Surat Tahaa

Surah: 20

Verse: 132

سورة طه

وَ اۡمُرۡ اَہۡلَکَ بِالصَّلٰوۃِ وَ اصۡطَبِرۡ عَلَیۡہَا ؕ لَا نَسۡئَلُکَ رِزۡقًا ؕ نَحۡنُ نَرۡزُقُکَ ؕ وَ الۡعَاقِبَۃُ لِلتَّقۡوٰی ﴿۱۳۲﴾

And enjoin prayer upon your family [and people] and be steadfast therein. We ask you not for provision; We provide for you, and the [best] outcome is for [those of] righteousness.

اپنے گھرانے کے لوگوں پر نماز کی تاکید رکھ اور خود بھی اس پر جما رہ ، ہم تجھ سے روزی نہیں مانگتے بلکہ ہم خود تجھے روزی دیتے ہیں آخر میں بول بالا پرہیزگاری ہی کا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلَأةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا ... And enjoin the Salah on your family, and be patient in offering them. This means to save them from the punishment of Allah by the establishment of the prayer, and you also be patient in performing it. This is as Allah says, يأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ قُواْ أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَاراً O you who believe! Ward off yourselves and your families against a Fire (Hell). (66:6) Ibn Abi Hatim recorded that Zayd bin Aslam reported from his father that; he and Yarfa' would sometimes spend the night at Umar bin Al-Khattab's. Umar had a certain time of night that he would get up and pray. However, sometimes he would not get up for it. Then, we would say, "He is not going to get up like he usually does." When he would awaken, he would make his family get up as well. He would say, وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلَأةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا (And enjoin the Salah on your family, and be patient in offering them)." Allah said; ... لاَا نَسْأَلُكَ رِزْقًا نَّحْنُ نَرْزُقُكَ ... We ask not of you a provision: We provide for you. This means that if you establish the prayer, your sustenance will come to you from where you did not expect. This is as Allah says, وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجاًوَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لاَ يَحْتَسِبُ And whosoever has Taqwa of Allah, He will make a way for him to get out (from every difficulty). And He will provide him from (sources) he never could imagine. (65:2-3) Allah also says, وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالاِنسَ إِلاَّ لِيَعْبُدُونِ And I (Allah) created not the Jinn and mankind except that they should worship Me (Alone). until, إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ Verily, Allah is the All-Provider, Owner of Power, the Most Strong. (51:56-58) Thus, Allah says, لاَا نَسْأَلُكَ رِزْقًا نَّحْنُ نَرْزُقُكَ (We ask not of you a provision: We provide for you). Verily, At-Tirmidhi and Ibn Majah recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah said, يَقُولُ اللهُ تَعَالى يَا ابْنَ ادَمَ تَفَرَّغْ لِعِبَادَتِي أَمْلَْ صَدْرَكَ غِنىً وَأَسُدَّ فَقْرَكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ مَلَْتُ صَدْرَكَ شُغْلً وَلَمْ أَسُدَّ فَقْرَك Allah, the Exalted, says, "O son of Adam, perform My worship and I will fill your chest with wealth and fulfill your needs. If you do not do so, then I will fill your chest with toil and I will not fulfill your needs." It is also reported from Zayd bin Thabit that he heard the Messenger of Allah saying, مَنْ كَانَتِ الدُّنْيَا هَمَّهُ فَرَّقَ اللهُ عَلَيْهِ أَمْرَهُ وَجَعَلَ فَقْرَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ وَلَمْ يَأْتِهِ مِنَ الدُّنْيَا إِلاَّ مَا كُتِبَ لَهُ وَمَنْ كَانَتِ الاْخِرَةُ نِيَّتَهُ جَمَعَ لَهُ أَمْرَهُ وَجَعَلَ غِنَاهُ فِي قَلْبِهِ وَأَتَتْهُ الدُّنْيَا وَهِيَ رَاغِمَة Whoever makes the worldly life his major concern, then Allah will scatter his situation for him (i.e. make it difficult) and his poverty will be placed between his eyes. He will not get from this world anything except that which has already been written for him. Whoever makes the Hereafter his intention, then his situation will be gathered for him (i.e. made easy) and his wealth will be placed in his heart. The worldly life will come to him anyway (in spite of his not seeking it). Concerning Allah's statement, ... وَالْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوَى And the good end is for those who have Taqwa. This means the good end in this life and in the Hereafter. In the Hereafter the good end will be Paradise for whoever feared Allah.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

132۔ 1 اس خطاب میں ساری امت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تابع ہے۔ یعنی مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ خود بھی نماز کی پا بندی کرے اور اپنے گھر والوں کو بھی نماز کی تاکید کرتا رہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٩٨] یعنی خود نمازوں پر پابند رہنے کے علاوہ آپ کو اپنے گھر والوں کو بھی ان کی پابندی کا حکم دینا چاہئے۔ پھر اس بات پر سختی سے عمل درآمد کرانا چاہئے۔ اس سے آپ کے مشن کو مزید تقویت پہنچے گی۔ اگرچہ اس آیت میں خطاب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہے تاہم حکم عام ہے۔ اسی لئے آپ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ بچہ جب سات برس کا ہوجائے تو اسے نماز ادا کرنے کو کہو اور اگر دس سال کا ہونے پر بھی اسے نماز کی عادت نہ پڑے تو اسے مار کر نماز پڑھاؤ۔ (ابوداؤد، بحوالہ مشکوۃ، کتاب الصلوٰۃ۔ الفصل الثانی) ] ـ٩٩] عرب میں یہ دستور تھا کہ مالک اپنے غلاموں کو کمائی کے لئے بھیجتے۔ پھر ان سے یہ کمائی خود وصول کرتے یا پھر غلام پر اس کی قابلیت کے مطابق روزانہ یا ماہانہ ایک رقم مقرر تھی کہ اتنی رقم تو وہ بہرحال کما کر اپنے مالک کو دے گا اور اگر کچھ زائد کما لے تو وہ اس کا اپنا ہوگا جس طرح ہمارے ہاں کسی چیز کا روزانہ یا ماہانہ کرایہ یا ٹھیکہ مقرر کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ سے اور مسلمانوں سے یہ فرماتے ہیں کہ ہم تم سے کچھ رزق نہیں مانگتے، حالانکہ تم سب میرے بندے اور غلام ہو۔ بلکہ وہ تو ہم خود تمہیں دیتے ہیں اور یہ ہمارا ذمہ ہے۔ تمہارا کام بس یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی فرمانبرداری میں لگے رہو۔ جو رزق تمہارے مقدر میں ہے وہ تمہیں مل کے ہی رہے گا۔ ] ـ١٠٠] اور یاد رکھو کہ جو شخص تقویٰ اختیار کرے گا ؟ اس دنیا میں بھی اس کا انجام بہتر ہوگا اور آخرت میں بھی۔ دنیا میں اس کی انجام کی بہتری کا ذکر ایک دوسری آیت میں یوں بیان فرمایا کہ دنیا میں جب کوئی متقی شخص کسی مشکل میں پھنس جاتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ضرور اس سے نکلنے کی راہ پیدا کردیتا ہے۔ نیز ایسی جگہ سے اسے رزق مہیا کرتا ہے جہاں سے اس کا وہم و گمان بھی نہیں ہوگا ( ٦٥: ١، ٢) علاوہ ازیں اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ مثلا ً اگر ایک متقی شخص کاروبار کرتا ہے تو اس کی ساکھ قائم ہوتی ہے اور کسی کی ساکھ قائم ہوجانا اللہ کا بہت بڑا فضل اور انعام ہے اور انجام کار وہی کامیاب رہتا ہے۔ غرض یہ جملہ ایک ایسی آفاتی صداقت (universal Truth) ہے کہ جس اعتبار سے بھی اس کا تجربہ کیا جائے درست ہی ثابت ہوگا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاْمُرْ اَهْلَكَ بالصَّلٰوةِ ۔۔ : ” وَاصْطَبِرْ “ ” صَبَرَ یَصْبِرُ “ سے باب افتعال کا امر ہے، تاء کو طاء سے بدل دیا ہے اور حروف کے اضافے سے مبالغہ مقصود ہے، اس لیے ترجمہ ” خوب پابندرہ “ کیا گیا ہے۔ ان آیات میں بظاہر تمام اوامر کے مخاطب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں، مگر امت کا ہر فرد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تابع ہونے کی وجہ سے ان کا مخاطب ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( مُرُوْا أَوْلَادَکُمْ بالصَّلَاۃِ وَھُمْ أَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِیْنَ وَاضْرِبُوْھُمْ عَلَیْھَا وَھُمْ أَبْنَاءُ عَشْرِ سِنِیْنَ وَفَرِّقُوْا بَیْنَھُمْ فِيْ الْمَضَاجِعِ ) [ أبوداوٗد، الصلاۃ، باب متٰی یؤمر الغلام بالصلاۃ : ٤٩٥، عن عبداللہ بن عمرو (رض) ] ” اپنی اولاد کو نماز کا حکم دو جب وہ سات برس کے ہوں اور انھیں اس کی وجہ سے مارو جب وہ دس برس کے ہوں اور آپس میں ان کے بستر الگ کر دو ۔ “ یعنی بجائے اس کے کہ آپ کے گھر والے دنیا داروں کے عیش و آرام کی طرف نگاہیں بڑھائیں، آپ انھیں نماز کی تاکید کریں اور خود بھی اس پر خوب پابندی کریں۔ کیونکہ یہ چیز ان کا اور آپ کا تعلق اللہ تعالیٰ سے جوڑ دے گی اور تم میں حلال روزی پر، چاہے وہ مقدار میں کتنی ہی تھوڑی ہو، صبر و قناعت کا جذبہ پیدا کرے گی اور اصل غنا صبر و قناعت سے ہے، نہ کہ مال و دولت سے۔ لَا نَسْــَٔــلُكَ رِزْقًا ۔۔ : عام طور پر روزی کمانے کی وجہ سے آدمی اللہ تعالیٰ کی عبادت اور نماز میں سستی کرتا ہے، اس لیے فرمایا، ہمارا مطالبہ آپ سے روزی کمانے کا نہیں عبادت اور نماز کا ہے، روزی تمہیں ہم دیں گے۔ اللہ کے احکام کے مطابق زندگی بسر کرنے کا نام عبادت ہے، اللہ تعالیٰ نے انسان کو روزی کمانے کے لیے پیدا نہیں فرمایا، بلکہ اپنے احکام کے مطابق زندگی بسر کرنے کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ اگر وہ اللہ کا بندہ (غلام) بن کر اس کے احکام کے مطابق زندگی بسر کرے تو اسے رزق کی کوئی کمی نہیں آئے گی، فرمایا : (وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ 56؀ مَآ اُرِيْدُ مِنْهُمْ مِّنْ رِّزْقٍ وَّمَآ اُرِيْدُ اَنْ يُّطْعِمُوْنِ 57؀ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذو الْقُوَّةِ الْمَتِيْنُ ) [ الذاریات : ٥٦ تا ٥٨ ] ” اور میں نے جنوں اور انسانوں کو پیدا نہیں کیا مگر اس لیے کہ میری عبادت کریں، نہ میں ان سے کوئی رزق چاہتا ہوں اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں، بیشک اللہ ہی بیحد رزق دینے والا، طاقت والا، نہایت مضبوط ہے۔ “ انسان کی بےصبری اور بخل و حرص کا علاج نماز کی محافظت اور اس پر دوام ہے۔ دیکھیے سورة معارج (١٩ تا ٣٥) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( إِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی یَقُوْلُ یَا ابْنَ آدَمَ ! تَفَرَّغْ لِعِبَادَتِيْ أَمْلَأُ صَدْرَکَ غِنًی وَأَسُدَّ فَقْرَکَ وَإِلاَّ تَفْعَلْ مَلَأْتُ یَدَیْکَ شُغْلاً وَلَمْ أَسُدَّ فَقْرَکَ ) [ ترمذي، صفۃ القیامۃ، باب أحادیث ابتلینا بالضراء۔۔ : ٢٤٦٦، عن أبي ہریرہ (رض) ]” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، اے ابن آدم ! میری عبادت کے لیے پوری طرح فارغ ہوجا، (تو) میں تیرا سینہ غنا سے بھر دوں گا اور تیری فقیری دور کر دوں گا اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرے دونوں ہاتھ مشغولیت سے بھر دوں گا اور تیری فقیری دور نہیں کروں گا۔ “ وَالْعَاقِبَةُ للتَّقْوٰى : یعنی چاہے دنیا میں ان کے دن تکلیف سے گزریں مگر آخرت میں ہمیشہ رہنے والا عیش و آرام انھی کا حصہ ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( مَنْ کَانَتِ الْآخِرَۃُ ھَمَّہٗ جَعَلَ اللّٰہُ غِنَاہُ فِيْ قَلْبِہٖ وَجَمَعَ لَہٗ شَمْلَہٗ وَأَتَتْہُ الدُّنْیَا وَھِیَ رَاغِمَۃٌ وَمَنْ کَانَتِ الدُّنْیَا ھَمَّہٗ جَعَلَ اللّٰہُ فَقْرَہُ بَیْنَ عَیْنَیْہٖ وَفَرَّقَ عَلَیْہِ شَمْلَہٗ وَلَمْ یَأْتِہٖ مِنَ الدُّنْیَا إِلاَّ مَا قُدِّرَ لَہٗ ) [ ترمذي، صفۃ القیامۃ، باب أحادیث ابتلینا بالضراء۔۔ : ٢٤٦٥، عن أنس بن مالک (رض) ] ” جس شخص کی فکر صرف آخرت ہو اللہ تعالیٰ اس کی دولت مندی اس کے دل میں رکھ دیتا ہے اور اس کے لیے اس کے تمام معاملات جمع کردیتا ہے اور دنیا اس کے پاس ذلیل ہو کر آتی ہے اور جس کی فکر صرف دنیا ہو اللہ تعالیٰ اس کا فقر اس کی آنکھوں کے سامنے رکھ دیتا ہے اور اس کے تمام معاملات کو بکھیر دیتا ہے اور دنیا اسے اتنی ہی ملتی ہے جو اس کے مقدر میں ہے۔ “ اس سے معلوم ہوا کہ دنیا و آخرت دونوں میں اچھا انجام تقویٰ ہی کا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Requiring one&s relatives and associates to offer their prayers regularly and the philosophy behind it وَأْمُرْ‌ أَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ وَاصْطَبِرْ‌ عَلَيْهَا (And bid your family to perform salah and adhere to it yourself - 132) Here the Holy Prophet has been asked to direct the members of his family to say prayers and that he himself should be very particular about his prayers. These appear to be two separate commands, i.e. one for the family and the other for himself but the fact is that for a person to be steadfast in saying prayers it is essential that his family and friends should be equally mindful of their duty in this matter. The word اھل ahl used for the family is quite comprehensive and includes a person&s wife, children and his associates because all of them influence the environment and are an integral part of society. After this verse was revealed to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) he used to go to the house of Sayyidna Ali and Sayyidah Fatimah (رض) every morning at the time of morning prayers and call out الصَّلَاةِ الصَّلَاةِ (Come to salah, come to salah). (Qurtubi) It is reported that whenever Sayyidna ` Urwah ibn Zubair (رض) saw a display of wealth, he would at once return home, call his family to prayer and recite to them this verse. Also when Sayyidna ` Umar ibn Khattab (رض) got up for his midnight (tahajjud) prayers, he would awake the other members of his family and recite to them this verse. (Qurtubi) Allah provides easy sustenance to a person who devotes himself to prayers and to His worship لَا نَسْأَلُكَ رِ‌زْقًا (We ask no provision from you - 20:132) Allah does not demand of the people that they should provide sustenance to their families and dependants by their own power, because the responsibility for this is in His hands alone. Man is incapable of providing for himself, and the best that he can do is to plough the land and plant seeds in it, but he has no power to germinate it or to make a tree grow out of it. The role of man in all this is to protect the tree after it has grown to maturity and then to put its yield to his personal use. And for the person who spends all his time in prayer Allah makes even this labour bearable for him (Tirmidhi). Ibn Majah has quoted Sayyidna Abu Hurairah (رض) that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said, یقول اللہ تعالیٰ : یا ابن آدم : تفرَّغ لعبادتی املأ صدرک غنی واسد فقرک، وان لم تفعل ملأت صدرک شغلا ولم اسد فقرک (ابن کثیر) |"Allah says: &0 son of &Adam! You dedicate yourself to My worship and I will fill your chest with sufficiency and free you from want. But if you do not obey my commands, I will fill your chest with anxieties and worries and will not free you from want.|"& (Ibn Kathir) The meaning of the words لم اسد فقرک (I will not free you from want) is that such a man will always remain poor because the more wealth he acquires the more his greed will increase. And Sayyidna ` Abdullah ibn Mas’ ud (رض) says that he heard the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) saying, من جعل ھمومہ ھمّا واحدا ھمّ المعاد، کفاہ اللہ ھمّ دنیاہ، ومن تشعبت بہ الھموم فی احوال الدّنیا لم یبال اللہ وی ایّ اودیۃ ھلک [رواہ ابن ماجہ ] (ابن کثیر) |"A man who makes his concern for the Hereafter the focal point of all his efforts, Allah will take care of his concerns, but a person whose concerns are all about worldly affairs, Allah does not care in which valley he perishes.|"

اپنے اہل و عیال اور متعلقین کو نماز کی پابندی کی تاکید اور اس کی حکمت : وَاْمُرْ اَهْلَكَ بالصَّلٰوةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا، یعنی آپ اپنے اہل کو بھی نماز کا حکم کیجئے اور خود بھی اس پر جمے رہئے۔ یہ بظاہر دو حکم الگ الگ ہیں ایک اہل و عیال کو نماز کی تاکید دوسرے خود اس کی پابندی لیکن غور کیا جائے تو خود اپنی نماز کی پوری پابندی کے لئے بھی یہ ضروری ہے کہ آپ کا ماحول آپ کے اہل و عیال اور متعلقین نماز کے پابند ہوں کیونکہ ماحول اس کے خلاف ہوا تو طبعی طور پر انسان خود بھی کوتاہی کا شکار ہوجاتا ہے۔ لفظ اَهْلَ میں بیوی اولاد اور متعلقین سبھی داخل ہیں جن سے انسان کا ماحول اور معاشرہ بنتا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ روزانہ صبح کی نماز کے وقت حضرت علی اور فاطمہ کے مکان پر جا کر آواز دیتے تھے الصلوة الصلوة (قرطبی) اور حضرت عروہ ابن زبیر جب کبھی امراء و سلاطین کی دولت و حشمت پر ان کی نظر پڑتی تو فوراً اپنے گھر میں لوٹ جاتے اور گھر والوں کو نماز کے لئے دعوت دیتے اور یہ آیت پڑھ کر سناتے تھے اور حضرت فاروق اعظم جب رات کو تہجد کے لئے بیدار ہوتے تو اپنے گھر والوں کو بھی بیدار کردیتے تھے اور یہی آیت پڑھ کر سناتے تھے (قرطبی) جو آدمی نماز اور اللہ کی عبادت میں لگ جاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے رزق کا معاملہ آسان بنا دیتے ہیں : لَا نَسْــَٔــلُكَ رِزْقًا یعنی ہم تم سے یہ مطالبہ نہیں کرتے کہ تم اپنا اور اپنے اہل و عیال کا رزق اپنے زور علم و عمل سے پیدا کرو بلکہ یہ معاملہ ہم نے اپنے ذمہ رکھا ہے کیونکہ رزق کی تحصیل دراصل انسان کے بس میں سے ہی نہیں وہ زیادہ سے زیادہ یہی تو کرسکتا ہے کہ زمین کو نرم قابل کاشت بنائے اور کچھ دانے اس میں ڈال دے مگر دانہ کے اندر سے درخت نکالنا اور پیدا کرنا اس میں تو اس کا کوئی ادنی دخل نہیں وہ براہ راست حق تعالیٰ کا فعل ہے۔ درخت نکل آنے کے بعد بھی انسان کا سارا عمل اس کی حفاظت کرنا اور جو پھل پھول قدرت نے اس کے اندر پیدا فرمائے ہیں ان سے فائدہ اٹھانا۔ اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول ہوجائے اللہ تعالیٰ یہ بار محنت بھی اس کے لئے آسان اور ہلکا کردیتے ہیں۔ ترمذی اور ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ یقول اللہ تعالیٰ یا ابن ادم تفرغ لعبادتی املاء صدرک غنی واسد فقرک وان لم تفعل ملاءت صدرک شغلا ولم اسد فقرک (ابن کثیر) (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اے ابن آدم تو میری عبادت کے لئے اپنے آپ کو فارغ کرلے تو میں تیرے سینے کو غناء و استغنا سے بھر دوں گا۔ اور تیری محتاجی کو دور کر دوں گا اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو تیرا سینہ فکر اور شغل سے بھر دوں گا اور محتاجی دور نہ کروں گا (یعنی جتنا مال بڑھتا جائے گا حرص بھی اتنی ہی بڑھتی چلی جائے گی۔ اس لئے ہمیشہ محتاج ہی رہے گا۔ ) اور حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ : من جعل ھمومہ ھما واحدا ھم المعاد کفاہ اللہ ھم دنیاہ ومن تشبعت بہ الھموم فی احوال الدنیا لم یبال اللہ فی ای اودیۃ ھلک رواہ ابن ماجہ (ابن کثیر) جو شخص اپنے سارے فکروں کو ایک فکر یعنی آخرت کی فکر بنا دے تو اللہ تعالیٰ اس کے دنیا کے فکروں کی خود کفالت کرلیتا ہے اور جس کے فکر دنیا کے مختلف کاموں میں لگے رہے تو اللہ تعالیٰ کو کوئی پرواہ نہیں کہ وہ ان فکروں کے کسی جنگل میں ہلاک ہوجائے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاْمُرْ اَہْلَكَ بِالصَّلٰوۃِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْہَا۝ ٠ۭ لَا نَسْــَٔــلُكَ رِزْقًا۝ ٠ۭ نَحْنُ نَرْزُقُكَ۝ ٠ۭ وَالْعَاقِبَۃُ لِلتَّقْوٰى۝ ١٣٢ أمر الأَمْرُ : الشأن، وجمعه أُمُور، ومصدر أمرته : إذا کلّفته أن يفعل شيئا، وهو لفظ عام للأفعال والأقوال کلها، وعلی ذلک قوله تعالی: إِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ [هود/ 123] ( ا م ر ) الامر ( اسم ) کے معنی شان یعنی حالت کے ہیں ۔ اس کی جمع امور ہے اور امرتہ ( ن ) کا مصدر بھی امر آتا ہے جس کے معنی حکم دینا کے ہیں امر کا لفظ جملہ اقوال وافعال کے لئے عام ہے ۔ چناچہ آیات :۔ { وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ } ( سورة هود 123) اور تمام امور کا رجوع اسی طرف ہے أهل أهل الرجل : من يجمعه وإياهم نسب أو دين، أو ما يجري مجراهما من صناعة وبیت وبلد، وأهل الرجل في الأصل : من يجمعه وإياهم مسکن واحد، ثم تجوّز به فقیل : أهل الرجل لمن يجمعه وإياهم نسب، وتعورف في أسرة النبيّ عليه الصلاة والسلام مطلقا إذا قيل : أهل البیت لقوله عزّ وجلّ : إِنَّما يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ [ الأحزاب/ 33] ( ا ھ ل ) اھل الرجل ۔ ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو اس کے ہم نسب یا ہم دین ہوں اور یا کسی صنعت یامکان میں شریک ہوں یا ایک شہر میں رہتے ہوں اصل میں اھل الرجل تو وہ ہیں جو کسی کے ساتھ ایک مسکن میں رہتے ہوں پھر مجازا آدمی کے قریبی رشتہ داروں پر اہل بیت الرجل کا لفظ بولا جانے لگا ہے اور عرف میں اہل البیت کا لفظ خاص کر آنحضرت کے خاندان پر بولا جانے لگا ہے کیونکہ قرآن میں ہے :۔ { إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ } ( سورة الأحزاب 33) اسے پیغمبر گے اہل بیت خدا چاہتا ہے کہ تم سے ناپاکی ( کا میل کچیل ) دور کردے ۔ صلا أصل الصَّلْيُ الإيقادُ بالنار، ويقال : صَلِيَ بالنار وبکذا، أي : بلي بها، واصْطَلَى بها، وصَلَيْتُ الشاةَ : شویتها، وهي مَصْلِيَّةٌ. قال تعالی: اصْلَوْهَا الْيَوْمَ [يس/ 64] والصَّلاةُ ، قال کثير من أهل اللّغة : هي الدّعاء، والتّبريك والتّمجید يقال : صَلَّيْتُ عليه، أي : دعوت له وزكّيت، وقال عليه السلام : «إذا دعي أحدکم إلى طعام فلیجب، وإن کان صائما فَلْيُصَلِّ» أي : ليدع لأهله، وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ [ التوبة/ 103] وصَلَاةُ اللهِ للمسلمین هو في التّحقیق : تزكيته إيّاهم . وقال : أُولئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَواتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ [ البقرة/ 157] ، ومن الملائكة هي الدّعاء والاستغفار، كما هي من النّاس «3» . قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ وَمَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِ [ الأحزاب/ 56] والصَّلَاةُ التي هي العبادة المخصوصة، أصلها : الدّعاء، وسمّيت هذه العبادة بها کتسمية الشیء باسم بعض ما يتضمّنه، والصَّلَاةُ من العبادات التي لم تنفکّ شریعة منها، وإن اختلفت صورها بحسب شرع فشرع . ولذلک قال : إِنَّ الصَّلاةَ كانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتاباً مَوْقُوتاً [ النساء/ 103] ( ص ل ی ) الصلیٰ ( س) کے اصل معنی آگ جلانے ہے ہیں صلی بالنار اس نے آگ کی تکلیف برداشت کی یا وہ آگ میں جلا صلی بکذا اسے فلاں چیز سے پالا پڑا ۔ صلیت الشاۃ میں نے بکری کو آگ پر بھون لیا اور بھونی ہوئی بکری کو مصلیۃ کہاجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : اصْلَوْهَا الْيَوْمَ [يس/ 64] آج اس میں داخل ہوجاؤ ۔ الصلوۃ بہت سے اہل لغت کا خیال ہے کہ صلاۃ کے معنی دعا دینے ۔ تحسین وتبریک اور تعظیم کرنے کے ہیں ۔ چناچہ محاورہ ہے صلیت علیہ میں نے اسے دعادی نشوونمادی اور بڑھایا اور حدیث میں ہے (2) کہ «إذا دعي أحدکم إلى طعام فلیجب، وإن کان صائما فَلْيُصَلِّ» أي : ليدع لأهله، جب کسی کو کھانے پر بلا یا جائے تو اسے چاہیے کہ قبول کرلے اگر روزہ دار ہے تو وہ انکے لئے دعاکرکے واپس چلا آئے اور قرآن میں ہے وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ [ التوبة/ 103] اور ان کے حق میں دعائے خیر کرو کہ تمہاری دعا ان کے لئے موجب تسکین ہے ۔ اور انسانوں کی طرح فرشتوں کی طرف سے بھی صلاۃ کے معنی دعا اور استغفار ہی آتے ہیں چناچہ فرمایا : إِنَّ اللَّهَ وَمَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِ [ الأحزاب/ 56] بیشک خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں ۔ اور الصلوۃ جو کہ ایک عبادت مخصوصہ کا نام ہے اس کی اصل بھی دعاہی ہے اور نماز چونکہ دعا پر مشتمل ہوتی ہے اسلئے اسے صلوۃ کہاجاتا ہے ۔ اور یہ تسمیۃ الشئی باسم الجزء کے قبیل سے ہے یعنی کسی چیز کو اس کے ضمنی مفہوم کے نام سے موسوم کرنا اور صلاۃ ( نماز) ان عبادت سے ہے جن کا وجود شریعت میں ملتا ہے گو اس کی صورتیں مختلف رہی ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : إِنَّ الصَّلاةَ كانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتاباً مَوْقُوتاً [ النساء/ 103] بیشک نماز مومنوں مقرر اوقات میں ادا کرنا فرض ہے ۔ سأل السُّؤَالُ : استدعاء معرفة، أو ما يؤدّي إلى المعرفة، واستدعاء مال، أو ما يؤدّي إلى المال، فاستدعاء المعرفة جو ابه علی اللّسان، والید خلیفة له بالکتابة، أو الإشارة، واستدعاء المال جو ابه علی الید، واللّسان خلیفة لها إمّا بوعد، أو بردّ. ( س ء ل ) السؤال ( س ء ل ) السوال کے معنی کسی چیز کی معرفت حاصل کرنے کی استد عایا اس چیز کی استز عا کرنے کے ہیں ۔ جو مودی الی المعرفۃ ہو نیز مال کی استدعا یا اس چیز کی استدعا کرنے کو بھی سوال کہا جاتا ہے جو مودی الی المال ہو پھر کس چیز کی معرفت کی استدعا کا جواب اصل مٰن تو زبان سے دیا جاتا ہے لیکن کتابت یا اشارہ اس کا قائم مقام بن سکتا ہے اور مال کی استدعا کا جواب اصل میں تو ہاتھ سے ہوتا ہے لیکن زبان سے وعدہ یا انکار اس کے قائم مقام ہوجاتا ہے ۔ رزق الرِّزْقُ يقال للعطاء الجاري تارة، دنیويّا کان أم أخرويّا، وللنّصيب تارة، ولما يصل إلى الجوف ويتغذّى به تارة «2» ، يقال : أعطی السّلطان رِزْقَ الجند، ورُزِقْتُ علما، قال : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] ، أي : من المال والجاه والعلم، ( ر ز ق) الرزق وہ عطیہ جو جاری ہو خواہ دنیوی ہو یا اخروی اور رزق بمعنی نصیبہ بھی آجاتا ہے ۔ اور کبھی اس چیز کو بھی رزق کہاجاتا ہے جو پیٹ میں پہنچ کر غذا بنتی ہے ۔ کہاجاتا ہے ۔ اعطی السلطان رزق الجنود بادشاہ نے فوج کو راشن دیا ۔ رزقت علما ۔ مجھے علم عطا ہوا ۔ قرآن میں ہے : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] یعنی جو کچھ مال وجاہ اور علم ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے صرف کرو عاقب والعاقِبةَ إطلاقها يختصّ بالثّواب نحو : وَالْعاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ [ القصص/ 83] ، وبالإضافة قد تستعمل في العقوبة نحو : ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا [ الروم/ 10] ، ( ع ق ب ) العاقب اور عاقبتہ کا لفظ بھی ثواب کے لئے مخصوص ہے جیسے فرمایا : ۔ وَالْعاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ [ القصص/ 83] اور انجام نیک تو پرہیز گاروں ہی کا ہے ۔ مگر یہ اضافت کی صورت میں کبھی آجاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا [ الروم/ 10] پھر جن لوگوں نے برائی کی ان کا انجام بھی برا ہوا ۔ وقی الوِقَايَةُ : حفظُ الشیءِ ممّا يؤذيه ويضرّه . يقال : وَقَيْتُ الشیءَ أَقِيهِ وِقَايَةً ووِقَاءً. قال تعالی: فَوَقاهُمُ اللَّهُ [ الإنسان/ 11] ، والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] ( و ق ی ) وقی ( ض ) وقایتہ ووقاء کے معنی کسی چیز کو مضر اور نقصان پہنچانے والی چیزوں سے بچانا کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَوَقاهُمُ اللَّهُ [ الإنسان/ 11] تو خدا ان کو بچا لیگا ۔ التقویٰ اس کے اصل معنی نفس کو ہر اس چیز ست بچانے کے ہیں جس سے گزند پہنچنے کا اندیشہ ہو لیکن کبھی کبھی لفظ تقوٰی اور خوف ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] جو شخص ان پر ایمان لا کر خدا سے ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا ۔ ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٣٢) اور اپنے متعلقین کو بھی بالخصوص شدت کے وقت نماز کا حکم کرتے رہے اور خود بھی اس پر قائم رہیے، ہم آپ سے اور آپ کے متعلقین سے معاش نہیں چاہتے، معاش تو آپ کو ہم دیں گے اور جنت تو ان ہی حضرات کے لیے ہے، جو کفر وشرک اور فواحش سے بچنے والے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

114. That is, also teach your children that lawful provision is much better than the unlawful riches of the wicked people. For this purpose, enjoin them to say their prescribed Prayers, for this will change their attitude, their standard of values, and make them contented with pure provisions and virtuous life in preference to the life of sin and luxury. 115. It implies this: We do not ask you to offer your Prayers for any benefit of Our own. We ask you to do that for your own good, because this will create piety in you which will bring about true success for you in this world and in the Hereafter.

سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :114 یعنی تمہارے بال بچے بھی اپنی تنگ دستی و خستہ حالی کے مقابلہ میں ان حرام خوروں کے عیش و عشرت کو دیکھ کر دل شکستہ نہ ہوں ۔ ان کو تلقین کرو کہ نماز پڑھیں ۔ یہ چیز ان کے زاویۂ نظر کو بدل دے گی ۔ ان کے معیار قدر کو بدل دے گی ۔ ان کی توجہات کا مرکز بدل دے گی ۔ وہ پاک رزق پر صابر و قانع ہو جائیں گے اور اس بھلائی کو جو ایمان و تقویٰ سے حاصل ہوتی ہے اس عیش پر ترجیح دینے لگیں گے جو فسق و فجور اور دنیا پرستی سے حاصل ہوتا ہے ۔ سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :115 یعنی ہم نماز پڑھنے کے لیے تم سے اس لیے نہیں کہتے ہیں کہ اس سے ہمارا کوئی فائدہ ہے ۔ فائدہ تمہارا اپنا ہی ہے ، اور وہ یہ ہے کہ تم میں تقویٰ پیدا ہو گا جو دنیا اور آخرت دونوں ہی میں آخری اور مستقل کامیابی کا وسیلہ ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

57: اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جس طرح دنیا میں آقا اپنے غلاموں کو معاشی مشغلے میں لگا کر ان کی آمدنی سے رزق حاصل کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ تمہاری اس طرح کی بندگی سے بے نیاز ہے، اس کے بجائے وہ خود تمہیں رزق دینے کا وعدہ کرچکا ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم نے تم پر یہ ذمہ داری عائد نہیں کی کہ تم اپنا رزق خود پیدا کرو۔ تم زیادہ سے زیادہ جو کچھ کرتے ہو، وہ یہ کہ اسباب کو اختیار کرلیتے ہو، مثلاً زمین میں بیج بو دیتے ہو، لیکن اس بیج سے دانہ اگانے کا کام ہم نے تم پر نہیں رکھا۔ بلکہ ہم خود اس سے وہ پیداوار پیدا کرتے ہیں جو تمہیں رزق مہیا کرتی ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١٣٢:۔ اوپر نماوں کا حکم فرما کر اس آیت میں فرمایا ‘ اے رسول اللہ کے اس حکم کے موافق تم بھی نماز میں مصروف رہو اور اپنے گھر والوں کو بھی نماز میں مصروف رہنے کی تاکید کرو کیونکہ دنیا کے بادشاہ لوگ اپنی رعایا کی کمائی میں سے حصہ مانگتے ہیں اللہ تعالیٰ کی بادشاہت ایسی نہیں کہ اس کو کسی کی کمائی کی محتاجی ہو ‘ وہ آپ سب کو رزق دیتا ہے اس نے تو جنات اور انسان کو اس لیے پیدا کیا ہے کہ یہ سب اس کو اپنا معبود جان کر اس کی عبادت خالص دل سے کریں اور وہ ان کی محنت سے بڑھ کر ان کو بدلہ دیوے اور دنیا میں اگرچہ وہ نیک وبد سب کو رزق دیتا ہے لیکن عقبیٰ میں محنت سے بڑھ کر بدلہ ان ہی لوگوں کو ملے گا جو عقبیٰ کے بدلہ کی نیت سے نیک کام کرتے اور برے کاموں سے بچتے ہیں ‘ جو لوگ عقبیٰ کے منکر ہیں اگر وہ رسم کے طور پر نیک کام کریں گے تو اس کا بدلہ ان کو دنیا میں ہی مل جائے گا ‘ نہ عقبیٰ کے بدلہ کا انہیں یقین ہے نہ ان کو عقبیٰ میں کچھ بدلہ ملنے والا ہے۔ صحیح بخاری ومسلم میں عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے ١ ؎۔ جس میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ماں کے پیٹ میں جب بچہ کا پتلا تیار ہوجاتا ہے تو اس میں روح کے پھونکے جانے سے پہلے اس کی تمام عمر کا رزق اللہ کے حکم سے فرشتہ لکھ لیتا ہے یہ حدیث نحن نرزقک کی گویا تفسیر ہے ‘ جس کا حاصل یہ ہے کہ انسان کے پتلے میں جان پڑنے سے پہلے اس کے رزق کا انتظام اللہ تعالیٰ کے کار خانہ قدرت میں ہوجاتا ہے صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ (رض) کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے ٢ ؎۔ جس میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو لوگ عقبیٰ کے منکر ہیں وہ رسم کے طور پر دنیا میں کوئی نیک کام کرتے ہیں تو ان کو اس کا بدلہ دنیا ہی میں مل جاتا ہے۔ عقبیٰ کے اجر کی نیت سے ان کا نہ کوئی نیک کام ہوتا ہے نہ ان کو کوئی اجر عقبیٰ میں ملنے والا ہے ٣ ؎۔ صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ (رض) سے روایتیں ہیں جن میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس طرح کسی شخص کے دروازہ پر نہر ہو اور وہ ہر روز پانچ دفعہ اس نہر میں نہاوے تو اس کے جسم پر میل کچیل کچھ نہ رہے گا۔ اسی طرح پانچوں وقت کی نماز کے پڑھنے سے ایک رات دن کے آدمی کے صغیرہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں ‘ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ (رض) کی یہ حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے ٤ ؎۔ جس میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قسم کھا کر فرمایا ‘ اللہ تعالیٰ کو گنہگار بندوں کے گناہ معاف کردینے کی صفت ایسی پیاری ہے کہ زمین پر حال میں جو لوگ بستے ہیں اگر وہ گناہ نہ کریں تو ان کی جگہ اللہ تعالیٰ اور گنہگار مخلوق کو پیدا کرے اور گناہوں کے بعد توبہ کی توفیق دے کر اس گنہگار مخلوق کے گناہ معاف فرمادے۔ ان حدیثوں کو آیت کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ جو لوگ پانچوں وقت کی نماز کے اور کبیرہ گناہ کے بعد توبہ و استغفار کے پابند ہیں ‘ ان کے صغیرہ گناہ نماز کی برکت اور کبیرہ گناہ خالص دل کی توبہ سے اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتا ہے جس سے قیامت کے دن عملوں کے تولے جانے کے وقت ان کے بدی کے پلڑے ہلکے ہوجاویں گے جس سے ایسے لوگوں کی نجات کی اللہ کی ذات سے پوری توقع ہے۔ (١ ؎ مشکوٰۃ ص ٢٠ باب الایمان بالقدر ) (٢ ؎ بحوالہ مشکوٰۃ ص ٣٣ کتاب العلم ) (٣ ؎ مشکوٰۃ ص ٥٧‘ کتاب الصلوٰۃ۔ ) (٤ ؎ بحوالہ مشکوٰۃ ص ٢٠٣ باب الاستغفار والتوبۃ۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(20:132) اصطبر علیھا۔ تو اس پر قائم رہ اصطبار (افتعال) سے مصدر جس کے معنی ہیں صبر کے ساتھ قائم رہنے کے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر ہے۔ للتقوی۔ ای للمتقین۔ جیسے اور جگہ آیا ہے والعاقبۃ للمتقین (7:128) اور فاصبر ان العاقبۃ للمتقین (11:49) وقی مادہ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 یعنی بجائے اس کے کہ آپ کے گھر والے دنیا داروں کے عیش و آرام کی طرف دیکھیں آپ انہیں نماز پڑھنے کی تلقین کریں کیونکہ یہ چیز ان کی لو اپنے رب سے لگا دیگی اور ان میں حرام روزی کے مقابلے میں حلال روزی پر چاہے وہ مقدار میں کتنی ہی قلیل ہو صبر و قناعت کا جذبہ پیدا کریگی اور اصل تو نگری صبر و قناعت سے ہے نہ کہ مال و دولت سے حضرت ثابت سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر والوں کو اگر کبھی واقعہ کی نوبت پہنچتی تو آپ میں نماز کی تلقین فرماتے اور یہی تمام پیغمبروں کا دستور تھا۔ (بیہقی سند احمد)7 یعنی چاہے دنیا میں ان کے دن تکلف ہے گزریں مگر آخرت میں ہمیشہ رہنے والا عیش و آرام ان ہی کا حصہ ہے متعدد احادیث میں مذکور ہے کہ اگر انسان اللہ کی عبادت اور آخرت کی فکر میں لگ جائے تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام فکر اور محتاجی دور کردیتا ہے اور اگر دنیا کی فکروں میں الجھ جائے تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی پروا نہیں ہے کہ کس وادی میں مرتا ہے اس سے معلوم ہوا کہ ہر قسم کی خیر کا حصول تقویٰ پر ہی موقوف ہے۔ (ابن کثیر شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

6۔ یعنی زیادہ توجہ کے قابل یہ امور ہیں۔ 7۔ یعنی مقصود اصلی اکتساب نہیں بلکہ دین اور طاعت ہیں، اکتساب کی اسی حالت میں اجازت یا امر ہے کہ ضروری طاعت میں وہ مخل نہ ہو۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز کی تلقین کی گئی اور اس آیت میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد ہوا کہ اپنے گھر والوں کو بھی نماز پڑھنے کا حکم دیں۔ ہر مسلمان بالخصوص ایک راہنما کے بنیادی فرائض میں یہ بات شامل ہے کہ وہ اپنی اصلاح کے ساتھ اپنے اہل و عیال کی اصلاح کے لیے بھی کوشش کرتا رہے تاکہ اس کی اور اس کے اہل خانہ کی ذات معاشرے کے لیے ایک مثال ثابت ہو۔ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنی امت اور پوری دنیا کے لیے نمونہ کے طور پر مبعوث کیا گیا ہے۔ اس لیے پہلے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد ہوا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پانچ وقت نماز قائم کریں۔ اب حکم ہوا کہ اپنے گھر والوں کو بھی حکم فرمائیں کہ وہ نماز پر قائم رہیں جہاں تک رزق کا معاملہ ہے اللہ تعالیٰ تم سے رزق کا مطالبہ نہیں کرتا۔ بلکہ وہ تمہیں روزی دینے والا ہے۔ بالآخر پرہیزگاری اختیار کرنے والوں کا انجام بہتر ہوگا۔ (عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مُرُوْا أَوْلَادَکُمْ بالصَّلَاۃِ وَھُمْ أَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِیْنَ وَاضْرِبُوْھُمْ عَلَیْھَا وَھُمْ أَبْنَاءُ عَشْرٍ وَفَرِّقُوْا بَیْنَھُمْ فِي الْمَضَاجِعِ ) [ رواہ ابوداوٗد : کتاب الصلاۃ، باب متی یؤمر الغلام بالصلاۃ ] ” حضرت عمر و بن شعیب اپنے باپ سے وہ اپنے دادا (رض) سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اپنی اولاد کو سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دو اور دس سال کی عمر میں انہیں نماز نہ پڑھنے کی وجہ سے سزا دو ۔ اور ان کے بستر الگ کردو۔ “ مسائل ١۔ اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دینا چاہیے۔ ٢۔ نماز پر ہمیشگی ہونی چاہیے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ کسی چیز کا محتاج نہیں بلکہ کائنات اس کی محتاج ہے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی رزق دینے والا نہیں۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وامر اھلک بالصلوۃ (٠٢ : ٢٣١) ” اپنے اہل و عیال کو نماز کی تلقین کرو۔ “ ایک مسلمان کا پہلا فریضہ یہ ہے کہ وہ اپنے گھر کو ایک مسلمان کا گھر بنائے۔ اپنے اہل و عیال کو وہ فریضہ ادا کرنے پر ابھارے جو اسے اللہ سے مربوط کرتا ہے تاکہ اس کے گھر میں یکجہتی پیدا ہو اور کیا ہی خوش نصیب ہوگا وہ گھر جس کے اندر پوری یکجہتی ہو۔ و اصطبرعلیھا (٠٢ : ٢٣١) ” اور خود بھی اس کے پابند رہو۔ “ نماز کو پ وری طرح قائم کرو۔ اس کے آثار اپنے اندر پیدا کرو ، بیشک نماز فحاشی اور منکرات سے بچاتی ہے۔ یہ ہیں نماز کے صحیح آثار۔ جب کوئی گھرانا نماز پر جم جاتا ہے تو اس سے پھر یہ آثار پیدا ہوتے ہیں ، اس کے شعور میں اور اس کے ہر طرز عمل میں۔ اگر نماز کے آثار پیدا نہیں ہوتے تو قائم شدہ نماز نہیں ہے۔ یہ محض حرکات و کلمات ہیں۔ یہ نماز ، یہ عبادت ، یہ اللہ سے رابطہ اور یہ فرائض اللہ کے لئے مفید نہیں ، اللہ تو ان سے غنی ہے ، ان کا اللہ کو کوئی فائدہ نہیں ہے۔ لانسئلک رزقا نحن نرزقک (٠٢ : ٢٣١) ” ہم تم سے کوئی رزق نہیں چاہتے ، رزق تو ہم ہی تمہیں دے رہے ہیں۔ “ یہ عبادات تو اس لئے ہیں کہ تمہارے دل میں خدا کا خوف پیدا ہو۔ تمہیں دے رہے ہیں۔ “ یہ عبادات تو اس لئے ہیں کہ تمہارے دل میں خدا کا خوف پیدا ہو۔ والعاقبۃ للتقویٰ (٠٢ : ٢٣١) ” اور انجام کی بھلائی تقویٰ ہی کے لئے ہے۔ “ انسان ان عبادات سے دنیا میں بھی مفاد اٹھاتا ہے اور آخرت میں بھی۔ وہ عبادت کرتا ہے تو خود بھی خوش ہوتا ہے۔ مطمئن ہوتا ہے سکون حاصل کرتا ہے اور آخرت میں ان عبادات کا اجر بھی اسے ہی ملتا ہے۔ اب آخر میں ان اہل ثروت اور با اثر لوگوں پر ایک تبصرہ آتا ہے جو حضرت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ مطالبہ کرتے تھے کہ آپ کوئی خارق عادت معجزہ پیش کریں۔ ان سے کہا جاتا ہے کہ کیا یہ قرآن تمہارے لئے کافی نہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

آخر میں فرمایا (وَاْمُرْ اَھْلَکَ بالصَّلاَۃِ ) (آپ اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم کیجیے) (وَاصْطَبِرْ عَلَیْھَا) (اور خود بھی اس پر جمے رہئے) یعنی پابندی کے ساتھ ادا کیجیے، اس میں دو حکم دیئے ہیں۔ ایک اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دینا دوسرے خود بھی اس کا اہتمام کرنا۔ چونکہ نماز اسلام کا دوسرا رکن ہے یعنی کلمہ شہادت کا یقین کرنے کے بعد دوسرا درجہ نماز ہی کا ہے۔ اس لیے شریعت اسلامیہ میں اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے اس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب فرمایا کہ نماز کا اہتمام فرمائیں اور گھر والوں سے بھی اس کا اہتمام کرائیں اور چونکہ ساری امت آپ کے تابع ہے اس لیے امت کو بھی خطاب ہوگیا۔ اہل ایمان کا سب سے بڑا کام یہ ہے کہ نمازوں کا اہتمام کریں اور اپنے گھر والوں سے نماز پڑھوائیں۔ گھر والوں کے عموم میں بیوی بچے سب داخل ہیں۔ جب انسان خود کسی امر شرعی کا اہتمام کرے گا تو اپنے ماتحتوں سے بھی کروا سکتا ہے۔ حضرت عمر (رض) نے اپنے زمانہ خلافت میں بطور سرکاری فرمان اپنے گورنروں کو لکھ کر بھیجا تھا کہ بلاشبہ میرے نزدیک تمہارے کاموں میں سب سے زیادہ بڑھ کر نماز ہے۔ جس نے نماز کی حفاظت کی اور اس کی پابندی کی وہ اپنے باقی دین کی حفاظت کرے گا۔ اور جس نے نماز کو ضائع کیا وہ اس کے سوا باقی دین کو اس سے زیادہ ضائع کرلے گا۔ (رواہ مالک فی الموطا) وھو الحدیث الخامس من الموطا۔ عموماً لوگ سمجھتے ہیں خلافت راشدہ اور دور حاضر کی حکومتوں میں کوئی فرق نہیں۔ وہ بھی اقتدار تھا اور یہ بھی اقتدار ہے۔ یہ خیال غلط ہے۔ خلافت راشدہ میں اولین مقصد لوگوں کو دین پر چلانا اور دین کی حفاظت کا اہتمام تھا۔ اور اس کے ساتھ ہی عموام الناس کی جائز حاجات پورا کرنے کا بھی خیال رکھا جاتا تھا۔ اب تو صرف کرسی کی حفاظت کا نام اقتدار ہے۔ نہ خود نماز پڑھیں نہ لوگوں کو نماز پڑھوائیں۔ بس عوام راضی ہیں چاہے جتنے بھی گناہ کرلیں۔ گناہوں کے کاموں کے لائسنس تک دیئے جاتے ہیں۔ یہ حکومتیں تو اپنی اور عوام الناس کی دنیا و آخرت تباہ کرنے والی ہیں۔ (لاَ نَسْءَلُکَ رِزْقًا) یعنی ہم یہ نہیں چاہتے کہ آپ معاش کمانے میں لگیں۔ (یہ خطاب امت کو بھی شامل ہیں) یعنی زندگی کا مقصد رزق کمانا نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادت مقصود حیات ہے اور گو کسب حلال کے لیے اسباب اختیار کرنا بھی مفید ہے لیکن اس درجہ میں نہیں کہ نماز اور فرائض برباد ہوجائیں اور کمانا ہی اصل رہ جائے۔ (نَحْنُ نَرْزُقُکَ ) (ہم آپ کو رزق دیں گے) جو رزق مقدر ہے وہ سبھی کو ملے گا۔ لہٰذا اسباب اختیار کرنے میں فرائض اور واحبات ترک نہ کریں اور محرمات کا ارتکاب نہ کریں۔ جو لوگ اسباب اختیار نہیں کرتے رزق انہیں بھی ملتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی شان رزاقیت ہے کہ ساری مخلوق رزق پاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی نعمتیں کھاتی ہے۔ قال صاحب الروح ج ١٦، ص ٢٨٥، دفع انما عسی ان یخطر ببال احد من ان المداومۃ علی الصلوۃ ربما تضر بامر المعاش فکانہ قیل داوموا علی الصلاۃ غیر مشتغلین بامر المعاش عنھا اذ لا نکلفکم رزق انفسکم ازنحن نرزقکم۔ حضرت عبداللہ بن سلام (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب اپنے گھر میں کوئی سختی یا تنگی پیش آتی تھی تو انہیں نماز کا حکم دیتے تھے اور آیت کریمہ (وَاْمُرْ اَھْلَکَ بالصَّلٰوۃِ ) تلاوت فرماتے تھے۔ (روح المعانی عن البیہقی فی شعب الایمان بسند صحیح) اور حضرت عمر (رض) کا یہ طریقہ تھا کہ رات کو بمشیت الٰہی نماز پڑھتے رہتے تھے۔ جب رات کا آخری حصہ رہ جاتا تھا تو اپنے گھر والوں کو جگاتے تھے اور فرماتے تھے کہ نماز پڑھو، نماز پڑھو اور ساتھ ہی آیت بالا تلاوت کرتے تھے۔ (رواہ مالک فی الموطا فی صلاۃ اللیل) (وَالْعَاقِبَۃُ للتَّقْوٰی) (اور بہتر انجام پرہیزگاری کا ہے) لہٰذا فرائض کا اہتمام رکھا جائے جن میں سے سب سے بڑھ کر نماز ہے اور ممنوعات اور محرمات سے پرہیز کیا جائے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

90:۔ یہ امر چہارم ہے یہ امر مصلح کا ذکر ہے۔ یعنی اہل و عیال کو نماز کی پابندی کا حکم فرمائیں ” وَاصْطَبِرْ عَلَیْھَا “ امر پنجم اور خود بھی نماز کی پابندی کریں ” لَا نَسْئَلُکَ رِزْقًا “ یہ ذمہ داری آپ کی نہیں ہے کہ آپ انے لیے اور اہل و عیال کے لیے روزی کمائیں بلکہ روزی کا انتظام ہمارے ذمہ ہے آپ جس کام کے لیے بھیجے گئے ہیں آپ اس کا زیادہ اہتمام کریں۔ ای لانسئلک ان ترزق نفسک ولا اھلک (نحن نرزقک) وایاھم فلا تھتم لامر الرزق (مدارک ج 3 ص 55) ۔ مطلب یہ ہے کہ نماز پر مداومت کریں کوئی نماز ناغہ نہ ہونے پائے۔ نماز کے وقت تمام کاروبار چھوڑ چھاڑ کر پوری توجہ کیساتھ نماز ادا کریں اور اکتساب معاش ادائے نماز سے ہرگز مانع نہ ہو کیونکہ روزی رساں تو اللہ تعالیٰ ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

132 اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم کرتے رہئیے اور خود بھی نماز کے پابند رہئیے ہم آپ سے روزی نہیں مانگتے اور روزی نہیں طلب کرتے روزی تو ہم آپ کو دیا کرتے ہیں اور بہتر انجام تو پرہیز گاری ہی کا ہے۔ یعنی جو بات زیادہ اہم اور قابل توجہ ہے وہ تو نماز ہے اپنے متعلقین سے بھی پڑھوائیے اور خود بھی پابند رہئیے کیونکہ خود ایک کام کو کرنا اور زبان سے دوسروں کو سمجھا نا زیادہ مفید اور ابلغ ہے ہم آپ سے روزی نہیں طلبک رتے جس طرح دنیا کے آقا غلاموں کو روزی کمانے پر مجبوری کرتے ہیں وہ آقا اور مالک روزی خود ہر ایک کو دیتا ہے وہ تو عبادت چاہتا ہے اور تمام مخلوق کو وہ خود روزی دیتا ہے اور انجام کارتقویٰ اور پرہیز گاری ہی کا بھلا ہے اس لئے کافروں کی رونق پر توجہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں اور خاوند غلام سے روزی کمواتے ہیں وہ خاوند بندگی چاہتا ہے روزی آپ دیتا ہے۔ 12