Surat ul Furqan

Surah: 25

Verse: 32

سورة الفرقان

وَ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَوۡ لَا نُزِّلَ عَلَیۡہِ الۡقُرۡاٰنُ جُمۡلَۃً وَّاحِدَۃً ۚ ۛ کَذٰلِکَ ۚ ۛ لِنُثَبِّتَ بِہٖ فُؤَادَکَ وَ رَتَّلۡنٰہُ تَرۡتِیۡلًا ﴿۳۲﴾

And those who disbelieve say, "Why was the Qur'an not revealed to him all at once?" Thus [it is] that We may strengthen thereby your heart. And We have spaced it distinctly.

اور کافروں نے کہا اس پر قرآن سارا کا سارا ایک ساتھ ہی کیوں نہ اتارا گیا اسی طرح ہم نے ( تھوڑا تھوڑا کرکے ) اتارا تاکہ اس سے ہم آپ کا دل قوی رکھیں ، ہم نے اسے ٹھہر ٹھہر کر ہی پڑھ سنایا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Reason why the Qur'an was revealed in Stages, the Refutation of the Disbelievers, and their Evil End Allah tells: وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا ... And those who disbelieve say: Allah tells us about the many objections raised by the disbelievers, their stubbornness, and how they spoke of things which were none of their concern. They said: ... لَوْلاَ نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْانُ جُمْلَةً وَاحِدَةً ... "Why is not the Qur'an revealed to him all at once!" meaning, why was this Qur'an, which was revealed to him, not sent down all at one time, as the previous Books, the Tawrah, Injil, Zabur and other Divine Books. Allah answered them, telling them that it was revealed in stages over twenty-three years, according to events and circumstances, and whatever rulings were needed, in order to strengthen the hearts of the believers, as He says: وَقُرْءانًا فَرَقْنَاهُ And (it is) a Qur'an which We have divided (into parts)... (17:106) Allah says: ... كَذَلِكَ لِنُثَبِّتَ بِهِ فُوَادَكَ وَرَتَّلْنَاهُ تَرْتِيلً thus, that We may strengthen your heart thereby. And We have revealed it to you gradually, in stages. Qatadah said it means: "We have explained it." Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said it means: "We have given its interpretation."

قرآن حکیم مختلف اوقات میں کیوں اتارا کافروں کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ جیسے توریت ، انجیل ، زبور ، وغیرہ ایک ساتھ پیغمبروں پر نازل ہوتی رہیں ۔ یہ قرآن ایک ہی دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیوں نہ ہوا ؟ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ ہاں واقعی یہ متفرق طور پر اترا ہے ، بیس برس میں نازل ہوا ہے جیسے جیسے ضرورت پڑتی گئی جو جو واقعات ہوتے رہے احکام نازل ہوتے گئے تاکہ مومنوں کا دل جما رہے ۔ ٹھہر ٹھہر کر احکام اتریں تاکہ ایک دم عمل مشکل نہ ہوپڑے ، وضاحت کے ساتھ بیان ہوجائے ۔ سمجھ میں آجائے ۔ تفسیر بھی ساتھ ہی ساتھ ہوتی رہے ۔ ہم ان کے کل اعتراضات کا صحیح اور سچا جواب دیں گے جو ان کے بیان سے بھی زیادہ واضح ہوگا ۔ جو کمی یہ بیان کریں گے ہم ان کی تسلی کردیں گے ۔ صبح شام ، رات دن ۔ سفر حضر میں بار بار اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور اپنے خاص بندوں کی ہدایت کے لئے ہمارا کلام ہمارے نبی کی پوری زندگی تک اترتا رہا ۔ جس سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بزرگی اور فضلیت بھی ظاہر ہوتی رہی لیکن دوسرے انبیاء علیہم السلام پر ایک ہی مرتبہ سارا کلام اترا مگر اس سے بہترین نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تبارک وتعالیٰ باربار خطاب کرتا کہ اس قرآن کی عظمت بھی آشکار ہوجائے اس لیے یہ اتنی لمبی مدت میں نازل ہوا ۔ پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی سب نبیوں میں اعلیٰ اور قرآن بھی سب کلاموں میں بالا ۔ اور لطیفہ یہ ہے کہ قرآن کو دونوں بزرگیاں ملیں یہ ایک ساتھ لوح محفوظ سے ملا اعلیٰ میں اترا ۔ لوح محفوظ سے پورے کا پورا دنیا کے آسمان تک پہنچا ۔ پھر حسب ضرورت تھوڑا تھوڑا کرکے نازل ہوتا رہا ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں سارا قرآن ایک دفعہ ہی لیلۃ القدر میں دنیا کے آسمان پر نازل ہوا پھر بیس سال تک زمین پر اترتا رہا ۔ پھر اس کے ثبوت میں آپ نے آیت ( وَلَا يَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰكَ بِالْحَقِّ وَاَحْسَنَ تَفْسِيْرًا 33؀ۭ ) 25- الفرقان:33 ) اور آیت ( وَقُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ عَلَي النَّاسِ عَلٰي مُكْثٍ وَّنَزَّلْنٰهُ تَنْزِيْلًا ١٠٦؁ ) 17- الإسراء:106 ) تلاوت فرمائی ۔ اس کے بعد کافروں کی جو درگت قیامت کے روز ہونے والی ہے اس کا بیان فرمایا کہ بدترین حالت اور قبیح تر ذلت میں ان کا حشر جہنم کی طرف ہوگا ۔ یہ اوندھے منہ گھسیٹے جائیں گے یہی برے ٹھکانے والے اور سب سے بڑھ کر گمراہ ہیں ۔ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کافروں کا حشر منہ کے بل کیسے ہوگا ؟ آپ نے فرمایا کہ جس نے انہیں پیر کے بل چلایا وہ سر کے بل چلانے پر بھی قادر ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

321جس طرح تورات، انجیل اور زبور وغیرہ کتابیں بیک مرتبہ نازل ہوئیں۔ 322اللہ نے جواب میں فرمایا کہ ہم نے حالات و ضروریات کے مطابق اس قرآن کو23سال میں تھوڑا تھوڑا کر کے اتارا تاکہ اے پیغمبر ! تیرا اور اہل ایمان کا دل مضبوط ہو اور ان کے خوب ذہن نشین ہوجائے۔ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا (وَقُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ عَلَي النَّاسِ عَلٰي مُكْثٍ وَّنَزَّلْنٰهُ تَنْزِيْلًا) 17 ۔ الاسراء :106) ' اور قرآن، اس کو ہم نے جدا جدا کیا، تاکہ تو اسے لوگوں پر رک رک کر پڑھے اور ہم نے اس کو وقفے وقفے سے اتارا '۔ اس قرآن کی مثال بارش کی طرح ہے بارش جب بھی نازل ہوتی ہے مردہ زمین میں زندگی کی لہر دوڑ جاتی ہے اور یہ فائدہ بالعموم اسی وقت ہوتا ہے جب بارش وقتا فوقتا نازل ہو نہ کہ ایک ہی مرتبہ ساری بارش کے نزول سے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٣] کفار کے اعتراض کے الفاظ تو یہی ہوتے تھے لیکن وہ ان الفاظ سے مطلب کچھ اور ہی لیتے تھے جو یہ تھا کہ یہ نبی جیسے جیسے حالات رخ اختیار کرتے ہیں ساتھ کے ساتھ یہ قرآن کو تصنیف کرتا جاتا ہے۔ ورنہ اللہ تعالیٰ کو تو آنے والے حالات کا پہلے سے ہی علم ہے۔ اگر قرآن اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہوتا۔ تو اس میں ہر قسم کے حالات کے مطابق احکام یکبارگی بھی نازل ہوسکتے تھے۔ یہ اعتراض کرکے وہ گویا اللہ، اس کے رسول اور اس کے قرآن سب کی تکذیب اور ان پر افترا کرتے تھے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْلَا نُزِّلَ ۔۔ : یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کے منکروں کا پانچواں اعتراض ہے جو بالکل ہی بےکار ہے۔ اعتراض یہ تھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سارا قرآن ایک ہی دفعہ کیوں نازل نہیں کیا گیا ؟ یہ تھوڑا تھوڑا کر کے جو آ رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سوچ سوچ کر اسے تصنیف کرلیتے ہیں اور یہ انسانی کلام ہے۔ جواب اس کا یہ ہے کہ ہاں، اسے ایسے ہی تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کیا گیا ہے، کیونکہ اس میں بہت سی حکمتیں ہیں۔ اعتراض بےکار اس لیے ہے کہ قرآن کا دعویٰ ہے کہ چونکہ یہ اللہ کا کلام ہے، اس لیے ساری کائنات مل کر بھی اس کی ایک سورت کی مثل نہیں بنا سکتی۔ اس سے پہلے قرآن کا جو حصہ نازل ہوا ہے اس کی مثل تو یہ لوگ لا نہیں سکے، اگر پورا قرآن اکٹھا نازل ہوجائے تو اس کی مثل کیسے پیش کریں گے۔ پھر ایسا مطالبہ کیوں ؟ 3 یہاں بھی اگر ” وَقَالُوْا “ (اور انھوں نے کہا) کہہ دیا جاتا تو کافی تھا، مگر ” وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا “ اس لیے فرمایا کہ ان لوگوں نے جو یہ بات کی ہے اس کی وجہ اس مطالبے کا معقول ہونا نہیں بلکہ اس کا باعث صرف اور صرف کفر ہے، جب کوئی شخص انکار پر تل ہی جائے تو وہ ایسی ہی بےتکی ہانکا کرتا ہے۔ كَذٰلِكَ ڔ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ : یعنی اس طرح تھوڑا تھوڑا نازل کرنے میں بہت سے عظیم فائدے ہیں : 1 ان میں سے ایک یہ ہے کہ اس طرح ہم آپ کے دل کو مضبوط اور قائم رکھتے ہیں، اس طرح کہ جب مشکلات کا ہجوم ہوتا ہے، کفار کوئی اعتراض کرتے ہیں، یا کوئی مسئلہ پیش آتا ہے تو ہم وحی کے ذریعے سے اس کا حل بتا دیتے ہیں، اس طرح بار بار وحی کا نزول ہوتا ہے، جبریل (علیہ السلام) بار بار آپ کے پاس آتے ہیں، تو اس احساس سے آپ کی ڈھارس بندھ جاتی ہے، حوصلہ بڑھ جاتا ہے اور دل مضبوط ہوجاتا ہے کہ مالک ہمارے حال سے غافل نہیں، مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور ساتھ ساتھ رہنمائی فرما رہا ہے اور اپنے سب سے مقرب فرشتے کو ہمارے پاس بھیج رہا ہے۔ اگر جبریل (علیہ السلام) ایک ہی دفعہ پورا قرآن لا کر فارغ ہوجاتے تو بار بار پیش آنے والی مشکلات میں دل کو حوصلہ کیسے ملتا اور اسے وہ لذت و قوت کیسے حاصل ہوتی جو اس احساس سے حاصل ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قاصد اس کی طرف سے اس کا پیغام لے کر آیا ہے۔ ؂ وداع و وصل جدا گانہ لذتے دارد ہزار بار برو، صد ہزار بار بیا ” وداع و وصل الگ الگ لذت رکھتے ہیں، تو ہزار بار جا اور سو ہزار بار آ۔ “ 2 ایک وقت میں چند آیات اترنے سے ان کا سمجھنا آسان ہوتا تھا، موقع کی مناسبت سے ان کا مفہوم زیادہ متعین اور واضح ہوجاتا تھا، یہ امکان ختم ہوجاتا تھا کہ ہر شخص محض لفظوں کو لے کر ان کا جو مفہوم چاہے نکالتا پھرے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کے عمل میں آ کر ان آیات کی عملی تصویر بھی سامنے آجاتی تھی۔ ساری کتاب اکٹھی اترنے میں یہ بات نہ تھی۔ 3 اس طرح قرآن مجید اترنے میں احکام تدریج کے ساتھ اترے، جس سے امت کے لیے تخفیف ہوئی، اگر ایک ہی وقت میں چوری، ڈاکے، قتل، شراب، بہتان، زنا، غرض ہر گناہ کی حد بیان کردی جاتی تو اس پر عمل نہایت مشکل ہوتا۔ 4 مصلحت وقت کے لحاظ سے کئی احکام کچھ مدت تک کے لیے تھے، اس کے بعد انھیں منسوخ ہونا تھا، لہٰذا پوری کتاب نازل ہونے کی صورت میں یہ ممکن نہ تھا۔ 5 لوگوں کے سوالات کے حل اور کفار کے اعتراضات کے جواب کے لیے بار بار آیات کے نزول سے جو تسلی و تشفی ہوتی تھی وہ بیک وقت قرآن نازل ہونے سے کبھی نہ ہوسکتی تھی۔ 6 اہل عرب اُمّی لوگ تھے، جو لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے، ان کے لیے چند آیات کو حفظ کرنا آسان تھا، جو ہر موقع پر اترتیں۔ پورا قرآن اترنے میں یہ بات نہ تھی۔ اس طرح قرآن سینوں میں محفوظ ہوگیا، کاغذ کا محتاج نہ رہا۔ لکھی ہوئی پوری کتاب مسلسل یاد کرنے میں سستی ہوسکتی تھی، جس سے صرف لکھی ہوئی کتاب پر انحصار ہوجاتا، نتیجتاً قرآن بھی پہلی کتابوں کی طرح غیر محفوظ ہوجاتا۔ 7 چند آیات اترنے سے قرآن کا معجز اور بےمثال کتاب ثابت ہونا زیادہ واضح ہوتا تھا، جب بھی چند آیات اترتیں تو کفار کا ان کے جواب سے قاصر رہنا نمایاں ہوتا۔ اگر پورا قرآن ایک وقت میں اترتا تو اس کا اعجاز اتنا نمایاں نہ ہوتا۔ 8 دوسرے مقام پر فرمایا : (وَقُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ عَلَي النَّاسِ عَلٰي مُكْثٍ وَّنَزَّلْنٰهُ تَنْزِيْلًا) [ بني إسرائیل : ١٠٦ ] ” اور عظیم قرآن، ہم نے اس کو جدا جدا کر کے (نازل) کیا، تاکہ تو اسے لوگوں پر ٹھہر ٹھہر کر پڑھے اور ہم نے اسے نازل کیا، (تھوڑا تھوڑا) نازل کرنا۔ “ اس قرآن کی مثال بارش کی طرح ہے، بارش جب بھی نازل ہوتی ہے مردہ زمین میں زندگی کی لہر دوڑ جاتی ہے اور یہ فائدہ تبھی ہوتا ہے جب بارش وقتاً فوقتاً نازل ہو، نہ کہ ایک ہی مرتبہ ساری بارش ہوجائے۔ ایک مثال اس کی یہ ہے کہ کوئی استاد اپنے شاگرد کو ایک ہی دن میں ساری کتاب پڑھ کر سنا دے۔ وَرَتَّلْنٰهُ تَرْتِيْلًا :” تَرْتِيْلًا “ کا اصل ” تَرْتِیْلُ الْأَسْنَانِ “ سے ہے، ” دانتوں کے درمیان کچھ فاصلہ ہونا “ جیسے بابونہ کے پھول کی پتیاں ہوں، ایسے دانتوں کو ” ثَغْرٌ مُرتَّلٌ“ کہتے ہیں۔ یعنی اسی طرح قرآن ٹھہر ٹھہر کر تیئیس (٢٣) برس میں نازل ہوا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary The sequence of objections by the infidels and polytheists and their answers, which had started in the beginning of the Surah, is continuing. Here in this verse the objection as to why the Qur&an was revealed gradually bit by bit and not in one go is answered. The wisdom behind gradual revelation of the Qur&an as explained in the verse is that it was to keep the heart of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) firm and strong. By gradual revelation the Holy Prophet&s (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) heart was made strong in the following manner: 1. It was made easy for him to remember the Qur&an by heart. If the whole Book was revealed in one go, its remembrance by heart would not have been that easy. Remembrance of the Qur&an by heart expelled all worries from his heart. 2. Whenever an objection was raised by the infidels or a maltreatment was perpetrated, a verse would reveal to give him fortitude. In case the entire Qur’ an was revealed in one piece and the fortitude for the special occasion had also been mentioned in it, its search in the Book would have been painstaking. Moreover, it would have been uncertain whether or not the attention of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) would be drawn to the particular verse. 3. Instant response by way of revelation to answer awkward questions was by itself the confirmation of Allah Ta’ ala&s support which is the biggest source of strength for the heart. The wisdom of keeping the heart strong is not dependent on gradual revelations alone. Other factors in this regard are mentioned in the following verse of Surah Bani Isra&il وَقُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ عَلَي النَّاسِ عَلٰي مُكْثٍ (And We have divided the Qur&an in portion, so that you may recite it to the people gradually - 17:106). (Bayan ul-Qur’ an)

خلاصہ تفسیر اور کافر لوگ یوں کہتے ہیں کہ (پیغمبر) پر قرآن ایک ہی دفعہ کیوں نازل نہیں کیا گیا ( مقصود اس اعتراض سے یہ ہے کہ اگر خدا کا کلام ہوتا تو بتدریج نازل کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ اس بتدریج نازل کرنے سے تو یہ شبہ ہوتا ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود ہی سوچ سوچ کر تھوڑا تھوڑا بنالیتے ہیں آگے اس اعتراض کا جواب ہے کہ) اس طرح (تدریجاً ) اس لئے ( ہم نے نازل کیا) ہے تاکہ ہم اس کے ذریعے آپ کے دل کو قوی رکھیں اور (اسی لئے) ہم نے اس کو بہت ٹھہرا ٹھہرا کر اتارا ہے (چنانچہ تیئس سال کے عرصہ میں آہستہ آہستہ پورا ہوا) معارف و مسائل یہ وہی سلسلہ کفار و مشرکین کے اعتراضات و جوابات کا ہے جو شروع سورة سے چلا آرہا ہے۔ اس اعتراض کے جواب میں قرآن کو بتدریج نازل کرنے کی حکمت یہاں یہ بیان فرمائی ہے کہ اس کے ذریعہ آپ کے دل کو قوی رکھنا مقصود ہے۔ نزول تدریجی میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تقویت قلب کی چند وجوہ ہیں۔ اول یہ کہ یاد رکھنا آسان ہوگیا، ایک ضخیم کتاب بیک وقت نازل ہوجاتی تو یہ آسانی نہ رہتی اور آسانی کے ساتھ یاد ہوتے رہنے سے دل میں کوئی پریشانی نہیں رہتی۔ دوسرے جب کفار آپ پر کوئی اعتراض یا آپ کے ساتھ کوئی ناگوار معاملہ کرتے تو اسی وقت آپ کی تسلی کے لئے قرآن میں آیت نازل ہوجاتی اور اگر پورا قرآن ایک دفعہ آگیا ہوتا اور اس خاص واقعہ پر تسلی کا ذکر بھی نازل ہوگیا ہوتا تو بہر حال اس کو قرآن میں تلاش کرنے کی ضرورت پڑتی اور ذہن کا اس طرف متوجہ ہوجانا بھی عادة ضروری نہیں تھا۔ تیسرے پیغام خداوندی آنا تازہ شہادت ہے معیت خداوندی کی جو مدار اعظم ہے قوت قلب کا۔ اور اس جگہ جو حکمت تقویت قلب کی بتلائی گئی ہے نزول تدریجی کی حکمت اس میں منحصر نہیں دوسری حکمتیں بھی ہیں جن میں سے بعض سورة بنی اسرائیل کی آیت وَقُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ عَلَي النَّاسِ عَلٰي مُكْثٍ میں پہلے آچکی ہے۔ (بیان القران)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْہِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَۃً وَّاحِدَۃً۝ ٠ كَذٰلِكَ ۛ لِنُثَبِّتَ بِہٖ فُؤَادَكَ وَرَتَّلْنٰہُ تَرْتِيْلًا۝ ٣٢ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔ نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن دابۃ وہ سواری سے اتر پڑا ۔ نزل فی مکان کذا کسی جگہ پر ٹھہر نا انزل وافعال ) اتارنا قرآن میں ہے ۔ عذاب کے متعلق انزال کا لفظ استعمال ہوا ہے قرآن اور فرشتوں کے نازل کرنے کے متعلق انزال اور تنزیل دونوں لفظ استعمال ہوئے ہیں ان دونوں میں معنوی فرق یہ ہے کہ تنزیل کے معنی ایک چیز کو مرۃ بعد اخریٰ اور متفرق طور نازل کرنے کے ہوتے ہیں ۔ اور انزال کا لفظ عام ہے جو ایک ہی دفعہ مکمل طور کیس چیز نازل کرنے پر بھی بولا جاتا ہے چناچہ وہ آیات ملا حضہ ہو جہاں تنزیل لا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] اس کو امانت دار فر شتہ لے کر اترا ۔ ایک قرات میں نزل ہے ۔ وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اتارا قرآن والْقُرْآنُ في الأصل مصدر، نحو : کفران ورجحان . قال تعالی:إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] قال ابن عباس : إذا جمعناه وأثبتناه في صدرک فاعمل به، وقد خصّ بالکتاب المنزّل علی محمد صلّى اللہ عليه وسلم، فصار له کالعلم کما أنّ التّوراة لما أنزل علی موسی، والإنجیل علی عيسى صلّى اللہ عليهما وسلم . قال بعض العلماء : ( تسمية هذا الکتاب قُرْآناً من بين كتب اللہ لکونه جامعا لثمرة كتبه) بل لجمعه ثمرة جمیع العلوم، كما أشار تعالیٰ إليه بقوله : وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ [يوسف/ 111] ، وقوله : تِبْياناً لِكُلِّ شَيْءٍ [ النحل/ 89] ، قُرْآناً عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ [ الزمر/ 28] ، وَقُرْآناً فَرَقْناهُ لِتَقْرَأَهُ [ الإسراء/ 106] ، فِي هذَا الْقُرْآنِ [ الروم/ 58] ، وَقُرْآنَ الْفَجْرِ؂[ الإسراء/ 78] أي : قراء ته، لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ [ الواقعة/ 77] ( ق ر ء) قرآن القرآن ۔ یہ اصل میں کفران ورحجان کی طرف مصدر ہے چناچہ فرمایا :إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] اس کا جمع کرنا اور پڑھوانا ہمارے ذمہ جب ہم وحی پڑھا کریں تو تم ( اس کو سننا کرو ) اور پھر اسی طرح پڑھا کرو ۔ حضرت ابن عباس نے اس کا یہ ترجمہ کیا ہے کہ جب ہم قرآن تیرے سینہ میں جمع کردیں تو اس پر عمل کرو لیکن عرف میں یہ اس کتاب الہی کا نام ہے جو آنحضرت پر نازل ہوگئی ا وریہ اس کتاب کے لئے منزلہ علم بن چکا ہے جیسا کہ توراۃ اس کتاب الہی کو کہاجاتا ہے جو حضرت موسیٰ ٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی ۔ اور انجیل اس کتاب کو کہا جاتا ہے جو حضرت عیسیٰ پر نازل کی گئی ۔ بعض علماء نے قرآن کی وجہ تسمیہ یہ بھی بیان کی ہے کہ قرآن چونکہ تمام کتب سماویہ کے ثمرہ کو اپنے اندر جمع کئے ہوئے ہے بلکہ تمام علوم کے ماحصل کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے اس لئے اس کا نام قرآن رکھا گیا ہے جیسا کہ آیت : وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ [يوسف/ 111] اور ہر چیز کی تفصیل کرنے والا ۔ اور آیت کریمہ : تِبْياناً لِكُلِّ شَيْءٍ [ النحل/ 89] کہ اس میں ہر چیز کا بیان مفصل ہے ۔ میں اس کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے ۔ مزید فرمایا : قُرْآناً عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ [ الزمر/ 28] یہ قرآن عربی ہے جس میں کوئی عیب ( اور اختلاف ) نہیں ۔ وَقُرْآناً فَرَقْناهُ لِتَقْرَأَهُ [ الإسراء/ 106] اور ہم نے قرآن کو جزو جزو کرکے نازل کیا تاکہ تم لوگوں کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھ کر سناؤ ۔ فِي هذَا الْقُرْآنِ [ الروم/ 58] اس قرآن اور آیت کریمہ : وَقُرْآنَ الْفَجْرِ [ الإسراء/ 78] اور صبح کو قرآن پڑھا کرو میں قرآت کے معنی تلاوت قرآن کے ہیں ۔ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ [ الواقعة/ 77] یہ بڑے رتبے کا قرآن ہے ۔ جملة أجمل، واعتبر منه معنی الکثرة، فقیل لكلّ جماعة غير منفصلة : جُمْلَة، ومنه قيل للحساب الذي لم يفصّل والکلام الذي لم يبيّن : مُجْمَل، وقد أجملت الحساب، وأجملت في الکلام . قال تعالی: وَقالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْلا نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ جُمْلَةً واحِدَةً [ الفرقان/ 32] ، أي : مجتمعا لا کما أنزل نجوما مفترقة . وقول الفقهاء : المُجْمَل : ما يحتاج إلى بيان، فلیس بحدّ له ولا تفسیر، وإنما هو ذکر بعض أحوال الناس معه، والشیء يجب أن تبيّن صفته في نفسه التي بها يتمیز، وحقیقة المجمل : هو المشتمل علی جملة أشياء کثيرة غير ملخّصة . ۔ اجملت فے کذا کسی کام کو عمدگی سے سر انجام دینا اعتدال اختیار کرنا جمالک یعی اعتدال سے کام لو ۔ پھر اس سے کثرت کے معنی کا اعتبار کرکے ہر مجموعہ اشیاء کو جملہ کہتے ہیں اسی سے مجموعی حساب کو بھی جس کی تفصیل نہ کی گئی ہو جملۃ کہا جاتا ہے اور جس کلام کی تفصیل بیان نہ کی گئی ہو اسے مجمل کہا جاتا ہے اور اجملت الحساب واجملت فی الکلام کے معنی حساب یا کلام کو اجمال سے بیان کرنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے :۔ وَقالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْلا نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ جُمْلَةً واحِدَةً [ الفرقان/ 32] اور کافر کہتے ہیں کہ اس پر قرآن ایک ہی دفعہ کیوں نہ اتارا گیا ۔ اور فقہاء نے مجمل کی تعریف میں جو یہ کہا ہے کہ المجمل ما یحتاج الی بیان کہ مجمل وہ ہوتا ہے جو بیان کا محتاج ہو تو یہ مجمل کی تحدید یا تفسیر نہیں ہے بلکہ صرف اس کی ایک حالت کا ذکر ہے جو بعض لوگوں کو پیش آتی ہے اور شے کی تحدید میں اس کے کسی ایسے ذاتی وصف کا بیان کرنا ضروری ہوتا ہے جس سے وہ ممتاز ہوجائے اور مجمل در حقیقت وہ ہے جو بہت سی اشیاء کے ایسے مجموعہ پر مشتمل ہو جن کی تلخیص نہ کی گئی ہو ثبت الثَّبَات ضدّ الزوال، يقال : ثَبَتَ يَثْبُتُ ثَبَاتاً ، قال اللہ تعالی: يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذا لَقِيتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوا [ الأنفال/ 45] ( ث ب ت ) الثبات یہ زوال کی ضد ہے اور ثبت ( ن ) ثباتا کے معنی ایک حالت پر جمے رہنا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے :۔ يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذا لَقِيتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوا [ الأنفال/ 45] مومنو جب ( کفار کی ) کسی جماعت سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو ۔ فأد الْفُؤَادُ کالقلب لکن يقال له : فُؤَادٌ إذا اعتبر فيه معنی التَّفَؤُّدِ ، أي : التّوقّد، يقال : فَأَدْتُ اللّحمَ : شَوَيْتُهُ ، ولحم فَئِيدٌ: مشويٌّ. قال تعالی: ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى [ النجم/ 11] ، إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤادَ [ الإسراء/ 36] ، وجمع الفؤاد : أَفْئِدَةٌ. ( ف ء د ) الفواد کے معنی قلب یعنی دل کے ہیں مگر قلب کے فواد کہنا معنی تفود یعنی روشن ہونے کے لحاظ سے ہے محاورہ ہے فادت الحم گوشت گو آگ پر بھون لینا لحم فئید آگ میں بھنا ہوا گوشت ۔ قرآن میں ہے : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى [ النجم/ 11] جو کچھ انہوں نے دیکھا ان کے دل نے اس کو جھوٹ نہ جانا ۔ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤادَ [ الإسراء/ 36] کہ کان اور آنکھ اور دل فواد کی جمع افئدۃ ہے قرآن میں ہے فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ [إبراهيم/ 37] لوگوں کے دلوں کو ایسا کردے کہ ان کی طرف جھکے رہیں ۔ رتل الرَّتَلُ : اتّساق الشیء وانتظامه علی استقامة، يقال : رجل رَتَلُ الأسنان، والتَّرْتِيلُ : إرسال الکلمة من الفم بسهولة واستقامة . قال تعالی: وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا[ المزمل/ 4] ، وَرَتَّلْناهُ تَرْتِيلًا[ الفرقان/ 32] . ( ر ت ل ) الرتل کسی چیز کا حسن تناسب کے ساتھ منتظم اور مرتب ہونا رجل رَتَلُ الأسنان ۔ آدمی جس کے دانت آبدار اور حسن ترتیب کے ساتھ ہوں اور ترتیل کے معنی سہولت اور حسن تناسب کے ساتھ کسی کلمہ کو ادا کرنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا[ المزمل/ 4] اور تم قرآن کو خوب حسن ترتیب سے پڑھا کرو ۔ وَرَتَّلْناهُ تَرْتِيلًا[ الفرقان/ 32] اور ہم نے اسے نہایت عمدہ ترتیب اور تناسب کے ساتھ اتارا

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٢) اور ابوجہل اور اس کے ساتھی کہتے ہیں کہ جیسا کہ توریت موسیٰ (علیہ السلام) اور زبور داؤد (علیہ السلام) پر اور انجیل عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایک ہی دفعہ نازل کی گئی ہے اسی طرح یہ قرآن کریم ایک ہی بار کیوں نازل نہیں کیا گیا اسی طرح بذریعہ جبریل امین (علیہ السلام) تدریجا اس لیے نازل کیا ہے تاکہ اس کے ذریعے ہم آپ کے دل کو قوی رکھیں اور آپ کے دل میں اس کو محفوظ کردیں۔ شان نزول : ( آیت ) ”۔ وقال الذین کفروا لوانزل “۔ (الخ) ابن ابی حاتم (رح) اور حاکم (رح) نے تصحیح کے ساتھ اور ضیاء نے مختارہ میں حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ مشرکین کہنے لگے اگر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے دعوے کے مطابق نبی ہیں تو ان کا پروردگار ان کو عذاب نہیں دے گا باقی قرآن کریم ان پر ایک ہی بار کیوں نازل نہیں ہوتا، ایک ایک اور دو دو آیتیں کر کے کیوں نازل ہوتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، یعنی کافر لوگ یوں کہتے ہیں کہ ان پر یہ قرآن دفعتا کیوں نازل نہیں کیا گیا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٢ (وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَیْہِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَۃً وَّاحِدَۃً ج) ” قریش مکہّ کا قرآن پر ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ اگر واقعی یہ اللہ کا کلام ہے تو پھر اکٹھا ایک ساتھ ہی نازل کیوں نہیں ہوجاتا ؟ جیسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو پوری کی پوری تورات تختیوں پر لکھی ہوئی ایک ہی دفعہ دے دی گئی تھی۔ قرآن کو تھوڑا تھوڑا پیش کرنے سے مشرکین کو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایک شاعر کا گمان ہوتا تھا ‘ کیونکہ شاعر لوگ بھی ایک دم سے اپنا پورا کلام پیش نہیں کرسکتے۔ وہ ایک ایک دو دو غزلیں یا نظمیں لکھتے رہتے ہیں اور مدت کے بعد جا کر کہیں ان کے دیوان مکمل ہوتے ہیں۔ (کَذٰلِکَج لِنُثَبِّتَ بِہٖ فُؤَادَکَ ) ” اس کو ہم اچھی طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذہن نشین کرتے رہیں اور اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دل پوری طرح ٹھک جائے۔ (وَرَتَّلْنٰہُ تَرْتِیْلًا ) ” قرآن کو تھوڑا تھوڑا نازل کرنے میں ایک حکمت یہ بھی تھی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اہل ایمان کو ہر موقع محل کے مطابق بر وقت راہنمائی ملتی رہے۔ اس کے علاوہ اس میں اہل ایمان کے لیے تسلی اور تسکین کا پہلو بھی تھا کہ اللہ ہمارے حالات کو دیکھ رہا ہے۔ مشکل حالات میں سابقہ قوموں کے حالات پڑھ کر ان کے دلوں کو سہارا ملتا تھا کہ جس طرح اللہ نے حضرت نوح ‘ حضرت ہود اور حضرت صالح (f) کے ساتھیوں کی مدد کی تھی اور ان کے دشمنوں کو ملیا میٹ کردیا تھا اسی طرح وہ ہمیں بھی کامیاب کرے گا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

44 As the disbelievers of Makkah considered this objection to be very strong, they repeated it over and over again. The Qur'an also has cited it with its answer at several places; for instance, see E.N.'s 101-106 of Surah An-Naml and E.N. 119 of Bani Isra'il. Their question implied: "Had the Qur'an been really the Word of Allah, it would have been sent as a complete book aII at once; for Allah has the knowledge of everything and every human affair. Thus it is obvious that nothing is being sent down from above; but this man himself fabricates all its themes or gets these from other people or other books. " 45 Another translation can be: "So that by it We may strengthen your heart and imbue it with courage." The words are comprehensive and imply both the meanings. This concise sentence contains the following explanation why the Qur'an was revealed piecemeal by degrees: (1) So that the Holy Prophet may commit it to memory perfectly and recite it to his people, who are illiterate, rather than present it in a written form. (2) So that its teachings and messages may be impressed deeply on the minds. (3) So that the way of life it teaches, may be followed with complete conviction, which would not be possible if all the Commandments and the whole system of life had been sent down all at once. (4) So that the hearts of the Prophet and his followers may be imbued with courage during the conflict between the Truth and falsehood. This required that the Divine Guidance and messages of encouragement should be revealed as and when needed according to the practical situation. Obviously, this could not have been possible if these had been sent down all at once. This also showed that Allah had not left His Messenger alone amidst persecution to counter all sorts of resistance and opposition after appointing him to the mission, but He Himself was watching the struggle with concern and guiding His Prophet through every difficulty by direct communion in every critical situation.

سورة الْفُرْقَان حاشیہ نمبر :44 یہ کفار مکہ کا بڑا دل پسند اعتراض تھا جسے وہ اپنے نزدیک نہایت زور دار اعتراض سمجھ کر بار بار دہراتے تھے ، اور قرآن میں بھی اس کو متعدد مقامات پر نقل کر کے اس کا جواب دیا گیا ہے ( تفہیم القرآن ، جلد دوم ، النحل حواشی 101 تا 106 بنی اسرائیل ، حاشیہ 119 ) ان کے سوال کا مطلب یہ تھا کہ اگر یہ شخص خود سوچ سوچ کر ، یا کسی سے پوچھ پوچھ کر اور کتابوں میں سے نقل کر کر کے یہ مضامین نہیں لا رہا ہے ، بلکہ یہ واقعی خدا کی کتاب ہے تو پوری کتاب اکٹھی ایک وقت میں کیوں نہیں آ جاتی ۔ خدا تو جانتا ہے کہ پوری بات کیا ہے جو وہ فرمانا چاہتا ہے ۔ وہ نازل کرنے والا ہوتا تو سب کچھ بیک وقت فرما دیتا ۔ یہ جو سوچ سوچ کر کبھی کچھ مضمون لایا جاتا ہے اور کبھی کچھ ، یہ اس بات کی صریح علامت ہے کہ وحی اوپر سے نہیں آتی ، یہیں کہیں سے حاصل کی جاتی ہے ، یا خود گھڑ گھڑ کر لائی جاتی ہے ۔ سورة الْفُرْقَان حاشیہ نمبر :45 دوسرا ترجمہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس کے ذریعہ سے ہم تمہارا دل مضبوط کرتے رہیں یا تمہاری ہمت بندھاتے رہیں ۔ الفاظ دونوں مفہوموں پر حاوی ہیں اور دونوں ہی مراد بھی ہیں ۔ اس طرح ایک ہی فقرے میں قرآن کو بتدریج نازل کرنے کی بہت سی حکمتیں بیان کر دی گئی ہیں : 1: وہ لفظ بلفظ حافظہ میں محفوظ ہو سکے ، کیونکہ اس کی تبلیغ و اشاعت تحریری صورت میں نہیں بلکہ ایک اَن پڑھ نبی کے ذریعہ سے ان پڑھ قوم میں زبانی تقریر کی شکل میں ہو رہی ہے ۔ 2 : اس کی تعلیمات اچھی طرح ذہن نشین ہو سکیں ۔ اس کے لیے ٹھہر ٹھہر کر تھوڑی تھوڑی بات کہنا اور ایک ہی بات کو مختلف اوقات میں مختلف طریقوں سے بیان کرنا زیادہ مفید ہے ۔ 3: اس کے بتائے ہوئے طریق زندگی پر دل جمتا جائے ۔ اس کے لیے احکام و ہدایات کا بتدریج نازل کرنا زیادہ مبنی بر حکمت ہے ، ورنہ اگر سارا قانون اور پورا نظام حیات بیک وقت بیان کر کے اس قائم کرنے کا حکم دے دیا جائے تو ہوش پراگندہ ہو جائیں ۔ علاوہ بریں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر حکم اگر مناسب موقع پر دیا جائے تو اس کی حکمت اور روح زیادہ اچھی طرح سمجھ میں آتی ہے ، بہ نسبت اس کے کہ تمام احکام دفعہ وار مرتب کر کے بیک وقت دے دیے گئے ہوں ۔ 4: تحریک اسلامی کے دوران میں جبکہ حق اور باطل کی مسلسل کشمکش چل رہی ہو ، نبی اور اس کے پیروؤں کی ہمت بندھائی جاتی رہے اس کے لیے خدا کی طرف سے بار بار ، وقتاً فوقتاً ، موقع بموقع پیغام آنا زیادہ کار گر ہے بہ نسبت اس کے کہ بس ایک دفعہ ایک لمبا چوڑا ہدایت نامہ دے کر عمر بھر کے لیے دنیا بھر کی مزاحمتوں کا مقابلہ کرنے کو یونہی چھوڑ دیا جائے ۔ پہلی صورت میں آدمی محسوس کرتا ہے کہ جس خدا نے اس کام پر مامور کیا ہے ، وہ اس کی طرف متوجہ ہے ، اس کے کام سے دلچسپی لے رہا ہے ، اس کے حالات پر نگاہ رکھتا ہے ، اس کی مشکلات میں رہنمائی کر رہا ہے ، اور ہر ضرورت کے موقع پر اسے شرف باریابی و مخاطبت عطا فرما کر اس کے ساتھ اپنے تعلق کا تازہ کرتا رہتا ہے ۔ یہ چیز حوصلہ بڑھانے والی اور عزم کو مضبوط رکھنے والی ہے دوسری صورت میں آدمی کو یوں محسوس ہوتا ہے کہ بس وہ ہے اور طوفان کی موجیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

11: یعنی قرآن کریم کو تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کرنے کی حکمت یہ ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخالفین کی طرف سے جو نت نئی تکلیفیں پہنچتی رہتی ہیں، ہم کوئی نئی آیت نازل کر کے آپ کو تسلی دے دیتے ہیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٣٢۔ ٣٤:۔ مشرکین مکہ جہاں اور بےہودہ باتیں کرتے تھے وہاں یہ بھی کہتے تھے کہ جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) پر ساری تورات ایک ہی جگہ میں نازل ہوئی ‘ اگر یہ قرآن کلام الٰہی ہے تو یہ بھی تورات کی طرح ایک ہی دفعہ میں کیوں نہیں نازل ہوا ‘ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی اس بات کا جواب دیا کہ ایک تو نبی آخر الزمان ان پڑھ ہیں اتنی بڑی کتاب ایک دفعہ ہی زبان پر چڑھانا مشکل تھا اس مصلحت سے قرآن کی آیتیں ٹھہر ٹھہر کر نازل ہوتی ہیں ‘ علاوہ اس کے دوسری بات یہ بھی ہے کہ ان مشرکین کی ہر ایک بےہودہ بات کا جواب وقت پر اچھی طرح کھول کردیا جاتا ہے پھر فرمایا ‘ اس پر بھی یہ سرکش لوگ نہ مانیں گے تو قیامت کے دن اوندھے منہ دوزخ میں ڈالے جاویں گے کیونکہ ایسے میں انس بن مالک سے اور ترمذی میں ابوہریرہ (رض) وغیرہ سے جو روایتیں ہیں ‘ ان میں ایسے لوگوں کے منہ کے بل گھسیٹے جانے کا ذکر تفصیل سے ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(25:32) جملۃ واحدۃ۔ یکبارگی۔ ایک ہی دفعہ۔ ایک ہی وقت میں ۔ جملۃ بوجہ القران کے حال ہونے کے منصوب ہے۔ اور واحدۃ بوجہ جملۃ کی صفت کے منصوب ہے۔ کذلک۔ کاف حرف تشبیہ ہے اور ذلک اسم اشارہ۔ اسی طرح۔ یعنی یہ تنزیل اسی طرح ہی ہے۔ تھوڑی، تھوڑی، وقفے وقفے کے بعد۔ ضرورت کے پیش نظر۔ حکمت بالغہ کے مطابق مفہوم کو ذہن نشین کرنے کے لئے۔ لنثبت۔ لام تعلیل کی ہے۔ اس لئے کہ نثبت مضارع جمع متکلم منصوب بوجہ عمل لام تثبیت (تفعیل) مصدر۔ ہم قائم رکھیں۔ ہم جمائے رکھیں۔ ہم مضبوط رکھیں، ہم ثابت قدم رکھیں ہم محکم رکھیں۔ رتلناہ۔ رتلنا۔ ماضی جمع متکلم۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ جس کا مرجع القرآن ہے ہم نے اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھا۔ یا پڑھ کر سنایا۔ تدریجانازل فرمایا۔ ترتیل (تفعیل) مصدر۔ سہولت اور حسن تناسب کے ساتھ کسی کلمہ کو ادا کرنا۔ ہم نے اسے نہایت عمدہ ترتیب اور تناسب کے ساتھ اتارا ہے ۔ اس کا عطف فعل محذوف پر ہے۔ ای کذلک نزلنہ ورتلنہ ترتیلا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

1 ۔ یہ کفار کا اعتراض تھا کہ اگر یہ واقعی سچی کتاب ہے تو اسے یکبارگی کیوں نازل نہیں کردیا گیا یہ جو تھوڑا تھوڑا کر کے آرہا ہے اس کا تو مطلب یہ ہے کہ محمد (ﷺ) اسے سوچ سوچ کر خود تصنیف کرلیتے ہیں۔ (شوکانی) 2 ۔ یعنی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اطمینان رہے اور حفظ میں آسانی ہو اور پھر جیسے جیسے واقعات پیش آئیں ان پر اس کے احکام کا انطباق بآسانی سمجھ میں آتا رہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

8۔ چناچہ تئیس سال میں پورا ہوا تاکہ نزول تدریجی کا فائدہ تمام ہو۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : مجرمانہ کردار رکھنے والوں کا رسالت مآب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایک اور اعتراض۔ کفار کو رسالت مآب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ بھی اعتراض تھا کہ آپ پر پورے کا پورا قرآن ایک ہی بار کیوں نہیں نازل ہوا ؟ جس کا جواب دیا گیا ہے کہ قرآن مجید کو اس لیے تھوڑا تھوڑا نازل کیا جاتا ہے تاکہ اس کے ساتھ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دل مضبوط ہو اور قرآن اچھی طرح آپ کے ذہن پر نقش ہوجائے، اس پر عمل کرنے میں آسانی ہو۔ کفار آپ پر جو بھی اعتراض کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس کا اتنا جامع اور مدّلل جواب دیتے کہ کفار لاجواب ہو کر رہ جاتے۔ لیکن اس کے باوجود کفار اپنی ضد سے باز آنے والے نہیں تھے اس وجہ سے وہ وقفے وقفے کے بعد مختلف الفاظ اور انداز میں سوال دہراتے رہتے تھے۔ قرآن مجید کفار کے سوالات کا کبھی مفصل جواب دیتا ہے اور کبھی اجمال کے ساتھ جواب دیا جاتا ہے۔ جہاں تک قرآن مجید کا تھوڑا، تھوڑا اور وقفے وقفے سے نازل ہونے کا تعلق ہے اس طرح قرآن نازل ہونے سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دل کو ڈھارس ملتی اور مسلمانوں کو عمل کرنے میں سہولت حاصل ہوتی تھی۔ (عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ غَدَوْنَا عَلَی عَبْدِ اللَّہِ فَقَالَ رَجُلٌ قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ الْبَارِحَۃَ فَقَالَ ہَذًّا کَہَذِّ الشِّعْرِ ، إِنَّا قَدْ سَمِعْنَا الْقِرَاءَ ۃَ وَإِنِّی لأَحْفَظُ الْقُرَنَاءَ الَّتِی کَانَ یَقْرَأُ بِہِنَّ النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ثَمَانِیَ عَشْرَۃَ سُورَۃً مِنَ الْمُفَصَّلِ وَسُورَتَیْنِ مِنْ آلِ حم) [ رواہ البخاری : باب التَّرْتِیلِ فِی الْقِرَاءَ ۃِ ] ” حضرت ابو وائل حضرت عبداللہ کے واسطہ سے بیان کرتے ہیں کہ ہم عبداللہ بن مسعود (رض) کی خدمت میں چاشت کے وقت حاضر ہوئے۔ ایک صاحب نے کہا کہ رات میں نے پوری کی پوری مفصل سورتیں پوری پڑھ ڈالیں۔ اس پر ابن مسعود (رض) نے فرمایا : جیسے اشعار جلدی جلدی پڑھتے ہیں ویسے پڑھ لی ہوں گی۔ ہم نے قرأت سنی ہے۔ مجھے ( طویل اور مختصر سورتوں کی) وہ نظائر یاد ہیں۔ جن کی تلاوت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا کرتے تھے اٹھارہ سورتیں مفصل ہوتی اور دو سورتیں جن کے شروع میں حٰم ہے۔ “ مسائل ١۔ قرآن مجید اس لیے تھوڑا تھوڑا نازل کیا گیا تاکہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حفظ اور ضبط کرنے میں آسانی ہو۔ ٢۔ قرآن مجید اس لیے وقفے وقفے سے نازل کیا گیا تاکہ لوگوں تک پہنچانے میں آسانی ہو۔ ٣۔ قرآن مجید اس لیے وقفے وقفے سے نازل کیا گیا تاکہ اس پر مسلمانوں کو عمل کرنا آسان رہے۔ ٤۔ قرآن مجید اس لیے تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کیا گیا تاکہ کفار کو اس کے ناسمجھنے کا بہانہ ہاتھ نہ آئے۔ تفسیر بالقرآن قرآن مجید کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا چاہیے : ١۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پڑھیے جو آپ پر آپ کے رب کی طرف سے وحی کی جاتی ہے۔ (الکھف : ٢٧) ٢۔ ہم نے قرآن کو حق کے ساتھ نازل کیا تاکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کے سامنے ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں۔ (بنی اسرائیل : ١٠٥) ٣۔ قرآن کو تر تیل کے ساتھ پڑھا جائے۔ (المزمل : ٤) ٤۔ جن کو کتاب دی گئی وہ اس کی تلاوت اسی طرح کرتے ہیں جس طرح تلاوت کرنے کا حق ہے۔ (البقرۃ : ١٣١) ٥۔ جب قرآن پڑھاجائے تو اسے خاموشی سے سنو۔ (الاعراف : ٢٠٤) ٦۔ ہم آپ پر تمام انبیاء کے واقعات آپ کے دل کو مضبوط کرنے کے لیے بیان کرتے ہیں۔ ( ہود : ١٢٠) ٧۔ قرآن بڑی شان والا ہے اور لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔ (الواقعۃ : ٧٧ تا ٧٩)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

قرآن کریم کو دفعۃً نازل نہ فرمانے میں کیا حکمت ہے مشرکین مکہ اپنے عناد سے طرح طرح کے اعتراض تراشتے رہتے تھے انہیں اعتراضات میں سے ایک یہ اعتراض تھا کہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو یہ کہتے ہیں کہ مجھ پر اللہ کی طرف سے وحی آتی ہے اور یہ کلام جو تمہیں سناتا ہوں اللہ کا کلام ہے اور اللہ کی کتاب ہے اور اس نے یہ قرآن ایمان لانے کے لیے بھیجا ہے تو یہ قرآن تھوڑا تھوڑا کیوں نازل ہوتا ہے بیک وقت ایک ہی ساتھ کیوں نازل نہیں ہوا ؟ ان لوگوں کا یہ اعتراض حماقت پر مبنی تھا جس کی کتاب ہے وہ جس طرح بھی نازل فرمائے اسے پورا اختیار ہے کذلک ای نزلناہ کذلک تنزیلا مغایرا لما اقترحوا النثبت بہ فؤادک (تاکہ ہم اس کے ذریعہ آپ کے دل کو تقویت دیں) اس میں تھوڑا تھوڑا نازل فرمانے کی حکمت بیان فرمائی اور وہ یہ کہ تھوڑا تھوڑا نازل کرنا آپ کے قلب مبارک کو تقویت دینے کا سبب ہے۔ صاحب روح المعانی ج ١٩ ص ١٥ لکھتے ہیں کہ تھوڑا تھوڑا نازل فرمانے میں حفظ کی آسانی ہے اور فہم معانی اور ان حکمتوں اور مصلحتوں کی معرفت ہے جن کی رعایت انزال قرآن میں ملحوظ رکھی گئی ہے پھر جبرائیل امین (علیہ السلام) کا بار بار آنا جو بھی کوئی چھوٹی یا بڑی سورت نازل ہو اس کا مقابلہ کرنے سے معترضین کا عاجز ہوجانا اور ناسخ اور منسوخ کو پہچاننا وغیرہ یہ سب آپ کے قلب کی تقویت کا سبب ہے۔ جب معترضین کوئی اعتراض اٹھاتے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کوئی نا گوار معاملہ کرتے تو اسی وقت آپ کو تسلی کے لیے آیت نازل ہوجاتی تھی اس سے آپ کو ہر بار تقویت حاصل ہوجاتی تھی اگر پورا قرآن ایک دفعہ نازل ہوگیا ہوتا تو یہ بار بار کی تسلی کا فائدہ حاصل نہ ہوتا واضح رہے کہ یہاں تدریجاً قرآن مجید نازل فرمانے کی ایک حکمت بتائی ہے اس کے علاوہ دوسری حکمتیں بھی ہیں۔ (وَرَتَّلْنَاہُ تَرْتِیْلًا) (اور ہم نے اس کو ٹھہر ٹھہر کر اتارا ہے) صاحب روح المعانی نے حضرت ابن عباس (رض) سے اس کی تفسیر یوں نقل کی ہے کہ بیناہ بیانا فیہ ترسل کہ ہم نے اس قرآن کو واضح طور پر بیان کیا ہے اور وقفہ وقفہ سے نازل فرمایا ہے چناچہ پورا قرآن کریم تیئس سال میں نازل ہوا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

24:۔ ” وقال الذین الخ “: ساتواں شکوی۔ یہ قرآن اگر واقعی اللہ کا کلام ہے تو اللہ نے ایک بار سارا کیوں نہ نازل کردیا، تھوڑا تھوڑا کر کے کیوں نازل کرتا ہے ؟ اس سے معلوم ہوتا ہے یہ اللہ کا کلام نہیں بلکہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود ہی تھوڑا تھوڑا کر کے بناتا اور لوگوں کو سناتا ہے۔ ” کذلک لنثبت بہ الخ “ کذلک فعل مقدر سے متعلق ہے۔ ” ای انزلناہ “ یہ شبہہ مذکورہ کا جواب ہے یعنی بالتدریج نازل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ کے دل کو تقویت حاصل ہو اور آپ اسے آسانی کے ساتھ یاد کرسکیں۔ ” ورتلناہ ترتیلا “ یہ فعل مقدر مذکور الصدر پر معطوف ہے یعنی اور مذکورہ بالا مقصد کے پیش نظر ہم نے تھوڑا تھوڑا کر کے ترسل و ترتیل کے ساتھ آپ پر قرآن اتارا ہے۔ (مدارک) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(32) اور دین حق کے منکر کہتے ہیں کہ اس پیغمبر پر پورا قرآن کریم ایک ہی دفعہ کیوں نہ نازل کردیا گیا یہ اس طرح تھوڑا تھوڑا دقتاً فوقتاً اس لئے نازل کیا گیا کہ ہم اس قرآن کریم کے ذریعے آپ کے دل کو قوی اور مضبوط رکھیں اور ہم نے اس قرآن کریم ٹھہرا ٹھہرا کر اتارا اور سنایا ہے یعنی کافرانہ شبہات میں سے قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت پر یہ شبہ بھی پیش کیا جاتا ہے کہ کتب سابقہ کی طرح یہ قرآن کریم ایک ہی دفعہ لکھا لکھایا کیوں نہیں دے دیا گیا تھوڑا تھوڑا نازل ہونے سے یہ شبہ ہوتا ہے کہ یہ پیغمبر اس قرآن کریم کو سوچ سوچ کر خود ہی بناتا ہے۔ حضرت حق جل مجدہ نے جواب دیا کہ اس تدریجی نزول اور ترتیل کے ساتھ سنانے میں بہت فوائد اور حکمتیں ہیں مثلاً تھوڑے تھوڑے حصہ کو یاد کرنا اور لکھ لینا سہل ہے کفار نے جب کوئی اعتراض کیا اسی وقت اس کا جواب نازل فرمایا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قلب کی تقویت کا موجب ہوا اور اللہ تعالیٰ کی معیت کا ثبوت مہیا ہوگیا جبریل علیہ الصلوٰۃ والسلام کا بار بار تشریف لانا جو موجب خیرو برکت ہے ۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مرتبہ علیا کا اظہار آپ کے پاس بار بار خدا کا فرشتہ آتا ہے غرض اس طریقہ نزول و ترتیل میں بہت سے فوائد مضمر اور پوشید ہ ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ہر بات کے وقت پر اس کا جواب اتارا ہے تو پیغمبر کا دل ثابت رہے 12