Surat ul Anbiya

Surah: 21

Verse: 42

سورة الأنبياء

قُلۡ مَنۡ یَّکۡلَؤُکُمۡ بِالَّیۡلِ وَ النَّہَارِ مِنَ الرَّحۡمٰنِ ؕ بَلۡ ہُمۡ عَنۡ ذِکۡرِ رَبِّہِمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ ﴿۴۲﴾

Say, "Who can protect you at night or by day from the Most Merciful?" But they are, from the remembrance of their Lord, turning away.

ان سے پوچھئے کہ رحمٰن سے ، دن اور رات تمہاری حفاظت کون کر سکتا ہے؟ بات یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے رب کے ذکر سے پھرے ہوئے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

قُلْ مَن يَكْلَوُكُم بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مِنَ الرَّحْمَنِ ... Say: "Who can guard and protect you in the night or in the day from the Most Gracious!" means, other than the Most Gracious Himself. ... بَلْ هُمْ عَن ذِكْرِ رَبِّهِم مُّعْرِضُونَ Nay, but they turn away from the remembrance of their Lord. means, they do not recognize the blessings and favor of Allah towards them; they turn away from His signs and blessings.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

42۔ 1 یعنی تمہارے جو کرتوت ہیں، وہ تو ایسے ہیں کہ دن یا رات کی کسی گھڑی میں تم پر عذاب آسکتا ہے ؟ اس عذاب سے دن اور رات تمہاری کون حفاطت کرتا ہے ؟ کیا اللہ کے سوا بھی کوئی اور ہے جو عذاب الٰہی سے تمہاری حفاظت کرسکے ؟

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٨] یعنی ان کافروں کی کرتوتیں تو اس لائق ہیں کہ انھیں کسی وقت بھی رات کو یا دن کو اللہ کا عذاب آلے۔ یہ تو اللہ کی رحمت واسعہ اور اس کی خاص مہربانی ہے کہ لوگوں کی خطاؤں پر فوری گرفت نہیں کرتا۔ اور اگر اس کا عذاب آجائے تو ان کے پاس وہ کون سا ذریعہ ہے جس سے وہ اللہ کے عذاب سے بچ سکیں گے ؟ یا وہ کون سی ہستی ہے جو اللہ کے علاوہ انھیں عذاب سے بچا سکتی ہے۔ دراصل یہ اللہ کے قانون تدریح و امہال کا، جو لوگوں کے لئے سراسر رحمت ہے، مذاق اڑا رہے ہیں۔ حالانکہ انھیں چاہئے یہ تھا کہ ایسے مالک کے احسان مند ہوتے جو ان کی خطاؤں کے باوجود مہلت دیئے جاتا ہے۔ لیکن ان کی یہ حالت ہے کہ اس کا ذکر تک سننا بھی گوارا نہیں کرتے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قُلْ مَنْ يَّـكْلَـؤُكُمْ بالَّيْلِ ۔۔ :” کَلَأَ یَکْلَؤُ “ (ف) پہرا دینا، حفاظت کرنا۔ (قاموس) ” مِنَ الرَّحْمٰنِ “ سے مراد ” مِنْ أَمْرِ الرَّحْمَانِ “ یا ” مِنْ عَذَاب الرَّحْمٰنِ “ ہے۔ (طبری وغیرہ) پچھلی آیت میں رسولوں کا مذاق اڑانے والی گزشتہ اقوام کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے گھیر لینے کا ذکر تھا، اس آیت میں موجود کفار سے خطاب ہے کہ وہ کون ہے جو رات یا دن کسی وقت آنے والے رحمٰن کے عذاب سے تمہاری حفاظت کرتا ہے ؟ درحقیقت یہ سوال کفار کو لاجواب کرنے کے لیے ہے، کیونکہ اگر وہ اس کا جواب دیں تو انھیں ماننا پڑے گا کہ دن رات پیش آنے والی بیشمار آفات و مصائب سے اللہ تعالیٰ کے سوا نہ کوئی ان کی حفاظت کرتا ہے اور نہ بچا سکتا ہے، اس لیے وہ اس سوال کا جواب ہی نہیں دیں گے۔ ”ۭ بَلْ هُمْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهِمْ مُّعْرِضُوْنَ “ بلکہ وہ ایسا جواب دینے سے گریز ہی کریں گے جس میں ان کے رب کا ذکر آئے۔ (التسہیل) زمحشری نے فرمایا : ” بلکہ انھوں نے اپنے رب کے ذکر (یاد یا نصیحت) ہی سے منہ موڑ رکھا ہے، وہ اس کے عذاب سے کیا ڈریں گے۔ “ ابن کثیر (رض) نے ” مِنَ الرَّحْمٰنِ “ کا معنی ” بَدْلَ الرَّحْمَانِ “ فرمایا ہے، یعنی وہ کون ہے جو دن رات میں آنے والی بیشمار آفات سے رحمٰن کے بجائے تمہاری حفاظت کرتا ہو ؟ ظاہر ہے ایسا کوئی نہیں۔ ” الرَّحْمٰنِ “ کے لفظ میں اشارہ ہے کہ رات دن میں پیش آنے والی بیشمار آفات و حوادث سے تمام انسانوں حتیٰ کہ کفار کی بھی ایک وقت تک حفاظت کرنا اللہ تعالیٰ کی صفت رحمت کا نتیجہ ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهٖ يَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ ) [ الرعد : ١١ ] ” اس کے لیے اس (انسان) کے آگے اور اس کے پیچھے یکے بعد دیگرے آنے والے کئی پہرے دار ہیں، جو اللہ کے حکم (یعنی عذاب اور دوسری آفات) سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ “ ”ۧقُلْ مَنْ يَّـكْلَـؤُكُمْ “ میں کفار کو مخاطب فرمایا، پھر نفرت کے اظہار کے لیے انھیں غائب کے صیغے سے ذکر فرمایا کہ ” بَلْ هُمْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهِمْ مُّعْرِضُوْنَ “ یعنی یہ خطاب کے قابل ہی نہیں۔ اسے التفات کہتے ہیں، اس کی ایک اور مثال کے لیے دیکھیے سورة یونس (٢٢) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قُلْ مَنْ يَّـكْلَـؤُكُمْ بِالَّيْلِ وَالنَّہَارِ مِنَ الرَّحْمٰنِ۝ ٠ۭ بَلْ ہُمْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّہِمْ مُّعْرِضُوْنَ۝ ٤٢ كلأ الْكِلَاءَةُ : حفظ الشیء وتبقیته، يقال : كَلَأَكَ الله، وبلغ بك أَكْلَأَ العُمرِ ، واكْتَلَأْتُ بعیني كذا . قال : قُلْ مَنْ يَكْلَؤُكُمْ الآية [ الأنبیاء/ 43] . والْمُكَلَّأُ : موضع تحفظ فيه السُّفُنُ ، والْكَلَّاءُ : موضع بالبصْرَةِ ، سمّي بذلک لأنهم يَكْلَئُونَ سفنهم هناك، وعبّر عن النّسيئة بِالْكَالِئِ. وروي أنه عليه الصلاة والسلام : «نهى عن الْكَالِئِ بالکالئ» «3» . والْكَلأُ : العِشْبُ الذي يحفظ . ومکان مُكْلَأٌ وكَالِئٌ: يكثر كَلَؤُهُ ( ک ل ء ) الکلاء ۃ کے معنی کسی چیز کی حفاظت کرنے اور اسے رکھنے کے ہیں ۔ چناچہ محاورہ ہے ۔ کلاک اللہ ۔ اللہ تعالیٰ تمہیں محفوظ رکھے وبلغ بک اکلاء العمر انتہائی عمر تک بحفاظت پہنچائے ۔ اکتلات بعینی کنا میں نے بذات خود فلاں چیز کی نگرانی کی قرآن میں : ۔ قُلْ مَنْ يَكْلَؤُكُمْالآية [ الأنبیاء/ 43] کہو کہ رات اور دن میں خدا سے تمہاری کون حفاظت کرسکتا ہے ۔ الملاء ( گودی ) ہر وہ مقام جہاں کشتیوں کو محفوظ رکھا جاسکے ۔ الکلاء ۔ بصرہ میں ایک مقام کا نام ہے کیونکہ وہاں کشتیوں کو محفوظ رکھنے کے لئے لے جاتے تھے اور کالی کے معنی ادھار کے ہیں ۔ چناچہ حدیث میں ہے ۔ کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیع الکالی با لکالی یعنی ادھار کی ادھار کے ساتھ بیع کرنے سے منع فرمایا : الکلا ۔ اس گھاس کو کہتے ہیں جسے محفوظ کرلیا گیا ہو ۔ اور ہر وہ مقام جہاں گھاس زیادہ ہوا سے مکلا یا مکان کائی کہا جاتا ہے ۔ رحم والرَّحْمَةُ رقّة تقتضي الإحسان إلى الْمَرْحُومِ ، وقد تستعمل تارة في الرّقّة المجرّدة، وتارة في الإحسان المجرّد عن الرّقّة، وعلی هذا قول النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم ذاکرا عن ربّه «أنّه لمّا خلق الرَّحِمَ قال له : أنا الرّحمن، وأنت الرّحم، شققت اسمک من اسمي، فمن وصلک وصلته، ومن قطعک بتتّه» ( ر ح م ) الرحم ۔ الرحمۃ وہ رقت قلب جو مرحوم ( یعنی جس پر رحم کیا جائے ) پر احسان کی مقتضی ہو ۔ پھر کبھی اس کا استعمال صرف رقت قلب کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی صرف احسان کے معنی میں خواہ رقت کی وجہ سے نہ ہو ۔ اسی معنی میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک حدیث قدسی میں فرمایا ہے (152) انہ لما خلق اللہ الرحم قال لہ انا الرحمن وانت الرحم شفقت اسمک میں اسمی فمن وصلک وصلتہ ومن قطعت قطعتۃ ۔ کہ جب اللہ تعالیٰ نے رحم پیدا کیا تو اس سے فرمایا :۔ تین رحمان ہوں اور تو رحم ہے ۔ میں نے تیرے نام کو اپنے نام سے اخذ کیا ہے ۔ پس جو تجھے ملائے گا ۔ ( یعنی صلہ رحمی کرے گا ) میں بھی اسے ملاؤں گا اور جو تجھے قطع کرلیگا میں اسے پارہ پارہ کردوں گا ، ، رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ اعرض وإذا قيل : أَعْرَضَ عنّي، فمعناه : ولّى مُبدیا عَرْضَهُ. قال : ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْها [ السجدة/ 22] ، فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ ( ع ر ض ) العرض اعرض عنی اس نے مجھ سے روگردانی کی اعراض کیا ۔ قرآن میں ہے : ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْها [ السجدة/ 22] تو وہ ان سے منہ پھیرے ۔ فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ [ النساء/ 63] تم ان سے اعراض بر تو اور نصیحت کرتے رہو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤٢) اور اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ان مکہ والوں سے یہ بھی فرمائیے کہ وہ کون ہے جو رات میں اور دن میں اللہ کے عذاب سے تمہاری حفاظت کرتا ہے یا یہ کہ اللہ کے علاوہ اور کون ہے جو اس کے عذاب سے حفاظت کرتا ہے بلکہ یہ لوگ اب بھی اپنے رب حقیقی کی توحید اور اس کی کتاب کو جھٹلانے والے اور اسے پس پشت ڈالنے والے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٢ (قُلْ مَنْ یَّکْلَؤُکُمْ بالَّیْلِ وَالنَّہَارِ مِنَ الرَّحْمٰنِ ط) ” یعنی اللہ تعالیٰ ہی نے تمہارے لیے محافظ (Body guards) مقرر کر رکھے ہیں۔ یہ مضمون دو مرتبہ اس سے پہلے بھی آچکا ہے۔ سورة الانعام : ٦١ میں فرمایا گیا : (وَیُرْسِلُ عَلَیْکُمْ حَفَظَۃً ط) کہ وہ فرشتوں کی صورت میں تمہارے لیے محافظ مقرر کرتا ہے۔ سورة الرعد : ١١ میں ارشاد ہوا : (لَہٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْم بَیْنِ یَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہٖ یَحْفَظُوْنَہٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰہِ ط) ” اس (انسان) کے لیے باری باری آنے والے (پہرے دار) ہیں ‘ وہ اس کے سامنے اور اس کے پیچھے سے اس کی حفاظت کرتے رہتے ہیں اللہ کے حکم سے “۔ مراد یہ ہے کہ جب تک اللہ کو منظور ہوتا ہے وہ موت سے یا مصائب و حادثات سے خود انسان کی حفاظت کرتا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

43. That is to say, who is there to protect and save you from the scourge of Allah if you are suddenly visited by it any time during the night or day.

سورة الْاَنْبِیَآء حاشیہ نمبر :43 یعنی اگر اچانک دن کو یا رات کو کسی وقت خدا کا زبردست ہاتھ تم پر پڑ جائے تو آخر وہ کون سا زور آور حامی و ناصر ہے جو اس کی پکڑ سے تم کو بچا لے گا ؟

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٤٢۔ ٤٦:۔ اوپر ذکر تھا کہ منکرین قیامت عذاب کی جلدی کرتے تھے ان آیتوں میں فرمایا کہ جب تک وقت نہیں آتا ‘ ہر بلا سے اللہ ہی ان کی نگہبانی کر رہا ہے ‘ ورنہ آدمی کے پیچھے تو رات دن اتنی بلائیں لگی ہوئی ہیں کہ دم بھر بھی اس کا جینا مشکل ہے کیونکہ قحط کے وقت یہ تو ان لوگوں کو تجربہ ہوگیا کہ ان کے بت ایسے عاجز ہیں کہ اللہ کی مدد کے بغیر کسی مصیبت کو ٹال نہیں سکتے، یہ لوگ قرآن کی نصیحت کو ٹال دیتے ہیں ‘ ورنہ اس تجربہ کے بعد یہ لوگ قرآن کی نصیحت کے پابند ہوجاتے اور عذاب کی جلدی نہ کرتے ‘ پھر فرمایا کہ ان کو اور ان کے بڑوں کو وقت مقررہ تک اللہ نے چھوڑ رکھا ہے نہیں تو ان کے کرتوت تو ایسے تھے کہ ان کا نشان بھی زمین پر باقی نہ رہتا پھر فرمایا کہ کیا اس سے بھی ان کو دین اسلام کا حق ہونا ثابت نہیں ہوتا کہ اسلام کو دن بدن ترقی ہوتی جاتی ہے اور کفر زمین سے اٹھتا جاتا ہے ‘ پھر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرمایا کہ ان مشرکوں سے کہہ دو کہ میں تم کو اللہ کا حکم ہر طرح کی نصیحت کا سناتا ہوں اگر بہرے بن کر اللہ کا حکم نہیں سنتے تو عذاب الٰہی میں گرفتار ہوجاؤ گے پھر عذاب کی سختی کا ذکر فرمایا کہ اگر عذاب کی ذرا بو بھی ان کے ناک میں آجاوے تو سب عیش و آرام ابھی بھول جائیں اور اپنی زیادتی اور گنہگاری کا اقرار کرنے لگ جاویں ‘ صحیح بخاری و مسلم میں انس بن مالک ١ ؎ سے روایت ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کم سے کم عذاب آخرت میں جس گنہگار پر ہوگا اس سے اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ دنیا بھر کا عیش و آرام اور دنیا بھر کی دولت آج تیرے قبضے میں ہوتی اس عذاب کے چھٹکارہ کے بدلہ میں تجھ کو وہ عیش دولت دینی منظور ہے ‘ وہ شخص کہے گا ہاں ‘ اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جب تو پیدا بھی نہیں ہوا تھا اس وقت اللہ تعالیٰ نے تجھ سے یہ ایک ادنیٰ سی بات چاہی تھی کہ اللہ کی عبادت میں کسی دوسرے کو شریک نہ کی جیو ‘ جب تجھ سے یہ بات نہ ہوسکی تو آج کیونکہ تیرا چھٹکارہ اس عذاب سے ہوسکتا ہے ‘ صحیح مسلم ٢ ؎ میں ان ہی انس بن مالک سے دوسری روایت ہے جس میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ بڑے سے بڑے عیش طلب گنہگار سے دوزخ میں ڈالتے ہی پوچھا جائے گا کہ تو نے دنیا میں اپنی عمر بھر میں کبھی کچھ آرام پایا تھا تو اس عذاب کے آگے وہ دنیا کے آرام کو بالکل بھول جائے گا اور کہے گا میں نے ہرگز کبھی کوئی آرام نہیں پایا اسی طرح دنیا کے بڑے سے بڑے مصیبت زدہ شخص سے جنت میں داخل ہوتے ہی پوچھا جائے گا کہ دنیا میں اپنی عمر بھر میں تو نے کوئی مصیبت بھگتی تھی تو اس آخرت کے عیش کے آگے وہ دنیا کی سب مصیبتیں بھول جائے گا اور کہے گا میں نے ہرگز کوئی مصیبت نہیں بھگتی۔ سورة العنکبوت میں آوے گا جب یہ مشرک لوگ کشتی میں سوار ہوتے اور کشتی کے ڈوب جانے کا خوف ہوتا تو اس خوف کے وقت اپنے بتوں کو بالکل بھول جاتے تھے اور خالص اللہ تعالیٰ سے کشتی کے ڈوبنے کی مصیبت کے ٹل جانے کی التجا کرتے تھے ‘ صحیح بخاری وغیرہ کے حوالہ سے عبداللہ بن مسعود کی روایت کئی جگہ گزر چکی ہے کہ جب ان مشرکوں نے سرکشی پر کمر باندھی تو اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بددعا سے مکہ میں ایسا سخت قحط پڑا کر مکہ کے لوگ نہ کھانے تک کی چیزیں بھی کھا گئے اور اس قحط کے زمانہ میں اگرچہ ان لوگوں نے اپنے بتوں سے مینہ برسنے کی دعا کرنے کی التجا کی اور آپ کی دعا سے مینہ برسا ‘ سورة العنکبوت کی آیتوں اور اوپر کی انس بن مالک کی روایتوں اور عبداللہ بن مسعود کی روایت کو ان آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ اے رسول اللہ کے اگر تم عذاب کی جلدی کرنے والوں سے پوچھو گے کہ اللہ کے حکم سے کوئی آفت تم پر آگئی تو جو اللہ کشتی کے ڈوب جانے کے خوف کے وقت ڈوبنے کی آفت سے اور رات دن میں اسی طرح کی ہزاروں آفتوں سے تم کو بچاتا ہے ‘ اس نئی آفت سے بھی وہی تم کو بچاوے گا۔ قرآن کی نصیحت ٹال دینے کے جرم کی سزا میں کوئی عذاب نازل ہوگیا ‘ تو تمہارے بتوں کی یہ طاقت ہے کہ سوائے اللہ کے حکم اور اس کی مدد کے وہ بت اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے عذاب کو ٹال دیں گے ‘ اے رسول اللہ کے کشتی کے ڈوبنے کے اور مکہ کے قحط کے حال یاد کرکے یہ تو ان لوگوں کا منہ نہیں کہ سوائے اللہ کی مدد کے اس کے بھیجے ہوئے عذاب سے بچ جانے کا ذکر یہ لوگ زبان پر لاویں ‘ بلکہ بات فقط اتنی ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آزمائش کے طور پر ان کو اور ان کے بڑوں کو دنیا کی خوشحالی جو دی اس کے نشہ میں نہ یہ لوگ اسلام کی دن بدن کی ترقی کو دیکھ کر چونکتے ہیں نہ بہروں کی طرح قرآن کی نصیحت کو سنتے ہیں اور نہ عذاب کی جلدی کرنے کے انجام کو سمجھتے ہیں لیکن اللہ کے کچھ عذاب کا حصہ اگر ان کو دنیا میں مل گیا تو اپنی گنہگاری کا اقرار کرنے لگیں گے مگر وہ بےوقت کا اقرار ان کے کچھ کام نہ آوے گا اور دنیا کے عذاب کے علاوہ جب آخرت کے عذاب میں گرفتار ہوں گے تو دوزخ کے پہلے ہی جھونکے میں دنیا کی یہ خوشحالی بھول جاویں گے۔ (١ ؎ مشکوٰۃ ص ٥٠٢ باب صنقہ النا رواہلہا۔ ) (٢ ؎ ایضا )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(21:42) یکلؤکم۔ یکلؤ مضارع واحد مذکر غائب کلاء ۃ مصدر باب فتح۔ سمع کم ضمیر مفعول جمع مذکرحاضر۔ وہ تمہاری حفاظت کرے گا۔ الکلاء ۃ کے معنی کسی چیز کی حفاظت کرنا اور اسے باقی رکھنا کے ہیں۔ کلأک اللہ۔ اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت کرے۔ اللہ تعالیٰ تمہیں محفوظ رکھے۔ المکلأ گودی۔ ہر وہ مقام جہاں کشتیوں کو محفوظ رکھا جاسکے۔ من یکلؤکم بالیل والنھار۔ کون تمہاری نگہبانی کرسکتا ہے رات کو دن یا دن کے وقت خدائے رحمان سے ۔ ک ل ء مادہ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 ۔ اور تخویف عذاب اخروی سے تھی۔ اب یہاں تخویف عذاب دنیوی سے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم برآن اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہو۔ (کبیر)3 ۔ یعنی رات اور دن کے اوقات میں خدا ہی ان کی حفاظت کرتا ہے مگر یہ ہیں کہ اس کی یاد یا اس کی نصیحت سے بھاگتے ہیں۔ (شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

(رکوع نمبر ٤) اسرارومعارف ان سے فرمادیجیے کہ انہیں اللہ کے عذاب سے کوئی بھی نہیں بچا سکتا اور نہ ہی شب روز کوئی ان کی نگہبانی کر رہا ہے یہ تو صرف اللہ جل جلالہ کی رحمانیت ہے جس کے صدقے یہ دنیا کی نعمتیں حاصل کر رہے ہیں حالانکہ یہ اس کی یاد تک سے منہ پھیرے ہوئے ہیں ۔ (رحمانیت) پہلے گذر چکا ہے کہ رحمانیت وہ کیفیت ہے جو دار دنیا میں انسانوں کو وجود ، عمریں ، رزق وغیرہ عطا کرتی ہے اسی لیے باقی مخلوق میں سے کوئی ذکر سے غافل ہو تو اس کی موت واقع ہوجاتی ہے مگر انسان جب تک فرصت دیا گیا ہے ظاہری بدن سے ضرور زندہ رہتا ہے اگرچہ اندر سے یہ بھی مردہ ہی ہوجاتا ہے کہ روح کی حیات کی بنیاد تو ایمان ہے مگر یہ بھی صرف دنیا میں کہ موت اور بعد موت رحیمیت کا اظہار ہوگا اسی لیے فرمایا گیا کہ ” رحمن لدنیا ورحیم لا اخرۃ “۔ تو دنیا میں اگر انہیں کچھ فرصت نصیب ہے تو یہ ان کے بتوں کا کمال ہرگز نہیں کیا وہ انہیں اللہ جل جلالہ کی گرفت سے بچا سکتے ہیں جو خود اپنی ذات کی حفاظت تک نہیں کرسکتے کوئی انہیں توڑنا چاہے تو اس کا ہاتھ نہیں روک سکتے ، ان کے علاوہ بھی کوئی ایسا راستہ نہیں کہ اللہ جل جلالہ کے مقابلہ میں کوئی ان کی مدد یا حفاظت کرسکے ، یہ تو ہماری عطا ہے اور رحمانیت باری کا کرشمہ کہ ان کو اور ان کے آباء و اجداد کو دنیا بھر کی نعمتیں دیں اور مدتوں اور نسل درنسل اس پر موج کرتے رہے اور اللہ جل جلالہ کا شکر تک ادا نہ کیا ، اس کا نام تک نہ لیا مگر کب تک کیا اب انہیں نظر نہیں آرہا کہ ہر طرف سے فتوحات اسلامی گھٹاوں کی طرف امڈی چلی آ رہی ہے اور کفر کے لیے زمین تنگ ہو رہی ہے کیا یہ ابھی تک اس گمان میں ہیں کہ یہ غالب آجائیں گے ؟ (مسلمان اور تسخیر کائنات) مذکورہ بالا آیہ مبارکہ میں آخرت کے عذاب سے پہلے کافر کو اللہ جل جلالہ نے مومن کی گرفت کی خبر دی ہے اور اس حال میں جب مسلمانوں کے پاس صرف اللہ جل جلالہ کا نام تھا اور سارے وسائل کفار کے پاس تھے دولت ، سلطنت ، اسلحہ اور افرادی قوت سب کافروں کے پاس تھی مگر اللہ جل جلالہ نے فرمایا کہ مومن فوجیں اللہ جل جلالہ کے حکم سے تم پر زمین تنگ کرتی آرہی ہیں اور مومن پر ہر حال میں اور ہر زمانے میں جب تک دنیا پر کفر ہے جہاد فرض کردیا اور واقعی کفر کے لیے زمین تنگ ہوگئی مگر آج خود مسلمان اسلام سے دور اور کافر کی پیروی میں کھو گیا اور ذلت سے دوچار ہے آج جبکہ بیشتر وسائل مسلمان کے پاس ہیں پھر بھی کفر سے مار کھا رہا ہے اللہ جل جلالہ مسلمانوں کو ہدایت پر جمع فرمائے ، آمین !۔ انہیں فرمایئے کہ میری اطلاع محض ایک بندے کی بندے سے بات نہیں بلکہ میں جو کفر اور نافرمانی کے نتائج بد کی خبر دے رہا ہوں تو یاد رکھو یہ اللہ جل جلالہ کی طرف سے مجھے وحی کی جاتی ہے جس کی صداقت میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں ، ہاں کفر نے تمہارے کان سخت بہرے کردیے ہیں کہ تم اپنے بھلے کی اور خود کو ایک بڑی مصیبت سے بچانے کی بات بھی نہیں سن پا رہے ، جب قوت سماعت ہی سے کوئی محروم ہوگا تو کیا خاک سنے گا مگر یہ یقینی بات ہے کہ عذاب الہی سمجھ کی سب کھڑکیاں کھول دے گا انہیں اگر ابھی ذرہ برابر عذاب آخرت پہنچ جائے تو پکار اٹھیں گے کہ کاش ہم نے کفر سے توبہ کرلی ہوتی ۔ اللہ جل جلالہ سے دوری اختیار کرکے ہم نے بہت بڑا ظلم کیا مگر یہ تب پتہ چلے گا جب ہم انصاف کا ترازو رکھیں گے کہ روز قیامت ہر شخص کے نیک وبداعمال کو ایسے کھرے طریقے سے تولا جائے گا کہ کسی پر کوئی زیادتی نہ ہوگی حتی کہ اگر کسی کا بہت معمولی عمل رائی کے دانہ کے برابر بھی ہوگا تو بھی حاضر کیا جائے گا کسی کا کوئی چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی ضائع نہ ہوگا اور بھلا ہم جیسا حساب کرنے والا کون ہو سکتا ہے لہذا ایسا حساب کریں گے کہ پھر کبھی حساب کرنے کی ضرورت باقی نہ رہے گی ۔ آپ نے کوئی بھی نئی بات نہیں کی بلکہ جن انبیاء کرام (علیہ السلام) کو ماننے کا دعوی یہ بھی رکھتے ہیں جیسے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) تو ان کو بھی ہم نے جو کتاب عطا کی تھی وہ حق و باطل میں فیصلہ کرنے والی تھی اور دلوں کا نور تھی نیز نصیحت اور اللہ کا ذکر اس کی یاد اس کے قرب کا سبب تھی یہی سب حقائق انھوں نے بھی بتائے جن سے یہ بدبخت منہ پھیر رہے ہیں ، اس لیے ایمان تو غائبانہ مطلوب ہے بھلا عذاب اور جہنم کو دیکھ کر کون انکار کرسکے گا یہاں تو نبی کی صداقت کتاب کی عظمت اور اللہ جل جلالہ کی قدرت اور اس کے مظاہر ایسے دلائل ہیں کہ بغیر دیکھے آخرت ، عذاب وثواب اور انبیاء کرام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعلیم پر ایمان لانے کیلئے کافی ہیں جسے یہ ایمان نصیب ہوجائے اور قیامت کے حساب وکتاب کی فکر کرنے لگے اس کے لیے کتب الہی میں نور قلبی کے خزانے بھرے ہیں ، اب یہی کتاب دیکھیں کہ کس قدر تجلیات باری اور انوار الہی کا خزانہ ہے جو اب ہم نے نازل فرمائی ہے یعنی قرآن حکیم ، اس کا اللہ جل جلالہ کی طرف سے نازل ہونا کس قدر ظاہر ہے اور ثابت مگر تم تو اس کا بھی انکار ہی کرو گے ۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 42 تا 47 یکلو حفاظت کرتا ہے۔ بچاتا ہے۔ معرضون منہ پھیرنے والے۔ تمنع بچاتا ہے۔ روکتا ہے۔ طال طویل ہوگیا۔ لمبا وہ گیا۔ ننقص ہم گھٹاتے ہیں۔ الصم بہرے۔ نفحۃ لپٹ، شعلہ۔ الموازین (میزان) ترازوئیں۔ القسط انصاف، عدل مثقال وزن۔ حبۃ زرہ، ایک دانہ۔ خردل رائی۔ حاسبین حساب لینے والے۔ تشریح : آیت نمبر 42 تا 47 اللہ نے اپنے فضل و کرم سے قریش کو عرب میں ایک خاص مقام اور شدید بدامنی اور قتل و غارت گری کے دور میں بھی امن و سکون عطا کر رکھا تھا۔ وہ اللہ ان کو ہر طرح کی مشکلات، مصیبتوں اور پریشانیوں سے بچاتا رہتا تھا۔ ان کے باپ دادا کو ہر طرح کا راحت و آرام اور بہترین اسباب دے رکھتے تھے جس کی وجہ سے وہ لمبی عمروں کے باوجود سکھ چین سے زندگی گزار رہے تھے۔ ان تمام مہربانیوں کا نتیجہ تو یہ ہونا چاہئے تھا کہ وہ اللہ جو رحمٰن و رحیم ہے اس کی عبادت و بندگی اور نعمتوں کا شکر ادا کرنے میں لگ جاتے اور اللہ اور اس کے رسول حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت و فرمانبرداری میں اپنی زندگی گزارتے مگر انہوں نے تکبر غرور اور ناشکری کے طریقے اختیار کر کے جھوٹے معبودوں کو اپنا سب کچھ سمجھ لیا تھا اور ان کو اپنا سہارا سمجھ رکھا تھا۔ حالانکہ ان لوگوں نے جھوٹے معبودوں کا سہارا پکڑ رکھا تھا وہ تو خود اپنے وجود پر بھی اختیار نہیں رکھتے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ ان سے کہہ دیجیے کہ کیا وہ یہ نہیں دیکھ رہے ہیں کہ ہم زمین کو کتنی تیزی کے ساتھ کناروں سے گھٹاتے چلے آ رہے ہیں یعنی ان کی زندگی کے دائرے تنگ ہوتے جا رہے ہیں۔ ان کا اقتدار روز بروز کم ہوتا جا رہا ہے اور وہ وقت دور نہیں ہے جب ان پر عرب کی سر زمین تنگ ہو کر رہ جائے گی۔ فرمایا کہ آپ کہہ دیجیے کہ میں تمہاری خیر خواہی اور بھلائی میں وحی الٰہی کی دلیل سے بات کہہ رہا ہوں تاکہ وہ لوگ اللہ کے اس عذاب سے بچ سکیں جس کی ایک لپٹ اور شعلہ بھی ان کو چھو جائے گا تو وہ نہ صرف اپنی بدنصیبی کا رونا روئیں گے بلکہ اس عذاب سے ان کے ہوش اڑ جائیں گے اور اس کو برداشت نہ کر پائیں گے اور یہ کہہ اٹھیں گے کہ واقعی ہم نے ظلم اور زیادتی کی تھی۔ آخرت میں جب اللہ تعالیٰ میزان عدل قائم فرمائیں گے تو کسی پر ذرا برابر ظلم اور زیادتی نہ ہوگی اور رائی کے دانے کے برابر بھی کوئی عمل چھپا نہ رہ سکے گا اور ایک ایک لمحہ کا حساب دینا ہوگا۔ اس ہولناک دن ان عزت داروں کو منہ چھپانے کی جگہ بھی نہ مل سکے گی رسوائی اور ذلت ان کا نصیب بن جائے گی۔ حضرت سلمان (رض) سے روایت ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ قیامت کے دن جو میزان عدل رکھی جائے گی وہ اس قدر وسیع ہوگی کہ اس میں زمین اور آسمان بھی سما جائیں گے۔ اگر غور کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ دنیا کی ترازو میں تو ظاہری چیزیں تولی جاتی ہیں لیکن وہ ترازو کیسی عجیب ہوگی جس میں انسانوں کے اخلاق ، معاملات اور اعمال تک تو لے جائیں گے۔ واقعتاً اس دن کے عذاب اور ذلت سے جو بچ گیا وہ کامیاب اور بامراد ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس دن کی رسوائی سے بچائے اور حساب کو آسان فرمائے۔ (آمین)

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ مشرکین مکہ الرّحمن کے منکر تھے اس لیے یہاں الرّحمن کی صفات کا ذکر کیا گیا ہے۔ منکرین حق کو مختلف الفاظ اور انداز میں انتباہ کیا جا رہا ہے۔ اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! استہزاء کرنے والوں سے پوچھیں کہ کون ہے ؟ جو رات اور دن میں تمہاری نگرانی کرتا ہے، کیا الرّحمن کے سوا کوئی اور ہوسکتا ہے ؟ ظاہر ہے کہ رب رحمن کے سوا کوئی نہیں ہے جو اس سے بڑھ کر تم پر نرمی اور مہربانی کرنے والا ہو۔ الرّحمن کی مہربانی کا نتیجہ ہے کہ تمہاری گستاخیوں کے باوجود دن، رات تمہاری نگرانی اور ضرورتیں پوری کرتا ہے۔ اس کے باوجود لوگ رب کی ذات اور اس کے فرمان سے اعراض کرنے والے ہیں۔ کیا ان کے اور بھی نگران اور حاجت روا ہیں ؟ جو ان کی رات اور دن میں حفاظت کرتے ہیں ؟ وہ نہ اپنے آپ کی مدد کرسکتے ہیں اور نہ ہماری پکڑ سے بچ سکتے ہیں۔ پچھلی آیات میں یہ بات بیان ہوئی ہے کہ اہل مکہ اللہ تعالیٰ کے محبوب اور مشفق نام ” الرحمن “ کے منکر تھے۔ اب انھیں الرّحمن کا تعارف کرایا گیا ہے کہ یہ الرّحمن کی شفقت اور مہربانی کا نتیجہ ہے کہ تمہاری گستاخیوں کے باوجود تمہیں ڈھیل دیے ہوئے ہے ورنہ تم سے پہلے کتنے لوگ گزرے ہیں کہ ان میں سے کسی کو اللہ تعالیٰ نے رات کے وقت اپنی گرفت میں لیا جو قیامت تک اسی عذاب میں مبتلا رہیں گے۔ کچھ ایسے تھے جن کو دن کے وقت عذاب نے آلیا اور وہ ہمیشہ کے لیے مغضوب ٹھہرے۔ نہ وہ اپنے آپ کو بچا سکے اور نہ ان کے دستگیر اور مشکل کشا کوئی مدد کرسکے۔ قرآن مجید نے اس بات کی بھی صراحت فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص پر دو نگران مقرر کر رکھے ہیں۔ انسان اس وقت تک ان کی حفاظت میں رہتا ہے جب تک انھیں حفاظت کرنے کا حکم ہوتا ہے۔ (الرعد : ١١) (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رض) ...إنَّ اللّٰہَ یَنْہَاکُمْ عَنِ التَّعَرّٰی فَاسْتَحْیُوْا مِنْ مَآاءِکَۃِ اللّٰہِ الَّذِیْنَ لاَ یُفَارِقُوْنَکُمْ إلَّا عِنْدَ ثَلَاثٍ حَالَاتٍ اَلْغَاءِطِ وَ الْجَنِابَۃِ وَ الْغُسْلِ فَإذَا اغْتَسَلَ أحَدُکُمْ بالْعُرَاءِ فَلْیَسْتَتِرْ بِثَوْبِہِ أوْ بِجَذْمَۃِ حَاءِطٍ أوْ بِبَعِیْرِہِ ) [ رواہ البزار ] ” حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں بیشک اللہ نے تمہیں ننگا ہونے سے منع کیا ہے پس تم اللہ کے فرشتوں سے شرم کرو۔ فرشتے صرف تم سے تین حالتوں میں جدا ہوتے ہیں۔ قضائے حاجت کے وقت، مباشرت اور غسل کے وقت، جب تم میں سے کوئی کھلے میدان میں غسل کرے تو اسے چاہیے کہ وہ خود کو کسی کپڑے سے یا کٹے ہوئے درخت کے تنے کے پیچھے ڈھانپے یا پھر اپنے اونٹ کی اوٹ کرلے۔ “ ہمیشہ اللہ کی رحمت کا طلب گار رہنا چاہیے : (اَللّٰہُمَّ رَحْمَتَکَ أَرْجُوْ فَلاَ تَکِلْنِیْ إِلٰی نَفْسِیْ طَرْفَۃَ عَیْنٍ وَّأَصْلِحْ لِی شَأْنِیْ کُلَّہُ لاَ إِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ ) [ رواہ ابو داؤد : باب مایقول اذا اصبح ] ” اے اللہ میں تیری رحمت کی امید رکھتا ہوں مجھے ایک لمحے کے لیے بھی میرے نفس کے حوالے نہ کرنا اور میرے تمام معاملات درست فرما دے تیرے علاوہ کوئی الٰہ نہیں۔ “ مسائل ١۔ الرحمن ہی دن، رات لوگوں کی نگرانی کرتا ہے۔ ٢۔ اکثر لوگ اپنے رب کی ذات اور اس کے فرمان سے اعراض کرتے ہیں۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ کی گرفت سے کوئی خود بچ سکتا ہے اور نا کوئی اسے بچا سکتا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ انسان کی نگرانی اور حفاظت کرتا ہے : ١۔ بیشک میرا پروردگار ہر چیز پر نگہبان ہے۔ (ھود : ٥٧) ٢۔ اللہ تم پر نگہبان ہے۔ (الشوریٰ : ٦) ٣۔ اللہ ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے اسی کی عبادت کرو اور وہ ہر چیز پر کارساز ہے۔ (آل عمران : ١٠٢) ٤۔ اللہ پر توکل کرو، اللہ بہترین کارساز ہے۔ (الاحزاب : ٣) ٥۔ تیرا رب ہر چیز کی حفاظت کرنے والا ہے۔ (سبا : ٢١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

قل من یکلئو کم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ولاھم منا یصحبون (٢٤ : ٣٤) ’ اللہ رات دن ہر ذی روح کو مختلف مضرتوں سے بچانے والا ہے۔ یہ صفت رحمن ہے یعنی بہت زیادہ مہربان۔ اللہ کے سوا اور کوئی ذات بچانے والی یا مدد گار نہیں ہے۔ اے پیغمبر ‘ ان سے پوچھو کہ اللہ کے سوا ہے کوئی اور تمہارا حامی اور محافظ ؟ یہ سوال دراصل سرزنش اور توبیخ کے لیے کیا گیا ہے اور استفہام انکاری ہے یعنی کوئی نہیں ہے۔ تم بہت بڑی غفلت میں پڑے ہوئے ہو یہ تو اللہ ہی ہے جو رات اور دن تمہیں بچاتا ہے اور اس کے سوا کوئی بھی بچانے والا یا حفاظت کرنے والا نہیں ہے۔ بل ھم۔۔۔۔ معرضون (١٢ : ٢٤) ” مگر یہ اپنے رب کی نصیحت سے منہ موڑتے ہیں “۔ اسی سوال کو ایک دوسری صورت میں ان سے پوچھا جاتا ہے۔ ام لھم۔۔۔۔۔۔ من دو ننا (١٢ : ٢٤) ” کیا یہ کوئی ایسے خدا رکھتے ہیں جو ہمارے مقابلے میں ان کی حمایت کریں “۔ تاکہ یہی الہٰ دوسرے معاملات میں ان کی حمایت و حفاظت کریں ‘ ہر گز نہیں۔ ان کے جو الہٰ ہیں ان کی حالت یہ ہے۔ لایستطیعون نصر انفسھم (١٢ : ٣٤) ” وہ تو خود اپنی مدد نہیں کرسکتے “۔ جب وہ اپنی مدد بھی نہیں کرسکتے تو دوسروں کی کیا مدد کریں گے۔ ولا ھم منا یصحبون (١٢ : ٣٤) ” اور نہ ہماری تائید ان کو حاصل ہے اور نہ دوستی کہ ایک صاحب قوت سے کوئی قوت حاصل کرلیں۔ جیسا کہ ہارون اور موسیٰ علیہم اسلام نے اللہ سے تائید حاصل کی جب اللہ نے کہا جائو فرعون کی طرف۔ اننی معکما اسمع واری ” میں تمہارے ساتھ ہوں ‘ سنتا ہوں اور دیکھتا ہوں “۔ یہ الہٰ تو بذات خود کسی قسم کی قوت نہیں رکھتے۔ نہ ان کو اللہ کی تائید حاصل ہے لہٰذا وہ کسی کی مدد نہیں کرسکتے۔ مشرکین کے اعتقادات کی اس کمزوری کی نشاندہی کے بعد اور ان کے ساتھ یہ مذاق کرنے کے بعد اور یہ دیکھنے کے بعد کہ ان کا استدلال دلیل سے خالی ہے سیاق کلام ان کے ساتھ بحث ختم کرکے اس موضوع پر بحث کرتا ہے کہ وہ اس انداز سے کیوں الجھتے ہیں۔ اس کے بعد ان کو احساس دلایا جاتا ہے کہ کچھ تو غور کرو ‘ وست قدرت کو دیکھو کہ وہ کس طرح ان کبراء کے اثرو رسوخ کو کم کرکے ان کے پیروں تلے سے زمین نکال رہا ہے۔ انکے اثرو رسوخ اک دائرہ تنگ ہو رہا ہے ‘ حالانکہ وہ وسیع علاقے میں بااثر تھے۔ انکو قوت حاصل تھی اور بڑا اقتدار تھا انکا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

رحمن کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں ہے، منکرین دنیاوی عیش و عشرت کی وجہ سے ایمان نہیں لاتے اور بہرے پکار کو نہیں سنتے ان آیات میں مخاطبین سے یہ فرمایا ہے کہ دیکھو رات دن گزرتے چلے جا رہے ہیں۔ بتاؤ خالق اور مالک جل مجدہ کے عذاب سے تمہاری کون حفاظت کرتا ہے ؟ یہ استفہام انکاری ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اگر عذاب بھیج دے تو تمہیں اس کے عذاب سے بچانے والا اور تمہاری حفاظت کرنے والا کوئی بھی نہیں ہے۔ تم بھی اس بات کو جانتے اور مانتے ہو۔ یہ جانتے ہوئے پھر بھی اپنے پروردگار کی یاد سے اور اس کو وحدہ لا شریک لہ ماننے سے اعراض کیے ہوئے ہو۔ پھر فرمایا کہ یہ لوگ معبود حقیقی جل مجدہ کو چھوڑ کر جو غیروں کی عبادت کرتے ہیں کیا ان کا یہ خیال ہے کہ جب ہماری طرف سے عذاب آئے گا تو ان کے یہ باطل معبود انہیں ہمارے عذاب سے بچا لیں گے، ان کا یہ خیال غلط ہے۔ وہ ان کی کیا مدد کریں گے، وہ تو اپنی ہی مدد نہیں کرسکتے۔ خود ان پر ہماری طرف سے عذاب آجائے یا کوئی تکلیف پہنچ جائے تو ہمارے مقابلے میں کوئی ان کا ساتھ نہیں دے سکتا۔ پھر فرمایا کہ سر کشی کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے انہیں اور ان کے باپ دادوں کو سامان عیش دیا تھا۔ اسی میں پھلتے پھولتے رہے اور اس پر زمانہ دراز گزر گیا۔ پشت در پشت جب عیش و آرام میں پڑے رہے تو غفلت کے پردے پڑگئے۔ نہ دنیا کے انقلاب سے چونکے نہ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کے بیدار کرنے سے بیدار ہوئے اور اب اسلام کے اور مسلمانوں کے مخالف بن رہے ہیں۔ کیا انہیں یہ نظر نہیں آتا کہ جس زمین پر وہ قابض ہیں ہم اسے ہر چار طرف سے برابر گھٹاتے چلے آ رہے ہیں یعنی ان سے لے کر مسلمانوں کے قبضے میں دے رہے ہیں، کیا انہیں پھر یہ بھی خیال ہے کہ وہ اہل ایمان پر غالب ہوجائیں گے۔ پھر فرمایا کہ آپ ان سے فرما دیں کہ میں تو تمہیں وحی کے ذریعہ ہی ڈراتا ہوں لیکن تم بہرے بنے ہوئے ہو۔ بہرے پکار کو سنتے ہی نہیں ہیں، حقیقت میں بہرے نہیں لیکن بہرے لوگوں کا ڈھنگ اختیار کر رکھا ہے۔ ساری سنی ان سنی کردیتے ہیں اور عذاب آنے کی رٹ لگاتے ہیں۔ عذاب کی تاب نہیں اور عذاب کا تقاضا ہے۔ اسی کو فرمایا (وَ لَءِنْ مَّسَّتْھُمْ نَفْحَۃٌ مِّنْ عَذَابِ رَبِّکَ ) (الایۃ) (اگر آپ کے رب کی طرف سے انہیں عذاب کا ایک جھونکا لگ جائے تو ضرور یوں کہیں گے کہ ہائے ہماری کمبختی واقعی ہے) عذاب کے ایک جھونکا کی بھی تاب نہیں لیکن پھر بھی اپنی بےوقوفی سے عذاب آنے کی رٹ لگا رہے ہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

29:۔ یہ تخویف دنیوی ہے۔ رات دن میں آنے والی مصائب سے تمہیں اللہ ہی محفوط رکھتا ہے اگر وہ چاہے تو تمہارے انکار وعناد پر تمہیں فورًا پکڑ لے۔ ” بَلْ ھُمْ عَنْ ذِکْرِ رَبِّھِمْ مُّعْرِضُوْنَ “ زجر ہے۔ ” اَمْ لَھُمْ اٰلِھَةٌ“ یہ بھی زجر ہے۔ فرمایا دن رات میں حوادث روزگار سے انہیں اللہ کے سوا کون بچاتا ہے ؟ کیا اللہ کے سوا ان کے معبودان باطلہ ان کی حفاظت کرسکتے ہیں ؟ ہرگز نہیں کیونکہ وہ تو خود اپنی مدد سے بھی عاجز و درماندہ ہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

42 اے پیغمبر ! آپ ان لوگوں سے فرمائیے وہ کون ہے جو رات کو اور دن کو رحمٰن کے عذاب سے تم ہاری حفاظت کرتا ہے بلکہ بات یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے پروردگار کی یاد سے ہی روگردانی کرتے ہیں اثبات نبوت کے بعد پھر توحید کے دلائل بیان فرماتا ہے۔ اے پیغمبر ! آپ ان سے یہ فرمائیے کہ رات اور دن میں رحمٰن کی گرفت اور اس کے عذاب سے تمہارا بچائو کون کرتا ہے اصل واقعہ یہ ہے کہ یہ تو اپنے پروردگار کے ذکر اور اس کی توحید سے روگردانی ہی کرتے رہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ رحمٰن کی گرفت سے سوائے رحمان کے کون بچا سکتا ہے اتنی صاف اور کھلی ہوئی بات کے بعد بھی یہ لوگ توحید کے قائل نہیں ہوتے اور توحید کے قائل کس طرح ہوں واقعہ یہ ہے کہ یہ تو اپنے پروردگار کا نام سننے کے لئے تیار ہی نہیں ہیں اور اس کی یاد سے منھ موڑتے اور روگردانی کرتے ہیں۔ 12