Surat ul Mominoon

Surah: 23

Verse: 58

سورة المؤمنون

وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ بِاٰیٰتِ رَبِّہِمۡ یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿ۙ۵۸﴾

And they who believe in the signs of their Lord

اور جو اپنے رب کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And those who believe in the Ayat of their Lord; means, they believe in His universal and legislative signs, as Allah says about Maryam, peace be upon her: وَصَدَّقَتْ بِكَلِمَـتِ رَبَّهَا وَكُتُبِهِ and she testified to the truth of the Words of her Lord, and His Scriptures. (66:12), meaning that she believed that whatever existed was by the will and decree of Allah, and that whatever Allah decreed, if it was a command, it would be something that He liked and accepted; if it was a prohibition, it would be something that He disliked and rejected; and if it was good, it would be true. This is like the Ayah: وَالَّذِينَ هُم بِرَبِّهِمْ لاَا يُشْرِكُونَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَالَّذِيْنَ هُمْ بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ يُؤْمِنُوْنَ : دوسری صفت یہ کہ وہ اپنے رب کی آیات پر ایسا یقین رکھتے ہیں جو شک سے پاک ہے۔ چناچہ وہ یقین انھیں اس کی اطاعت کا پابند کرتا ہے اور اس کی نافرمانی سے باز رکھتا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَالَّذِيْنَ ہُمْ بِاٰيٰتِ رَبِّہِمْ يُؤْمِنُوْنَ۝ ٥٨ۙ الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری ( اصل ) شے کا بذاتہ اس نے ادراک نہ کیا ہو مگر یقین کرلیاجائے کہ اس نے اصل شے کا بھی ادراک کرلیا کیونکہ دونوں کا حکم ایک ہے اور لزوم کا یہ سلسلہ محسوسات اور معقولات دونوں میں پایا جاتا ہے چناچہ کسی شخص کو معلوم ہو کہ فلاں راستے پر فلاں قسم کے نشانات ہیں اور پھر وہ نشان بھی مل جائے تو اسے یقین ہوجائیگا کہ اس نے راستہ پالیا ہے ۔ اسی طرح کسی مصنوع کے علم سے لامحالہ اس کے صانع کا علم ہوجاتا ہے ۔ أمن والإِيمان يستعمل تارة اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ويقال لكلّ واحد من الاعتقاد والقول الصدق والعمل الصالح : إيمان . قال تعالی: وَما کانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمانَكُمْ [ البقرة/ 143] أي : صلاتکم، وجعل الحیاء وإماطة الأذى من الإيمان قال تعالی: وَما أَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَنا وَلَوْ كُنَّا صادِقِينَ [يوسف/ 17] قيل : معناه : بمصدق لنا، إلا أنّ الإيمان هو التصدیق الذي معه أمن، وقوله تعالی: أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيباً مِنَ الْكِتابِ يُؤْمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ [ النساء/ 51] فذلک مذکور علی سبیل الذم لهم، ( ا م ن ) الامن الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ { وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ } ( سورة البقرة 62) اور جو لوگ مسلما ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست (2 ۔ 62) میں امنوا کے یہی معنی ہیں اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید ہوۃ کا اقرار کر کے شریعت محمدی میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ اور کبھی ایمان کا لفظ بطور مدح استعمال ہوتا ہے اور اس سے حق کی تصدیق کرکے اس کا فرمانبردار ہوجانا مراد ہوتا ہے اور یہ چیز تصدیق بالقلب اقرار باللسان اور عمل بالجوارح سے حاصل ہوتی ہے اس لئے فرمایا ؛۔ { وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللهِ وَرُسُلِهِ أُولَئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ } ( سورة الحدید 19) اور جو لوگ خدا اور اس کے پیغمبر پر ایمان لائے ہیں روہی صدیق میں یہی وجہ ہے کہ اعتقاد قول صدق اور عمل صالح میں سے ہر ایک کو ایمان کہا گیا ہے چناچہ آیت کریمہ :۔ { وَمَا كَانَ اللهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ } ( سورة البقرة 143) ۔ اور خدا ایسا نہیں کہ تمہارے ایمان کو یوں ہی کھودے (2 ۔ 143) میں ایمان سے مراد نماز ہے اور (16) آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حیا اور راستہ سے تکلیف کے دور کرنے کو جزو ایمان قرار دیا ہے اور حدیث جبرائیل میں آنحضرت نے چھ باتوں کو کو اصل ایمان کہا ہے اور آیت کریمہ ؛۔ { وَمَا أَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَنَا وَلَوْ كُنَّا صَادِقِينَ } ( سورة يوسف 17) اور آپ ہماری بات کو گو ہم سچ ہی کہتے ہوں باور نہیں کریں گے (12 ۔ 17) میں مومن بمعنی مصدق ہے ۔ لیکن ایمان اس تصدیق کو کہتے ہیں جس سے اطمینان قلب حاصل ہوجائے اور تردد جاتا رہے اور آیت کریمہ :۔ { أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِنَ الْكِتَابِ } ( سورة النساء 44 - 51) من ان کی مذمت کی ہے کہ وہ ان چیزوں سے امن و اطمینان حاصل کرنا چاہتے ہیں جو باعث امن نہیں ہوسکتیں کیونکہ انسان فطری طور پر کبھی بھی باطل پر مطمئن نہیں ہوسکتا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

52. Signs here means both divine revelations to the Prophets and the signs found in man’s own self and in the universe around him. To believe in the verses of the Book is to affirm them, and to believe in the signs of human self and the universe is to affirm the realities which they point to.

سورة الْمُؤْمِنُوْن حاشیہ نمبر :52 آیات سے مراد دونوں طرح کی آیات ہیں ، وہ بھی جو خدا کی طرف سے اس کے انبیاء پیش کرتے ہیں ، اور وہ بھی جو انسان کے اپنے نفس میں اور ہر طرف آفاق میں پھیلی ہوئی ہیں ۔ آیات کتاب پر ایمان لانا ان کی تصدیق کرنا ہے ، اور آیات آفاق و اَنْفُس پر ایمان لانا ان حقیقتوں پر ایمان لانا ہے جن پر وہ دلالت کر رہی ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٥٨۔ ٦١:۔ اوپر کی آیتوں میں ان لوگوں کا ذکر تھا جو اللہ تعالیٰ کی خلاف مرضی کام کرتے ہیں ‘ ان آیتوں میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے موافق کاموں میں لگے رہتے ہیں ‘ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں جو لوگ نیک ٹھہر چکے ہیں وہ ایسے لوگ ہیں کہ نیک کام کرنے کے بعد بھی عذاب آخرت کا اندیشہ ان کو لگا رہتا ہے ‘ احکام الٰہی کی آیتوں کا ان کے دل میں کلام الٰہی ہونے کا پورا یقین ہے اس لیے وہ ان احکام کے موافق خالص دل سے عمل کرتے ہیں ‘ شرک یا ریاکاری کے طور پر اپنے اس دینی عمل میں کسی کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہراتے ‘ صدقہ ‘ خیرات اور ہر طرح کا نیک کام کرتے ہیں اور پھر بھی اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑے ہونے کے وقت کا یہ کھٹکا ان کے دل میں لگا ہوا ہے کہ اس وقت یہ نیک عمل بارگاہ الٰہی میں قبول ہونے کے قابل نکلتے ہیں یا نہیں آخر کو فرمایا یہ لوگ وہ ہیں جو ہر طرح کی بھلائی کی طرف پیش قدمی کر کے دوڑتے ہیں وَھُمْ لَھَا سَابِقُوْنَ کی تفسیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) کا صحیح قول یہی ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں نیک ٹھہر چکے ‘ ہیں۔ آخری آیت میں ان ہی کا ذکر ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت علی (رض) کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق جو لوگ دنیا میں پیدا ہونے سے پہلے نیک ٹھہر چکے ہیں دنیا میں پیدا ہونے کے بعد وہی لوگ نیک کاموں کے کرنے میں پیش قدمی کرتے ہیں اور ان ہی لوگوں کو نیک کام اچھے اور آسان معلوم ہوتے ہیں وَھُمْ لَھَا سَابِقُوْنَ کی جو تفسیر حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) کے قول کے موافق اوپر بیان کی گئی۔ اس حدیث سے اس کی پوری تائید ہوتی ہے ‘ مسند امام احمد ‘ ترمذی ‘ ابن ماجہ ‘ مستدرک حاکم وغیرہ میں حضرت عائشہ (رض) سے روایت ١ ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ یہ آیتیں ایسے لوگوں کی شان میں ہیں جو نیک کام کرتے ہیں اور پھر بھی ان کے دل میں یہ کھٹکا لگا ہوا ہے کہ ان کے وہ نیک کام بارگاہ الٰہی میں قبول ہونے کے قابل ہیں یا نہیں ‘ جس طرح کے لوگوں کی شان میں یہ آیتیں نازل ہوئی ہیں اس کا مطلب اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے ‘ اس شان نزول کی روایت کو صحیح کہا ٢ ؎ ہے ‘ صحیح بخاری میں ابوہریرہ (رض) سے روایت ٣ ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا منکر شریعت لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی اگر پوری رحمت کا حال معلوم ہوجاوے تو منکر لوگوں کو بھی جنت میں داخل ہونے کی امید پیدا ہوجاوے ‘ اسی طرح پابند شریعت نیک لوگوں کو عذاب الٰہی کا پورا حال معلوم ہوجاوے تو عذاب الٰہی کا خوف ان کے دل پر ہر وقت رہے ‘ اس حدیث سے حضرت عائشہ (رض) کی روایت کی پوری تائید ہوتی ہے کیونکہ مطلب ان دونوں حدیثوں کا قریب قریب ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ کہ ایماندار آدمی کو کسی حال میں عذاب الٰہی سے نڈر نہیں ہونا چاہیے۔ (١ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ٢٤٨ ج ٣ ) (٢ ؎ صحیح مسلم ص ٣٣٤ ج ٢ کتاب القدر ) (٣ ؎ تنقیح الرواۃ ص ٢٦ باب الایمان بالقدر )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

50:۔ ” وَالَّذِیْنَ ھُمْ بِاٰیٰتِ الخ “ اس میں ” قَدْ اَفْلَحَ الْمُوْمِنُوْنَ “ کا اعادہ ہے۔ ” وَالَّذِیْنَ ھُمْ بِرَبِّھِمْ لَایُشْرِکُوْنَ “ میں ” ھُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ “ کا اعادہ ہے۔ یہاں شرک سے بعض نے شرک خفی (ریاء) مراد لیا ہے لیکن محققین کی رائے یہ ہے کہ شرک عام ہے خواہ جلی ہو خواہ خفی۔ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی قسم کا شرک نہیں کرتے نہ شرک اعتقادی، نہ شرک فعلی اور نہ اپنے اعمال میں ریاء ہی کو شامل ہونے دیتے ہیں۔ اختار بعض المحققین التعمیم ای لایشرکون بہ تعالیٰ شرکا جل یا ولا خفیا ولعلہ الاولی (روح ج 18 ص 44) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(58) اور جو لوگ اپنے پروردگار کی آیتو پر ایمان رکھتے ہیں۔