Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 63

سورة البقرة

وَ اِذۡ اَخَذۡنَا مِیۡثَاقَکُمۡ وَ رَفَعۡنَا فَوۡقَکُمُ الطُّوۡرَ ؕ خُذُوۡا مَاۤ اٰتَیۡنٰکُمۡ بِقُوَّۃٍ وَّ اذۡکُرُوۡا مَا فِیۡہِ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴿۶۳﴾

And [recall] when We took your covenant, [O Children of Israel, to abide by the Torah] and We raised over you the mount, [saying], "Take what We have given you with determination and remember what is in it that perhaps you may become righteous."

اور جب ہم نے تم سے وعدہ لیا اور تم پر طور پہاڑ لا کھڑا کر دیا ( اور کہا ) جو ہم نے تمہیں دیا اسے مضبوطی سے تھام لو اور جو کچھ اس میں ہے اسے یاد کرو تاکہ تم بچ سکو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Taking the Covenant from the Jews Allah tells; وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَكُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّورَ خُذُواْ مَا اتَيْنَاكُم بِقُوَّةٍ وَاذْكُرُواْ مَا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ And (O Children of Isra'il, remember) when We took your covenant and We raised above you the Mount (saying): "Hold fast to that which We have given you, and remember that which is therein so that you may acquire Taqwa. Allah reminded the Children of Israel of the pledges, covenants and promises that He took from them to believe in Him alone, without a partner, and follow His Messengers. Allah stated that when He took their pledge from them, He raised the mountain above their heads, so that they affirm the pledge that they gave Allah and abide by it with sincerity and seriousness. Hence, Allah's statement, وَإِذ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَأَنَّهُ ظُلَّةٌ وَظَنُّواْ أَنَّهُ وَاقِعٌ بِهِمْ خُذُواْ مَأ ءَاتَيْنَاكُم بِقُوَّةٍ وَاذْكُرُواْ مَا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ And (remember) when We raised the mountain over them as if it had been a canopy, and they thought that it was going to fall on them. (We said): "Hold firmly to what We have given you (Tawrah), and remember that which is therein (act on its commandments), so that you may fear Allah and obey Him." (7:171). The mount mentioned here is At-Tur, just as it was explained in Surah Al-A`raf, according to the Tafsir of Ibn Abbas, Mujahid, Ata, Ikrimah, Al-Hasan, Ad-Dahhak, Ar-Rabi bin Anas and others. This is more obvious. There is another report from Ibn Abbas saying; `The Tur is a type of mountain that vegetation grows on, if no vegetation grows on it, it is not called Tur.' And in the Hadith about the trials, Ibn Abbas said; "When they (the Jews) refused to obey, Allah raised the mountain above their heads so that they would listen." Al-Hasan said that Allah's statement, خُذُواْ مَا اتَيْنَاكُم بِقُوَّةٍ (Hold fast to that which We have given you), means, the Tawrah. Mujahid said that the Ayah commanded, "Strictly adhere to it." Abu Al-Aliyah and Ar-Rabi said that, وَاذْكُرُواْ مَا فِيهِ (and remember that which is therein) means, "Read the Tawrah and implement it." Allah's statement,

عہد شکن یہود ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کے عہد و پیمان یاد دلا رہا ہے کہ میری عبادت اور میرے نبی کی اطاعت کا وعدہ میں تم سے لے چکا ہوں اور اس وعدے کو پورا کرانے اور منوانے کے لئے میں نے طور پہاڑ کو تمہارے سروں پر لا کر کھڑا کر دیا تھا جیسے اور جگہ ہے آیت ( وَاِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَاَنَّهٗ ظُلَّـةٌ وَّظَنُّوْٓا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمْ ) 7 ۔ الاعراف:171 ) جب ہم نے ان کے سروں پر سائبان کی طرح پہاڑ لا کر کھڑا کیا اور وہ یقین کر چکے کہ اب پہاڑ ان پر گر کر انہیں کچل ڈالے گا اس وقت ہم نے کہا ہماری دی ہوئی چیز کو مضبوط تھامو اور اس میں جو کچھ ہے اسے یاد کرو تو بچ جاؤ گے طور سے مراد پہاڑ ہے جیسے سورۃ اعراف کی آیت میں ہے اور جیسے صحابہ اور تابعین نے اس کی تفسیر کی ہے ثابت یہی ہے کہ طور اس پہاڑ کو کہتے ہیں جس پر سبزہ اگتا ہو ۔ حدیث فتون میں بروایت ابن عباس مروی ہے کہ جب انہوں نے اطاعت سے انکار کرنے کے باعث ان کے سر پر پہاڑ آ گیا لیکن اسی وقت یہ سب سجدے میں گر پڑے اور مارے ڈر کے کنکھیوں سے اوپر کی طرف دیکھتے رہے اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا اور پہاڑ ہٹا لیا اسی وجہ سے وہ اسی سجدے کو پسند کرتے ہیں کہ آدھا دھڑ سجدے میں ہو اور دوسری طرف سے اونچے دیکھ رہے ہوں ۔ جو ہم نے دیا اس سے مراد توراۃ ہے قوت سے مراد طاعت ہے یعنی توراۃ پر مضبوطی سے جم کر عمل کرنے کا وعدہ کرو ورنہ پہاڑ تم پر گرا دیا جائے گا اور اس میں جو ہے اسے یاد کرو اور اس پر عمل کرو یعنی توراۃ پڑھتے پڑھاتے رہو ۔ لیکن ان لوگوں نے اتنے پختہ میثاق اتنے اعلیٰ عہد اور اس قدر زبردست وعدے کے بعد بھی کچھ پرواہ نہ کی ۔ اور عہد شکنی کی اب اگر اللہ تعالیٰ کی کرم فرمائی اور رحمت نہ ہوتی اگر وہ توبہ قبول نہ فرماتا اور نبیوں کے سلسلہ کو برابر جاری نہ رکھتا تو یقینا تمہیں زبردست نقصان پہنچتا اس وعدے کو توڑنے کی بنا پر دنیا اور آخرت میں تم برباد ہو جاتے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

63۔ 1 جب تورات کے احکام کے متعلق یہود نے ازراہ شرارت کہا ہم سے تو احکام پر عمل نہیں ہو سکے گا تو اللہ تعالیٰ نے طور پہاڑ کو سائبان کی طرح ان کے اوپر کردیا جس سے ڈر کر انہوں نے عمل کرنے کا وعدہ کیا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٨١] میثاق بنی اسرائیل کی کیفیت :۔ یہ واقعہ بھی بنی اسرائیل کے اس دور سے تعلق رکھتا ہے۔ جب ان کے ستر منتخب افراد پر بجلی گرا کر انہیں ہلاک کیا گیا اور پھر دوبارہ زندہ کیا گیا تھا۔ ان کو بھی اور ان کے ساتھ بنی اسرائیل کے دوسرے لوگوں کو بھی طور کے دامن میں کھڑا کیا گیا اور طور پہاڑ کو ان پر اس طرح جھکا دیا گیا جیسے وہ ان کے اوپر ایک سائبان ہے۔ اب پیچھے سمندر تھا اور آگے سروں کے اوپر سائبان کی طرح طور پہاڑ، اس وقت ان سے پوچھا گیا بتاؤ تورات پر عمل کرتے ہو یا نہیں ؟ اور اقرار کرتے ہو تو پھر پوری مضبوطی سے عہد و پیمان کرو، ورنہ ابھی اس پہاڑ کو تمہارے اوپر گرا کر تمہیں کچل دیا جائے گا۔ && اس وقت بنی اسرائیل کو اپنی نافرمانیوں اور غلطیوں اور عہد شکنیوں کا احساس ہوا اپنے گناہوں سے توبہ کی اور تورات پر عمل پیرا ہونے کا پختہ اقرار کیا۔ اور یہ اس لیے کیا گیا تھا تاکہ تم لوگوں میں کچھ پرہیزگاری کی صفت پیدا ہو۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے تورات پر عمل کا عہد لیتے ہوئے ایک ہیبت ناک منظر پیدا فرما دیا، تاکہ وہ دل سے یہ عہد کریں۔ اس وقت وہ پہاڑ کے دامن میں تھے کہ زلزلے کے ساتھ پہاڑ اکھڑ کر (وَاِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ ) ان پر جھک گیا اور سائبان کی طرح ان پر سایہ فگن ہوگیا، حتیٰ کہ انھیں یقین ہوگیا کہ وہ ان پر گرنے ہی والا ہے۔ مزید دیکھیے اعراف (١٧١) ۔ یہ دسویں نعمت ہے، کیونکہ یہ عہد و میثاق ان کے فائدے ہی کے لیے تھا۔ مَآ اٰتَيْنٰكُمْ ) کی وضاحت یہاں اگرچہ نہیں آئی، مگر کئی مقامات پر مذکور ہے کہ اس سے مراد کتاب ہے، مثلاً : (وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ لَعَلَّهُمْ يَهْتَدُوْنَ ) [ المؤمنون : ٤٩ ] ” اور بلاشبہ یقیناً ہم نے موسیٰ کو کتاب دی، تاکہ وہ (لوگ) ہدایت پائیں۔ “ بِقُوَّةٍ : قوت کے ساتھ پکڑنے سے مراد یہ ہے کہ اس پر عمل کرو۔ (مسند عبد بن حمید، عن مجاہد )

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Having received the Torah from Allah, Sayyidna Musa (Moses علیہ السلام) returned from Mount Tur طور (Sinai) and recited it to the Israelites. The injunctions contained in the Book were rather rigorous, but their conduct and habits of mind really called for such strict disci¬pline. To begin with, they replied that they would not obey the injunc¬tions until and unless Allah Himself told them that it was His book. Seventy men, as we have related above, were selected to go to Mount Tur and to hear Allah attest the authenticity of the Torah. On their re-turn, they bore witness to the Torah being a Book of Allah, but added something on their own to what Allah had actually said. For, they told the Israelites that Allah had allowed them to act upon the injunctions only as much as they could, and had promised to forgive them for what they could not accomplish. They had always and instinctively been prone to rebellion against Allah, then, the injunctions were, no doubt, stern, and now they got a new pretext for being negligent. So, the Is¬raelites flatly refused to obey the injunctions, insisting that it was be¬yond their endurance to act upon such harsh regulations. In reply to this insolence, Allah commanded the angels to raise Mount Tur and let it hang in the air above their heads as a threat that if they did not fulfill their covenant with Allah, it would fall on them and crush them. The Israelites, then, had no choice but to submit. A doubt is quite likely to arise here. The Holy Qur&an says in another place that force should not be used to make a man change his religion, while in the present instance it appears that force is being used. But, in fact, force is not being used to make the Israelites change their religion, for they had already accepted Sayyidna Musa (علیہ السلام) as a prophet of Allah, and willingly made a covenant with Allah that they would act upon the Book of Allah, if one was given to them. So, they now stand as rebels, and are being threatened with dire punishment for persisting in their rebellion. This is exactly how even a secular state deals with rebels, and how it adopts towards them an attitude quite different from that towards aliens or enemies, for it leaves only two ways open to the rebel -- either to submit himself, or to lose his life. That is why it is only an apostate (Murtadd مُرتد ) who is, according to the Islamic Shari` ah, condemned to capital punishment, and not an outright disbeliever. Moreover, the Israelites were being threatened with death as criminals and offenders against the law which they acknowledged to be the divine law, but which they refused to obey.

خلاصہ تفسیر : اور (وہ زمانہ یاد کرو) جب ہم نے تم سے قول وقرار لیا (کہ توراۃ پر عمل کریں گے) اور (اس قول وقرار لینے کے لئے) ہم نے طور پہاڑ کو اٹھا کر تمہارے اوپر (محاذات میں) معلق کردیا (اور اس وقت کہا) کہ (جلدی) قبول کرو جو کتاب ہم نے تم کو دی ہے (یعنی توراۃ) مضبوطی کے ساتھ اور یاد رکھو جو احکام اس (کتاب) میں ہیں جس سے توقع ہے کہ تم متقی بن جاؤ ، فائدہ : جب موسیٰ (علیہ السلام) کو طور پر تورات عطا ہوئی اور آپ نے واپس تشریف لاکر قوم کو وہ دکھائی اور سنائی تو اس میں احکام ذرا سخت تھے مگر ان لوگوں کی حالت کے مطابق ایسے ہی احکام مناسب تھے تو اول تو انہوں نے یہی کہا تھا کہ جب ہم سے اللہ تعالیٰ خود کہہ دیں گے کہ یہ میری کتاب ہے تب مانیں گے (جس کا قصہ اوپر گذر چکا ہے) غرض وہ ستر آدمی جو موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ کوہ طور پر گئے تھے واپس آکر انہوں نے گواہی دی مگر اس شہادت میں (اپنی طرف سے) اتنی آمیزش بھی کردی کہ اللہ تعالیٰ نے آخر میں یہ فرما دیا تھا کہ تم سے جس قدر عمل ہوسکے کرنا جو نہ ہوسکے معاف ہے تو کچھ جبلی شرارت کچھ احکام کی مشقت اور کچھ اس آمیزش کا حلیہ ملا غرض صاف کہہ دیا کہ ہم سے تو اس کتاب پر عمل نہیں ہوسکتا حق تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ کوہ طور کا ایک بڑا ٹکڑا اٹھا کر ان کے سروں پر معلق کردو کہ یا تو مانو ورنہ ابھی گرا، آخرچار ناچار ماننا پڑا، ایک شبہ کا ازلہ : یہاں ہوسکتا ہے کہ دین میں تو اکراہ نہیں ہے یہاں کیوں اکراہ کیا گیا ؟ جواب یہ ہے کہ اکراہ ایمان لانے پر نہیں بلکہ اول اپنی خوشی سے ایمان واسلام قبول کرلینے اور اس کے خلاف بغاوت کرنے کی وجہ سے ہے باغیوں کی سزا تمام حکومتوں میں بھی عام مخالف اور دشمن قوموں سے الگ ہوتی ہے ان کے لئے ہر حکومت میں دو ہی راستے ہوتے ہیں یا اطاعت قبول کریں یا قتل کئے جائیں اسی وجہ سے اسلام میں مرتد کی سزا قتل ہے کفر کی سزا قتل نہیں ،

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِذْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَكُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ۝ ٠ ۭ خُذُوْا مَآ اٰتَيْنٰكُمْ بِقُوَّۃٍ وَّاذْكُرُوْا مَا فِيْہِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۝ ٦٣ أخذ الأَخْذُ : حوز الشیء وتحصیله، وذلک تارةً بالتناول نحو : مَعاذَ اللَّهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنا مَتاعَنا عِنْدَهُ [يوسف/ 79] ، وتارةً بالقهر نحو قوله تعالی: لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ [ البقرة/ 255] ( اخ ذ) الاخذ ۔ کے معنی ہیں کسی چیز کو حاصل کرلینا جمع کرلینا اور احاطہ میں لے لینا اور یہ حصول کبھی کسی چیز کو پکڑلینے کی صورت میں ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ { مَعَاذَ اللهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهُ } ( سورة يوسف 79) خدا پناہ میں رکھے کہ جس شخص کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اس کے سو اہم کسی اور پکڑ لیں اور کبھی غلبہ اور قہر کی صورت میں جیسے فرمایا :۔ { لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ } ( سورة البقرة 255) نہ اس پر اونگھ غالب آسکتی اور نہ ہ نیند ۔ محاورہ ہے ۔ وثق وَثِقْتُ به أَثِقُ ثِقَةً : سکنت إليه واعتمدت عليه، وأَوْثَقْتُهُ : شددته، والوَثَاقُ والوِثَاقُ : اسمان لما يُوثَقُ به الشیء، والوُثْقَى: تأنيث الأَوْثَق . قال تعالی: وَلا يُوثِقُ وَثاقَهُ أَحَدٌ [ الفجر/ 26] ، حَتَّى إِذا أَثْخَنْتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثاقَ [ محمد/ 4] والمِيثاقُ : عقد مؤكّد بيمين وعهد، قال : وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثاقَ النَّبِيِّينَ [ آل عمران/ 81] ، وَإِذْ أَخَذْنا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثاقَهُمْ [ الأحزاب/ 7] ، وَأَخَذْنا مِنْهُمْ مِيثاقاً غَلِيظاً [ النساء/ 154] والمَوْثِقُ الاسم منه . قال : حَتَّى تُؤْتُونِ مَوْثِقاً مِنَ اللَّهِ إلى قوله : مَوْثِقَهُمْ [يوسف/ 66] ( و ث ق ) وثقت بہ اثق ثقتہ ۔ کسی پر اعتماد کرنا اور مطمئن ہونا ۔ اوثقتہ ) افعال ) زنجیر میں جکڑنا رسی سے کس کر باندھنا ۔ اولوثاق والوثاق اس زنجیر یارسی کو کہتے ہیں جس سے کسی چیز کو کس کو باندھ دیا جائے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَلا يُوثِقُ وَثاقَهُ أَحَدٌ [ الفجر/ 26] اور نہ کوئی ایسا جکڑنا چکڑے گا ۔ حَتَّى إِذا أَثْخَنْتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثاقَ [ محمد/ 4] یہ ان تک کہ جب ان کو خوب قتل کرچکو تو ( جو زندہ پکڑے جائیں ان کو قید کرلو ۔ المیثاق کے منیق پختہ عہدو پیمان کے ہیں جو قسموں کے ساتھ موکد کیا گیا ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثاقَ النَّبِيِّينَ [ آل عمران/ 81] اور جب ہم نے پیغمبروں سے عہد لیا ۔ وَأَخَذْنا مِنْهُمْ مِيثاقاً غَلِيظاً [ النساء/ 154] اور عہد بھی ان سے پکالیا ۔ الموثق ( اسم ) پختہ عہد و پیمان کو کہتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ حَتَّى تُؤْتُونِ مَوْثِقاً مِنَ اللَّهِ إلى قوله : مَوْثِقَهُمْ [يوسف/ 66] کہ جب تک تم خدا کا عہد نہ دو ۔ رفع الرَّفْعُ في الأجسام الموضوعة إذا أعلیتها عن مقرّها، نحو : وَرَفَعْنا فَوْقَكُمُ الطُّورَ [ البقرة/ 93] ، قال تعالی: اللَّهُ الَّذِي رَفَعَ السَّماواتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَها[ الرعد/ 2] ( ر ف ع ) الرفع ( ف ) کے معنی اٹھانے اور بلند کرنے کے ہیں یہ مادی چیز جو اپنی جگہ پر پڑی ہوئی ہو اسے اس کی جگہ سے اٹھا کر بلند کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ جیسے فرمایا : وَرَفَعْنا فَوْقَكُمُ الطُّورَ [ البقرة/ 93] اور ہم نے طو ر پہاڑ کو تمہارے اوپر لاکر کھڑا کیا ۔ اللَّهُ الَّذِي رَفَعَ السَّماواتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَها[ الرعد/ 2] وہ قادر مطلق ہے جس نے آسمان کو بدوں کسی سہارے کے اونچا بناکر کھڑا کیا ۔ فوق فَوْقُ يستعمل في المکان، والزمان، والجسم، والعدد، والمنزلة، وذلک أضرب : الأول : باعتبار العلوّ. نحو : وَرَفَعْنا فَوْقَكُمُ الطُّورَ [ البقرة/ 63] ، مِنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِنَ النَّارِ [ الزمر/ 16] ، وَجَعَلَ فِيها رَواسِيَ مِنْ فَوْقِها [ فصلت/ 10] ، ويقابله تحت . قال : قُلْ هُوَ الْقادِرُ عَلى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذاباً مِنْ فَوْقِكُمْ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ [ الأنعام/ 65] الثاني : باعتبار الصّعود والحدور . نحو قوله :إِذْ جاؤُكُمْ مِنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ [ الأحزاب/ 10] . الثالث : يقال في العدد . نحو قوله : فَإِنْ كُنَّ نِساءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ [ النساء/ 11] . الرابع : في الکبر والصّغر مَثَلًا ما بَعُوضَةً فَما فَوْقَها[ البقرة/ 26] . الخامس : باعتبار الفضیلة الدّنيويّة . نحو : وَرَفَعْنا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجاتٍ [ الزخرف/ 32] ، أو الأخرويّة : وَالَّذِينَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ يَوْمَ الْقِيامَةِ [ البقرة/ 212] ، فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا [ آل عمران/ 55] . السادس : باعتبار القهر والغلبة . نحو قوله : وَهُوَ الْقاهِرُ فَوْقَ عِبادِهِ [ الأنعام/ 18] ، وقوله عن فرعون : وَإِنَّا فَوْقَهُمْ قاهِرُونَ [ الأعراف/ 127] ( ف و ق ) فوق یہ مکان ازمان جسم عدد اور مرتبہ کے متعلق استعمال ہوتا ہے اور کئی معنوں میں بولا جاتا ہے اوپر جیسے فرمایا ۔ وَرَفَعْنا فَوْقَكُمُ الطُّورَ [ البقرة/ 63] اور کوہ طور کو تم پر اٹھا کھڑا کیا ۔ مِنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِنَ النَّارِ [ الزمر/ 16] کے اوپر تو آگ کے سائبان ہوں گے ۔ وَجَعَلَ فِيها رَواسِيَ مِنْ فَوْقِها [ فصلت/ 10] اور اسی نے زمین میں اس کے پہاڑ بنائے ۔ اس کی ضد تحت ہے جس کے معنی نیچے کے ہیں چناچہ فرمایا ۔ قُلْ هُوَ الْقادِرُ عَلى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذاباً مِنْ فَوْقِكُمْ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ [ الأنعام/ 65] کہ وہ اس پر بھی قدرت رکھتا ہے کہ تم پر اوپر کی طرف سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے عذاب بھیجے ۔ 2 صعود یعنی بلند ی کی جانب کے معنی میں اس کی ضدا سفل ہے جس کے معنی پستی کی جانب کے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ إِذْ جاؤُكُمْ مِنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ [ الأحزاب/ 10] جب وہ تمہارے اوپر اور نیچے کی جانب سے تم پر چڑھ آئے ۔ 3 کسی عدد پر زیادتی کے معنی ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے جیسے فرمایا : ۔ فَإِنْ كُنَّ نِساءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ [ النساء/ 11] اگر اولاد صرف لڑکیاں ہی ہوں ( یعنی دو یا ) دو سے زیادہ ۔ 4 جسمانیت کے لحاظ سے بڑا یا چھوٹا ہونے کے معنی دیتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : مَثَلًا ما بَعُوضَةً فَما فَوْقَها[ البقرة/ 26] مچھر یا اس سے بڑھ کر کسی چیز مثلا مکھی ۔ مکڑی کی مثال بیان فرمائے ۔ 5 بلحاظ فضیلت دنیوی کے استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا ۔ وَرَفَعْنا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجاتٍ [ الزخرف/ 32] اور ایک دوسرے پر درجے بلند کئے ۔ اور کبھی فضلیت اخروی کے لحاظ سے آتا ہے جیسے فرمایا : ۔ وَالَّذِينَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ يَوْمَ الْقِيامَةِ [ البقرة/ 212] لیکن جو پرہیز گار ہیں وہ قیامت کے دن ان پر پر فائق ہوں گے ۔ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا [ آل عمران/ 55] کافروں پر فائق ۔ 6 فوقیت معنی غلبہ اور تسلط کے جیسے فرمایا : ۔ وَهُوَ الْقاهِرُ فَوْقَ عِبادِهِ [ الأنعام/ 18] اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے ۔ وَإِنَّا فَوْقَهُمْ قاهِرُونَ [ الأعراف/ 127] فرعون سے اور بےشبہ ہم ان پر غالب ہیں ۔ طور طَوَارُ الدّارِ وطِوَارُهُ : ما امتدّ منها من البناء، يقال : عدا فلانٌ طَوْرَهُ ، أي : تجاوز حدَّهُ ، ولا أَطُورُ به، أي : لا أقرب فناء ه . يقال : فعل کذا طَوْراً بعد طَوْرٍ ، أي : تارة بعد تارة، وقوله : وَقَدْ خَلَقَكُمْ أَطْواراً [ نوح/ 14] ، قيل : هو إشارة إلى نحو قوله تعالی: خَلَقْناكُمْ مِنْ تُرابٍ ثُمَّ مِنْ نُطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُضْغَةٍ [ الحج/ 5] ، وقیل : إشارة إلى نحو قوله : وَاخْتِلافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوانِكُمْ [ الروم/ 22] ، أي : مختلفین في الخَلْقِ والخُلُقِ. والطُّورُ اسمُ جبلٍ مخصوصٍ ، وقیل : اسمٌ لكلّ جبلٍ وقیل : هو جبل محیط بالأرض «2» . قال تعالی: وَالطُّورِ وَكِتابٍ مَسْطُورٍ [ الطور/ 1- 2] ، وَما كُنْتَ بِجانِبِ الطُّورِ [ القصص/ 46] ، وَطُورِ سِينِينَ [ التین/ 2] ، وَنادَيْناهُ مِنْ جانِبِ الطُّورِ الْأَيْمَنِ [ مریم/ 52] ، وَرَفَعْنا فَوْقَهُمُ الطُّورَ [ النساء/ 154] . ( ط و ر ) طوارا لدار وطوارھ کے معنی گھر کی عمارت کے امتداد یعنی لمبا ہونے اور پھیلنے کے ہیں محاورہ ہے : ۔ عدا فلان طوارہ فلاں اپنی حدود سے تجاوز کر گیا ۔ لاوطور بہ میں اسکے مکان کے صحن کے قریب تک نہیں جاؤں گا ۔ فعل کذا طورا بعد طور اس نے ایک بار کے بعد دوسری باریہ کام کیا اور آیت کریمہ : ۔ وَقَدْ خَلَقَكُمْ أَطْواراً [ نوح/ 14] کی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ کہ اطوارا سے ان مختلف منازل ومدارج کی طرف اشارہ ہے جو کہ آیت : ۔ خَلَقْناكُمْ مِنْ تُرابٍ ثُمَّ مِنْ نُطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُضْغَةٍ [ الحج/ 5] ہم نے تم کو ( پہلی بار بھی ) تو پیدا کیا تھا ( یعنی ابتداء میں ) مٹی سے پھر اس سے نطفہ بناکر پھر اس سے خون کا لوتھڑا بناکر پھر اس سے بوٹی بناکر ۔ میں مذکور ہیں اور بعض نے کہا ہے کہ اس سے مختلف احوال مراد ہیں جن کی طرف آیت : ۔ وَاخْتِلافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوانِكُمْ [ الروم/ 22] اور تمہاری زبانوں اور رنگوں کا جدا جدا ہونا ۔ میں اشارہ فرمایا ہے یعنی جسمانی اور اخلاقی تفاوت جو کہ ہر معاشرہ میں نمایاں طور پر پا یا جاتا ہے ۔ الطور ( ایلہ کے قریب ایک خاص پہاڑ کا نام ہے) اور بعض نے کہا ہے کہ ہر پہاڑ کو طور کہہ سکتے ہیں اور بعض کے نزدیک طور سے وہ سلسلہ کوہ مراد ہے جو کرہ ارض کو محیط ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ وَالطُّورِ وَكِتابٍ مَسْطُورٍ [ الطور/ 1- 2] کوہ طور کی قسم اور کتاب کی جو لکھی ہوئی ہے ۔ وَما كُنْتَ بِجانِبِ الطُّورِ [ القصص/ 46] اور نہ تم اس وقت طور کے کنارے تھے ۔ وَطُورِ سِينِينَ [ التین/ 2] اور طورسنین کی ۔ وَنادَيْناهُ مِنْ جانِبِ الطُّورِ الْأَيْمَنِ [ مریم/ 52] اور ہم نے ان کو طور کی داہنی جانب سے پکارا ۔ وَرَفَعْنا فَوْقَهُمُ الطُّورَ [ النساء/ 154] اور کوہ طور کو تم پر اٹھا کر کھڑا کیا ۔ ما مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف . فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع . فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] . الثاني : نكرة . نحو : نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ [ النساء/ 58] أي : نعم شيئا يعظکم به، وقوله : فَنِعِمَّا هِيَ [ البقرة/ 271] فقد أجيز أن يكون ما نكرة في قوله : ما بَعُوضَةً فَما فَوْقَها [ البقرة/ 26] ، وقد أجيز أن يكون صلة، فما بعده يكون مفعولا . تقدیره : أن يضرب مثلا بعوضة الثالث : الاستفهام، ويسأل به عن جنس ذات الشیء، ونوعه، وعن جنس صفات الشیء، ونوعه، وقد يسأل به عن الأشخاص، والأعيان في غير الناطقین . وقال بعض النحويين : وقد يعبّر به عن الأشخاص الناطقین کقوله تعالی: إِلَّا عَلى أَزْواجِهِمْ أَوْ ما مَلَكَتْ أَيْمانُهُمْ [ المؤمنون/ 6] ، إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ [ العنکبوت/ 42] وقال الخلیل : ما استفهام . أي : أيّ شيء تدعون من دون اللہ ؟ وإنما جعله كذلك، لأنّ «ما» هذه لا تدخل إلّا في المبتدإ والاستفهام الواقع آخرا . الرّابع : الجزاء نحو : ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها، وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُ الآية [ فاطر/ 2] . ونحو : ما تضرب أضرب . الخامس : التّعجّب نحو : فَما أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ [ البقرة/ 175] . وأمّا الحروف : فالأوّل : أن يكون ما بعده بمنزلة المصدر كأن الناصبة للفعل المستقبَل . نحو : وَمِمَّا رَزَقْناهُمْ يُنْفِقُونَ [ البقرة/ 3] فإنّ «ما» مع رَزَقَ في تقدیر الرِّزْق، والدّلالة علی أنه مثل «أن» أنه لا يعود إليه ضمیر لا ملفوظ به ولا مقدّر فيه، وعلی هذا حمل قوله : بِما کانُوا يَكْذِبُونَ [ البقرة/ 10] ، وعلی هذا قولهم : أتاني القوم ما عدا زيدا، وعلی هذا إذا کان في تقدیر ظرف نحو : كُلَّما أَضاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ [ البقرة/ 20] ، كُلَّما أَوْقَدُوا ناراً لِلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ [ المائدة/ 64] ، كُلَّما خَبَتْ زِدْناهُمْ سَعِيراً [ الإسراء/ 97] . وأما قوله : فَاصْدَعْ بِما تُؤْمَرُ [ الحجر/ 94] فيصحّ أن يكون مصدرا، وأن يكون بمعنی الذي . واعلم أنّ «ما» إذا کان مع ما بعدها في تقدیر المصدر لم يكن إلّا حرفا، لأنه لو کان اسما لعاد إليه ضمیر، وکذلک قولک : أريد أن أخرج، فإنه لا عائد من الضمیر إلى أن، ولا ضمیر لهابعده . الثاني : للنّفي وأهل الحجاز يعملونه بشرط نحو : ما هذا بَشَراً [يوسف/ 31] «1» . الثالث : الکافّة، وهي الدّاخلة علی «أنّ» وأخواتها و «ربّ» ونحو ذلك، والفعل . نحو : إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] ، إِنَّما نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدادُوا إِثْماً [ آل عمران/ 178] ، كَأَنَّما يُساقُونَ إِلَى الْمَوْتِ [ الأنفال/ 6] وعلی ذلك «ما» في قوله : رُبَما يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الحجر/ 2] ، وعلی ذلك : قَلَّمَا وطَالَمَا فيما حكي . الرابع : المُسَلِّطَة، وهي التي تجعل اللفظ متسلِّطا بالعمل، بعد أن لم يكن عاملا . نحو : «ما» في إِذْمَا، وحَيْثُمَا، لأنّك تقول : إذما تفعل أفعل، وحیثما تقعد أقعد، فإذ وحیث لا يعملان بمجرَّدهما في الشّرط، ويعملان عند دخول «ما» عليهما . الخامس : الزائدة لتوکيد اللفظ في قولهم : إذا مَا فعلت کذا، وقولهم : إمّا تخرج أخرج . قال : فَإِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ أَحَداً [ مریم/ 26] ، وقوله : إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُما أَوْ كِلاهُما[ الإسراء/ 23] . ( ما ) یہ عربی زبان میں دو قسم پر ہے ۔ اسمی اور حر فی پھر ہر ایک پانچ قسم پر ہے لہذا کل دس قسمیں ہیں ( 1 ) ما اسمی ہو تو واحد اور تذکیر و تانیث کے لئے یکساں استعمال ہوتا ہے ۔ پھر لفظا مفرد ہونے کے لحاظ سے اس کی طرف ضمیر مفرد بھی لوٹ سکتی ہے ۔ اور معنی جمع ہونے کی صورت میں ضمیر جمع کا لانا بھی صحیح ہوتا ہے ۔ یہ ما کبھی بمعنی الذی ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا ۔ وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] اور یہ ( لوگ ) خدا کے سوا ایسی چیزوں کی پر ستش کرتے ہیں جو نہ ان کا کچھ بگاڑ سکتی ہیں ۔ تو یہاں ما کی طرف یضر ھم میں مفرد کی ضمیر لوٹ رہی ہے اس کے بعد معنی جمع کی مناسب سے هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] آگیا ہے اسی طرح آیت کریمہ : ۔ وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] اور خدا کے سوا ایسوں کو پوجتے ہیں جوان کو آسمانوں اور زمین میں روزیدینے کا ذرہ بھی اختیار نہیں رکھتے میں بھی جمع کے معنی ملحوظ ہیں اور آیت کریمہ : ۔ بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] کہ تمہارا ایمان تم کو بری بات بتاتا ہے ۔ میں بھی جمع کے معنی مراد ہیں اور کبھی نکرہ ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ [ النساء/ 58] بہت خوب نصیحت کرتا ہے ۔ تو یہاں نعما بمعنی شیئا ہے نیز فرمایا : ۔ فَنِعِمَّا هِيَ [ البقرة/ 271] تو وہ بھی خوب ہیں ایت کریمہ : ما بَعُوضَةً فَما فَوْقَها[ البقرة/ 26] کہ مچھر یا اس سے بڑھ کر کیس چیز کی میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ما نکرہ بمعنی شیاء ہو اور یہ بھی کہ ماصلہ ہو اور اس کا ما بعد یعنی بعوضۃ مفعول ہو اور نظم کلام دراصل یوں ہو أن يضرب مثلا بعوضة اور کبھی استفھا فیہ ہوتا ہے اس صورت میں کبھی کبھی چیز کی نوع یا جنس سے سوال کے لئے آتا ہے اور کبھی کسی چیز کی صفات جنسیہ یا نوعیہ کے متعلق سوال کے لئے آتا ہے اور کبھی غیر ذوی العقول اشخاص اور اعیان کے متعلق سوال کے لئے بھی آجاتا ہے ۔ بعض علمائے نحو کا قول ہے کہ کبھی اس کا اطلاق اشخاص ذوی العقول پر بھی ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ إِلَّا عَلى أَزْواجِهِمْ أَوْ ما مَلَكَتْ أَيْمانُهُمْ [ المؤمنون/ 6] مگر ان ہی بیویوں یا ( کنیزوں سے ) جو ان کی ملک ہوتی ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ [ العنکبوت/ 42] جس چیز کو خدا کے سوا پکارتے ہیں خواہ وہ کچھ ہی ہو خدا اسے جانتا ہے ۔ میں خلیل نے کہا ہے کہ ماتدعون میں ما استفہامیہ ہے ای شئی تدعون من دون اللہ اور انہوں نے یہ تکلف اس لئے کیا ہے کہ یہ ہمیشہ ابتداء کلام میں واقع ہوتا ہے اور مابعد کے متعلق استفہام کے لئے آتا ہے ۔ جو آخر میں واقع ہوتا ہے جیسا کہ آیت : ۔ ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها، وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُالآية [ فاطر/ 2] خدا جو اپنی رحمت کا در وازہ کھول دے اور مثال ماتضرب اضرب میں ہے ۔ اور کبھی تعجب کے لئے ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ فَما أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ [ البقرة/ 175] یہ ( آتش جہنم کیسی بر داشت کرنے والے ہیں ۔ ما حرفی ہونے کی صورت میں بھی پانچ قسم پر ہے اول یہ کہ اس کا بعد بمنزلہ مصدر کے ہو جیسا کہ فعل مستقبل پر ان ناصبہ داخل ہونے کی صورت میں ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ وَمِمَّا رَزَقْناهُمْ يُنْفِقُونَ [ البقرة/ 3] اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں ۔ تو یہاں ما رزق بمعنی رزق مصدر کے ہے اور اس ما کے بمعنی ان مصدر یہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اس کی طرف کہیں بھی لفظا ما تقدیر اضمیر نہیں لوٹتی ۔ اور آیت کریمہ : ۔ بِما کانُوا يَكْذِبُونَ [ البقرة/ 10] اور ان کے جھوٹ بولتے کے سبب ۔ میں بھی ما مصدر ری معنی پر محمول ہے ۔ اسی طرح اتانیالقوم ماعدا زیدا میں بھی ما مصدر یہ ہے اور تقدیر ظرف کی صورت میں بھی ما مصدر یہ ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ كُلَّما أَضاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ [ البقرة/ 20] جب بجلی ( چمکتی اور ) ان پر روشنی ڈالتی ہے تو اس میں چل پڑتے ہیں ۔ كُلَّما أَوْقَدُوا ناراً لِلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ [ المائدة/ 64] یہ جب لڑائی کے لئے آگ جلاتے ہیں ۔ خدا اس کو بجھا دیتا ہے ۔ كُلَّما خَبَتْ زِدْناهُمْ سَعِيراً [ الإسراء/ 97] جب ( اس کی آگ ) بجھنے کو ہوگی تو ہم ان کو ( عذاب دینے ) کے لئے اور بھڑ کا دیں گے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ فَاصْدَعْ بِما تُؤْمَرُ [ الحجر/ 94] پس جو حکم تم کو ( خدا کی طرف سے ملا ہے وہ ( لوگوں ) کو سنا دو ۔ میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ما مصدر یہ ہوا اور یہ بھی کہ ما موصولہ بمعنی الذی ہو ۔ یاد رکھو کہ ما اپنے مابعد کے ساتھ مل کر مصدری معنی میں ہونے کی صورت میں ہمیشہ حرفی ہوتا ہے کیونکہ اگر وہ اسی ہو تو اس کی طرف ضمیر کا لوٹنا ضروری ہے پس یہ ارید ان اخرک میں ان کی طرح ہوتا ہے جس طرح ان کے بعد ضمیر نہیں ہوتی جو اس کی طرف لوٹ سکے اسی طرح ما کے بعد بھی عائد ( ضمیر نہیں آتی ۔ دوم ما نافیہ ہے ۔ اہل حجاز اسے مشروط عمل دیتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ ما هذا بَشَراً [يوسف/ 31] یہ آدمی نہیں ہے تیسرا ما کا فہ ہے جو ان واخواتھا اور ( رب کے ساتھ مل کر فعل پر داخل ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] خدا سے تو اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو صاحب علم ہیں ۔ إِنَّما نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدادُوا إِثْماً [ آل عمران/ 178] نہیں بلکہ ہم ان کو اس لئے مہلت دیتے ہیں کہ اور گناہ کرلیں ۔ كَأَنَّما يُساقُونَ إِلَى الْمَوْتِ [ الأنفال/ 6] گویا موت کی طرف دھکیلے جارہے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : ۔ رُبَما يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الحجر/ 2] کسی وقت کافر لوگ آرزو کریں گے ۔ میں بھی ما کافہ ہی ہے ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ قلما اور لما میں بھی ما کافہ ہوتا ہے ۔ چہارم ما مسلمۃ یعنی وہ ما جو کسی غیر عامل کلمہ کو عامل بنا کر مابعد پر مسلط کردیتا ہے جیسا کہ اذا ما وحیتما کا ما ہے کہ ما کے ساتھ مرکب ہونے سے قبل یہ کلمات غیر عاملہ تھے لیکن ترکیب کے بعد اسمائے شرط کا سا عمل کرتے ہیں اور فعل مضارع کو جز م دیتے ہیں جیسے حیثما نقعد اقعد وغیرہ پانچواں مازائدہ ہے جو محض پہلے لفظ کی توکید کے لئے آتا ہے جیسے اذا مافعلت کذا ( جب تم ایسا کرو ماتخرج اخرج اگر تم باہر نکلو گے تو میں بھی نکلو نگا قرآن پاک میں ہے : ۔ فَإِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ أَحَداً [ مریم/ 26] اگر تم کسی آدمی کو دیکھوں ۔ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُما أَوْ كِلاهُما [ الإسراء/ 23] اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھا پے کو پہنچ جائیں ۔ آتینا وَأُتُوا بِهِ مُتَشابِهاً [ البقرة/ 25] ، وقال : فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لا قِبَلَ لَهُمْ بِها [ النمل/ 37] ، وقال : وَآتَيْناهُمْ مُلْكاً عَظِيماً [ النساء/ 54] . [ وكلّ موضع ذکر في وصف الکتاب «آتینا» فهو أبلغ من کلّ موضع ذکر فيه «أوتوا» ، لأنّ «أوتوا» قد يقال إذا أوتي من لم يكن منه قبول، وآتیناهم يقال فيمن کان منه قبول ] . وقوله تعالی: آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ [ الكهف/ 96] وقرأه حمزة موصولة أي : جيئوني . { وَأُتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا } [ البقرة : 25] اور ان کو ایک دوسرے کے ہم شکل میوے دیئے جائیں گے ۔ { فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لَا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا } [ النمل : 37] ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے جس سے مقابلہ کی ان میں سکت نہیں ہوگی ۔ { مُلْكًا عَظِيمًا } [ النساء : 54] اور سلطنت عظیم بھی بخشی تھی ۔ جن مواضع میں کتاب الہی کے متعلق آتینا ( صیغہ معروف متکلم ) استعمال ہوا ہے وہ اوتوا ( صیغہ مجہول غائب ) سے ابلغ ہے ( کیونکہ ) اوتوا کا لفظ کبھی ایسے موقع پر استعمال ہوتا ہے ۔ جب دوسری طرف سے قبولیت نہ ہو مگر آتینا کا صیغہ اس موقع پر استعمال ہوتا ہے جب دوسری طرف سے قبولیت بھی پائی جائے اور آیت کریمہ { آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ } [ الكهف : 96] تو تم لوہے کہ بڑے بڑے ٹکڑے لاؤ ۔ میں ہمزہ نے الف موصولہ ( ائتونی ) کے ساتھ پڑھا ہے جس کے معنی جیئونی کے ہیں ۔ قوی القُوَّةُ تستعمل تارة في معنی القدرة نحو قوله تعالی: خُذُوا ما آتَيْناكُمْ بِقُوَّةٍ [ البقرة/ 63] ( ق وو ) القوۃ یہ کبھی قدرت کے معنی میں اسعمارل ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ خُذُوا ما آتَيْناكُمْ بِقُوَّةٍ [ البقرة/ 63] اور حکم دیا کہ جو کتاب ہم نے تم کو دی اس کو زور سے پکڑے رہو ۔ لعل لَعَلَّ : طمع وإشفاق، وذکر بعض المفسّرين أنّ «لَعَلَّ» من اللہ واجب، وفسّر في كثير من المواضع ب «كي» ، وقالوا : إنّ الطّمع والإشفاق لا يصحّ علی اللہ تعالی، و «لعلّ» وإن کان طمعا فإن ذلك يقتضي في کلامهم تارة طمع المخاطب، وتارة طمع غيرهما . فقوله تعالیٰ فيما ذکر عن قوم فرعون : لَعَلَّنا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ [ الشعراء/ 40] ( لعل ) لعل ( حرف ) یہ طمع اور اشفاق ( دڑتے ہوئے چاہنے ) کے معنی ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے ۔ بعض مفسرین کا قول ہے کہ جب یہ لفظ اللہ تعالیٰ اپنے لئے استعمال کرے تو اس کے معنی میں قطیعت آجاتی ہے اس بنا پر بہت سی آیات میں لفظ کی سے اس کی تفسیر کی گئی ہے کیونکہ ذات باری تعالیٰ کے حق میں توقع اور اندیشے کے معنی صحیح نہیں ہیں ۔ اور گو لعل کے معنی توقع اور امید کے ہوتے ہیں مگر کبھی اس کا تعلق مخاطب سے ہوتا ہے اور کبھی متکلم سے اور کبھی ان دونوں کے علاوہ کسی تیسرے شخص سے ہوتا ہے ۔ لہذا آیت کریمہ : لَعَلَّنا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ [ الشعراء/ 40] تاکہ ہم ان جادو گروں کے پیرو ہوجائیں ۔ میں توقع کا تعلق قوم فرعون سے ہے ۔ تَّقْوَى والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، ثمّ يسمّى الخوف تارة تَقْوًى، والتَّقْوَى خوفاً حسب تسمية مقتضی الشیء بمقتضيه والمقتضي بمقتضاه، وصار التَّقْوَى في تعارف الشّرع حفظ النّفس عمّا يؤثم، وذلک بترک المحظور، ويتمّ ذلک بترک بعض المباحات لما روي : «الحلال بيّن، والحرام بيّن، ومن رتع حول الحمی فحقیق أن يقع فيه» قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] ، إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا [ النحل/ 128] ، وَسِيقَ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ زُمَراً [ الزمر/ 73] ولجعل التَّقْوَى منازل قال : وَاتَّقُوا يَوْماً تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللَّهِ [ البقرة/ 281] ، واتَّقُوا رَبَّكُمُ [ النساء/ 1] ، وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَخْشَ اللَّهَ وَيَتَّقْهِ [ النور/ 52] ، وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسائَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحامَ [ النساء/ 1] ، اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقاتِهِ [ آل عمران/ 102] . و تخصیص کلّ واحد من هذه الألفاظ له ما بعد هذا الکتاب . ويقال : اتَّقَى فلانٌ بکذا : إذا جعله وِقَايَةً لنفسه، وقوله : أَفَمَنْ يَتَّقِي بِوَجْهِهِ سُوءَ الْعَذابِ يَوْمَ الْقِيامَةِ [ الزمر/ 24] تنبيه علی شدّة ما ينالهم، وأنّ أجدر شيء يَتَّقُونَ به من العذاب يوم القیامة هو وجوههم، فصار ذلک کقوله : وَتَغْشى وُجُوهَهُمُ النَّارُ [إبراهيم/ 50] ، يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلى وُجُوهِهِمْ [ القمر/ 48] . التقویٰ اس کے اصل معنی نفس کو ہر اس چیز سے بچانے کے ہیں جس سے گزند پہنچنے کا اندیشہ ہو لیکن کبھی کبھی لفظ تقوٰی اور خوف ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ جس طرح کہ سبب بول کر مسبب اور مسبب بولکر سبب مراد لیا جاتا ہے اور اصطلاح شریعت میں نفس کو ہر اس چیز سے بچا نیکا نام تقوی ہے جو گناہوں کا موجب ہو ۔ اور یہ بات محظو رات شرعیہ کے ترک کرنے سے حاصل ہوجاتی ہے مگر اس میں درجہ کمال حاصل کرنے کے لئے بعض مباحات کو بھی ترک کرنا پڑتا ہے ۔ چناچہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے ۔ ( 149 ) الحلال بین واحرام بین ومن وقع حول الحمی فحقیق ان یقع فیہ کہ حلال بھی بین ہے اور حرام بھی بین ہے اور جو شخص چراگاہ کے اردگرد چرائے گا تو ہوسکتا ہے کہ وہ اس میں داخل ہوجائے ( یعنی مشتبہ چیزیں اگرچہ درجہ اباحت میں ہوتی ہیں لیکن ورع کا تقاضا یہ ہے کہ انہیں بھی چھوڑ دایا جائے ) قرآن پاک میں ہے : ۔ فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] جو شخص ان پر ایمان لا کر خدا سے ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا ۔ ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے ۔ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا[ النحل/ 128] کچھ شک نہیں کہ جو پرہیز گار ہیں اللہ ان کا مدد گار ہے ۔ وَسِيقَ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ زُمَراً [ الزمر/ 73] اور جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کو گروہ بناکر بہشت کی طرف لے جائیں گے ۔ پھر تقویٰ کے چونکہ بہت سے مدارج ہیں اس لئے آیات وَاتَّقُوا يَوْماً تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللَّهِ [ البقرة/ 281] اور اس دن سے ڈرو جب کہ تم خدا کے حضور میں لوٹ کر جاؤ گے ۔ واتَّقُوا رَبَّكُمُ [ النساء/ 1] اپنے پروردگار سے ڈرو ۔ اور اس سے ڈرے گا ۔ اور خدا سے جس کا نام کو تم اپنی حاجت برآری کا ذریعہ بناتے ہو ڈرو ۔ اور قطع مودت ارجام سے ۔ اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقاتِهِ [ آل عمران/ 102] خدا سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے ۔ میں ہر جگہ تقویٰ کا ایک خاص معنی مراد ہے جس کی تفصیل اس کتاب کے اور بعد بیان ہوگی ۔ اتقٰی فلان بکذا کے معنی کسی چیز کے ذریعہ بچاؤ حاصل کرنے کے ہیں ۔ اور آیت : ۔ أَفَمَنْ يَتَّقِي بِوَجْهِهِ سُوءَ الْعَذابِ يَوْمَ الْقِيامَةِ [ الزمر/ 24] بھلا جو شخص قیامت کے دن اپنے منہ سے برے عذاب کو روکتا ہوا ۔ میں اس عذاب شدید پر تنبیہ کی ہے جو قیامت کے دن ان پر نازل ہوگا اور یہ کہ سب سے بڑی چیز جس کے ذریعہ وہ و عذاب سے بچنے کی کوشش کریں گے وہ ان کے چہرے ہی ہوں گے تو یہ ایسے ہی ہے جیسے دوسری جگہ فرمایا : وَتَغْشى وُجُوهَهُمُ النَّارُ [إبراهيم/ 50] اور ان کے مونہوں کو آگ لپٹ رہی ہوگی ۔ يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلى وُجُوهِهِمْ [ القمر/ 48] اس روز منہ کے بل دوزخ میں گھسٹیے جائیں گے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦٣) اب اللہ تعالیٰ لوگوں سے عہد لینے کا ذکر فرماتے ہیں کہ جب ہم نے تم سے وعدہ لیا اور عہد ومیثاق لینے کے لیے تمہارے سروں پر ” کوہ طور “ کو بلند کیا تاکہ جو ہم نے کتاب کے ذریعے تم پر احکام نازل کیے ہیں ان پر پوری کوششیں اور ہمیشگی کے ساتھ عمل پیرار ہو اور جو اس میں ثواب و عتاب کا ذکر ہے اس کو یاد کرتے رہو اور حلال و حرام کو اچھی طرح محفوظ کرلو تاکہ اللہ تعالیٰ کے عذاب اور ناراضگی سے بچو اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت وفرمانبرداری کرتے رہو۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

(وَاِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَکُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَکُمُ الطُّوْرَ ط) “ بنی اسرائیل کو جب تورات دی گئی تو اس وقت ان کے دلوں میں اللہ اور اس کی کتاب کی ہیبت ڈالنے اور خشیت پیدا کرنے کے لیے معجزانہ طور پر ایک ایسی کیفیت پیدا کی گئی کہ ان کے اوپر کوہ طور اٹھا کر معلق کردیا گیا۔ اس وقت ان سے کہا گیا : ّ (خُذُوْا مَآ اٰتَیْنٰکُمْ بِقُوَّۃٍ ) “ اس کتاب تورات کو اور اس میں بیان کردہ احکام شریعت کو مضبوطی کے ساتھ تھام لو۔ ( وَّاذْکُرُوْا مَا فِیْہِ ) ( لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ )

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

81. From the manner in which this incident is described at various places in the Qur'an it is obvious that, at that time, it was quite well known to the Israelites. It is difficult, however, after the Passage of many centuries to be able to speak with certaintainty about the precise nature of the incident. All we can say is that while the Children of israeI were making their covenant in the shadow of Mount Sinai, they witnessed an aweseme phenomenon and felt as if the mountain was about to fall upon them. Verse 171 of Surah al-A'raf seems to portray this. (See also n. 132 in that surah.)

سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :81 اس واقعے کو قرآن میں مختلف مقامات پر جس انداز سے بیان کیا گیا ہے اس سے یہ بات صاف ظاہر ہو تی ہے کہ اس وقت بنی اسرائیل میں یہ ایک مشہور و معرُوف واقعہ تھا ۔ لیکن اب اس کی تفصیلی کیفیت معلوم کرنا مشکل ہے ۔ بس مجملاً یوں سمجھنا چاہیے کہ پہاڑ کے دامن میں میثاق لیتے وقت ایسی خوفناک صُورتِ حال پیدا کر دی گئی تھی کہ ان کو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا پہاڑ ان پر آپڑے گا ۔ ایسا ہی کچھ نقشہ سُورہٴ اعراف آیت ۱۷۱ میں کھینچا گیا ہے ۔ ( ملاحظہ ہو سُورہٴ اعراف ، حاشیہ نمبر ۱۳۲ )

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

49: جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تورات لے کر آئے توبنی اسرائیل نے دیکھا کہ اس کے بعض احکام بہت سخت ہیں، اس لئے اس سے بچنے کے بہانے تلاش کرنے شروع کردئے، پہلے توانہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ہم سے خود کہے کہ توارات پر عمل کرنا ضروری ہے، مطالبہ اگرچہ نامعقول تھا مگر ان پر حجت تمام کرنے کے لئے ان میں سے ستر آدمی منتخب کرکے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ کوہ طور پر بھیجے گئے (اعراف، ٧: ١٥٥) جن کو اللہ تعالیٰ نے براہ راست تورات پر عمل کا حکم دیا، مگر جب یہ واپس لوٹے توانہوں نے اپنی قوم کے سامنے تصدیق توکی کہ اللہ تعالیٰ نے تورات پر عمل کا حکم دیا ہے ؛ لیکن ایک بات اپنی طرف سے بڑھادی کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ جتنا تم سے ہوسکے اتنا عمل کرلینا ؛ لیکن جو نہ ہوسکے وہ ہم معاف کردیں گے ؛ چنانچہ تورات کے جس حکم میں بھی انہیں کچھ مشکل نظر آتی وہ یہ بہانہ تراش لیتے کہ یہ حکم بھی اسی چھوٹ میں داخل ہے، اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے کوہ طور ان کے سروں پر بلند کردیا کہ تورات کے تمام احکام کو تسلیم کرو، جب انہیں یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں پہاڑ ان پر گرانہ دیا جائے تب ان لوگوں نے تورات کو ماننے اور اس پر عمل کرنے کا عہد کیا۔ اس آیت میں اسی واقعے کی طرف اشارہ ہے کوہ طور کو ان کے سروں پر بلند کرنے کی یہ صورت بھی ممکن ہے کہ پہاڑ کو اپنی جگہ سے ہٹاکر ان کے سروں پر معلق کردیا گیا ہو، جیساکہ حافظ ابن جریر رحمہ اللہ نے متعدد تابعین سے نقل کیا ہے اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے یہ کچھ بھی بعید نہیں ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی اور ایسی صورت پیدا فرمادی گئی ہو کہ ان لوگوں کو ایسا محسوس ہوا ہو کہ پہاڑ ان پر آگرے گا مثلا کوئی زلزلہ آگیا ہو جس سے انہیں ایسا لگا کہ پہاڑ گرنے والا ہے چنانچہ سورۃ اعراف ( آیت ١٧١) میں اس واقعے کے بارے میں الفاظ یہ ہیں واذنتقنا الجبل فوقھم کانہ ظلۃ وظنوا انہ واقع بھم اس میں لفظ ’’ نتق‘‘ استعمال ہوا ہے جس کے معنی لغت میں زور زور سے ہلانے کے آتے ہیں (دیکھئے قاموس اور مفردات القرآن) لہٰذا آیت کا یہ ترجمہ بھی ممکن ہے کہ ’’ جب ہم نے پہاڑ کو ان کے اوپر زور سے اس طرح ہلایا کہ ان کو گمان ہوا کہ وہ ان پر گر پڑے گا یہاں یہ بات واضح رہے کہ کسی شخص کو ایمان قبول کرنے پر تو زبردستی مجبور نہیں کیا جاسکتا لیکن جب ایک شخص ایمان لے آئے تو اسے نافرمانی پر سزا بھی دی جاسکتی ہے اور ڈرا دھمکا کر حکم ماننے پر آمادہ بھی کیا جاسکتا ہے بنی اسرائیل چونکہ ایمان پہلے ہی لاچکے تھے اس لئے ان کو اللہ کے عذاب سے ڈرا کر فرمانبرداری پر آمادہ کیا گیا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

یہ پورا قصہ تو سورة اعراف میں آئے گا حاصل اس کا یہ ہے کہ فرعون کے ہلاک ہوجانے کے بعد پہلے تو بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ سے یہ خواہش ظاہر کی کہ اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے کچھ احکام اللہ تعالیٰ کی عبادت کے طریقے بتلانے کے ہم پر نازل ہوجائیں تو اپنے دشمن فرعون سے نجات پانے کے شکریہ میں ہم لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت ان احکام الٰہی کے موافق خوب دل لگا کر کریں گے۔ جب تورات نازل ہوئی تو کہنے لگے کہ یہ احکام سخت ہیں۔ ان کے موافق تو ہم سے عمل نہیں ہوسکتا اس پر حضرت جبرئیل نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک پہاڑ جڑ سے اکھیڑ کر بنی اسرائیل کے سروں پر اس کا سایہ ڈالا اور یہ کہا کہ اگر تم کتاب الٰہی کے موافق عمل کرنے سے انکار کروگے تو یہ پہاڑ تمہارے سروں پر پٹخ دیا جائے گا۔ حضرت جبرئیل کے اس ڈرانے سے آخر بنی اسرائیل نے تورات پر عمل کرنے کا عہد کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ کے یہود کو وہ بات یاد دلائی کہ جس تورات پر ایسی سختی سے عمل کرنے کا عہد تمہارے بڑوں سے لیا جا چکا ہے اسی تورات میں نبی آخر الزمان کے اوصاف اور ان پر ایمان لانے کا عہد موجود ہے۔ تم لوگ جو اس عہد کے پورا کرنے میں طرح طرح کے فریب حیلے اور بدعہدی کر رہے ہو اس کا وبال ایک نہ ایک دن تمہارے اوپر پڑنے والا ہے۔ اللہ کا وعد سچا ہے۔ یہ وبال آخر کو ان لوگوں پر پڑا جس کا ذکر سورة حشر میں آئے گا۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

واذ اخذنا۔ ای واذکروا اذا اخذنا اور یاد کرو وہ وقت (جب ہم نے تم سے عہد لیا تھا) میثاقکم مضاف، مضاف الیہ۔ میثاق پختہ عہد، قول و قرار ، جس پر قسم کھائی گئی ہو، یا پختگی اور مضبوطی پیدا کرنے کا ذریعہ (وثاقہ سے اسم آلہ) یا پختگی اور مضبوطی بمعنی مصدر جیسے الذین ینقضون عھد اللہ من بعد میثاقہ (2:27) وہ جو توڑتے رہتے ہیں عہد خداوندی کو اسے پختہ باندھنے کے بعد (نیز ملاحظہ ہو 2:27) یہ عہد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اتباع اور تورات پر عمل کرنے کا تھا۔ ورفعنا فوقکم الطورواؤ عاطفہ ہے فوق اسم ظرف اوپر تحت کی ضد ہے الطور عربی زبان میں طور پہاڑ کو کہتے ہیں۔ لیکن قرآن مجید میں طور کا استعمال ایک مخصوص اور متعین پہاڑ کے لئے ہوا ہے۔ چناچہ الطور میں الف لام عہد کا ہے جو اس پر دلالت کر رہا ہے جملہ کا ترجمہ ہے اور ہم نے طور کو تم پر بلند کیا اور کھڑا کیا اس کی فی الواقع کیا صورت تھی اس کے متعلق علماء کے مختلف اقوال ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ حق تعالیٰ کے حکم پر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے پہاڑ اپنی جگہ سے الگ کرکے بنی اسرائیل کے سروں پر سائبان کی طرح لاکھڑا کیا۔ اور بنی اسرائیل کو حکم دیا گیا کہ اگر تم تورات کو نہ مانو گے تو یہ پہاڑ تم چھوڑ دیا جائے گا۔ بعض نے تورات کے اس بیان سے ملتی جلتی رائے کا اظہار کیا ہے کہ وہ پہاڑ کے نیچے آکھڑے ہوئے اور کوہ سینا پر زیر و بالا دھواں تھا۔ کیونکہ خداوند شعلہ میں ہوکر اس پر اترا اور سارا پہاڑ متزلزل ہوگیا۔ (باب خروج 19 آیت 118) اور ان کو حکم ہوا کہ توریت کو قبول کرو ورنہ پہاڑ کو تم پر گرا دیا جائے گا۔ اور تم اس کے نیچے دفن ہو کر رہ جاؤ گے۔ واللہ اعلم بحقیقۃ الحال۔ خذوا ما اتینکم ۔ خذوا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے۔ تم لو، تم پکڑو، ما موصولہ اور اتینکم جملہ فعلیہ ہوکر اس کا صلہ۔ موصول وصلہ مل کر خذوا کا مفعول ہوا۔ مراد توریت۔ بقوۃ۔ جار مجرور۔ مضبوطی سے۔ لعلکم۔ لعل حرف مشبہ بالفعل کم اس کا اسم۔ شاید تم۔ تاکہ تم (یہاں مؤخرالذ کر معنی مراد ہیں) تتقون۔ مضارع جمع مذکر حاضر، اتقاء (افتعال) مصدر ۔ تم پرہیزگار بنتے ہو۔ لعلکم تتقون ۔ شاہد تم پرہیزگار بن جاؤ۔ تاکہ تم بچ جاؤ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 یہ دسویں نعمت کا ذکر ہے کیونکہ اخذ میثاق بھی ان لوگوں کی مصلحت کے لیے تھا ( کبیر) جب تو رات نازل ہوئی تو اسرائیل شرارت سے کہنے لگے کہ اتنے احکام کی پیروی ہم سے نہ ہو سکے گی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ایک پہاڑ کو حکم دیا جو ان کے سروں پر چھتری کی طرح چھا گیا۔ آخر کار اسرائیل نے کوئی چارہ کار نہ دیکھ کر احکام کی پیروی کا اقرار کیا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 63 تا 64 اخذنا (ہم نے لیا) ۔ میثاق (پکا وعدہ، پختہ عہد) ۔ رفعنا (ہم نے بلند کیا) ۔ فوق ( اوپر، بلند) ۔ الطور (طور پہاڑ) ۔ خذوا (پکڑو، تھام لو) ۔ تولیتم (تم پلٹ گئے) ۔ فضل اللہ (اللہ کا رحم و کرم) ۔ الخسرین (نقصان اٹھانے والے) ۔ تشریح : آیت نمبر 63 تا 64 ان آیتوں میں بنی اسرائیل کی وعدہ خلافی اور عہد شکنی کا ایک اور واقعہ بیان کیا جا رہا ہے جب موسیٰ (علیہ السلام) ان کی ہدایت کے لئے توریت کا نسخہ لے کر آئے تو وہ قوم جو اس سے پہلے ایک کتاب اور شریعت کا مطالبہ کرتی رہی تھی اس نے اس پر عمل کرنے سے صاف انکار کردیا۔ کہنے لگے اے موسیٰ ! اتنے سخت احکامات پر ہم عمل نہیں کرسکتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے سروں پر طور پہاڑ کا ایک حصہ لٹکانے کے لئے فرشتوں کو حکم دیا اور کوہ طور ان پر اس طرح مسلط کردیا جیسے ابھی گر پڑے گا۔ یہ اس لئے تھا کہ وہ توریت کے احکامات پر عمل کریں، یہ جبر اور زبردستی نہیں ہے کیونکہ یہ ایمان لانے کے لئے زبردستی نہیں کی جا رہی ہے بلکہ ایمان لانے کے بعد عمل نہ کرنے پر سختی کی جارہی ہے کہ وہ توریت پر عمل کرتے ہیں یا نہیں ؟ اس پر وہ یہودی سجدے میں اس طرح گر پڑے کہ بائیں رخسار پر سجدہ کر رہے تھے اور داہنی آنکھ سے طور پہاڑ کو دیکھ رہے تھے کہ کہیں وہ سجدہ میں جائیں اور پہاڑ ان پر گر نہ پڑے۔ زبان سے توبہ بھی کر رہے تھے کہا جاتا ہے کہ آج بھی یہودی چہرے کے بائیں حصہ پر سجدہ کرتے ہیں۔ پیشانی اللہ کے سامنے نہیں جھکاتے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ ان عہد شکنیوں کے باوجود اللہ نے ان پر عذاب مسلط کر کے ان کو تباہ برباد نہیں بلکہ ان کی اوپرے دل کی دعا کو قبول کرلیا اور ایک مرتبہ پھر معاف کردیا۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : گیا رھواں احسان۔ بار بار جرائم کرنے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو معافی دی اور اللہ تعالیٰ کا انہیں اپنے فضل و کرم سے نوازنا۔ بعض لوگوں کا نقطۂ نگاہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کو جبراً ہدایت کیوں نہیں دیتا ؟ حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ انسان کو عقل و شعور کی دولت سے اس لیے مالا مال کیا گیا ہے کہ وہ حیوانوں اور جانوروں کے مقابلے میں اپنے نفع و نقصان کا خود فیصلہ کرسکے۔ تاکہ انسان اور حیوان کا فرق نمایاں رہے۔ اس لیے جبراً ہدایت دینے کا طریقہ اللہ تعالیٰ نے پسند نہیں فرمایا۔ لیکن پھر بھی ربِّ کریم نے لوگوں کی غلط فہمی دور کرنے کے لیے بنی اسرائیل کا واقعہ پیش فرمایا ہے۔ کیونکہ جبری ہدایت دیرپا نہیں ہوتی یہ اسی وقت تک رہتی ہے جب تک جبر کا ماحول قائم رہتا ہے۔ جونہی جبر کا خاتمہ ہوگا ہدایت کو دل سے قبول نہ کرنے والا انسان پھر گمراہی کی طرف پلٹ جائے گا۔ دائمی اور دیر پاہدایت وہی ہوتی ہے جو دل کی گہرائی اور عقل و شعور کی رسائی سے حاصل ہو۔ جبری ہدایت کا مطالبہ کرنے والوں کے لیے بنی اسرائیل کے واقعات نظر کشائی کے لیے کافی ہیں۔ یہاں اس واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ بنی اسرائیل کی مسلسل نا فرمانیوں اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ان کے سروں پر کوہ طورمنڈلا کر حکم دیا گیا کہ مانتے ہو یا پہاڑ گرا کر تمہیں زمین کے ساتھ چپکا دیا جائے۔ اس موقعہ پر حکم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی نصیحت یاد کرو اور اللہ کا خوف اختیار کرتے ہوئے گناہوں سے بچ جاؤ۔ یہ لوگ اس وقت تو ایمان لے آئے لیکن جونہی ان کے سروں سے پہاڑ ٹل گیا وہ پہلے کی طرح سر کشی پر اتر آئے۔ اس عہد شکنی کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و رحمت سے انہیں مہلت عطا فرمائی تاکہ وہ از خود اپنی اصلاح کی طرف پلٹ آئیں۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم نہ ہوتا اور اے بنی اسرائیل ! تمہیں مہلت نہ دی جاتی تو تمہارا انجام تو اسی وقت ہی بدترین ہوتا اور تم ہمیشہ کے لیے نقصان پانے والوں میں سے ہوجاتے۔ یہاں واقعہ تو ماضی کا بیان کیا جا رہا ہے لیکن ضمائر مخاطب کی استعمال کی گئی ہیں۔ جس کا معنی یہ ہے کہ تمہارے اور تم سے پہلے لوگوں کے اعمال ایک جیسے ہوچکے ہیں۔ اور تم اپنے آپ کو انہی کا جانشین سمجھتے اور ان کا دفاع کرتے ہو۔ اگر ان کے سروں پر پہاڑ رکھا جاسکتا ہے تو تم پر عذاب نازل کرنا اللہ تعالیٰ کی قوت و سطوت سے کس طرح باہر ہوسکتا ہے۔ اس واقعہ سے یہ مسئلہ بھی واضح ہوا کہ ایمان کا دعویٰ کرنے والوں کو مسلم اتھارٹی جبراً اسلام کے احکام پر عمل کر وا سکتی ہے۔ اس لیے اسلامی حکومت پر حدود اللہ کا نفاذ فرض قرار دیا گیا ہے۔ جو حکمران اس کا نفاذ نہیں کرتے انہیں ظالم ‘ فاسق اور کافر شمار کیا گیا ہے۔ [ المائدۃ : ٤٤ تا ٤٧] بچوں کو جبراً نماز پڑھانا چاہیے : (عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مُرُوْا أَوْلَادَکُمْ بالصَّلَاۃِ وَھُمْ أَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِیْنَ وَاضْرِبُوْھُمْ عَلَیْھَا وَھُمْ أَبْنَاءُ عَشْرٍ وَفَرِّقُوْا بَیْنَھُمْ فِي الْمَضَاجِعِ ) (رواہ ابوداوٗد : کتاب الصلاۃ، باب متی یؤمر الغلام بالصلاۃ) ” حضرت عمر و بن شعیب اپنے باپ سے وہ اپنے دادا (رض) سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنی اولاد کو سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دو اور دس سال کی عمر میں انہیں نماز کی وجہ سے سزا دو اور ان کے بستر جدا کر دو ۔ “ مسائل ١۔ ایمان کے دعوے دار کو جبراً عمل کروانا چاہیے۔ ٢۔ اللہ کے احکام پر عمل کرنے سے پرہیزگاری پیدا ہوتی ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر ہر انسان گھاٹے میں ہے۔ تفسیر بالقرآن بنی اسرائیل کے منحرف ہونے کے واقعات : ١۔ اللہ کے احکام پر عمل کرنے کا وعدہ کرنے کے بعد انحراف کیا۔ (البقرۃ : ٦٤) ٢۔ اللہ کی عبادت، والدین، قریبی رشتہ داروں، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے، لوگوں کو اچھی بات کہنے اور صوم و صلاۃ کی پابندی کا عہد کرنے کے بعد انحراف کیا۔ (البقرۃ : ٨٣) ٣۔ اپنوں کا خون بہانے اور قتل نہ کرنے کے عہد کے بعد منحرف ہوگئے۔ (البقرۃ : ٨٥) ٤۔ قیدیوں کو رشوت دے کر چھڑانے کی ممانعت کے باوجود باز نہ آئے۔ (البقرۃ : ٨٥) ٥۔ ہفتہ کے دن مچھلیاں پکڑنے کی ممانعت کے باوجود مچھلیاں پکڑنا۔ (البقرۃ : ٦٥)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اس عہد کی تفصیل دوسری سورتوں اور خود اس سورة بقرہ میں بھی بعد میں مذکور ہے ۔ یہاں مقصد صرف یہ ہے کہ اس منظر کو دوبارہ ان کی نظروں کے سامنے اجاگر کردیا جائے ، اور یہ بتایا جائے کہ ان کے سروں پر کوہ طور کو معلق کرنا اور طاقت سے عہد لینا اور ان کو حکم دینا کہ وہ احکام تورات کو پوری قوت کے ساتھ تھام لیں ، ان امور کے درمیان ایک نفسیاتی اور تعبیری ہم آہنگی موجود ہے ۔ انہیں حکم دیا جاتا ہے کہ وہ عقائد کے سلسلے میں عزیمت اختیار کریں ۔ کیونکہ عقائد ونظریات میں کسی قسم کی نرمی اور مداہنت نہیں برداشت کی جاسکتی ۔ نظریات کے باب میں کچھ لو اور کچھ دو کی پالیسی اختیار نہیں کی جاسکتی ۔ نہ اس بارے میں غیر سنجیدگی اور نرمی برداشت کی جاسکتی ہے نظریہ و عقیدہ اللہ اور مومنین کے درمیان ایک عہد ہے ۔ ایک سنجیدہ اور برحق معاہدہ ۔ لہٰذا اس میں باطل اور غیر سنجیدگی کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ اس راہ میں بےحد قربانیاں دینی پڑتی ہیں ، کیونکہ عقائد ونظریات کا مزاج ہی یہ ہے ۔ عقیدہ ایک عظیم چیز ہے ۔ اس کائنات میں اس کی عظمت ہر چیز سے بڑھی ہوئی ہے ۔ لہٰذا انسان کو چاہئے کہ وہ بڑی سنجیدگی سے ، اچھی طرح سمجھتے ہوئے اور اس کے تقاضوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس کی طرف متوجہ ہو۔ اور پوری دلجمعی اور عزم صمیم سے نظریہ کی راہ میں آنے والی مشکلات کو انگیز کرے ۔ جو شخص بھی کسی عقیدے کو ان معنوں میں اپنائے ، اسے معلوم ہونا چاہئے کہ اب اس نے آرام و آسائش اور عیش و عشرت کو الوداع کہہ دیا ہے ۔ جب اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فریضہ رسالت کی ادائیگی کے لئے پکارا تو آپ نے فرمایا ” خدیجہ ! اب آرام اور سونے کا زمانہ ختم ہوگیا۔ “ نیز اللہ تعالیٰ نے بھی آپ کو متنبہ فرمایا کہسَنُلقِی عَلَیکَ قَولًا ثَقِیلَا ” ہم عنقریب آپ پر ایک بھاری بات نازل کریں گے ۔ “ اور جیسا کہ بنی اسرائیل سے کہا گیا ” جو کتاب ہم تمہیں دینے والے ہیں اسے مضبوطی کے ساتھ تھامنا اور جو احکام و ہدایات درج ہیں انہیں یاد رکھنا۔ “ اسی ذریعے سے توقع کی جاسکتی ہے کہ تم تقویٰ اختیار کرو۔ لیکن قوت ، سنجیدگی ، دلجمعی ، اور عزم صمیم کے ساتھ عہد لینے کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ عہد کرنے والے مسلمان اس عہد کی حقیقت کو بھی سمجھیں ۔ انہیں اس عہد و پیمان کی نوعیت کا شعور اچھی طرح ہو ، وہ اپنی زندگیوں کو اس عہد و پیمان کے رنگ میں رنگ دیں۔ تاکہ معاملہ محض جذبات ، حمیت ، طاقت اور جوش و خروش تک ہی محدود نہ رہے کیونکہ اللہ کے ساتھ ہمارا عہد درحقیقت یہ ہے کہ ہم پوری زندگی ، اس پسندیدہ نظام حیات کے مطابق گزاریں گے ۔ یہ نظام زندگی قلب و دماغ میں بطور حیات اور زندہ شعور کے رائج ہوتا ہے اور عملی زندگی میں نظام حیات اور طریقہ زندگی کی شکل میں نمودار ہوتا ہے ۔ معاشرت میں حسن خلق اور حسن سلوک کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور اخروی ، زندگی میں تقویٰ اور اللہ کے سامنے جوابدہی کے شعور احساس پر منتج ہوتا ہے۔ لیکن وائے ناکامی ! بنی اسرائیل پھر بھی جوں کے توں رہتے ہیں۔ ان کی بری فطرت ان پر غالب آجاتی ہے ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ ” مگر اس کے بعد تم پھر اپنے عہد سے پھرگئے ۔ “ اس کے بعد پھر اللہ کی رحمت و شفقت ان کا ساتھ دیتی ہے ۔ اللہ کا فضل وکرم ان کے شامل حال ہوجاتا ہے اور انہیں خسران اور تباہی سے نکال لیا جاتا ہے ۔ فَلَوْلا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ لَكُنْتُمْ مِنَ الْخَاسِرِينَ ” اس پر بھی اللہ کے فضل وکرم اور اس کی رحمت نے تمہارا ساتھ نہ چھوڑا ورنہ تم کبھی کے تباہ ہوچکے ہوتے ۔ “

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

بنی اسرائیل سے پختہ عہد لینا پھر ان کا منحرف ہوجانا جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) توریت شریف لے کر آئے اور مستقل شریعت بنی اسرائیل کو دی گئی تو بنی اسرائیل سے عہد لیا گیا کہ اللہ وحدہ لا شریک لہ کی کتاب پر ایمان لائیں گے اور اس کے رسول کا اتباع کریں گے اور اس کی شریعت پر عمل کریں گے۔ جب انہوں نے سخت احکام دیکھے تو عمل کرنے سے انکاری ہوگئے۔ لہٰذا للہ تعالیٰ نے پہاڑ طور کو اس کی جگہ سے اکھاڑ کر ان کے اوپر کھڑا کردیا اور فرمایا کہ ہم نے جو کچھ دیا ہے اسے قوت کے ساتھ لے لو اور جو کچھ اس میں ہے اسے یاد کرو۔ سورة اعراف میں اور زیادہ واضح طریقے سے اس کو یوں بیان فرمایا : (وَ اِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَھُمْ کَاَنَّہٗ ظُلَّۃٌ وَّ ظَنُّوْٓا اَنَّہٗ وَاقِعٌ بِھِمْ خُذُوْا مَآ اٰتَیْنٰکُمْ بِقُوَّۃٍ وَّ اذْکُرُوْا مَا فِیْہِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ ) ” اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب ہم نے پہاڑ کو اٹھا کر سائبان کی طرح ان کے اوپر معلق کردیا اور ان کو یقین ہوگیا کہ اب ان پر گرا اور ہم نے کہا کہ لے لو قوت کے ساتھ جو ہم نے تم کو دیا ہے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم متقی ہوجاؤ۔ “ جب انہوں نے دیکھا کہ واقعی پہاڑ گرنے کو ہے تو اس وقت مان لیا لیکن بعد میں اس میثاق عظیم کو توڑ دیا اور اقرار سے پھرگئے اللہ تعالیٰ نے ان کو توبہ کرنے کی توفیق دی اور ان کو باقی رکھا اور حضرات انبیاء کرام ان کی طرف آتے رہے اور ان کو ہدایات دیتے رہے اللہ کا فضل نہ ہوتا اور اس کی رحمت شامل حال نہ ہوتی تو دنیا و آخرت میں برباد ہوجاتے۔ (عن ابن کثیر) شاید کسی کے دل میں یہ وسوسہ آئے کہ دین میں تو زبر دستی نہیں ہے جیسا کہ لاَ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْن میں بتایا ہے پھر پہاڑ سروں پر اٹھا کر بنی اسرائیل سے کیوں قول وقرار لیا گیا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اسلام قبول کرانے کے لیے زبردستی نہیں ہے، اگر کوئی قوم مسلمان نہ ہو جزیہ دے کر رہنا چاہیے اس سے جزیہ قبول کرلیا جائے گا جس نے اسلام قبول کرلیا اس سے احکام پر زبر دستی عمل کرانے کی نفی (لاَ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ ) میں نہیں ہے اس لیے ذمی کو قتل نہیں کیا جاتا اور جو شخص اسلام کو چھوڑ کر دوسرا دین اختیار کرلے اسے تین دن کی مہلت دی جائے گی اگر تین دن کے بعد اسلام میں واپس نہ آئے تو قتل کردیا جائے گا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

131 ۔ یہ پہلی خباثت ہے۔ یہاں میثاق سے مراد تورات پر عمل کرنے کا عہد میثاق ہے۔ بقول مافی التورۃ (مدارک ص 72 ج 1) بالمحافظۃ علی ما فی التورۃ (ابو السعود ص 554 ج 1) وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ ۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) تورات لے کر آئے اور بنی اسرائیل سے کہا کہ یہ اللہ کی کتاب ہے اس پر عمل کرو تو انہوں نے کہا کہ یہ احکام سخت ہیں جب تک اللہ خود ہم سے ہمکلام نہ ہو اور اسے ہم اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں ہم نہیں مانیں گے جس طرح آج کل مغرب زدہ لوگ کہتے ہیں کہ اسلام کے احکام سخت ہیں جو موجودہ زمانے کے لیے غیر مفید ہیں اس لیے ان میں ترمیم ہونی چاہیے۔ اس پر انہیں صاعقہ بھیج کر ہلاک کردیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی درخواست پر انہیں دوبارہ زندہ کردیا گیا مگر اس کے بعد پھر بھی وہ تورات کو ماننے پر تیار نہ ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے طور پہاڑ کو اٹھا کر ان کے سروں پر کھڑا کردیا اور فرمایا کہ تورات پر عمل کرنے کا عہد کرو ورنہ پہاڑ گرا کر تمہیں ہلاک کردیا جائیگا تو اس پر سب نے تورات پر عمل کرنے کا عہد کیا۔ یہاں سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ دین میں تو جبرواکراہ نہیں تو پھر اسرائیلیوں پر پہاڑ لٹکا کر انہیں تورات پر عمل کرنے پر کیوں مجبور کیا گیا۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ابتداء قبول اسلام پر کسی کو مجبور کرنے کی اسلام میں قطعاً کوئی اجازت نہیں البتہ قبول اسلام کے بعد اگر کوئی شخص اسلام کے دستور حیات سے بغاوت کرے گا تو اسے ہرگز برداشت نہیں کیا جائیگا۔ اسلام صرف چند مذہبی رسوم و احکام کا نام نہیں بلکہ وہ احکم الحاکمین کی حکومت سلطنت کا کامل دستور اور مکمل آئین ہے اس لیے اسے قبول کرنے کے بعد اس سے بغاوت کو بشرط ضرورت جبرواکراہ اور قوت و طاقت کے ذریعے روکا جائیگا بشرطیکہ حکومت اسلامی ہو۔ جیسا کہ دنیا کی تمام حکومتوں کا اصول ہے کہ وہ اپنے دستور اور آئین سے بغاوت وسرکشی کو کسی قیمت پر برداشت نہیں کرسکتیں۔ اسرائیلی چونکہ اسلام قبول کرچکے تھے اور اب اس کے دستور یعنی توراۃ سے جو اس وقت اسلام کا دستور تھا۔ سے بغاوت کر رہے تھے۔ اس لیے اسے برداشت نہیں کیا گیا اور بجبر واکراہ ان سے تورات پر عمل کرنے کا عہد لیا گیا۔132 ۔ اس سے پہلے قُلْنَا محذوف ہے یعنی ہم نے کوہ طور ان کے اوپر کھڑا کر کے ان سے کہا کہ تورات کی صورت میں جو احکام ہم نے تمہیں دئیے ہیں ان کی سختی سے پابندی کرو۔ وَّاذْكُرُوْا مَا فِيْهِ ۔ اور اس کتاب کو درس و تدریس کے ذریعے یاد رکھو۔ اس میں غور وفکر کرو اور اس کے امر ونہی پر عمل کرو واحفظوا ما فیہ وادرسوہ ولا تنسوہ ولا تغفلوا عنہ (مدارک ص 43 ج 1، کبیر ص 552 ج 1) ای تدبروہ واحفظوا وامرہ ووعیدہ ولا تنسو ولا تضیعوہ (قرطبی ص 437 ج 1) لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ ۔ تاکہ تم دنیا کی تباہی اور آخرت کے عذاب سے بچ سکول کی تنجوا من الہلاک فی الدنیا والعذاب فی العقبی (معالم ص 58 ج 1)

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi