٨] فرعون کی بنی اسرائیل کو تعذیب کی وجہ :۔ فرعون نے ایک خواب دیکھا تھا جس کی تعبیر اس کے نجومیوں نے یہ دی تھی کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص پیدا ہوگا جو تمہیں اور تمہاری سلطنت کو غارت کر دے گا۔ فرعون نے اس کا حل یہ سوچا کہ اپنی مملکت میں حکم دے دیا کہ بنی اسرائیل کے ہاں جو بچہ پیدا ہو اسے مار ڈالا جائے اور جو لڑکیاں پیدا ہوں انہیں اپنی لونڈیاں بنا لیا جائے۔ اپنی حکومت کو بچانے کے لیے اس کی یہ تدبیر انتہائی ظالمانہ تھی۔ مگر جو کام اللہ کو منظور تھا وہ ہو کے رہا اور فرعون کے سر پر چڑھ کر ہوا۔ موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرعون کے منہ پر جوت مارا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی پرورش بھی اس کے گھر میں ہوئی۔ آیت (وَاللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰٓي اَمْرِهٖ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ 21 ؀) 12 ۔ یوسف :21)

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

یہاں سے بنی اسرائیل پر کیے جانے والے انعامات اور انھیں دی جانے والی فضیلت کی تفصیل شروع ہوتی ہے۔ طبری نے ابن عباس (رض) سے نقل فرمایا ہے کہ فرعون اور اس کے درباریوں نے باہمی مشورہ کیا کہ بنی اسرائیل کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) سے وعدہ کیا تھا کہ ان کی اولاد میں انبیاء اور بادشاہ پیدا فرمائے گا (سو ان کا بندوبست ہونا چاہیے) ، تو انھوں نے مشورہ سے متفقہ فیصلہ یہ کیا کہ ایسے آدمی مقرر کیے جائیں جن کے پاس چھریاں ہوں، وہ بنی اسرائیل میں چکر لگاتے رہیں، جہاں کوئی نو مولود لڑکا ملے اسے ذبح کردیں، انھوں نے ایسا ہی کیا۔ پھر جب دیکھا کہ بنی اسرائیل کے بڑی عمر کے لوگ تو طبعی موت سے مر رہے ہیں اور بچے ذبح ہو رہے ہیں، تو انھوں نے کہا اس طرح تو تم بنی اسرائیل کو فنا کر دو گے، پھر جو خدمت اور مشقت تمہاری جگہ وہ کرتے ہیں وہ تمہیں خود کرنا پڑے گی۔ اس لیے ایک سال ان کے بچے ذبح کرو اور ایک سال انھیں رہنے دو ۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ ہارون (علیہ السلام) کے ساتھ اس سال حاملہ ہوئیں جس میں لڑکے ذبح نہیں کیے جاتے تھے، اس لیے انھوں نے انھیں بلا خوف جنم دیا اور آئندہ سال ہوا تو موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ امید سے ہوئیں۔ ( طبری ) غالب گمان یہ ہے کہ ابن عباس (رض) کا یہ قول اسرائیلی روایات سے ہو، مگر ابن عباس (رض) تک اس کی سند ٹھیک ہے اور ہم اسے سچا کہتے ہیں نہ جھوٹا۔ عام طور پر یہاں فرعون کے خواب کا ذکر کیا جاتا ہے کہ اس نے دیکھا کہ بنی اسرائیل کا ایک شخص اس کی سلطنت ختم کرنے کا باعث ہوگا، اس لیے اس نے لڑکوں کو قتل کرنے کا حکم دیا، مگر اس کی کچھ حقیقت نہیں۔ قرین قیاس یہی ہے کہ فرعون نے بنی اسرائیل کی کثرت تعداد کی صورت میں ان کے غلبے سے خائف ہو کر یہ ظلم اختیار کیا تھا۔ آج کل بھی دنیا بھر کے کفار مسلمانوں کی آبادی بڑھنے سے سخت خائف ہیں اور لالچ اور دھمکی، ہر طریقے سے ان کی آبادی روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ 3 یہ واقعہ عاشورا ( دس محرم) کے دن پیش آیا۔ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینے میں تشریف لائے تو یہود کو دیکھا کہ عاشورا کا روزہ رکھتے ہیں، آپ نے پوچھا : ” یہ کیا ہے ؟ “ انھوں نے کہا، یہ ایک عظیم دن ہے، اس دن اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دی تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کا روزہ رکھا۔ آپ نے فرمایا : ” میں تم سے زیادہ موسیٰ (علیہ السلام) پر حق رکھتا ہوں۔ “ چناچہ آپ نے اس دن کا روزہ رکھا اور اس کے روزے کا حکم دیا۔ [ بخاری، الصوم، باب صوم یوم عاشوراء : ٢٠٠٤ ] پھر رمضان کے روزے فرض ہونے پر عاشورا کا روزہ نفل قرار دے دیا گیا۔ وفات سے پہلے آپ نے فرمایا : ” آئندہ سال میں زندہ رہا تو نو ( محرم) کا روزہ رکھوں گا۔ “ مگر آپ اس سے پہلے فوت ہوگئے۔ [ مسلم، الصیام، باب أی یوم یصام فی عاشوراء : ١١٣٤ ] (يُذَبِّحُوْنَ ) باب تفعیل کی وجہ سے ” بری طرح ذبح کرتے تھے “ ترجمہ کیا گیا ہے۔ بَلَاۗءٌ) امتحان اور آزمائش، خواہ مصیبت کے ساتھ ہو یا انعام کے ساتھ۔ وَفِىْ ذٰلِكُمْ “ میں یہ اشارہ ذبح کی طرف بھی ہوسکتا ہے اور نجات کی طرف بھی۔ ذبح کیا جانا مصیبت تھی اور نجات انعام۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Verse 47 had spoken of the special favours shown to the Israelites by Allah. Now, with Verse 49 begins the account of these favours. Someone had made a prediction to the Pharaoh (فرعون) that a child was going to be born among the Israelites who would destroy his kingship. So, he began slaughtering all the male infants as soon as they were born. But he would spare the females, as there was nothing to fear from them, and, moreover, they could, on growing up, serve as maid-servants. So, even this leniency was motivated by self-interest. What the verse refers to as |"a great trial|" is either the slaughter of the sons - which was a calamity, and it is the quality of patience that is tested in a calamity - or the deliverance from the people of the Pharaoh - which was a blessing, and it is the quality of thankfulness which is tested when one receives a blessing. The next verse gives us the details about this deliverance.

خلاصہ تفسیر : اوپر جن خاص برتاؤں کا حوالہ دیا ہے اب یہاں سے ان کی تفصیل بیان کرنی شروع کی پہلا معاملہ تو یہ ہے کہ اور (وہ زمانہ یاد کرو) جب کہ رہائی دی ہم نے تم (لوگوں کے آباء و اجداد) کو متعلقین فرعون سے جو فکر میں لگے رہتے تھے تمہاری دل آزاری کے گلے کاٹتے تھے تمہاری اولاد (ذکور) کے اور زندہ چھوڑ دیتے تھے تمہاری عورتوں کو (لڑکیوں کو کہ زندہ رہ کر بڑی عورتیں ہوجائیں) اور اس واقعہ میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارا ایک بڑا بھاری امتحان تھا، فائدہ : کسی نے فرعون سے پشینگوئی کردی تھی کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا ایسا پیدا ہوگا جس کے ہاتھوں تیری سلطنت جاتی رہے گی اس لئے اس نے نوزائیدہ لڑکوں کو قتل کرنا شروع کردیا اور چونکہ لڑکیوں سے کوئی اندیشہ نہ تھا اس لئے ان سے کچھ تعرض نہیں کیا دوسرے اس میں اس کا اپنا ایک مطلب بھی تھا کہ ان عورتوں سے ماماگری اور خدمت گاری کا کام لیتا تھا سو یہ عنایت بھی اپنے مطلب کے لئے تھی اور اس واقعہ سے یا تو یہ ذبح و قتل مذکور مراد ہے اور مصیبت میں صبر کا امتحان ہوتا ہے اور یا رہائی دینا مراد ہے جو کہ ایک نعمت ہے اور نعمت میں شکر کا امتحان ہوتا ہے اور اس نجات دینے کی تفصیل آگے بیان فرمائی،

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِذْ نَجَّيْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ يَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْۗءَ الْعَذَابِ يُذَبِّحُوْنَ اَبْنَاۗءَكُمْ وَيَسْتَحْيُوْنَ نِسَاۗءَكُمْ۝ ٠ ۭ وَفِىْ ذٰلِكُمْ بَلَاۗءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِيْمٌ۝ ٤٩ نجو أصل النَّجَاء : الانفصالُ من الشیء، ومنه : نَجَا فلان من فلان وأَنْجَيْتُهُ ونَجَّيْتُهُ. قال تعالی: وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53] ( ن ج و ) اصل میں نجاء کے معنی کسی چیز سے الگ ہونے کے ہیں ۔ اسی سے نجا فلان من فلان کا محاورہ ہے جس کے معنی نجات پانے کے ہیں اور انجیتہ ونجیتہ کے معنی نجات دینے کے چناچہ فرمایا : ۔ وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53] اور جو لوگ ایمان لائے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کو ہم نے نجات دی ۔ فِرْعَوْنُ : اسم أعجميّ ، وقد اعتبر عرامته، فقیل : تَفَرْعَنَ فلان : إذا تعاطی فعل فرعون، كما يقال : أبلس وتبلّس، ومنه قيل للطّغاة : الفَرَاعِنَةُ والأبالسة . فرعون یہ علم عجمی ہے اور اس سے سرکش کے معنی لے کر کہا جاتا ہے تفرعن فلان کہ فلاں فرعون بنا ہوا ہے جس طرح کہ ابلیس سے ابلس وتبلس وغیرہ مشتقات استعمال ہوتے ہیں اور ایس سے سرکشوں کو فراعنۃ ( جمع فرعون کی اور ابا لسۃ ( جمع ابلیس کی ) کہا جاتا ہے ۔ ساء ويقال : سَاءَنِي كذا، وسُؤْتَنِي، وأَسَأْتَ إلى فلان، قال : سِيئَتْ وُجُوهُ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الملک/ 27] ، وقال : لِيَسُوؤُا وُجُوهَكُمْ [ الإسراء/ 7] ، مَنْ يَعْمَلْ سُوءاً يُجْزَ بِهِ [ النساء/ 123] ، أي : قبیحا، وکذا قوله : زُيِّنَ لَهُمْ سُوءُ أَعْمالِهِمْ [ التوبة/ 37] ، عَلَيْهِمْ دائِرَةُ السَّوْءِ [ الفتح/ 6] ، أي : ما يسوء هم في العاقبة، وکذا قوله : وَساءَتْ مَصِيراً [ النساء/ 97] ، وساءَتْ مُسْتَقَرًّا [ الفرقان/ 66] ، وأما قوله تعالی: فَإِذا نَزَلَ بِساحَتِهِمْ فَساءَ صَباحُ الْمُنْذَرِينَ [ الصافات/ 177] ، وساءَ ما يَعْمَلُونَ [ المائدة/ 66] ، ساءَ مَثَلًا[ الأعراف/ 177] ، فساء هاهنا تجري مجری بئس، وقال : وَيَبْسُطُوا إِلَيْكُمْ أَيْدِيَهُمْ وَأَلْسِنَتَهُمْ بِالسُّوءِ [ الممتحنة/ 2] ، وقوله : سِيئَتْ وُجُوهُ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الملک/ 27] ، نسب ذلک إلى الوجه من حيث إنه يبدو في الوجه أثر السّرور والغمّ ، وقال : سِيءَ بِهِمْ وَضاقَ بِهِمْ ذَرْعاً [هود/ 77] : حلّ بهم ما يسوء هم، وقال : سُوءُ الْحِسابِ [ الرعد/ 21] ، وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ [ الرعد/ 25] ، وكنّي عن الْفَرْجِ بِالسَّوْأَةِ «1» . قال : كَيْفَ يُوارِي سَوْأَةَ أَخِيهِ [ المائدة/ 31] ، فَأُوارِيَ سَوْأَةَ أَخِي [ المائدة/ 31] ، يُوارِي سَوْآتِكُمْ [ الأعراف/ 26] ، بَدَتْ لَهُما سَوْآتُهُما [ الأعراف/ 22] ، لِيُبْدِيَ لَهُما ما وُورِيَ عَنْهُما مِنْ سَوْآتِهِما [ الأعراف/ 20] . ساء اور ساءنی کذا وسؤتنی کہاجاتا ہے ۔ اور اسات الی ٰ فلان ( بصلہ الی ٰ ) بولتے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : سِيئَتْ وُجُوهُ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الملک/ 27] تو کافروں کے منہ برے ہوجائیں گے ۔ لِيَسُوؤُا وُجُوهَكُمْ [ الإسراء/ 7] تاکہ تمہارے چہروں کو بگاڑیں ۔ اور آیت :، مَنْ يَعْمَلْ سُوءاً يُجْزَ بِهِ [ النساء/ 123] جو شخص برے عمل کرے گا اسے اسی ( طرح ) کا بدلہ دیا جائیگا ۔ میں سوء سے اعمال قبیحہ مراد ہیں ۔ اسی طرح آیت : زُيِّنَ لَهُمْ سُوءُ أَعْمالِهِمْ [ التوبة/ 37] ان کے برے اعمال ان کو بھلے دکھائی دیتے ہیں ۔ میں بھی یہی معنی مراد ہیں اور آیت : عَلَيْهِمْ دائِرَةُ السَّوْءِ [ الفتح/ 6] انہیں پر بری مصیبت ( واقع ) ہو ۔ میں دائرۃ السوء سے مراد ہر وہ چیز ہوسکتی ہے ۔ جو انجام کا رغم کا موجب ہو اور آیت : وَساءَتْ مَصِيراً [ النساء/ 97] اور وہ بری جگہ ہے ۔ وساءَتْ مُسْتَقَرًّا [ الفرقان/ 66]( دوزخ ) ٹھہرنے کی بری جگہ ہے ۔ میں بھی یہی معنی مراد ہے ۔ اور کبھی ساء بئس کے قائم مقام ہوتا ہے ۔ یعنی معنی ذم کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : فَإِذا نَزَلَ بِساحَتِهِمْ فَساءَ صَباحُ الْمُنْذَرِينَ [ الصافات/ 177] مگر جب وہ ان کے مکان میں اتریگا تو جن کو ڈرسنایا گیا تھا ان کے لئے برادن ہوگا ۔ وساءَ ما يَعْمَلُونَ [ المائدة/ 66] ان کے عمل برے ہیں ۔ ساءَ مَثَلًا[ الأعراف/ 177] مثال بری ہے ۔ اور آیت :۔ سِيئَتْ وُجُوهُ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الملک/ 27] ( تو) کافروں کے منہ برے ہوجائیں گے ۔ میں سیئت کی نسبت وجوہ کی طرف کی گئی ہے کیونکہ حزن و سرور کا اثر ہمیشہ چہرے پر ظاہر ہوتا ہے اور آیت : سِيءَ بِهِمْ وَضاقَ بِهِمْ ذَرْعاً [هود/ 77] تو وہ ( ان کے آنے سے ) غم ناک اور تنگدل ہوئے ۔ یعنی ان مہمانوں کو وہ حالات پیش آئے جن کی وجہ سے اسے صدمہ لاحق ہوا ۔ اور فرمایا : سُوءُ الْحِسابِ [ الرعد/ 21] ایسے لوگوں کا حساب بھی برا ہوگا ۔ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ [ الرعد/ 25] اور ان کیلئے گھر بھی برا ہے ۔ اور کنایہ کے طور پر سوء کا لفظ عورت یا مرد کی شرمگاہ پر بھی بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : كَيْفَ يُوارِي سَوْأَةَ أَخِيهِ [ المائدة/ 31] اپنے بھائی کی لاش کو کیونکہ چھپائے ۔ فَأُوارِيَ سَوْأَةَ أَخِي [ المائدة/ 31] کہ اپنے بھائی کی لاش چھپا دیتا ۔ يُوارِي سَوْآتِكُمْ [ الأعراف/ 26] کہ تمہار ستر ڈھانکے ، بَدَتْ لَهُما سَوْآتُهُما [ الأعراف/ 22] تو ان کے ستر کی چیزیں کھل گئیں ۔ لِيُبْدِيَ لَهُما ما وُورِيَ عَنْهُما مِنْ سَوْآتِهِما[ الأعراف/ 20] تاکہ ان کے ستر کی چیزیں جو ان سے پوشیدہ تھیں ۔ کھول دے ۔ عذب والعَذَابُ : هو الإيجاع الشّديد، وقد عَذَّبَهُ تَعْذِيباً : أكثر حبسه في العَذَابِ. قال : لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] واختلف في أصله، فقال بعضهم : هو من قولهم : عَذَبَ الرّجلُ : إذا ترک المأكل والنّوم فهو عَاذِبٌ وعَذُوبٌ ، فَالتَّعْذِيبُ في الأصل هو حمل الإنسان أن يُعَذَّبَ ، أي : يجوع ويسهر، ( ع ذ ب ) العذاب سخت تکلیف دینا عذبہ تعذیبا اسے عرصہ دراز تک عذاب میں مبتلا رکھا ۔ قرآن میں ہے ۔ لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] میں اسے سخت عذاب دوں گا ۔ لفظ عذاب کی اصل میں اختلاف پا یا جاتا ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ عذب ( ض ) الرجل کے محاورہ سے مشتق ہے یعنی اس نے ( پیاس کی شدت کی وجہ سے ) کھانا اور نیند چھوڑدی اور جو شخص اس طرح کھانا اور سونا چھوڑ دیتا ہے اسے عاذب وعذوب کہا جاتا ہے لہذا تعذیب کے اصل معنی ہیں کسی کو بھوکا اور بیدار رہنے پر اکسانا ذبح أصل الذَّبْح : شقّ حلق الحیوانات . والذِّبْح : المذبوح، قال تعالی: وَفَدَيْناهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ [ الصافات/ 107] ، وقال : إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَذْبَحُوا بَقَرَةً [ البقرة/ 67] ، وذَبَحْتُ الفارة شققتها، تشبيها بذبح الحیوان، وکذلك : ذبح الدّنّ «3» ، وقوله : يُذَبِّحُونَ أَبْناءَكُمْ [ البقرة/ 49] ، علی التّكثير، أي : يذبح بعضهم إثر بعض . وسعد الذّابح اسم نجم، وتسمّى الأخادید من السّيل مذابح . ( ذ ب ح ) الذبح ( ف ) اصل میں اس کے معنی حیوانات کے حلق کو قطع کرنے کے ہیں اور ذبح بمعنی مذبوح آتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَفَدَيْناهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ [ الصافات/ 107] اور ہم نے ایک بڑی قربانی کو ان کا فدیہ دیا إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَذْبَحُوا بَقَرَةً [ البقرة/ 67] کہ خدا تم کو حکم دیتا ہے کہ ایک بیل ذبح کرو ۔ ذبحت الفارۃ ۔ میں نے نافہ مشک کو کو چیرا ۔ یہ حیوان کے ذبح کے ساتھ تشبیہ کے طور پر بولا جاتا ہے ۔ اسی طرح ذبح الدن کا محاورہ ہے جس کے معنی مٹکے میں شگاف کرنے کسے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : ۔ يُذَبِّحُونَ أَبْناءَكُمْ [ البقرة/ 49] تمہارے بیٹوں کو تو قتل کر ڈالتے تھے ۔ میں صیغہ تفعیل برائے تکثیر ہے یعنی وہ کثرت کے ساتھ یکے بعد دیگرے تمہارے لڑکوں کو ذبح کررہے تھے ۔ سعد الدابح ( برج جدی کے ایک ) ستارے کا نام ہے اور سیلاب کے گڑھوں کو مذابح کہا جاتا ہے ۔ ( ابْنُ ) أصله : بنو، لقولهم في الجمع : أَبْنَاء، وفي التصغیر : بُنَيّ ، قال تعالی: يا بُنَيَّ لا تَقْصُصْ رُؤْياكَ عَلى إِخْوَتِكَ [يوسف/ 5] ، يا بُنَيَّ إِنِّي أَرى فِي الْمَنامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ [ الصافات/ 102] ، يا بُنَيَّ لا تُشْرِكْ بِاللَّهِ [ لقمان/ 13] ، يا بنيّ لا تعبد الشیطان، وسماه بذلک لکونه بناء للأب، فإنّ الأب هو الذي بناه وجعله اللہ بناء في إيجاده، ويقال لكلّ ما يحصل من جهة شيء أو من تربیته، أو بتفقده أو كثرة خدمته له أو قيامه بأمره : هو ابنه، نحو : فلان ابن الحرب، وابن السبیل للمسافر، وابن اللیل، وابن العلم، قال الشاعر أولاک بنو خير وشرّ كليهما وفلان ابن بطنه وابن فرجه : إذا کان همّه مصروفا إليهما، وابن يومه : إذا لم يتفكّر في غده . قال تعالی: وَقالَتِ الْيَهُودُ : عُزَيْرٌ ابْنُ اللَّهِ ، وَقالَتِ النَّصاری: الْمَسِيحُ ابْنُ اللَّهِ [ التوبة/ 30] وقال تعالی: إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي [هود/ 45] ، إِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ [يوسف/ 81] ، وجمع ابْن : أَبْنَاء وبَنُون، قال عزّ وجل : وَجَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَزْواجِكُمْ بَنِينَ وَحَفَدَةً [ النحل/ 72] ، وقال عزّ وجلّ : يا بَنِيَّ لا تَدْخُلُوا مِنْ بابٍ واحِدٍ [يوسف/ 67] ، يا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ [ الأعراف/ 31] ، يا بَنِي آدَمَ لا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطانُ [ الأعراف/ 27] ، ويقال في مؤنث ابن : ابْنَة وبِنْت، وقوله تعالی: هؤُلاءِ بَناتِي هُنَّ أَطْهَرُ لَكُمْ [هود/ 78] ، وقوله : لَقَدْ عَلِمْتَ ما لَنا فِي بَناتِكَ مِنْ حَقٍّ [هود/ 79] ، فقد قيل : خاطب بذلک أکابر القوم وعرض عليهم بناته «1» لا أهل قریته كلهم، فإنه محال أن يعرض بنات له قلیلة علی الجمّ الغفیر، وقیل : بل أشار بالبنات إلى نساء أمته، وسماهنّ بنات له لکون کلّ نبيّ بمنزلة الأب لأمته، بل لکونه أكبر وأجل الأبوین لهم كما تقدّم في ذکر الأب، وقوله تعالی: وَيَجْعَلُونَ لِلَّهِ الْبَناتِ [ النحل/ 57] ، هو قولهم عن اللہ : إنّ الملائكة بنات اللہ . الابن ۔ یہ اصل میں بنو ہے کیونکہ اس کی جمع ابناء اور تصغیر بنی آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : يا بُنَيَّ لا تَقْصُصْ رُؤْياكَ عَلى إِخْوَتِكَ [يوسف/ 5] کہ بیٹا اپنے خواب کا ذکر اپنے بھائیوں سے نہ کرنا ۔ يا بُنَيَّ إِنِّي أَرى فِي الْمَنامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ [ الصافات/ 102] کہ بیٹا میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ ( گویا ) تم کو ذبح کررہاہوں ۔ يا بُنَيَّ لا تُشْرِكْ بِاللَّهِ [ لقمان/ 13] کہ بیٹا خدا کے ساتھ شریک نہ کرنا ۔ يا بنيّ لا تعبد الشیطانبیٹا شیطان کی عبادت نہ کرنا ۔ اور بیٹا بھی چونکہ اپنے باپ کی عمارت ہوتا ہے اس لئے اسے ابن کہا جاتا ہے ۔ کیونکہ باپ کو اللہ تعالٰٰ نے اس کا بانی بنایا ہے اور بیٹے کی تکلیف میں باپ بمنزلہ معمار کے ہوتا ہے اور ہر وہ چیز جو دوسرے کے سبب اس کی تربیت دیکھ بھال اور نگرانی سے حاصل ہو اسے اس کا ابن کہا جاتا ہے ۔ نیز جسے کسی چیز سے لگاؤ ہوا است بھی اس کا بن کہا جاتا جسے : فلان ابن حرب ۔ فلان جنگ جو ہے ۔ ابن السبیل مسافر ابن اللیل چور ۔ ابن العلم پروردگار وہ علم ۔ شاعر نے کہا ہے ع ( طویل ) یہ لوگ خیر وزر یعنی ہر حالت میں اچھے ہیں ۔ فلان ابن بطنہ پیٹ پرست فلان ابن فرجہ شہوت پرست ۔ ابن یومہ جو کل کی فکر نہ کرے ۔ قرآن میں ہے : وَقالَتِ الْيَهُودُ : عُزَيْرٌ ابْنُ اللَّهِ ، وَقالَتِ النَّصاری: الْمَسِيحُ ابْنُ اللَّهِ [ التوبة/ 30] اور یہود کہتے ہیں کہ عزیز خدا کے بیٹے ہیں اور عیسائی کہتے میں کہ مسیح خدا کے بیٹے ہیں ۔ إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي [هود/ 45] میرا بیٹا بھی میرے گھر والوں میں ہے ۔ إِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ [يوسف/ 81] کہ اب آپکے صاحبزادے نے ( وہاں جاکر ) چوری کی ۔ ابن کی جمع ابناء اور بنون آتی ہے قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَزْواجِكُمْ بَنِينَ وَحَفَدَةً [ النحل/ 72] اور عورتوں سے تمہارے بیٹے اور پوتے پیدا کئے يا بَنِيَّ لا تَدْخُلُوا مِنْ بابٍ واحِدٍ [يوسف/ 67] کہ بیٹا ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہونا ۔ يا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ [ الأعراف/ 31] ( 3 ) اے نبی آدم ہر نماز کے وقت اپنے تیئں مزین کیا کرو ۔ يا بَنِي آدَمَ لا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطانُ [ الأعراف/ 27] اے نبی آدم ( دیکھنا کہیں ) شیطان تمہیں بہکانہ دے ۔ اور ابن کی موئث ابنۃ وبنت اور ان کی جمع اور ابن کی موئث ابنۃ وبنت اور ان کی جمع بنات آتی ہے قرآن میں ہے : ۔ هؤُلاءِ بَناتِي هُنَّ أَطْهَرُ لَكُمْ [هود/ 78] ( جو ) میری ) قوم کی ) لڑکیاں ہیں تمہارے لئے جائز اور ) پاک ہیں ۔ لَقَدْ عَلِمْتَ ما لَنا فِي بَناتِكَ مِنْ حَقٍّ [هود/ 79] تمہاری ۃ قوم کی ) بیٹیوں کی ہمیں کچھ حاجت نہیں ۔ بعض کہتے ہیں کہ حضرت لوط (علیہ السلام) نے اکابر قوم خطاب کیا تھا اور ان کے سامنے اپنی بیٹیاں پیش کی تھیں ۔ مگر یہ ناممکن سی بات ہے کیونکہ نبی کی شان سے بعید ہے کہ وہ اپنی چند لڑکیاں مجمع کثیر کے سامنے پیش کرے اور بعض نے کہا ہے کہ بنات سے ان کی قوم کی عورتیں مراد ہیں اور ان کو بناتی اس لئے کہا ہے کہ ہر نبی اپنی قوم کے لئے بمنزلہ باپ کے ہوتا ہے بلکہ والدین سے بھی اس کا مرتبہ بڑا ہوتا ہے جیسا کہ اب کی تشریح میں گزر چکا ہے اور آیت کریمہ : وَيَجْعَلُونَ لِلَّهِ الْبَناتِ [ النحل/ 57] اور یہ لوگ خدا کے لئے تو بیٹیاں تجویز کرتے ہیں ۔ کے مونی یہ ہیں کہ وہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتی ہیں ۔ حَياءُ : انقباض النّفس عن القبائح وترکه، لذلک يقال : حيي فهو حيّ واستحیا فهو مستحي، وقیل : استحی فهو مستح، قال اللہ تعالی: إِنَّ اللَّهَ لا يَسْتَحْيِي أَنْ يَضْرِبَ مَثَلًا ما بَعُوضَةً فَما فَوْقَها [ البقرة/ 26] ، وقال عزّ وجلّ : وَاللَّهُ لا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ [ الأحزاب/ 53] ، وروي : «إنّ اللہ تعالیٰ يستحي من ذي الشّيبة المسلم أن يعذّبه» فلیس يراد به انقباض النّفس، إذ هو تعالیٰ منزّه عن الوصف بذلک وإنّما المراد به ترک تعذیبه، وعلی هذا ما روي : «إنّ اللہ حَيِيٌّ» أي : تارک للقبائح فاعل للمحاسن . الحیاۃ کے معنی قبائح سے نفس کے منقبض ہوکر انہیں چھوڑ دینے کے ہیں ۔ کہا جاتا ہے اور بعض نے استحی فھو مستح ( نحیف یاء ) کے ساتھ بھی نقل کیا ہے ۔ قرآن میں ہے إِنَّ اللَّهَ لا يَسْتَحْيِي أَنْ يَضْرِبَ مَثَلًا ما بَعُوضَةً فَما فَوْقَها [ البقرة/ 26] خدا اس بات سے عار نہیں کرتا کہ مچھر یا اس سے بڑھ کر کسی چیز مثلا مکھی مکڑی وغیرہ کی مثال بیان فرمائے وَاللَّهُ لا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ [ الأحزاب/ 53] لیکن خدا سچی بات کے کہنے سے شرم نہیں کرتا ۔ ایک روایت میں ہے ۔ کہ اللہ تعالیٰ بوڑھے مسلمان کو عذاب دینے سے شرماتا ہے ۔ پس اللہ کی طرف جب حیا کی نسبت ہو تو اس کے معنی انقباض نفس کے نہیں ہوتے ۔ کیونکہ اس قسم کے اوصاف سے ذات باری تعالیٰ منزہ ہے بلکہ اس سے مراد اسے عذاب نہ کرنا ہے اور ایک دوسری حدیث میں ہے کہ اللہ حی کہ اللہ حی ہے تو اس کے معنی بھی یہی ہیں کہ اللہ قبائح کو چھوڑ نے والا اور محاسن یعنی افعال حسنہ کو سرا انجام دینے والا ہے ۔ نِّسَاءُ والنِّسْوَان والنِّسْوَة جمعُ المرأةِ من غير لفظها، کالقومِ في جمعِ المَرْءِ ، قال تعالی: لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ إلى قوله : وَلا نِساءٌ مِنْ نِساءٍ [ الحجرات/ 11] ما بال النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ [يوسف/ 50] النساء والنسوان والنسوۃ یہ تینوں امراءۃ کی جمع من غیر لفظہ ہیں ۔ جیسے مرء کی جمع قوم آجاتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ إلى قوله : وَلا نِساءٌ مِنْ نِساءٍ [ الحجرات/ 11] اور نہ عورتیں عورتوں سے تمسخر کریں ما بال النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ [يوسف/ 50] کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کا ٹ لئے تھے ۔ بلی يقال : بَلِيَ الثوب بِلًى وبَلَاءً ، أي : خلق، ومنه قيل لمن سافر : بلو سفر وبلي سفر، أي : أبلاه السفر، وبَلَوْتُهُ : اختبرته كأني أخلقته من کثرة اختباري له، وقرئ : هُنالِكَ تَبْلُوا كُلُّ نَفْسٍ ما أَسْلَفَتْ [يونس/ 30] ، أي : تعرف حقیقة ما عملت، ولذلک قيل : بلوت فلانا : إذا اختبرته، وسمّي الغم بلاءً من حيث إنه يبلي الجسم، قال تعالی: وَفِي ذلِكُمْ بَلاءٌ مِنْ رَبِّكُمْ عَظِيمٌ [ البقرة/ 49] ( ب ل ی ) بلی الونب ۔ بلی وبلاء کے معنی کپڑے کا بوسیدہ اور پرانا ہونے کے ہیں اسی سے بلاہ السفرہ ای ابلاہ ۔ کا تج اور ہ ہے ۔ یعنی سفر نے لا غر کردیا ہے اور بلو تہ کے معنی ہیں میں نے اسے آزمایا ۔ گویا کثرت آزمائش سے میں نے اسے کہنہ کردیا اور آیت کریمہ : هُنالِكَ تَبْلُوا كُلُّ نَفْسٍ ما أَسْلَفَتْ «3» [يونس/ 30] وہاں ہر شخص ( اپنے اعمال کی ) جو اس نے آگے بھیجے ہوں گے آزمائش کرلے گا ۔ میں ایک قرآت نبلوا ( بصیغہ جمع متکلم ) بھی ہے اور معنی یہ ہیں کہ وہاں ہم ہر نفس کے اعمال کی حقیقت کو پہنچان لیں گے اور اسی سے ابلیت فلان کے معنی کسی کا امتحان کرنا بھی آتے ہیں ۔ اور غم کو بلاء کہا جاتا ہے کیونکہ وہ جسم کو کھلا کر لاغر کردیتا ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ وَفِي ذلِكُمْ بَلاءٌ مِنْ رَبِّكُمْ عَظِيمٌ [ البقرة/ 49] اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی دسخت آزمائش تھی ۔ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ عظیم وعَظُمَ الشیء أصله : كبر عظمه، ثم استعیر لكلّ كبير، فأجري مجراه محسوسا کان أو معقولا، عينا کان أو معنی. قال : عَذابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ [ الزمر/ 13] ، قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ [ ص/ 67] ، ( ع ظ م ) العظم عظم الشئی کے اصل معنی کسی چیز کی ہڈی کے بڑا ہونے کے ہیں مجازا ہر چیز کے بڑا ہونے پر بولا جاتا ہے خواہ اس کا تعلق حس سے یو یا عقل سے اور عام اس سے کہ وہ مادی چیز ہو یا مونس ی قرآن میں ہے : ۔ عَذابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ [ الزمر/ 13] بڑے سخت دن کا عذاب ) تھا ۔ قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ [ ص/ 67] کہہ دو کہ وہ ایک سخت حادثہ ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤٩) اور جس وقت ہم نے تمہیں فرعون اور اس کی قوم سے نجات دی، جو تمہیں سخت قسم کا عذاب دیا کرتے تھے، اللہ تعالیٰ ان کے عذاب کی کیفیت کو بیان فرماتے ہیں کہ تمہاری چھوٹی اولاد کو وہ ذبح کر ڈالتے تھے اور بڑی عورتوں کو خادم بنالیتے تھے اور یہ تمہارے اللہ کی جانب سے بہت بڑی آزمائش تھی، یہ بھی تفسیر ہے کہ پھر فرعون سے نجات دلانے میں یہ اللہ تعالیٰ کی بہت ہی بڑی نعمت تھی، اب نجات دے کر جو ان لوگوں پر احسان کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو غرق کیا ہے اللہ تعالیٰ اس کا ذکر کرتے ہیں

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٩ (وَاِذْ نَجَّیْنٰکُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ ) (یَسُوْمُوْنَکُمْ سُوْءَ الْعَذَابِ ) ” “ (یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَ ‘ کُمْ وَیَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَ کُمْ ط) فرعون نے حکم دیا تھا کہ بنی اسرائیل میں جو بھی لڑکا پیدا ہو اس کو قتل کردیا جائے اور لڑکیوں کو زندہ رہنے دیا جائے تاکہ ان سے خدمت لی جاسکے اور انہیں لونڈیاں بنایا جاسکے۔ بنی اسرائیل کے ساتھ یہ معاملہ دو مواقع پر ہوا ہے۔ اس کی تفصیل ان شاء اللہ بعد میں آئے گی۔ (وَفِیْ ذٰلِکُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ عَظِیْمٌ ) “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

64. From here on, through the several sections that follow, reference is made to the best 65. We have rendered 'Al Fir'awn' as 'Pharaoh's people'. This includes the members of the Pharaonic family as well as the aristocracy of Egypt. 66. The test was whether they would emerge from the crucible of persecution as pure gold, or as mere dross. The test also lay, in whether or not, after their miraculous deliverance from so great a calamity, they would become grateful servants of God.

سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :64 یہاں سے بعد کے کئی رکوعوں تک مسلسل جن واقعات کی طرف اشارے کیے گئے ہیں ، وہ سب بنی اسرائیل کی تاریخ کے مشہور ترین واقعات ہیں ، جنہیں اس قوم کا بچّہ بچّہ جانتا تھا ۔ اسی لیے تفصیل بیان کرنے کے بجائے ایک ایک واقعہ کی طرف مختصر اشارہ کیا گیا ہے ۔ اس تاریخی بیان میں دراصل یہ دکھانا مقصُود ہے کہ ایک طرف یہ اور یہ احسانات ہیں جو خدا نے تم پر کیے ، اور دُوسری طرف یہ اور یہ کرتُوت ہیں جو ان احسانات کے جواب میں تم کرتے رہے ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :65 ”اٰلِ فِرْعَون“ کا ترجمہ ہم نے اس لفظ سے کیا ہے ۔ اس میں خاندانِ فراعنہ اور مصر کا حکمراں طبقہ دونوں شامل ہیں ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :66 آزمائش اس امر کی کہ اس بھٹّی سے تم خالص سونا بن کر نکلتے ہو یا نِری کھوٹ بن کر رہ جاتے ہو ۔ اَور آزمائش اس امر کی کہ اتنی بڑی مصیبت سے اس معجزانہ طریقہ پر نجات پانے کے بعد بھی تم اللہ کے شکر گزار بندے بنتے ہو یا نہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

40 : فرعون مصر کا بادشاہ تھا جہاں بنی اسرائیل بڑی تعداد میں آباد تھے، اور فرعون کی غلامی میں دن گزار رہے تھے، فرعون کے سامنے کسی نجومی نے یہ پیشینگوئی کردی کہ اس سال بنی اسرائیل میں ایک شخص پیدا ہوگا جو اس کی بادشاہی کا خاتمہ کردے گا، یہ سن کر اس نے یہ حکم دے دیا کے اسرائیلیوں میں جو کوئی بچہ پیدا ہو اسے قتل کردیاجائے، البتہ لڑکیوں کو زندہ رکھا جائے تاکہ ان سے خدمت لی جاسکے، اس طرح بہت سے نو زائیدہ بچے قتل کئے گئے، اگرچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اسی سال پیدا ہوئے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو محفوظ رکھا، اس کا مفصل واقعہ سورۃ طہ اور سورۃ القصص میں خود قرآن کریم میں ذکر فرمایا ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

یہ پورا قصہ تو سورة طہ سورة شعرا اور قصص میں آوے گا۔ ان آیتوں کا مطلب سمجھنے کے قابل اس قصہ کا حاصل یہ ہے کہ فرعون نے ایک خواب دیکھا تھا کہ بیت المقدس سے ایک آگ نکلی ہے جس سے سوا بنی اسرائیل کے محل کے اور مصر کے سب گھر جل گئے ہیں۔ اس نے نجومیوں سے اپنے اس خواب کی تعبیر پوچھی انہوں نے یہ تعبیر بتلائی کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہونے والا ہے اس کے سبب سے فرعون کی سلطنت کو زوال ہوجاوے گا۔ فرعون نے اس تعبیر سے بچنے کے لئے یہ تدبیر کی کہ اس تاریخ سے بنی اسرائیل میں جس قدر لڑکے پیدا ہوں ان کے مار ڈالنے کا اور جس قدر لڑکیاں پیدا ہوں ان کو چھوڑ دینے کا حکم دیا مگر تقدیر الٰہی کے آگے آدمی کی کیا تدبیر چل سکتی ہے۔ آخر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور خود فرعون کے گھر میں انہوں نے پرورش پائی اور حضرت موسیٰ کے نبی ہونے کے بعد فرعون کی ظلم و زیادتی سے بچنے کے لئے جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو یہ حکم دیا کہ بنی اسرائیل کو مصر سے ان کے اصلی وطن شام کو لے کر جاؤ تو حضرت موسیٰ نے اللہ تعالیٰ کے اس کے حکم موافق ایک رات بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر مصر سے کوچ کردیا اور فرعون نے اس خبر کو سنتے ہی کئی لاکھ آدمیوں کا لشکر لے کر ان کا پیچھا کیا اور دریائے قلزم پر بنی اسرائیل سے آملا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا کہ اپنا عصا دریا کے پانی پر مارو۔ اس کے موافق حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) ٰ نے عمل کیا اور اس سے دریا میں خشک راستہ پیدا ہوگیا۔ اس راستہ سے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) ٰ تو مع بنی اسرائیل کے دریا پار ہوگئے۔ فرعون نے اس راستہ سے جب دریا پار ہونے کا قصد کیا تو اس کے کے بیچ دریا میں پہنچ جانے کے بعد دریا کا پل ٹوٹ گیا اور فرعون اپنے لشکر سمیت ڈوب کر ہلاک ہوگیا اور فرعون کے ہاتھ سے بنی اسرائیل کو نجات ہوگئی۔ غرض آنحضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ کے یہود کو ان آیتوں میں پچھلا قصہ اس لئے یاد دلایا گیا ہے کہ اگر یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل بجا لاویں اور رسول وقت کی مخالفت چھوڑ کر ان کی اطاعت پر قائم ہوجاویں تو اطاعت رسول وقت کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے جس طرح ہر وقت ان کے بزرگوں کی مدد کی ہے اسی طرح ان کی مدد کی جاوے گی۔ اور اگر اسی مخالفت رسول اور نافرمانی الٰہی پر یہ لوگ اڑے رہے تو ایک دن فرعون اور فرعونیوں کا سانتیجہ ان کی آنکھوں کے سامنے آجاوے گا۔ حضرت یعقوب کا اصلی وطن شام ہے۔ حضرت یوسف ( علیہ السلام) جب مصر میں تھے اس وقت یعقوب ( علیہ السلام) کے کنبے میں سے اور لوگ بھی مصر میں جا کر رہے۔ حضرت یوسف ( علیہ السلام) کی وفات کے بعد فرعون کی عمل داری میں یہ لوگ عام رعیت کی طرح مصر میں رہتے تھے۔ اور جب فرعون سے وہ خواب دیکھا تھا اس وقت سے جنجھلا کر بنی اسرائیل پر طرح طرح کی سختیاں شرع کردی تھیں۔ اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا تھا کہ تم بنی اسرائیل کو ان کے اصلی وطن شام کو پہنچاؤ۔ قرآن شریف میں پچھلے قصے جس طرح کسی حالت کے مطلب کے ثابت کرنے کے لئے ذکر کئے جاتے ہیں اسی طرح یہ ہر ایک قصہ نبی آخر الزمان کی نبوت کے ثبوت میں ذکر کیا جاتا ہے۔ کیونکہ باوجود امی ہونے کے یہ آپ کو یہ پچھلی کتابوں کے قصے بغیر غیبی مدد کے نہیں آسکتے تھے۔ مسند احمد ‘ بخاری ‘ مسلم ‘ نسائی و ابن ماجہ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ میں آئے تو معلوم ہوا کہ مدینے کے گردونواح میں جو یہود لوگ رہتے ہیں وہ عاشورے کے دن کا روزہ رکھا کرتے تھے۔ آپ نے اس روزہ کا سبب دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ آج ہی کے دن فرعون ڈوب کر ہلاک ہوا۔ اور اس کے ہاتھ سے بنی اسرائیل کو اس دن سے نجات ہوئی اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کے شکریہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے آج کے روز روزہ ررکھا تھا اس لئے یہ لوگ بھی اس دن کا روزہ رکھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا ان لوگوں سے مجھ کو حضرت موسیٰ کے شریک حال ہونے کا زیادہ حق ہے۔ یہ فرما کر خود آپ نے بھی عاشورے کے دن کا روزہ رکھا اور صحابہ کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(2:49) واذا۔ واؤعاطفہ ہے۔ اذ بمعنی جب۔ جبکہ جس وقت، چونکہ، اسم ظرف ہے (اذ کبھی مفاجات یعنی کسی بات کے اچانک واقع ہونے کے لئے بھی آتا ہے) اس سے قبل عبارت مقدر ہے تقدیر یوں ہے۔ واذکر اذ۔۔ اور یاد ر کیجئے (یا ان سے ذکر کیجئے جب ۔۔ قرآن مجید میں جہاں بھی واذ آیا ہے وہاں لفظ اذکر محذوف ہے۔ یہاں یہ جملہ اذکروا نعمتی (2:47) کا معطوف ہے اور اسی طرح واذفرقنا (2:50) واذوعدنا (2:51) واذ اتینا موسیٰ (2:53) واذ قال موسیٰ (2:54) واذ قلتم (3:55) وغیرہ کا عطف اذکروا نعمتی پر ہے۔ نجینکم ۔ نجینا ماضی جمع متکلم ۔ تنجیۃ (تفعیل) مصدر کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ ہم نے تم کو بچایا۔ ہم نے تم کو نجات دی۔ یسومونکم، مضارع جمع مذکر غائب۔ کم ضمیر جمع مذکر حاضر، مفعول سوم۔ باب نصر مصدر۔ وہ تم کو تکلیف دیتے تھے وہ تم کو مجبور کرتے تھے۔ (نیز ملاحظہ ہو 14:6) سوء العذاب۔ مضاف مضاف الیہ مل کر یسومون کا مفعول ثانی۔ سوء برائی، برا کام سوء العذاب۔ عذاب کی سختی، یعنی سخت عذاب۔ جملہ یسومونکم سوء العذاب۔ حال ہے ال فرعون سے یا ضمیر نجینکم یا دونوں سے۔ دونوں جملے یسومونکم سے حال ہیں۔ ذلک۔ یہ۔ یہی۔ ذا اسم اشارہ بعید ہے اور کم ضمیر جمع خطاب کے لئے ہے۔ اس کا اشارہ التذبیح اور الاستحیاء (بیٹوں کا ذبح کرنا اور عورتوں کو زندہ رکھنا) کی طرف سے۔ یذبحون ابناء کم۔ جملہ معطوف علیہ ہے۔ اور جملہ ویستحیون نساء کم معطوف۔ بلاء من ربکم عظیم۔ بلاء موصوف، عظیم صفت من جار۔ ربکم مضاف مضاف الیہ مل کر مجرور، جار مجرور مل کر متعلق موصوف۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 ۔ فرعون اس زمانہ میں مصر کے بادشاہ کا لقب ہوتا تھا موسیٰ علی السلام کے زمانے میں جو فرعون مصر تھا اس کے نام میں اختلاف ہے تفا سیر میں عموم ولید مصعب مذکور ہے اور آل فر عون سے اس کے اتباع اور ہم مذہب لوگ مراد ہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدا ئش سے قبل فرعون نے ایک خواب دیکھا کہ بیت المقدس سے ایک آگ نکلی ہے جس نے مصر کا احاطہ کرلیا ہے اور تمام قبطی اس لئے لپیٹ میں آگئے ہیں صرف بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہوگا جو تیری سلطنت اور تیرے دین کو تباہ کر دے گا اس پر فرعون نے حکم دیا کہ بنی اسرائیل کے ہاں جو لڑکا پیدا ہو اسے مار ڈالا جائے اور جو لڑکی پیدا ہو اسے زندہ رہنے دیا جائے چناچہ منصوبے کے تحت ہزار ہا بچے موت کے گھاٹ اتاردیے گئے مگر اللہ تعالیٰ کے ارادہ کو کون روک سکتا تھا۔ اسی ہنگامئہ کشت و خون میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے۔ فرعون کے گھر میں ان کی نشو منا کرائی اور انہی کے ہاتھوں آخرت کار فرعون اور اس کی حکومت تباہ ہوگئی یہاں پر بلاء سے مراد انعام و احسان ہے یا مصیبت وآزمائش۔ (ابن کثیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ کسی نے فرعون سے پیش گوئی کردی تھی کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا ایسا پیدا ہوگا جس کے ہاتھوں تیرے سلطنت جاتی رہے گی اس نے اس لیے نوزائیدہ لڑکوں کو قتل کرنا شروع کردیا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : بنی اسرائیل سے خطاب جاری ہے اس میں دو احسانات کا تذکرہ فرما کر نصیحت کی گئی ہے۔ اہل تاریخ بنی اسرائیل پر فرعون کے بد ترین مظالم کی دو وجوہات تحریر کرتے ہیں۔ ایک جماعت کا نقطۂ نگاہ یہ ہے کہ اس وقت کے نجومیوں نے فرعون کو اس بات کی خبر دی کہ بنی اسرائیل میں ایک ایسا بچہ پیدا ہونے والا ہے جو بڑا ہو کر تیرے اقتدار کو چیلنج کرے گا۔ دوسرے لوگوں کا خیال ہے کہ بنی اسرائیل کی بڑھتی ہوئی افرادی قوت کے خوف سے فرعون نے ان کے بچوں کو قتل کرنے اور عورتوں کو باقی رکھنے کا حکم جاری کیا تھا۔ یاد رہے بنی اسرائیل کے جوانوں کا قتل عام اور ان کی بیٹیوں کو باقی رکھنے کا معاملہ دو ادوار میں ہوا ایک مرتبہ موسیٰ ( علیہ السلام) کی پیدائش کے وقت اور دوسری مرتبہ موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کے بعد۔ (المؤمن : ٢٣) یہاں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اپنی نعمتوں کا احساس ‘ آخرت کا خوف اور ان کے ماضی کے الم ناک دور کا حوالہ دیتے ہوئے سمجھایا ہے کہ آج تم کمزور اور بےخانماں مسلمانوں پر ظلم کررہے ہو تمہیں وہ وقت بھی یاد رکھنا چاہیے جب فرعون تمہارے جوانوں اور نونہالوں کو سر عام ذبح کرتا تھا اور تمہاری ماؤں اور بہو ‘ بیٹیوں کو باقی رہنے دیتا تھا۔ قرآن مجید نے اسے بلائے عظیم قرار دے کر ان تمام مضمرات کی طرف اشارہ کیا ہے جو مظلوم اور غلام قوم کو پیش آیا کرتے ہیں اور ظالم مظلوم کی بہو بیٹیوں کے ساتھ وہ سلوک کیا کرتے ہیں جس کے تصور سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اے بنی اسرائیل ! پھر اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان عظیم کرتے ہوئے ان مظالم سے تمہیں نجات دلائی اور تمہاری آنکھوں کے سامنے تمہارے بد ترین دشمن کو ذلت کی موت دیتے ہوئے اسے ہمیشہ کے لیے نشان عبرت بنا دیا۔ اس سے دنیا میں تمہاری عظمت و سچائی اور بزرگی کی دھوم مچ گئی کہ بنی اسرئیل کے لیے دریا رک گیا اور ان کی آنکھوں کے سامنے دنیا کا بد ترین مغروروسفّاک، خدائی اور مشکل کشائی کا دعوی کرنے والاڈبکیاں لیتے ہوئے دہائی دیتا رہا کہ لوگو ! میں موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کے رب پر ایمان لاتا ہوں لیکن آواز آئی کہ تیرا ایمان ہرگز قبول نہیں ہوگا اب تجھے آئندہ نسلوں کے لیے نشان عبرت بنا دیا جائے گا۔[ یونس : ٩١] قیامت کے دن مظلوم بچیاں اس طرح سوال کریں گی : (وَإِذَا الْمَوْءٗ دَۃُ سُءِلَتْ ۔ بِأَيِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ ۔ ) (التکویر : ٨، ٩) ” اور زندہ در گورلڑ کی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس جرم میں ماری گئی تھی ؟۔ “ یہاں انتباہ کیا گیا ہے کہ جو بچوں کو قتل کرتے ہیں قیامت کے دن وہ بچہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں فریاد کرے گا کہ مولائے کریم ! آج اس ظالم سے پوچھا جائے کہ مجھے کس جرم کی پاداش میں قتل کیا گیا تھا بیشک قاتل والدین ہی کیوں نہ ہوں۔ ظلم کے بارے میں رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے : (اَلظُّلْمُ ظُلُمَاتٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ) (رواہ البخاری : کتاب المظالم والغصب، باب الظلم ...) ” ظلم قیامت کے دن اندھیرے ہوں گے۔ “ مسائل ١۔ فرعون بنی اسرائیل پر ظلم کرتا تھا۔ ٢۔ فرعون بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل اور لڑکیوں کو زندہ رکھتا تھا۔ ٣۔ ظلم مظلوم پر بھاری آزمائش ہوتی ہے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ نے فرعون کو ڈبویا اور بنی اسرائیل کو بچایا لیا۔ تفسیر بالقرآن فرعون کے مظالم : ١۔ فرعون نے اپنی قوم میں طبقاتی کشمکش پیدا کی۔ (القصص : ٤) ٢۔ بنی اسرائیل قتل و غارت کے عذاب میں دو مرتبہ مبتلا کئے گئے۔ (الاعراف : ١٢٧ تا ١٢٩) ٣۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اقتدار بخشا تاکہ فرعون کو اپنی قدرت دکھلائے۔ (القصص : ٥، ٦) ٤۔ فرعون نے ظلم کرنے کے لیے میخیں تیار کی ہوئی تھیں۔ (الفجر : ١٠) ٥۔ فرعون نے اپنی بیوی پر اس لیے ظلم کیا کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئی تھی۔ (التحریم : ١١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہاں اس کربناک صورتحال کو ان کے پردہ ذہن پر دوبارہ اجاگر کیا جارہا ہے ، جس میں ان کے آباء و اجداد فرعون کے زمانے میں مبتلا تھے ۔ کیونکہ یہ لوگ ان بنی اسرائیل کی اولاد تھے جو اس عذاب میں مبتلا ہوئے ۔ تعذیب اور مظالم کی تصویر کشی کے بعد ، اللہ تعالیٰ ان کے سامنے وہ منظر بھی پیش فرماتے ہیں ، جس سے انہیں نجات دی گئی ۔ انہیں کہا جاتا ہے ذرا اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے تمہیں فرعونیوں سے نجات دی ، جو تمہیں مسلسل عذاب میں مبتلا کئے ہوئے تھے ۔ يَسُومُونَ کے معنی ہیں ” ہمیشہ تمہیں عذاب میں رکھتے تھے۔ “ یہ لفاظ سام الماشیتہ ” اس نے مویشیوں کو ہمیشہ چرنے والا (سائمہ) بنایا۔ “ گویا فرعونیوں نے ان مظالم کو بنی اسرائیل کے لئے ایک قسم کی غذا بنادیا تھا ، جو انہیں مسلسل کھلائی جاتی تھی ۔ اس کے بعد اس عذاب کی ایک خاص قسم کا ذکر کیا جارہا ہے یعنی وہ مردوں کو ذبح کرتے تھے ۔ اور عورتوں کو زندہ رکھتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کی قوت کم ہو۔ اس سے پہلے کہ بنی اسرائیل کی نجات کے واقعے کی تفصیلات پیش ہوں انہیں یہ بتایا جاتا ہے کہ مصیبت بنی اسرائیل کے لئے ابتلا عظیم تھی ۔ تاکہ ان کے احساس و شعور بلکہ ہر مسلمان کے احساس و شعور میں جو کسی مصیبت میں مبتلا ہو ، یہ بات بیٹھ جائے کہ اللہ کے بندوں پر مصائب کا آنا دراصل ان کے لئے ابتلا وامتحان ہوتا ہے ۔ انہیں آزمائشوں اور فتنوں میں مبتلا کیا جاتا ہے ۔ جو شخص ابتلا کی اس حقیقت کو سمجھتا ہے وہ سختی اور مصیبت سے فائدہ حاصل کرتا ہے ، وہ اپنے اس شعور کی وجہ سے مصائب وشدائد سے کچھ حاصل ہی کرلیتا ہے ۔ رنج والم میں مبتلا شخص اگر یہ جانتا ہے کہ اس کا امتحان لیا جارہا ہے اور اس کے بعد اس سختی سے ، اسے کوئی فائدہ ہی پہنچنے والا ہے تو یہ رنج والم اس کے لئے بےفائدہ نہیں ہوتے ۔ جب آدمی اس تصور کے ساتھ مصیبت کی زندگی گزار رہا ہو تو اس کی مشکلیں آسان ہوجاتی ہیں ۔ بالخصوص جبکہ ان دردناک تجربات کے دوران حاصل ہونے والے ثبات اور علم ومعرفت کو پیش نظر رکھا جارہا ہو۔ نیز جبکہ یہ احساس بھی ہو کہ اللہ کے ہاں اس مصیبت کا اجر محفوظ ہے اور اللہ کے سامنے سلسلہ عجز ونیاز بھی جاری ہو اور اس کی جانب سے نجات کی پوری امید بھی ہو اور اس کی رحمت و شفقت سے کسی قسم کی مایوسی نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ مصیبت بنی اسرائیل کے ذکر کے ساتھ ہی یہ فرمادیا وَفِي ذَلِكُمْ بَلاءٌ مِنْ رَبِّكُمْ عَظِيمٌ ” اور اس حالت میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی۔ “ اس کے بعد بنی اسرائیل کے قصہ نجات کی تمہید شروع ہوتی ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

مصر میں بنی اسرائیل کی مظلومیت اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر اپنے ایک بہت بڑے انعام کا تذکرہ فرمایا ہے۔ پہلے گزر چکا ہے کہ بنی اسرائیل کے تمام قبیلے مصر میں رہتے تھے۔ غیر ملکی ہونے کی وجہ سے مصر کے لوگ (فرعون اور فرعون کی قوم) ان پر بری طرح مسلط تھے، ان کی زندگی غلاموں سے بھی بدتر تھی، ان سے بڑی بڑی بیگاریں لیتے تھے اور ایسی بدترین غلامی میں بنی اسرائیل مبتلا تھے کہ مصری لوگ ان کے بیٹوں کو ذبح کردیتے تھے تو یہ ذرا چوں بھی نہیں کرسکتے تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں پیدا فرمایا، پھر ان کو اور ان کے بھائی ہارون ( علیہ السلام) کو نبوت عطا فرمائی، فرعون سے ان کا مقابلہ اور مناظرہ ہوا، فرعون نے مقابلہ کے لیے جادو گر بلائے معجزہ کے سامنے وہ لوگ نہ ٹھہر سکے اور اپنی ہار مان کر انہوں نے اسلام قبول کرلیا۔ اس کی وجہ سے بنی اسرائیل پر فرعون اور اس کی قوم کی اور زیادہ سختیاں بڑھ گئیں۔ اللہ جل شانہٗ کا موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ تم بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے نکل کھڑے ہو اور راتوں رات روانہ ہوجاؤ۔ چناچہ یہ لوگ ملک مصر سے نکل اور فرعون اور اس کے لشکروں سے نجات پائی۔ اہل تاریخ نے لکھا ہے کہ یہ لوگ مصر میں چار سو سال سے رہ رہے تھے۔ عرصہ دراز کی بد ترین غلامی سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نجات دی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے۔ آیت کے آخیر میں جو بَلَاءٌ ہے اس کے دو معنی مفسرین نے لکھے ہیں۔ عربی زبان میں آزمائش اور امتحان کو بھی بلاء کہتے ہیں۔ اگر یہ معنی لیے جائیں تو ترجمہ اور مطلب یہ ہوگا کہ تم ایسی سخت تکلیفوں میں مبتلا تھے اس میں تم بڑے امتحان میں تھے، اور بَلَاءٌ کا دوسرا معنی انعام کا ہے اگر یہ معنی لیے جائیں تو ترجمہ اور مطلب یہ ہوگا کہ ایسی تکلیفوں سے اور غلامی سے نجات دینے میں تم پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہے۔ فرعون اور اس کا لشکر بنی اسرائیل کے لڑکوں کو کیوں ذبح کرتے تھے اس کے بارے میں مفسرین نے لکھا ہے کہ فرعون نے خواب میں دیکھا تھا یا اسے کاہنوں نے بتایا تھا کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہوگا جو تیرے ملک کو ختم کرنے کا ذریعہ بنے گا۔ اللہ جل شانہٗ کی قضا و قدر غالب آئی، ان کی تدبیریوں ہی دھری رہ گئی، خدا جانے کتنے لڑکوں کو قتل کردیا۔ اسی زمانہء قتل میں موسیٰ (علیہ السلام) پیدا بھی ہوئے، پلے بڑھے جوان ہوئے اور فرعون ہی کے محل میں پرورش پائی پھر اس کی اور اس کی حکومت کی تباہی کا ذریعہ بنے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

107 ۔ یہ پہلا انعام ہے۔ آل فرعون سے مراد یہاں قوم فرعون ہے جو کفر وشرک کے مسلک میں اس کہ ہمنوا تھی۔ اما اٰل فرعون فلا شک ان المراد منہ ھھنا من کان من قوم فرعون وھم الذین عزموا علی اھلاک یبنی اسرائیل (کبیر ص 515 ج 1) اٰل فرعون قومہ واتباعہ واھل دینہ (قرطبی ص 381 ج 1) قوم فرعون سے نجات دینے کا مطلب یہ ہے کہ ان کی طرف سے جو مظالم ان پر توڑے جاتے تھے اور جو تکلیفیں اور ایذائیں انہیں دی جاتی تھیں ان سے ان کو بچا لیا۔ یَسُوْمُوْنَکُمْ سُوْءَ الْعَذَابِ ۔ فرعون کی قوم چونکہ حکمران تھی اور بنی اسرائیل محکوم تھے اس لیے قوم فرعون ان کو بیاب ر میں پکڑ لیتے اور ان سے سخت محنت اور مشقت کراتے۔ اس طرح انہیں جسمانی عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا۔ 108 ۔ یہ ذہنی اور روحانی کوفت تھی جو انہیں فرعونیوں کی طرف سے اٹھانی پڑ رہی تھی۔ بنی اسرائیل کے بیٹوں کے قتل کی وجہ یہ تھی کہ فرعون نے سن رکھا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے وعدہ کیا ہوا تھا کہ ان کی اولاد میں ہمیشہ انبیاء و سلاطین پیدا ہوتے رہیں گے (یہاں تک کہ خاتم النبیین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ظہور ہوجائے) ۔ اس سے فرعون نے اپنی سلطنت کے لیے خطرہ محسوس کیا۔ اور بنی اسرائیل میں پیدا ہونے والے لڑکوں کا قتل عام شروع کردیا۔ عن ابن عباس (رض) انہ وقع الی فرعون وطبقتہ ما کان اللہ وعد ابراہیم ان یجعل فی ذریتہ انبیاء وملوکا فخافوا علی ذلک واتفقت کلمتھم علی اعداد رجال معھم الشفاء یطوفون فی بنی اسرائیل فلا یجدون مولودا ذکراً الا ذبحوہ (کبیر ص 517 ج 1) ۔ 109 ۔ لفظ " بلاء " نعمت اور مصیبت دونوں معنوں میں مستعمل ہے۔ فیقال للنعمۃ الشدیدۃ بلاء (کبیر ص 517 وغیرہ) یہاں اگر ذلک کا ارشارہ فرعونیوں کے افعال کی طرف ہو تو بلاء کے معنی ابتلاء اور مصیبت کے ہوں گے۔ اور اگر اشارہ نجات دینے کی طرف ہو تو اس کے معنی نعمت کے ہونگے اور یہی زیادہ موزوں ہے۔ البلاء ھھنا ھو المحنۃ ان اشیر بلفظ ذلکم الی صنع فرعون والنعمۃ ان اشیر بہ الی الانجاء وحملہ علی النعمۃ اولی لانہاھی التی صدرت من الرب تعالیٰ ولان موضع الحجۃ علی الیھود انعام اللہ تعالیٰ علی اسلافھم (کبیر ص 518 ج 1، کذا فی الروح ص 254 ج 1 والقرطبی ص 387 ج 1 والبیضاوی ص 24)

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi