The Disbelievers will remain in Doubt and Confusion
Allah tells:
وَلاَ يَزَالُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي مِرْيَةٍ مِّنْهُ
...
And those who disbelieved, will not cease to be in doubt about it,
Allah tells us that the disbelievers will remain in doubt concerning this Qur'an.
This was the view of Ibn Jurayj and was the view favored by Ibn Jarir.
...
حَتَّى تَأْتِيَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً
...
until the Hour comes suddenly upon them,
Mujahid said:
"By surprise."
Qatadah said:
بَغْتَةً
(suddenly),
means, the command of Allah will catch the people unaware. Allah never seizes a people except when they are intoxicated with pride, enjoying a life of luxury, and they think that the punishment will never come upon them, but Allah does not punish anyone except the evildoers.
...
أَوْ يَأْتِيَهُمْ عَذَابُ يَوْمٍ عَقِيمٍ
or there comes to them the torment of Yawm `Aqim.
Mujahid said,
"Ubay bin Ka`b said: `Yawm `Aqim means the day of Badr."'
Ikrimah and Mujahid said:
"Yawm `Aqim means the Day of Resurrection, following which there will be no night."
This was also the view of Ad-Dahhak and Al-Hasan Al-Basri.
Allah says:
کافروں کے دل سے شک وشبہ نہیں جائے گا
یعنی کافروں کو جوشک شبہ اللہ کی اس وحی یعنی قرآن میں ہے وہ ان کے دلوں سے نہیں جائے گا ۔ شیطان یہ غلط گمان قیامت تک ان کے دلوں سے نہ نکلنے دے گا ۔ قیامت اور اس کے عذاب ان کے پاس ناگہاں آجائیں گے ۔ اس وقت یہ محض بےشعور ہوں گے جو مہلت انہیں مل رہی ہے اس سے یہ مغرور ہوگئے ۔ جس قوم کے پاس اللہ کے عذاب آئے اسی حالت میں آئے کہ وہ ان سے نڈر بلکہ بےپروا ہوگئے تھے اللہ کے عذابوں سے غافل وہی ہوتے ہیں جو پورے فاسق اور اعلانیہ مجرم ہوں ۔ یا انہیں بےخبر دن عذاب پہنچے جو دن ان کے لئے منحوس ثابت ہوگا ۔ بعض کا قول ہے کہ اس سے مراد یوم بدر ہے اور بعض نے کہا ہے مراد اس سے قیامت کا دن ہے یہی قول صحیح ہے گو بدر کا دن بھی ان کے لئے عذاب اللہ کا دن تھا ۔ اس دن صرف اللہ کی بادشاہت ہوگی جیسے اور آیت میں ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کا مالک ہے ۔ اور آیت میں ہے اس دن رحمن کا ہی ملک ہوگا اور وہ دن کافروں پر نہایت ہی گراں گزرے گا ۔ فیصلے خود اللہ کرے گا ۔ جن کے دلوں میں اللہ پر ایمان رسول کی صداقت اور ایمان کے مطابق جن کے اعمال تھے جن کے دل اور عمل میں موافقت تھی ۔ جن کی زبانیں دل کے مانند تھیں وہ جنت کی نعمتوں میں مالا مال ہوں گے جو نعمتیں نہ فنا ہوں نہ گھٹیں نہ بگڑیں نہ کم ہوں ۔ جن کے دلوں میں حقانیت سے کفر تھا ، جو حق کو جھٹلاتے تھے ، نبیوں کے خلاف کرتے تھے ، اتباع حق سے تکبر کرتے تھے ان کے تکبر کے بدلے انہیں ذلیل کرنے والے عذاب ہوں گے ۔ جیسے فرمان ہے آیت ( اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ 60ۧ ) 40-غافر:60 ) جو لوگ میری عبادتوں سے سرکشی کرتے ہیں وہ ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے ۔