Surat ul Hajj

Surah: 22

Verse: 55

سورة الحج

وَ لَا یَزَالُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فِیۡ مِرۡیَۃٍ مِّنۡہُ حَتّٰی تَاۡتِیَہُمُ السَّاعَۃُ بَغۡتَۃً اَوۡ یَاۡتِیَہُمۡ عَذَابُ یَوۡمٍ عَقِیۡمٍ ﴿۵۵﴾

But those who disbelieve will not cease to be in doubt of it until the Hour comes upon them unexpectedly or there comes to them the punishment of a barren Day.

کافر اس وحی الٰہی میں ہمیشہ شک شبہ ہی کرتے رہیں گے حتٰی کہ اچانک ان کے سروں پر قیامت آجائے یا ان کے پاس اس دن کا عذاب آجائے جو منحوس ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Disbelievers will remain in Doubt and Confusion Allah tells: وَلاَ يَزَالُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي مِرْيَةٍ مِّنْهُ ... And those who disbelieved, will not cease to be in doubt about it, Allah tells us that the disbelievers will remain in doubt concerning this Qur'an. This was the view of Ibn Jurayj and was the view favored by Ibn Jarir. ... حَتَّى تَأْتِيَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً ... until the Hour comes suddenly upon them, Mujahid said: "By surprise." Qatadah said: بَغْتَةً (suddenly), means, the command of Allah will catch the people unaware. Allah never seizes a people except when they are intoxicated with pride, enjoying a life of luxury, and they think that the punishment will never come upon them, but Allah does not punish anyone except the evildoers. ... أَوْ يَأْتِيَهُمْ عَذَابُ يَوْمٍ عَقِيمٍ or there comes to them the torment of Yawm `Aqim. Mujahid said, "Ubay bin Ka`b said: `Yawm `Aqim means the day of Badr."' Ikrimah and Mujahid said: "Yawm `Aqim means the Day of Resurrection, following which there will be no night." This was also the view of Ad-Dahhak and Al-Hasan Al-Basri. Allah says:

کافروں کے دل سے شک وشبہ نہیں جائے گا یعنی کافروں کو جوشک شبہ اللہ کی اس وحی یعنی قرآن میں ہے وہ ان کے دلوں سے نہیں جائے گا ۔ شیطان یہ غلط گمان قیامت تک ان کے دلوں سے نہ نکلنے دے گا ۔ قیامت اور اس کے عذاب ان کے پاس ناگہاں آجائیں گے ۔ اس وقت یہ محض بےشعور ہوں گے جو مہلت انہیں مل رہی ہے اس سے یہ مغرور ہوگئے ۔ جس قوم کے پاس اللہ کے عذاب آئے اسی حالت میں آئے کہ وہ ان سے نڈر بلکہ بےپروا ہوگئے تھے اللہ کے عذابوں سے غافل وہی ہوتے ہیں جو پورے فاسق اور اعلانیہ مجرم ہوں ۔ یا انہیں بےخبر دن عذاب پہنچے جو دن ان کے لئے منحوس ثابت ہوگا ۔ بعض کا قول ہے کہ اس سے مراد یوم بدر ہے اور بعض نے کہا ہے مراد اس سے قیامت کا دن ہے یہی قول صحیح ہے گو بدر کا دن بھی ان کے لئے عذاب اللہ کا دن تھا ۔ اس دن صرف اللہ کی بادشاہت ہوگی جیسے اور آیت میں ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کا مالک ہے ۔ اور آیت میں ہے اس دن رحمن کا ہی ملک ہوگا اور وہ دن کافروں پر نہایت ہی گراں گزرے گا ۔ فیصلے خود اللہ کرے گا ۔ جن کے دلوں میں اللہ پر ایمان رسول کی صداقت اور ایمان کے مطابق جن کے اعمال تھے جن کے دل اور عمل میں موافقت تھی ۔ جن کی زبانیں دل کے مانند تھیں وہ جنت کی نعمتوں میں مالا مال ہوں گے جو نعمتیں نہ فنا ہوں نہ گھٹیں نہ بگڑیں نہ کم ہوں ۔ جن کے دلوں میں حقانیت سے کفر تھا ، جو حق کو جھٹلاتے تھے ، نبیوں کے خلاف کرتے تھے ، اتباع حق سے تکبر کرتے تھے ان کے تکبر کے بدلے انہیں ذلیل کرنے والے عذاب ہوں گے ۔ جیسے فرمان ہے آیت ( اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ 60؀ۧ ) 40-غافر:60 ) جو لوگ میری عبادتوں سے سرکشی کرتے ہیں وہ ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

55۔ 1 یَوْمِ عَقِیْمِ (بانجھ دن) سے مراد قیامت کا دن ہے۔ اسے عقیم اس لئے کہا گیا ہے کہ اس کے بعد کوئی دن نہیں ہوگا، جس طرح عقیم اس کو کہا جاتا ہے جس کی اولاد نہ ہو۔ یا اس لئے کہ کافروں کے لئے اس دن کوئی رحمت نہیں ہوگی، گویا ان کے لئے خیر سے خالی ہوگا۔ جس طرح باد تند کو، جو بطور عذاب کے آتی رہی ہے الرِّیْحَ الْعَقِیْمَ کہا گیا ہے۔ (اِذْ اَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الرِّيْحَ الْعَقِيْمَ ) 51 ۔ الذاریات :41) جب ہم نے ان پر بانجھ ہوا بھیجی۔ یعنی ایسی ہوا جس میں کوئی خیر تھی نہ بارش کی نوید

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٨٤] یعنی ان ہٹ دھرم کافروں کا یہ حال ہے کہ یہ جوتے کھا کر ہی سیدھے رہ سکتے ہیں۔ اس سے پہلے یہ ماننے والے نہیں یا تو ان کا یہ شک قیامت کا دن دیکھ کر دور ہوگا۔ جب سب حقائق اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔ یا عذاب الٰہی کا منحوس دن دیکھ کر، جس سے ان کے بچنے کی کوئی صورت نہ ہوگی اور نہ ہی اس دن کے بعد انھیں اگلا دن دیکھنا نصیب ہوگا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَا يَزَالُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فِيْ مِرْيَةٍ مِّنْهُ ۔۔ : یعنی کفار اس قرآن کے متعلق ہمیشہ کسی نہ کسی شک میں مبتلا رہیں گے، خواہ وہ شیطان کا پیدا کردہ ہو یا خود ان کے نفس کا اور اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک ان کے پاس قیامت کی گھڑی نہ آجائے، یا یوم عقیم (بانجھ دن) کا عذاب نہ آجائے۔ بانجھ دن سے مراد قیامت کا دن ہے، اسے عقیم اس لیے کہا گیا ہے کہ اس کے بعد کوئی دن نہیں ہوگا، جس طرح عقیم اسے کہا جاتا ہے جس کی اولاد نہ ہو، یا اس لیے کہ کفار کے لیے اس دن میں کوئی خیر نہیں ہوگی، جس طرح آندھی کو جو عذاب کے طور پر آئی ” الرِّيْحَ الْعَقِيْمَ “ (ہر خیر سے خالی ہوا) کہا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ۭوَفِيْ عَادٍ اِذْ اَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الرِّيْحَ الْعَقِيْمَ ) [ الذاریات : ٤١ ] ” اور عاد میں (بھی نشانی ہے) جب ہم نے ان پر بانجھ (خیر و برکت سے خالی) ہوا بھیجی۔ “ اس یوم عقیم سے کیا مراد ہے ؟ بعض مفسرین نے اس سے مراد یوم بدر لیا ہے کہ اس میں کفار کے لیے کوئی خیر و برکت نہیں تھی۔ مگر یہ اس لیے درست نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ کافر اس یوم عقیم کا عذاب آنے تک شک میں رہیں گے، گویا اس دن کے آنے کے بعد کافروں کو کوئی شک نہیں رہے گا اور ظاہر ہے کہ بدر کے بعد بھی کافر موجود ہیں اور ان کے شکوک و شبہات بھی موجود ہیں۔ علاوہ ازیں اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے خود اس دن کی تعیین فرما دی ہے، فرمایا : (اَلْمُلْكُ يَوْمَىِٕذٍ لِّلّٰهِ ۭ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ ) [ الحج : ٥٦ ] ” تمام بادشاہی اس دن اللہ کی ہوگی، وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ “ معلوم ہوا کہ اس یوم عقیم سے مراد قیامت کا دن ہے اور مزید فرمایا : (يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَـيْــــًٔا ۭ وَالْاَمْرُ يَوْمَىِٕذٍ لِّلّٰهِ ) [ الانفطار : ١٧ تا ١٩ ] ” اور تجھے کس چیز نے معلوم کروایا کہ جزا کا دن کیا ہے ؟ پھر تجھے کس چیز نے معلوم کروایا کہ جزا کا دن کیا ہے ؟ جس دن کوئی جان کسی جان کے لیے کسی چیز کا اختیار نہ رکھے گی اور اس دن سب حکم اللہ کا ہوگا۔ “ اس پر یہ سوال ہے کہ اس سے تکرار لازم آتا ہے، کیونکہ ” السَّاعَةُ “ سے مراد بھی قیامت ہے۔ جواب یہ ہے کہ ” السَّاعَةُ “ میں قیامت کا ذکر ہے اور ” عَذَابُ يَوْمٍ عَقِيْمٍ “ میں قیامت کے دن کے عذاب کا ذکر ہے۔ خلاصہ آیت کا یہ ہے کہ کفار اس وقت سے پہلے ایمان نہیں لائیں گے جب ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَا يَزَالُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فِيْ مِرْيَۃٍ مِّنْہُ حَتّٰى تَاْتِيَہُمُ السَّاعَۃُ بَغْتَۃً اَوْ يَاْتِيَہُمْ عَذَابُ يَوْمٍ عَقِيْمٍ۝ ٥٥ زال ( لایزال) مَا زَالَ ولا يزال خصّا بالعبارة، وأجریا مجری کان في رفع الاسم ونصب الخبر، وأصله من الیاء، لقولهم : زَيَّلْتُ ، ومعناه معنی ما برحت، وعلی ذلك : وَلا يَزالُونَ مُخْتَلِفِينَ [هود/ 118] ، وقوله : لا يَزالُ بُنْيانُهُمُ [ التوبة/ 110] ، وَلا يَزالُ الَّذِينَ كَفَرُوا [ الرعد/ 31] ، فَما زِلْتُمْ فِي شَكٍّ [ غافر/ 34] ، ولا يصحّ أن يقال : ما زال زيد إلّا منطلقا، كما يقال : ما کان زيد إلّا منطلقا، وذلک أنّ زَالَ يقتضي معنی النّفي، إذ هو ضدّ الثّبات، وما ولا : يقتضیان النّفي، والنّفيان إذا اجتمعا اقتضیا الإثبات، فصار قولهم : ما زَالَ يجري مجری (کان) في كونه إثباتا فکما لا يقال : کان زيد إلا منطلقا لا يقال : ما زال زيد إلا منطلقا . ( زی ل ) زالہ یزیلہ زیلا اور مازال اور لایزال ہمیشہ حرف نفی کے ساتھ استعمال ہوتا ہے اور یہ کان فعل ناقص کی طرح اپنے اسم کی رفع اور خبر کو نصب دیتے ہیں اور اصل میں یہ اجوف یائی ہیں کیونکہ عربی زبان میں زیلت ( تفعیل ) یاء کے ساتھ استعمال ہوتا ہے اور مازال کے معنی ہیں مابرح یعنی وہ ہمیشہ ایسا کرتا رہا ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَلا يَزالُونَ مُخْتَلِفِينَ [هود/ 118] وہ ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے ۔ لا يَزالُ بُنْيانُهُمُ [ التوبة/ 110] وہ عمارت ہمیشہ ( ان کے دلوں میں باعث اضطراب بنی ) رہیگی ۔ وَلا يَزالُ الَّذِينَ كَفَرُوا [ الرعد/ 31] کافر لوگ ہمیشہ ۔۔۔ رہیں گے ۔ فَما زِلْتُمْ فِي شَكٍّ [ غافر/ 34] تم برابر شبہ میں رہے ۔ اور محاورہ میں مازال زید الا منطلقا کہنا صحیح نہیں ہے جیسا کہ ماکان زید الا منطلقا کہاجاتا ہے کیونکہ زال میں ثبت گی ضد ہونے کی وجہ نفی کے معنی پائے جاتے ہیں اور ، ، ما ، ، و ، ، لا ، ، بھی حروف نفی سے ہیں اور نفی کی نفی اثبات ہوتا ہے لہذا مازال مثبت ہونے میں گان کیطرح ہے تو جس طرح کان زید الا منطلقا کی ترکیب صحیح نہیں ہے اس طرح مازال زید الا منطلقا بھی صحیح نہیں ہوگا ۔ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔ مری المِرْيَةُ : التّردّد في الأمر، وهو أخصّ من الشّكّ. قال تعالی: وَلا يَزالُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي مِرْيَةٍ مِنْهُ [ الحج/ 55] والامتراء والممَارَاة : المحاجّة فيما فيه مرية . قال تعالی: قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِي فِيهِ يَمْتَرُونَ [ مریم/ 34] ( م ر ی) المریۃ کے معنی کسی معاملہ میں تردد ہوتا ہے ۔ کے ہیں اور یہ شک سے خاص قرآن میں ہے : وَلا يَزالُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي مِرْيَةٍ مِنْهُ [ الحج/ 55] اور کافر لوگ ہمیشہ اس سے شک میں رہیں گے۔ الامتراء والمماراۃ کے معنی ایسے کام میں جھگڑا کرنا کے ہیں ۔ جس کے تسلیم کرنے میں تردد ہو ۔ چناچہ قرآن میں ہے : قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِي فِيهِ يَمْتَرُونَ [ مریم/ 34] یہ سچی بات ہے جس میں لوگ شک کرتے ہیں ۔ ساعة السَّاعَةُ : جزء من أجزاء الزّمان، ويعبّر به عن القیامة، قال : اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ [ القمر/ 1] ، يَسْئَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ [ الأعراف/ 187] ( س و ع ) الساعۃ ( وقت ) اجزاء زمانہ میں سے ایک جزء کا نام ہے اور الساعۃ بول کر قیامت بھی مراد جاتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ [ القمر/ 1] قیامت قریب آکر پہنچی ۔ يَسْئَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ [ الأعراف/ 187] اے پیغمبر لوگ ) تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں ۔ بغت البَغْت : مفاجأة الشیء من حيث لا يحتسب . قال تعالی: لا تَأْتِيكُمْ إِلَّا بَغْتَةً [ الأعراف/ 187] ، وقال : بَلْ تَأْتِيهِمْ بَغْتَةً [ الأنبیاء/ 40] ، وقال : تَأْتِيَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً [يوسف/ 107] ( ب غ ت) البغت ( ف) کے معنی کسی چیز کا یکبارگی ایسی جگہ سے ظاہر ہوجانا کے ہیں ۔ جہاں سے اس کے ظہور کا گمان تک بھی نہ ہو ۔ قرآن میں ہے ۔ لا تَأْتِيكُمْ إِلَّا بَغْتَةً [ الأعراف/ 187 اور ناگہاں تم پر آجائے گی ۔ تَأْتِيَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً [يوسف/ 107] یا ان پر ناگہاں قیامت آجائے ۔ عقم أصل الْعُقْمِ : الیبس المانع من قبول الأثر «3» يقال : عَقُمَتْ مفاصله، وداء عُقَامٌ: لا يقبل البرء، والعَقِيمُ من النّساء : التي لا تقبل ماء الفحل . يقال : عَقِمَتِ المرأة والرّحم . قال تعالی: فَصَكَّتْ وَجْهَها وَقالَتْ عَجُوزٌ عَقِيمٌ [ الذاریات/ 29] ، وریح عَقِيمٌ: يصحّ أن يكون بمعنی الفاعل، وهي التي لا تلقح سحابا ولا شجرا، ويصحّ أن يكون بمعنی المفعول کالعجوز العَقِيمِ «4» وهي التي لا تقبل أثر الخیر، وإذا لم تقبل ولم تتأثّر لم تعط ولم تؤثّر، قال تعالی: إِذْ أَرْسَلْنا عَلَيْهِمُ الرِّيحَ الْعَقِيمَ [ الذاریات/ 41] ، ويوم عَقِيمٌ: لا فرح فيه . ( ع ق م ) العقم اصل میں اس خشکی کو کہتے ہیں جو کسی چیز کا اثر قبول کرنے سے مانع ہو چناچہ محاورہ ہے عقمت مفاصلتہ ( اس کے جوڑ بند خشک ہوگئے ) داء عقام لا علاج مرض ۔ العقیم ( بانجھ ) عورت کو مرد کا مادہ قبول نہ کرے چناچہ کہا جاتا ہے ۔ عقمت المرءۃ اولرحم عورت بانجھ ہوگئی یا رحم خشک ہوگیا ۔ قرآن میں ہے : فَصَكَّتْ وَجْهَها وَقالَتْ عَجُوزٌ عَقِيمٌ [ الذاریات/ 29] اور اپنا منہ لپیٹ کر کہنے لگی کہ ( اے ہے ایک تو بڑھیادوسرے ) بانجھ ۔ اور ریح عقیم ( خشک ہوا ) میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فعیل بمعنی فاعل ہو ۔ یعنی وہ ہوا جو بادلوں کو ساتھ نہیں لاتی یا درخت کو بار دار نہیں اور یہ بھی ہو ہوسکتا ہے کہ فعیل بمعنی مفعول ہو جیسا کہ العجوز العقیم میں ہے اس صورت میں ریح عقیم کے معنی ہوں گے وہ ہوا جو کسی چیز کا اثر اپنے اندر نہ رکھتی ہو چونکہ ایسی ہوا نہ کسی چیز اثر کو قبول کرتی ہے اور نہ کسی سے متاثر ہوتی ہے اس لئے نہ وہ کچھ دیتی اور نہ ہی کسی چیز پر اثر انداز ہوتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِذْ أَرْسَلْنا عَلَيْهِمُ الرِّيحَ الْعَقِيمَ [ الذاریات/ 41] جب ہم نے ان پر خشک ہو اچلائی ۔ یوم عقیم سخت دن جس میں کسی قسم کا سامان فرحت نہ ہو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥٥) اور رہ گئے یہ کافر ولید بن مغیرہ اور اس کے ساتھ تو یہ ہمیشہ قرآن کریم کے بارے میں شک ہی میں رہیں گے لیکن محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ان کو اس وقت دیکھنا جب اچانک ان پر قیامت آجائے گی یا ان پر کسی ایسے دن کا عذاب آپہنچے جس سے چھٹکارا نہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥٥ (وَلَا یَزَالُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِیْ مِرْیَۃٍ مِّنْہُ ) ” ان کے شکوک و شبہات تو کبھی ختم ہونے والے نہیں ہیں۔ (حَتّٰی تَاْتِیَہُمُ السَّاعَۃُ بَغْتَۃً اَوْ یَاْتِیَہُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَقِیْمٍ ) ” ” بانجھ دن “ سے مراد ایسا دن ہے جو ہر خیر سے خالی ہو۔ یعنی وہ دن جس میں کسی قوم کی بربادی کا فیصلہ ہوجائے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

102. The epithet “barren” has been applied to the day in its metaphorical and not literal sense. :A day is barren if all the plans, hopes and devices remain unproductive in it, or it does not bring forth its night. For instance, the days on which the people of Prophet Noah, the tribes of Aad and Thamud, the people of Lot and of Midian met with their destruction by scourge from Allah, were barren days in this sense, because those days did not bring forth any tomorrow for them, and no device of theirs could avert their doom.

سورة الْحَجّ حاشیہ نمبر :102 اصل میں لفظ عَقِیْم استعمال ہوا ہے جس کا لفظی ترجمہ بانجھ ہے ۔ دن کو بانجھ کہنے کے دو معنی ہو سکتے ہیں ۔ ایک یہ کہ وہ ایسا منحوس دن ہو جس میں کوئی تدبیر کارگر نہ ہو ، ہر کوشش الٹی پڑے ، اور ہر امید مایوسی میں تبدیل ہو جائے ۔ دوسرے یہ کہ وہ ایسا دن ہو جس کے بعد رات دیکھنی نصیب نہ ہو ۔ دونوں صورتوں میں مراد ہے وہ دن جس میں کسی قوم کی بربادی کا فیصلہ ہو جائے ۔ مثلاً جس روز قوم نوح پر طوفان آیا ، وہ اس کے لیے بانجھ دن تھا ۔ اسی طرح عاد ، ثمود ، قوم ، لوط ، اہل مَدْیَن ، اور دوسری سب تباہ شدہ قوموں کے حق میں عذاب الہٰی کے نزول کا دن بانجھ ہی ثابت ہو ۔ کیونکہ اس امروز کا کوئی چارہ گری ان کے لیے ممکن نہ ہوئی جس سے وہ اپنی قسمت کی بگڑی بنا سکتے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(22:55) لایزال۔ افعال ناقص سے ہے مضارع منفی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ زوال مصدر۔ وہ ہمیشہ رہے گا۔ مریۃ اسم مصدر مری مادہ۔ المریۃ کے معنی کسی معاملہ میں تردد کرنے کے ہیں اور یہ شک سے خاص ہوتا ہے ۔ گویا جس شک سے تردد پیدا ہوجائے اس کو مریۃ کہتے ہیں۔ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے فلا تک فی مریۃ مما یعبد ھولاء (11:109) تو یہ لوگ جو غیر خدا کی پرستش کرتے ہیں اس سے تم خلجان میں نہ پڑنا۔ بغتۃ۔ اچانک۔ یک دم۔ یکایک۔ یوم عقیم۔ سخت دن۔ منحوس دن۔ بےبرکت دن۔ العقم اصل میں اس خشکی کو کہتے ہیں جو کسی چیز کا اثر قبول کرنے سے مانع ہو۔ بانجھ عورت کو عقیم اس لئے کہتے ہیں کہ وہ مرد کا نفطہ قبول کرنے سے انکار کرتی ہے۔ یہاں مراد قیامت کا دن ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

3 ۔ مراد ہے قیامت ہی کے دن کا عذاب۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ مطلب یہ کہ یہ بدون مشاہدہ عذاب کفر سے باز نہ آویں گے، مگر اس وقت نافع نہ ہوگا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : حق کے سامنے جھکنے والوں کے مقابلے میں انکار کرنے والوں کا رویہّ ۔ اس سے پہلی آیت کی تشریح میں یہ اشارہ کیا ہے کہ ” اَلْعِلْم “ سے مراد قرآن و سنت کا علم ہے اور جو لوگ قرآن و سنت کا انکار کرتے ہیں وہ حق بات کے بارے میں ہمیشہ شک کا شکار رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ قیامت برپا ہوجائے یا ان پر منحوس دن وارد ہوجائے۔ یہاں ایک بنیادی اور اصولی بات کا ذکر فرما کر مومن اور کافر کے دل کی کیفیت کا فرق بیان کیا گیا ہے۔ مومن کے سامنے حق بات آئے تو اس کا دل اس کے سامنے جھک جاتا ہے۔ کافر کے سامنے حق پیش کیا جائے تو اس کا دل مزید شک میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے بارش کی مثال سامنے رکھنی چاہیے بارش پھول پر ہو تو وہ اور زیادہ خوبصورت دکھائی دیتا ہے اور اس کی مہک چار سو پھیلتی ہے۔ بارش گندگی کے ڈھیر پر برستی ہے تو اس کے تعفن میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ حق کے انکاری کے دل کی یہی کیفیت ہوتی ہے کہ وہ حق کو تسلیم کرنے کی بجائے اور دور ہوجاتا ہے۔” یوم عقیم “ کا معنی ہے ” منحوس دن “۔ حقیقتاً کوئی دن اور وقت منحوس نہیں ہوتا یہ بات اس حوالے سے کہی گئی ہے کہ کفار کے لیے وہ گھڑی یا دن منحوس بنا دیا جاتا ہے۔ اسی لیے قوم عاد پر مسلسل آٹھ دن آندھی کی صورت میں عذاب نازل کیا گیا۔ ان ایام کو اللہ تعالیٰ نے اَیَّامٍ نَّحِسَاتٍ کے الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے۔ جن کا معنٰی ہے منحوس دن۔ ( حٰم السجدۃ : ١٦) (وَعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لَا عَدْوٰی وَلَا طِےْرَۃَ وَ لَا ھَامَۃَ وَلاَ صَفَرَ وَفِرَّ مِنَ الْمَجْذُوْمِ کَمَا تَفِرُّ مِنَ الْاَسَدِ ۔ ) [ رواہ البخاری : باب الْجُذَامِ ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) ہی بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ‘ کوئی بھی بیماری متعدی نہیں۔ بد شگونی بھی نہیں ہے۔ نہ الوبد روح ہے اور نہ صفر کا مہینہ نحوست والا ہے۔ البتہ کوڑھے شخص سے اس طرح بھاگوجس طرح شیر سے بھاگتے ہو۔ “ (وَعَنْ عَاءِشَۃَ (رض) قَالَتْ کَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاَعْرَابِ یَاْتُوْنَ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَیَسْءَلُوْنَہُ عَنِ السَّاعَۃِفَکَانَ یَنْظُرُ اِلٰی اَصْغَرِھِمْ فَیَقُوْلُ اِنْ یَّعِشْ ھٰذَا لَا یُدْرِکُہُ الْھَرَمُ حَتّٰی تَقُوْمَ عَلَیْکُمْ سَاعَتُکُمْ ) [ رواہ البخاری : باب سَکَرَاتِ الْمَوْتِ ] ” حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کچھ دیہاتی نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے انہوں نے قیامت کے بارے میں سوال کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان میں سے سب سے چھوٹے کی طرف دیکھا اور فرمایا ‘ اگر یہ شخص زندہ رہا اس پر بڑھاپا نہیں آئے گا کہ تم پر قیامت قائم ہوجائے گی۔ “ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لَتَقُومَنَّ السَّاعَۃُ وَثَوْبُہُمَا بَیْنَہُمَا لَا یَطْوِیَانِہٖ وَلَا یَتَبَایَعَانِہٖ وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَۃُ وَقَدْ حَلَبَ لِقْحَتَہٗ لَا یَطْعَمُہٗ وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَۃُ وَقَدْ رَفَعَ لُقْمَتَہٗ إِلٰی فیہٖ وَلَا یَطْعَمُہَا وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَۃُ وَالرَّجُلُ یَلِیطُ حَوْضَہٗ لَا یَسْقِی مِنْہٗ ) [ رواہ احمد : مسند ابی ہریرہ ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کپڑا بیچنے اور خریدنے والے ابھی سمیٹ نہیں سکیں گے کہ قیامت آجائے گی۔ ایک آدمی اپنی اونٹنی کا دودھ دوہ رہا ہوگا اور وہ اس کو پی نہیں سکے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ کھانا کھانے والا لقمہ اپنے منہ کی طرف اٹھائے گا۔ اس کو کھا نہیں سکے گا تو قیامت قائم ہوجائے گی۔ ایک آدمی اپنا حوض ٹھیک کر رہا ہوگا وہ اس سے پانی پی نہیں سکے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ “ مسائل ١۔ کفر کرنے والے کا دل حق بات کے بارے میں متذبذب رہتا ہے۔ ٢۔ کفر پر قائم رہنے والا دنیا میں عذاب کے وقت اور قیامت قائم ہونے کے دن حق کا اعتراف کرے گا۔ تفسیر بالقرآن قیامت اچانک برپا ہوجائے گی : ١۔ بیشک قیامت آنے والی ہے۔ میں اس کو پوشیدہ رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہر کسی کو جزا یا سزا دی جائے۔ (طہٰ : ١٥) ٢۔ یقیناً قیامت آنے والی ہے۔ (الحجر : ٨٥) ٣۔ یقیناً قیامت آنے والی ہے اور اللہ قبروالوں کو اٹھائے گا۔ (الحج : ٧) ٤۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت برپا ہونے میں کوئی شک نہیں۔ (الکہف : ٢١) ٥۔ اے لوگو ! اللہ سے ڈر جاؤ بیشک قیامت کا زلزلہ بہت بڑا ہے۔ (الحج : ١) ٦۔ کافر ہمیشہ شک میں رہیں گے، یہاں تک کہ قیامت اچانک آجائے۔ (الحج : ٥٥) ٧۔ ہم نے قیامت کے دن جھٹلانے والوں کے لیے آگ کا عذاب تیار کیا ہے۔ (الفرقان : ١١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ولا یزال ……مھین (٦٥) یہ ان لوگوں کا انجام ہے جو اس قرآن کے ساتھ یہ سلوک کرتے ہیں۔ قرآن کریم نے اس مضمون کا ذکر اس تصریح کے بعد کیا ہے کہ انبیاء و رسل دعوت کے سلسلے میں نہایت شوق اور تمنا رکھتے ہیں اور شیطان ان کی راہ میں رکاوٹیں ڈالتا ہے کیونکہ لوگ جن کے بارے میں انبیاء تمنا کرتے ہیں ، ان کے دلوں میں شک رہتا ہے اس لئے کہ ان کے دلوں کے اندر دعوت اسلامی اچھی طرح بیٹھ نہیں سکی۔ یہ اسی طرح شک میں رہیں گے یہاں تک کہ اچانک قیامت آجائے یا ان پر کوئی منحوس دن آجائے۔ یعنی قیامت کے بعد کا عذاب قیامت کے دن کے لئے یوم عظیم استعمال ہوا ، کیونکہ اس کے بعد کوئی دوسرا دن نہ ہوگا۔ اس دن میں تمام اختیارات اللہ وحدہ کے پاس ہوں گے یہاں کسی کی بادشاہت نہ ہوگی۔ دنیا کی ظاہری بادشاہت بھی کسی کے پاس نہ ہوگی۔ صرف اللہ کا حکم چلے گا۔ اس دن تمام لوگوں کے فیصلے ان کی مقررہ جزاء عمل کے مطابق اللہ کرے گا۔ فالذین امنوا و عملوا الصلحت فی جنت النعیم (٢٢ : ٦٥) ” جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے وہ جنات نعیم (نعمتوں والی جنتوں) میں ہوں گے۔ “ والذین کفروا و کذبوا بایتنا فائولئک لھم عذاب مھین (٢٢ : ٨٥) ” اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا ہوگا ، ان کے لئے رسوا کن عذاب ہوگا۔ “

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

68:۔ ” وَلَا یَزَالُ الخ “۔ ” یَومٌ عَقِیْم “ سے مراد قیامت کا دن ہے یا جنگ بدر کا دن جیسا کہ کہ ابن عباس، مجاہد اور قتادہ (رض) سے منقول ہے۔ (قرطبی) پہلی صورت میں یہ فقط تخویف اخروی ہوگی اور دوسری صورت میں تخویف دنیوی بھی ہوگی۔ عقیم ای لامثل لہ فی عظم امرہ (مدارک) یعنی عقیم سے کہتے ہیں جس کا شدت میں مثل نہ ہو۔ حاصل یہ ہے کہ جو لوگ وساوس و شبہات کے تابع ہوتے ہیں وہ کبھی ہدایت نہیں پاسکتے وہ ہمیشہ قرآن کے بارے میں شک و شبہ میں مبتلا رہیں گے یہاں تک کہ اچانک قیامت آجائے یا وہ قیامت کے یا بدر کے المناک اور شدید ترین عذاب میں متبلا ہوجائیں اس وقت ان کے تمام شکوک و شبہات رفع ہوجائیں گے اور انہیں یقین ہوجائے گا۔ قرآن حق ہے۔ مسئلہ توحید حق ہے اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں مگر اس وقت اس ایمان و توحید کا کوئی فائدہ نہ ہوگا کیونکہ اس وقت وہ اپنے کفر و انکار اور جحود وعناد کی سزا پا چکے ہوں گے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(55) اور یہ لوگ جنہوں نے کفر کا شیوہ اختیار کررکھا ہے ہیمشہ اس آیت کے حکم اور مضمون میں شبہ ہی کرتے رہیں گے یہاں تک کہ ان پر اچانک قیامت آجائے یا ان پر ایک ایسے دن کا عذاب آجائے جو خیرو برکت سے خالی ہو یعنی اس وقت تک شک میں مبتلا رہیں گے اور شکوک و شبہات میں مبتلا رہیں گے جب تک ان پر قیامت یا قیامت کا عذاب نہ آجائے۔ عقیم جس کے ہاں اولاد نہ ہو اس سے عذاب کے دن کو تشبیہہ دی۔ بانجھ عورتوں سے تشبیہہ دینے کا سبب یہ ہے کہ اس دن کے بعد کوئی دن ایسا نہ ہوگا جس کو عظیم کہاجاسکے۔ حضرت ابن عباس (رض) ، ابی ابن کعب (رض) ، سعید بن جبیر (رض) اور عمرمہ (رض) نے کہا اس دن سے مراد یوم بدر ہے۔ حضرت مجاہد نے کہا قیامت ہے کیونکہ اس دن کوئی خیر نہیں نہ اس دن بارش ہے یہ دن سب دنوں سے جدا ہے۔ (واللہ اعلم بالصواب)