Surat ul Mominoon

Surah: 23

Verse: 111

سورة المؤمنون

اِنِّیۡ جَزَیۡتُہُمُ الۡیَوۡمَ بِمَا صَبَرُوۡۤا ۙ اَنَّہُمۡ ہُمُ الۡفَآئِزُوۡنَ ﴿۱۱۱﴾

Indeed, I have rewarded them this Day for their patient endurance - that they are the attainers [of success]."

میں نے آج انہیں ان کے اس صبر کا بدلہ دے دیا ہے کہ وہ خاطر خواہ اپنی مراد کو پہنچ چکے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

إِنِّي جَزَيْتُهُمُ الْيَوْمَ بِمَا صَبَرُوا ... Verily, I have rewarded them this Day for their patience; meaning, `for the harm and mockery that you inflicted on them, ... أَنَّهُمْ هُمُ الْفَايِزُونَ they are indeed the ones that are successful. I have caused them to attain the victory of joy, safety, Paradise and salvation from the Fire.'

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

1111دنیا میں اہل ایمان کے لئے ایک صبر آزما مرحلہ یہ بھی ہوتا ہے کہ جب دین و ایمان پر عمل کرتے ہیں تو دین سے ناآشنا اور ایمان سے بیخبر لوگ انھیں ہنسی مذاق و ملامت کا نشانہ بنا لیتے ہیں۔ کتنے ہی کمزور ایمان والے ہیں کہ وہ ان ملامتوں سے ڈر کر بہت سے احکام اللہ پر عمل کرنے سے کرتے ہیں، جیسے ڈاڑھی ہے، پردے کا مسئلہ ہے، شادی بیاہ کی ہندوانہ رسومات سے اجتناب ہے وغیرہ وغیرہ۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو کسی بھی ملامت کی پروا نہیں کرتے اور اللہ و رسول کی اطاعت سے کسی بھی موقع پر انحراف نہیں کرتے، اللہ تعالیٰ قیامت والے دن انھیں اس کی بہترین جزا عطا فرمائے گا اور انھیں کامیابی سے سرفراز کرے گا۔ جیسا کہ اس آیت سے واضح ہے۔ اللَّھُمَّ ! اَجْعَلْنَا مِنْھُمْ ۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٠٤] لیکن تمہارے اس تمسخر اور مذاق کے مقابلہ میں میرے مخلص بندے دنیا میں صبر ہی کرتے رہے۔ آج میں تمہیں تمہاری کرتوتوں کی پوری سزا دوں گا اور انھیں ان کے صبر کی پوری پوری جزاء دے رہا ہوں۔ میں انھیں ایسا مقام عطا کر رہا ہوں جہاں وہ ہر طرح کی لذتوں اور مسرتوں سے ہمکنار ہوں گے اور یہی صبر کرنے والے لوگ ہیں جو ہر طرح سے کامیاب رہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِنِّىْ جَزَيْتُهُمُ الْيَوْمَ ۔۔ : دنیا میں اہل ایمان کے لیے ایک صبر آزما مرحلہ یہ ہوتا ہے کہ جب وہ دین پر عمل کرتے ہیں تو دین سے جاہل اور ایمان سے بیخبر لوگ انھیں ہنسی مذاق اور ملامت کا نشانہ بنا لیتے ہیں۔ کتنے ہی کمزور ایمان والے ہیں جو ان ملامتوں سے ڈر کر بہت سے احکام الٰہی پر عمل کرنے سے گریز کرتے ہیں، جیسے مشرکانہ رسوم سے کنارہ کشی اور ان کا رد ہے، ڈاڑھی ہے، پردے کا مسئلہ ہے، شادی بیاہ اور موت وغیرہ کی ہندوانہ رسوم سے اجتناب ہے وغیرہ وغیرہ۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو کسی بھی ملامت کی پروا نہیں کرتے اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے کسی بھی موقع پر انحراف نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن انھیں اس کی بہترین جزا عطا فرمائے گا اور انھی کو کامیابی سے سرفراز فرمائے گا۔ یا اللہ ! تو ہمیں بھی ان خوش نصیبوں میں شامل فرما۔ (آمین) سورة مطففین کی آیات (٢٩ تا ٣٦) بھی ملاحظہ فرمائیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنِّىْ جَزَيْتُہُمُ الْيَوْمَ بِمَا صَبَرُوْٓا۝ ٠ۙ اَنَّہُمْ ہُمُ الْفَاۗىِٕزُوْنَ۝ ١١١ جزا الجَزَاء : الغناء والکفاية، وقال تعالی: لا يَجْزِي والِدٌ عَنْ وَلَدِهِ وَلا مَوْلُودٌ هُوَ جازٍ عَنْ والِدِهِ شَيْئاً [ لقمان/ 33] ، والجَزَاء : ما فيه الکفاية من المقابلة، إن خيرا فخیر، وإن شرا فشر . يقال : جَزَيْتُهُ كذا وبکذا . قال اللہ تعالی: وَذلِكَ جَزاءُ مَنْ تَزَكَّى [ طه/ 76] ، ( ج ز ی ) الجزاء ( ض ) کافی ہونا ۔ قرآن میں ہے :۔ { لَا تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا } ( سورة البقرة 48 - 123) کوئی کسی کے کچھ کام نہ آئے گا ۔ کہ نہ تو باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آئے اور نہ بیٹا اپنے باپ کے کچھ کام آسکیگا ۔ الجزاء ( اسم ) کسی چیز کا بدلہ جو کافی ہو جیسے خیر کا بدلہ خیر سے اور شر کا بدلہ شر سے دیا جائے ۔ کہا جاتا ہے ۔ جزیتہ کذا بکذا میں نے فلاں کو اس ک عمل کا ایسا بدلہ دیا قرآن میں ہے :۔ وَذلِكَ جَزاءُ مَنْ تَزَكَّى [ طه/ 76] ، اور یہ آں شخص کا بدلہ ہے چو پاک ہوا ۔ صبر الصَّبْرُ : الإمساک في ضيق، والصَّبْرُ : حبس النّفس علی ما يقتضيه العقل والشرع، أو عمّا يقتضیان حبسها عنه، وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] ، وسمّي الصّوم صبرا لکونه کالنّوع له، وقال عليه السلام :«صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر» ( ص ب ر ) الصبر کے معنی ہیں کسی کو تنگی کی حالت میں روک رکھنا ۔ لہذا الصبر کے معنی ہوئے عقل و شریعت دونوں یا ان میں سے کسی ایک کے تقاضا کے مطابق اپنے آپ کو روک رکھنا ۔ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] صبر کرنے والے مرو اور صبر کرنے والی عورتیں اور روزہ کو صبر کہا گیا ہے کیونکہ یہ بھی ضبط نفس کی ایک قسم ہے چناچہ آنحضرت نے فرمایا «صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر» ماه رمضان اور ہر ماہ میں تین روزے سینہ سے بغض کو نکال ڈالتے ہیں فوز الْفَوْزُ : الظّفر بالخیر مع حصول السّلامة . قال تعالی: ذلِكَ الْفَوْزُ الْكَبِيرُ [ البروج/ 11] ، فازَ فَوْزاً عَظِيماً [ الأحزاب/ 71] ، ( ف و ز ) الفوز کے معنی سلامتی کے ساتھ خیر حاصل کرلینے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے ۔ ذلِكَ الْفَوْزُ الْكَبِيرُ [ البروج/ 11] یہی بڑی کامیابی ہے ۔ فازَ فَوْزاً عَظِيماً [ الأحزاب/ 71] تو بیشک بڑی مراد پایئکا ۔ یہی صریح کامیابی ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١١١) میں نے انھیں آج ان کے صبر کا بدلہ جنت کی صورت میں دیا کیوں کہ وہ میری اطاعت پر ثابت قدم رہے اور تمہاری تکالیف پر انہوں نے صبر کیا اور یہی حضرات جنت کے ملنے اور دوزخ سے نجات حاصل ہونے کی وجہ سے کامیاب ہوئے۔ یہ آیت مبارکہ ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیوں کہ وہ لوگ حضرت سلمان فارسی (رض) اور ان کے ساتھیوں کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

99. This is again a reference to those who will deserve success or be doomed to failure in the Hereafter.

سورة الْمُؤْمِنُوْن حاشیہ نمبر :99 پھر اسی مضمون کا اعادہ ہے کہ فلاح کا مستحق کون ہے اور خسران کا مستحق کون ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(23:111) اس آیت شریف میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع وہی فریق (اللہ تعالیٰ کے بندوں کا) ہے جن کے متعلق ارشاد ہوا ہے کہ یقولون ربنا امنا۔۔ خیر الراحمین۔ بما صبروا میں باء سببیہ ہے۔ ای بسبب صبرہم علی اذیتکم تمہاری تکلیف دہی پر صبر کرنے کی وجہ سے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

7 ۔ بلکہ لفظی ترجمہ یوں ہے کہ وہی بامراد ہیں “۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ مطلب جواب کا یہ ہوا کہ تمہارا قصور اس قابل نہیں کہ سزا کے وقت اقرار کرنے سے معاف کردیا جاوے۔ کیونکہ تم نے ایسا معاملہ کیا جس سے ہمارے حقوق کا بھی اتلاف ہوا۔ اور حقوق العباد کا بھی، اور عباد بھی کیسے ؟ ہمارے مقبول اور محبوب جو ہم سے خصوصیت خاصہ رکھتے تھے، پس اس کی سزا کے لئے دوام اور تمام مناسب ہے، اور مومنین کو جزائے فوز دینا منجملہ تمام سزا ہے، کفار کے لئے، کیونکہ اعداء کی کامیابی سے روحانی تادیبی ہوتی ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

انی جزیتھم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ھم لفآئزون ” اس سخت اور توہین آمیز جواب کے بعد ایک نئے سوال و جواب کا سلسہ شروع ہوتا ہے جبکہ اس سوال و جواب میں ان کے ساتھ نہایت ہی توہین آمیز سلوک کیا گیا اور ان کو لاجواب کردیا گیا ہے۔ اب نیا سوال یہ آتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

81:۔ ” انی جزیتھم الیوم بما صبروا ا الخ “ تم نے اپنا حال تو دیکھ ہی لیا کہ کس عذاب میں مبتلا ہو۔ ان غریب مسلمانوں کا حال بھی سن لو جن سے تم تمسخر کرتے تھے اور جن کے بارے میں تمہاری خیال تھا کہ اللہ تعالیٰ انہیں کوئی مرتبہ نہیں دے گا آج میں نے ان کو ان کے صبر و تحمل کی پوری پوری جزا دی ہے اور آج وہ خوش و خرم ہیں اور کامیاب و کامران ہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(111) آج کے دن ہم نے اپنے ان بندوں کو اس صبر کا جو انہوں نے تمہاری یذا پر کیا تھا یہ صلا دیا کہ وہی ہیں اپنے مقصد میں کامیاب ہونے والے یعنی تم تو عذاب میں مبتلا ہو اور وہ اپنے صبر کا پھل بھی پاچکے جو تمہاری تکالیف پر وہ کیا کرتے تھے۔