Surat Tahaa

Surah: 20

Verse: 117

سورة طه

فَقُلۡنَا یٰۤـاٰدَمُ اِنَّ ہٰذَا عَدُوٌّ لَّکَ وَ لِزَوۡجِکَ فَلَا یُخۡرِجَنَّکُمَا مِنَ الۡجَنَّۃِ فَتَشۡقٰی ﴿۱۱۷﴾

So We said, "O Adam, indeed this is an enemy to you and to your wife. Then let him not remove you from Paradise so you would suffer.

تو ہم نے کہا اے آدم! یہ تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے ( خیال رکھنا ) ایسا نہ ہو کہ وہ تم دونوں کو جنت سے نکلوا دے کہ تو مصیبت میں پڑ جائے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

فَقُلْنَا يَا ادَمُ إِنَّ هَذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَلِزَوْجِكَ ... Then We said: "O Adam! Verily, this is an enemy to you and to your wife..." here wife refers to Hawwa'. ... فَلَ يُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقَى So let him not get you both out of Paradise, so that you will be distressed. meaning, `Do not be hasty in doing something that will get you expelled from Paradise, or else you will be fatigued, discomforted and worried, seeking your sustenance. But here, in Paradise, you live a life of ease with no burdens and no difficulties.' إِنَّ لَكَ أَلاَّ تَجُوعَ فِيهَا وَلاَ تَعْرَى

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

117۔ 1 یہ شقا، محنت ومشقت کے معنی میں ہے، یعنی جنت میں کھانے پینے، لباس اور مسکن جو سہولتیں بغیر کسی محنت کے حاصل ہیں۔ جنت سے نکل جانے کی صورت میں ان چاروں چیزوں کے لئے محنت و مشقت کرنی پڑے گی، جس طرح کہ ہر انسان کو دنیا میں ان بنیادی ضروریات کی فراہمی کے لئے محنت کرنی پڑ رہی ہے۔ علاوہ ازیں صرف آدم (علیہ السلام) سے کہا گیا کہ محنت مشقت میں پڑجائیگا۔ دونوں کو نہیں کہا گیا حالانکہ درخت کا پھل کھانے والے آدم (علیہ السلام) و حوا دونوں ہی تھے۔ اس لئے اصل مخاطب آدم ہی تھے۔ نیز بنیادی ضروریات کی فراہمی بھی مرد ہی کی ذمہ داری ہے عورت کی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے عورت کو اس محنت و مشقت سے بچا کر گھر کی ملکہ کا اعزاز عطا فرمایا ہے۔ لیکن آج عورت کو یہ " اعزاز الہٰی "" طوق غلامی " نظر آتا ہے جس سے آزاد ہونے کے لیے وہ بےقرار اور مصروف جہد ہے آہ ! اغوائے شیطانی بھی کتنا موثر اور اس کا جال بھی کتنا حسین اور دلفریب ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فَقُلْنَا يٰٓاٰدَمُ اِنَّ ھٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ ۔۔ : عداوت کا اظہار سجدے سے انکار کے ساتھ ہی ہوگیا تھا۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورة اعراف (٢٢) ” فَتَشْقٰي “ تو مصیبت میں پڑجائے گا، یعنی روزی کے لیے محنت مشقت کرنا پڑے گی اور جنت کی تمام آسائشیں اور نعمتیں چھین لی جائیں گی۔ آدم (علیہ السلام) کی طرف خاص شقاوت کی نسبت اس لیے ہے کہ مرد کو عورت کا منتظم اور اس کے اخراجات کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ اس لیے اصل آدم (علیہ السلام) ہی ہیں اور حوا [ ان کے تابع۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

(فَلَا يُخْرِ‌جَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقَىٰ ). The word تَشقٰی (tashga) is derived from شَقَاوَہ (shaqawah) which has two meanings namely distress or trouble in the Hereafter and distress in this world. Here the word has obviously been used in the second meaning because it cannot be used in its first meaning even for pious Muslims, leave alone the prophets. Commentators have explained this word in the sentence ھو امن یاکل من کدّ یدیہ (He will have to earn his living by the labour of his hands). (Qurtubi) In the present context the second meaning of the word appears more appropriate because in the following verse reference has been made to the four basic needs of human life, namely food, water, clothes and shelter which are freely available in Paradise without any effort and toil. This verse also contains a hint to Sayyidna &Adam (علیہ السلام) that if he ever was expelled from Paradise, He would forfeit all these gifts. It is worth noting that here only those gifts have been mentioned which are basic to human life, to the exclusion of the other major rewards and comforts which are available in Paradise and the intention is to warn Sayyidna &Adam (علیہ السلام) that one wrong step would deprive him of all these benefits, which he would have to earn for himself with physical labour and by the sweat of his brow. Most commentators have adopted this very meaning of the word فَتَشقٰی . (lest you get into trouble) Imam Qurtubi اللہ تعالیٰ has also recorded that when Sayyidna &Adam (علیہ السلام) came down to the earth, Jibra&il (علیہ السلام) gave him some grains of wheat and rice and taught him how to plant the seeds, harvest the ripe crop, grind the grain and prepare bread from it. Finally when all the stages were completed and Sayyidna &Adam (علیہ السلام) sat down to eat, the bread slipped out of his hand and rolled down the hill. Sayyidna &Adam (علیہ السلام) went after it and retrieved it with great exertion. Thereupon Jibra&il (علیہ السلام) told Sayyidna &Adam (علیہ السلام) that on the earth he and his descendants would have to work very hard in order to earn their livelihood. (Qurtubi) The responsibility for providing the essential needs of a wife rests on her husband _ Early in this verse when Allah spoke to Sayyidna &Adam (علیہ السلام) He included Sayyidah Hawwa& also in His address عَدُوٌّ لَّكَ وَلِزَوْجِكَ فَلَا يُخْرِ‌جَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ (shaitan is your enemy and the enemy of your wife. So you both must be very careful so let him not expel you from Paradise - 20:117). But towards the end of the verse word فَتَشْقَىٰ (lest you get into trouble) is used in the singular and not in dual form. From this Imam Qurtubi has deduced the rule that a husband is responsible for meeting the essential needs of his wife and that any physical labour which is necessary to meet that responsibility must be provided by the husband alone. The use of the word فَتَشْقَىٰ in second person singular is a pointer to Sayyidna &Adam (علیہ السلام) that if they were sent to the earth the onus of earning a livelihood for himself and Sayyidah Hawwa& (علیہا السلام) will fall on him alone. Only four things fall within the definition of obligatory maintenance. Qurtubi says that this verse clearly indicates that there are four things only which a husband must provide for his wife namely food, water, clothes and shelter. Anything else which he gives her will be regarded as gift, but is not binding on him. From this it has also been deduced that wherever Islamic law makes a person responsible for the maintenance of somebody else (such as sick and needy parents whose maintenance is the responsibility of the children), it is obligatory on him to provide only these four things.

فَلَا يُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقٰي، یعنی یہ شیطان کہیں تمہیں جنت سے نہ نکلوا دے جس کی وجہ سے تم مصیبت اور مشقت میں پڑجاؤ۔ لفظ تشقی شقاوت سے مشتق ہے۔ یہ لفظ دو معنے کے لئے استعمال ہوتا ہے ایک شقاوت آخرت، دوسرے شقاوت دنیا یعنی جسمانی مشقت و مصیبت اس جگہ یہی دوسرے معنی مراد ہو سکتے ہیں کیونکہ پہلے معنی میں کسی پیغمبر کے لئے تو کیا کسی نیک مسلمان کے لئے بھی یہ لفظ نہیں بولا جاسکتا اس لئے فراء نے اس شقاوت کی تفسیر یہ کی ہے کہ ھو ان یا کل من کد یدیہ یعنی شقاوت سے اس جگہ مراد یہ ہے کہ اپنے ہاتھوں کی محنت سے خوراک حاصل کرنا پڑے گی (قرطبی) اور اس جگہ قرینہ مقام بھی دوسرے ہی معنی کے لئے شاہد ہے کیونکہ اس کے بعد کی آیت میں جنت کی نعمتوں میں سے ان چار نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے جو ہر انسان کی زندگی کے لئے عمودی حیثیت رکھتی ہیں اور ضروریات زندگی میں سب سے اہم ہیں۔ یعنی کھانا، پینا، لباس اور مکسن۔ اس آیت میں یہ ارشاد فرمایا ہے کہ یہ سب نعمتیں جنت میں تو بلا کسی کسب و اکتساب اور محنت و مشقت کے ملتی ہیں۔ اس میں اشارہ پایا گیا کہ یہاں سے نکل گئے تو یہ نعمتیں سلب ہوجائیں گی اور شاید اسی اشارہ کے لئے یہاں جنت کی بڑی بڑی نعمتوں کا ذکر نہیں کیا گیا بلکہ صرف ان کا ذکر کیا جن پر انسانی زندگی موقوف ہے اور اس سے ڈرایا گیا کہ شیطانی اغواء میں آ کر کہیں ایسا نہ ہو کہ جنت سے نکالے جاؤ اور یہ سب نعمتیں سلب ہوجائیں اور پھر زمین پر ان ضروریات زندگی کو ایسی محنت مشقت اٹھا کر حاصل کرنا پڑے یہ مفہوم لفظ فتشقی کا ہے جو جمہور مفسرین نے لکھا ہے۔ امام قرطبی نے اس جگہ یہ بھی ذکر کیا ہے کہ آدم (علیہ السلام) جب زمین پر تشریف لائے تو جبرئیل نے جنت سے کچھ دانے گیہوں چاول وغیرہ کے لا کردیئے کہ ان کو زمین میں کاشت کرو پھر جب یہ پودا نکلے اور اس پر دانے جمیں تو اس کو کاٹو پھر پیس کر روٹی بناؤ اور ان سب کاموں کے طریقے بھی حضرت آدم کو سمجھا دیئے اس کے مطابق آدم (علیہ السلام) نے روٹی پکائی اور کھانے کے لئے بیٹھے تھے کہ روٹی ہاتھ سے چھٹ کر پہاڑ کے نیچے لڑھک گئی آدم (علیہ السلام) اس کے یچھے چلے اور بڑی محنت کر کے واپس لائے تو جبرئیل امین نے کہا کہ اے آدم آپ کا اور آپ کی اولاد کا رزق زمین پر اسی طرح محنت مشقت سے حاصل ہوگا۔ (قرطبی) بیوی کا نفقہ ضروریہ شوہر کے ذمہ ہے : اس مقام پر شروع آیت میں حق تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کے ساتھ حضرت حوا کو بھی خطاب میں شریک کیا عَدُوٌّ لَّكَ وَلِزَوْجِكَ فَلَا يُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ جس میں بتلایا ہے کہ شیطان آپ کا بھی دشمن ہے اور آپ کی بیوی کا بھی اور یہ کہ ایسا نہ ہو کہ تم دونوں کو یہ جنت سے نکلوا دے مگر آخر آیت میں لفظ فتشقی کو مفرد استعمال فرمایا بیوی کو اس میں شریک نہیں کیا ورنہ بمقتضائے مقام فتشقیا کہا جاتا۔ امام قرطبی نے اس سے یہ مسئلہ مستنبط کیا ہے کہ ضروریات زندگی بیوی کی مرد کے ذمہ ہیں ان کے حصول میں جو محنت و مشقت ہو اس کا تنہا ذمہ دار مرد ہے اسی لئے فتشقی بصیغہ مفرد لا کر اشارہ کردیا کہ زمین پر اتارے گئے تو ان ضروریات زندگی کی تحصیل میں جو کچھ محنت مشقت اٹھانا پڑے گی وہ حضرت آدم (علیہ السلام) پر پڑے گی کیونکہ حواء کا نفقہ اور ضروریات زندگی فراہم کرنا ان کے ذمہ ہے۔ نفقہ واجبہ صرف چار چیزیں ہیں : قرطبی نے فرمایا کہ اسی آیت نے ہمیں یہ بھی بتلا دیا کہ عورت کا جو نفقہ مرد کے ذمہ ہے وہ صرف چار چیزیں ہیں۔ کھانا پینا اور لباس اور مسکن۔ اس سے زائد جو کچھ شوہر اپنی بیوی کو دیتا یا اس پر خرچ کرتا ہے وہ تبرع و احسان ہے واجب و لازم نہیں۔ اسی سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بیوی کے علاوہ جس کسی کا نفقہ شریعت نے کسی شخص کے ذمہ عائد کیا ہے اس میں بھی چار چیزیں اس کے ذمہ واجب ہوتی ہیں جیسے ماں باپ کا نفقہ اولاد کے ذمہ جبکہ وہ محتاج اور معذور ہوں و غیر ذلک جس کی تفصیل کتب فقہ میں مذکور ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَقُلْنَا يٰٓاٰدَمُ اِنَّ ھٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَلِزَوْجِكَ فَلَا يُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّۃِ فَتَشْقٰي۝ ١١٧ عدو العَدُوُّ : التّجاوز ومنافاة الالتئام، فتارة يعتبر بالقلب، فيقال له : العَدَاوَةُ والمُعَادَاةُ ، وتارة بالمشي، فيقال له : العَدْوُ ، وتارة في الإخلال بالعدالة في المعاملة، فيقال له : العُدْوَانُ والعَدْوُ. قال تعالی: فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْواً بِغَيْرِ عِلْمٍ [ الأنعام/ 108] ، وتارة بأجزاء المقرّ ، فيقال له : العَدْوَاءُ. يقال : مکان ذو عَدْوَاءَ «3» ، أي : غير متلائم الأجزاء . فمن المُعَادَاةِ يقال : رجلٌ عَدُوٌّ ، وقومٌ عَدُوٌّ. قال تعالی: بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ [ طه/ 123] ( ع د و ) العدو کے معنی حد سے بڑھنے اور باہم ہم آہنگی نہ ہونا ہیں اگر اس کا تعلق دل کی کیفیت سے ہو تو یہ عداوۃ اور معاداۃ کہلاتی ہے اور اگر رفتار سے ہو تو اسے عدو کہا جاتا ہے اور اگر عدل و انصاف میں خلل اندازی کی صورت میں ہو تو اسے عدوان اور عدو کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْواً بِغَيْرِ عِلْمٍ [ الأنعام/ 108] کہ یہ بھی کہیں خدا کو بےادبی سے بےسمجھے برا نہ کہہ بیٹھیں ۔ اور اگر اس کا تعلق کسی جگہ کے اجزاء کے ساتھ ہو تو اسے عدواء کہہ دیتے ہیں جیسے مکان ذوعدوء ناہموار مقام چناچہ معاداۃ سے اشتقاق کے ساتھ کہا جاتا ہے رجل عدو وقوم عدو اور یہ واحد جمع دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ [ طه/ 123] اب سے تم ایک دوسرے کے دشمن ہو ۔ زوج يقال لكلّ واحد من القرینین من الذّكر والأنثی في الحیوانات الْمُتَزَاوِجَةُ زَوْجٌ ، ولكلّ قرینین فيها وفي غيرها زوج، کالخفّ والنّعل، ولكلّ ما يقترن بآخر مماثلا له أو مضادّ زوج . قال تعالی: فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنْثى[ القیامة/ 39] ( ز و ج ) الزوج جن حیوانات میں نرا اور پایا جاتا ہے ان میں سے ہر ایک دوسرے کا زوج کہلاتا ہے یعنی نرا اور مادہ دونوں میں سے ہر ایک پر اس کا اطلاق ہوتا ہے ۔ حیوانات کے علا وہ دوسری اشیائیں سے جفت کو زوج کہا جاتا ہے جیسے موزے اور جوتے وغیرہ پھر اس چیز کو جو دوسری کی مما ثل یا مقابل ہونے کی حثیت سے اس سے مقترن ہو وہ اس کا زوج کہلاتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنْثى[ القیامة/ 39] اور خر کار اس کی دو قسمیں کیں ( یعنی مرد اور عورت ۔ خرج خَرَجَ خُرُوجاً : برز من مقرّه أو حاله، سواء کان مقرّه دارا، أو بلدا، أو ثوبا، وسواء کان حاله حالة في نفسه، أو في أسبابه الخارجة، قال تعالی: فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] ، ( خ رج ) خرج ۔ ( ن) خروجا کے معنی کسی کے اپنی قرار گاہ یا حالت سے ظاہر ہونے کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ قرار گاہ مکان ہو یا کوئی شہر یا کپڑا ہو اور یا کوئی حالت نفسانی ہو جو اسباب خارجیہ کی بنا پر اسے لاحق ہوئی ہو ۔ قرآن میں ہے ؛ فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] موسٰی وہاں سے ڈرتے نکل کھڑے ہوئے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے ۔ جَنَّةُ : كلّ بستان ذي شجر يستر بأشجاره الأرض، قال عزّ وجل : لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15] الجنۃ ہر وہ باغ جس کی زمین درختوں کیوجہ سے نظر نہ آئے جنت کہلاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛ لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15]( اہل ) سبا کے لئے ان کے مقام بود باش میں ایک نشانی تھی ( یعنی دو باغ ایک دائیں طرف اور ایک ) بائیں طرف ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جنات جمع لانے کی وجہ یہ ہے کہ بہشت سات ہیں ۔ (1) جنۃ الفردوس (2) جنۃ عدن (3) جنۃ النعیم (4) دار الخلد (5) جنۃ المآوٰی (6) دار السلام (7) علیین ۔ شقي الشَّقَاوَةُ : خلاف السّعادة، وقد شَقِيَ «2» يَشْقَى شَقْوَة، وشَقَاوَة، وشَقَاءً ، . قال عزّ وجلّ : فَمَنِ اتَّبَعَ هُدايَ فَلا يَضِلُّ وَلا يَشْقى[ طه/ 123] ( ش ق و ) اشقاوۃ ( بدبختی ) یہ سعادت کی ضد ہے اور شقی ( س) شقوۃ وشقاوۃ وشقاء کے معنی بدبخت ہونے کے ہیں ۔ اور آیت کریمہ ۔: فَمَنِ اتَّبَعَ هُدايَ فَلا يَضِلُّ وَلا يَشْقى[ طه/ 123] وہ نہ گمراہ ہوگا اور نہ تکلیف میں پڑے گا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١١٧) پھر ہم نے کہا اے آدم یاد رکھو کہ یہ تمہارا اور تمہاری بیوی حضرت ” حوا “ کا دشمن ہے اس کے کہنے سے کوئی کام ایسا نہ کرنا کہ جنت سے باہر نکال دیے جاؤ اور مصیبت میں پڑجاؤ۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

95. Here the command, which was given to Prophet Adam, has not been mentioned, which was: You must not eat the fruit of this tree. This has been mentioned at other places but has been omitted here because the emphasis here is on this weakness of man that he is easily seduced by Satan in spite of the forewarnings and admonitions to this effect. 96. Both knew that Satan was their enemy, for Adam himself had witnessed the demonstration of his enmity, when he had refused to bow down before him and declared in plain words: I am better than him. You created me of fire and him of clay. (Surah Al-Aaraf, Ayat 12); (Surah Suad, Ayat 76), see also (Surah Al-Hijr, Ayat 33). Should I bow before the one whom You created out of clay. And then added: Just consider was he worthy of this that You have exalted him over me. (Surah Al-Isra, Ayats 61-62). Then Satan did not rest content with this bragging of superiority but evinced his jealousy by giving an open challenge that he would prove it by seducing Adam. (Surah Al_Aaraf, Ayats 16, 17); (Surah Al-Hijr, Ayats 36-42); (Surah Al-Isra, Ayats 62-66); (Surah Suad, Ayats 82-83). 97. This was to forewarn both of them of the consequences of disobedience of the command.

سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :95 یہاں وہ اصل حکم بیان نہیں کیا گیا ہے جو آدم علیہ السلام کو دیا گیا تھا ، یعنی یہ کہ اس خاص درخت کا پھل نہ کھانا ۔ وہ حکم دوسرے مقامات پر قرآن مجید میں بیان ہو چکا ہے ۔ اس مقام پر چونکہ بتانے کی اصل چیز صرف یہ ہے کہ انسان کس طرح اللہ تعالیٰ کی پیشگی تنبیہ اور فہمائش کے باوجود اپنے جانے بوجھے دشمن کے اغوا سے متاثر ہو جاتا ہے ، اور کس طرح اس کی یہی کمزوری اس سے وہ کام کرا لیتی ہے جو اس کے اپنے مفاد کے خلاف ہوتا ہے ، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اصل حکم کا ذکر کرنے کے بجائے یہاں اس فہمائش کا ذکر کیا ہے جو اس حکم کے ساتھ حضرت آدم کو کی گئی تھی ۔ سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :96 دشمنی کا مظاہرہ اسی وقت ہو چکا تھا ۔ آدم اور حوا علیہما السلام خود دیکھ چکے تھے کہ ابلیس نے ان کو سجدہ کرنے سے انکار کیا ہے اور صاف صاف یہ کہہ کر کیا ہے کہ : اَنَا خَیْرٌ مِّنْہُ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خلقْتَہ مِنْ طِیْنٍ ، میں اس سے بہتر ہوں ، تو نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو مٹی سے ( اعراف ۔ آیت 12 ۔ ص ۔ آیت 76 ) ۔ اَرَاَیْتَکَ ھٰذَا الَّذِیْ کَرَّ مْتَ عَلَیَّ ، ذرا دیکھ تو سہی یہ ہے وہ ہستی جس کو تو نے مجھ پر فضیلت دی ہے :ءَاَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِیْناً ، اب کیا میں اسے سجدہ کروں جس کو تو نے مٹی سے بنایا ہے ؟ ( بنی اسرائیل ۔ آیات 61 ۔ 62 ) ۔ پھر اتنے ہی پر اس نے اکتفا نہ کیا کہ کھلم کھلا اپنے حسد کا اظہار کر دیا ، بلکہ اللہ تعالیٰ سے اس نے مہلت بھی مانگی کہ مجھے اپنی فضیلت اور اس کی نااہلی ثابت کرنے کا موقع دیجیے ، میں اسے بہکا کر آپ کو دکھا دوں گا کہ کیسا ہے یہ آپ کا خلیفہ ۔ اعراف ، حجر اور بنی اسرائیل میں اس کا یہ چیلنج گزر چکا ہے اور آگے سورہ ’ص‘ میں بھی آ رہا ہے ۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے جب یہ فرمایا کہ یہ تمہارا دشمن ہے ، تو یہ محض ایک امر غیب کی اطلاع نہ تھی ، بلکہ ایک ایسی چیز تھی جسے عین برسر موقع دونوں میاں بیوی اپنی آنکھوں دیکھ چکے اور اپنے کانوں سن چکے تھے ۔ سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :97 اس طرح یہ بھی دونوں کو بتا دیا گیا کہ اگر اس کے بہکانے میں آ کر تم نے حکم کی خلاف ورزی کی تو جنت میں نہ رہ سکو گے اور وہ تمام نعمتیں تم سے چھن جائیں گی جو تم کو یہاں حاصل ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

50: اس آیت کو اگلی آیت سے ملا کر پڑھا جائے تو مطلب یہ ہے کہ جنت میں تو تمہیں زندگی کی ساری ضروریات یعنی خوراک، کپڑا اور رہنے کے لیے گھر بغیر کسی محنت کے حاصل ہے، جنت سے نکل گئے تو ان چیزوں کو حاصل کرنے کے لیے محنت اور مشقت اٹھانی پڑے گی۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(20:117) فتشقی۔ تشقی مضارع واحد مذکر حاضر۔ شقی یشقی (سمع) شقاوۃ شقوۃ۔ شقوۃ مصدر۔ بدبخت ہونا۔ شقاوۃ جملہ اعتبارات وحیثیات سے سعادۃ سعادت نفسی۔ سعادت بدنی۔ سعادت خارجی۔ اسی طرح شقاوت بھی ان ہی اقسام پر منقسم ہوتی ہے۔ چناچہ شقاوت اخروی کی مثال ہے فلا یضل ولا یشقی (20: 133) وہ نہ گمراہ ہوگا اور نہ تکلیف میں پڑے گا۔ اور شقاوت دنیوی کے متعلق ہے فلا یخرجنکما من الجنۃ فتشقی (آیت ہذا) تو یہ تم دونوں کو جنت سے نہ نکلوا دے پھر تم تکلیف میں پڑ جائو۔ یعنی ایسا نہ ہو کہ یہ (شیطان) تمہیں کوئی چکمہ دے اور تم پھنس جائو۔ ایسے یہ تم کو جنت کی راحتوں سے محروم کر دے گا۔ فتشقی اور تم مشقت میں مبتلا ہوجائو گے۔ کیونکہ یہاں (جنت میں) تو ہر چیز تیار ملتی ہے۔ اگر تم یہاں سے نکال دئیے گئے تو پھر ایک ایک لقمہ کے لئے محنت کرنا پڑے گی۔ المراد بالشقاء التعب فی طلب المعاش (مظہری) شقاوت سے یہاں مراد وہ کلفت اور تھکن ہے جو کسب معاش کے باعث انسان محسوس کرتا ہے۔ یہاں نشقی کا لفظ بدبختی کے معنی میں مستعمل نہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8 دشمنی کا مظاہرہ تو وہ اسی وقت کرچکا تھا جب اس نے حضرت آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے اور اسے مٹی سے پیدا کیا ہے۔ (الاعراف 12)9 یعنی روزی کے لئے محنت مشقت کرنی پڑے اور جنت کی تمام نعمتیں اور آسائشیں چھین لی جائیں۔ آدم کی کی طرف خاص کر شقاوت کی نسبت اسی لئے ہے مرد کو عورت کا منتظم اور اس کے اخراجات کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ اس لئے اصل آدمی ہی ہیں اور حوا ان کے تابع

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ یعنی اس کے کہنے سے کوئی ایسا کام مت کر بیٹھنا کہ جنت سے باہر کئے جاو۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اللہ کی مہربانیوں اور عنایات میں سے ایک عنایت یہ تھی کہ اللہ نے حضرت آدم کو قبل از وقت بتا دیا تھا کہ شیطان تمہیں ستاتی ہے۔ “ اللہ کی مہربانیوں اور عنایات میں سے ایک عنایت یہ تھی کہ اللہ نے حضرت آدم کو قبل از وقت بتا دیا تھا کہ شیطان تمہارا دشمن ہے کیونکہ اس نے آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا تھا۔ حالانکہ اس سجدے کا حکم اللہ نے خود اس کو دیا تھا۔ اشاراتاً پہلے ہی تخلیق آدم کا منصوبہ بھی بتا دیا تھا۔ فلا یخرجنکما من الجنۃ فتشقی (٠٢ : ٨١١) ” ایسا نہ ہو کہ یہ تمہیں جنت سے نکلوا دے اور تم مصیبت میں پڑ جائو۔ “ کیونکہ جنت سے نکل کر انسان کو مشقت ، جدوجہد ، بدعملی ، گمراہی ، پریشانیوں ، حیرانیوں ، شوق اور انتظار ، رنج اور محرومی سے دوچار ہوناپڑا۔ اس سے بڑی مصیبت اور کیا ہوگی ، یہ سب چیزیں جنت سے باہر انسان کے انتظار میں تھیں۔ جب تک آدم جنت میں تھے ان مشقتوں اور مصیبتوں سے محفوظ تھے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

1 17 پھر ہم نے آدم (علیہ السلام) یہ ابلیس یقینا تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے سو کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ تم دونوں کو کسی غلطی کے ارتکاب کے باعث جنت سے نکلوا دے پھر تو تکلیف و مصیبت میں پڑجائے۔ یعنی ابلیس تجھ کو کسی غلطی پر بہکا کر آمادہ کر دے اور تم دونوں جنت سے نکال دیئے جائو اور معیشت کے چکر میں پھنس جائو چونکہ بیوی کی ذمہ داری بھی خاوند پر ہوتی ہے اس لئے آدم (علیہ السلام) کو مشقت میں مبتلا ہونے سے ہوشیار کیا اگرچہ پریشانی بیوی کو بھی ہوتی ہے۔