Surat us Shooaraa

Surah: 26

Verse: 148

سورة الشعراء

وَّ زُرُوۡعٍ وَّ نَخۡلٍ طَلۡعُہَا ہَضِیۡمٌ ﴿۱۴۸﴾ۚ

And fields of crops and palm trees with softened fruit?

اور ان کھیتوں اور ان کھجوروں کے باغوں میں جن کے شگوفے نرم و نازک ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

"Will you be left secure in that which you have here, In gardens and springs. And crops and date palms with soft clusters." They enjoyed Salih preached to them, warning them that the punishment of Allah could overtake them and reminding them of the blessings that Allah had bestowed upon them, by giving them ample provision and making them safe from all kinds of dangers, giving them gardens and flowing springs, and bringing forth for them crops and fruits. ... وَنَخْلٍ طَلْعُهَا هَضِيمٌ and date palms with soft clusters. Al-Awfi narrated from Ibn Abbas, "Ripe and rich." Ali bin Abi Talhah narrated from Ibn Abbas that: this meant growing luxuriantly. Ismail bin Abi Khalid narrated from `Amr bin Abi `Amr -- who met the Companions -- from Ibn Abbas that this means, "When it becomes ripe and soft." This was narrated by Ibn Abi Hatim, then he said: "And something similar was narrated from Abu Salih." وَتَنْحِتُونَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا فَارِهِينَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

1481یہ ان نعمتوں کی تفصیل ہے جن سے وہ بہرہ ور تھے، طلع، کھجور کے اس شگوفے کو کہتے ہیں جو پہلے پہل نکلتا یعنی طلوع ہوتا ہے، اس کے بعد کھجور کا یہ پھل بلح، پھر بسر، پھر رتب اور اس کے بعد تمر کہلاتا ہے۔ (ایسر التفاسر) باغات میں دیگر پھلوں کے ساتھ کھجور کا پھل بھی آجاتا ہے لیکن عربوں میں چونکہ کھجور کی بڑی اہمیت ہے اس لیے اس کا خصوصی طور پر بھی ذکر کیا ھضیم کے اور بھی کئی معانی بیان کیے گئے ہیں مثلا لطیف اور نرم ونازک۔ تہ بہ تہ وغیرہ

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَّزُرُوْعٍ وَّنَخْلٍ طَلْعُہَا ہَضِيْمٌ۝ ١٤٨ۚ زرع الزَّرْعُ : الإنبات، وحقیقة ذلک تکون بالأمور الإلهيّة دون البشريّة . قال : أَأَنْتُمْ تَزْرَعُونَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ [ الواقعة/ 64] ( ز ر ع ) الزرع اس کے اصل معنی انبات یعنی اگانے کے ہیں اور یہ کھیتی اگانا در اصل قدرت کا کام ہے اور انسان کے کسب وہنر کو اس میں دخل نہیں اسی بنا پر آیت کریمہ : أَأَنْتُمْ تَزْرَعُونَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ [ الواقعة/ 64] بھلا بتاؤ کہ جو تم بولتے ہو کیا اسے تم اگاتے ہو یا اگانے والے ہیں ۔ نخل النَّخْلُ معروف، وقد يُستعمَل في الواحد والجمع . قال تعالی: كَأَنَّهُمْ أَعْجازُ نَخْلٍ مُنْقَعِرٍ [ القمر/ 20] وقال : كَأَنَّهُمْ أَعْجازُ نَخْلٍ خاوِيَةٍ [ الحاقة/ 7] ، وَنَخْلٍ طَلْعُها هَضِيمٌ [ الشعراء/ 148] ، وَالنَّخْلَ باسِقاتٍ لَها طَلْعٌ نَضِيدٌ [ ق/ 10] وجمعه : نَخِيلٌ ، قال : وَمِنْ ثَمَراتِ النَّخِيلِ [ النحل/ 67] والنَّخْلُ نَخْل الدّقيق بِالْمُنْخُل، وانْتَخَلْتُ الشیءَ : انتقیتُه فأخذْتُ خِيارَهُ. ( ن خ ل ) النخل ۔ کھجور کا درخت ۔ یہ واحد جمع دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے : كَأَنَّهُمْ أَعْجازُ نَخْلٍ خاوِيَةٍ [ الحاقة/ 7] جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے ۔ كَأَنَّهُمْ أَعْجازُ نَخْلٍ مُنْقَعِرٍ [ القمر/ 20] اور کھجوریں جن کے خوشے لطیف اور نازک ہوتے ہیں ۔ وَالنَّخْلَ باسِقاتٍ لَها طَلْعٌ نَضِيدٌ [ ق/ 10] اور لمبی لمبی کھجوریں جن کا گا بھاتہ بہ تہ ہوتا ہے اس کی جمع نخیل آتی ہے چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَمِنْ ثَمَراتِ النَّخِيلِ [ النحل/ 67] اور کھجور کے میووں سے بھی ۔ النخل ( مصدر کے معنی چھلنی سے آٹا چھاننے کے ہیں اور انتخلت الشئی کے معنی عمدہ چیز منتخب کرلینے کے ؛ طَلَعَ طَلَعَ الشمسُ طُلُوعاً ومَطْلَعاً. قال تعالی: وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ [ طه/ 130] ، حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ [ القدر/ 5] ، والمَطْلِعُ : موضعُ الطُّلُوعِ ، حَتَّى إِذا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَها تَطْلُعُ عَلى قَوْمٍ [ الكهف/ 90] ، وعنه استعیر : طَلَعَ علینا فلانٌ ، واطَّلَعَ. قال تعالی: هَلْ أَنْتُمْ مُطَّلِعُونَ [ الصافات/ 54] ، فَاطَّلَعَ [ الصافات/ 55] ، قال : فَأَطَّلِعَ إِلى إِلهِ مُوسی[ غافر/ 37] ، وقال : أَطَّلَعَ الْغَيْبَ [ مریم/ 78] ، لَعَلِّي أَطَّلِعُ إِلى إِلهِ مُوسی[ القصص/ 38] ، واسْتَطْلَعْتُ رأيَهُ ، وأَطْلَعْتُكَ علی كذا، وطَلَعْتُ عنه : غبت، والطِّلاعُ : ما طَلَعَتْ عليه الشمسُ والإنسان، وطَلِيعَةُ الجیشِ : أوّل من يَطْلُعُ ، وامرأةٌ طُلَعَةٌ قُبَعَةٌ «1» : تُظْهِرُ رأسَها مرّةً وتستر أخری، وتشبيها بالطُّلُوعِ قيل : طَلْعُ النَّخْلِ. لَها طَلْعٌ نَضِيدٌ [ ق/ 10] ، طَلْعُها كَأَنَّهُ رُؤُسُ الشَّياطِينِ [ الصافات/ 65] ، أي : ما طَلَعَ منها، وَنَخْلٍ طَلْعُها هَضِيمٌ [ الشعراء/ 148] ، وقد أَطْلَعَتِ النّخلُ ، وقوسٌ طِلَاعُ الكفِّ : ملءُ الكفِّ. ( ط ل ع ) طلع ( ن ) الشمس طلوعا ومطلعا کے معنی آفتاب طلوع ہونے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ [ طه/ 130] اور سورج کے نکلنے سے پہلے ۔۔۔۔۔ تسبیح وتحمید کیا کرو ۔ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ [ القدر/ 5] طلوع صبح تک ۔ اور مطلع کے معنی ہیں طلوع ہونیکی جگہ قرآن میں ہے : ۔ حَتَّى إِذا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَها تَطْلُعُ عَلى قَوْمٍ [ الكهف/ 90] یہاں تک کہ سورج کے طلوع ہونے کے مقام پر پہنچا تو دیکھا کہ وہ ایسے لوگوں پر طلوع کرتا ہے ۔۔۔۔۔ اسی سے استعارہ کے طور طلع علینا فلان واطلع کا محاورہ استعمال ہوتا ہے جس کے معنی ہیں کسی کے سامنے ظاہر ہونا اور اوپر پہنچ کر نیچے کی طرف جھانکنا قرآن میں ہے : ۔ هَلْ أَنْتُمْ مُطَّلِعُونَ [ الصافات/ 54] بھلا تم اسے جھانک کر دیکھنا چاہتے ہو اتنے میں وہ خود جھانکے گا ۔ فَاطَّلَعَ [ الصافات/ 55] پھر اوپر جاکر موسیٰ (علیہ السلام) کے خدا کو دیکھ لوں ۔ أَطَّلَعَ الْغَيْبَ [ مریم/ 78] کیا اس نے غیب کی خبر پالی ۔ لَعَلِّي أَطَّلِعُ إِلى إِلهِ مُوسی[ القصص/ 38] تاکہ میں موسیٰ (علیہ السلام) کے خدا کی طرف چڑھ جاؤں ۔ استطعت ( میں نے اس کی رائے معلوم کی ۔ اطلعت علٰی کذا میں نے تمہیں فلان معاملہ سے آگاہ کردیا طلعت عنہ میں اس سے پنہاں ہوگیا ( اضداد الطلاع ہر وہ چیز جس پر سورج طلوع کرتا ہو یا ( 2 ) انسان اس پر اطلاع پائے طلعیۃ الجیش ہر اول دستہ امرء ۃ طلعۃ قبعۃ وہ عورت جو بار بار ظاہر اور پوشیدہ ہو اور طلوع آفتاب کی مناسبت سے طلع النخل کا محاورہ استعمال ہوتا ہے اور اس کے معنی درخت خرما کے غلاف کے ہیں جس کے اندر اس کا خوشہ ہوتا ہے قرآن میں ہے : ۔ لَها طَلْعٌ نَضِيدٌ [ ق/ 10] جن کا گا بھاتہ بتہ ہوتا ہے طَلْعُها كَأَنَّهُ رُؤُسُ الشَّياطِينِ [ الصافات/ 65] ان کے شگوفے ایسے ہوں گے جیسے شیطانوں کے سر ۔ وَنَخْلٍ طَلْعُها هَضِيمٌ [ الشعراء/ 148] اور کھجوریں جن کے شگوفے لطیف ونازک ہوتے ہیں ۔ الطلعت النخل کھجور کا شگوفے دار ہونا ۔ قو س طلاع الکھف کمان جس سے مٹھی بھر جائے ۔ هضم الْهَضْمُ : شدخ ما فيه رخاوة، يقال : هَضَمْتُهُ فَانْهَضَمَ ، وذلک کالقصبة الْمَهْضُومَةِ التي يزمّر بها، ومزمار مُهْضَمٌ. قال تعالی: وَنَخْلٍ طَلْعُها هَضِيمٌ [ الشعراء/ 148] أي : داخل بعضه في بعض كأنما شدخ، والْهَاضُومُ : ما يَهْضِمُ الطّعام وبطن هَضُومٌ ، وکشح مِهْضَمٌ وامرأة هَضِيمَةٌ الکشحین، واستعیر الْهَضْمُ للظّلم . قال تعالی: فَلا يَخافُ ظُلْماً وَلا هَضْماً [ طه/ 112] . ( ھ ض م ) الھضم ( ض ) کے اصل معنی کسی نرم چیز کو کچلنا کے ہیں محاورہ ہے : ۔ ھضمتہ فانھضم میں نے است توڑ چناچہ وہ ٹوٹ گیا اور باریک سر کنڈا جسے بانسری کی طرح بجایا جاتا ہے اسے مھزو مۃ کہتے ہیں اور اسی سے نازک بانسری کو مزمار مھضم کہا جاتا ہے قرآن پاک میں ہے : ۔ وَنَخْلٍ طَلْعُها هَضِيمٌ [ الشعراء/ 148] ونخل طلعھا حضیم اور کھجوریں جن کے خوشے لطیف اور نازک ہونے کی وجہ سے کچلے ہوئے معلوم ہوتے ہیں ۔ الھا ضوم کھانا ہضم کرنے کا چورن بطن ھضوم پچکا ہوا پیٹ ۔ کشح مھضم پتلی کمر ۔ امرءۃ ھضیمۃ الکشحین پتلی کمر والی عورت اور استعمارہ کے طورپر ھضم بمعنی ظلم بھی آتا ہے ۔ چناچہ قرآن پاک میں ہے : فَلا يَخافُ ظُلْماً وَلا هَضْماً [ طه/ 112] تو ان کو نہ ظلم کا خوف ہوگا اور نہ نقصان کا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

98 Hadim. heavy bunches of ripe, juicy and soft date-palm fruit hanging from trees -

سورة الشُّعَرَآء حاشیہ نمبر :98 اصل میں لفظ ھَضِیْم استعمال ہوا ہے جس سے مراد کھجور کے ایسے خوشے ہیں جو پھلوں سے لد کر جھک گئے ہوں اور جن کے پھل پکنے کے بعد نرمی اور رطوبت کی وجہ سے پھٹے پڑتے ہوں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(26:148) طلعھا۔ مضاف مضاف الیہ۔ طلع خوشہ۔ گچھا۔ گابھ۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب بخل کی طرف راجع ہے۔ ھضیم : الھضم (باب ضرب) کے اصل معنی کسی نرم چیز کو کچلنے کے ہیں ۔ ونخل طلعھا ھضیم اور کھجوریں کہ جن کے خوشے لطیف اور نازک ہونے کی وجہ سے کچلے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

12 ۔ اور ” تمہیں کبھی زوال نہ آئے گا اور نہ تم ان اعمال کی بازپرس ہوگی جن کا ارتکاب تم کر رہے ہو۔ “

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(148) اور کھیتوں میں اور کھجوروں میں جن کے گھچے نرم اور خوب گندھے ہوئے ہیں یعنی وہ نعمتیں جن میں تم اس وقت ہو اور جن سے تم فائدہ اٹھا رہے ہو یہی ہیں کہ باغات ہیں چشمے ہیں یا نہریں ہیں کھیتیاں ہیں کھجوروں کے درخت ہیں جن میں خوب پھل آتا ہے خوشے اور گھچے خوب لدے ہوئے ہوتے ہیں۔