Surat ul Mominoon

Surah: 23

Verse: 29

سورة المؤمنون

وَ قُلۡ رَّبِّ اَنۡزِلۡنِیۡ مُنۡزَلًا مُّبٰرَکًا وَّ اَنۡتَ خَیۡرُ الۡمُنۡزِلِیۡنَ ﴿۲۹﴾

And say, 'My Lord, let me land at a blessed landing place, and You are the best to accommodate [us].' "

اور کہنا کہ اے میرے رب! مجھے بابرکت اتارنا اتار اور تو ہی بہتر ہے اتارنے والوں میں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And say: `My Lord! Cause me to land at a blessed landing place, for You are the Best of those who bring to land."

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

291کشتی میں بیٹھ کر اللہ کا شکر ادا کرنا کہ ان ظالموں کو بالآخر غرق کر کے، ان سے نجات عطا فرمائی اور کشتی کے خیرو عافیت کے ساتھ کنارے پر لگنے کی دعا کرنا (وَقُلْ رَّبِّ اَنْزِلْنِيْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا وَّاَنْتَ خَيْرُ الْمُنْزِلِيْنَ ) 23 ۔ المومنون :29) 292نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، سواری پر بیٹھتے وقت یہ دعا پڑھا کرتے تھے۔ اللّٰہُ اَکْبَرْ ، اللّٰہ اَکْبَرْ ، ا للّٰہُ اَکْبَرْ (وَتَـقُوْلُوْاسُبْحٰنَ الَّذِيْ سَخَّــرَ لَنَا ھٰذَا وَمَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِيْنَ ) 43 ۔ الزخرف :13)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٤] یہ بھی اس دعا کا حصہ ہے جو خود اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو کشتی میں سوار ہوتے وقت سکھلائی تھی۔ اس دعاء میں (اَنْتَ خَیْرُ الْمُنْزِِِلْیْنَ ) کا ایک معنی تو ترجمہ سے واضح ہے اور اس کا دوسرا معنی یہ ہے کہ && تو بہت اچھا مہمان نواز ہے یا بہت اچھا میزبان ہے && جیسا کہ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں سے فرمایا تھا &&: کیا تم دیکھتے نہیں کہ میں ناپ میں بھی پورا دیتا ہوں اور مہمان نواز بھی بہت اچھا ہوں && (١٢: ٥٩) مطلب یہ کہ مجھے بابرکت جگہ پر کشتی سے اتارنا اور اترنے کے بعد ہمیں وافر رزق بھی مہیا فرمانا &&

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَقُلْ رَّبِّ اَنْزِلْنِيْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا : یہ نوح (علیہ السلام) کو سکھائی گئی دعا کا دوسرا حصہ ہے۔ ” مُنْزَلًا “ باب افعال میں سے مصدر میمی بھی ہے اور ظرف بھی، اتارنا اور اتارنے کی جگہ، یعنی اے میرے پروردگار ! تو مجھے اتار، ایسا اتارنا جو بابرکت ہو اور ایسی جگہ اتار جو بہت برکت والی ہو۔ بابرکت اتارنے سے مراد یہ ہے کہ سوار ہوتے وقت کوئی تکلیف نہ ہو اور جہاں اتریں وہاں کوئی آفت نہ آئے، ہر حال میں اور ہر جگہ بڑی رحمت و برکت شامل رہے۔ ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ تعالیٰ نے یہ دعا سکھائی : (وَقُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِيْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّاَخْرِجْنِيْ مُخْــرَجَ صِدْقٍ وَّاجْعَلْ لِّيْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِيْرًا ) [ بني إسرائیل : ٨٠ ] ” اور کہہ اے میرے رب ! داخل کر مجھے سچا داخل کرنا اور نکال مجھے سچا نکالنا اور میرے لیے اپنی طرف سے ایسا غلبہ بنا جو مددگار ہو۔ “ یہ دونوں دعائیں خود اللہ تعالیٰ کی سکھائی ہوئی ہیں جنھیں ” قل “ کہہ کر پڑھنے کا حکم دیا ہے۔ ان کی قبولیت میں کوئی شک نہیں، ان دونوں دعاؤں کو ورد زبان رکھنا چاہیے، خصوصاً گھر جاتے اور گھر سے نکلتے وقت اور یہ دعائیں کرتے ہوئے دنیا کی باعزت اور بابرکت منزل کے ساتھ ہماری اصل منزل جنت کی نیت بھی رکھنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں وہ باعزت اور بابرکت مقام عطا فرمائے۔ (آمین) وَّاَنْتَ خَيْرُ الْمُنْزِلِيْنَ : اس کا ایک مطلب تو وہ ہے جو اوپر ترجمے میں ہے اور ایک وہ ہے جو یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں سے کہا تھا : (وَاَنَا خَيْرُ الْمُنْزِلِيْنَ ) [ یوسف : ٥٩ ] ” اور میں بہترین مہمان ٹھہرانے والا (میزبان) ہوں۔ “ یعنی کشتی سے اترنے کے بعد تو ہی ہماری مہمان نوازی اور ہماری ضروریات کا بندوبست کرنے والا ہے اور تجھ سے بہتر مہمان نواز کوئی نہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَقُلْ رَّبِّ اَنْزِلْنِيْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا وَّاَنْتَ خَيْرُ الْمُنْزِلِيْنَ۝ ٢٩ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن دابۃ وہ سواری سے اتر پڑا ۔ نزل فی مکان کذا کسی جگہ پر ٹھہر نا انزل وافعال ) اتارنا قرآن میں ہے ۔ عذاب کے متعلق انزال کا لفظ استعمال ہوا ہے قرآن اور فرشتوں کے نازل کرنے کے متعلق انزال اور تنزیل دونوں لفظ استعمال ہوئے ہیں ان دونوں میں معنوی فرق یہ ہے کہ تنزیل کے معنی ایک چیز کو مرۃ بعد اخریٰ اور متفرق طور نازل کرنے کے ہوتے ہیں ۔ اور انزال کا لفظ عام ہے جو ایک ہی دفعہ مکمل طور کیس چیز نازل کرنے پر بھی بولا جاتا ہے چناچہ وہ آیات ملا حضہ ہو جہاں تنزیل لا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] اس کو امانت دار فر شتہ لے کر اترا ۔ ایک قرات میں نزل ہے ۔ وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اتارا برك أصل البَرْك صدر البعیر وإن استعمل في غيره، ويقال له : بركة، وبَرَكَ البعیر : ألقی بركه، واعتبر منه معنی اللزوم، فقیل : ابْتَرَكُوا في الحرب، أي : ثبتوا ولازموا موضع الحرب، وبَرَاكَاء الحرب وبَرُوكَاؤُها للمکان الذي يلزمه الأبطال، وابْتَرَكَتِ الدابة : وقفت وقوفا کالبروک، وسمّي محبس الماء بِرْكَة، والبَرَكَةُ : ثبوت الخیر الإلهي في الشیء . قال تعالی: لَفَتَحْنا عَلَيْهِمْ بَرَكاتٍ مِنَ السَّماءِ وَالْأَرْضِ [ الأعراف/ 96] ( ب رک ) البرک اصل میں البرک کے معنی اونٹ کے سینہ کے ہیں ( جس پر وہ جم کر بیٹھ جاتا ہے ) گو یہ دوسروں کے متعلق بھی استعمال ہوتا ہے اور اس کے سینہ کو برکۃ کہا جاتا ہے ۔ برک البعیر کے معنی ہیں اونٹ اپنے گھٹنے رکھ کر بیٹھ گیا پھر اس سے معنی لزوم کا اعتبار کر کے ابترکوا ا فی الحرب کا محاورہ استعمال ہوتا ہے جس کے معنی میدان جنگ میں ثابت قدم رہنے اور جم کر لڑنے کے ہیں براکاء الحرب الحرب وبروکاءھا سخت کا ر زار جہاں بہ اور ہی ثابت قدم رہ سکتے ہوں ۔ ابترکت الدبۃ چو پائے کا جم کر کھڑا ہوجانا برکۃ حوض پانی جمع کرنے کی جگہ ۔ البرکۃ کے معنی کسی شے میں خیر الہٰی ثابت ہونا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے ۔ لَفَتَحْنا عَلَيْهِمْ بَرَكاتٍ مِنَ السَّماءِ وَالْأَرْضِ [ الأعراف/ 96] تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکات ( کے دروازے ) کھول دیتے ۔ یہاں برکات سے مراد بارش کا پانی ہے اور چونکہ بارش کے پانی میں اس طرح خیر ثابت ہوتی ہے جس طرح کہ حوض میں پانی ٹہر جاتا ہے اس لئے بارش کو برکات سے تعبیر کیا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٩) اور جس وقت کشتی سے زمین پر اترنے لگو تو یوں کہنا اے میرے رب میرے یہاں اترنے میں برکت فرمائیے یعنی پانی اور سبزہ کی برکت ہو اور آپ دنیا وآخرت میں سب اتارنے والوں سے اچھے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٩ (وَقُلْ رَّبِّ اَنْزِلْنِیْ مُنْزَلًا مُّبٰرَکًا) ” پروردگار ! ہم تیری مہربانی اور تیرے حکم سے اس کشتی میں سوار ہوئے ہیں۔ ہمیں مستقبل کا کچھ علم نہیں۔ ہم نہیں جانتے اب یہ کشتی ہمیں لے کر کہاں کہاں جائے گی اور کہاں پر جا کر رکے گی۔ یہ معاملہ اب تیرے سپرد ہے۔ ہماری التجا ہے کہ اس کشتی سے ہمارے اترنے کو بھی بابرکت بنا دے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

31. “Landing” here does not simply mean touching and resting on the land, but it also implies the sense of hospitality, as if to say: O God, now we are Thy guests and Thou alone art our Host.

سورة الْمُؤْمِنُوْن حاشیہ نمبر :31 اتارنے سے مراد محض اتارنا ہی نہیں ہے ، بلکہ عربی محاورے کے مطابق اس میں میزبانی کا مفہوم بھی شامل ہے ۔ گویا اس دعا کا مطلب یہ ہے کہ خدایا اب ہم تیرے مہمان ہیں اور تو ہی ہمارا میزبان ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

6 ۔ برکت کے اتارنے سے مراد یہ ہے کہ سوار ہوتے وقت کوئی تکلیف نہ ہو اور جہاں اتریں وہاں کوئی آفت نہ آئے۔ ہر حل میں اور ہر جگہ تیری رحمت و برکت شامل حال رہے۔ اس آیت میں بندوں کو تعلیم دی گئی ہے کہ کسی سواری پر سوار ہوتے وقت اور اس سے اترتے وقت یہ دعا کیا کریں۔ بلکہ اپنے گھروں میں داخل ہوتے وقت بھی سلام کے بعد یہ دعا پڑھا کریں۔ (قرطبی۔ شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ یعنی اطمینان ظاہری و باطنی کے ساتھ رکھو۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) کے متعلق سلسلہ کلام جاری ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کو کشتی پر بیٹھنے اور اس سے اترنے کی دعا سکھلائی گئی چناچہ حضرت نوح (علیہ السلام) کشتی پر بیٹھے ہوئے اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ مسلسل دعا کرتے رہے ” اے میرے رب مجھے بابرکت انداز میں زمین پر اتارنا تو ہی بہتر انداز میں اتارنے والا ہے “ اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ نصیحت حاصل کرنے والوں کے لیے اس میں بہت سی نصیحت کے اسباق ہیں۔ یہ بھی فرمایا کہ ہم لوگوں کو آزماتے ہیں۔ ایمانداروں کو اللہ تعالیٰ عام طور پر مشکلات اور مصائب کے ذریعے آزماتا ہے اور ظالموں کو وسائل اور مہلت دے کر آزماتا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کو زمین پر اترنے کے لیے جو دعا سکھلائی گئی اس میں ” مُنَزَّلاً مُّبَارَکاً “ کے الفاظ آئے ہیں جن سے مراد خیروعافیت کیساتھ اترنا اور کسی کی بہتر انداز میں مہمان نوازی کرنا ہے۔ مؤرخین اور مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ سیلاب چالیس دن تک رہا جس کی کیفیت یہ تھی کہ پانی سب سے بلند پہاڑ کی چوٹی سے بھی بیس فٹ اونچا بہتا رہا۔ علاقہ میں کوئی چیز زندہ نہ بچی گویا کہ زمین کو اچھی طرح شرک و کفر کی غلاظت سے دھودیا گیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حکم صادر فرمایا کہ : اے زمین پانی کو جذب کرلے اور آسمان کو حکم ہوا کہ تھم جاؤ اس طرح ظالم قوم کا صفایا ہوا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی جودی پہاڑ کی چوٹی پر لنگر انداز ہوئی۔ جودی پہاڑ کردستان کے علاقہ میں جزیرۂ ابن عمر کے شمال مشرقی جانب واقع ہے۔ بائبل میں اس کشتی کے ٹھہرنے کی جگہ ارا ط بتائی گئی ہے جو آرمینیا کے ایک پہاڑ کا نام ہے جو ایک سلسلہ کوہستان کا نام بھی ہے۔ سلسلہ کوہستان کے معنی میں جس کو اراراط کہتے ہیں وہ آرمینیا کی سطح مرتفع سے شروع ہو کر جنوب میں کردستان تک چلتا ہے اور جبل الجودی اسی سلسلے کا ایک پہاڑ ہے جو آج بھی جودی ہی کے نام سے مشہور ہے۔ قدیم تاریخوں میں کشتی کے ٹھہرنے کی یہی جگہ بتائی گئی ہے۔ چناچہ حضرت مسیح سے ڈھائی سو برس پہلے بابل کے ایک مذہبی پیشوا بریاسس (Berasus) نے پرانی کلدانی روایات کی بنا پر اپنے ملک کی تاریخ لکھی ہے اس میں وہ کشتی نوح کے ٹھہرنے کا مقام جودی ہی بتاتا ہے۔ ارسطو کا شاگرد ابیڈینوس (Abydenus) بھی اپنی تاریخ میں اس کی تصدیق کرتا ہے۔ نیز وہ اپنے زمانہ کا حال بیان کرتا ہے کہ عراق میں بہت سے لوگوں کے پاس اس کشتی کے ٹکڑے محفوظ ہیں جنہیں وہ گھول گھول کر بیماروں کو پلاتے ہیں۔ یہ طوفان، جس کا ذکر یہاں کیا گیا ہے، عالمگیر طوفان تھا یا اس خاص علاقے میں آیا تھا جہاں حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم آباد تھی۔ یہ ایسا سوال ہے جس کا فیصلہ آج تک نہیں ہوا۔ اسرائیلی روایات کی بنا پر عام خیال یہی ہے کہ یہ طوفان تمام روئے زمین پر آیا تھا (پیدائش ٧: ١٨۔ ٢٤) مگر قرآن میں یہ بات نہیں کہی گئی۔ قرآن کے اشارات سے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ بعد کی انسانی نسلیں انہی لوگوں کی اولاد سے ہیں۔ جو طوفان نوح سے بچا لیے گئے تھے، لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ طوفان تمام روئے زمین پر آیا ہو، کیونکہ یہ بات اس طرح بھی صحیح ہوسکتی ہے کہ اس وقت تک بنی آدم کی آبادی اسی خطہ تک محدود ہو جہاں طوفان آیا تھا، اور طوفان کے بعد جو نسلیں پیدا ہوئی ہوں وہ بتدریج تمام دنیا میں پھیل گئی ہوں۔ اس نظریہ کی تائید دو چیزوں سے ہوتی ہے ایک یہ کہ دجلہ و فرات کی سرزمین میں تو ایک زبردست طوفان کا ثبوت نہیں ملتا جس سے کسی عالمگیر طوفان کا یقین کیا جاسکے۔ دوسری یہ کہ روئے زمین کی اکثر و بیشتر قوموں میں ایک طوفان عظیم کی روایات قدیم زمانے سے مشہور ہیں۔ حتی کہ آسٹریلیا، امریکہ اور نیو گنی جیسے دور دراز علاقوں کی پرانی روایات میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے۔ اس سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ کسی وقت ان سب قوموں کے آباء و اجداد ایک ہی خطہ میں آباد ہوں گے جہاں یہ طوفان آیا تھا جب ان کی نسلیں زمین کے مختلف حصوں میں پھیلیں تو یہ روایات ان کے ساتھ پھیل گئیں۔ (تفہیم القرآن، ج : ٢) واللہ اعلم ! مسائل ١۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کو کشتی پر بیٹھنے اور اترنے کی دعا سکھلائی گئی۔ ٢۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) کے واقعات میں نصیحت حاصل کرنے والوں کے لیے نصیحت کے اسباق ہیں۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ نیک اور برے لوگوں کو مختلف طریقوں سے آزماتا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کے آزمانے کے مختلف طریقے : ١۔ جنت میں داخلہ کے لیے آزمائش شرط ہے۔ (العنکبوت : ٢) ٢۔ پہلے لوگوں کو بھی آزمایا گیا۔ (العنکبوت : ٣) ٣۔ ڈر سے آزمائش۔ (البقرۃ : ١٥٥) ٤۔ فاقوں سے آزمائش۔ (البقرۃ : ١٥٥) ٥۔ مال و جان کی کمی کے ساتھ آزمائش۔ (البقرۃ : ١٥٥) ٦۔ اللہ نے موت وحیات کو انسان کے لیے آزمائش بنایا ہے۔ (الملک : ٢) ٧۔ اللہ نے انسانوں کی آزمائش کے لیے بعض کو بعض پر فوقیت دی۔ ( الانعام : ١٦٦) ٨۔ مال واولاد انسان کے لیے آزمائش ہے اللہ کے ہاں بہت بڑا اجر ہے۔ (التغابن : ١٥)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

29:۔ ” اِنَّ فِیْ ذَالِکَ الخ “” ذِالِکَ “ سے واقعہ مذکورہ کیطرف اشارہ ہے یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) اور مومنوں کو بچانے اور مشرکین کو ہلاک کرنے میں ہماری قدرت کا ملہ کی نشانیاں ہیں اور منکرین کے لیے عبرت اور موعظت ہے اللہ تعالیٰ انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے متبعین کی مدد کرتا اور ان کے دشمنوں اور منکرین توحید کو ہلاک کرتا ہے۔ ای دلالات علی کمال قدرۃ اللہ تعالیٰ وانہ ینصر انبیاء ہ و یھلک اعداءھم (قرطبی ج 12 ص 120) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(29) اور پروردگار کی جناب میں یوں کہیو اے میرے پروردگار مجھ کو کشتی سے برکت کا اتارنا اتاریو اور تو سب اتارنے والوں سے بہتر اتارنے والا ہے۔ یعنی جب کشتی میں سوار ہوجائے تو شکر کے ساتھ آئندہ کے لئے بھی بھلائی کی دعا کرنا یا اترتے وقت کے لئے دعا بتائی۔ بابرکت اتارنا یعنی ہر اعتبار سے اطمینان یا اترنے کی جگہ اور مکان آرام دہ ہو۔ مہمان کے اتارنے والوں میں آپ سب سے بہتر اتارنے والے ہیں کیونکہ آپ مہمان کے آرام و آسائش اور اس کے نفع اور نقصان پر قدرت رکھتے ہیں اور دوسرے قدرت نہیں رکھتے۔