The Reason why the Qur'an was revealed in Stages, the Refutation of the Disbelievers, and their Evil End
Allah tells:
وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا
...
And those who disbelieve say:
Allah tells us about the many objections raised by the disbelievers, their stubbornness, and how they spoke of things which were none of their concern. They said:
...
لَوْلاَ نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْانُ جُمْلَةً وَاحِدَةً
...
"Why is not the Qur'an revealed to him all at once!"
meaning, why was this Qur'an, which was revealed to him, not sent down all at one time, as the previous Books, the Tawrah, Injil, Zabur and other Divine Books.
Allah answered them, telling them that it was revealed in stages over twenty-three years, according to events and circumstances, and whatever rulings were needed, in order to strengthen the hearts of the believers, as He says:
وَقُرْءانًا فَرَقْنَاهُ
And (it is) a Qur'an which We have divided (into parts)... (17:106)
Allah says:
...
كَذَلِكَ لِنُثَبِّتَ بِهِ فُوَادَكَ وَرَتَّلْنَاهُ تَرْتِيلً
thus, that We may strengthen your heart thereby. And We have revealed it to you gradually, in stages.
Qatadah said it means:
"We have explained it."
Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said it means:
"We have given its interpretation."
قرآن حکیم مختلف اوقات میں کیوں اتارا
کافروں کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ جیسے توریت ، انجیل ، زبور ، وغیرہ ایک ساتھ پیغمبروں پر نازل ہوتی رہیں ۔ یہ قرآن ایک ہی دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیوں نہ ہوا ؟ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ ہاں واقعی یہ متفرق طور پر اترا ہے ، بیس برس میں نازل ہوا ہے جیسے جیسے ضرورت پڑتی گئی جو جو واقعات ہوتے رہے احکام نازل ہوتے گئے تاکہ مومنوں کا دل جما رہے ۔ ٹھہر ٹھہر کر احکام اتریں تاکہ ایک دم عمل مشکل نہ ہوپڑے ، وضاحت کے ساتھ بیان ہوجائے ۔ سمجھ میں آجائے ۔ تفسیر بھی ساتھ ہی ساتھ ہوتی رہے ۔ ہم ان کے کل اعتراضات کا صحیح اور سچا جواب دیں گے جو ان کے بیان سے بھی زیادہ واضح ہوگا ۔ جو کمی یہ بیان کریں گے ہم ان کی تسلی کردیں گے ۔ صبح شام ، رات دن ۔ سفر حضر میں بار بار اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور اپنے خاص بندوں کی ہدایت کے لئے ہمارا کلام ہمارے نبی کی پوری زندگی تک اترتا رہا ۔ جس سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بزرگی اور فضلیت بھی ظاہر ہوتی رہی لیکن دوسرے انبیاء علیہم السلام پر ایک ہی مرتبہ سارا کلام اترا مگر اس سے بہترین نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تبارک وتعالیٰ باربار خطاب کرتا کہ اس قرآن کی عظمت بھی آشکار ہوجائے اس لیے یہ اتنی لمبی مدت میں نازل ہوا ۔ پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی سب نبیوں میں اعلیٰ اور قرآن بھی سب کلاموں میں بالا ۔ اور لطیفہ یہ ہے کہ قرآن کو دونوں بزرگیاں ملیں یہ ایک ساتھ لوح محفوظ سے ملا اعلیٰ میں اترا ۔ لوح محفوظ سے پورے کا پورا دنیا کے آسمان تک پہنچا ۔ پھر حسب ضرورت تھوڑا تھوڑا کرکے نازل ہوتا رہا ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں سارا قرآن ایک دفعہ ہی لیلۃ القدر میں دنیا کے آسمان پر نازل ہوا پھر بیس سال تک زمین پر اترتا رہا ۔ پھر اس کے ثبوت میں آپ نے آیت ( وَلَا يَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰكَ بِالْحَقِّ وَاَحْسَنَ تَفْسِيْرًا 33ۭ ) 25- الفرقان:33 ) اور آیت ( وَقُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ عَلَي النَّاسِ عَلٰي مُكْثٍ وَّنَزَّلْنٰهُ تَنْزِيْلًا ١٠٦ ) 17- الإسراء:106 ) تلاوت فرمائی ۔ اس کے بعد کافروں کی جو درگت قیامت کے روز ہونے والی ہے اس کا بیان فرمایا کہ بدترین حالت اور قبیح تر ذلت میں ان کا حشر جہنم کی طرف ہوگا ۔ یہ اوندھے منہ گھسیٹے جائیں گے یہی برے ٹھکانے والے اور سب سے بڑھ کر گمراہ ہیں ۔ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کافروں کا حشر منہ کے بل کیسے ہوگا ؟ آپ نے فرمایا کہ جس نے انہیں پیر کے بل چلایا وہ سر کے بل چلانے پر بھی قادر ہے ۔