Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 54

سورة البقرة

وَ اِذۡ قَالَ مُوۡسٰی لِقَوۡمِہٖ یٰقَوۡمِ اِنَّکُمۡ ظَلَمۡتُمۡ اَنۡفُسَکُمۡ بِاتِّخَاذِکُمُ الۡعِجۡلَ فَتُوۡبُوۡۤا اِلٰی بَارِئِکُمۡ فَاقۡتُلُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ عِنۡدَ بَارِئِکُمۡ ؕ فَتَابَ عَلَیۡکُمۡ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیۡمُ ﴿۵۴﴾

And [recall] when Moses said to his people, "O my people, indeed you have wronged yourselves by your taking of the calf [for worship]. So repent to your Creator and kill yourselves. That is best for [all of] you in the sight of your Creator." Then He accepted your repentance; indeed, He is the Accepting of repentance, the Merciful.

جب ( حضرت ) موسیٰ ( علیہ السلام ) نے اپنی قوم !سے کہا کہ اے میری قوم بچھڑے کو معبود بنا کر تم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے ۔ اب تم اپنے پیدا کرنے والے کی طرف رجوع کرو ، اپنے کو آپس میں قتل کرو ، تمہاری بہتری اللہ تعالٰی کے نزدیک اسی میں ہے ، تو اس نے تمہاری توبہ قبول کی ، وہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم و کرم کرنے والا ہے ۔

Word by Word by

Dr Farhat Hashmi

وَاِذۡ
اور جب
قَالَ
کہا
مُوۡسٰی
موسیٰ نے
لِقَوۡمِہٖ
اپنی قوم سے
یٰقَوۡمِ
اے میری قوم
اِنَّکُمۡ
بےشک تم
ظَلَمۡتُمۡ
ظلم کیا تم نے
اَنۡفُسَکُمۡ
اپنے نفسوں پر
بِاتِّخَاذِکُمُ
بوجہ بنانے کے تمہارے
الۡعِجۡلَ
بچھڑے کو (معبود)
فَتُوۡبُوۡۤا
پس توبہ کرو
اِلٰی
طرف
بَارِئِکُمۡ
اپنے پیدا کرنے والے کے
فَاقۡتُلُوۡۤا
تو قتل کرو
اَنۡفُسَکُمۡ
اپنے نفسوں کو
ذٰلِکُمۡ
یہ
خَیۡرٌ
بہتر ہے
لَّکُمۡ
تمہارے لئے
عِنۡدَ
نزدیک
بَارِئِکُمۡ
تمہارے پیدا کرنے والے کے
فَتَابَ
پھر وہ مہربان ہوا
عَلَیۡکُمۡ
تم پر
اِنَّہٗ
بےشک وہ
ہُوَ
وہی ہے
التَّوَّابُ
بہت توبہ قبول کرنے والا
الرَّحِیۡمُ
نہایت رحم کرنے والا
Word by Word by

Nighat Hashmi

وَاِذۡ
اور جب
قَالَ
کہا
مُوۡسٰی
موسیٰ نے
لِقَوۡمِہٖ
اپنی قوم سے
یٰقَوۡمِ
اے میری قوم
اِنَّکُمۡ
یقینا تم نے
ظَلَمۡتُمۡ
ظلم کیا تم نے
اَنۡفُسَکُمۡ
اپنی جانوں پر
بِاتِّخَاذِکُمُ
اپنے پکڑنے کی وجہ سے
الۡعِجۡلَ
بچھڑے کو
فَتُوۡبُوۡۤا
لہذا تم توبہ کرو
اِلٰی
طرف
بَارِئِکُمۡ
اپنے پیدا کرنے والے کی
فَاقۡتُلُوۡۤا
سو تم قتل کرو
اَنۡفُسَکُمۡ
اپنے آ پ کو
ذٰلِکُمۡ
یہی
خَیۡرٌ
بہتر ہے
لَّکُمۡ
تمہارے لئے
عِنۡدَ
نزدیک
بَارِئِکُمۡ
تمہارے پیدا کرنے والے کے
فَتَابَ
پھر توبہ قبول کی اس نے
عَلَیۡکُمۡ
تم سے
اِنَّہٗ
بےشک وہ
ہُوَ
وہی ہے
التَّوَّابُ
بےحد توبہ قبول کرنے والا
الرَّحِیۡمُ
نہایت رحم والا
Translated by

Juna Garhi

And [recall] when Moses said to his people, "O my people, indeed you have wronged yourselves by your taking of the calf [for worship]. So repent to your Creator and kill yourselves. That is best for [all of] you in the sight of your Creator." Then He accepted your repentance; indeed, He is the Accepting of repentance, the Merciful.

جب ( حضرت ) موسیٰ ( علیہ السلام ) نے اپنی قوم !سے کہا کہ اے میری قوم بچھڑے کو معبود بنا کر تم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے ۔ اب تم اپنے پیدا کرنے والے کی طرف رجوع کرو ، اپنے کو آپس میں قتل کرو ، تمہاری بہتری اللہ تعالٰی کے نزدیک اسی میں ہے ، تو اس نے تمہاری توبہ قبول کی ، وہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم و کرم کرنے والا ہے ۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

اور جب موسیٰ نے (واپس آ کر) اپنی قوم سے کہا : اے میری قوم ! تم نے بچھڑے کو معبود بنا کر اپنے آپ پر بڑا ظلم کیا ہے۔ لہذا اپنے خالق کے حضور توبہ کرو اور اپنی جانوں کو ہلاک کرو۔ تمہارے رب کے ہاں یہی بات تمہارے حق میں بہتر ہے۔ چناچہ اللہ نے تمہاری توبہ قبول کرلی۔ کیونکہ وہ توبہ قبول کرنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اور (اس وقت کو یادکرو)جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا: ’’اے میری قوم!یقیناتم نے بچھڑے کو پکڑنے کی وجہ سے اپنی جانوں پرظلم کیا،لہٰذاتم اپنے پیداکرنے والے کی طرف توبہ کرواوراپنے آپ کوقتل کرویہی تمہارے پیداکرنے والے کے نزدیک تمہارے لیے بہترہے، پھراللہ تعالیٰ نے تمہاری توبہ قبول کی،یقیناوہی بے حدتوبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم والاہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

And when Musa said to his people: |"My people, you have wronged yourselves by your taking the calf (as God). So, turn in repentance to your Creator and slay yourselves. That will be better for you in the sight of your Creator|" Then, He accepted your repentance Indeed He is the Most-Relenting, the Very-Merciful.

اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے اے قوم تم نے نقصان کیا اپنا یہ بچھڑا بنا کر سو اب توبہ کرو اپنے پیدا کرنے والے کی طرف اور مار ڈالو اپنی اپنی جان یہ بہتر ہے تمہارے لئے تمہارے خالق کے نزدیک پھر متوجہ ہوا تم پر بیشک وہی ہے معاف کرنے والا نہایت مہربان۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

اور یاد کرو جبکہ کہا تھا موسیٰ ( علیہ السلام) نے اپنی قوم سے اے میری قوم کے لوگو ! یقیناً تم نے اپنے اوپر بڑا ظلم کیا ہے بچھڑے کو معبود بنا کر پس اب توبہ کرو اپنے پیدا کرنے والے کی جناب میں تو قتل کرو اپنے آپ کو۔ یہی تمہارے لیے تمہارے رب کے نزدیک بہتر بات ہے۔ تو (اللہ نے) تمہاری توبہ قبول کرلی۔ یقیناً وہ تو ہے ہی توبہ کا بہت قبول فرمانے والا بہت رحم فرمانے والا ۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

یاد کرو جب موسیٰ علیہ السلام ﴿یہ نعمت لیے ہوئے پلٹے ، تو اس ﴾ نے اپنی قوم سے کہا کہ لوگو ، ’’تم نے بچھڑے کو معبود بنا کر اپنے اوپر سخت ظلم کیا ہے ، لہٰذا تم لوگ اپنے خالق کے حضور توبہ کرو اور اپنی جانوں کو ہلاک کرو 70 ، اسی میں تمہارے خالِق کے نزدیک تمہاری بہتری ہے‘‘ ۔ اس وقت تمہارے خالِق نے تمہاری توبہ قبول کرلی کہ وہ بڑا معاف کرنے والا ہے اور رحم فرمانے والا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ ’’ اے میری قوم ! حقیقت میں تم نے بچھڑے کو معبود بنا کر خود اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے لہٰذا اب اپنے خالق سے توبہ کرو اور اپنے آپ کو قتل کرو تمہارے خالق کے نزدیک یہی تمہارے حق میں بہتر ہے اس طرح اللہ نے تمہاری توبہ قبول کرلی ۔ بے شک وہی ہے جو اتنا معاف کرنے والا ، اتنا رحم کرنے والا ہے

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

اور ( یاد کرو) جب موسیٰ ٰ نے اپنی قوم سے کہا بھائیوں تم نے بچھڑے کی پو کر اپنے تئیں تباہ کیا اب تو بہ کرو اپنے خالق کی جناب میں اور اپنی جان کھوؤ ( یعنی ایک دوسرے کے ہاتھ سے قتل ہوجاؤ 6 یہ بہتر ہے تمہارے حق میں پروردگار کے نز دیک ( اس لیے اس نے یہ حکم فرمایا) پھر جب تم قتل ہو رہے تھے) اللہ تعالیٰ نے معاف کردیا تم کو بیشک وہ بڑا معاف کرنے والا مہربان ہے

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

اور جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اے میری قوم ! تم نے گئو سالہ پرستی کرکے یقینا اپنا بڑا نقصان کرلیا ہے پس اپنے پیدا کرنے والے کے سامنے توبہ کرو پس بعض ، بعض کو قتل کرو یہ تمہارے پیدا کرنے والے کے نزدیک تمہارے لئے بہتر ہے سو اسی نے تمہاری توبہ قبول کرلی یقینا وہ توبہ قبول کرنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم تم نے بچھڑا بنا کر اپنا بڑا نقصان کیا ہے ۔ اب تم اپنے پیدا کرنے والے سے توبہ کرو اور ایک دوسرے کو آپس میں قتل کرو۔ یہی طریقہ تمہارے خالق کے نزدیک بہتر ہے۔ بیشک وہی معاف کرنے والا بڑا مہربان ہے۔

Translated by

Fateh Muhammad Jalandhari

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ بھائیو، تم نے بچھڑے کو (معبود) ٹھہرانے میں (بڑا) ظلم کیا ہے، تو اپنے پیدا کرنے والے کے آگے توبہ کرو اور اپنے تئیں ہلاک کر ڈالو۔ تمہارے خالق کے نزدیک تمہارے حق میں یہی بہتر ہے۔ پھر اس نے تمہارا قصور معاف کر دیا۔ وہ بے شک معاف کرنے والا (اور) صاحبِ رحم ہے

Translated by

Abdul Majid Daryabadi

And recall what time Musa said unto his people: my people! verily ye have wronged your souls by your taking the calf, wherefore repent unto your Maker, and slay yourselves: that were best for you with your Maker. Then He relented toward you; verily He! He is the Relentant, the Merciful

اور (وہ وقت یاد کرو) جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا ۔ کہ اے میری قوم یقیناً ! تم لوگوں نے اپنے اوپر (بڑا) ظلم کیا اپنی گوسالہ گیری سے ۔ سو اب اپنے خدا سے توبہ کرو ۔ پھر اپنے اشخاص کو قتل کرو ۔ یہی بہتر ہے تمہارے حق میں تمہارے خدا کے نزدیک ۔ پھر اس نے تمہاری توبہ قبول کرلی ۔ بیشک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا بڑا مہربان ہے ۔

Translated by

Amin Ahsan Islahi

اور ( یاد کرو ) جبکہ موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو! تم نے بچھڑے کو معبود بنا کر اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے تو اسے پیدا کرنے والے کی طرف رجوع کرو اور اپنے ( مجرموں ) کو اپنے ہاتھوں قتل کرو ۔ یہ تمہارے لئے تمہارے پیدا کرنے والے کے نزدیک بہتر ہے تو اس نے تمہاری توبہ قبول فرمائی ۔ بیشک وہی توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے ۔

Translated by

Mufti Naeem

اور ( یاد کیجیے ) جب ( حضرت ) موسیٰ ( علیہ السلام ) نے اپنی قوم سے فرمایا: اے میری قوم! بلاشبہ تم لوگوں نے بچھڑے کو ( معبود ) بناکر اپنی ( ہی ) جانوں پر ظلم کیا ہے پس اپنے پیدا کرنے والے سے رجوع ( توبہ ) کرو پس ( خود ) اپنے آپ ( اپنے ہی لوگوں ) کو قتل کرو ، یہی تمہارے پیدا کرنے والے کے نزدیک تمہارے حق میں بہتر ہے ، بے شک حقیقت یہ ہے کہ وہی خوب توبہ قبول فرمانے ( اور ) بہت رحم کرنے والے ہیں ۔

Translated by

Muhtrama Riffat Ijaz

جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تم نے بچھڑا بنا کر اپنا نقصان کیا ہے چناچہ اب اپنے پیدا کرنے والے کے آگے توبہ کروآپس میں ایک دوسرے کو قتل کرو یہ تمہارے خالق کے نزدیک تمہارے لئے بہتر ہے، پس اس نے تمہاری توبہ قبول کی، بیشک وہی معاف کرنے والا نہایت مہربان ہے

Translated by

Mulana Ishaq Madni

اور (وہ بھی یاد کرنے کے لائق ہے کہ) جب موسیٰ نے (دکھ اور درد بھرے انداز میں) اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم (کے لوگو ! ) بیشک تم نے بڑا ظلم ڈھایا ہے اپنی جانوں پر اس بچھڑے کو (اپنا معبود) ٹھہرا کر، سو تم لوگ فوراً سچی توبہ کے ساتھ رجوع کرو اپنے پیدا کرنے والے (رب) کے حضور، اور قتل کرو اپنے آپ کو، یہ تمہارے لئے بہتر ہے تمہارے پیدا کرنے والے کے ہاں، پھر اس نے (اپنے فضل و کرم سے) تمہاری توبہ قبول فرما لی، بیشک وہ بڑا ہی قبول کرنے والا، نہایت مہربان ہے ،

Translated by

Noor ul Amin

جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہاکہ اے میری قوم!بچھڑے کو معبودبناکرتم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے اب تم اپنے خالق کے حضورتوبہ کرواور ( سزا کے طورپر ) ایک دوسرے کو قتل کروتمہارے رب کے ہاں یہی بات تمہارے حق میں بہتر ہے ، چنانچہ اللہ نے تمہاری توبہ قبول کرلی ، وہ توبہ قبول کرنے والا نہایت رحم والا ہے

Kanzul Eman by

Ahmad Raza Khan

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم تم نے بچھڑا بنا کر اپنی جانوں پر ظلم کیا تو اپنے پیدا کرنے والے کی طرف رجوع لاؤ تو آپس میں ایک دوسرے کو قتل کردو ( ف۹۰ ) یہ تمہارے پیدا کرنے والے کے نزدیک تمہارے لیے بہتر ہے تو اس نے تمہاری توبہ قبول کی بیشک وہی ہے بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان ۔ ( ف ۹۱ )

Translated by

Tahir ul Qadri

اور جب موسیٰ ( علیہ السلام ) نے اپنی قوم سے کہا: اے میری قوم! بیشک تم نے بچھڑے کو ( اپنا معبود ) بنا کر اپنی جانوں پر ( بڑا ) ظلم کیا ہے ، تو اب اپنے پیدا فرمانے والے ( حقیقی رب ) کے حضور توبہ کرو ، پس ( آپس میں ) ایک دوسرے کو قتل کر ڈالو ( اس طرح کہ جنہوں نے بچھڑے کی پرستش نہیں کی اور اپنے دین پر قائم رہے ہیں وہ بچھڑے کی پرستش کر کے دین سے پھر جانے والوں کو سزا کے طور پر قتل کر دیں ) ، یہی ( عمل ) تمہارے لئے تمہارے خالق کے نزدیک بہترین ( توبہ ) ہے ، پھر اس نے تمہاری توبہ قبول فرما لی ، یقینا وہ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے

Translated by

Hussain Najfi

اور ( وہ وقت یاد کرو ) جب ( موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا ) اے میری قوم! یقینا تم نے گو سالہ کو ( معبود ) بنا کر اپنی جانوں پر بڑا ظلم کیا ہے ۔ لہٰذا تم اپنے خالق کی بارگاہ میں ( اس طرح ) توبہ کرو ۔ کہ اپنی جانوں کو قتل کرو ۔ یہی ( طریقہ کار ) تمہارے خالق کے نزدیک تمہارے لئے بہتر ہے ۔ اس صورت میں اس نے تمہاری توبہ قبول کی ۔ بے شک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ، نہایت رحم والا ہے ۔

Translated by

Abdullah Yousuf Ali

And remember Moses said to his people: "O my people! Ye have indeed wronged yourselves by your worship of the calf: So turn (in repentance) to your Maker, and slay yourselves (the wrong-doers); that will be better for you in the sight of your Maker." Then He turned towards you (in forgiveness): For He is Oft-Returning, Most Merciful.

Translated by

Muhammad Sarwar

Moses said to his people, "My people, you have done wrong to yourselves by worshipping the calf. Seek pardon from your Lord and slay yourselves." He told them that it would be best for them in the sight of their Lord, Who would forgive them, for He is All-forgiving and All-merciful.

Translated by

Safi ur Rehman Mubarakpuri

And (remember) when Musa said to his people: "O my people! Verily, you have wronged yourselves by worshipping the calf. So turn in repentance to your Creator and kill yourselves (the innocent kill the wrongdoers among you), that will be better for you with your Creator." Then He accepted your repentance. Truly, He is the One Who accepts repentance, the Most Merciful.

Translated by

Muhammad Habib Shakir

And when Musa said to his people: O my people! you have surely been unjust to yourselves by taking the calf (for a god), therefore turn to your Creator (penitently), so kill your people, that is best for you with your Creator: so He turned to you (mercifully), for surely He is the Oft-returning (to mercy), the Merciful.

Translated by

William Pickthall

And when Moses said unto his people: O my people! Ye have wronged yourselves by your choosing of the calf (for worship) so turn in penitence to your Creator, and kill (the guilty) yourselves. That will be best for you with your Creator and He will relent toward you. Lo! He is the Relenting, the Merciful.

Translated by

Moulana Younas Palanpuri

और जब मूसा ने अपनी क़ौम से कहा कि ऐ मेरी क़ौम! तुमने बछड़े को माबूद बनाकर अपनी जानों पर ज़ुल्म किया है, अब अपने पैदा करने वाले की तरफ़ मुतवज्जह हो और अपने (मुजरिमों) को अपने हाथों से क़त्ल करो, यह तुम्हारे लिए तुम्हारे पैदा करने वाले के नज़दीक बेहतर है, तो अल्लाह ने तुम्हारी तौबा क़बूल फ़रमाई, बेशक वही तौबा क़बूल करने वाला रहम करने वाला है।

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

( اور وہ زمانہ یاد کرو) جب موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اپنی قوم سے کہ اے میری قوم بیشک تم نے اپنا بڑا نقصان کیا اپنی اس گوسالہ (پرستی) کی تجویز سے سو تم اب اپنے خالق کی طرف متوجہ ہو پھر بعض آدمی بعض آدمیوں کو قتل کرو (4) یہ (عملدرآمد) تمہارے لیے بہتر ہوگا تمہارے خالق کے نزدیک پھر حق تعالیٰ تمہارے حال پر (اپنی عنایت سے) متوجہ ہوئے بیشک وہ تو ایسے ہی ہیں کہ توبہ قبول کرلیتے ہیں اور عنایت فرماتے ہیں۔ (54)

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم بچھڑے کو معبود بنا کر تم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔ اب تم اپنے رب کے حضور توبہ کرو اور اپنے آپ کو قتل کرو تمہارے رب کے نزدیک اسی میں بہتری ہے تو اس نے تمہاری توبہ قبول کی وہ توبہ قبول کرنے والا اور نہایت رحم فرمانے والا ہے

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یاد کرو ، جب موسیٰ (یہ نعمت لئے ہوئے پلٹا تو اس ) نے اپنی قوم سے کہا کہ لوگو ! تم نے بچھڑے کو معبود بناکر اپنے اوپر سخت ظلم کیا ہے ، لہٰذا تم لوگ اپنے خالق کے حضور توبہ کرو اور اپنی جانوں کو ہلاک کرو ، اسی میں تمہارے خالق کے نزدیک تمہاری بہتری ہے ۔ اس وقت تمہارے خالق نے تمہاری توبہ قبول کرلی کہ وہ بڑامعاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم بیشک تم نے بچھڑے کو معبود بنا کر اپنی جانوں پر ظلم کیا۔ لہٰذا تم اپنے پیدا کرنے والے کی بار گاہ میں توبہ کرو۔ سو اپنی جانوں کو قتل کرو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے تمہارے پیدا کرنیوالے کے نزدیک پھر اس نے تمہاری توبہ قبول فرمائی۔ بیشک وہ بہت زیادہ توبہ قبول فرمانے والا ہے، اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے اے قوم تم نے نقصان کیا اپنا یہ بچھڑا بنا کر سو اب توبہ کرو اپنے پیدا کرنے والے کی طرف اور مار ڈالو اپنی اپنی جان یہ بہتر ہے تمہارے لئے تمہارے خالق کے نزدیک پھر متوجہ ہوا تم پر بیشک وہی ہے معاف کرنے والا نہایت مہربان،

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

اور وہ بات یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اسے میری قوم تم نے اس بچھڑے کو معبود بنا کر اپنے بڑا نقصان کیا سو اب تم اپنے خالق کے سامنے توبہ کرو اور ایک دوسرے کو قتل کرو یہی طریقہ تمہارے خلاق کے نزدیک تمہارے لئے بہتر ہے پھر خدا تعالیٰ نے تم پر توجہ فرمائی بیشک وہی بڑا توبہ قبول کرنیوالا نہایت مہربان ہے۔