Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 76

سورة البقرة

وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا قَالُوۡۤا اٰمَنَّا ۚ ۖ وَ اِذَا خَلَا بَعۡضُہُمۡ اِلٰی بَعۡضٍ قَالُوۡۤا اَتُحَدِّثُوۡنَہُمۡ بِمَا فَتَحَ اللّٰہُ عَلَیۡکُمۡ لِیُحَآجُّوۡکُمۡ بِہٖ عِنۡدَ رَبِّکُمۡ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۷۶﴾

And when they meet those who believe, they say, "We have believed"; but when they are alone with one another, they say, "Do you talk to them about what Allah has revealed to you so they can argue with you about it before your Lord?" Then will you not reason?

جب ایمان والوں سے ملتے ہیں تو اپنی ایمانداری ظاہر کرتے ہیں اور جب آپس میں ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ مسلمانوں کو کیوں وہ باتیں پہنچاتے ہو جو اللہ تعالٰی نے تمہیں سکھائی ہیں ، کیا جانتے نہیں یہ تو اللہ تعالٰی کے پاس تم پر ان کی حجت ہو جائے گی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَإِذَا لَقُواْ الَّذِينَ امَنُواْ قَالُواْ امَنَّا وَإِذَا خَلَ بَعْضُهُمْ إِلَىَ بَعْضٍ ... And when they (Jews) meet those who believe (Muslims), they say, "We believe", but when they meet one another in private..., Muhammad bin Ishaq reported that Ibn `Abbas commented, وَإِذَا لَقُواْ الَّذِينَ امَنُواْ قَالُواْ امَنَّا (And when they (Jews) meet those who believe (Muslims), they say, "We believe"), "They believe that Muhammad is the Messenger of Allah, `But he was only sent for you (Arabs)."' ... قَالُواْ أَتُحَدِّثُونَهُم بِمَا فَتَحَ اللّهُ عَلَيْكُمْ لِيُحَأجُّوكُم بِهِ عِندَ رَبِّكُمْ ... they say, "Shall you (Jews) tell them (Muslims) what Allah has revealed to you, that they (Muslims) may argue with you (Jews) about it before your Lord." However, when they meet each other they say, "Do not convey the news about this Prophet to the Arabs, because you used to ask Allah to grant you victory over them when he came, but he was sent to them (not to you)." Allah then revealed, وَإِذَا لَقُواْ الَّذِينَ امَنُواْ قَالُواْ امَنَّا وَإِذَا خَلَ بَعْضُهُمْ إِلَىَ بَعْضٍ قَالُواْ أَتُحَدِّثُونَهُم بِمَا فَتَحَ اللّهُ عَلَيْكُمْ لِيُحَأجُّوكُم بِهِ عِندَ رَبِّكُمْ أَفَلَ تَعْقِلُونَ And when they (Jews) meet those who believe (Muslims), they say, "We believe," but when they meet one another in private, they say, "Shall you (Jews) tell them (Muslims) what Allah has revealed to you, that they (Muslims) may argue with you (Jews) about it before your Lord." meaning, "If you admit to them that he is a Prophet, knowing that Allah took the covenant from you to follow him, they will know that Muhammad is the Prophet that we were waiting for and whose coming we find foretold of in our Book. Therefore, do not believe in him and deny him." Al-Hasan Al-Basri said, "When the Jews met the believers they used to say, `We believe.' When they met each other, some of them would say, `Do not talk to the companions of Muhammad about what Allah has foretold in your Book, so that the news (that Muhammad is the Final Messenger) does not become a proof for them against you with your Lord, and, thus, you will win the dispute."' ... أَفَلَ تَعْقِلُونَ Have you (Jews) then no understanding! Allah said, أَوَلاَ يَعْلَمُونَ أَنَّ اللّهَ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

76۔ 1 یہ بعض یہودیوں کے منافقانہ کردار کی نقاب کشائی ہو رہی ہے کہ وہ مسلمانوں میں تو اپنے ایمان کا اظہار کرتے لیکن جب آپس میں ملتے تو ایک دوسرے کو اس بات پر ملامت کرتے کہ تم مسلمانوں کو اپنی کتاب کی ایسی باتیں کیوں بتاتے ہو جس سے رسول عربی کی صداقت واضح ہوتی ہے۔ اس طرح تم خود ہی ایک ایسی حجت ان کے ہاتھ میں دے رہے ہو جو وہ تمہارے خلاف بارگاہ الٰہی میں پیش کرینگے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٩٠] اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہچاننے کے لیے تورات وغیرہ میں خاصا مواد موجود تھا۔ جسے یہ لوگ نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مدینہ آنے سے پہلے لوگوں میں مشہور کرچکے تھے اور ان میں کچھ لوگ نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مدینہ تشریف لانے کے بعد بھی بیان کردیتے تھے اور ان سے کہہ دیتے کہ ہم بھی اس پیغمبر پر ایمان لاتے ہیں۔ مگر وہ جب اپنے گرو گھنٹالوں کے ہاں جاتے تو وہ انہیں یہ کہتے کہ تم مسلمانوں کو تورات کی ایسی باتیں کیوں بتاتے ہو جو تمہارے اپنے خلاف جاتی ہیں۔ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اللہ کے حضور مسلمان تم پر حجت قائم کردیں کہ یہ لوگ پورا علم ہونے کے باوجود بھی ایمان نہ لائے تھے۔ مسلمانوں سے بات کرنے سے پہلے کچھ سوچ تو لیا کرو۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

یہود کی اخلاقی پستی اور اللہ تعالیٰ سے بےخوفی کا یہ عالم تھا کہ ان میں سے بعض لوگ جب مسلمانوں سے ملتے تو اپنے ایمان کا دعویٰ کرتے اور ازراہ نفاق و خوشامد ان سے ان علامتوں اور پیشین گوئیوں کا تذکرہ بھی کرتے جو تورات اور ان کی دوسری کتابوں میں نبی آخر الزمان کے متعلق موجود تھیں، لیکن جب وہ آپس میں ملتے تو ایک دوسرے کو ملامت کرتے کہ تم ان مسلمانوں کو وہ باتیں کیوں بتاتے ہو جو اللہ نے صرف تمھی کو بتائی ہیں ؟ کیا تم نہیں سمجھتے کہ یہ مسلمان آخرت میں اللہ کے پاس تمہاری اپنی دی ہوئی معلومات کی بنا پر تم پر حجت قائم کریں گے اور جھگڑیں گے کہ تم نبی آخر الزمان کو جاننے اور پہچان لینے کے باوجود ان پر ایمان نہیں لائے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Some of the Jews, seeing the growing power of the Muslims in Madinah and around it, pretended to have accepted Islam. In order to assure the Muslims of their sincerity and to win their favour, these hypocrites would now and then disclose to them that the Torah itself had given out the good tidings of the coming of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and mentioned the Holy Qur&an. But when they met other Jews who openly declared their adherence to Judaism, they would admit that they were only trying to deceive the Muslims, and were otherwise quite loyal to their own faith. On such occasions, those of the other group used to reprimand them for revealing to the Muslims what they themselves were trying to keep concealed, for a knowledge of the relevant verses of the Torah could be very useful for the Muslims in order to defeat the Jews in their argument.

خلاصہ تفسیر : اور جب ملتے ہیں (منافقین یہود) مسلمانوں سے تو (ان سے تو) کہتے ہیں کہ ہم بھی ایمان لے آئے ہیں اور جب تنہائی میں جاتے ہیں یہ بعضے (منافق یہودی) دوسرے بعضے (علانیہ) یہودیوں کے پاس (تو ان سے ان کو معیت و ہم مشربی کے مدعی ہوتے ہیں اس وقت) وہ (دوسرے یہودی) ان سے کہتے ہیں کہ تم (یہ) کیا (غضب کرتے ہو کہ) مسلمانوں کو (خوشامد میں) وہ باتیں بتلا دیتے ہو جو ( ان کے مفید مذہب) اللہ تعالیٰ نے (تورات میں) تم پر منکشف کردی ہیں (مگر ہم بمصلحت پوشیدہ رکھتے ہیں) نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ لوگ تم کو حجت میں مغلوب کردیں گے کہ (دیکھو) یہ مضمون اللہ کے پاس (سے تمہاری کتاب میں آیا) ہے کیا تم (اتنی موٹی سی بات) نہیں سمجھتے، فائدہ : منافقین کبھی ایک آدھ بات خوشامد میں اپنے ایمان کی سچائی جتلانے کے لئے مسلمانوں سے کہہ دیتے تھے کہ تورات میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق بشارت آئی ہے یا قرآن مجید کے متعلق خبر آئی ہے وغیرہ وغیرہ، اس پر دوسرے لوگ ان کو ملامت کرتے تھے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِذَا لَقُوا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْٓا اٰمَنَّا۝ ٠ ۚ ۖ وَاِذَا خَلَا بَعْضُھُمْ اِلٰى بَعْضٍ قَالُوْٓا اَتُحَدِّثُوْنَھُمْ بِمَا فَتَحَ اللہُ عَلَيْكُمْ لِـيُحَاۗجُّوْكُمْ بِہٖ عِنْدَ رَبِّكُمْ۝ ٠ ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۝ ٧٦ إذا إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له ( اذ ا ) اذ ا ۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11) اذمااتیت علی الرسول فقل لہ جب تو رسول اللہ کے پاس جائے تو ان سے کہنا ۔ اذا کی مختلف صورتیں ہیں :۔ (1) یہ ظرف زمان ہے۔ ( زجاج، ریاشی) (2) یہ ظرف مکان ہے۔ ( مبرد، سیبوبہ) (3) اکثر و بیشتر اذا شرط ہوتا ہے۔ مفسرین نے تینوں معنوں میں اس کا استعمال کیا ہے۔ (1) ظرف زمان : اور جب تو وہاں ( کی نعمتیں) دیکھے گا۔ تو تجھ کو وہاں بڑی نعمت اور شاہی سازو سامان نظر آئے گا۔ ( تفسیر حقانی) (2) ظرف مکان : اور جدھر بھی تم وہاں دیکھو گے تمہیں نعمتیں ہی نعمتیں اور وسیع مملکت نظر آئے گی۔ ( تفسیر ضیاء القرآن) (3) اذا شرطیہ۔ اور اگر تو اس جگہ کو دیکھے توتجھے بڑی نعمت اور بڑی سلطنت دکھائی دے۔ ( تفسیر ماجدی) لقی اللِّقَاءُ : مقابلة الشیء ومصادفته معا، وقد يعبّر به عن کلّ واحد منهما، يقال : لَقِيَهُ يَلْقَاهُ لِقَاءً ولُقِيّاً ولُقْيَةً ، ويقال ذلک في الإدراک بالحسّ ، وبالبصر، وبالبصیرة . قال : لَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَلْقَوْهُ [ آل عمران/ 143] ، وقال : لَقَدْ لَقِينا مِنْ سَفَرِنا هذا نَصَباً [ الكهف/ 62] . ومُلَاقَاةُ اللہ عز وجل عبارة عن القیامة، وعن المصیر إليه . قال تعالی: وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ مُلاقُوهُ [ البقرة/ 223] ( ل ق ی ) لقیہ ( س) یلقاہ لقاء کے معنی کسی کے سامنے آنے اور اسے پالینے کے ہیں اور ان دونوں معنی میں سے ہر ایک الگ الگ بھی بولاجاتا ہے اور کسی چیز کا حس اور بصیرت سے ادراک کرلینے کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : لَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَلْقَوْهُ [ آل عمران/ 143] اور تم موت ( شہادت ) آنے سے پہلے اس کی تمنا کیا کرتے تھے اور ملاقات الہی سے مراد قیامت کا بپا ہونا اور اللہ تعالیٰ کے پاس چلے جانا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ مُلاقُوهُ [ البقرة/ 223] اور جان رکھو کہ ایک دن تمہیں اس کے دوبرو حاضر ہونا ہے ۔ خلا الخلاء : المکان الذي لا ساتر فيه من بناء ومساکن وغیرهما، والخلوّ يستعمل في الزمان والمکان، لکن لما تصوّر في الزمان المضيّ فسّر أهل اللغة : خلا الزمان، بقولهم : مضی الزمان وذهب، قال تعالی: وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدخَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ [ آل عمران/ 144] وَقَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمُ الْمَثُلاتُ [ الرعد/ 6] ، تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ [ البقرة/ 141] ، قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ سُنَنٌ [ آل عمران/ 137] ، إِلَّا خَلا فِيها نَذِيرٌ [ فاطر/ 24] ، مَثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ [ البقرة/ 214] ، وَإِذا خَلَوْا عَضُّوا عَلَيْكُمُ الْأَنامِلَ مِنَ الْغَيْظِ [ آل عمران/ 119] ، وقوله : يَخْلُ لَكُمْ وَجْهُ أَبِيكُمْ [يوسف/ 9] ، أي : تحصل لکم مودّة أبيكم وإقباله عليكم . وخَلَا الإنسان : صار خَالِياً ، وخَلَا فلان بفلان : صار معه في خَلَاءٍ ، وخَلَا إليه : انتهى إليه في خلوة، قال تعالی: وَإِذا خَلَوْا إِلى شَياطِينِهِمْ [ البقرة/ 14] ، وخلّيت فلانا : تركته في خَلَاءٍ ، ثم يقال لكلّ ترک تخلية، نحو : فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ [ التوبة/ 5] ، وناقة خَلِيَّة : مُخْلَاة عن الحلب، وامرأة خَلِيَّة : مخلاة عن الزّوج، وقیل للسّفينة المتروکة بلا ربّان خَلِيَّة، والخَلِيُّ : من خلّاه الهمّ ، نحو المطلّقة في قول الشاعر : مطلّقة طورا وطورا تراجع والخلَاءُ : الحشیش المتروک حتّى ييبس، ويقال : خَلَيْتُ الخَلَاءَ : جززته، وخَلَيْتُ الدّابة : جززت لها، ومنه استعیر : سيف يَخْتَلِي، أي : يقطع ما يضرب به قطعه للخلا . ( خ ل و ) الخلاء ۔ خالی جگہ جہاں عمارت و مکان وغیرہ نہ ہو اور الخلو کا لفظ زمان و مکان دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ چونکہ زمانہ میں مضی ( گذرنا ) کا مفہوم پایا جاتا ہے اس لئے اہل لغت خلاالزفان کے معنی زمانہ گزر گیا کرلیتے ہیں ۔ قرآن میں ہے :۔ وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْخَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ [ آل عمران/ 144] اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) تو صرف ( خدا کے ) پیغمبر ہیں ان سے پہلے بھی بہت سے پیغمبر ہوگزرے ہیں ۔ وَقَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمُ الْمَثُلاتُ [ الرعد/ 6] حالانکہ اس سے پہلے عذاب ( واقع ) ہوچکے ہیں ۔ تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ [ البقرة/ 141] یہ جماعت گزر چگی ۔ تم لوگوں سے پہلے بھی بہت سے واقعات گزر چکے ہیں ۔ إِلَّا خَلا فِيها نَذِيرٌ [ فاطر/ 24] مگر اس میں ہدایت کرنے والا گزر چکا ہے ۔ مَثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ [ البقرة/ 214] تم کو پہلے لوگوں کی سی ۔ وَإِذا خَلَوْا عَضُّوا عَلَيْكُمُ الْأَنامِلَ مِنَ الْغَيْظِ [ آل عمران/ 119] اور جب الگ ہوتے ہیں تو تم پر غصے کے سبب انگلیاں کاٹ کاٹ کھاتے ہیں ۔ اور آیت کریمہ :۔ يَخْلُ لَكُمْ وَجْهُ أَبِيكُمْ [يوسف/ 9] پھر ابا کی توجہ تمہاری طرف ہوجائے گی ۔ کے معنی یہ ہیں کہ پھر تمہارے ابا کی محبت اور توجہ صرف تمہارے ہی لئے ۔ رہ جائے گی ۔ خلا الانسان ۔ تنہا ہونا ۔ خلافلان بفلان کسی کے ساتھ تنہا ہونا ۔ خلا الیہ کسی کے پاس خلوت میں پہنچنا ۔ قرآن میں ہے :۔ وَإِذا خَلَوْا إِلى شَياطِينِهِمْ [ البقرة/ 14] اور جب اپنے شیطانوں میں جاتے ہیں ۔ خلت فلانا کے اصل معنی کسی کو خالی جگہ میں چھوڑ دینے کے ہیں ۔ پھر عام چھوڑ دینے کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے ۔ فرمایا :۔ فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ [ التوبة/ 5] تو ان کی راہ چھوڑ دو ۔ ناقۃ خلیۃ ۔ اونٹنی کو دودھ دوہنے سے آزاد چھوڑ دینا ۔ امراءۃ خلیۃ مطلقہ عورت جو خاوند کی طرف سے آزاد چھوڑ دی اور جو کشتی ملاحوں کے بغیر چل رہی ہو اسے بھی خلیۃ کہا جاتا ہے ۔ الخلی جو غم سے خالی ہو ۔ جیسا کہ مطلقۃ کا لفظ سکون و اطمینان کے معنی میں آجاتا ہے ۔ چناچہ شاعر نے ( طویل ) (146) تطلقۃ طورا طورا تراجع میں ( کسی اسے سکون ہوجاتا ہے اور کبھی وہ دو ( عود کر آتی ہے ) میں تطلقۃ کا لفظ اسی معنی میں استعمال کیا ہے ۔ الخلاء ۔ خشک گھاس ۔ کہاجاتا ہے :۔ خلیت الخلاء ۔ میں نے خشک گھاس کاٹی ۔ خلیت الدابۃ ۔ جانور کو خشک گھاس ڈالی ۔ سیف یختلی ۔ تیز تلوار جو گھاس کی طرح ہر چیز کو کاٹ ڈالے ۔ حدث الحدوث : كون الشیء بعد أن لم يكن، عرضا کان ذلک أو جوهرا، وإِحْدَاثه : إيجاده . وإحداث الجواهر ليس إلا لله تعالی، والمُحدَث : ما أوجد بعد أن لم يكن، وذلک إمّا في ذاته، أو إحداثه عند من حصل عنده، نحو : أحدثت ملکا، قال تعالی: ما يَأْتِيهِمْ مِنْ ذِكْرٍ مِنْ رَبِّهِمْ مُحْدَثٍ [ الأنبیاء/ 2] ، ويقال لكلّ ما قرب عهده محدث، فعلا کان أو مقالا . قال تعالی: حَتَّى أُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْراً [ الكهف/ 70] ، وقال : لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذلِكَ أَمْراً [ الطلاق/ 1] ، وكلّ کلام يبلغ الإنسان من جهة السمع أو الوحي في يقظته أو منامه يقال له : حدیث، قال عزّ وجلّ : وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلى بَعْضِ أَزْواجِهِ حَدِيثاً [ التحریم/ 3] ( ح د ث ) الحدوث ) ( ن) کے معنی ہیں کسی ایسی چیز کو جود میں آنا جو پہلے نہ ہو عام اس سے کہ وہ جوہر ہو یا عرض اور احداث صرف ذات باری تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے ۔ محدث ( صیغہ صفت مفعول ) ہر وہ چیز جو عدم سے وجود میں آئی ہو اور کسی چیز کا احداث کبھی تو نفس شے کے اعتبار سے ہوتا ہے اور کبھی اس شخص کے اعتبار سے ہوتا ہے ۔ جسے وہ حاصل ہوئی ہو ۔ جیسے ۔ احدثت ملکا ) میں نے نیا ملک حاصل کیا ) چناچہ آیت کریمۃ ؛۔ ما يَأْتِيهِمْ مِنْ ذِكْرٍ مِنْ رَبِّهِمْ مُحْدَثٍ [ الأنبیاء/ 2] ان کے پاس کوئی نئی نصیحت ان کے پروردگار کی طرف سے نہیں آتی ( میں اسی دوسرے معنی کے اعتبار ذکر کو محدث کہا گیا ہے اور ہر وہ قول و فعل جو نیا ظہور پذیر ہوا ہو اسے بھی محدث کہہ دیتے ہیں ۔ قرآن میں ہے :۔ حَتَّى أُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْراً [ الكهف/ 70] جب تک میں خود ہی پہل کرکے تجھ سے بات نہ کروں ۔ لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذلِكَ أَمْراً [ الطلاق/ 1] شاید خدا اس کے بعد کوئی ( رجعت کی ) سبیل پیدا کردے ۔ ہر وہ بات جو انسان تک سماع یا وحی کے ذریعہ پہنچے اسے حدیث کہا جاتا ہے عام اس سے کہ وہ وحی خواب میں ہو یا بحالت بیداری ) قرآن میں ہے ؛وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلى بَعْضِ أَزْواجِهِ حَدِيثاً [ التحریم/ 3] اور ( یاد کرو ) جب پیغمبر نے اپنی ایک بی بی سے ایک بھید کی بات کہی ۔ ما مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف . فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع . فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] . الثاني : نكرة . نحو : نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ [ النساء/ 58] أي : نعم شيئا يعظکم به، وقوله : فَنِعِمَّا هِيَ [ البقرة/ 271] فقد أجيز أن يكون ما نكرة في قوله : ما بَعُوضَةً فَما فَوْقَها [ البقرة/ 26] ، وقد أجيز أن يكون صلة، فما بعده يكون مفعولا . تقدیره : أن يضرب مثلا بعوضة الثالث : الاستفهام، ويسأل به عن جنس ذات الشیء، ونوعه، وعن جنس صفات الشیء، ونوعه، وقد يسأل به عن الأشخاص، والأعيان في غير الناطقین . وقال بعض النحويين : وقد يعبّر به عن الأشخاص الناطقین کقوله تعالی: إِلَّا عَلى أَزْواجِهِمْ أَوْ ما مَلَكَتْ أَيْمانُهُمْ [ المؤمنون/ 6] ، إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ [ العنکبوت/ 42] وقال الخلیل : ما استفهام . أي : أيّ شيء تدعون من دون اللہ ؟ وإنما جعله كذلك، لأنّ «ما» هذه لا تدخل إلّا في المبتدإ والاستفهام الواقع آخرا . الرّابع : الجزاء نحو : ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها، وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُ الآية [ فاطر/ 2] . ونحو : ما تضرب أضرب . الخامس : التّعجّب نحو : فَما أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ [ البقرة/ 175] . وأمّا الحروف : فالأوّل : أن يكون ما بعده بمنزلة المصدر كأن الناصبة للفعل المستقبَل . نحو : وَمِمَّا رَزَقْناهُمْ يُنْفِقُونَ [ البقرة/ 3] فإنّ «ما» مع رَزَقَ في تقدیر الرِّزْق، والدّلالة علی أنه مثل «أن» أنه لا يعود إليه ضمیر لا ملفوظ به ولا مقدّر فيه، وعلی هذا حمل قوله : بِما کانُوا يَكْذِبُونَ [ البقرة/ 10] ، وعلی هذا قولهم : أتاني القوم ما عدا زيدا، وعلی هذا إذا کان في تقدیر ظرف نحو : كُلَّما أَضاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ [ البقرة/ 20] ، كُلَّما أَوْقَدُوا ناراً لِلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ [ المائدة/ 64] ، كُلَّما خَبَتْ زِدْناهُمْ سَعِيراً [ الإسراء/ 97] . وأما قوله : فَاصْدَعْ بِما تُؤْمَرُ [ الحجر/ 94] فيصحّ أن يكون مصدرا، وأن يكون بمعنی الذي . واعلم أنّ «ما» إذا کان مع ما بعدها في تقدیر المصدر لم يكن إلّا حرفا، لأنه لو کان اسما لعاد إليه ضمیر، وکذلک قولک : أريد أن أخرج، فإنه لا عائد من الضمیر إلى أن، ولا ضمیر لهابعده . الثاني : للنّفي وأهل الحجاز يعملونه بشرط نحو : ما هذا بَشَراً [يوسف/ 31] «1» . الثالث : الکافّة، وهي الدّاخلة علی «أنّ» وأخواتها و «ربّ» ونحو ذلك، والفعل . نحو : إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] ، إِنَّما نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدادُوا إِثْماً [ آل عمران/ 178] ، كَأَنَّما يُساقُونَ إِلَى الْمَوْتِ [ الأنفال/ 6] وعلی ذلك «ما» في قوله : رُبَما يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الحجر/ 2] ، وعلی ذلك : قَلَّمَا وطَالَمَا فيما حكي . الرابع : المُسَلِّطَة، وهي التي تجعل اللفظ متسلِّطا بالعمل، بعد أن لم يكن عاملا . نحو : «ما» في إِذْمَا، وحَيْثُمَا، لأنّك تقول : إذما تفعل أفعل، وحیثما تقعد أقعد، فإذ وحیث لا يعملان بمجرَّدهما في الشّرط، ويعملان عند دخول «ما» عليهما . الخامس : الزائدة لتوکيد اللفظ في قولهم : إذا مَا فعلت کذا، وقولهم : إمّا تخرج أخرج . قال : فَإِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ أَحَداً [ مریم/ 26] ، وقوله : إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُما أَوْ كِلاهُما[ الإسراء/ 23] . ( ما ) یہ عربی زبان میں دو قسم پر ہے ۔ اسمی اور حر فی پھر ہر ایک پانچ قسم پر ہے لہذا کل دس قسمیں ہیں ( 1 ) ما اسمی ہو تو واحد اور تذکیر و تانیث کے لئے یکساں استعمال ہوتا ہے ۔ پھر لفظا مفرد ہونے کے لحاظ سے اس کی طرف ضمیر مفرد بھی لوٹ سکتی ہے ۔ اور معنی جمع ہونے کی صورت میں ضمیر جمع کا لانا بھی صحیح ہوتا ہے ۔ یہ ما کبھی بمعنی الذی ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا ۔ وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] اور یہ ( لوگ ) خدا کے سوا ایسی چیزوں کی پر ستش کرتے ہیں جو نہ ان کا کچھ بگاڑ سکتی ہیں ۔ تو یہاں ما کی طرف یضر ھم میں مفرد کی ضمیر لوٹ رہی ہے اس کے بعد معنی جمع کی مناسب سے هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] آگیا ہے اسی طرح آیت کریمہ : ۔ وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] اور خدا کے سوا ایسوں کو پوجتے ہیں جوان کو آسمانوں اور زمین میں روزیدینے کا ذرہ بھی اختیار نہیں رکھتے میں بھی جمع کے معنی ملحوظ ہیں اور آیت کریمہ : ۔ بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] کہ تمہارا ایمان تم کو بری بات بتاتا ہے ۔ میں بھی جمع کے معنی مراد ہیں اور کبھی نکرہ ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ [ النساء/ 58] بہت خوب نصیحت کرتا ہے ۔ تو یہاں نعما بمعنی شیئا ہے نیز فرمایا : ۔ فَنِعِمَّا هِيَ [ البقرة/ 271] تو وہ بھی خوب ہیں ایت کریمہ : ما بَعُوضَةً فَما فَوْقَها[ البقرة/ 26] کہ مچھر یا اس سے بڑھ کر کیس چیز کی میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ما نکرہ بمعنی شیاء ہو اور یہ بھی کہ ماصلہ ہو اور اس کا ما بعد یعنی بعوضۃ مفعول ہو اور نظم کلام دراصل یوں ہو أن يضرب مثلا بعوضة اور کبھی استفھا فیہ ہوتا ہے اس صورت میں کبھی کبھی چیز کی نوع یا جنس سے سوال کے لئے آتا ہے اور کبھی کسی چیز کی صفات جنسیہ یا نوعیہ کے متعلق سوال کے لئے آتا ہے اور کبھی غیر ذوی العقول اشخاص اور اعیان کے متعلق سوال کے لئے بھی آجاتا ہے ۔ بعض علمائے نحو کا قول ہے کہ کبھی اس کا اطلاق اشخاص ذوی العقول پر بھی ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ إِلَّا عَلى أَزْواجِهِمْ أَوْ ما مَلَكَتْ أَيْمانُهُمْ [ المؤمنون/ 6] مگر ان ہی بیویوں یا ( کنیزوں سے ) جو ان کی ملک ہوتی ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ [ العنکبوت/ 42] جس چیز کو خدا کے سوا پکارتے ہیں خواہ وہ کچھ ہی ہو خدا اسے جانتا ہے ۔ میں خلیل نے کہا ہے کہ ماتدعون میں ما استفہامیہ ہے ای شئی تدعون من دون اللہ اور انہوں نے یہ تکلف اس لئے کیا ہے کہ یہ ہمیشہ ابتداء کلام میں واقع ہوتا ہے اور مابعد کے متعلق استفہام کے لئے آتا ہے ۔ جو آخر میں واقع ہوتا ہے جیسا کہ آیت : ۔ ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها، وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُالآية [ فاطر/ 2] خدا جو اپنی رحمت کا در وازہ کھول دے اور مثال ماتضرب اضرب میں ہے ۔ اور کبھی تعجب کے لئے ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ فَما أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ [ البقرة/ 175] یہ ( آتش جہنم کیسی بر داشت کرنے والے ہیں ۔ ما حرفی ہونے کی صورت میں بھی پانچ قسم پر ہے اول یہ کہ اس کا بعد بمنزلہ مصدر کے ہو جیسا کہ فعل مستقبل پر ان ناصبہ داخل ہونے کی صورت میں ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ وَمِمَّا رَزَقْناهُمْ يُنْفِقُونَ [ البقرة/ 3] اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں ۔ تو یہاں ما رزق بمعنی رزق مصدر کے ہے اور اس ما کے بمعنی ان مصدر یہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اس کی طرف کہیں بھی لفظا ما تقدیر اضمیر نہیں لوٹتی ۔ اور آیت کریمہ : ۔ بِما کانُوا يَكْذِبُونَ [ البقرة/ 10] اور ان کے جھوٹ بولتے کے سبب ۔ میں بھی ما مصدر ری معنی پر محمول ہے ۔ اسی طرح اتانیالقوم ماعدا زیدا میں بھی ما مصدر یہ ہے اور تقدیر ظرف کی صورت میں بھی ما مصدر یہ ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ كُلَّما أَضاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ [ البقرة/ 20] جب بجلی ( چمکتی اور ) ان پر روشنی ڈالتی ہے تو اس میں چل پڑتے ہیں ۔ كُلَّما أَوْقَدُوا ناراً لِلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ [ المائدة/ 64] یہ جب لڑائی کے لئے آگ جلاتے ہیں ۔ خدا اس کو بجھا دیتا ہے ۔ كُلَّما خَبَتْ زِدْناهُمْ سَعِيراً [ الإسراء/ 97] جب ( اس کی آگ ) بجھنے کو ہوگی تو ہم ان کو ( عذاب دینے ) کے لئے اور بھڑ کا دیں گے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ فَاصْدَعْ بِما تُؤْمَرُ [ الحجر/ 94] پس جو حکم تم کو ( خدا کی طرف سے ملا ہے وہ ( لوگوں ) کو سنا دو ۔ میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ما مصدر یہ ہوا اور یہ بھی کہ ما موصولہ بمعنی الذی ہو ۔ یاد رکھو کہ ما اپنے مابعد کے ساتھ مل کر مصدری معنی میں ہونے کی صورت میں ہمیشہ حرفی ہوتا ہے کیونکہ اگر وہ اسی ہو تو اس کی طرف ضمیر کا لوٹنا ضروری ہے پس یہ ارید ان اخرک میں ان کی طرح ہوتا ہے جس طرح ان کے بعد ضمیر نہیں ہوتی جو اس کی طرف لوٹ سکے اسی طرح ما کے بعد بھی عائد ( ضمیر نہیں آتی ۔ دوم ما نافیہ ہے ۔ اہل حجاز اسے مشروط عمل دیتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ ما هذا بَشَراً [يوسف/ 31] یہ آدمی نہیں ہے تیسرا ما کا فہ ہے جو ان واخواتھا اور ( رب کے ساتھ مل کر فعل پر داخل ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] خدا سے تو اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو صاحب علم ہیں ۔ إِنَّما نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدادُوا إِثْماً [ آل عمران/ 178] نہیں بلکہ ہم ان کو اس لئے مہلت دیتے ہیں کہ اور گناہ کرلیں ۔ كَأَنَّما يُساقُونَ إِلَى الْمَوْتِ [ الأنفال/ 6] گویا موت کی طرف دھکیلے جارہے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : ۔ رُبَما يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الحجر/ 2] کسی وقت کافر لوگ آرزو کریں گے ۔ میں بھی ما کافہ ہی ہے ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ قلما اور لما میں بھی ما کافہ ہوتا ہے ۔ چہارم ما مسلمۃ یعنی وہ ما جو کسی غیر عامل کلمہ کو عامل بنا کر مابعد پر مسلط کردیتا ہے جیسا کہ اذا ما وحیتما کا ما ہے کہ ما کے ساتھ مرکب ہونے سے قبل یہ کلمات غیر عاملہ تھے لیکن ترکیب کے بعد اسمائے شرط کا سا عمل کرتے ہیں اور فعل مضارع کو جز م دیتے ہیں جیسے حیثما نقعد اقعد وغیرہ پانچواں مازائدہ ہے جو محض پہلے لفظ کی توکید کے لئے آتا ہے جیسے اذا مافعلت کذا ( جب تم ایسا کرو ماتخرج اخرج اگر تم باہر نکلو گے تو میں بھی نکلو نگا قرآن پاک میں ہے : ۔ فَإِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ أَحَداً [ مریم/ 26] اگر تم کسی آدمی کو دیکھوں ۔ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُما أَوْ كِلاهُما [ الإسراء/ 23] اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھا پے کو پہنچ جائیں ۔ فتح الفَتْحُ : إزالة الإغلاق والإشكال، وذلک ضربان : أحدهما : يدرک بالبصر کفتح الباب ونحوه، وکفتح القفل والغلق والمتاع، نحو قوله : وَلَمَّا فَتَحُوا مَتاعَهُمْ [يوسف/ 65] ، وَلَوْ فَتَحْنا عَلَيْهِمْ باباً مِنَ السَّماءِ [ الحجر/ 14] . والثاني : يدرک بالبصیرة کفتح الهمّ ، وهو إزالة الغمّ ، وذلک ضروب : أحدها : في الأمور الدّنيويّة كغمّ يفرج، وفقر يزال بإعطاء المال ونحوه، نحو : فَلَمَّا نَسُوا ما ذُكِّرُوا بِهِ فَتَحْنا عَلَيْهِمْ أَبْوابَ كُلِّ شَيْءٍ [ الأنعام/ 44] ، أي : وسعنا، وقال : لَفَتَحْنا عَلَيْهِمْ بَرَكاتٍ مِنَ السَّماءِ وَالْأَرْضِ [ الأعراف/ 96] ، أي : أقبل عليهم الخیرات . والثاني : فتح المستغلق من العلوم، نحو قولک : فلان فَتَحَ من العلم بابا مغلقا، وقوله : إِنَّا فَتَحْنا لَكَ فَتْحاً مُبِيناً [ الفتح/ 1] ، قيل : عنی فتح مكّةوقیل : بل عنی ما فتح علی النّبيّ من العلوم والهدایات التي هي ذریعة إلى الثّواب، والمقامات المحمودة التي صارت سببا لغفران ذنوبه وفَاتِحَةُ كلّ شيء : مبدؤه الذي يفتح به ما بعده، وبه سمّي فاتحة الکتاب، وقیل : افْتَتَحَ فلان کذا : إذا ابتدأ به، وفَتَحَ عليه كذا : إذا أعلمه ووقّفه عليه، قال : أَتُحَدِّثُونَهُمْ بِما فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ [ البقرة/ 76] ، ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ [ فاطر/ 2] ، وفَتَحَ الْقَضِيَّةَ فِتَاحاً : فصل الأمر فيها، وأزال الإغلاق عنها . قال تعالی: رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنا وَبَيْنَ قَوْمِنا بِالْحَقِّ وَأَنْتَ خَيْرُ الْفاتِحِينَ [ الأعراف/ 89] ، ومنه الْفَتَّاحُ الْعَلِيمُ [ سبأ/ 26] ، قال الشاعر : بأني عن فَتَاحَتِكُمْ غنيّ وقیل : الفتَاحةُ بالضمّ والفتح، وقوله : إِذا جاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ [ النصر/ 1] ، فإنّه يحتمل النّصرة والظّفر والحکم، وما يفتح اللہ تعالیٰ من المعارف، وعلی ذلک قوله : نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] ، فَعَسَى اللَّهُ أَنْ يَأْتِيَ بِالْفَتْحِ [ المائدة/ 52] ، وَيَقُولُونَ مَتى هذَا الْفَتْحُ [ السجدة/ 28] ، قُلْ يَوْمَ الْفَتْحِ [ السجدة/ 29] ، أي : يوم الحکم . وقیل : يوم إزالة الشّبهة بإقامة القیامة، وقیل : ما کانوا يَسْتَفْتِحُونَ من العذاب ويطلبونه، ( ف ت ح ) الفتح کے معنی کسی چیز سے بندش اور پیچیدگی کو زائل کرنے کے ہیں اور یہ ازالہ دوقسم پر ہے ایک وہ جس کا آنکھ سے ادراک ہو سکے جیسے ۔ فتح الباب ( دروازہ کھولنا ) اور فتح القفل ( قفل کھولنا ) اور فتح المتاع ( اسباب کھولنا قرآن میں ہے ؛وَلَمَّا فَتَحُوا مَتاعَهُمْ [يوسف/ 65] اور جب انہوں نے اپنا اسباب کھولا ۔ وَلَوْ فَتَحْنا عَلَيْهِمْ باباً مِنَ السَّماءِ [ الحجر/ 14] اور اگر ہم آسمان کا کوئی دروازہ ان پر کھولتے ۔ دوم جس کا ادراک بصیرت سے ہو جیسے : فتح الھم ( یعنی ازالہ غم ) اس کی چند قسمیں ہیں (1) وہ جس کا تعلق دنیوی زندگی کے ساتھ ہوتا ہے جیسے مال وغیرہ دے کر غم وانددہ اور فقر و احتیاج کو زائل کردینا ۔ جیسے فرمایا : فَلَمَّا نَسُوا ما ذُكِّرُوا بِهِ فَتَحْنا عَلَيْهِمْ أَبْوابَ كُلِّ شَيْءٍ [ الأنعام/ 44] پھر جب انہوں ن اس نصیحت کو جو ان کو کی گئی تھی ۔ فراموش کردیا تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیئے ۔ یعنی ہر چیز کی فرادانی کردی ۔ نیز فرمایا : لَفَتَحْنا عَلَيْهِمْ بَرَكاتٍ مِنَ السَّماءِ وَالْأَرْضِ [ الأعراف/ 96] تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکات کے دروازے کھول دیتے ۔ یعنی انہیں ہر طرح سے آسودگی اور قارغ البالی کی نعمت سے نوازتے ۔ (2) علوم ومعارف کے دروازے کھولنا جیسے محاورہ ہے ۔ فلان فتح من العلم بابامغلقا فلاں نے طلم کا بندو دروازہ کھول دیا ۔ یعنی شہادت کو زائل کرکے ان کی وضاحت کردی ۔ اور آیت کریمہ :إِنَّا فَتَحْنا لَكَ فَتْحاً مُبِيناً [ الفتح/ 1] ( اے محمد ) ہم نے تم کو فتح دی اور فتح صریح وصاف ۔ میں بعض نے کہا ہے یہ فتح کی طرف اشارہ ہے اور بعض نے کہا ہے کہ نہیں بلکہ اس سے علوم ومعارف ار ان ہدایات کے دروازے کھولنا مراد ہے جو کہ ثواب اور مقامات محمودہ تک پہچنے کا ذریعہ بنتے ہیں اور آنحضرت کیلئے غفران ذنوب کا سبب ہے ۔ الفاتحۃ ہر چیز کے مبدء کو کہاجاتا ہے جس کے ذریعہ اس کے مابعد کو شروع کیا جائے اسی وجہ سے سورة فاتحہ کو فاتحۃ الکتاب کہاجاتا ہے ۔ افتح فلان کذ افلاں نے یہ کام شروع کیا فتح علیہ کذا کسی کو کوئی بات بتانا اور اس پر اسے ظاہر کردینا قرآن میں ہے : أَتُحَدِّثُونَهُمْ بِما فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ [ البقرة/ 76] جو بات خدا نے تم پر ظاہر فرمائی ہے وہ تم ان کو ۔۔۔ بتائے دیتے ہو ۔ ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ [ فاطر/ 2] جو لوگوں کیلئے ۔۔ کھولدے فتح القضیۃ فتاحا یعنی اس نے معاملے کا فیصلہ کردیا اور اس سے مشکل اور پیچیدگی کو دور کردیا ۔ قرآن میں ہے ؛ رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنا وَبَيْنَ قَوْمِنا بِالْحَقِّ وَأَنْتَ خَيْرُ الْفاتِحِينَ [ الأعراف/ 89] اے ہمارے پروردگار ہم میں اور ہماری قوم میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کردے اور تو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے ۔ اسی سے الْفَتَّاحُ الْعَلِيمُ [ سبأ/ 26] ہے یعن خوب فیصلہ کرنے والا اور جاننے والا یہ اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ سے ہے کسی شاعر نے کہا ہے ( الوافر) (335) وانی من فتاحتکم غنی اور میں تمہارے فیصلہ سے بےنیاز ہوں ۔ بعض نے نزدیک فتاحۃ فا کے ضمہ اور فتحہ دونوں کے ساتھ صحیح ہے اور آیت کریمہ : إِذا جاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ [ النصر/ 1] جب اللہ کی مدد آپہنچیں اور فتح حاصل ہوگئی ۔ میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ الفتح سے نصرت ، کامیابی اور حکم مراد ہو اور یہ بھی احتمال ہے کہ علوم ومعارف کے دروازے کھول دینا مراد ہو ۔ اسی معنی ہیں میں فرمایا : نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] ( یعنی تمہیں ) خدا کی طرف سے مدد ( نصیب ہوگی ) اور فتح عنقریب ( ہوگی ) فَعَسَى اللَّهُ أَنْ يَأْتِيَ بِالْفَتْحِ [ المائدة/ 52] تو قریب ہے خدا فتح بھیجے وَيَقُولُونَ مَتى هذَا الْفَتْحُ [ السجدة/ 28] اور کہتے ہیں ۔۔۔ یہ فیصلہ کب ہوگا ۔ قُلْ يَوْمَ الْفَتْحِ [ السجدة/ 29] کہدو کہ فیصلے کے دن ۔۔۔ یعنی حکم اور فیصلے کے دن بعض نے کہا ہے کہ الفتح سے قیامت بپا کرکے ان کے شک وشبہ کو زائل کرے کا دن مراد ہے اور بعض نے یوم عذاب مراد لیا ہے ۔ جسے وہ طلب کیا کرتے تھے حاجَّة : أن يطلب کلّ واحد أن يردّ الآخر عن حجّته ومحجّته، قال تعالی: وَحاجَّهُ قَوْمُهُ قالَ : أَتُحاجُّونِّي فِي اللَّهِ [ الأنعام/ 80] ، فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِنْ بَعْدِ ما جاءَكَ [ آل عمران/ 61] ، وقال تعالی: لِمَ تُحَاجُّونَ فِي إِبْراهِيمَ [ آل عمران/ 65] ، وقال تعالی: ها أَنْتُمْ هؤُلاءِ حاجَجْتُمْ فِيما لَكُمْ بِهِ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَاجُّونَ فِيما لَيْسَ لَكُمْ بِهِ عِلْمٌ [ آل عمران/ 66] ، وقال تعالی: وَإِذْ يَتَحاجُّونَ فِي النَّارِ [ غافر/ 47] ، وسمّي سبر الجراحة حجّا، قال الشاعر : 105 ۔ يحجّ مأمومة في قعرها لجف ۔ الحاجۃ ۔ اس جھگڑے کو کہتے ہیں جس میں ہر ایک دوسرے کو اس کی دلیل اور مقصد سے باز رکھنے کی کوشش کرتا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَحاجَّهُ قَوْمُهُ قالَ : أَتُحاجُّونِّي فِي اللَّهِ [ الأنعام/ 80] اور ان کی قوم ان سے بحث کرنے لگی تو انہوں نے کہا کہ تم مجھ سے خدا کے بارے میں ( کیا بحث کرتے ہو ۔ فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِنْ بَعْدِ ما جاءَكَ [ آل عمران/ 61] پھر اگر یہ عیسیٰ کے بارے میں تم سے جھگڑا کریں اور تم حقیقت الحال تو معلوم ہو ہی چکی ہے ۔ لِمَ تُحَاجُّونَ فِي إِبْراهِيمَ [ آل عمران/ 65] تم ابراہیم کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو ۔ ها أَنْتُمْ هؤُلاءِ حاجَجْتُمْ فِيما لَكُمْ بِهِ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَاجُّونَ فِيما لَيْسَ لَكُمْ بِهِ عِلْمٌ [ آل عمران/ 66] دیکھو ایسی بات میں تو تم نے جھگڑا کیا ہی تھا جس کا تمہیں کچھ علم تھا بھی مگر ایسی بات میں کیوں جھگڑتے ہو جس کا تم کو کچھ بھی علم نہیں ۔ وَإِذْ يَتَحاجُّونَ فِي النَّارِ [ غافر/ 47] اور جب وہ دوزخ میں جھگڑیں گے ۔ اور حج کے معنی زخم کی گہرائی ناپنا بھی آتے ہیں شاعر نے کہا ہے ع ( بسیط) یحج مامومۃ فی قھرھا لجف وہ سر کے زخم کو سلائی سے ناپتا ہے جس کا قعر نہایت وسیع ہے ۔ عند عند : لفظ موضوع للقرب، فتارة يستعمل في المکان، وتارة في الاعتقاد، نحو أن يقال : عِنْدِي كذا، وتارة في الزّلفی والمنزلة، وعلی ذلک قوله : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] ، ( عند ) ظرف عند یہ کسی چیز کا قرب ظاہر کرنے کے لئے وضع کیا گیا ہے کبھی تو مکان کا قرب ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے اور کبھی اعتقاد کے معنی ظاہر کرتا ہے جیسے عندی کذا اور کبھی کسی شخص کی قرب ومنزلت کے متعلق استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہے ۔ عقل العَقْل يقال للقوّة المتهيّئة لقبول العلم، ويقال للعلم الذي يستفیده الإنسان بتلک القوّة عَقْلٌ ، وهذا العقل هو المعنيّ بقوله : وَما يَعْقِلُها إِلَّا الْعالِمُونَ [ العنکبوت/ 43] ، ( ع ق ل ) العقل اس قوت کو کہتے ہیں جو قبول علم کے لئے تیار رہتی ہے اور وہ علم جو اس قوت کے ذریعہ حاصل کیا جاتا ہے ۔ اسے بھی عقل کہہ دیتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَما يَعْقِلُها إِلَّا الْعالِمُونَ [ العنکبوت/ 43] اور سے توا ہل دانش ہی سمجھتے ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٧٦) اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ کیا ان سرداروں کو یہ بات سمجھ نہیں آرہی کہ اللہ تعالیٰ ان تمام باتوں کو جن کو تم خفیہ رکھتے ہو اور ان باتوں کو جن کو تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام (رض) کے سامنے بیان کرتے ہو اچھی طرح جانتا ہے۔ شان نزول : (آیت ) ” واذا لقوالذین امنوا “۔ (الخ) جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قریظہ کے دن یہودیوں کے قلعوں کے نیچے کھڑے ہوئے اور فرمایا اے بندر اور خنزیروں کے بھائیو ! اور اے بتوں کے پجاریو ! یہ سن کر وہ آپس میں گفتگو کرنے لگے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان باتوں کے متعلق کس نے بتایا ہے یہ باتیں تم لوگوں ہی نے بتلائی ہیں، کیا ان باتوں کو آگے بیان کرتے ہو جن کو اللہ تعالیٰ نے تمہاری کتاب میں اتارا ہے ؟ تاکہ ان کے لیے تمہارے خلاف ایک دلیل قائم ہوجائے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی، اور ابن جریر (رح) ہی نے حضرت عکرمہ (رض) کے حوالہ سے عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ جب یہ یہودی مومنوں سے ملتے تو کہتے کہ ہم اس بات پر ایمان لاتے ہیں کہ تمہارے نبی اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں مگر وہ صرف تمہارے ہی لیے خاص ہیں اور جب تنہائی میں آپس میں ایک دوسرے سے ملاقات کرتے تو کہتے کہ کیا ان عربوں کے سامنے یہ بات کرتے ہو تم تو ان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وجہ سے اپنی فوقیت ظاہر کرتے تھے (کہ وہ نبی ہم ہی میں سے ہیں) اور یہ نبی آخرالزمان ان ہی لوگوں میں سے ہوگئے، تب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی، اور سدی سے روایت کیا گیا ہے کہ یہ آیت کریمہ یہودیوں کی ایک خاص جماعت کے متعلق اتری ہے جنہوں نے پہلے ایمان قبول کیا تھا پھر بعد میں منافق ہوگئے تھے اور عربوں میں سے مومنین کے پاس آکر وہ یہ بیان کرتے تھے تو ان کے بعض لوگوں نے کہا کہ کیا اس عذاب کو جاکر بیان کرتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے حق میں بیان کیا ہے تاکہ یہ لوگ کہنے لگیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کی نظر میں تم سے زیادہ پیارے اور تم سے زیادہ عزت دار ہیں۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح )

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٧٦ (وَاِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْٓا اٰمَنَّا ج) (وَاِذَا خَلاَ بَعْضُہُمْ اِلٰی بَعْضٍ ) (قَالُوْٓا اَتُحَدِّثُوْنَہُمْ بِمَا فَتَحَ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ ) (لِیُحَآجُّوْکُمْ بِہٖ عِنْدَ رَبِّکُمْ ط) (اَفَلاَ تَعْقِلُوْنَ ) ” “ تم ذرا عقل سے کام لو اور یہ حقیقتیں جو تورات کے ذریعے سے ہمیں معلوم ہیں ‘ مسلمانوں کو مت بتاؤ۔ کیا تمہیں عقل نہیں ہے کہ ایسا بیوقوفی کا کام کر رہے ہو ؟ ان کے اس مکالمے پر اللہ تعالیٰ کا تبصرہ یہ ہے :

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

88. When the Jews talked among themselves they asked their co-religionists to disclose to the Muslims neither the prophesies about the Prophet, nor those verses of the Scriptures on the basis of which they could be reproached for their evil conduct; they thought that the Muslims would make use of scriptural arguments against them before God, and would thus have them pronounced guilty. These were the depths to which Jewish relivious decadence had sunk. They were convinced that if they could succeed in concealing their guilt in this world, they would be saved from censure in the Next. For this reason they were asked if they considered God to be unaware of their deeds, either apparent or hidden.

سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :88 یعنی وہ آپس میں ایک دُوسرے سے کہتے تھے کہ تورات اور دیگر کتب آسمانی میں جو پیشین گوئیاں اس نبی کے متعلق موجود ہیں ، یا جو آیات اور تعلیمات ہماری مقدّس کتابوں میں ایسی ملتی ہیں جن سے ہماری موجودہ روش پر گرفت ہو سکتی ہو ، انہیں مسلمانوں کے سامنے بیان نہ کرو ، ورنہ یہ تمہارے رب کے سامنے ان کو تمہارے خلاف حُجّت کے طَور پر پیش کریں گے ۔ یہ تھا اللہ کے متعلق ان ظالموں کے فسادِ عقیدہ کا حال ۔ گویا وہ اپنے نزدیک یہ سمجھتے تھے کہ اگر دنیا میں وہ اپنی تحریفات اور اپنی حق پوشی کو چُھپالے گئے ، تو آخرت میں ان پر مقدّمہ نہ چل سکے گا ۔ اِسی لیے بعد کے جُملہء معترضہ میں ان کو تنبیہ کی گئی ہے کہ کیا تم اللہ کو بے خبر سمجھتے ہو ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

55: تورات میں آخر زمانے میں آنے والے نبی کی جو پیشینگوئیاں موجود تھیں وہ تمام تر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر صادق آتی تھیں، بعض منافق یہودی جو مسلمانوں کے سامنے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے تھے یہ پیشینگوئیاں مسلمانوں کو سنادیتے تھے اس پر دوسرے یہودی تنہائی میں ان کو ملامت کرتے تھے کہ مسلمان ان پیشینگوئیاں کو جان لیں گے تو قیامت میں ہمارے خلاف استعمال کریں گے اور ہمارے پاس ان کا کوئی جواب نہ ہوگا، ظاہر ہے کہ یہ انتہائی بے وقوفی کی بات تھی ؛ کیونکہ اگر مسلمانوں سے یہ پیشینگوئیاں چھپا بھی لی جائیں تو اللہ سے تو نہیں چھپ سکتیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(2:76) لقوا۔ ماضی جمع مذکر غایب۔ لقی ولقاء (باب سمع) مصدر، وہ ملے۔ مطلب یہ کہ جب وہ ملتے ہیں ۔ جب وہ سامنے آتے ہیں ۔ لقوا اصل میں لقیوا تھا۔ ی پر ضمہ دشوار تھا ماقبل کو دیا۔ ی بسبب اجتماع ساکین گرگئی۔ لقی مادہ۔ خلا ماضی واحد مذکر غائب خلاء (باب نصر) مصدر، بمعنی خلوت میں ہونا ۔ اکیلے ہونا ۔ خلا۔ وہ تنہا ہوا ۔ وہ اکیلا ہوا۔ وہ خلوت میں ہوا۔ مطلب۔ جب ان میں سے بعض دوسرے کے پاس خلوت میں ہوتے ہیں۔ (3:75) افتطمعون ان یؤمنوا لکم وقد کان فریق منھم یسمعون کلم اللہ ثم یحرفونہ من بعد ما عقلوہ وھم یعلمون ۔ ۔ أ ہمزہ استفہامیہ۔ ف۔ حرف عطف۔ تطمعون فعل بافاعل۔ ان مصدریہ۔ یؤمنوا فعل اس میں ھم ضمیر مستتر اس کا فاعل ۔ فعل اپنے فاعل سے مل کر ذوالحال لکم جار مجرور متعلق ہوا یؤمنوا فعل کے۔ واؤ حالیہ قد تحقیق کا۔ کان فعل ناقص۔ فریق موصوف منھم جار مجرور متعلق کائن محذوف کے کائن اپنے متعلق سے مل کر صفت ہوئی فریق موصوف کی۔ صفت موصوف سے مل کر اسم ہوا کان کا۔ یسمعون فعل اس میں ھم ضمیر اس کا فاعل کلام مضاف اللہ مضاف الیہ۔ مجاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مفعول ہوا فعل یسمعون کا فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر معطوف علیہ۔ ثم حرف عطف یحرفون۔ فعل مضارع ھم ضمیر اس کا فاعل ہ ضمیر مفعول۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر ذوالحلال من حرف جار بعد مضاف ما مصدریہ عقلوا فعل ھم ضمیر فاعل ہ ضمیر مفعول ۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ خیر یہ ہوکر ب تاویل مصدر مضاف الیہ ہوا بعد مضاف کا۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مجرور ہوا جار کا ۔ جار مجرور سے مل کر متعلق ہوا یحرفون کا۔ و۔ حالیہ ھم ضمیر مبتداء یعلمون فعل با فاعل۔ فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوکر خبر ہوئی مبتدا کی مبتدا خبر سے مل کر حال ہوا ذوالحال یحرفون کا ۔ یحرفون فعل اپنے فاعل (ھم) اور مفعول (ہ) اور متعلق (من بعد) سے مل کر معطوف ہوا۔ معطوف علیہ یسمعون کا۔ معطوف معطوف علیہ سے مل کر خبر ہوئی کان کی۔ کان اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوکر حال ہوا ذوالحلال (ان یؤمنوا) کا ۔ ان یؤمنوا فعل اپنے فاعل (ہم) اور متعلق (لکم) سے مل کر ب تاویل مصدر مفعول ہوا تطمعون کا۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہوا۔ اتحدثونھم : الف استفہامیہ ، تحدثون مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر، تحدیث (تفعیل) مصدر بمعنی باتیں کرنا۔ بیان کرنا۔ کہنا۔ ھم ضمیر جمع مذکر غائب (ضمیر کا مرجع مسلمان ہیں) کیا تم ان کو (مسلمانوں کو) بتا دیتے ہو۔ بما ۔ ب حرف جار ہے ما موصولہ فتح اللہ علیکم صلہ ہے اپنے موصول کا۔ موصول وصلہ مل کر مجرور ب کا۔ جار مجرور مل کر فعل تحدثون کے متعلق۔ لیحاجوکم میں لام کی کا ہء بمعنی تاکہ۔ یحاجوا فعل مجارع منصوب جمر مذکر غائب ، مھاجۃ (مفاعلۃ) مصدر کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ تاکہ وہ (یعنی مسلمان) جھگڑا کریں تم سے (یعنی اہل یہود سے) افلا تعقلون الف استفہامیہ ہے ف عاطفہ ۔ حرف استفہامیہ کے حرف عطف سے متقدم ہونے کے متعلق ملاحظہ ہو۔ (2:44) کیا تم نہیں سمجھتے۔ قالوا تحدثونھم ۔۔ تعقلون ۔ وہ (یعنی اہل یہود) کہتے ہیں (اپنے ساتھیوں سے خلوت میں) کیا تم ان کو (یعنی مسلمانوں کو) وہ باتیں بتاتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے تم پر کھولی ہیں (یعنی توراۃ میں جو باتیں دین اسلام کے برحق ہونے کے متعلق آئی ہیں) تاکہ وہ (یعنی مسلمان) تمہارے مقابلہ میں تمہارے رب کے حضور قیامت کے روز بطور حجت پیش کرسکیں۔ کیا تمہیں عقل نہیں ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 یہود کی اخلاقی پستی اور خدا سے بخوفی کا یہ عالم تھا کہ ان میں سے بعض لوگ جب مسلمانوں سے ملتے تو اپنے ایمان کا دعوی کرتے اور راز راہ نفاق و خوشامد ان سے ان علامتوں اور پیشنیگو ئیوں کا تذ کرہ بھی کرتے جو تورات اور ان کی دوسری کتابوں میں نبی آخزالزمان کے متعلق موجود تھیں لیکن جب وہ آپس میں ملتے تو ایک دوسرے کو ملامت کرتے کہ تم ان مسلمانوں کو وہ باتیں کیوں بتاتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے صرف تم ہی بتائی ہیں ؟ کیا تم نہیں سمجھتے کہ یہ مسلمان آخرت میں اللہ کے سامنے تمہاری اپنی فراہم کردہ معلومات کی بنا پر تم پر حجت قائم کریں گے کہ تم نبی آخرالز مان کو جاننے اور پہچان لینے کے باوجود ان پر ایمان نہیں لائے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ عبد بمعنی فی ہو یعنی تمہارے پروردگار کے بارے میں تم پر غالب رہیں۔ (قرطبی۔ ابن کثیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جس طرح یہودی بہانہ ساز اور متلوّن مزاج ہیں، منافقوں کی بھی یہی عادات ہیں۔ منافقوں کی عادات کا ذکر کرتے ہوئے آیت ١٣ میں یہ بتلایا گیا تھا کہ یہ لوگ ایمان والوں کو ملتے ہیں تو ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے ایمان کے دعویدار بنتے ہیں اور جب اپنے مذہبی پیشواؤں اور لیڈروں کے پاس جاتے ہیں تو انہیں یقین دہانیاں کرواتے ہیں کہ ہم تمہارے ہی ساتھی ہیں۔ یہاں اہل کتاب کے اندرون خانہ کا انکشاف کرتے ہوئے بتلایا جارہا ہے کہ ان کے مذہبی رہنما ان سے کہتے ہیں کہ تورات و انجیل میں بیان ہونے والے حقائق جن میں نبی آخر الزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن مجید کی تصدیق پائی جاتی ہے۔ ان کا مسلمانوں کے سامنے ذکر کرنا دانشمندی کے خلاف ہے۔ پھر یہ کہہ کر انہیں خوفزدہ کرتے ہیں کہ اس طرح دنیا میں مسلمانوں کے سامنے لا جواب اور آخرت میں تمہارے رب کے ہاں مسلمان تمہارے خلاف گواہی دیں گے۔ اپنی بات کو مؤثر بنانے کے لیے ان کے خطبا اور پیشوا بڑے معصوم بن کر اپنے تقو ٰی کی دھاک بٹھاتے ہوئے فکر آخرت کا تصوردے کر لوگوں کو حقائق کے انکشاف سے روکتے تھے۔ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ اگر یہ لوگ ان حقائق کا انکشاف نہ کریں تو اللہ تعالیٰ سے یہ حقیقت چھپی رہ جائے گی ؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ہی تورات ‘ انجیل نازل فرمائی ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ دلوں کے بھید، لوگوں کی اعلانیہ اور پوشیدہ حرکات و افعال کو جانتا ہے۔ انہیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے جو وہ چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں۔ آخرت میں ان کے ظاہر اور باطن کو طشت ازبام کردیا جائے گا۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ انسان کے باطن اور ظاہر سے واقف ہے۔ یہ عقیدہ انسان کو گناہوں سے بچاتا ہے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلا بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ قَالُوا أَتُحَدِّثُونَهُمْ بِمَا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ لِيُحَاجُّوكُمْ بِهِ عِنْدَ رَبِّكُمْ أَفَلا تَعْقِلُونَ ” جب محمد رسول اللہ کے ماننے والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم بھی انہیں مانتے ہیں اور جب آپس میں تخلئے کی بات چیت ہوتی ہے تو کہتے ہیں ۔ بیوقوف ہو ! ان لوگوں کو وہ باتیں بتاتے ہو جو اللہ نے تم پر کھولیں ہیں تاکہ تمہارے رب کے پاس تمہارے مقابلے میں انہیں حجت میں پیش کریں۔ “ کیا تم ان سے توقع رکھتے ہو کہ وہ تمہاری بات مان جائیں گے ؟ حالانکہ وہ نہایت غیر ذمہ دار ، حق کو چھپانے والے اور کلام اللہ میں تحریف کرنے والے لوگ ہیں ۔ ریاء ، فریب کاری ، منافقت اور چالبازی جیسے مفاسد ان کی جبلت میں داخل ہوگئے ہیں ۔ پھر ان میں بعض ایسے بھی تھے کہ جب مسلمانوں سے ملتے تو کہتے ہم بھی ایمان لاچکے ہیں ۔ یعنی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت پر ایمان لاچکے ہیں کیونکہ ان کے ہاں تورات میں نبی آخرالزماں کے بارے میں واضح بشارتیں موجود تھیں اور وہ نبی آخرالزماں کی بعثت کا شدت سے انتظار کررہے تھے ۔ اور اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کیا کرتے تھے کہ وہ نبی آخرالزماں کے ذریعے انہیں کفار پر فتح عطاکرے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ کَانُوا مَن قَبلُ یَستَفتِحُونَ عَلَی الَّذِینَ کَفَرُوا ” وہ اس سے قبل کفار پر دعائے فتح مندی مانگا کرتے تے۔ “ لیکن جب وہ ایک دوسرے کے ساتھ تنہائی میں ملتے ، تو ایک دوسرے کو اس بات پر سخت تنبیہ کرتے کہ کیوں وہ مسلمانوں کو وہ باتیں بتا رہے ہیں جو آپ کی رسالت کی صداقت کے بارے میں تورات میں مذکور ہیں ، کہتے ہیں ، بیوقوف ہوگئے ہو ! ان لوگوں کو وہ باتیں بتاتے ہو جو اللہ نے تم پر کھولیں ہیں تاکہ تمہارے رب کے پاس تمہارے مقابلے میں انہیں حجت میں پیش کریں ۔ “ اس طرح تم پر حجت قائم کردیں گے ۔ یہاں ان کا مخصوص مزاج جو معرفت الٰہی سے بالکل کورا ہے ان پر غالب آجاتا ہے ، وہ اللہ تعالیٰ کے علم کی حقیقت اور اس کی صفات کے حقیقی تصور تک سے عاری نظر آتے ہیں ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ یہ باتیں مسلمانوں کو نہ بتائیں تو اللہ تعالیٰ ان سے کچھ مواخذہ نہ کرے گا ۔ مواخدہ صرف اس صورت میں ہوگا جب یہ باتیں مسلمانوں کو بتادی جائیں۔ اس سے بھی زیادہ ان کی مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کو کہتے ہیں ۔” کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟ “ معلوم نہیں وہ کیسی عقل ودانشمندی ہے جس کے کام میں نہ لانے پر وہ ایک دوسرے کی سرزنش کررہے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

یہودیوں کی منافقت عام منافقین کا طریقہ تھا کہ مسلمانوں کے سامنے کہتے تھے کہ ہم مسلمان ہیں اور تنہائیوں میں اپنے سرغنوں سے کہتے تھے کہ ہم تو تمہارے ساتھ ہیں۔ اسی طرح یہودی منافق بھی مسلمانوں کے سامنے یہ ظاہر کردیتے تھے کہ ہم ایمان لے آئے اور اسی ظاہر کرنے میں یہ بھی کہہ جاتے تھے کہ تورات شریف میں ایسا ایسا لکھا ہے اور اس میں حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کی بشارت اور آپ کی علامات اور صفات موجود ہیں اور ان علامات اور صفات سے صاف ظاہر ہے کہ آپ واقعی اللہ کے سچے نبی اور رسول ہیں۔ بعض مفسرین نے یہ بھی لکھا ہے کہ جب اہل مدینہ (اوس اور خزرج) نے یہود مدینہ سے مشورہ کیا کہ حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہماری ملاقات ہوئی ہے اور ہم لوگ ان پر ایمان لائے ہیں اور وہ ہجرت فرماکر مدینہ منورہ تشریف لا رہے ہیں، ان کے بارے میں تم لوگوں کا کیا خیال ہے تو سادہ دل یہودیوں نے کہہ دیا کہ ہاں ان پر ایمان لاؤ وہ نبی ہیں۔ پھر جب تنہائیوں میں ایک دوسرے سے ملتے تو آپس میں کہتے کہ تم لوگ عجیب ہو مسلمانوں کے سامنے حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا اقرار کرتے ہو اور ان کو یہ بھی بتاتے ہو کہ ان کا ذکر اور نعت و صفت تورات شریف میں موجود ہے یہ تو تم اپنے اوپر حجت قائم کر رہے ہو جب قیامت کا دن ہوگا تو مسلمان اللہ پاک کے حضور میں تم پر حجت قائم کردیں گے اور خود تم اپنے اقرار سے پکڑے جاؤ گے کہ تم نے ان سے تو کہا کہ واقعی نبی ہیں اور خود ان کی نبوت کو نہ مانا تمہارا اقرارخود تم پر حجت ہوگا لہٰذا ایسی باتیں کیوں کرتے ہو جو تمہارے خلاف حجت بنیں تم اتنی بھی سمجھ نہیں رکھتے خود اپنے اقرار کی چھری سے خود اپنے ذبح کا انتظام کر رہے ہو۔ (درمنثورص ٨١ ج ١ ومعالم التنزیل ص ٨٧ ج ١) یہ کیسی بیوقوفی کی بات ہے کہ مسلمانوں پر حق ظاہر کرکے خود اس کے خلاف کرو گے تو قیامت کے دن مسلمان تم پر حجت قائم کریں گے اور دلیل سے مغلوب کردیں گے۔ یہ نہیں سمجھتے کہ مواخذہ کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے وہ سب کچھ جانتا ہے جو دلوں میں ہے اسے اس کا بھی پتہ ہے اور جو کچھ ظاہر کر رہے ہیں وہ اس سے بھی باخبر ہے۔ اگر مسلمانوں سے حق کو چھپایا تو اللہ پاک کے حضور میں اس وجہ سے کفر کے عذاب سے کیونکر خلاصی ہوگی کہ ہم نے مسلمانوں کو صحیح بات نہ بتائی تھی۔ جب شقاوت کسی کو گھیر لیتی ہے تو وہ جان بوجھ کر اسی کا راستہ اختیار کرتا ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

150 یہ منافقین یہود کا ذکر ہے جو مسلمانوں کے سامنے ایمان کا اظہار کرتے تھے۔ وَاِذَا خَلَا بَعْضُھُمْ اِلٰى بَعْضٍ ۔ یعنی جب منافقین یہود ان یہودیوں سے ملتے جو منافق نہیں تھے۔ قَالُوْٓا اَتُحَدِّثُوْنَھُمْ ۔ جب منافقین یہود مسلمانوں سے ملتے تو انہیں اپنے ایمان کا یقین دلاتے اور ان کی خوشامد کیلئے ان سے کہہ دیتے کہحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صفات ونعوت تورات میں مذکور ہیں اور وہ تمام صفات آپ پر منطبق ہوتی ہیں لیکن یہ منافق اپنے لیڈروں کے پاس جاتے تو وہ انہیں ڈانٹ پلاتے کہ تم وہ اسرار مسلمانوں کو کیوں بتاتے ہو جو اللہ نے تم کو تورات میں بتائے ہیں ای تخبرون المؤمنین بما بینہ اللہ تعالیٰ لکم خاصۃ من نعت نبیہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (روح ص 299 ج 1) لِيُحَاۗجُّوْكُمْ بِهٖ ۔ یعنی قیامت کے دن اللہ کے سامنے تمہارے ان اقراروں سے تم پر احتجاج کرینگے اس لیے تم عقل سے کام لو اور اس معاملے میں احتیاط برتو۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 3 کیا اے مسلمانو ! تم اب بھی اس کی امید کرتے ہو کہ یہ یہودی تمہاری بات مان لیں گے اور تمہارے کہنے سے ایمان لے آئیں گے حلاان کہ ان میں تو کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو اللہ تعالیٰ کا کلام سنتے تھے پھر اس کو سمجھنے کے بعد اس میں تحریف و تغیر کردیا کرتے تھے اور اس کلام کو کچھ کا کچھ کر ڈالتے تھے اور کمال یہ ہے کہ اس فعل کی برائی کو جانتے بھی تھے اور جب ان یہودیوں کے منافق لوگ اہل ایمان حضرات سے ملتے ہیں تو اپنے ایمان کا اقرار اور اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے اور جب یہ آپس میں ایک دوسرے کے پاس تنہا ہوتے ہیں اور تنہائی میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو دوسرے کافر یہودی ان منافق یہودیوں سے کہتے ہیں کہ تم توریت کی وہ باتیں جو اللہ تعالیٰ نے تم پر کھول رکھی ہیں، مسلمانوں کو کیوں بتا دیتے ہو۔ اس کا انجام یہ ہوگا کہ مسلمان تمہاری رب کے روبرو قیامت میں ان ہی باتوں کی وجہ سے جو تم ان کو بتاتے ہو تم پر الزام قائم کردیں گے اور تم کو خدا کے سامنے مغلوب کردیں گے کیا تم لوگ اتنی صاف بات بھی نہیں سمجھتے۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ یہود کی عام احسان فراموشی اور قلبی قساوت کا ذکر کرتے ہوئے درمیان میں ان مسلمانوں کو ایک خاص انداز سے خطاب فرمایا جنہوں نے یہود سے بوجہ ان کے اہل کتاب ہونے کے بہت سی توقعات قائم کر رکھی تھیں اور ان کو مسلمان بنانے کی سعی میں سر گرم تھے۔ اس خطاب سے مقصد یہ ہے کہ ان مسلمانوں کو سمجھایا جائے اور تسلی دی جائے کہ بھلا یہ لوگ کب ایمان قبول کرسکتے ہیں۔ ان کی حالت تو یہ ہے کہ یہ سمجھ بوجھ کر کلام الٰہی میں تحریف کرنے سے تو چوکتے نہیں اور تحریف سے مراد یہ ہے کہ یا تو الفاظ کو بدل دیتے ہیں یا تفسیر غلط کرتے ہیں یا دونوں قسم کی تحریف کے مرتکب ہوتے ہیں۔ پھر ان کے نفاق کی حالت یہ ہے کہ جب تم سے ملتے ہیں تو ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں اور خوشامد کے طور پر اپنی کتاب کی بعض باتیں بھی تم سے کہہ دیتے ہیں کہ تو ریت میں نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق یہ آیا ہے اور قرآن کے متعلق ہماری کتاب میں یہ لکھا ہے۔ لیکن جب یہ منافق اپنے دوسرے ہم مشربوں سے تنہائی میں ملتے ہیں تو وہ ان کو ڈانٹتے اور دھمکاتے ہیں کہ ہم نے جو باتیں مسلمانوں سے چھپا رکھی ہیں تم وہ سب ان سے خوشامد میں کہہ دیتے ہو اور اپنی کتاب کی باتیں اور پیشین گوئیوں کا ان سے ذکر کردیتے ہو۔ اب اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جب قیامت میں پروردگار کے روبرو تمہارا اور ان کا جھگڑا ہوگا تو وہ خود تم کو تمہاری باتوں سے اور تمہاری ہی کتاب سے قائل کردیں گے اور تم کو کوئی جواب بن نہ پڑے گا۔ تم اتنی صاف بات بھی نہیں سمجھتے کہ اپنا بھید کسی دشمن سے نہیں کہنا چاہئے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں۔ وہ جو ان میں منافق تھے خوشامد کے واسطے اپنی کتاب میں سے پیغمبر آخر الزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی باتیں مسلمانوں کے پاس بیان کرتے اور وہ جو مخالف تھے ان کو اس پر الزام دیتے کہ اپنے علم میں سے ان کے ہاتھ سند کیوں دیتے ہو۔ (موضح القرآن) بعض مفسرین نے اس جھگڑے اور غلبہ کا تعلق دنیا ہی میں مراد لیا ہے اور عند ربکم کے معنی تمہارے رب کے پاس سے نازل کردہ مضمون کئے ہیں ان کی تفسیر کا خلاصہ اس طرح ہے کہ تمہاری ان باتوں کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ مسلمان تم کو مناظرے میں مغلوب کردیں گے اور تم کو یہ کہہ کر قائل کردیں گے کہ دیکھو یہ مضمون اللہ تعالیٰ کے پاس سے تمہاری کتاب میں آیا ہے اور خدا کا یہ نازل کردہ مضمون توریت میں موجود ہے۔ مسلمانوں کو تو خبر نہیں کہ ہماری کتاب میں کیا ہے۔ جب تم ہی ان کو بتادو گے تو وہ بحث مباحثہ میں اسی بات کو لے کر تم کو قائل کردیں گے۔ اس تقریر پر آیت کا تعلق اس دنیا کے مناظروں سے ہوگا۔ آخرت سے کوئی تعلق نہ ہوگا۔ واللہ اعلم بالصواب۔ آگے اس بات کا جواب ارشاد فرماتے ہیں۔ (تسہیل)