Surat Tahaa

Surah: 20

Verse: 124

سورة طه

وَ مَنۡ اَعۡرَضَ عَنۡ ذِکۡرِیۡ فَاِنَّ لَہٗ مَعِیۡشَۃً ضَنۡکًا وَّ نَحۡشُرُہٗ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ اَعۡمٰی ﴿۱۲۴﴾

And whoever turns away from My remembrance - indeed, he will have a depressed life, and We will gather him on the Day of Resurrection blind."

اور ( ہاں ) جو میری یاد سے روگردانی کرے گا اس کی زندگی تنگی میں رہے گی ، اور ہم اسے بروز قیامت اندھا کرکے اٹھائیں گے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي ... But whosoever turns away from My Reminder, This means, "Whoever opposes my command and what I have revealed to My Messenger, then he has turned away from it, neglected it and taken his guidance from other than it." ... فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا ... verily, for him is a life of hardship, meaning, his life will be hard in this world. He will have no tranquility and no expanding of his breast (ease). Rather, his chest will be constrained and in difficulty due to his misguidance. Even if he appears to be in comfort outwardly and he wears whatever he likes, eats whatever he likes and lives wherever he wants, he will not be happy. For verily, his heart will not have pure certainty and guidance. He will be in agitation, bewilderment and doubt. He will always be in confusion and a state of uncertainty. This is from the hardship of life. Concerning His statement, ... وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى and We shall raise him up blind on the Day of Resurrection. Mujahid, Abu Salih and As-Suddi said, "This means he will have no proof." Ikrimah said, "He will be made blind to everything except Hell." This is as Allah says, وَنَحْشُرُهُمْ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ عَلَى وُجُوهِهِمْ عُمْيًا وَبُكْمًا وَصُمًّا مَّأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ And We shall gather them together on the Day of Resurrection on their faces, blind, dumb and deaf; their abode will be Hell. (17:97) This is why Allah says, قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِي أَعْمَى وَقَدْ كُنتُ بَصِيرًا

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

124۔ 1 اس تنگی سے بعض نے عذاب قبر اور بعض نے وہ، قلق واضطراب، بےچینی اور بےکلی مراد لی ہے جس میں اللہ کی یاد سے غافل بڑے بڑے دولت مند مبتلا رہتے ہیں۔ 124۔ 2 اس سے مراد فی الواقع آنکھوں سے اندھا ہونا ہے یا پھر بصیرت سے محرومی مراد ہے یعنی وہاں اس کو کوئی ایسی دلیل نہیں سوجھے گی جسے پیش کر کے وہ عذاب سے چھوٹ سکے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٩٠] معیشۃ ضنکا کا یہ مطلب نہیں کہ ان پر ہمیشہ تنگ دستی غالب رہے گی۔ بلکہ یہ مطلب ہے کہ انھیں قناعت اور قلبی سکون کبھی میسر نہ آئے گا۔ اور اگر مالدار ہوں گے تو ہمیشہ ننانوے کے چکر میں پڑے رہیں گے۔ نہ رات کو سکون نصیب ہوگا اور نہ دن کو اور اگر تنگ دست ہیں تو اپنی تکلیفوں اور مصیبتوں پر واویلا کرتے رہیں گے اور جزع فزع میں ہی ان کی زندگی میں ہی ان کی زندگی بسر ہوجائے گی اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ کافر کے پاس خواہ کتنا ہی مال و دولت ہو خیر اس میں داخل نہیں ہوسکے گا۔ یہی مال و دولت چند روزہ عیش کے بعد اس کے لئے وبال جان بن جائے گا اور بعض مفسرین نے اس سے قبر کی برزخی زندگی مراد لی ہے۔ یعنی قیامت سے پہلے ہی ان پر تنگی کا ایسا دور آئے گا کہ قبر کی زمین بھی ان پر تنگ کردی جائے گی اور یہ تفسیر بعض صحابہ سے مروی ہے۔ بہرحال اس لفظ کے تحت یہ سب صورتیں داخل ہوسکتی ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِيْ : ذکر سے مراد اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی نصیحت ہے، جیسا کہ فرمایا : (اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ ) [ الحجر : ٩ ] ” بیشک ہم، ہم نے ہی یہ ذکر یعنی نصیحت نازل کی ہے اور بیشک ہم اس کی ضرور حفاظت کرنے والے ہیں۔ “ فَاِنَّ لَهٗ مَعِيْشَةً ضَنْكًا : ” مَعِيْشَةً “ زندگی، وہ چیزیں جن پر زندگی گزرتی ہے، مثلاً کھانا پینا اور دوسری ضروریات۔ (قاموس) ” ضَنْكًا “ ” ضَنُکَ یَضْنُکُ ضَنْکًا وَضُنَاکًا وَ ضَنَاکَۃً “ مصدر بمعنی اسم فاعل ہے، اس لیے ” مَعِيْشَةً “ کی صفت ہونے کے باوجود لفظ میں تبدیلی نہیں ہوئی، یہ واحد و جمع اور مذکر و مؤنث سب کے لیے ایک ہی رہتا ہے، یعنی وہ تنگی والی زندگی گزارے گا۔ اس کی تفسیر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے، اس لیے وہ سب سے راجح ہے۔ صحیح ابن حبان میں ہے کہ ابوہریرہ (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اللہ عزو جل کے اس قول ” فَاِنَّ لَهٗ مَعِيْشَةً ضَنْكًا “ کے متعلق روایت کیا، آپ نے فرمایا : ( عَذَابُ الْقَبْرِ ) ”(مراد) عذاب قبر ہے۔ “ ” اَلتَّفْسِیْرُ الصَّحِیْحُ الْمَسْبُوْرُ “ میں اسے الاحسان (٣١١٩) ، مستدرک حاکم (١؍٣٨١، ح : ١٤٠٥) اور کئی کتابوں سے نقل کیا گیا ہے اور مختلف ائمہ سے اس کا حسن، جید یا صحیح ہونا بھی نقل کیا گیا ہے۔ امام طبری نے ابن عباس (رض) سے حسن سند کے ساتھ اس کی تفسیر ” الشقاء “ فرمائی ہے۔ ” الشقاء “ کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة طہ (٢) ” مَعِيْشَةً ضَنْكًا “ کے الفاظ میں دنیا اور قبر دونوں کی تنگ زندگی شامل ہے۔ اللہ کی نصیحت سے منہ موڑنے والا شخص اللہ پر توکل اور اس کے عطا کردہ پر قناعت سے محرومی کی وجہ سے ہر وقت زیادہ سے زیادہ مال و جاہ کی ہوس میں مبتلا رہتا ہے۔ مال کی دو وادیاں ملنے پر تیسری کی تلاش میں چل نکلتا ہے۔ باؤلے کتے کی پیاس کی طرح اس کی حرص ختم نہیں ہوتی۔ اربوں کھربوں کا مالک ہونے کے باوجود فقیر ہوتا ہے، حرص اور بخل کی کمینگی کی وجہ سے اسے کسی کی دلی محبت حاصل نہیں رہتی۔ اموال و اولاد اس کے لیے راحت بننے کے بجائے اللہ کی طرف سے عذاب بن جاتے ہیں۔ دیکھیے سورة توبہ (٥٥، ٨٥) پھر وہ وقت آجاتا ہے کہ اسے گولیوں کے بغیر نیند نہیں آتی اور ہر آسائش حاصل ہوتے ہوئے بھی اسے اس رنج و الم سے بھری ہوئی زندگی سے چھٹکارے کی کوئی صورت خود کشی کے سوا نظر نہیں آتی۔ یقین نہ ہو تو جاپان، سویڈن، ناروے وغیرہ میں خود کشی کا تناسب دیکھ لیں۔ وَّنَحْشُرُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اَعْمٰی : دنیا میں اللہ تعالیٰ کی آیات سے کان اور آنکھیں بند کرلینے اور حق کو تسلیم نہ کرنے کی پاداش میں قیامت کے دن اسے اندھا، گونگا اور بہرا کرکے اٹھایا جائے گا۔ (بنی اسرائیل : ٩٧) قیامت کا دن پچاس ہزار سال کا ہے۔ دیکھیے سورة معارج (٤) اس کے مختلف اوقات میں لوگوں کے احوال مختلف ہوں گے۔ قبر سے اٹھتے وقت وہ اندھا ہوگا، پھر جہنم کی ہولناکی اور اہل ایمان کی عزت دکھانے کے لیے بینا کردیا جائے گا۔ دیکھیے سورة طور (١٤، ١٥) اور سورة مریم (٣٨) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

وَمَنْ أَعْرَ‌ضَ عَن ذِكْرِ‌ي (And whoever turns away from My message - 20:124.) Here the word can refer both to the Qur&an and the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as has been mentioned in other verses ذِكْرً‌ا ﴿١٠﴾ رَّ‌سُولًا (65:10). In both cases the meaning would be that if anyone fails in his duty to recite the Qur’ an or to comply with its commands, or if he fails to submit to the authority of the Holy Prophet then as punishment he would be condemned to a harsh and rigorous life in this world and would be raised blind on the Day of Resurrection. The truth about the life of infidels and evil-doers being harsh in this world Here one may ask that a life of penury and destitution in this world is not for the infidels and wicked people only but it afflicts good and pious people also. Indeed the prophets of Allah have to endure the greatest misfortunes and calamities in their worldly life. Sahih .al-Bukhari and all other books of Hadith contain a tradition in which, on the authority of Sa&d and others, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) is reported to have said that the severest trials and tribulations are suffered by the prophets and in the case of the pious people those who enjoy a higher rank in the hierarchy are the ones who will get a greater share of misfortunes. On the other hand the infidels and the evildoers enjoy a life of comfort and affluence. Therefore the words of the Qur&an that such people would be condemned to a harsh and rigorous life can refer to the life in the Hereafter (آخرَت) only, because experience shows that they have, in this world, all the comforts of life. The answer to the question posed above is that the punishment which the evil-doers will suffer in this world refers to the chastisement which awaits them in the grave where their existence will be made miserable and beyond endurance. Their graves will be their abodes and will squeeze them so tight that their graves will crack. There is a tradition in Musnad al-Bazzar on the authority of Sayyidna Abu Hurairah (رض) that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) himself stated that the words مَعِيشَةً ضَنكًا (straitened life) occurring in this verse (124) refer to the existence in the grave. (Mazhari) Another interpretation given to these words by Sayyidna Said ibn Jubair (رض) is that these people will be deprived of the gift of contentment which will result in an overpowering greed for worldly goods (Mazhari) but no amount of wealth will ever give them peace and content. The constant desire to augment their worldly possessions and the fear of any decrease in their size will always keep them anxious and uneasy. It is generally observed that the wealthy people who have all the means of comfort at their disposal actually are unable to enjoy comfort themselves, because comfort cannot be achieved without content and peace of mind.

وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِيْ ، یہاں ذکر سے مراد قرآن بھی ہوسکتا ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات مبارک بھی جیسا کہ دوسری آیات میں ذکراً رسولاً آیا ہے دونوں کا حاصل یہ ہے کہ جو شخص قرآن سے یا رسول سے اعراض کرے یعنی قرآن کی تلاوت اور اس کے احکام پر عمل سے یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت سے اعراض کرے اس کا انجام یہ ہے کہ فَاِنَّ لَهٗ مَعِيْشَةً ضَنْكًا وَّنَحْشُرُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اَعْمٰى یعنی اس کی معیشت تنگ ہوگی اور قیامت میں اس کو اندھا کر کے اٹھایا جائے گا۔ پہلا عذاب دنیا ہی میں اس کو مل جائے گا اور دوسرا یعنی اندھا ہونے کا عذاب قیامت میں ہوگا۔ کافر اور بدکار کی زندگی دنیا میں تلخ اور تنگ ہونے کی حقیقت : یہاں یہ سوال ہوتا ہے کہ دنیا میں معیشت کی تنگی تو کفار و فجار کے لئے مخصوص نہیں، مؤمنین صالحین کو بھی پیش آتی ہے بلکہ انبیاء (علیہم السلام) کو سب سے زیادہ شدائد و مصائب اس دنیا کی زندگی میں اٹھانے پڑتے ہیں۔ صحیح بخاری اور تمام کتب حدیث میں روایت سعد وغیرہ یہ حدیث منقول ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ دنیا کی بلائیں اور مصیبتیں سب سے زیادہ انبیاء پر سخت ہوتی ہیں ان کے بعد جو جس درجہ کا صالح اور ولی ہے اسی کی مناسبت سے اس کو یہ تکلیفیں پہنچتی ہیں۔ اس کے بالمقابل عموماً کفار و فجار کو خوشحال اور عیش و عشرت میں دیکھا جاتا ہے تو پھر یہ ارشاد قرآنی کہ ان کی معیشت تنگ ہوگی آخرت کے لئے تو ہوسکتا ہے دنیا میں خلاف مشاہدہ معلوم ہوتا ہے۔ اس کا صاف بےغبار جواب تو یہ ہے کہ یہاں دنیا کے عذاب سے قبر کا عذاب مراد ہے کہ قبر میں ان کی معیشت تنگ کردی جاوے گی۔ خود قبر جو ان کا مسکن ہوگا وہ ان کو ایسا دبائے گا کہ ان کی پسلیاں ٹوٹنے لگیں گی جیسا کہ بعض احادیث میں اس کی تصریح ہے اور مسند بزار میں بسند جید حضرت ابوہریرہ سے یہ حدیث منقول ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود اس آیت کے لفظ مَعِيْشَةً ضَنْكًا کی تفسیر یہ فرمائی ہے کہ اس سے مراد قبر کا عالم ہے۔ (مظہری) اور حضرت سعید بن جبیر نے تنگی معیشت کا یہ مطلب بھی بیان کیا ہے کہ ان سے قناعت کا وصف سلب کرلیا جاوے گا اور حرص دنیا بڑھا دی جاوے گی (مظہری) جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس کے پاس کتنا ہی مال و دولت جمع ہوجائے کبھی قلبی سکون اس کو نصیب نہیں ہوگا ہمیشہ مال بڑھانے کی فکر اور اس میں نقصان کا خطرہ اس کو بےچین رکھے گا۔ اور یہ بات عام اہل تمول میں مشاہد و معروف ہے جس کا حاصل یہ ہوتا ہے کہ ان لوگوں کے پاس سامان راحت تو بہت جمع ہوجاتا ہے مگر جس کا نام راحت ہے وہ نصیب نہیں ہوتی کیونکہ وہ قلب کے سکون و اطمینان کے بغیر حاصل نہیں ہوتی۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِيْ فَاِنَّ لَہٗ مَعِيْشَۃً ضَنْكًا وَّنَحْشُرُہٗ يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ اَعْمٰى۝ ١٢٤ اعرض وإذا قيل : أَعْرَضَ عنّي، فمعناه : ولّى مُبدیا عَرْضَهُ. قال : ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْها [ السجدة/ 22] ، فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ ( ع ر ض ) العرض اعرض عنی اس نے مجھ سے روگردانی کی اعراض کیا ۔ قرآن میں ہے : ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْها [ السجدة/ 22] تو وہ ان سے منہ پھیرے ۔ فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ [ النساء/ 63] تم ان سے اعراض بر تو اور نصیحت کرتے رہو ۔ ذكر الذِّكْرُ : تارة يقال ويراد به هيئة للنّفس بها يمكن للإنسان أن يحفظ ما يقتنيه من المعرفة، وهو کالحفظ إلّا أنّ الحفظ يقال اعتبارا بإحرازه، والذِّكْرُ يقال اعتبارا باستحضاره، وتارة يقال لحضور الشیء القلب أو القول، ولذلک قيل : الذّكر ذکران : ذكر بالقلب . وذکر باللّسان . وكلّ واحد منهما ضربان : ذكر عن نسیان . وذکر لا عن نسیان بل عن إدامة الحفظ . وكلّ قول يقال له ذكر، فمن الذّكر باللّسان قوله تعالی: لَقَدْ أَنْزَلْنا إِلَيْكُمْ كِتاباً فِيهِ ذِكْرُكُمْ [ الأنبیاء/ 10] ، ( ذک ر ) الذکر ۔ یہ کبھی تو اس ہیت نفسانیہ پر بولا جاتا ہے جس کے ذریعہ سے انسان اپنے علم کو محفوظ رکھتا ہے ۔ یہ قریبا حفظ کے ہم معنی ہے مگر حفظ کا لفظ احراز کے لحاظ سے بولا جاتا ہے اور ذکر کا لفظ استحضار کے لحاظ سے اور کبھی ، ، ذکر، ، کا لفظ دل یاز بان پر کسی چیز کے حاضر ہونے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ اس بنا پر بعض نے کہا ہے کہ ، ، ذکر ، ، دو قسم پر ہے ۔ ذکر قلبی اور ذکر لسانی ۔ پھر ان میں کسے ہر ایک دو قسم پر ہے لسیان کے بعد کسی چیز کو یاد کرنا یا بغیر نسیان کے کسی کو ہمیشہ یاد رکھنا اور ہر قول کو ذکر کر کہا جاتا ہے ۔ چناچہ ذکر لسانی کے بارے میں فرمایا۔ لَقَدْ أَنْزَلْنا إِلَيْكُمْ كِتاباً فِيهِ ذِكْرُكُمْ [ الأنبیاء/ 10] ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمہارا تذکرہ ہے ۔ عيش العَيْشُ : الحیاة المختصّة بالحیوان، وهو أخصّ من الحیاة، لأنّ الحیاة تقال في الحیوان، وفي الباري تعالی، وفي الملک، ويشتقّ منه المَعِيشَةُ لما يُتَعَيَّشُ منه . قال تعالی: نَحْنُ قَسَمْنا بَيْنَهُمْ مَعِيشَتَهُمْ فِي الْحَياةِ الدُّنْيا[ الزخرف/ 32] ، مَعِيشَةً ضَنْكاً [ طه/ 124] ، لَكُمْ فِيها مَعايِشَ [ الأعراف/ 10] ، وَجَعَلْنا لَكُمْ فِيها مَعايِشَ [ الحجر/ 20] . وقال في أهل الجنّة : فَهُوَ فِي عِيشَةٍ راضِيَةٍ [ القارعة/ 7] ، وقال عليه السلام : «لا عَيْشَ إلّا عَيْشُ الآخرة ( ع ی ش ) العیش خاص کر اس زندگی کو کہتے ہیں جو حیوان میں پائی جاتی ہے اور یہ لفظ الحیاۃ سے اض ہے کیونکہ الحیاۃ کا لفظ حیوان باری تعالیٰ اور ملائکہ سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ اور العیش سے لفظ المعیشۃ ہے جس کے معنی ہیں سامان زیست کھانے پینے کی وہ تمام چیزیں جن زندگی بسر کی جاتی ہے قرآن میں ہے : ۔ نَحْنُ قَسَمْنا بَيْنَهُمْ مَعِيشَتَهُمْ فِي الْحَياةِ الدُّنْيا[ الزخرف/ 32] ہم نے ان میں ان کی معیشت کو دنیا کی زندگی میں تقسیم کردیا ۔ مَعِيشَةً ضَنْكاً [ طه/ 124] اس کی زندگی تنگ ہوجائے گی ۔ وَجَعَلْنا لَكُمْ فِيها مَعايِشَ [ الحجر/ 20] اور ہم ہی نے تمہارے لئے اس میں زیست کے سامان پیدا کردیئے ۔ لَكُمْ فِيها مَعايِشَ [ الأعراف/ 10] تمہارے لئے اس میں سامان زیست ۔ اور اہل جنت کے متعلق فرمایا : ۔ فَهُوَ فِي عِيشَةٍ راضِيَةٍ [ القارعة/ 7] وہ دل پسند عیش میں ہوگا ۔ اور (علیہ السلام) نے فرمایا ( 55 ) الا عیش الا عیش الاخرۃ کہ حقیقی زندگی تو آخرت کی زندگی ہی ہے ۔ ضنك قال تعالی: وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكاً [ طه/ 124] . أي : ضيّقا، وقد ضَنُكَ عيشُهُ ، وامرأة ضِنَاكٌ: مُكْتَنِزَةٌ ، والضُّنَاكُ : الزُّكَامُ ، والمَضْنُوكُ : المزکوم . ( ض ن ک ) الضنک کے معنی کسی مقام یا معشیت کی تنگی کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : مَعِيشَةً ضَنْكاً [ طه/ 124] ان کی معشیت تنگ ہوجائے گی ۔ کہا جاتا ہے ضنک عیشتہ ۔ ا س کی معشیت تنگ ہوگئی ،۔ امرءۃ ضناک گھٹیلے جسم والی عورت ۔ نیز ضناک کے معنی زکام بھی آجاتے ہیں ۔ اس سے زکام زدہ آدمی کو مضنوک کہا جاتا ہے ۔ حشر ، وسمي يوم القیامة يوم الحشر کما سمّي يوم البعث والنشر، ورجل حَشْرُ الأذنین، أي : في أذنيه انتشار وحدّة . ( ح ش ر ) الحشر ( ن ) اور قیامت کے دن کو یوم الحشر بھی کہا جاتا ہے جیسا ک اسے یوم البعث اور یوم النشور کے ناموں سے موسوم کیا گیا ہے لطیف اور باریک کانوں والا ۔ قِيامَةُ والقِيامَةُ : عبارة عن قيام الساعة المذکور في قوله : وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ [ الروم/ 12] ، يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ المطففین/ 6] ، وَما أَظُنُّ السَّاعَةَ قائِمَةً [ الكهف/ 36] ، والْقِيَامَةُ أصلها ما يكون من الإنسان من القیام دُفْعَةً واحدة، أدخل فيها الهاء تنبيها علی وقوعها دُفْعَة، والمَقامُ يكون مصدرا، واسم مکان القیام، وزمانه . نحو : إِنْ كانَ كَبُرَ عَلَيْكُمْ مَقامِي وَتَذْكِيرِي [يونس/ 71] ، القیامتہ سے مراد وہ ساعت ( گھڑی ) ہے جس کا ذکر کہ وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ [ الروم/ 12] اور جس روز قیامت برپا ہوگی ۔ يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ المطففین/ 6] جس دن لوگ رب العلمین کے سامنے کھڑے ہوں گے ۔ وَما أَظُنُّ السَّاعَةَ قائِمَةً [ الكهف/ 36] اور نہ خیال کرتا ہوں کہ قیامت برپا ہو۔ وغیرہ آیات میں پایاجاتا ہے ۔ اصل میں قیامتہ کے معنی انسان یکبارگی قیام یعنی کھڑا ہونے کے ہیں اور قیامت کے یکبارگی وقوع پذیر ہونے پر تنبیہ کرنے کے لئے لفظ قیام کے آخر میں ھاء ( ۃ ) کا اضافہ کیا گیا ہے ۔ المقام یہ قیام سے کبھی بطور مصدر میمی اور کبھی بطور ظرف مکان اور ظرف زمان کے استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ إِنْ كانَ كَبُرَ عَلَيْكُمْ مَقامِي وَتَذْكِيرِي [يونس/ 71] اگر تم کو میرا رہنا اور ۔ نصیحت کرنا ناگوار ہو ۔ عمی العَمَى يقال في افتقاد البصر والبصیرة، ويقال في الأوّل : أَعْمَى، وفي الثاني : أَعْمَى وعَمٍ ، وعلی الأوّل قوله : أَنْ جاءَهُ الْأَعْمى[ عبس/ 2] ، وعلی الثاني ما ورد من ذمّ العَمَى في القرآن نحو قوله : صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ [ البقرة/ 18] ( ع م ی ) العمی ٰ یہ بصارت اور بصیرت دونوں قسم اندھے پن کے لئے بولا جاتا ہے لیکن جو شخص بصارت کا اندھا ہو اس کے لئے صرف اعمیٰ اور جو بصیرت کا اندھا ہو اس کے لئے اعمیٰ وعم دونوں کا استعمال ہوتا ہے اور آیت کریمہ : أَنْ جاءَهُ الْأَعْمى[ عبس/ 2] کہ ان کے پاس ایک نا بینا آیا ۔ میں الاعمیٰ سے مراد بصارت کا اندھا ہے مگر جہاں کہیں قرآن نے العمیٰ کی مذمت کی ہے وہاں دوسرے معنی یعنی بصیرت کا اندھا پن مراد لیا ہے جیسے فرمایا : صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ [ البقرة/ 18] یہ بہرے گونگے ہیں اندھے ہیں ۔ فَعَمُوا وَصَمُّوا[ المائدة/ 71] تو وہ اندھے اور بہرے ہوگئے ۔ بلکہ بصٰیرت کے اندھا پن کے مقابلہ میں بصارت کا اندھا پن ۔ قرآن کی نظر میں اندھا پن ہی نہیں ہے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٢٤) اور جو شخص میری توحید سے یا میری کتاب اور میرے رسول سے منہ پھیرے گا تو اس کو قبر میں یا دوزخ میں سخت ترین عذاب ہوگا اور قیامت کے روز ہم اسے اندھا کرکے اٹھائیں گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٢٤ (وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِکْرِیْ فَاِنَّ لَہٗ مَعِیْشَۃً ضَنْکًا) ” ایسا شخص دنیوی زندگی میں اطمینان اور راحت سے محروم کردیا جائے گا۔ پیاس کے مریض کی طرح (کہ وہ جتنا چاہے پانی پی لے اس کی پیاس ختم نہیں ہوتی) ایسے شخص کی ہوس کبھی ختم نہ ہوگی۔ کروڑوں حاصل کر کے بھی مزید کروڑوں کی خواہش اس کا چین اور اطمینان غارت کیے رکھے گی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

105. “A life of hardship” does not mean a life of poverty. It means that such a one shall be deprived of the peace of mind, even though he may be a millionaire or the ruler of a vast empire. For, the one who will turn away from the admonition will win all the worldly successes by unlawful means and, therefore, will always be suffering from pangs of a guilty conscience and deprived of the peace of mind and real happiness. 106. Here the story of Prophet Adam (peace be upon him) ends. In the light of this part of the story which has been related here and at other places in the Quran, I have come to the conclusion (and correct knowledge is with Allah alone) that the vicegerency of the earth was the same as was initially bestowed on Adam in the Garden, which might have been created in the heavens or on this earth. Anyhow the vicegerent of Allah was supplied gratis with all the necessities of life and the angels were placed under his command for service. This was to enable him to discharge the high and noble obligations of vicegerency, without any worry about the procurement of the necessities of life. But in order to make him permanent in this office, it was necessary to put him to a test so that all his capabilities, excellences and weaknesses might be known. Accordingly, he had to take his test in which some of his weaknesses came to the surface. He was prone to be seduced by greed and temptation. He did not remain firm in obedience. He was capable of forgetfulness. That is why he was given the vicegerency as a trial on the earth for a fixed term up to the Day of Judgment. During this period of trial, he had himself to make arrangements for the necessities of life though he was allowed to exploit all the resources of the earth and to rule over other creatures. The trial is this: does he or does he not obey his Lord in spite of having the power to obey or not to obey. And if he forgets or is seduced by greed, does he or does he not repent through warning and admonition, when he realizes his error. At the same time, his Lord has warned him that a full and perfect record of all his deeds and misdeeds is being kept, and that he shall be judged on the Day of Reckoning in accordance with it. Those who will come out successful will be given permanent vicegerency and that eternal life and everlasting kingdom by which Satan seduced him. The righteous servants will become the heirs to the Garden, if they had obeyed their Lord or repented after forgetfulness. It should also be noted well that life in the Garden will not merely be to eat, drink and be merry, but there will be such higher things to achieve as no human being can conceive in this world. That is why only those blessings of the Garden have been mentioned in the Quran which can be comprehended by human beings in this world. It will be worthwhile to make a comparative study of the account of Adam and Eve as given in the Quran with that given in the Bible. According to Genesis: And the Lord God formed man of the dust of the ground, and breathed into his nostrils the breath of life; and man became a living soul. And the Lord God planted a garden eastward in Eden, and there he put the man whom he had formed. And out of the ground made the Lord God to grow every tree, the tree of life and the tree of knowledge of good and evil. And the Lord God commanded the man, saying: Of every tree of the garden thou mayst freely eat: But of the tree of the knowledge of good and evil, thou shalt not eat of it: for in the day that thou eatest thereof thou shalt surely die. And the rib, which the Lord God had taken from man, made he a woman, and brought her unto the man. And they were both naked, the man and his wife, and were not ashamed. (2:725). Now the serpent was more subtle than any beast of the field which the Lord God had made. And he said unto the woman, Yea, hath God said, Ye shall not eat of every tree of the garden. And the serpent said unto the woman, Ye shall not surely die. For God doth know that in the day ye eat thereof, then your eyes shall be opened, and ye shall be as gods, knowing good and evil. She took of the fruit thereof, and did eat, and gave also unto her husband with her and he did eat. And the eyes of them both were opened, and they knew that they were naked, and they sewed fig leaves together, and made themselves aprons. And they heard the voice of the Lord God walking in the garden in the cool of the day, and Adam and wife hid themselves from the presence of the Lord God amongst the trees of the garden. And the Lord God called unto Adam, and said unto him, Where art thou? And he said, I heard Thy voice in the garden, and I was afraid, because I was naked; and I hid myself. And He said, who told thee that thou west naked? Hast thou eaten, whereof I commanded thee that thou shouldest not eat? And the man said, The woman whom thou gayest to be with me, she gave me of the tree, and I did eat. And the woman said, the serpent beguiled me, and I did eat. And the Lord God said unto the serpent, Because thou hast done this, thou art cursed above all cattle, and above every blast of the field. Upon thy belly shalt thou go, and dust shalt thou eat all the days of thy life. And I will put enmity between thee and the woman, and between thy seed and her seed. It shall bruise thy head, and thou shalt bruise his heel. Unto the woman he said, I will greatly multiply thy sorrow and thy conception, in sorrow thou shall bring forth children; and thy desire shall be to thy husband, and he shall rule over thee. And unto Adam he said, Because thou hast hearkened unto the voice of thy wife, and hast eaten of the tree, of which 1 commanded thee, saying, Thou shalt not eat of it: cursed is the ground for thy sake; in sorrow shalt thou eat of it all the days of thy life. In the sweat of thy face shalt thou eat bread. Unto Adam also and to his wife did the Lord God make coats of skins, and clothed them. And the Lord God said, Behold, the man is become as one of us, to know good and evil: and now, lest he put forth his hand, and take also of the tree of life, and eat, and live forever: Therefore the Lord God sent him forth from the garden of Eden, to till the ground from whence he was taken. (3 :1-23). It is obvious that the Bible has not done justice to Adam and Eve, nay, even to God Himself. On the other hand, the account given in the Quran is itself a clear proof that the stories given in it have not been copied from the Bible; for the Quran not only corroborates those parts of the Bible which have remained un-tampered but also corrects its wrong statements.

سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :105 دنیا میں تنگ زندگی ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسے تنگ دستی لاحق ہو گی ۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں اسے چین نصیب نہ ہو گا ۔ کروڑ پتی بھی ہو گا تو بے چین رہے گا ۔ ہفت اقلیم کا فرمانروا بھی ہو گا تو بےکلی اور بے اطمینانی سے نجات نہ پائے گا ۔ اس کی دنیوی کامیابیاں ہزاروں قسم کی تدبیروں کا نتیجہ ہوں گی جن کی وجہ سے اپنے ضمیر سے لے کر گرد و پیش کے پورے اجتماعی ماحول تک ہر چیز کے ساتھ اس کی پیہم کشمکش جاری رہے گی جو اسے کبھی امن و اطمینان اور سچی مسرت سے بہرہ مند نہ ہونے دے گی ۔ سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :106 اس جگہ آدم علیہ السلام کا قصہ ختم ہو جاتا ہے ۔ یہ قصہ جس طریقے سے یہاں ، اور قرآن کے دوسرے مقامات پر بیان ہوا ہے اس پر غور کرنے سے میں یہ سمجھا ہوں ( واللہ اعلم بالصواب ) کہ زمین کی اصل خلافت وہی تھی جو آدم علیہ السلام کو ابتداءً جنت میں دی گئی تھی ۔ وہ جنت ممکن ہے کہ آسمانوں میں ہو اور ممکن ہے کہ اسی زمین پر بنائی گئی ہو ۔ بہرحال وہاں اللہ تعالیٰ کا خلیفہ اس شان سے رکھا گیا تھا کہ اس کے کھانے پینے اور لباس و مکان کا سارا انتظام سرکار کے ذمہ تھا اور خدمت گار ( فرشتے ) اس کے حکم کے تابع تھے ۔ اس کو اپنی ذاتی ضروریات کے لیے قطعاً کوئی فکر نہ کرنی پڑتی تھی ، تاکہ وہ خلافت کے بزرگ تر اور بلند تر وظائف ادا کرنے کے لیے مستعد ہو سکے ۔ مگر اس عہدے پر مستقل تقرر ہونے سے پہلے امتحان لینا ضروری سمجھا گیا تاکہ امیدوار کی صلاحیتوں کا حال کھل جائے اور یہ ظاہر ہو جائے کہ اس کی کمزوریاں کیا ہیں اور خوبیاں کیا ۔ چنانچہ امتحان لیا گیا اور جو بات کھلی وہ یہ تھی کہ یہ امیدوار تحریص و اطماع کے اثر میں آ کر پھسل جاتا ہے ، اطاعت کے عزم پر مضبوطی سے قائم نہیں رہتا ، اور اس کے علم پر نسیان غالب آ جاتا ہے ۔ اس امتحان کے بعد آدم اور ان کی اولاد کو مستقل خلافت پر مامور کرنے کے بجائے آزمائش کے دور میں امیدواروں کے لیے معیشت کا سرکاری انتظام ختم کر دیا گیا ۔ اب اپنی معاش کا انتظام انہیں خود کرنا ہے ۔ البتہ زمین اور اس کی مخلوقات پر ان کے اختیارات برقرار ہیں ۔ آزمائش اس بات کی ہے کہ اختیار رکھنے کے باوجود یہ اطاعت کرتے ہیں یا نہیں ، اور اگر بھول لاحق ہوتی ہے ، یا تحریص و اطماع کے اثر میں آکر پھسلتے ہیں ، تو تنبیہ ، تذکیر اور تعلیم کا اثر قبول کر کے سنبھلتے بھی ہیں یا نہیں ؟ اور ان کا آخری فیصلہ کیا ہوتا ہے ، طاعت کا یا معصیت کا ؟ اس آزمائشی خلافت کے دوران میں ہر ایک کے طرز عمل کا ریکارڈ محفوظ رہے گا ۔ اور یوم الحساب میں جو لوگ کامیاب نکلیں گے انہی کو پھر مستقل خلافت ، اس دائمی زندگی اور لازوال سلطنت کے ساتھ جس کا لالچ دے کر شیطان نے حکم کی خلاف ورزی کرائی تھی ، عطا کی جائے گی ۔ اس وقت یہ پوری زمین جنت بنا دی جائے گی اور اس کے وارث خدا کے وہ صالح بندے ہوں گے جنہوں نے آزمائشی خلافت میں طاعت پر قائم رہ کر ، یا بھول لاحق ہونے کے بعد بالآخر طاعت کی طرف پلٹ کر اپنی اہلیت ثابت کر دی ہو گی ۔ جنت کی اس زندگی کو جو لوگ محض کھانے پینے اور اینڈنے کی زندگی سمجھتے ہیں ان کا خیال صحیح نہیں ہے ۔ وہاں پیہم ترقی ہوگی بغیر اس کے کہ اس کے لیے کسی تنزل کا خطرہ ہو ۔ اور وہاں خلافت الہٰی کے عظیم الشان کام انسان انجام دے گا بغیر اس کے کہ اسے پھر کسی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے ۔ مگر ان ترقیات اور ان خدمات کا تصور کرنا ہمارے لیے اتنا ہی مشکل ہے جتنا ایک بچے کے لیے یہ تصور کرنا مشکل ہوتا ہے کہ بڑا ہو کر جب وہ شادی کرے گا تو ازدواجی زندگی کی کیفیات کیا ہوں گی اسی لیے قرآن میں جنت کی زندگی کے صرف انہی لذائذ کا ذکر کیا گیا ہے جن کا ہم اس دنیا کی لذتوں پر قیاس کر کے کچھ اندازہ کر سکتے ہیں ۔ اس موقع پر یہ بات دلچسپی سے خالی نہ ہو گی کہ آدم و حوا کا قصہ جس طرح بائیبل میں بیان ہوا ہے اسے بھی ایک نظر دیکھ لیا جائے ۔ بائیبل کا بیان ہے کہ خدا نے زمین کی مٹی سے انسان کو بنایا اور اس کے نتھنوں میں زندگی کا دم پھونکا تو انسان جیتی جان ہوا ۔ اور خداوند خدا نے مشرق کی طرف عدن میں ایک باغ لگایا اور انسان کو جسے اس نے بنایا تھا وہاں رکھا ۔ اور باغ کے بیچ میں حیات کا درخت اور نیک و بد کی پہچان کا درخت بھی لگایا ۔ اور خداوند خدا نے آدم کو حکم دیا اور کہا کہ تو باغ کے ہر درخت کا پھل بے روک ٹوک کھا سکتا ہے لیکن نیک و بد کی پہچان کے درخت کا کبھی نہ کھانا ۔ کیونکہ جس روز تو نے اس میں سے کھایا تو مرا ۔ اور خداوند خدا اس پسلی سے جو اس نے آدم میں سے نکالی تھی ایک عورت بنا کر اسے آدم کے پاس لایا ، ۔ اور آدم اور اس کی بیوی دونوں ننگے تھے اور شرماتے نہ تھے ۔ اور سانپ کل دشتی جانوروں سے جن کو خداوند خدا نے بنایا تھا ، چالاک تھا ، اور اس نے عورت سے کہا کیا واقعی خدا نے کہا ہے کہ باغ کے کسی درخت کا پھل تم نہ کھانا ؟ سانپ نے عورت سے کہا کہ تم ہرگز نہ رکو گے بلکہ خدا جانتا ہے کہ جس دن تم اسے کھاؤ گے تمہاری آنکھیں کھل جائیں گی اور تم خدا کی مانند نیک و بد کے جاننے والے بن جاؤ گے ۔ چنانچہ عورت نے اس کا پھل لے کر کھایا اور اپنے شوہر کو بھی کھلایا ۔ تب دونوں کی آنکھیں کھل گئیں اور ان کو معلوم ہوا کہ وہ ننگے ہیں اور انہوں نے انجیر کے پتوں کو سی کر اپنے لیے لنگیاں بنائیں ۔ اور انہوں نے خداوند خدا کی آواز ، جو ٹھنڈے وقت باغ میں پھرتا تھا ، سنی اور آدم اور اس کی بیوی نے اپنے آپ کو خداوند خدا کے حضور سے باغ کے درختوں میں چھپایا ۔ پھر خدا نے آدم کو پکارا کہ تو کہاں ہے ۔ اس نے کہا کہ میں تیری آواز سن کر ڈرا اور چھپ گیا کیونکہ میں ننگا تھا ۔ خدا نے کہا ارے ، تجھ کو یہ کیسے معلوم ہو گیا کہ تو ننگا ہے ۔ ضرور تو نے اس درخت کا پھل کھایا ہو گا جس سے میں نے منع کیا تھا ۔ آدم نے کہا کہ مجھے حوا نے اس کا پھل کھلایا ، اور حوا نے کہا مجھے سانپ نے بہکایا تھا ۔ اس پر خدا نے سانپ سے کہا اس لیے کہ تو نے یہ کیا تو سب چوپایوں اور دشتی جانوروں میں ملعون ٹھہرا ۔ تو اپنے پیٹ کے بل چلے گا اور عمر بھر خاک چاٹے گا اور میں تیرے اور عورت کے درمیان اور تیری نسل اور عورت کی نسل کے درمیان عداوت ڈالوں گا ۔ وہ تیرے سر کو کچلے گا اور تو اس کی ایڑی پر کاٹے گا ۔ اور عورت کو یہ سزا دی کہ میں تیرے درد حمل کو بہت بڑھاؤں گا ، تو درد کے ساتھ بچہ جنے گی اور تیری رغبت اپنے شوہر کی طرف ہو گی اور وہ تجھ پر حکومت کرے گا ۔ اور آدم کے بارے میں یہ فیصلہ صادر کیا کہ چونکہ تو نے اپنی بیوی کی بات مانی اور میرے حکم کے خلاف کیا اس لیے زمین تیرے سبب سے لعنتی ہوئی ، مشقت کے ساتھ تو اپنی عمر بھر اس کی پیداوار کھائے گا .......... تو اپنے منہ کے پسینے کی روٹی کھائے گا ۔ پھر خداوند نے آدم اور اس کی بیوی کے واسطے چمڑے کے کرتے بنا کر ان کو پہنائے ۔ اور خداوند خدا نے کہا دیکھو انسان نیک و بد کی پہچان میں ہم میں سے ایک کی مانند ہو گیا ۔ اب کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اپنا ہاتھ بڑھائے اور حیات کے درخت سے بھی کچھ لے کر کھائے اور ہمیشہ جیتا رہے ۔ اس لیے خداوند خدا نے اس کو باغ عدن سے باہر کر دیا ( پیدائش ، باب 2 ۔ آیات 7 ۔ 25 ۔ باب 3 ۔ آیات 1 ۔ 23 ) ۔ بائیبل کے اس بیان اور قرآن کے بیان کو ذرا وہ لوگ بالمقابل رکھ کر دیکھیں جو یہ کہتے ہوئے نہیں شرماتے کہ قرآن میں یہ قصے بنی اسرائیل سے نقل کر لیے گئے ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

54: جب قبر سے اٹھا کر حشر کی طرف لائے جائیں گے، اس وقت تو یہ لوگ اندھے ہوں گے، لیکن بعد میں انہیں بینائی دے دی جائے گی، جیسا کہ سورۃ کہف : 53 سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جہنم کی آگ کو دیکھیں گے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١٢٤۔ ١٢٦:۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کے نازل فرمانے کا اور قرآن میں ہر طرح کی نصیحت کا تذکرہ ہونے کا ذکر فرمایا اس ذکر کے ذیل میں ایک ذکر یہ آگیا تھا کہ جب حضرت جبرئیل قرآن کی کوئی آیت لے کر آتے تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس خوف سے کہ آیت کا کوئی لفظ بھول نہ جائیں ساری آیت کو حضرت جبرئیل کے پورا کرنے سے پہلے ایک ایک دو دو لفظ جو حضرت جبرئیل کے منہ سے نکلتے جاتے ان کو یاد کرنے لگ جاتے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے بیچ میں اپنے رسول کو یہاں اور سورة القیامہ میں یہ ہدایت فرمایا کہ حضرت جبرئیل جو اللہ کا حکم لاتے ہیں جب وہ اس کو پورا سنا دیا کریں اس وقت تم آیت کو یاد کرنا شروع کیا کرو پھر شیطان کا حضرت آدم ( علیہ السلام) کو بہکانے اور حضرت آدم کے اس حکم الٰہی کے بھول جانے کا ذکر فرمایا جو اللہ تعالیٰ نے گیہوں کھانے کی ممانعت کا دیا تھا یہ ذکر اس لیے فرمایا کہ آنحضرت جو بھول چوک کے خوف سے آیت کے لفظوں کو جلدی کر کے یاد کرتے تھے وہ بھی کچھ بیجا بات نہ تھی کیونکہ حضرت آدم ( علیہ السلام) کے زمانہ سے شیطان کے بہکانے سے انسان کا کسی بات کو بھول جانا ہر ایک انسان کی ایک عادتی بات ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے سنقرئک فلا تنسیٰ نازل فرما کر وحی میں بھول چوک کا دخل نہ ہونے کا وعدہ فرمالیا ہے اس لیے وحی میں اس عادت انسان کا دل باقی نہیں رہا۔ سلف سے لے کر خلف تک تمام علماء امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ انبیاء کو حکم الٰہی کے پہنچانے میں غیب سے اس طرح کی حفاظت ہے کہ کبھی ان سے اس میں غلطی نہیں ہوتی آنحضرت چھ مہینے تک جادو کے اثر میں جن دنوں مبتلا رہے ان دنوں میں بھی دنیاوی بعضی باتوں میں آپ کو ایک طرح کی بھول رہی مگر دینی ابواب میں اس حفاظت غیبی کے سبب سے کبھی آپ نے کوئی بات بھول چوک کی نہیں کی۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اوپر کی آیتوں کی مناسبت کے سبب سے ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم میں سے ان لوگوں کا ذکر فرمایا ہے جو شیطان کے بہکانے سے قرآن شریف کی نصیحتوں کو بالکل سنتے ہی نہیں یا وہ لوگ جو قرآن کو یاد کرکے پھر غفلت سے بھلا دیتے ہیں جو لوگ قرآن شریف کی نصیحتوں کو بالکل سنتے ہی نہیں یا وہ لوگ جو قرآن کو یاد کر کے پھر غفلت سے بھلا دیتے ہیں جو لوگ قرآن شریف کی نصیحتوں پر بالکل ایمان نہیں لاتے ان پر جو کچھ قبر میں اور قیامت قائم ہونے کے بعد دوزخ میں عذاب ہوگا اس کا ذکر تو جگہ جگہ قرآن شریف کی عذاب کی آیتوں میں آچکا ہے قرآن شریف کا پڑھ کر بھول جانا اکثر صحابہ (رض) کے نزدیک کبیرہ گناہ ہے۔ ابوداؤد اور ترمذی میں حضرت انس (رض) کی وہ حدیث جو ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میری امت کے گناہ جب کسی طرف سے میرے روبرو لائے گئے تو قرآن شریف کے پڑھ کر بھول جانے سے بڑا کوئی گناہ میں نے نہیں پایا ١ ؎۔ اس حدیث کی سند ضعیف ہے اسی طرح ابوداؤد کی حضرت سعد بن عبادہ (رض) کی وہ حدیث جو ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قرآن شریف پڑھ کر جو بھول جائے گا وہ قیامت کے دن کوڑھی ہو کر اٹھے گا ٢ ؎۔ اس کی سند بھی ضعیف ہے لیکن مسند امام احمد میں یہ حدیث دوسری سند سے حضرت عبادہ بن صامت سے آئی ہے اس لیے ایک سند سے دوسری سند کو تائید ہو کر قرآن شریف کے بھولنے والے کا کوڑھی ہو کر قیامت کے دن اٹھنا آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرمانے سے ثابت ہے ٣ ؎۔ اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو قیامت کی اس رسوائی سے بچائے اور سب مسلمانوں کو یہ توفیق دے کہ قرآن شریف پڑھ کر کوئی نہ بھولے حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ جس شخص نے آسمانی کتاب اور اللہ کے رسول کو نہ مانا وہ مرتے ہی عذاب قبر میں گرفتار ہوگا۔ معیشۃ ضنگا کی تفسیر میں اگرچہ سلف کے کئی قول ہیں لیکن حافظ ابوجعفر ابن جریر نے اپنی تفسیر میں عذاب قبر کی تفسیر کو ترجیح دی ہے معتبر سند سے مسند بزار میں ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے جس میں خود صاحب وحی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے معیشۃ ضنگا کی تفسیر عذاب قبر کی فرمائی ہے ٤ ؎۔ آگے فرمایا کہ ایسا شخص قیامت کے دن اندھا اٹھے گا اور جب وہ عرض کرے گا کہ یا اللہ میں تو دنیا میں آنکھوں والا تھا تو جواب ملے گا کہ تو نے ظاہری آنکھوں سے اللہ کی قدرت کی نشانیوں کو نہیں دیکھا اور دل کی آنکھوں سے آسمانی کتاب کی نصیحت کو نہیں سمجھا اس لیے آج تو بھولے بسرے شخص کی طرح اللہ کی رحمت سے دور پڑکر ظاہر اور دلی آنکھوں سے اندھا اٹھا۔ دلی آنکھوں سے اندھا اٹھنے کا یہ مطلب ہے کہ اپنے بچاؤ کو کوئی بات ایسا شخص دل میں نہ سوچ سکے گا بلکہ جو بات سوچے گا وہ بچاؤ سے کوسوں دور ہوگی۔ چناچہ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ (رض) کی روایت کئی جگہ گزر چکی ہے کہ قیامت کے دن بعضے گناہ گار گناہوں کے انکار کو اپنے بچاؤ کا سبب خیال کریں گے لیکن اللہ تعالیٰ ان کے ہاتھ پیروں سے گناہوں کی گواہی دلوا کر ان کو دوزخ کے قابل ٹھہرائے گا ٥ ؎۔ مسند امام احمد اور ابوداؤد میں براء بن عازب (رض) کی صحیح روایت ہے جس میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عذاب قبر سے پناہ مانگنے کی ہدایت فرما کر فرمایا نافرمان لوگ جب قبر میں منکر نکیر کے سوالوں کا پورا جواب نہ دیں گے تو ان کی قبروں میں آگ کا فرش بچھا کر آگ کا لباس ان کو پہنا دیا جائے گا اور دوزخ کی گرم ہوا بھی ان کی قبروں میں آتی رہے گی اور ان کی قبروں کو یہاں تک تنگ کیا جائے گا کہ ان کی پسلیاں ٹوٹ جائیں گی اور ایک بہرہ گونگا فرشتہ لوہے کا ایسا بھاری ہتھوڑا لے کر آئے گا کہ اگر وہ ہتھوڑا پہاڑا پر بھی مارا جائے تو وہ پہاڑ مٹی ہوجائے۔ یہ فرشتہ اس ہتھوڑے سے ہر وقت ان لوگوں کو مار مار کر ان کے جسموں کو خاک کر دے گا اور پھر اس خاک سے جسم بنایا جاکر اس میں روح پھونک دی جائے گی ایسے لوگوں پر یہی عذاب قیامت تک رہے گا ٦ ؎۔ کیونکہ عذاب قبر کی میعاد قیامت تک کی ہے اسی واسطے آگے فرمایا قیامت کے دن کا عذاب قبر کے عذاب سے زیادہ سخت ہوگا۔ براء بن العازب (رض) کی اس حدیث کو اوپر کی ابوہریرہ (رض) کی حدیث کی تفسیر کہا جاسکتا ہے کیونکہ ابوہریرہ (رض) کی حدیث میں معیشہ ضنگا کی تفسیر عذاب قبر کو قرار دیا گیا ہے اور اس براء بن عازب کی حدیث میں عذاب قبر کی تفصیل ہے براء بن العازب (رض) کی روایت میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ (رض) کو عذاب قبر سے پناہ مانگنے کی جو ہدایت فرمائی اس سے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے کہ گناہ گار کلمہ گو لوگوں پر بھی عذاب قبر ہوگا بعضے مفسروں نے معیشۃ ضنگا کی تفسیر قیامت کے دن کے عذاب کو جو ٹھہرایا ہے وہ تفسیر قوی معلوم نہیں ہوتی کیونکہ آگے آیت میں قیامت کے دن کے عذاب کا جدا ذکر ہے اور یہ بھی ہے کہ جس عذاب کا ذکر معیشۃ ضنگا کے لفظوں سے کیا گیا ہے قیامت کے دن کا عذاب اس سے زیادہ سخت اور زیادہ دیر تک رہنے والا ہے علاوہ اس کے مسند بزار کے حوالہ سے ابوہریرہ (رض) کی معتبر روایت جو اوپر گزری معیشۃ ضنگا کی یہ دوسری تفسیر اس روایت کے بھی برخلاف ہے۔ ١ ؎ الترغیب ص ٢٦١ ج ١ الترہیب من نسیان القرآن الخ۔ ٢ ؎ ابوداؤد ص ٢٠٧ ج ١ باب التشدید فی من حفظ القرآن الخ۔ ٣ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ١٢٩ ج ٣۔ ٤ ؎ تفسیر ابن کثیرص ١٦٩ ج ٣۔ ٥ ؎ صحیح مسلم ٤٠٩ ج ٢ فصل فی بیان ان الاعضاء منطقۃ شاہدۃ یوم القیامۃ۔ ٦ ؎ الترغیب ص ٢٨٩ ج ٢ فی مادرد فی عذاب القبرو فتنۃ۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(20:124) اعرض۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ اس نے منہ پھیرلیا۔ اس نے کنارہ کیا۔ اعراض (افعال) مصدر۔ ذکری۔ مضاف مضاف الیہ۔ میرا ذکر۔ میری یاد۔ میری نصیحت۔ میرے احکام کی بجا آوری ۔ میری کتاب یعنی قرآن بمعہ اس کے اوامرونواہی کے۔ معیشۃ ضنکا۔ موصوف وصفت معیشۃ اسم مصدر منصوب۔ سامان زندگی۔ ضنکا۔ تنگ ہونا۔ الضنک کے معنی ہیں کسی مقام یا معیشت کی تنگی۔ ضنک یضنک (کرم) کا مصدر ہے۔ چونکہ یہ مصدر ہے اس لئے جب بطور صفت استعمال ہوتا ہے تو مذکر، مؤنث، مفرد تثنیہ وجمع سب کے لئے یکساں استعمال ہوتا ہے چناچہ یہاں یہ باعتبار اصل مؤنث ہی کی صفت واقع ہے۔ معیشۃ ضنکا۔ تنگ زندگی۔ لیکن یہاں تنگی محض مادی مال و دولت کا نہ ہونا مراد نہیں ۔ بلکہ تنگی کا تعلق قلب سے ہے ۔ ذکر الٰہی سے اعراض سے مراد حکومت الٰہیہ سے انکار۔ ذات الٰہی پر توکل اور اس کے دئیے پر قنات کا فقدان۔ اور اس کا لازمی نتیجہ انسان کا مادیات میں فکر وہوس۔ اندیشہ نفع و نقصان کا شکار ہوجانا ہے اور یہ کیفیت اس کے سکون قلب اور جمیعت خاطر کو تباہ کردیتی ہے اور زندگی باوجود جاہ و حشمت مال و دولت کے اس پر تنگ ہوجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر آئے دن بڑے بڑے دولت مند اور خوشحال لوگ خود کشی کا ارتکاب کرتے رہتے ہیں۔ نحشرہ۔ مضارع جمع متکلم ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب جس کا مرجع اسم موصول من ہے۔ ہم اٹھا کھڑا کریں گے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 یعنی اسے دنیا میں سکھ اور چین نصیب نہ ہوگا چاہے بظاہر کروڑ پتی بلکہ ارب پتی ہی کیوں نہ ہو۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ یعنی قیامت سے پہلے دنیا اور قبر میں۔ فائدہ : معیشة ضنک قبر میں تو ظاہر ہے کہ قبر کافر پر تنگ ہوگی اور طرح طرح سے اس پر عذاب ہوگا، اور دنیا میں تنگی باعتبار قلب کے ہے کہ ہر وقت دنیا کی حرص میں، ترقی کی فکر میں، کمی کے اندیشہ میں بےآرام رہتا ہے، گو کوئی کافر بےفکر بھی ہو لیکن اکثر کی حالت یہی ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ومن اعرض عن ذکری فان لہ معیشۃ ضنکا (٠٢ : ٣٢١) ” اور جو میرے ذکر سے منہ موڑے گا ، اس کے لیء دنیا میں تنگ زندگی ہوگی۔ “ وہ زندگی جس میں اللہ سے رابطہ نہ ہو اور جس پر اللہ کی رحمت نہ ہو ، وہ تنگ ہوگی ، اگرچہ بظاہر وہ بہت ہی وسیع ہو۔ یہ تنگ اس لئے ہوگی کہ اس کا رابطہ اللہ کی طرف سے کٹا ہوگا اور اللہ کی رحمت کے میدان کی طرف وہ راہ نہ پائے گی۔ اس میں حیرانی پریشانی اور بےیقینی کی تنگی ہوگی۔ اس میں حرص اور خوف کی تنگی ہوگی۔ ڈر اس بات پر کہ جو ہے وہ چلا نہ جائے۔ غرض اس بات پر کہ ھل من مزید یوں تنگی ہوگی کہ جہاں سے نفع کی معملوی امید ہو انسان اس کے پیچھے بھاگتا رہے گا اور اگر ایک کوڑی بھی کہیں نقصان ہوجائے ، مر جائے گا۔ واقعہ یہ ہے کہ انسان کو اطمینان وقرار صرف اللہ کے ہاں ملتا ہے۔ اسے سکون و اعتماد تب ہی ملے گا جب اس نے مضبوط رسی پکڑی ہوگی جس کے ٹوٹنے کا کوئی خطرہ نہ ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان اطمینان کو طویل و عریض ، گہرا اور اونچا بنا دیتا ہے۔ ہمہ جت وسعتیں ہوتی ہیں اور جو اس سے محروم ہوجائے اسے ہمہ جہت مصیبت کا شکار ہونا پڑتا ہے۔ غرض خلاصہ یہ ہے کہ جو میرے اس ذکر اور نصیحت سے منہ موڑے گا تو اس کے لئے اس دنیا میں تنگ زندگی ہوگی۔ (اور قیامت کے دن ہم اسے اندھا اٹھائیں) ۔ ونحشرہ یوم القیمۃ اعمی (٠٢ : ٣٢١) قیامت کے دن اندھا ہونا بھی دنیا کے اندھے پن کی طرح ایک گمراہی ہے۔ یہ اس لئے ہوگا کہ اس دن دنیا میں ہدایت کے مقابلے میں اندھے پن کا اظہار کیا تھا اور وہ وہاں پوچھے گا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ کے ذکر سے اعراض کرنے والوں کی سزا، عذاب کی وعید، ہلاک شدہ اقوام کے کھنڈروں سے عبرت حاصل نہ کرنے پر تنبیہ حضرت آدم ( علیہ السلام) کے قصہ کے آخر میں یہ فرمایا کہ تم دونوں یہاں سے اتر جاؤ تمہارے پاس میری ہدایت آئے گی جو شخص اس کا اتباع کرے گا وہ نہ گمراہ ہوگا نہ بد بخت ہوگا۔ اب ان آیات میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو دنیا میں آئے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ذکر یعنی اس کی نصیحت سے اعراض کیا۔ ارشاد فرمایا کہ جو شخص میرے ذکر سے اعراض کرے گا اس کے لیے تنگ زندگی ہے، ذکر سے مراد قرآن مجید ہے اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے مراد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات گرامی ہے۔ دونوں باتیں درست ہیں۔ کیونکہ ایک دوسرے کو لازم ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو کچھ ارشاد فرمایا اور جو قرآن مجید میں بتایا یہ سب اللہ تعالیٰ ہی کی ہدایت ہے اور اس سے اعراض کرنا معیشت ضنک یعنی تنگ زندگی کا سبب ہے۔ تنگ معیشت سے کیا مراد ہے اس کے بارے میں مفسر ابن کثیر (رض) نے مسند بزار سے حدیث نقل کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اس سے عذاب قبر مراد ہے۔ پھر اس کی اسناد کو جید بتایا ہے اور بعض دیگر روایات بھی اس سلسلہ میں نقل کی ہیں۔ (ج ٣، ص ١٦٩) اگر تنگ معیشت سے دنیا کی معیشت بھی مراد لی جائے تو الفاظ کے عموم میں اس کی بھی گنجائش ہے۔ لیکن اس پر یہ اشکال وارد ہوتا ہے کہ بہت سے کافر منکر دنیا میں کھاتے پیتے حال میں ہیں۔ ان کے پاس مال بھی ہے اور نعمتیں بھی ہیں۔ پھر معیشت تنگ کیسے ہوئی۔ اس کے جواب میں مفسرین نے فرمایا کہ جتنا بھی مال ہو اس سے کافر کو اطمینان نہیں ہوتا۔ زائد کی طلب میں سر گرداں رہتا ہے۔ مصائب اور مشکلات میں پھنسا رہتا ہے جس سے تنگ دلی کا شکار رہتا ہے۔ اس کی یہ سینہ کی تنگی اور دل کی مصیبت اس کے لیے تنگ معیشت ہے۔ اللہ کے ذکر سے اعراض کرنے والے کے لیے ایک تو تنگ معیشت کی سزا ہے اور دوسری سزا یہ ہے کہ وہ قیامت کے دن اندھا ہو کر اٹھے گا۔ وہ کہے گا کہ اے میرے رب میں تو دنیا میں بینا اور دیکھنے والا تھا۔ آپ نے مجھے نابینا کر کے کیوں اٹھایا ؟ اللہ تعالیٰ شانہٗ کا ارشاد ہوگا کہ جس طرح تو نے دنیا میں ہماری آیات کو جھٹلایا تیرے پاس ہماری آیات آئیں ان سے تو نے منہ موڑا۔ میں نے انبیاء (علیہ السلام) کو بھیجا، اپنی کتابیں نازل کیں تو نے انکار کیا اور ان سے منحرف رہا۔ حق آیا اور تو اس کی جانب سے اندھا بنا رہا۔ لہٰذا تجھے آج اندھا کرکے اٹھایا گیا۔ تو ہماری آیات کو بھولا۔ آج تیرے ساتھ بھی بھول بھلیاں والا معاملہ کیا جائے گا۔ یعنی تجھے عذاب میں چھوڑ دیا جائے گا۔ اور پھر اس سے نجات نہ دی جائے گی۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

84:۔ یہ اللہ کی ہدایت سے اعراض کرنیوالوں کے لیے تخویف اخروی ہے اور یہ استیناف ہے حضرت آدم (علیہ السلام) سے متعلق نہیں۔ ” مَعِیْشَةً ضَنْکًا “ تنگ روزی اس سے یا تو آخر کی زندگی میں رزق کی تنگی مرد ہے یا دنیا کی زندگی میں۔ دنیا میں وہ اگرچہ مالدار ہوں گے۔ لیکن ان کے دلوں سے وصف قناعت چھین لیا جائے گا اور ان کو حرص و لالچ کے مرض میں مبتلا کردیا جائے گا۔ جس کی وجہ سے وہ غناء قلبی سے محروم رہیں گے اور دنیائے دنی کی دولت کے پیچھے مفلس و قلاش لوگوں کی طرح بھاگتے پھریں گے۔ عن ابن جبیر یسلبہ القناعۃ حتی لایشبع فمع الدین التسلیم والقناعۃ والتوکل فتکون حیاتہ طیبۃ و مع الاعراض الحرص والشح فعیشه ضنک وحالہ مظلمة (مدارک ج 3 ص 53) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

124 اور جو شخص میری اس نصیحت سے اعراض اور روگردانی کرے گا تو اس کے لئے تنگی کا جینا ہوگا اور ہم اس کو قیامت کے دن اندھا اور نابینا کر کے اٹھائیں گے۔ یعنی جو اس بھیجی ہوئی نصیحت سے روگردانی کا مرتکب ہوگا تو ہم قیامت سے پہلے اس پر دنیا اور قبر کی زندگی تنگ کردیں گے اور قبر سے اندھا اٹھائیں گے یعنی نہ دنیا میں چین نصیب ہوگا اور نہ قبر میں چین اور اطمینان تو موقوف ہے۔ ذکر الٰہی پر وہ نصیب نہیں تو ایسوں کو اطمینان کہاں اور جب محشر میں اندھا بن کر آئے گا تو گھبرا کر کہے گا۔