Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 89

سورة البقرة

وَ لَمَّا جَآءَہُمۡ کِتٰبٌ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَہُمۡ ۙ وَ کَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ یَسۡتَفۡتِحُوۡنَ عَلَی الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ۚ ۖ فَلَمَّا جَآءَہُمۡ مَّا عَرَفُوۡا کَفَرُوۡا بِہٖ ۫ فَلَعۡنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۸۹﴾

And when there came to them a Book from Allah confirming that which was with them - although before they used to pray for victory against those who disbelieved - but [then] when there came to them that which they recognized, they disbelieved in it; so the curse of Allah will be upon the disbelievers.

اور ان کے پاس جب اللہ تعالٰی کی کتاب ان کی کتاب کو سچا کرنے والی آئی ، حالانکہ کہ پہلے یہ خود ( اس کے ذریعہ ) کافروں پر فتح چاہتے تھے تو باوجود آ جانے اور باوجود پہچان لینے کے پھر کفر کرنے لگے ، اللہ تعالٰی کی لعنت ہو کافروں پر ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Jews were awaiting the Prophet's coming, but They disbelieved in Him when He was sent Allah said, وَلَمَّا جَاءهُمْ ... And when there came to them, meaning, the Jews, ... كِتَابٌ مِّنْ عِندِ اللّهِ ... a Book from Allah, meaning, the Qur'an that Allah sent down to Muhammad. ... مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ ... confirming what is with them, meaning, the Tawrah. Further, Allah said, ... وَكَانُواْ مِن قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُواْ ... although aforetime they had invoked Allah (for coming of Muhammad) in order to gain victory over those who disbelieved), meaning, before this Messenger came to them, they used to ask Allah to aid them by his arrival, against their polytheistic enemies in war. They used to say to the polytheists, "A Prophet shall be sent just before the end of this world and we, along with him, shall exterminate you, just as the nations of `Ad and Iram were exterminated." Also, Muhammad bin Ishaq narrated that Ibn Abbas said, "The Jews used to invoke Allah (for the coming of Muhammad) in order to gain victory over the Aws and Khazraj, before the Prophet was sent. When Allah sent him to the Arabs, they rejected him and denied what they used to say about him. Hence, Mu`adh bin Jabal and Bishr bin Al-Bara bin Ma`rur, from Bani Salamah, said to them, `O Jews! Fear Allah and embrace Islam. You used to invoke Allah for the coming of Muhammad when we were still disbelievers and you used to tell us that he would come and describe him to us.' Salam bin Mushkim from Bani An-Nadir replied, `He did not bring anything that we recognize. He is not the Prophet we told you about.' Allah then revealed this Ayah about their statement, وَلَمَّا جَاءهُمْ كِتَابٌ مِّنْ عِندِ اللّهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ (And when there came to them (the Jews), a Book (this Qur'an) from Allah confirming what is with them (the Tawrah) and the Injil (Gospel))."' Abu Al-Aliyah said, "The Jews used to ask Allah to send Muhammad so that they would gain victory over the Arab disbelievers. They used to say, `O Allah! Send the Prophet that we read about - in the Tawrah - so that we can torment and kill the disbelievers alongside him.' When Allah sent Muhammad and they saw that he was not one of them, they rejected him and envied the Arabs, even though they knew that he was the Messenger of Allah. Hence, Allah said, ... فَلَمَّا جَاءهُم مَّا عَرَفُواْ كَفَرُواْ بِهِ فَلَعْنَةُ اللَّه عَلَى الْكَافِرِينَ Then when there came to them that which they had recognized, they disbelieved in it. So let the curse of Allah be on the disbelievers."

انکار کا سبب جب کبھی یہودیوں اور عرب کے مشرکین کے درمیان لڑائی ہوتی تو یہود کہا کرتے تھے کہ عنقریب اللہ تعالیٰ کی سچی کتاب لے کر اللہ عزوجل کے ایک عظیم الشان پیغمبر تشریف لانے والے ہیں ہم ان کے ساتھ مل کر تمہیں ایسا قتل و غارت کریں گے کہ تمہارا نام و نشان مٹ جائے گا ۔ اللہ تعالیٰ سے دعائیں کیا کرتے تھے کہا اے اللہ تو اس نبی کو جلد بھیج جس کی صفتیں ہم توراۃ میں پڑھتی ہیں تاکہ ہم ان پر ایمان لا کر ان کے ساتھ مل کر اپنا بازو مضبوط کر کے تیرے دشمنوں سے انتقام لیں ۔ مشرکوں سے کہا کرتے تھے کہ اس نبی کا زمانہ اب بالکل قریب آ گیا ہے لیکن جس وقت حضور مبعوث ہوئے تمام نشانیاں آپ میں دیکھ لیں ۔ پہچان بھی لیا ۔ دل سے قائل بھی ہو گئے ۔ مگر چونکہ آپ عرب میں سے تھے ۔ حسد کیا اور آپ کی نبوت سے انکار کر دیا اور اللہ تعالیٰ کے لعنت یافتہ ہو گئے بلکہ وہ مشرکین مدینہ جو ان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے بارے میں سنتے چلے آتے تھے انہیں تو ایمان نصیب ہوا اور بالاخر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر وہ یہود پر غالب آ گئے ایک مرتبہ حضرت معاذ بن جبل حضرت بشر بن براء حضرت داؤد بن سلمہ نے ان یہود مدینہ سے کہا بھی کہ تم تو ہمارے شرک کی حالت میں ہم سے حضور نبوت کا ذکر کیا کرتے تھے بلکہ ہمیں ڈرایا کرتے تھے اور اب جب کہ وہ عام اوصاف جو تم حضرت کے بیان کرتے تھے وہ تمام اوصاف آپ میں ہیں ۔ پھر تم خود ایمان کیوں نہیں لاتے؟ آپ کا ساتھ کیوں نہیں دیتے؟ تو سلام بن مشکم نے جواب دیا کہ ہم ان کے بارہ میں نہیں کہتے تھے ۔ اسی کا ذکر اس آیت میں ہے کہ پہلے تو مانتے تھے منتظر بھی تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کے بعد حسد اور تکبر سے اپنی ریاست کے کھوئے جانے کے ڈر سے صاف انکار کر بیٹھے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

89۔ 1 (یَسْتَفْتِحُوْنَ ) کے ایک معنی یہ ہیں غلبہ اور نصرت کی دعا کرتے تھے، یعنی جب یہود مشرکین سے شکست کھا جاتے تو اللہ سے دعا کرتے کہ آخری نبی جلد مبعوث فرما تاکہ اس سے مل کر ہم ان مشرکین پر غلبہ حاصل کریں۔ یعنی استفتاح بمعنی استنصار ہے۔ دوسرے معنی خبر دینے کے ہیں۔ ای یخبرونھم بانہ سیبعث یعنی یہودی کافروں کو خبر دیتے کہ عنقریب نبی کی بعثت ہوگی۔ (فتح القدیر) لیکن بعثت کے بعد علم رکھنے کے باوجود نبوت محمدی پر محض حسد کی وجہ سے ایمان نہیں لائے جیسا کہ اگلی آیت میں ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٠٥] آنے والے نبی کے واسطہ سے یہود کا نصرت طلب کرنا :۔ یعنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے قبل یہی یہود جب عرب قبائل سے، جنہیں یہ لوگ ازراہ حقارت امی اور اجڈ سمجھتے تھے، پٹتے تو اکثر اللہ تعالیٰ سے یوں دعا مانگا کرتے تھے کہ اے اللہ ! اپنے موعود نبی آخر الزمان کو مبعوث فرما کہ ہم اس کے ساتھ مل کر ان کافروں پر فتح حاصل کریں۔ پھر جب وہ نبی موعود آگیا اور انہوں نے اسے کتاب اللہ (تورات) میں مذکور نشانیوں کے مطابق پوری طرح پہچان بھی لیا تو اس کا انکار کردیا۔ اور حقیقتاً کافر تو یہی لوگ ہیں جن پر اللہ کی لعنت ہے اور جن لوگوں کو یہ ان پڑھ اور اجڈ کہا کرتے تھے انہوں نے یہود ہی سے سنی ہوئی باتوں کے مطابق نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے میں سبقت کی تھی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

يَسْتَفْتِحُوْنَ ) فتح و نصرت طلب کرتے تھے، یعنی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے جب یہودی عرب کے مشرکین سے مغلوب ہوتے تو وہ دعا کیا کرتے تھے کہ اے اللہ ! نبی آخر الزمان جلد ظاہر ہوں، تاکہ ہم ان کے ساتھ مل کر ان کافروں پر غلبہ حاصل کریں۔ (طبری) ” يَسْتَفْتِحُوْنَ “ کا دوسرا معنی ہے : ” یَفْتَحُوْنَ عَلَی الَّذِیْنَ کَفَرُوْا “ ( فَتَحَ عَلَیْہِ ) کا معنی ہے خبر دینا اور سین اور تاء مبالغہ کے لیے ہے، یعنی کافروں کو خوب کھول کر بتاتے تھے۔ (زمخشری) عبد اللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ یہود، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے آپ کے ساتھ مل کر اوس اور خزرج پر فتح و غلبہ کی دعا کیا کرتے تھے، جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو عرب میں سے مبعوث فرمایا تو انھوں نے آپ کے ساتھ کفر کیا اور ان سب باتوں کا انکار کردیا جو وہ آپ کے بارے میں کہا کرتے تھے، تو معاذ بن جبل اور بشر بن معرور اور داؤد بن سلمہ (رض) نے ان سے کہا : ” اے یہود کی جماعت ! اللہ سے ڈرو اور مسلمان ہوجاؤ ! تم تو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مل کر ہم پر فتح و غلبہ کی دعا کیا کرتے تھے، جب ہم شرک میں گرفتار تھے اور تم ہمیں بتایا کرتے تھے کہ اللہ کے آخری نبی مبعوث ہونے والے ہیں اور آپ کی نشانیاں بیان کیا کرتے تھے۔ “ تو سلام بن مشکم، جو بنو نضیر میں سے تھا، اس نے کہا : ” وہ ہمارے پاس کوئی چیز نہیں لائے جسے ہم پہچانتے ہوں اور یہ وہ نہیں جو ہم تمہیں بتایا کرتے تھے۔ “ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بات پر یہ آیت نازل فرمائی : (وَلَمَّا جَاۗءَھُمْ كِتٰبٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَھُمْ ۙ ) [ طبری۔ ابن أبی حاتم بسند حسن : ١؍٢٣٨، ح : ٩٠٨ ] قرطبی نے ابن عباس (رض) سے ” يَسْتَفْتِحُوْنَ “ کے یہ معنی بھی نقل کیے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ظہور سے پہلے جب یہودیوں کا عرب کے مشرکین سے مقابلہ ہوتا تو وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وسیلے سے دعا کرتے اور کہتے : ( اَللّٰہُمَّ إِنَّا نَسْءَلُکَ بِحَقِّ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الَّذِیْ وَعَدْتَّنَا أَنْ تُخْرِجَہٗ لَنَا فِیْ آخِرِ الزَّمَانِ إِلاَّ نَصَرْتَنَا عَلَیْہِمْ ) ” اے اللہ ! ہم تجھ سے بحق نبی امی سوال کرتے ہیں، جس کا تو نے ہم سے وعدہ کیا ہے کہ اسے ہمارے لیے آخر زمانے میں ظاہر کرے گا کہ ہمیں ان پر فتح عطا فرما۔ “ چناچہ جب وہ دشمن سے ملتے یہ دعا کرتے تو انھیں شکست دیتے۔ ( قرطبی) یہ روایت مستدرک حاکم (٢؍٢٦٣، ح : ٣٠٤٢) میں ہے، امام حاکم (رض) نے فرمایا، یہ روایت تفسیر کی مجبوری کی بنا پر لائی گئی ہے اور اس کی حدیث سے یہ غریب ہے۔ امام ذہبی (رح) نے اس کی تلخیص میں فرمایا کہ اس کی کوئی مجبوری نہیں، کیونکہ راوی عبد المالک متروک ہے، ہلاک ہونے والا ہے، اس کے علاوہ اس مفہوم کی روایات میں سے کوئی بھی صحیح نہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The Torah تورات had in several places foretold the coming of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . In fact, the Jews themselves used to tell the Arabs that a new prophet and a new Divine Book was soon to come. But when the Holy Qur&an came down from Allah, and even when they had recognized its authenticity, the Jews denied it out of sheer spite. The verse says that the Holy Qur&an confirms the Torah تورات it means that the Holy Qur&an is a concrete evidence of the truth of the prophecies made in the Torah تورات with regard to the coming of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and of the Holy Qur&an. One who believes in the Torah تورات cannot justifiably deny the Holy Qur&an and the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، for such a denial would involve a denial of the Torah تورات itself. Knowledge is not enough for &Iman ایمان One may want to know why the Holy Qur&an calls the Jews Kafirin کافرون (infidels), when they did recognize the truth as truth, which should qualify them to be called |"believers.|" Let us explain that &Iman ایمان (faith) does not merely mean |"knowing the truth|", but really signifies |"accepting the truth and affirming it deed-wise.|" Otherwise, Satan too will have to be called a believer, for he knows fully well what the truth is. In fact, this knowledge of the truth on the part of Satan شیطان intensifies the gravity of his Kufr کفر (infidelity) all the more. However, the next verse attributes the infidelity of the Jews to their malice.

خلاصہ تفسیر : اور جب ان کو (ایک) ایسی کتاب پہنچی (یعنی قرآن مجید) جو منجانب اللہ ہے (اور) اس (کتاب) کی (بھی) تصدیق کرنے والی ہے (جو پہلے سے) ان کے پاس ہے (یعنی توراۃ) حالانکہ اس کے قبل (خود) بیان کرتے تھے (اور) کفار سے (یعنی مشرکین عرب سے کہ ایک نبی آنے والے ہیں اور ایک کتاب لانے والے ہیں مگر) پھر جب وہ چیز آپہنچی جس کو وہ (خوب جانتے) پہچانتے ہیں تو اس کا (صاف) انکار کر بیٹھے سو (بس) خدا کی مار ہو ایسے منکروں پر (کہ جان بوجھ کر محض تعصب کے سبب انکار کریں) فائدہ : قرآن کو جو مصدق توراۃ فرمایا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ توراۃ میں بعثت محمدیہ اور نزول قرآن کی جو پیشینگوئیاں تھیں ان سے ان کا صدق ظاہر ہوگیا سو توراۃ کا ماننے والا تو قرآن اور صاحب قرآن (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکذیب کر ہی نہیں سکتا ورنہ توراۃ کی تکذیب لازم آئے گی، ایک شبہ اور اس کا جواب : اور اگر کسی کو یہ شبہ ہو کہ جب وہ حق کو حق جانتے تھے تو پھر ان کو مومن کہنا چائیے کافر کیسے کہا گیا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایمان صرف جاننے کا نام نہیں بلکہ ماننے کا نام ہے ورنہ یوں تو شیطان سب سے زیادہ حق کو حق جانتا ہے مگر جاننے کے باوجود انکار کرنے کی وجہ سے اور بھی کفر میں شدت بڑھ گئی اسی لئے اگلی آیت میں ان کے کفر کی وجہ ان کا عناد بتلایا گیا ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے ،

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَمَّا جَاۗءَھُمْ كِتٰبٌ مِّنْ عِنْدِ اللہِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَھُمْ۝ ٠ ۙ وَكَانُوْا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَي الَّذِيْنَ كَفَرُوْا۝ ٠ ۚ ۖ فَلَمَّا جَاۗءَھُمْ مَّا عَرَفُوْا كَفَرُوْا بِہٖ۝ ٠ ۡفَلَعْنَۃُ اللہِ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ۝ ٨٩ لَمَّا يستعمل علی وجهين : أحدهما : لنفي الماضي وتقریب الفعل . نحو : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] . والثاني : عَلَماً للظّرف نحو : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] أي : في وقت مجيئه، وأمثلتها تکثر . ( لما ( حرف ) یہ دوطرح پر استعمال ہوتا ہے زمانہ ماضی میں کسی فعل کی نفی اور اس کے قریب الوقوع ہونے کے لئے جیسے فرمایا : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو اچھی طرح معلوم کیا ہی نہیں ۔ اور کبھی یہ اسم ظرف ک طورپر استعمال ہوتا ہے ۔ اور یہ قرآن میں بکژت آیا ہے ۔ جیسے فرمایا : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] جب خوشخبری دینے والا آپہنچا۔ جاء جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ، ( ج ی ء ) جاء ( ض ) جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ اتیان سے زیادہ عام ہے کیونکہ اتیان کا لفط خاص کر کسی چیز کے بسہولت آنے پر بولا جاتا ہے نیز اتبان کے معنی کسی کام مقصد اور ارادہ کرنا بھی آجاتے ہیں گو اس کا حصول نہ ہو ۔ لیکن مجییء کا لفظ اس وقت بولا جائیگا جب وہ کام واقعہ میں حاصل بھی ہوچکا ہو نیز جاء کے معنی مطلق کسی چیز کی آمد کے ہوتے ہیں ۔ خواہ وہ آمد بالذات ہو یا بلا مر اور پھر یہ لفظ اعیان واعراض دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ اور اس شخص کے لئے بھی بولا جاتا ہے جو کسی جگہ یا کام یا وقت کا قصد کرے قرآن میں ہے :َ وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آپہنچا ۔ كتب والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153] فإنّه يعني صحیفة فيها كِتَابَةٌ ، ( ک ت ب ) الکتب ۔ الکتاب اصل میں مصدر ہے اور پھر مکتوب فیہ ( یعنی جس چیز میں لکھا گیا ہو ) کو کتاب کہاجانے لگا ہے دراصل الکتاب اس صحیفہ کو کہتے ہیں جس میں کچھ لکھا ہوا ہو ۔ چناچہ آیت : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153]( اے محمد) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں ۔ کہ تم ان پر ایک لکھی ہوئی کتاب آسمان سے اتار لاؤ ۔ میں ، ، کتاب ، ، سے وہ صحیفہ مراد ہے جس میں کچھ لکھا ہوا ہو عند عند : لفظ موضوع للقرب، فتارة يستعمل في المکان، وتارة في الاعتقاد، نحو أن يقال : عِنْدِي كذا، وتارة في الزّلفی والمنزلة، وعلی ذلک قوله : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] ، ( عند ) ظرف عند یہ کسی چیز کا قرب ظاہر کرنے کے لئے وضع کیا گیا ہے کبھی تو مکان کا قرب ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے اور کبھی اعتقاد کے معنی ظاہر کرتا ہے جیسے عندی کذا اور کبھی کسی شخص کی قرب ومنزلت کے متعلق استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہے ۔ صدق الصِّدْقُ والکذب أصلهما في القول، ماضیا کان أو مستقبلا، وعدا کان أو غيره، ولا يکونان بالقصد الأوّل إلّا في القول، ولا يکونان في القول إلّا في الخبر دون غيره من أصناف الکلام، ولذلک قال : وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ص دق) الصدق ۔ یہ ایک الکذب کی ضد ہے اصل میں یہ دونوں قول کے متعلق استعمال ہوتے ہیں خواہ اس کا تعلق زمانہ ماضی کے ساتھ ہو یا مستقبل کے ۔ وعدہ کے قبیل سے ہو یا وعدہ کے قبیل سے نہ ہو ۔ الغرض بالذات یہ قول ہی کے متعلق استعمال ہوتے ہیں پھر قول میں بھی صرف خبر کے لئے آتے ہیں اور اس کے ماسوا دیگر اصناف کلام میں استعمال نہیں ہوتے اسی لئے ارشاد ہے ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ وہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ اسْتِفْتَاحُ : طلب الفتح أو الفتاح . قال : إِنْ تَسْتَفْتِحُوا فَقَدْ جاءَكُمُ الْفَتْحُ [ الأنفال/ 19] ، أي : إن طلبتم الظّفر أو طلبتم الفتاح۔ أي : الحکم أو طلبتم مبدأ الخیرات۔ فقد جاء کم ذلک بمجیء النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم . وقوله : وَكانُوا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُوا [ البقرة/ 89] الاستفتاح کے معنی غلبہ یا فیصلہ طلب کرنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : إِنْ تَسْتَفْتِحُوا فَقَدْ جاءَكُمُ الْفَتْحُ [ الأنفال/ 19] ( کافرو) اگر تم محمدؤ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر فتح چاہتے ہو تو تمہارے پاس فتح آچکی ۔ یعنی اگر تم کامیابی یا فیصلہ طلب کرتے ہو تو وہ آچکا ہے اور یا یہ معنی ہیں کہ اگر تم مبدء خیرات طلب کرتے ہو تو آنحضرت کی بعثت سے تمہیں مل چکا ہے اور آیت کریمہ : وَكانُوا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُوا [ البقرة/ 89] اور وہ پہلے ہمیشہ کافروں پر فتح مانگا کرتے تھے ۔ عرف المَعْرِفَةُ والعِرْفَانُ : إدراک الشیء بتفکّر وتدبّر لأثره، وهو أخصّ من العلم، ويضادّه الإنكار، قال تعالی: فَلَمَّا جاءَهُمْ ما عَرَفُوا[ البقرة/ 89] ، فَعَرَفَهُمْ وَهُمْ لَهُ مُنْكِرُونَ [يوسف/ 58] ( ع رف ) المعرفۃ والعرفان کے معنی ہیں کسی چیز کی علامات وآثار پر غوروفکر کرکے اس کا ادراک کرلینا یہ علم سے اخص یعنی کم درجہ رکھتا ہے اور یہ الانکار کے مقابلہ میں بولا جاتا ہے قرآن میں ہے ؛ فَلَمَّا جاءَهُمْ ما عَرَفُوا[ البقرة/ 89] پھر جس کو وہ خوب پہنچانتے تھے جب ان کے پاس آپہنچی تو اس کافر ہوگئے ۔ فَعَرَفَهُمْ وَهُمْ لَهُ مُنْكِرُونَ [يوسف/ 58] تو یوسف نے ان کو پہچان لیا اور وہ ان کو نہ پہچان سکے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٨٩) جب ان لوگوں کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کتاب آئی ہے جو اس کتاب کے جو کہ ان کے پاس ہے توحید اور رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اوصاف اور اوصاف اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صفت اور بعض شرعی امور میں موافقت کرتی ہے تو اس کا انکار کرتے ہیں حالانکہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت اور قرآن حکیم کے نازل ہونے سے پہلے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کریم کے ذریعے اپنے دشمن قبیلوں اسد، غطفان ومزنیہ وجہینہ کے خلاف مدد طلب کیا کرتے تھے اور جس وقت رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے اور یہ لوگ آپ کے صفت واصاف سے سے بخوبی واقف تھے تو انہوں نے آپ کو ماننے سے انکار کردیا ان یہودیوں پر اللہ تعالیٰ کا غصہ اور ناراضگی ہے۔ شان نزول : (آیت) ’ وکانوا من قبل یستفتحون (الخ) اس آیت کے متعلق امام حاکم (رح) نے مستدرک میں اور بیہقی (رح) نے دلائل میں ضعیف سند کے ساتھ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ خیبر کے یہود قبیلہ غطفان کے ساتھ لڑتے رہتے تھے، چناچہ جس وقت بھی دونوں قبیلوں کی لڑائی ہوتی تو یہودی شکست کھا جاتے، بالآخر یہودیوں نے اس دعا کے ساتھ غطفان سے پناہ چاہی کہ الہ العالمین ہم تجھ سے نبی امی جناب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وسیلہ سے دعا کرتے ہیں۔ جن کے بارے میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم سے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ آخر زمانہ میں تشریف لائیں گے کہ ہمیں قبیلہ غطفان پر غلبہ دے، چناچہ جب یہودی غطفان کے ساتھ لڑتے اور یہ دعا مانگتے تو غطفان شکست کھاجاتے، جب اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھیجا تو انہوں نے آپ کو ماننے سے انکار کردیا اس پر اللہ تعالیٰ نے اس آیت شریفہ کو نازل کیا کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کے مبعوث ہونے سے پہلے یہ لوگ آپ کے وسیلہ سے کافروں پر نصرت طلب کیا کرتے تھے۔ اور ابی حاتم (رح) نے سعید (رح) یا عکرمہ (رح) ، کے حوالہ سے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے یہ روایت کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مبعوث ہونے سے پہلے یہود قبیلہ اوس اور خزرج کے خلاف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وسیلہ سے نصرت طلب کیا کرتے تھے، جب اللہ تعالیٰ نے عرب میں سے آپ کو مبعوث فرمادیا تو انہوں نے آپ کو ماننے سے انکار کردیا اور جو اس سے قبل کہتے تھے اس کا انکار کرنے لگے، تو ان سے حضرت معاذ بن جبل (رض) اور بشر بن براء (رض) اور داؤد بن سلمہ نے کہا، اے یہود ! اللہ تعالیٰ کا خوف کھاؤ اور اسلام لے آؤ تم اس سے قبل ہمارے خلاف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وسیلہ سے نصرت اور مدد طلب کیا کرتے تھے اور ہم تو مشرک تھے تو نے ہی ہمیں یہ بتایا تھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبعوث ہونے والے ہیں اور آپ کے اوصاف وصفت سے ہمیں آگاہ کیا تھا، بنی نضیر میں سے سلام بن شکم کہنے لگے کہ ہمارے پاس کوئی ایسی چیز نہیں آئی تھی جس کے ذریعہ سے ہم حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہچانتے اور نہ ہم تم سے تمہارے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں کچھ بیان کرتے تھے تب یہ آیت شریفہ نازل ہوئی، (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح )

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٨٩ (وَلَمَّا جَآءَ ہُمْ کِتٰبٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ ) (مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَہُمْ لا) جو اس کی تصدیق کرنے والی ہے جو ان کے پاس (پہلے سے موجود) ہے یہ وضاحت قبل ازیں کی جا چکی ہے کہ قرآن کریم ایک طرف تورات اور انجیل کی تصدیق کرتا ہے اور دوسری طرف وہ تورات اور انجیل کی پیشین گوئیوں کا مصداق بن کر آیا ہے۔ (وَکَانُوْا مِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَی الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ج) ان کا حال یہ تھا کہ وہ اس کی آمد سے پہلے اللہ کی آخری کتاب اور آخری نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حوالے اور واسطے سے اللہ تعالیٰ سے کافروں کے خلاف فتح و نصرت کی دعائیں کیا کرتے تھے۔ یہود کے تین قبائل بنو قینقاع ‘ بنو نضیر اور بنو قریظہ مدینہ میں آکر آباد ہوگئے تھے۔ وہاں اوس اور خزرج کے قبائل بھی آباد تھے جو یمن سے آئے تھے اور اصل عرب قبائل تھے۔ پھر آس پاس کے قبائل بھی تھے۔ وہ سب امیینّ میں سے تھے ‘ ان کے پاس نہ کوئی کتاب تھی ‘ نہ کوئی شریعت اور نہ وہ کسی نبوت سے آگاہ تھے۔ ان کی جب آپس میں لڑائیاں ہوتی تھیں تو یہودی چونکہ سرمایہ دار ہونے کی وجہ سے بزدل تھے لہٰذا ہمیشہ مار کھاتے تھے۔ اس پر وہ کہا کرتے تھے کہ ابھی تو تم ہمیں مار لیتے ہو ‘ دبا لیتے ہو ‘ نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آنے کا وقت آچکا ہے جو نئی کتاب لے کر آئیں گے۔ جب وہ آئیں گے اور ہم ان کے ساتھ ہو کر جب تم سے جنگ کریں گے تو تم ہمیں شکست نہیں دے سکو گے ‘ ہمیں فتح پر فتح حاصل ہوگی۔ وہ دعا کیا کرتے تھے کہ اے اللہ ! اس نبی آخر الزمان کا ظہور جلدی ہو تاکہ اس کے واسطے سے اور اس کے صدقے ہمیں فتح مل سکے۔ خزرج اور اوس کے قبائل نے یہود کی یہ دعائیں اور ان کی زبان سے نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آمد کی پیشین گوئیاں سن رکھی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ ١١ نبوی کے حج کے موقع پر جب مدینہ سے جانے والے خزرج کے چھ افراد کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی دعوت پیش کی تو انہوں نے کن انکھیوں سے ایک دوسرے کو دیکھا کہ معلوم ہوتا ہے یہ وہی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں جن کا یہودی ذکر کرتے ہیں ‘ تو اس سے پہلے کہ یہود ان پر ایمان لائیں ‘ تم ایمان لے آؤ ! اس طرح وہ علم جو بالواسطہ طور پر ان تک پہنچا تھا ان کے لیے ایک عظیم سرمایہ اور ذریعۂ ‘ نجات بن گیا۔ مگر وہی یہودی جو آنے والے نبی کے انتظار میں گھڑیاں گن رہے تھے ‘ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آمد پر اپنے تعصبّ اور تکبرّ کی وجہ سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سب سے بڑھ کر مخالف بن گئے۔ (فَلَمَّا جَآءَ ‘ ہُمْ مَّا عَرَفُوْا کَفَرُوْا بِہٖز) (فَلَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ )

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :95 نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے پہلے یہُودی بے چینی کے ساتھ اس نبی کے منتظِر تھے جس کی بعثت کی پیشین گوئیاں ان کے انبیا نے کی تھیں ۔ دُعائیں مانگا کرتے تھے کہ جلدی سے وہ آئے تو کفار کا غلبہ مِٹے اور پھر ہمارے عُروج کا دَور شروع ہو ۔ خود اہل مدینہ اس بات کے شا ہد تھے کہ بعشتِ محمدی ؐ سے پہلے یہی ان کے ہمسایہ یہُودی آنے والے نبی کی اُمّید پر جِیا کر تے تھے اور ان کا آئے دن کا تکیہ کلام یہی تھا کہ” اچھا ، اب تو جس جس کا جی چاہے ہم پر ظلم کر لے ، جب وہ نبی آئے گا تو ہم ان سب ظالموں کو دیکھ لیں گے ۔ “ اہل مدینہ یہ باتیں سُنے ہوئے تھے ، اسی لیے جب انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات معلوم ہوئے تو انہوں نے آپس میں کہا کہ دیکھنا ، کہیں یہ یہُودی تم سے بازی نہ لے جائیں ۔ چلو ، پہلے ہم ہی اس نبی پر ایمان لے آئیں ۔ مگر ان کے لیے یہ عجیب ماجرا تھا کہ وہی یہُودی ، جو آنے والے نبی کے انتظار میں گھڑیاں گِن رہے تھے ، اس کے آنے پر سب سے بڑھ کر اس کے مخالف بن گئے ۔ اور یہ جو فرمایا کہ” وہ اس کو پہچان بھی گئے“ ، تو اس کے متعدّد ثبوت اسی زمانے میں مل گئے تھے ۔ سب سے زیادہ معتبر شہادت اُمّ المومنین حضرت صَفِیّہ کی ہے ، جو خود ایک بڑے یہُودی عالم کی بیٹی اور ایک دُوسرے عالم کی بھتیجی تھیں ۔ وہ فرماتی ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینے تشریف لائے ، تو میرے باپ اور چچا دونوں آپ ؐ سے ملنے گئے ۔ بڑی دیر تک آپ سے گفتگو کی ۔ پھر جب گھر واپس آئے ، تو میں نے اپنے کانوں سے ان دونوں کو یہ گفتگو کرتے سُنا: چچا: کیا واقعی یہ وہی نبی ہے ، جس کی خبریں ہماری کتابوں میں دی گئی ہیں؟ والد: خدا کی قسم ، ہاں ۔ چچا: کیا تم کو اس کا یقین ہے؟ والد: ہاں ۔ چچا: پھر کیا ارادہ ہے؟ والد: جب تک جان میں جان ہے اس کی مخالفت کروں گا اور اس کی بات چلنے نہ دوں گا ۔ ( ابنِ ہشام- جلد دوم-صفحہ ۱٦۵ ، طبع جدید )

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

61: جب یہودیوں کی بت پرستوں سے جنگ ہوتی یابحث ومباحثہ ہوتا تو وہ یہ دعائیں مانگا کرتے تھے کہ یا اللہ ! آپ نے تورات میں جس آخری نبی کی خبر دی ہے اسے جلدی بھیج دیجئے تاکہ ہم ان کے ساتھ مل کر بت پرستوں پر فتح حاصل کریں، مگر جب وہ نبی (حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لے آئے تو وہ حسد میں مبتلا ہوگئے کہ انہیں بنی اسرائیل کے بجائے بنی اسماعیل میں کیوں بھیجا گیا ؟ چنانچہ یہ جان لینے کے باوجود کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وہ ساری علامتیں صادق آتی ہیں جو تورات میں نبی آخرالزماں کی بیان کی گئی ہیں انہوں نے آپ کو ماننے سے سے انکار کردیا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اوصاف تورات میں دیکھ کر یہود لوگ اللہ تعالیٰ سے نبی آخر الزمان کے جلد پیدا ہونے کی دعائیں مانگا کرتے تھے۔ اور جن مشرکوں سے ان کی مخالفت تھی ان سے یہ کہا بھی کرتے تھے کہ بہت جلد نبی آخر الزمان کا زمانہ آنے والا ہے اس وقت ہم ان نبی کے ساتھ ہو کر تم سے دل کھول کر لڑیں گے اور تم کو خوب قتل کریں گے۔ اور آگے آئے گا کہ یہ لوگ نبی آخر الزمان کے اوصاف ان کی کتاب تورات میں صاف صاف تفصیل سے موجود تھے۔ لیکن جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیدا ہوئے اور مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ میں آئے اور ان یہود نے قرآن کی آیتیں سنیں جن میں تورات کی تصدیق بھی موجود تھی۔ تو فقط اس حسد سے کہ یہ نبی ہم میں سے کیوں نہیں پیدا ہوئے جان بوجھ کر آپ کی نبوت کے منکر ہوگئے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو شخص جان بوجھ کر حق بات کا منکر ہو اس پر خدا کی لعنت اور پھٹکار ہے۔ ابن ماجہ وغیرہ میں چند صحابہ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ جو شخص دین کی کوئی بات جان بوجھ کر چھپائے گا تو قیامت کے دن ان کے منہ میں آگ کی لگام دی جائے گی۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(2:89) لما۔ جب (شرطیہ ہے ، نیز ملاحظہ ہو : 2:214) کتب یعنی قرآن ۔ نکرہ تعظیم کے لئے لایا گیا ہے۔ مصدق۔ اسم فاعل واحد مذکر، تصدیق مصدر (باب تفعیل) تصدیق کرنے والا۔ سچا ماننے والا۔ سچا کہنے والا۔ ما معہم۔ ما موصولہ معہم۔ صلہ (کتاب) جو ان کے پاس تھی۔ یعنی توراۃ۔ ولما جاء ہم کتب من عند اللہ مصدق لما معہم۔ جملہ شرطیہ ہے جواب شرط محذوف ہے۔ ای انکروہ انہوں نے اس سے انکار کردیا۔ وکانوا من قبل یستفتحون علی الذین کفروا۔ یہ جملہ یا ضمیر فاعل کانوا سے حال ہے یا یہ جملہ معترضہ ہے۔ پہلی صورت میں ترجمہ ہوگا۔ حالانکہ وہ کافروں پر فتح مانگا کرتے تھے (اس بنی کے وسیلہ سے) من قبل۔ قبل اسم ظرف ہے۔ ظرف زمانی اور مکانی دونوں کے لئے آتا ہے یہ ظروف منبیہ میں سے ہے بعض ان میں سے ضمیہ پر بعض فتحہ پر اور بعض سکون پر مبنی ہیں۔ اسماء جہات ستہ یعنی قبل۔ بعد۔ تحت۔ فوق۔ قدام۔ خلف۔ مبنی برضمہ ہیں۔ ان برضمہ آنا ہے جب ان کا مضاف الیہ محذوف ہو اور دل میں مقصود ہو۔ جیسا کہ آیت ہذا میں کی اصل میں مقصود یہ تھا من قبل ذلک ۔ لیکن اگر مضاف الیہ محذوف نہ ہو تو حرف جار کا اثر قبول کریں گے۔ جیسے من قبل ذلک من بعدہ۔ قبل کا استعمال چار طور پر ہوتا ہے (1) تقدیم زبانی جیسے قبل طلوع الشمس وقبل غروبھا (20:130) (2) تقدم مکانی کسی مقام کا دوران رفتار میں پہلے مواقع ہونا۔ اور دوسرے مقام کا بعد میں واقع ہونا ۔ مثلا لاہور سے کراچی جاتے ہوئے ساہیوال قبل آئے گا اور ملتان بعد میں اور کراچی سے لاہور آتے ہوئے ملتان قبل آئیگا اور ساہیوال بعد میں ۔ (3) تقدم بلحاظ مرتبہ جیسے عبد الملک قبل الحجاج۔ عبد المالک مرتبہ میں حجاج سے پہلے ہے یعنی بڑا ہے۔ (4) ترتیب فنی و تعلیمی میں تقدم ۔ جیسے تعلم الھجاء قبل تعلیم الخط۔ ہجا کی تعلیم کتابت سیکھنے سے پہلے دی جاتی ہے ۔ (راغب) قرآن مجید میں لفظ قبل عموما تقدم زمانی کے لئے استعمال ہوا ہے۔ کانوا یستفتحون۔ ماضی استمراری جمع مذکر غائب، استفتاح (استفعال) مصدر وہ فتح کی دعا کیا کرتے تھے۔ وہ فتح مانگا کرتے تھے۔ یعنی جب کبھی یہود کی کفار و مشرکین سے جنگ ہوتی تو وہ اس نبی کی وساطت سے اللہ سے مخالفین پر فتح کی دعا کیا کرتے تھے۔ جس کا ذکر اور بعثت کا وعدہ تورات میں دیا گیا تھا۔ اور ان الفاظ سے دعا کیا کرتے تھے۔ اللہم انا نسئلک بحق نبیک الذی وعدتنا ان تبعثہ فی اخرا لزمان ان تنصرنا الیوم علی عدونا۔ اے اللہ ہم تجھ سے تیرے اس نبی آخر الزمان کا واسطہ دے کر سوال کرتے ہیں جس کی بعثت کا تو نے وعدہ فرمایا ہے کہ تو آج ہمیں ہمارے دشمنون پر فتح دے (روح المعانی) فلما۔ پس جب (شرطیہ ہے) ما عرفوا۔ ما موصلہ ہے اور ضمیر جو اس کی طرف عائد ہے محذوف ہے۔ عرفوا ماضٰ کا صیغہ جمع مذکر غائب ہے۔ معرفۃ وعرفان سے۔ انہوں نے پہنچانا۔ انہوں نے جانا۔ جس کو وہ جان اور پہچان چکے تھے۔ فلما جاء ہم ما عرفوا جملہ شرطیہ ہے اور اگلا جملہ کفروابہ جواب شرط ہے۔ تو انہوں نے اس سے انکار کردیا۔ الکفرین۔ میں ال عہد کا ہے۔ یعنی یہ لوگ (جن میں کفر موجود ہے) لعنت کے مستحق ہیں۔ یا ال جنس کا ہے یعنی تمام کافروں پر اللہ کی لعنت اور پھٹکار ہے (اس میں یہ منکرین بھی آگئے)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے یہودی عرب کے مشرکین سے مغلوب ہوئے تو وہ دعا کیا کرتے تھے کہ نبی آخرالزمان جلد ظاہر ہوں تاکہ ہم ان کے ساتھ مل کر ان کافروں پر غلبہ حاصل کریں اس صورت میں یستفحون کے معنی نصرت اور غلبہ حاصل کرنا ہو نگے۔ ابن کثیر) اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کے معنی خبر دینے کے ہوں یعنی وہ کہا کرتے تھے کہ عنقریب نبی آخرالزمان ظاہر ہوگا اور ہم اس کے ساتھ مل کر تم پر غالب آئیں گے چناچہ عاصم بن عمربن قتادہ انصاری روایت کرتے ہیں ہیں کہ ہمارے بزرگ کہا کرتے تھے عرب کے قبائل میں ہم سے زیادہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق کوئی نہ جانتا تھا اس لیے کہ ہم یہودیوں کے ساتھ رہتے تھے اور ہو اہل کتاب تھے اور ہم بت پرست وہ ہم سے کبھی مغلوب ہوتے تو کہتے کہ ایک بنی کی بعثت ہونے والی ہے اور اس کا زمانہ آپہنچا ہے اس کے ساتھ مل کر ہم تمہیں عاد وارم کی طرح قتل کریں گے جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت ہوئی ہم نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیروی اختیار کرلی اور یہ یہود یوں کے بارے میں نازل ہوئی ابن جریر، فتح القدیر) بعض نے حضرت ابن عباس (رض) سے یستفتحون کے یہ معنی نقل کیے ہیں کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ظہور سے پہلے جب یہو دوں کا عرب سے مقابلہ ہوتا تو وہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وسیلہ سے دعا کرتے اور کہتے کہ اے اللہ ہم بحق نبی امی تجھ سے دعا کرتے ہیں کہ ہمیں دشمنوں پر غلبہ عنایت کر مگر یہ روایت نہایت ضعیف ہے۔ قرطبی نے ابن عباس سے نقل کی ہے۔ (الباب القل سیوطی امستدک حاکم مع تلخیص ج 2 ص 263)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 89 تا 93 یستفتحون (وہ فتح مانگتے تھے) ۔ عرفوا (انہوں نے پہچان لیا) ۔ بئسما (وہ برا ہے) ۔ بغی (ضد ) ۔ مھین (ذلیل ورسوا کرنے والا) ۔ وراء (سوا، پیچھے) ۔ العجل (بچھڑا) ۔ رفعنا (ہم نے بلند) ۔ اسمعوا (تم سنو) سمعنا (ہم نے سن لیا) ۔ عصینا (ہم نے نافرمانی کرلی، نہیں مانا) ۔ اشربوا (رچ بس گیا (پلا دیا گیا) ۔ تشریح : آیت نمبر 89 تا 93 نبی آخر الزمان حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن مجید سے متعلق یہودیوں کی کتابوں میں بہت سے پیشین گوئیاں اور نشانیاں بتا دی گئی تھیں اسی لئے وہ نبی آخر الزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بڑی شدت اور بےچینی سے انتظار کر رہے تھے۔ جب کبھی ان کی کفار اور مشرکین سے جنگ ہوتی تو وہ اپنے لوگوں کو تسلی دیتے اور اللہ سے دعا کرتے “ الٰہی ! ہم تجھے تیرے آخری نبی کا واسطہ دے کر تجھ سے درخواست کرتے ہیں کہ جس نبی کا تو نے ہم نے وعد کیا ہے۔ اس کو جلد از جلد ہماری مدد کے لئے بھیج دیجئے تا کہ ہم کفار پر فتح پر نصرت حاصل کرسکیں۔” یہودیوں کو اپنی قوم کی برتری کا ہمیشہ سے گھمنڈ رہا ہے اس لئے ان کو کامل یقین تھا کہ وہ آخری نبی ان ہی میں سے ہوگا اسی لئے کبھی کبھی وہ بڑے ناز سے کہا کرتے تھے جس جی چاہے وہ ہم پر ظلم و ستم کرلے مگر جب وہ آخری نبی آجائے گا تو ہمیں غلبہ اور عروج و ترقی نصیب ہوگا، اس کے بعد ہم ایک ایک سے بدلہ لیں گے۔ ۔۔ ۔ یہ تھیں یہودیوں کی وہ تمنائیں اور آرزوئیں جن کے سہارے وہ جی رہے تھے۔ لیکن جب وہ آخری نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آگئے ، اور آپ کی سیرت کردار اور کمالات سے تمام پیش گوئیاں صحیح ثابت ہوگئیں جو توریت میں موجود تھیں اور یہودیوں نے بھی آپ کو تمام علامتوں سے پہچان لیا۔ محض اس ضد، ہٹ دھرمی اور حسد کی وجہ سے انکار کردیا کہ وہ نبی ہمارے اندر سے کیوں نہ ہوا۔ جب ان کو قرآن مجید کی سچی تعلیمات پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی تو انہوں نے ایک ایسے کلام کو بھی ماننے سے انکار کردیا جس کا یہ چیلنج تھا کہ اگر تمہیں یہ گمان ہے کہ اس قرآن کو کسی نے گھڑ لیا ہے تو تم اس قرآن جیسی ایک سورت ہی بنا کرلے آؤ۔ اس قرآن عظیم کا یہ کہہ کر انکار کردیا کہ ہم تو صاحب ایمان ہیں، تو ریت کی موجودگی میں کسی اور کتاب یا نبی پر ایمان لائیں اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے یہ سوال کیا ہے کہ اگر واقعی تم صاحب ایمان رہے ہو اور آج بھی ہو تو تم یہ بتاؤ کہ وہ اللہ کے پیغمبر جو تمہاری کتاب توریت کی تصدیق کے لئے آئے تھے تم نے ان کو کیوں قتل کردیا تھا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی موجودگی میں تم نے بچھڑا بنا کر اس کی عبادت کیوں کی تھی۔ جب تمہارے سروں کے اوپر کوہ طور کو لٹکا کر تم سے اس بات کا عہد لیا تھا کہ دیکھو اس عہد پر مضبوطی سے جمے رہنا لیکن پھر تم اس عہد پر قائم نہ رہے اگر واقعی تمہارا ایمان حق پرستوں کے قتل، بچھڑے کی عبادت اور عہد شکنیوں کا حکم دیتا ہے تو یہ ایمان بڑا بدترین ہے، تمہیں اپنے ایمان کی سلامتی کی فکر کرنا چاہئے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے صاف صاف فرما دیا ہے کہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کو چھوڑ کر اگر تم حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان نہیں لائے تو یقیناً تم دنیا اور آخرت کی تمام سعادتوں سے محروم رہوگے اور تمہارا شمار بھی ان ہی لوگوں میں ہوجائے گا جنہوں نے اللہ کے پیغمبروں کو نہ مان کر اپنی دنیا اور آخرت برباد کر ڈالی تھی۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ اہل کتاب ہمیشہ سے حق پہچاننے کے باوجود اس کے انکاری رہے ہیں اسی کا سبب ہے کہ ان پر اللہ کی پھٹکار برستی ہے۔ یہود اہل ثروت ہونے اور سماجی اثر و رسوخ رکھنے کے باوجود عرب میں سیاسی اقتدار سے محروم تھے۔ اس وجہ سے وہ عیسائیوں، مشرکوں اور دوسرے مذاہب والوں کے ساتھ بحث و تکرار کرتے ہوئے کہا کرتے کہ عنقریب نبی آخر الزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لانے والے ہیں ہم اس کی رہنمائی اور قیادت میں تم سب پر غلبہ پائیں گے۔ اس کے لیے وہ اللہ تعالیٰ کے حضور ہاتھ اٹھا کر نہایت آہ وزاری سے دعائیں کیا کرتے تھے اور لوگوں کے سامنے حلف دیتے کہ ہمارے پاس آخری نبی تشریف لائے تو ہم اس کی نصرت و حمایت کریں گے۔ [ البقرۃ : ٨٩] اسی اثناء میں محمد عربی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ طیبہ تشریف لائے اور آپ نے انہیں کتاب الٰہی کا پیغام دیتے ہوئے اپنے آپ پر ایمان لانے کی دعوت دی تو انہوں نے آپ کو اس طرح پہچان لیا جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانتے تھے۔ علامہ ابن کثیر ان آیات کی تفسیر میں حضرت ابن عباس (رض) کے حوالے سے لکھتے ہیں : ” رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مبعوث ہونے سے پہلے یہودی اوس اور خزرج پر فتح کی دعائیں مانگا کرتے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نبوت سے سرفراز فرمایا تو یہودیوں نے اپنی بات کا انکار کردیا۔ معاذ (رض) اور بشر بن براء (رض) نے کہا اے یہودیو ! اللہ سے ڈرو اور مسلمان ہوجاؤ کیونکہ جب ہم مشرک تھے تو تم ہمیں نبی آخر الزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حوالہ دے کر فتح کی دعائیں کرتے تھے۔ اور تم ہمیں مبعوث ہونے والے نبی اور اس کی صفات کے متعلق بتلاتے رہتے تھے۔ سلام بن مشکم کہنے لگا : ہمارے پاس تو کوئی ایسی چیز نہیں آئی کہ جسے ہم پہچانتے ہوں۔ وہ کون سی چیز ہے جس کے متعلق ہم تمہیں بتلاتے تھے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت (ولما جاء ھم) نازل فرمادی۔ “ مولانا صفی الرحمن مبارکپوری ” الرحیق المختوم “ میں لکھتے ہیں : ” رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شرف و عظمت اور فضل و کمال کی سب سے بلند چوٹی پر جلوہ فگن تھے۔ عفت وامانت، صدق وصفا اور جملہ امور خیر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وہ امتیازی مقام تھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دشمنوں کو بھی آپ کی یکتائی وانفرادیت پر کبھی شک نہ گزرا۔ آپ کی زبان سے جو بات نکلی دشمنوں کو یقین ہوگیا کہ وہ سچی ہے اور ہو کررہے گی۔ واقعات اس کی شہادت دیتے ہیں۔ ایک بار قریش کے ایسے تین آدمی اکٹھے ہوئے جن میں سے ہر ایک نے اپنے بقیہ دو ساتھیوں سے چھپ چھپا کر تن تنہا قرآن مجید سنا۔ لیکن بعد میں ہر ایک کا راز دوسرے پر فاش ہوگیا۔ ان تینوں میں سے ایک ابو جہل بھی تھا۔ تینوں اکٹھے ہوئے تو ایک نے ابوجہل سے دریافت کیا کہ بتاؤ تم نے جو کچھ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے اس کے بارے میں تمہاری رائے کیا ہے ؟ ابوجہل نے کہا : میں نے کیا سنا ہے ؟ بات دراصل یہ ہے کہ ہم نے اور بنو عبدمناف نے شرف و عظمت میں ایک دوسرے کا مقابلہ کیا۔ انہوں نے غرباء و مساکین کو کھلایا تو ہم نے بھی کھانا کھلایا، انہوں نے دادو دہش میں سواریاں عطا کیں تو ہم نے بھی دیں، انہوں نے لوگوں کو عطیات سے نوازا تو ہم نے بھی ایسا کیا، یہاں تک کہ جب ہم اور وہ ایک دوسرے کے ہم پلہ ہوگئے اور ہماری اور ان کی حیثیت ریس کے دو مدِّ مقابل گھوڑوں کی ہوگئی تو اب بنو عبد مناف کہتے ہیں کہ ہم میں ایک نبی ہے جس کے پاس آسمان سے وحی آتی ہے۔ بھلا بتائیے ہم اسے کب پاسکتے ہیں ؟ خدا کی قسم ! ہم اس شخص پر کبھی ایمان نہ لائیں گے اور اس کی ہرگز تصدیق نہ کریں گے۔ “ مسائل ١۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حسد و بغض کی وجہ سے بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کا غضب، اور عذاب مسلّط ہوا۔ ٢۔ حق کا انکار کرنے والے پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہوتی ہے۔ تفسیر بالقرآن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تشریف آوری کا انتظار ! ١۔ بنی اسرائیل رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کے منتظر تھے۔ (فاطر : ٤٢) ٢۔ یہود و نصاریٰ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے بیٹوں کی طرح پہچانتے ہیں۔ (البقرۃ : ١٤٦) ٣۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آمد کی بنیاد پر لوگوں پر فتح یاب ہونے کی خواہش رکھتے تھے۔ (البقرۃ : ٨٩)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ان کی جانب سے یہ کافرانہ رویہ اختیار کرنا اس لئے زیادہ قبیح تھا کہ وہ اس کا انکار کررہے تھے ۔ جس کے انتظار میں وہ صدیوں تک بیٹھے ہوئے تھے اور وہ یہ امید لگائے ہوئے تھے کہ اس کے ذریعے وہ تمام کفار پر غلبہ پالیں گے ۔ ان کا عقیدہ تھا کہ اس آنے والے نبی کے ذریعے وہ فتح اور نصرت حاصل کریں گے ۔ اور جب وہ اس کتاب کی تصدیق کرتے ہوئے تشریف لائے ، جو ان کے پاس تھی تو انہوں نے کفر کی راہ لی ۔ وَلَمَّا جَاءَهُمْ كِتَابٌ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ مُصَدِّقٌ لِمَا مَعَهُمْ وَكَانُوا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُوا فَلَمَّا جَاءَهُمْ مَا عَرَفُوا كَفَرُوا بِهِ ” اور اب جو ایک کتاب اللہ کی طرف سے ان کے پاس آئی ہے ۔ اس کے ساتھ ان کا کیا برتاؤ ہے ؟ باوجودیکہ وہ اس کتاب کی تصدیق کرتی ہے ۔ جو ان کے پاس پہلے سے موجود تھی ۔ باوجودیکہ اس کی آمد سے پہلے وہ کفار کے مقابلے میں فتح ونصرت کی دعائیں مانگا کرتے تھے ۔ مگر جب وہ چیز آگئی ، جسے وہ پہچان بھی گئے تو انہوں نے اسے ماننے سے انکار کردیا۔ “ یہ ان کی ایسی قبیح حرکت تھی کہ وہ اس پر بجاطور پر اس سزا کے مستحق تھے کہ انہیں راہ ہدایت سے دور پھینک دیا جائے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان پر اللہ کی پھٹکار برستی ہے۔ اور انہیں کفر کے عیب سے متصف قرا ردیا جاتا ہے فَلَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَافِرِينَ ” اللہ کی لعنت ان منکروں پر ۔ “ اس کے بعد اللہ تعالیٰ یہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے جو سودا کیا وہ گھاٹے کا سودا ہے ۔ نیز اللہ تعالیٰ ان کے اس مکروہ موقف اور ناپسندیدہ طرز عمل کا اصل اور پوشیدہ سبب بھی ظاہر فرمادیتے ہیں ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

یہودیوں نے جانتے بوجھتے ہوئے عناد اور ضد کی وجہ سے اسلام قبول نہیں کیا پہلے بیان ہوچکا ہے کہ مدینہ منورہ میں یہودی اس لیے آکر آباد ہوگئے تھے کہ نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت ہوگی تو ہم ان کا اتباع کریں گے۔ یہ لوگ اپنے کو موحد سمجھتے تھے اور یہ خیال کرتے تھے کہ ہم دین سماوی کے حامل ہیں، اوس اور خزرج کے قبیلے بھی یمن سے آکر مدینہ منورہ میں آباد ہوئے تھے۔ یہ لوگ بت پرست مشرک تھے۔ یہودیوں سے ان لوگوں کی جنگ ہوتی رہتی تھی اور یہودی ان سے کہا کرتے تھے کہ نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائیں گے ان کی بعثت کا زمانہ قریب آچکا ہے ہم ان پر ایمان لا کر ان کے ساتھ ہو کر تم سے جہاد کریں گے اور اس وقت تمہارا ناس کھو دیں گے اور قوم عاد کی طرح تمہارا قتل عام کریں گے۔ بلکہ بعض روایات میں ہے کہ یہودی یہ دعا کیا کرتے تھے اے اللہ اس نبی کی بعثت فرما جس کے مبعوث ہونے کا ہماری کتاب میں ذکر ہے تاکہ ہم اس کے ساتھ مل کر عرب کے مشرکوں کو قتل کریں۔ یہ لوگ نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نعت اور صفت جانتے تھے جو توریت شریف میں مذکور تھی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت ہوگئی اور آپ مدینہ منورہ میں بھی تشریف لے آئے اور یہودیوں نے آپ کو ان علامات اور صفات کے ذریعہ پہچان بھی لیا جو ان کے علم میں تھیں کہ یہ واقعی نبی آخر الزمان ہیں ہم جن کے انتظار میں تھے انہوں نے آپ کے معجزات بھی دیکھتے اور سب کچھ دیکھتے ہوئے آپ کی نبوت اور رسالت کے منکر ہوگئے۔ ان کو اوس اور خزرج کے بعض افراد نے توجہ بھی دلائی اور کہا کہ اے یہودیو ! تم اللہ سے ڈرو اور اسلام قبول کرو تم تو یہ کہا کرتے تھے نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لانے والے ہیں تم ان کی صفات بھی بیان کرتے تھے اور ہم سے یوں کہتے تھے کہ ہم نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لا کر ان کے ساتھ مل کر تمہیں مغلوب اور مقہور کردیں گے۔ لہٰذا اب تم حق کو قبول کرو نبی آخر الزمان پر ایمان لاؤ اور مسلمان ہوجاؤ اس پر انہوں نے کہا کہ یہ وہ نبی نہیں ہیں ہم جس کے انتظار میں تھے وہ تو ہم ہی میں سے ہوگا۔ عرب میں سے نہیں ہوگا۔ جانتے پہچانتے ہوئے منکر ہوگئے اور یہ حسد ان کو کھا گیا کہ نبی عرب میں سے کیوں آیا۔ اس آیت میں ان کے اسی انکار اور حق سے انحراف کرنے کا تذکرہ ہے اور آخیر میں یہ فرمایا ہے کہ کافروں پر اللہ کی لعنت ہے جو حق اور حقیقت کو جانتے ہیں پھر بھی اس کے ماننے سے منکر ہیں۔ (من ابن کثیر ص ٨٢٤ ج ١) کتاب اللہ یعنی قرآن مجید کی صفت بیان کرتے ہوئے یہ جو فرمایا کہ (مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَھُمْ ) کہ یہ کتاب اس کتاب کی تصدیق کرنے والی ہے جس کو وہ اللہ کی کتاب مانتے ہیں (یعنی توریت شریف) اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ اگر یہ نبی اس نبی کے خلاف ہوتا جس پر توریت نازل ہوئی۔ اور یہ نبی اس کتاب کی کاٹ کرتا جو اللہ تعالیٰ نے اس نبی پر نازل کی تھی جس کو تم مانتے ہو تو انحراف اور مخالفت کی کوئی وجہ بھی ہوتی۔ وہ تو سارے نبیوں پر ایمان لانے اور اللہ تعالیٰ کی ساری کتابوں کو ماننے کی دعوت دیتا ہے اس سے انحراف کرنا اس حسد میں کہ یہ عرب میں سے ہے سراپا حماقت اور بیوقوفی ہے اور اللہ تعالیٰ پر اعتراض ہے کہ اس نے عرب میں سے نبی کیوں بھیجا اللہ تعالیٰ پر اعتراض کرنا مستقل کفر ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

175 کتاب سے مراد قرآن ہے اور تنوین اظہار عظمت کے لیے ہے ھوا القرآن وتنکیرہ للتفخیم (ابو السعود ص 617 ج 1) مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَھُمْ ۔ مَا مَعَھُمْ سے مراد تورات ہے۔ یعنی قرآن مسئلہ توحید میں، تردید شرک میں، نبوت میں اور دیگر کئی احکام میں تورات کی تائید وتصدیق کرتا ہے۔ قرآن کی صداقت کی ایک دلیل تو یہ ہوئی وَكَانُوْا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُوْنَ ۔ یہاں یستفتحون بمعنی یفتحون ہے کیونکہ باب استفعال کی خصوصیت موافقت مجرم دے ہے جیسے استقر بھی بمعنی قر ہے اور فتح کے معنی بتانے اور خبر دینے کے بھی آتے ہیں جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے من قولھم فتح علیہ اذا علمہ ووقفہ کما فی قولہ تعالی۔ اَتُحَدِّثُوْنَھُمْ بِمَا فَتَحَ اللّٰهُ عَلَيْكُمْ ۔ (روح ص 320 ج 1) یعنی یہی یہودی اس سے پہلے کفار اور مشرکین کو بتایا کرتے تھے۔ عرب میں جو آخری نبی پید اہونے والا ہے اس کے ظہور کا وقت قریب آپہنچا ہے۔ اور اس نبی پر اللہ کی طرف سے ایک کتاب نازل ہوگی۔ ای یعرفون المشرکین انبیا یبعث منہم وقد قرب زمانہ (روح ص 321 ج 1، بحر ص 303 ج 1) یہ قرآن اور صاحب قرآن کی صداقت پر دوسری دلیل ہے۔176 جب ان کے پاس اللہ کی وہ کتاب آگئی اور خدا کا وہ رسول بھی آگیا جن کو وہ اچھی طرح جانتے پہچانتے تھے تو انہوں نے محض بغض وحسد اور ضدوعناد کی وجہ سے اور اپنے تقدس واقتدار کی حفاظت اور حرص دنیا کی خاطر ان دونوں کا انکار کردیا۔ بغیاً وحسداً وحرصاً علی الریاسۃ (مدارک ص 48 ج 1) کَفَروا لما اولی کا جواب ہے اور لما ثانیہ اولی کی تاکید ہے یا لما اولی کا جواب محذوف ہے اور یہ لما ثانیہ کا جواب ہے ۡ فَلَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ ۔ ان کافروں کے لیے کفر و انکار کی وجہ سے خدا کی رحمت سے دوری ہے نہ دنیا میں ایمان کی توفیق نصیب ہوگی نہ آخرت میں نجات نصیب ہوگی۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 1 اور جب اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان یہود کے پاس وہ کتاب آئی جو اس کتاب کی تصدیق کرنیوالی ہے جو ان کے پاس ہے یعنی توریت حالانکہ یہ اس قرآن کے نزول سے قبل کفار کے مقابلہ میں فتح طلب کیا کرتے تھے اور خدا تعالیٰ سے نصرت کی دعائیں مانگا کرتے تھے مگر جب وہ چیز جس کو یہ اچھی طرح جانتے اور پہچانتے ہیں آگئی تو اس کا انکار کر بیٹھے اور اس پر ایمان لانے سے منکر ہوگئے لہٰذا ایسے منکروں کو جو جانتے بوجھتے انکار کریں اللہ تعالیٰ کو پھٹکار اور لعنت ہو۔ (تیسیر) پہلی کتاب سے مراد قرآن اور دوسری کتاب سے مراد توریت ہے تصدیق کا مطلب وہی ہے جو ہم اوپر عرض کرچکے ہیں یعنی قرآن توریت کے منجانب اللہ ہونے کی تصدیق کرتا ہے یا توریت میں جو پیشین گوئیاں قرآن اور نبی امی کے متعلق ہیں ان کو سچ کرنیوالا ہے ۔ طلب فتح کا مطلب یہ ہے کہ جب کبھی کفار سے ان اہل کتاب کی جنگ ہوتی تھی تو یہی یہود نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کا واسطہ دیکر اللہ تعالیٰ سے نصرت طلب کیا کرتے تھے اور کفار پر فتح حاصل کرنی کی دعا کیا کرتے تھے۔ اللھم ربنا انا نسئلک بحق احمدن النبی الامی الذی و عدتنا ان تخرجہ لنا فی آخر الزمان وبکتابک الذی تنزل علیہ اخرما ینزل ان تنصرنا علی اعدائنا۔ یعنی اے اللہ اے ہمارے پروردگار ہم اس احمد نبی امی کے واسطے اور سا کی برکت سے دعا کرتے ہیں جس کا تو نے ہم سے وعدہ کیا ہے کہ تو ان کو ہمارے لئے آخر زمانے میں مبعوث فرمائے گا اور تیری اس کتاب کے واسطے سے جو آخری کتاب ہے تجھ سے دعا کرتے ہیں تو ہمارے دشمنوں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔ یہ دعائیں تو قرآن سے قبل مانگتے تھے مگر جب وہ قرآن اور وہ احمد نبی امی تشریف لائے تو یہ جانتے ہوئے کہ یہ وہی نبی ہیں جن کا ذکر ہماری کتاب میں ہے اور یہ قرآن وہی کتاب ہے پھر انکار کردیا۔ استفتاح کا ترجمہ ہم نے وہی اختیار کیا ہے جو عام طور سے مشہور ہے لیکن ہوسکتا ہے کہ استفتاح کے معنی فتح کے ہوں جیسا کہ بعض حضرات اس کے قائل ہیں تو اب مطلب یہ ہوگا کہ اس قرآن کے آنے سے قبل تو تم خود کفار سے یہ بیان کیا کرتے تھے اور کافروں سے یہ کہا کرتے تھے کہ آخر زمانے میں ایک نبی آنیوالا ہے اور وہ ایک کتاب لانے والا ہے اور وہ عرب میں پیدا ہونیوالا ہے مگر جب وہ خود تمہارا بیان کردہ نبی آپہونچا اور وہ اپنے ہمراہ کتاب بھی لایا تو تم نے انکار کردیا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں جب غلبہ کافروں کا دیکھتے تو دعا مانگتے کہ نبی آخر الزمان شتاب پیدا ہو جب پیدا ہوا تو آپ ہی منکر ہوئے ، (موضح القرآن) بہرحال استفتاح طلب نصرت و فتح کے معنی میں ہو یا فتح کے معنی میں ہو مطلب یہ ہے کہ اس قرآن کے نزول سے قبل اور اس پیغمبر کی تشریف آوری سے قبل تم کو ان کا حق ہونا تسلیم تھا لیکن جب یہ کتاب آئی تو تم ہی نے اس کو ماننے سے انکار کردیا۔ (تسہیل)