Surat us Shooaraa

Surah: 26

Verse: 112

سورة الشعراء

قَالَ وَ مَا عِلۡمِیۡ بِمَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۱۲﴾ۚ

He said, "And what is my knowledge of what they used to do?

آپ نے فرمایا! مجھے کیا خبر کہ وہ پہلے کیا کرتے رہے؟

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

They said: "Shall we believe in you, when the inferior follow you!" He said: "And what knowledge have I of what they used to do" meaning, `what does it have to do with me if they follow me! No matter what they used to do before, I do not have to check on them and examine their background; all I have to do is accept it if they believe in me; whatever is in their hearts is for Allah to know.' إِنْ حِسَابُهُمْ إِلاَّ عَلَى رَبِّي لَوْ تَشْعُرُونَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

1121یعنی مجھے اس بات کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا ہے کہ میں لوگوں کے حسب نسب، امارت و غربت اور ان کے پیشوں کی تفتیش کروں بلکہ میری ذمہ داری صرف یہ ہے کہ ایمان کی دعوت دوں اور جو اسے قبول کرلے، چاہے وہ کسی حیثیت کا حامل ہو، اسے اپنی جماعت میں شامل کرلوں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قَالَ وَمَا عِلْمِىْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ۔۔ : یعنی مجھے تو اللہ کا راستہ بتانے سے غرض ہے نہ کہ ان کے پیشوں سے۔ وہ کمائی کے لیے جو بھی کام کریں یا جو بھی پیشہ اختیار کریں، اگر وہ جائز ہے تو وہ اپنے ایمان دار ہونے کی وجہ سے ان مغرور مال داروں سے افضل ہیں جو اللہ کی نافرمانی پر تلے ہوئے ہیں۔ یا مطلب یہ ہے کہ میں کیا جانوں کہ ان کے عمل کیسے ہیں، مجھے تو ظاہری ایمان کو دیکھنا ہے، ان کی نیتوں کو اللہ تعالیٰ جانتا ہے، وہی ان کا حساب کرے گا۔ ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَشْھَدُوْا أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ ، وَ یُقِیْمُوا الصَّلَاۃَ ، وَ یُؤْتُوا الزَّکَاۃَ ، فَإِذَا فَعَلُوْا ذٰلِکَ عَصَمُوْا مِنِّيْ دِمَاءَ ھُمْ وَ أَمْوَالَھُمْ إِلَّا بِحَقِّ الإِْسْلَامِ وَ حِسَابُھُمْ عَلَی اللّٰہِ ) [ بخاري، الإیمان، باب فإن تابوا و أقاموا الصلاۃ : ٢٥ ] ” مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں، یہاں تک کہ وہ شہادت دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں، اگر وہ یہ کام کریں تو انھوں نے اپنے خون اور اپنے مال مجھ سے محفوظ کرلیے مگر اسلام کے حق کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ پر ہے۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قَالَ وَمَا عِلْمِىْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۝ ١ ١٢ۚ علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا عمل العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل «6» ، لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] ( ع م ل ) العمل ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے ارادۃ صادر ہو یہ فعل سے اخص ہے کیونکہ فعل کا لفظ کبھی حیوانات کی طرف بھی منسوب کردیتے ہیں جن سے بلا قصد افعال سر زد ہوتے ہیں بلکہ جمادات کی طرف بھی منسوب ہوجاتا ہے ۔ مگر عمل کا لفظ ان کی طرف بہت ہی کم منسوب ہوتا ہے صرف البقر العوامل ایک ایسی مثال ہے جہاں کہ عمل کا لفظ حیوانات کے لئے استعمال ہوا ہے نیز عمل کا لفظ اچھے اور بری دونوں قسم کے اعمال پر بولا جاتا ہے ، قرآن میں : ۔ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١١٢۔ ١١٣) حضرت نوح (علیہ السلام) نے فرمایا اس چیز کا تو مجھے علم نہیں کہ ان کو توفیق حاصل ہوگی یا تمہیں ان کا ثواب دینا اور ان سے حساب کتاب لینا بس اللہ کا کام ہے کیا خوب ہوتا کہ تم اس کو سمجھتے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١١٢ (قَالَ وَمَا عِلْمِیْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ) ” یعنی تمہارے اپنے معیارات ہیں۔ تمہارے نزدیک عزت کا معیار دولت اور وجاہت ہے ‘ اس لیے ایک غریب مزدور کو تم لوگ گھٹیا انسان سمجھتے ہو ‘ مگر مجھے اس اعتبار سے کسی کے پیشے سے کوئی سروکار نہیں۔ یہی اعتراض سرداران قریش کو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھیوں کے بارے میں تھا۔ وہ بھی یہی کہتے تھے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے والوں میں اکثریت مزدوروں اور غلاموں کی ہے۔ جیسے حضرت خباب بن الارت (رض) پیشے کے اعتبار سے لوہار تھے اور سرداران قریش ایک غریب لوہار کے ساتھ بیٹھنا کیسے گوارا کرسکتے تھے ! بہر حال نہ تو مزدوری کرنا یا محنت سے اپنی روزی کمانا کوئی شرم کی بات ہے اور نہ ہی اس طرح کے پیشے سے کوئی آدمی گھٹیا ہوجاتا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

22: کافروں نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو یہ طعنہ دیا تھا کہ ان کے پیرو کار اکثر ایسے لوگ ہیں جن کا پیشہ نچلے درجے کا سمجھا جاتا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے جواب میں فرمایا کہ مجھے اس سے کیا سروکار کہ ان کا پیشہ کیا ہے، اور وہ کیا کام کرتے ہیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(26:112) ما علمی میں ما استفہامیہ بھی ہوسکتا ہے مجھے کیا علم ؟ اور نافیہ بھی ہوسکتا ہے ۔ مجھے معلوم نہیں۔ بما کانوا یعملون۔ یہ کیا کرتے ہیں یا یہ کیوں ایمان لائے ہیں۔ ترجمہ ہوں ہوگا :۔ (1) مجھے علم نہیں یا مجھے کیا معلوم کہ یہ کیا کام کرتے ہیں یعنی ان کا پیشہ و حرفہ کیا ہے جس کی بناء پر تم رذیل سمجھتے ہو ان کو۔ (2) مجھے علم نہیں یا مجھے کیا معلوم کہ یہ کیوں ایمان لائے ہیں اپنی شہرت کے لئے یا دل سے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

5 ۔ یعنی مجھے تو اللہ کا راستہ بتانے سے غرض ہے نہ کہ ان کے پیشوں سے۔ وہ جو پیشہ بھی اختیار کریں اگر وہ جائز ہے تو اپنے ایمان دار ہونے کی وجہ سے ان مغرور مالداروں سے افضل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر تلے ہوئے ہیں۔ یا مطلب یہ ہے کہ میں کیا جانوں کہ ان کے عمل کیسے ہیں۔ مجھے تو ظاہری ایمان کو دیکھنا ہے ان کی نیتوں کو اللہ جانتا ہے۔ ان کا فیصلہ اس کے سامنے ہوگا۔ (کذا فی شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

قال وما علمی ……نذیر مبین (١١٥) یہ بڑے لوگ عوام کے بارے میں ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ ان کے اخلاق و عادات اعلیٰ معیار کے نہیں ہوتے اور نہ ہی اعلیٰ طبقات میں برداشت کئے جاتے ہیں کیونکہ یہ اعلیٰ طبقات کے لوگ بہت زیادہ حساس ہوتے ہیں اور ذوق لطیف رکھتے ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) ان سے کہتے ہیں کہ میں تو لوگوں سے ایمان لانے کے سوا کچھ مطالبہ نہیں کرتا اور یہ غریب لوگ جب ایمان لے آئے ہیں تو میں ان سے اب اور کیا مطالبہ کروں۔ اس سے قبل ان کے جو اعمال تھے وہ خدا ہی جانتا ہے۔ ان کی قدر و قیمت کا تعین اللہ کرے گا۔ اور اچھائیوں اور برائیوں پر جزا و سزاب ھی اللہ دے گا۔ اللہ ہر چیز کو جانتا ہے اور تمہاری حالت ہی ہے کہ وہ مانشعرون ” تم شعور نہیں رکھتے “ کہ اللہ کے ترازو میں کون وزن رکھتا ہے جہاں تک میرا تعلق ہے تو میرا فریضہ صرف کھلے اندازے ڈرانا ہے۔ جب حضرت نوح (علیہ السلام) نے واضح دلائل اور سیدھی منطق پیش کی اور اب وہ اس بات سے عاجز آگئے کہ حضرت نوح کے ساتھ مزید کوئی مکالمہ کرسکیں تو انہوں نے وہی ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی دی جس کو سرکش اور ظالم اور جابر ہمیشہ اختیار کرتے ہیں۔ یعنی حجت اور برہان کے مقابلے میں ڈنڈا۔ ہر زمان و مکان میں لاجوبا انسان کا یہی دستور ہوتا ہے کہ جب اس کے پاس دلیل کا توشہ ختم ہوتا ہے تو وہ ہتھیار نکالتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(112) حضرت نوح (علیہ السلام) نے فرمایا جو کام اور پیشہ یہ لوگ کرتے ہیں مجھ کو اس کے جاننے اور معلوم کرنے سے کیا بحث۔