Surat Tahaa

Surah: 20

Verse: 87

سورة طه

قَالُوۡا مَاۤ اَخۡلَفۡنَا مَوۡعِدَکَ بِمَلۡکِنَا وَ لٰکِنَّا حُمِّلۡنَاۤ اَوۡزَارًا مِّنۡ زِیۡنَۃِ الۡقَوۡمِ فَقَذَفۡنٰہَا فَکَذٰلِکَ اَلۡقَی السَّامِرِیُّ ﴿ۙ۸۷﴾

They said, "We did not break our promise to you by our will, but we were made to carry burdens from the ornaments of the people [of Pharaoh], so we threw them [into the fire], and thus did the Samiri throw."

انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے اپنے اختیار سے آپ کے ساتھ وعدے کا خلاف نہیں کیا بلکہ ہم پر زیورات قوم کے جو بوجھ لاد دیئے گئے تھے ، انہیں ہم نے ڈال دیا ، اور اسی طرح سامری نے بھی ڈال دیئے ۔

Word by Word by

Dr Farhat Hashmi

قَالُوۡا
انہوں نے کہا
مَاۤ
نہیں
اَخۡلَفۡنَا
خلاف کیا ہم نے
مَوۡعِدَکَ
تیرے وعدے کے
بِمَلۡکِنَا
اپنے اختیار سے
وَلٰکِنَّا
بلکہ ہم
حُمِّلۡنَاۤ
اٹھوائے گئے ہم
اَوۡزَارًا
بوجھ
مِّنۡ زِیۡنَۃِ
زیور میں سے
الۡقَوۡمِ
لوگوں کے
فَقَذَفۡنٰہَا
تو پھینک دیا ہم نے انہیں
فَکَذٰلِکَ
پھر اسی طرح
اَلۡقَی
ڈال دیا
السَّامِرِیُّ
سامری نے
Word by Word by

Nighat Hashmi

قَالُوۡا
انہوں نے کہا
مَاۤ اَخۡلَفۡنَا
نہیں خلاف کیا ہم نے
مَوۡعِدَکَ
آپ کے وعدے کے
بِمَلۡکِنَا
اپنے اختیار سے
وَلٰکِنَّا
اور بلکہ ہم
حُمِّلۡنَاۤ
لاد دیے گئے
اَوۡزَارًا
بوجھ
مِّنۡ زِیۡنَۃِ
زیورات سے
الۡقَوۡمِ
قوم کے
فَقَذَفۡنٰہَا
تو پھینک دیا ہم نے ان کو
فَکَذٰلِکَ
پھر اسی طرح
اَلۡقَی
ڈالا
السَّامِرِیُّ
سامری نے
Translated by

Juna Garhi

They said, "We did not break our promise to you by our will, but we were made to carry burdens from the ornaments of the people [of Pharaoh], so we threw them [into the fire], and thus did the Samiri throw."

انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے اپنے اختیار سے آپ کے ساتھ وعدے کا خلاف نہیں کیا بلکہ ہم پر زیورات قوم کے جو بوجھ لاد دیئے گئے تھے ، انہیں ہم نے ڈال دیا ، اور اسی طرح سامری نے بھی ڈال دیئے ۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

وہ کہنے لگے : ہم نے کچھ اپنے اختیار سے آپ سے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کی بلکہ (قبطی) قوم کے زیورات ہم پر لاد دیئے گئے تھے جنہیں ہم نے (آگ میں) ڈال دیا۔ پھر اسی طرح سامری نے بھی زیور (آگ میں) ڈال دیا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اُنہوں نے کہا :ہم نے اپنے اختیارسے آپ کے ساتھ وعدہ خلافی نہیں کی بلکہ قوم کے زیورات کے بوجھ ہم پرلاددیے گئے توہم نے انہیں پھینک دیا،پھر اسی طرح سامری نے بھی کچھ ڈالا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

They said, |"We did not back out, of our own volition, of the promise made to you, but we were burdened with loads from the ornaments of the people; so we threw them and so did throw Samiri.|"

بولے ہم نے خلاف نہیں کیا تیرا وعدہ اپنے اختیار سے، لیکن اٹھوایا ہم سے بھاری بوجھ قوم فرعون کے زیور کا سو ہم نے اس کو پھینک دیا، پھر اس طرح ڈھالا سا مری نے

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے آپ کے وعدے کی خلاف ورزی اپنے اختیار سے نہیں کی بلکہ ہم پر بوجھ تھا اس قوم کے زیورات کا تو ہم نے وہ پھینک دیے اور اسی طرح سامری نے بھی کچھ پھینکا

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

انہوں نے جواب دیا ” ہم نے آپ سے وعدہ خلافی کچھ اپنے اختیار سے نہیں کی ، معاملہ یہ ہوا کہ لوگوں کے زیورات کے بوجھ سے ہم لد گئے تھے اور ہم نے بس ان کو پھینک دیا تھا ” 67 ۔ ۔ ۔ ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

کہنے لگے : ہم نے اپنے اختیار سے آپ کے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کی ، بلکہ ہوا یہ کہ ہم پر لوگوں کے زیورات کے بوجھ لدے ہوئے تھے ، اس لیے ہم نے انہیں پھینک دیا ۔ ( ٣٥ ) پھر اسی طرح سامری نے کچھ ڈالا ( ٣٦ )

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

وہ کہنے لگے ہم نے اپنے اختیار سے تیرا وعدہ خلاف نہیں کیا بلکہ ہوا یہ کہ فرعن والوں کے زیور کے بوجھ (مصر سے بھاگتے وقت) ہم پر لاد دیئے گئے تھے (یا ہم نے اٹھا لیء تے، تو ہارون کی صلاح سے ہم نے ان کو (آگ میں) ڈال دیا اسی طرح 1 سامری نے بھی ڈالا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

وہ کہنے لگے ہم نے آپ سے جو وعدہ کیا تھا اس کے خلاف اپنے اختیار سے نہیں کیا و لیکن قوم (قبط) کے زیور سے ہم بوجھ اٹھائے ہوئے تھے سو اس کو ہم نے (سامری کے کہنے پر آگ میں) ڈال دیا پھر ایسے ہی سامری نے بھی ڈال دیا

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

انہوں نے کہا ہم نے اپنے اختیار سے تمہارے ساتھ وعدہ خلافی نہیں کی بلکہ ہمارے اوپر (قوم فرعون کے) زیور کا بوجھ لدا ہوا تھا جس کو ہم نے پھینک دیا تھا۔ پھر اسی طرح سامری نے بھی کچھ ڈالا

Translated by

Fateh Muhammad Jalandhari

وہ کہنے لگے کہ ہم نے اپنے اختیار سے تم سے وعدہ خلاف نہیں کیا۔ بلکہ ہم لوگوں کے زیوروں کا بوجھ اٹھائے ہوئے تھے۔ پھر ہم نے اس کو (آگ میں) ڈال دیا اور اسی طرح سامری نے ڈال دیا

Translated by

Abdul Majid Daryabadi

They said: we failed not to keep thy appointment of our own authority, but we were laden with burthens of the people's ornaments; then we threw them, and Thus Samiri cast down.

وہ بولے ہم نے آپ سے جو وعدہ کیا اس کی خلاف ورزی اپنی خوشی سے نہیں کی البتہ ہوا یہ کہ ہم پر قوم (قبط) کے زیوروں سے بوجھ لد رہا تھا سو ہم نے اسے ڈال دیا ۔ پھر اسی طرح سامری نے بھی ڈال دیا ۔

Translated by

Amin Ahsan Islahi

انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے آپ سے کیے ہوئے عہد کی خلاف ورزی اپنی مرضی سے نہیں کی ۔ بلکہ قوم کے زیورات کا بوجھ ہمارے حوالہ کیا گیا تھا ، ہم نے اس کو پھینک دیا اور اس طرح سامری نے ڈھال کر پیش کردیا ۔

Translated by

Mufti Naeem

وہ لوگ کہنے لگے کہ ہم نے اپنے اختیار سے آپ سے وعدہ خلافی نہیں کی ، اور لیکن ( بات یہ ہوئی کہ ) ہم نے لوگوں ( قوم فرعون ) کے زیورات کا بوجھ اُٹھایا ہوا تھا پھر ہم نے ان کو ( آگ میں ) ڈال دیا ، پھر اسی طرح سامری نے ( بھی ) ڈال دیا ۔

Translated by

Muhtrama Riffat Ijaz

وہ کہنے لگے کہ ” ہم نے جان کر تم سے وعدہ خلافی نہیں کی بلکہ ہم لوگوں کے زیورات کا بوجھ اٹھائے ہوئے تھے پھر ہم نے اس کو آگ میں ڈال دیا اور اسی طرح سامری نے ڈال دیا۔

Translated by

Mulana Ishaq Madni

کہنے لگے ہم نے آپ سے وعدہ خلافی کچھ اپنے اختیار سے نہیں کی، بلکہ (ہوا یہ کہ) ہم پر اس قوم کے زیورات کا بوجھ ڈال دیا گیا تھا، تو ہم نے اسے پھینک دیا، پھر اسی طرح سامری نے بھی کچھ ڈال دیا،

Translated by

Noor ul Amin

وہ کہنے لگے:ہم نے اپنے اختیار سے آ پ کے ساتھ وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کی بلکہ ( قطبی ) قوم کے زیورات ہم پر لاددیئے گئے تھے جنہیں ہم نے ( آ گ میں ) ڈال دیا پھراس طرح سامری نے بھی ( زیور ) ڈال دیا

Kanzul Eman by

Ahmad Raza Khan

بولے ہم نے آپ کا وعدہ اپنے اختیار سے خلاف نہ کیا لیکن ہم سے کچھ بوجھ اٹھوائے گئے اس قوم کے گہنے کے ( ف۱۲۷ ) تو ہم نے انھیں ( ف۱۲۸ ) ڈال دیا پھر اسی طرح سامری نے ڈالا ( ۱۲۹ )

Translated by

Tahir ul Qadri

وہ بولے: ہم نے اپنے اختیار سے آپ کے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کی مگر ( ہوا یہ کہ ) قوم کے زیورات کے بھاری بوجھ ہم پر لاد دیئے گئے تھے تو ہم نے انہیں ( آگ میں ) ڈال دیا پھر اسی طرح سامری نے ( بھی ) ڈال دیئے

Translated by

Hussain Najfi

قوم نے کہا کہ ہم نے اپنے اختیار سے تو آپ سے وعدہ خلافی نہیں کی ( البتہ بات یوں ہوئی ) کہ ہمیں اس جماعت کے زیورات جمع کرکے لانے پر آمادہ کیا گیا اور یہ سامری ایک ( سنہرا ) بچھڑا نکال کر لایا ۔ جس سے گائے کی سی آواز نکلتی تھی ۔

Translated by

Abdullah Yousuf Ali

They said: "We broke not the promise to thee, as far as lay in our power: but we were made to carry the weight of the ornaments of the (whole) people, and we threw them (into the fire), and that was what the Samiri suggested.

Translated by

Muhammad Sarwar

They replied, "We did not go against our promise with you out of our own accord. We were forced to carry people's ornaments. We threw them away and so did the Samiri.

Translated by

Safi ur Rehman Mubarakpuri

They said: "We broke not the promise to you, of our own will, but we were made to carry the weight of the ornaments of the people, then we cast them, and that was what As-Samiri suggested."

Translated by

Muhammad Habib Shakir

They said: We did not break (our) promise to you of our own accord, but we were made to bear the burdens of the ornaments of the people, then we made a casting of them, and thus did the Samiri suggest.

Translated by

William Pickthall

They said: We broke not tryst with thee of our own will, but we were laden with burdens of ornaments of the folk, then cast them (in the fire), for thus As-Samiri proposed.

Translated by

Moulana Younas Palanpuri

उन्होंने कहा, "हम ने आप से किए हुए वादे के विरुद्ध अपने अधिकार से कुछ नहीं किया, बल्कि लोगों के ज़ेवरों के बोझ हम उठाए हुए थे, फिर हम ने उन को (आग में) फेंक दिया, सामरी ने इसी तरह प्रेरित किया था।"

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

وہ کہنے لگے ہم نے جو آپ سے وعدہ کیا تھا اس کو اپنے اختیار سے خلاف نہیں کیا (1) لیکن قوم (قبط) کے زیور میں سے ہم پر بوجھ لد رہا تھا سو ہم نے اس کو (سامری کے کہنے سے آگ میں) ڈال دیا پھر اسی طرح سامری نے (بھی) ڈال دیا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

” انہوں نے جواب دیا ہم نے اپنے اختیار سے آپ کے ساتھ وعدہ خلافی نہیں کی۔ دراصل لوگوں کے زیورات کے بوجھ سے ہم لد گئے تھے اور ہم نے ان کو پھینک دیا۔ (٨٧)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

انہوں نے جواب دیا ہم نے آپ سے وعدہ خلافی کچھ اپنے اختیار سے نہیں کی ، معاملہ یہ ہوا کہ لوگوں کے زیورات کے بوجھ سے ہم لد گئے تھے اور ہم نے بس ان کو پھینک دیا تھا۔ پھر اسی طرح سامری نے بھی کچھ ڈالا

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

وہ کہنے لگے کہ ہم نے جو آپ سے وعدہ کیا تھا اس کی خلاف ورزی اپنے اختیار سے نہیں کی، لیکن بات یہ ہے کہ ہم پر قوم کے زیوروں کے بوجھ لدے ہوئے تھے سو ہم نے ان کو ڈال دیا۔ پھر سامری نے اسی طرح ڈال دیا

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

بولے ہم نے خلاف نہیں کیا تیرا وعدہ اپنے اختیار سے لیکن اٹھوایا ہم نے بھاری بوجھ قوم فرعون کے زیور کا سو ہم نے اس کو پھینک دیا پھر اس طرح ڈھالا سامری نے

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

قوم کے لوگوں نے جواب دیا کہ ہم نے تجھ سے جو وعدہ کیا تھا اس کا خلاف اپنے اختیار سے نہیں کیا لیکن واقعہ یہ ہوا کہ قبطی قوم کے زیورات کا جو بوجھ ہم پر لدا ہوا تھا وہ زیورات ہم نے ڈال دیئے یعنی آگ میں پھر اسی طرح سامری نے بھی جو کچھ اس کے پاس تھا اسے آگ میں ڈال دیا ۔