Surat Tahaa
Surah: 20
Verse: 5
سورة طه
اَلرَّحۡمٰنُ عَلَی الۡعَرۡشِ اسۡتَوٰی ﴿۵﴾
The Most Merciful [who is] above the Throne established.
جو رحمٰن ہے ، عرش پر قائم ہے ۔
اَلرَّحۡمٰنُ عَلَی الۡعَرۡشِ اسۡتَوٰی ﴿۵﴾
The Most Merciful [who is] above the Throne established.
جو رحمٰن ہے ، عرش پر قائم ہے ۔
The Most Gracious Istawa the Throne. A discussion concerning this has already preceded in Surah Al-A`raf, so there is no need to repeat it here. The safest path to take in understanding this, is the way of the Salaf (predecessors). Their way was to accept that which has been reported concerning this from the Book and the Sunnah without describing it, reinterpreting it, resembling it to creation, rejecting it, or comparing it to attributes of the creatures. Concerning Allah's statement, لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الاَْرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا وَمَا تَحْتَ الثَّرَى
5۔ 1 بغیر کسی حد بندی اور کیفیت بیان کرنے کے، جس طرح کہ اس کی شان کے لائق ہے یعنی اللہ تعالیٰ عرش پر قائم ہے، لیکن کس طرح اور کیسے ؟ یہ کیفیت کسی کو معلوم نہیں۔
[٣] استوی علی العرش کا بیان سورة اعراف آیت نمبر ٥٤ کے حاشیہ میں گزر چکا ہے۔ عرش الٰہی کے متعلق جو کچھ نصوص سے ثابت ہے وہ یہ ہے کہ اس کے پائے ہیں۔ جنہیں خاص فرشتے اٹھائے ہوئے ہیں۔ اور بالخصوص قیامت کے دن آٹھ فرشتے اسے اٹھائے ہوئے ہوں گے اور یہ عرش سب آسمانوں کے اوپر ہے اور انھیں قبہ کی طرح گھیرے ہوئے ہے۔
اَلرَّحْمَنُ عَلَي الْعَرْشِ اسْتَوٰى: یعنی آپ پر قرآن کا نازل کرنا اور زمین اور بلند آسمان کو پیدا کرنا جس بیحد رحم والے کی رحمت کا نتیجہ ہے وہ رحمٰن عرش پر بلند ہے۔ عرش کا لفظی معنی تخت ہے اور ” اسْتَوٰى“ کا معنی ” اِرْتَفَعَ “ (بلند ہوا) ہے۔ عرش کے اوپر اللہ تعالیٰ ہے اور پوری کائنات کی تدبیر فرما رہا ہے، فرمایا : ( ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ يُدَبِّرُ الْاَمْرَ ) [ یونس : ٣ ] ” پھر وہ عرش پر بلند ہوا، ہر کام کی تدبیر کرتا ہے۔ “ اس آیت اور دوسری آیات سے صاف ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ عرش کے اوپر ہے، مگر یہ بات کہ وہ عرش کے اوپر کس طرح ہے ؟ کھڑا ہے یا بیٹھا ہے یا کس کیفیت میں ہے ؟ کوئی نہیں جانتا، نہ جان سکتا ہے، کیونکہ مخلوق محدود ہے اور وہ لامحدود۔ مخلوق میں سے کوئی بھی خالق کو تو کجا اس کی معلومات میں سے بھی کوئی چیز پوری طرح نہیں جان سکتا، مگر جو وہ چاہے، فرمایا : ( وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖٓ ) [ البقرۃ : ٢٥٥ ] ” اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرتے مگر جتنا وہ چاہے۔ “ صحابہ کرام (رض) نے، جو انبیاء ( علیہ السلام) کے بعد اللہ تعالیٰ کے بارے میں سب سے زیادہ علم رکھنے والے تھے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ سوال نہیں کیا کہ وہ اپنے تخت پر کس طرح ہے ؟ اسی لیے کسی شخص نے امام مالک (رض) سے ” اَلرَّحْمَنُ عَلَي الْعَرْشِ اسْتَوٰى“ کے متعلق پوچھا کہ کس طرح ؟ تو انھوں نے فرمایا : ” اَلْاِسْتِوَاءُ مَعْلُوْمٌ وَالْکَیْفُ مَجْھُوْلٌ وَالسُّؤَالُ عَنْہُ بِدْعَۃٌ“ ” یہ بات سب جانتے ہیں کہ وہ عرش کے اوپر ہے، مگر یہ کسی کو معلوم نہیں کہ کس طرح ہے اور اس کے متعلق سوال بدعت ہے۔ “ مزید فرمایا : ” میں تمہیں برا آدمی خیال کرتا ہوں، اسے میرے پاس سے نکال دو ۔ “ تو سوال کرنے والا یہ کہتا ہوا چلا گیا کہ اے ابو عبد اللہ ! میں نے اس کے متعلق اہل عراق اور اہل شام سے پوچھا مگر کسی کو آپ (کے صحیح جواب) جیسی توفیق عطا نہیں ہوئی۔ (تفسیر بغوی) خلاصہ یہ کہ جو بات اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے بتائی ہے اس پر ایمان رکھنا فرض ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ عرش پر مستوی ہے، اللہ تعالیٰ کے عرش کو قیامت کے دن آٹھ فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے (دیکھیے حاقہ : ١٧) اس کے پائے بھی ہیں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( اَلنَّاسُ یَصْعَقُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَأَکُوْنُ أَوَّلَ مَنْ یُّفِیْقُ فَإِذَا أَنَا بِمُوْسٰی آخِذٌ بِقَاءِمَۃٍ مِنْ قَوَاءِمِ الْعَرْشِ فَلَا أَدْرِيْ أَفَاقَ قَبْلِيْ أَمْ جُوْزِيَ بِصَعْقَۃِ الطُّوْرِ ) ” لوگ قیامت کے دن بےہوش ہوجائیں گے تو سب سے پہلا شخص جو ہوش میں آئے گا میں ہوں گا۔ اچانک میں موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھوں گا کہ وہ عرش کے پایوں میں سے ایک پائے کو پکڑے ہوئے ہوں گے، تو میں نہیں جانتا کہ وہ مجھ سے پہلے ہوش میں آگئے، یا انھیں طور کی بےہوشی کا بدلہ دیا گیا۔ “ [ بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللّٰہ تعالیٰ : ( وواعدنا موسیٰ ثلاثین۔۔ ) : ٣٣٩٨، عن أبي سعید الخدري۔ ] مگر اللہ کا عرش پر ہونا یا اس کی کوئی بھی صفت مخلوق کی صفت کے مشابہ نہیں، فرمایا : (لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ ۚ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ ) [ الشورٰی : ١١ ]” اس کی مثل کوئی چیز نہیں اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔ “ تمام سلف کا اللہ تعالیٰ کے عرش پر بلند ہونے اور دوسری صفات کے متعلق یہی عقیدہ ہے۔ خیر القرون گزرنے کے بعد جب عقیدہ و اعمال کی بدعات شروع ہوئیں تو اللہ تعالیٰ کے متعلق آیات و احادیث کی بھی اپنی اپنی بدعات کے مطابق تاویل بلکہ تحریف کی جانے لگی۔ چناچہ بہت سے لوگوں نے کہا کہ عرش کے اوپر ہونے کا مطلب زمین و آسمان کی حکومت کا مالک ہونا ہے، ورنہ نہ کوئی عرش ہے اور نہ اللہ تعالیٰ اس کے اوپر ہے۔ وہ نہ اوپر ہے نہ نیچے اور نہ کسی اور جہت میں، نہ وہ آسمان دنیا پر اترتا ہے اور نہ قیامت کے دن زمین پر آئے گا۔ غرض تاویل کے نام پر صریح آیات و احادیث کا انکار کردیا۔ مگر اتنے بڑے بڑے علماء پر تعجب ہوتا ہے کہ انھوں نے اتنی جرأت کے ساتھ اس عرش عظیم و کریم کا انکار کیسے کردیا کہ جس پر اپنے بلند ہونے کا ذکر خود رحمٰن نے فرمایا اور جسے قیامت کے دن تمام لوگوں کے اوپر آٹھ فرشتوں کے اٹھانے کا ذکر قرآن کریم نے فرمایا ہے اور جس کے پایوں کا ذکر اس کے حبیب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے۔ [ فَنَعُوْذُ باللّٰہِ مِنْ ھٰذِہِ الْأَھْوَاءِ الْمُضِلَّۃِ وَالْعَقَاءِدِ الْبَاطِلَۃِ وَ خُذْلَانِ رَحْمَۃِ اللّٰہِ تَعَالٰی ] مزید دیکھیے سورة اعراف (٥٤) ، حاقہ (١٧) اور سورة فجر (٢٢) مفسر جمال الدین قاسمی لکھتے ہیں : ” فلکیات کے جدید ماہرین کی تحقیق سے ثابت ہوچکا ہے کہ عرش ایک حقیقی وجود ہے جس کا باقاعدہ جسم ہے، کائنات کے جتنے عالم ہیں وہ سب کا مرکز ہے، یعنی جذب، تاثیر، تدبیر اور نظام سب کا مرکز ہے (تمام کہکشائیں جن کا ایک ایک سیارہ سورج سے بھی ہزاروں گنا بڑا ہے، اسی کے گرد گردش کر رہی ہیں اور اس کے انکار یا تاویل کی گنجائش ہی نہیں) ۔ “ اس کی مثال ایسے ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان ” کہ ہم انصاف کے ترازو قیامت کے دن رکھیں گے “ کے متعلق جب عقل پرستوں کی عقل میں یہ بات نہ آسکی کہ اعراض کا وزن کیسے ہوگا تو انھوں نے وزن اعمال کا انکار کردیا، یا تاویل کردی۔ جب کہ جدید ایجادات میں تقریباً ہر چیز کا میٹر تیار ہوچکا ہے، بجلی، بخار، حرارت، سردی، کثافت، نمی، خشکی غرض بیشمار اعراض کے ماپنے تولنے کے پیمانے وجود میں آ چکے ہیں جن کی وجہ سے عقل پرستوں کے انکار اور تاویل کا تاروپود بکھر چکا ہے۔ 3 اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے زمین پر قرآن نازل فرمایا، اس لیے پہلے اس کا ذکر فرمایا، پھر بلند آسمان کا، پھر رحمٰن کے عرش پر ہونے کا کہ دیکھو یہ رحمت کہاں سے نازل ہوئی اور کس عظیم شخصیت پر نازل ہوئی۔ اس میں قرآن کی رفعت و عظمت کا بھی بیان ہے اور صاحب قرآن کی عظمت کا بھی۔ مزید آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اور آپ کی امت کو اس نعمت کی قدر کا احساس دلانا بھی ہے اور کفار کی طرف سے پیش آنے والی مزاحمت اور مصائب و تکالیف کے مقابلے میں تسلی اور خوش خبری بھی کہ اس رحمٰن کی پشت پناہی حاصل ہونے کے بعد تمہیں کس بات کی پروا ہے۔ اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر تفصیل سے کیا کہ انبیاء اور ان کے ساتھیوں کو اللہ تعالیٰ کی نصرت و تائید کس کس طرح حاصل ہوتی ہے اور انھیں کیا کیا آزمائشیں پیش آتی ہیں۔
عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَىٰ (Positioned Himself on the Throne - 20:5): About these words the truth is what the majority of the early scholars have held that the exact nature of &Istiwa|" (positioning) is not known to anybody. It is included in &Mutashabihat& (the verses meaning of which is unknown). A Muslim has to believe that Istiwa’ ‘Ala-Al-` Arsh& (positioning on the Throne) is true, the nature of which must be in accordance with the high attributes of Allah, but nobody can comprehend it in this world.
عَلَي الْعَرْشِ اسْتَوٰى، استواء علی العرش کے متعلق صحیح بےغبار وہی بات ہے جو جمہور سلف صالحین سے منقول ہے کہ اس کی حقیقت و کیفیت کسی کو معلوم نہیں۔ متشابہات میں سے ہے۔ عقیدہ اتنا رکھنا ہے کہ استواء علی العرش حق ہے اس کی کیفیت اللہ جل شانہ کی شان کے مطابق و مناسب ہوگی جس کا ادراک دنیا میں کسی کو نہیں ہو سکتا۔
اَلرَّحْمٰنُ عَلَي الْعَرْشِ اسْتَوٰى ٥ رحم والرَّحْمَةُ رقّة تقتضي الإحسان إلى الْمَرْحُومِ ، وقد تستعمل تارة في الرّقّة المجرّدة، وتارة في الإحسان المجرّد عن الرّقّة، وعلی هذا قول النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم ذاکرا عن ربّه «أنّه لمّا خلق الرَّحِمَ قال له : أنا الرّحمن، وأنت الرّحم، شققت اسمک من اسمي، فمن وصلک وصلته، ومن قطعک بتتّه» ( ر ح م ) الرحم ۔ الرحمۃ وہ رقت قلب جو مرحوم ( یعنی جس پر رحم کیا جائے ) پر احسان کی مقتضی ہو ۔ پھر کبھی اس کا استعمال صرف رقت قلب کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی صرف احسان کے معنی میں خواہ رقت کی وجہ سے نہ ہو ۔ اسی معنی میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک حدیث قدسی میں فرمایا ہے (152) انہ لما خلق اللہ الرحم قال لہ انا الرحمن وانت الرحم شفقت اسمک میں اسمی فمن وصلک وصلتہ ومن قطعت قطعتۃ ۔ کہ جب اللہ تعالیٰ نے رحم پیدا کیا تو اس سے فرمایا :۔ تین رحمان ہوں اور تو رحم ہے ۔ میں نے تیرے نام کو اپنے نام سے اخذ کیا ہے ۔ پس جو تجھے ملائے گا ۔ ( یعنی صلہ رحمی کرے گا ) میں بھی اسے ملاؤں گا اور جو تجھے قطع کرلیگا میں اسے پارہ پارہ کردوں گا ، ، عرش العَرْشُ في الأصل : شيء مسقّف، وجمعه عُرُوشٌ. قال تعالی: وَهِيَ خاوِيَةٌ عَلى عُرُوشِها[ البقرة/ 259] والعَرْشُ : شبهُ هودجٍ للمرأة شبيها في الهيئة بِعَرْشِ الکرمِ ، وعَرَّشْتُ البئرَ : جعلت له عَرِيشاً. وسمّي مجلس السّلطان عَرْشاً اعتبارا بعلوّه . قال : وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ [يوسف/ 100] ( ع رش ) العرش اصل میں چھت والی چیز کو کہتے ہیں اس کی جمع عروش ہے ۔ قرآن میں ہے : وَهِيَ خاوِيَةٌ عَلى عُرُوشِها[ البقرة/ 259] اور اس کے مکانات اپنی چھتوں پر گرے پڑے تھے ۔ العرش چھولدادی جس کی ہیت انگور کی ٹٹی سے ملتی جلتی ہے اسی سے عرشت لبئر ہے جس کے معنی کو یں کے اوپر چھولداری سی بنانا کے ہیں بادشاہ کے تخت کو بھی اس کی بلندی کی وجہ سے عرش کہاجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ [يوسف/ 100] اور اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا ۔ استوا أن يقال لاعتدال الشیء في ذاته، نحو : ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى[ النجم/ 6] ( س و ی ) المسا واۃ کسی چیز کے اپنی ذات کے اعتبار سے حالت اعتدال پر ہونے کے لئے بولا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى[ النجم/ 6] یعنی جبرائیل ) طاقتور نے پھر وہ پورے نظر آئے
خدا کا استوا علی العرش ہونا قول باری ہے (الرحمٰن علی العرش استوی۔ وہ رحمٰن (کائنات کے) تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہے) حسن کا قول ہے کہ اپنے لطف و تدبیر کے ساتھ جلوہ فرما ہے۔ ایک قول کے مطابق غلبہ حاصل کئے ہوئے ہے۔ قول باری ہے (فانہ یعلم السرا واخفیٰ ۔ وہ چپکے سے کہی ہوئی بات بلکہ اس سے بھی مخفی تر بات بھی جانتا ہے) ابن عباس کا قول ہے کہ سر اس بات کو کہتے ہیں جو بندہ چپکے چپکے دوسرے سے کہے اور اس سے زیادہ مخفی بات وہ ہے جو بندہ اپنے دل میں چھپائے رکھے اور کسی سے اس کا اظہار نہ کرے۔ سعید بن جبیر اور قتادہ کا قول ہے کہ سر اس بات کو کہتے ہیں جو بندہ اپنے دل میں چھپائے رکھتا ہے اور اس سے مخفی تر بات وہ ہے جو سرے سے ہوتی نہیں اور نہ ہی کوئی شخص اپنے دل میں اسے چھپائے رکھتا ہے۔
(٥) اور وہ بڑی رحمت والا عرش پر براجمان ہوا یعنی اس کا تخت شاہی سب پر بھاری ہے یا یہ کہ اس کی حقیقت کسی کو معلوم نہیں۔
2. That is, after creating the universe, He is ruling over it and conducting all the affairs of its management.
سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :2 یعنی پیدا کرنے کے بعد کہیں جا کر سو نہیں گیا ہے بلکہ آپ اپنے کارخانۂ تخلیق کا سارا انتظام چلا رہا ہے ، خود اس ناپیدا کنار سلطنت پر فرمانروائی کر رہا ہے ، خالق ہی نہیں ہے بالفعل حکمراں بھی ہے ۔
4: اس کی تشریح پیچھے سورۃ اعراف : 54 کے حاشیے میں گذر چکی ہے۔
٥:۔ سورة آل عمران میں بیان ہوچکا ہے کہ اس طرح کی متشابہت آیتوں میں سلف کا مذہب یہی ہے کہ ایسی آیتوں کے ظاہر معنے پر ایمان لانا چاہیے اور ان کی تفصیلی کیفیت اللہ کے علم پر سونپنی چاہیے بعضے مفسروں نے آیت کے یہ معنے جو کیے معنے کے اور جس قدر تاویلی معنی مفسرین متاخرین نے کیے ہیں وہ سب سلف کے مخالف ہیں اور تفسیر قرآن میں جس قدر سلف کی مخالفت مضر اور ان کے پیروی ضرور ہے وہ ہر ایک مسلمان کو خوب معلوم ہے کیونکہ تفسیر قرآن اور روایت حدیث کے باب میں یہ صحیح حدیثوں سے ثابت ہوچکا ہے کہ جو کوئی بغیر نقل شرعی کے اس باب میں اپنی رائے اور عقل کو دخل دے گا اس کا ٹھکانا دوزخ ہے تو پھر بغیر اس کے چارہ نہیں ہے کہ متشابہ آیتوں کی تفسیر میں صحابہ تابعین نے جو طریقہ اختیار کیا ہے وہی طریقہ اختیار کیا جائے تاکہ مخالفت سلف میں عقل اور رائے کا دخل تفسیر قرآن میں ہو کر حدیث کی وعید میں آدمی گرفتار نہ ہوجائے ترمذی ابوداؤد ابن ماجہ اور مسند امام احمد بن حنبل میں یہی وعید کی حدیث چند صحابہ کی روایت سے آئی ہے ١ ؎۔ جس کا حاصل یہی ہے کہ تفسیر قرآن روایت حدیث میں جو کوئی عقل کو کام میں لائے گا اس کا ٹھکانہ جہنم ہے حاصل کلام یہ ہے کہ جب حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) اور عبد اللہ بن عباس (رض) اور چند صحابہ (رض) سے متشابہ آیتوں کے باب میں یہی صراحت آچکی ہے کہ سوائے اللہ کے ان کے معنیٰ کوئی نہیں جانتا جو ان کے معنے جاننے کا دعویٰ کرے وہ نازیبا ہے کیونکہ صحیحین کی حضرت عائشہ (رض) کی حدیث میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے متشابہ آیتوں کی تاویل سے منع فرمایا ہے ٢ ؎۔ کہ جس کو تاویل کرتے دیکھو اس کو ڈرا دو اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ تاویل کا طریقہ بڑے خوف کی چیز ہے حاصل مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ جس طرح سے عرش پر ہونا اللہ تعالیٰ کی شان کے مناسب ہے اسی طرح بلا مشابہت دنیا کے بادشاہوں کے اللہ تعالیٰ جل شانہ ‘ عرش پر ہے جس کی تفصیلی کیفیت اللہ ہی کو معلوم ہے حاصل کلام یہ ہے کہ حاضر پر غائب کو قیاس کیا جاکر دین میں کوئی بات کہی جائے تو اس میں غلطی کا گمان باقی رہ جاتا ہے اس واسطے تمام سلف نے متشابہ آیتوں کے معنے میں اس طریقہ کو پسند نہیں کیا بلکہ اسی طریقہ کو پسند کیا ہے جو اوپر بیان کیا گیا۔ ١ ؎ مشکوٰۃ ص ٣٥ کتاب العلم۔ ٢ ؎ تفسیر ہذاج ١ ص ٢٢٢۔
(20:5) الرحمن۔ ای ھو الرحمن۔ استوی۔ وہ ٹھہرا۔ اس نے قصد کیا۔ اس نے قرار پکڑا۔ وہ قائم ہوا۔ وہ سنبھل گیا۔ وہ چڑھا۔ وہ سیدھا ہوا۔ استواء (استفعال) مصدر۔ استواء کے جب دو فاعل ہوں تو اس کے معنی دونوں کے مساوی اور برابر ہونے کے ہوتے ہیں۔ جیسے لا یستوی اصحب النار واصحب الجنۃ (59:20) دوزخ کے لوگ اور جنت کے لوگ برابر نہیں۔ استوی علی العرش۔ یعنی تخت حکومت پر اس طرح قابض ومتمکن ہے کہ اس کا کوئی حصہ یا کوئی گوشہ اس کے حیطہ اقتدار سے باہر نہیں اور اس کے قبضہ و تسلط میں نہ کوئی مزاحمت ہے نہ کوئی گڑ بڑ۔ سب کام و انتظام بدرجہ اتم درست ہے۔ عرش کے معنی تخت اور بلند مقام کے ہیں۔
ف 6 اس آیت کا صحیح ترجمہ ہے ” اللہ تعالیٰ فرش کے اوپر بلند ہوا۔ “ کیونکہ محاورہ میں استوی علی کذا کے یعنی معنی ہوتے ہیں۔ واضح رہے کہ اس مضمون کی آیات اور احادیث صحیحہ کی رو سے اللہ تعالیٰ کے ساری مخلوق سے الگ اور عرش معلی کے اوپر ہونے کا عقیدہ ضروری ہے مگر اس کی کیفیت سے بحث بدعت اور گمراہی ہے۔ یہی ائمہ حدیث اور سلف کا مسلک ہے۔ دیکھیے سورة اعراف آی 54
1۔ یعنی تخت سلطنت پر۔ عرش حسب روایات و آیات ایک جسم عظیم ہے آسمانوں اور کرسی کے علاوہ اور ان سب کے اوپر مثل قبہ کے، اور ران سب سے بڑا اس کے پائے بھی ہیں، اور فرشتے اس کو اٹھائے ہوئے ہیں، اور وہ ساکن ہے، احیانا اس کو حرکت ہوجاتی ہے۔
الرحمن علی العرش استوی (٠٢ : ٥) ” رحمن کا ئنات کے تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہے “۔ استوائے عرش کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کا اس کائنات پر پوری طرح کنٹرول ہے اور یہ اس کی مکمل گرفت میں ہے۔ لہٰذا لوگوں کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے ‘ رسول کا کام صرف یہ ہے کہ جو ڈرتا ہے اسے ڈرائے۔ اس کائنات پر مکمل کنٹرول اور گرفت کے ساتھ ساتھ لہ ما فی السموت۔۔۔۔۔۔۔ وما تحت الشری (٠٢ : ٦) ” وہ مالک ہے ان سب چیزوں کا جو آسمان و زمین میں ہیں اور جو مٹی کے نیچے ہیں “۔ یہ کائناتی مناظر یہاں اس لئے دیئے گئے کہ اللہ کی ملکیت اور اس کی قدرت کو اس طرح پیش کیا جائے کہ یہ انسانی تصور کے قریب تر ہوجائیں جبکہ اللہ کی ملکیت اور اس کی ضرورت کا تصور اس سے عظیم تر ہے۔ زمین اور آسمانوں اور مٹی کے نیچے کا ذکر محض اس لئے کیا گیا ہے کہ عوام اس بات کو اچھی طرح سمجھ جائیں کہ اللہ کی گرفت میں جو کائنات ہے اس کی وسعت کا ادراک آہستہ آہستہ وسیع ہو رہا ہے اور بہت بڑا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ خطاب اس لیے کیا جارہا ہے کہ آپ کا دل مطمئن ہوجائے اور وہ یہ سمجھ لیں کہ رب ان کے ساتھ ہے۔ رب تعالیٰ ان کو اکیلا نہیں چھوڑتا کہ وہ تکالیف منصب نبوت کی وجہ سے مشقت میں پڑجائیں۔ کافروں کا مقابلہ آپ بلا سند نہیں کررہے ‘ اگر آپ اللہ کو جہراً پکاریں تو بھی حرج نہیں لیکن اللہ سراً اور جہراً دونوں پکارنے والوں کو جانتا ہے۔ انسانی دل و دماغ اور شعور میں جب یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ اللہ اس کے قریب ہے ‘ اور اس کی دلی دنیا سے بھی واقف ہے تو انسان مطمئن ہوجاتا ہے اور راضی برضا ہوتا ہے۔ پھر وہ اس قرآن کو پڑھ کر مطمئن ہوجاتا ہے اور وہ جھٹلا نے ولے مخالفوں کے درمیان تنہائی محسوس نہیں کرتا اور وہ مخالفین کے درمیان اپنے آپ کو یکہ و تنہا بھی محسوس نہیں کرتا۔ یہ ابتدائی آیات ‘ جو تمہیدی بھی ہیں ‘ اس اعلان پر ختم ہوتی ہیں کہ اللہ وحدہ لاشریک ہے اور کائنات اس کے کنٹرول میں ہے۔ وہ اس کائنات کا مالک ہے اور اس کائنات کے بارے میں پوری پوری خبرداری اسے حاصل ہے۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ شروع ہوتا ہے۔ یہ قصہ نمونہ ہے اس بات کا کہ اللہ اپنے داعیوں کی حفاظت اور حمایت کس طرح کرتا ہے۔ نبیوں اور رسولوں کے جو قصص قرآن مجید میں وارد ہوئے ہیں ‘ فرعون اور موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ ان سب کے مقابلے میں قرآن مجید کے اندر زیادہ جگہ لیتا ہے۔ اس قصے کی مختلف کڑیاں قرآن مجید کی مختلف سورتوں میں آتی ہیں۔ ان کڑیوں کا انتخاب ہر سورة کے مضمون اور موضوع کی مناسبت سے کیا جاتا ہے اور اس کا انداز بیان بھی اسی رنگ میں ہوتا ہے جس رنگ میں پوری سورة کا انداز بیان ہوتا ہے۔ اس سے قبل اس قصے کی کچھ کڑیاں ‘ سورة بقرہ ‘ سورة مائدہ ‘ سورة اعراف ‘ سورة یونس ‘ سورة اسرائ ‘ سورة کہف میں آچکی ہیں اور دوسری سورتوں میں بھی اس قصے کی طرف اشارات موجود ہیں۔ مائدہ میں جو کچھ آیا وہ صرف ایک کڑی ہے یعنی یہ کڑی کہ بنی اسرائیل جب بیت المقدس میں آئے تو یہ لوگ شہر کے باہر کھڑے ہوگئے اور شہر کے اندر داخل ہونے سے رک گئے ‘ اس لئے کہ اس شہر میں ایک جبار قوم رہتی ہے۔ سورة کہف میں بھی اس کی ایک ہی کڑی ہے ‘ یعنی حضرت موسیٰ اور عبد صالح کے ساتھ ان کی ملاقات اور مختصر صحبت۔ بقرہ ‘ اعراف ‘ یونس اور طہ میں قصہ موسیٰ و فرعون کی گئی کڑیاں آئی ہیں لیکن ان میں سے بھی مختلف سورتوں میں آنے والی کڑیاں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ جس طرح اس قصے کی کڑیاں مختلف ہیں۔ اسی طرح مختلف سورتوں میں ان کڑیوں کے مختلف پہلو موقع و مناسبت سے مختلف دیئے گئے ہیں اور انداز بیان بھی مختلف ہے۔ سورة بقرہ میں جب یہ قصہ آیا تو اس سے قبل قصہ آدم و ابلیس تھا اور اس میں آدم (علیہ السلام) کو عالم بالا میں اعزاز بخشا گیا تھا۔ آدم (علیہ السلام) کو خلافت ارضی سپرد کی گئی تھی اور آدم کو معاف کر کے ان پر رحمت خداوندی کا نزول ہوا تھا۔ اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کے واقعات بیان ہوئے ‘ یہ یاد دلانے کے لئے کہ اے بنی اسرائیل ذرا غور کرو تم پر اللہ نے کیسی کیسی مہربانیاں کیں۔ تمہارے ساتھ عہد کیا ‘ تمہیں فرعون اور اس کی قوم سے نجات دی۔ تمہیں صحرا میں پانی پلایا اور تمہارے لئے پتھروں سے چشمے نکالے ‘ تمہیں صحرا میں من وسلوی کی شکل میں کھانا فراہم کیا۔ پھر موسٰی (علیہ السلام) کی ہمارے ساتھ ملاقات اور ہم کلامی کا وقت آیا اور پیچھے سے تم نے بچھڑے کی پوجا شروع کردی لیکن اللہ نے تمہیں پھر بھی معاف کردیا۔ پہاڑ کے نیچے تم سے عہد لیا۔ پھر سبت کے معاملے میں تم نے حد سے تجاوز کیا۔ اور پھر گائے کے ذبح کرنے کا قصہ تو عجیب تر ہے۔ اعراف میں اس قصے سے پہلے یہ بتایا گیا ہے کہ مکذبین پر اللہ کا عذاب حضرت موسیٰ سے قبل کیسے کیسے آیا۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ کا قصہ آیا۔ پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت کی تقریب ہے۔ اس کے بعد معجزات عصا ’‘ ید بیضا ‘ طوفان ‘ ٹڈی دل ‘ جو میں اور مینڈک اور خون ‘ اور اس کے بعد جادو گروں کے ساتھ مقابلہ ‘ اور فرعون کا بھی اسی طرح خاتمہ جس طرح پہلے کے مکذبین کا ہوا تھا۔ اس کے بعد وہ واقعہ کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی موجودگی میں انہوں نے پچھڑے کو خدا بنا لیا۔ اس کے بعد اس قصے کا خاتمہ اس پر ہوتا ہے کہ اللہ کی رحمت کی وراثت ان لوگوں کے لئے ہے جو نبی امی پر ایمان لے آئیں۔ سورة یونس میں جہاں یہ قصہ آیا ہے ‘ اس میں اس سے قبل ان اقوام کا ذکر ہے جو ہلاک کی گئیں۔ یہاں حضرت موسیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کی کڑی ‘ جادوگروں کے ساتھ مقابلے کی کڑی اور فرعون اور اس کی قوم کی ہلاکت کی کڑی بالتفصیل لائی گئی ہے۔ ہاں سورة طہ میں سورة کا آغاز ہی اس بات سے ہوتا ہے کہ اللہ جن لوگوں کو رسول بنا کر بھیجتا ہے ان پر اس کی رحمت ہوتی ہے۔ اور وہ اللہ کی پناہ میں ہوتے ہیں اور ان پر رحمتوں کی بارش ہوتی ہے۔ چناچہ قصے کا آغاز اس منظر سے ہوتا جس میں حضرت موسیٰ طور پر رب ذوالجلال سے ہم کلام ہیں ‘ اس کے بعد اس میں وہ مناظرآتے ہیں جن میں صاف نظر آتا ہے کہ حضرت موسیٰ اللہ کی پناہ میں ہیں اور تائید ایز دی ان کی پشت پر ہے ۔ بچپن میں میں ہی رحمت ان کے شامل حال رہی اور ان کی پرورش اور نگرانی ہوتی رہی۔ والقیت۔۔۔۔۔۔۔۔ علی عینی (٠٢ : ٩٣) ” اور میں نے اپنی طرف سے تجھ پر محبت طاری کردی اور ایسا انتظام کیا کہ تو میری نگرانی میں پالاجائے “۔ وھل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علی النار ھدی (٩ : ٠١) ” اور تمہیں کچھ موسیٰ ؐ کی خبر بھی پہنچی ہے ؟ جب کہ اس نے ایک آگ دیکھی اور اپنے گھر والوں سے کہا کہ ” ذرا ٹھہرو ‘ میں نے ایک آگ دیکھی ہے۔ شاید کہ تمہارے لئے ایک آدھ انگارا لے آئوں ‘ یا اس آگ پر مجھے (راستے کے متعلق ) کوئی رہنمائی مل جائے ؟ “ کیا تمہیں موسیٰ ؐ کی کہانی معلوم ہے۔ اس کہانی سے یہ بات پوری طرح عیاں ہے کہ اللہ جن لوگوں کو منصب رسالت عطا کرتا ہے وہ ان لوگوں کو اپنی خاص پناہ میں رکھتا ہے اور ان کو بروقت ہدایت دیتارہتا ہے۔
5 وہ بےحد مہربان اور عرش پر اپنی شان کے لائق قائم اور جلوہ گر ہے۔ یعنی عرش سے جملہ امور کی تدبیر فرماتاے۔ عرش ایک جسم عظیم ہے جو تمام آسمانوں پر ایک قبہ کی طرح ہے تمام آسمان اور کرسی اس کے نیچے ہیں وہ تمام آسمان و کرسی سے بڑا ہے اس کے پایوں کو فرشتے اٹھائے ہوئے ہیں۔ وہ چار فرشتے ہیں۔ احادیث میں ان کی تسبیح بھی منقول ہے دو فرشتوں کی تسبیح یہ ہے۔ سبحانک الھھم وبحمدک للک الحمد علی حلبک بعد علمک اور دو فرشتوں کی تسبیح یہ ہے سبحانک اللھم وبحمدک لک الحمد علی عفوک بعد قدربک ۔